Explained with ayahs 34–48
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة النَّجْم 35
یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے۔ ؟
Read the full tafseer →اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى، شان نزول میں جو قصہ بیان ہوا ہے اس کے مطابق تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کے کسی ساتھی نے اس سے کہہ دیا تھا کہ آخرت کا تیرا عذاب میں اپنے سر لے کر تجھ کو بچا دوں گا، اس احمق نے اس کا یقین کیسے کرلیا، کیا اس کو علم غیب حاصل ہے ؟ جس سے وہ دیکھ رہا ہے کہ بیشک کفر کی صورت میں وہ جس عذاب کا مستحق ہوگا وہ عذاب یہ ساتھی اپنے سر لے لے گا اور مجھے بچا دے گا، جو ظاہر ہے کہ سراسر دھوکہ ہے نہ اس کو علم غیب ہے نہ کوئی دوسرا آدمی کسی کا عذاب آخرت اپنے سر لے کر اس کو بچا سکتا ہے، اور اگر اس قصہ سے قطع نظر کی جائے تو معنی آیت کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(افرء یت الذی تولی واعطی قلیلاً والدی اعندہ علم الغیب فھویری (33، 35)
(مفت کی جنت کے خواب دیکھنے والوں کی تمثیل)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کردار کو ممثل کر کے پیش کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھدا اتارنے کے لیے لیکن اپنے لیے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے کہ وہ اس کی مدد سے ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے لیے محفوظ ہیں۔
الذی سے ہمارے مفسرین نے عام طور پر قریش کے ایک سردار ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا ؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
18: ان آیتوں کا پس منظر حافظ ابن جریر وغیرہ نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک کافر شخص قرآن کریم کی کچھ آیتیں سن کر اسلام لانے کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے کہا کہ تم اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ دوست نے کہا کہ اگر تم مجھے کچھ پیسے دو تو میں یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ اگر آخرت میں تمہیں عذاب ہونے لگا تو وہ میں اپنے سر لے کر تمہیں بچا لوں گا۔ چنانچہ اس شخص نے کچھ پیسے دے دئیے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے مزید پیسے مانگے تو اور دے دئیے، لیکن پھر دینا بند کردیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک دستاویز لکھ کر دے دی۔ یہ آیات ان دونوں کی حماقت…
Read the full tafseer →اعندہ ............ یری (35 : 53) ” کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ “ غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا عالم غیب میں انسان کے لئے جو کچھ پوشیدہ ہے انسان اس سے مامون نہیں ہوسکتا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت نیک عمل کرتا رہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور پوری زندگی میں محتاط رہے اور اپنے اعمال کو تسلسل دے۔ یہ نہ ہو کہ کچھ تھوڑا سا انفاق کرے پھر چھوڑ دے اور غیب مجہول کے دفاع میں اس کو یہی ضمانت حاصل ہے کہ وہ احتیاط کرے اپنے عمل کو جاری رکھے اور مسلسل رکھے اور اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور دعا کرے کہ اس کے اعمال…
Read the full tafseer →7 یعنی کیا یہ غیب کی بات دیکھ آیا ہے کہ آئندہ اس کو کفر کی سزا نہ ملے گی اور دوسرے کو اپنی جگہ پیش کر کے چھوٹ جائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 35{ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَرٰی۔ } ”کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
26 اس سے مراد ولید بن مغیرہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کا مشرک ساتھی بھی۔ آخرت کے متعلق ان دونوں کا علم نہایت ناقص اور ظن و قیاس پر مبنی تھا۔ لیکن دونوں نے معاہدہ اس انداز سے کرلیا جیسا وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آخرت کے احوال سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کا علم تو اس لحاظ سے ناقص تھا کہ اس نے یہ سمجھا کہ جیسے دنیا میں مال وغیرہ دے کر کسی مصیبت سے انسان بچ سکتا ہے اور مال لینے والا دینے والے کی مصیبت اپنے سر مول لے لیتا ہے ویسے آخرت کا معاملہ بھی ہوگا اور اس کا مشرک ساتھی اس کی بلا اپنے سر لے لے گا اور مشرک ساتھی نے اس بنا پر وعدہ کیا تھا کہ وہ آخرت کا قطعی طور پر منکر تھا…
Read the full tafseer →31۔ (اور یقینی طور پر جان رہا ہے کہ فلاں شخص میری طرف سے عذاب کا متحمل ہوجائے گا)
Read the full tafseer →اعندہ علم الغیب فھو یری شان نزول میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے اسلام کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کے کسی ساتھی نے اس سے کہہ دیا تھا کہ آخرت کا تیرا عذاب میں اپنے سر لے کر تجھ کو بچاروں گا، اس احمق نے اس کی اس بات کا یقین کیسے کرلیا ؟ کیا اس کو علم غیب حاصل ہے ؟ جس سے وہ دیکھ رہا ہے کہ کفر کی صورت میں وہ جس عذاب کا مستحق ہوگا وہ عذاب یہ ساتھی اپنے سر لے گا اور مجھے بچا دے گا، ظاہر ہے کہ یہ سرا سر دھوکہ اور جہالت ہے۔
اور اگر مذکورہ واقعہ سے قطع نظر کرلی جائے تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا کرتا رک گیا ہے تو اس کی وجہ یہی…
Read the full tafseer →اعندہ علم الغیب فھو یری . کیا اسکے پاس (کسی صحیح ذریعہ سے) علم غیب ہے کہ اسکو دیکھ رہا ہے (یعنی جانتا ہے) ۔
اَعِنْدَہٗ : استفہام انکاری ہے اور فَھُوَسببی ہے۔ یعنی کیا اس کو علم غیب ہے جس کی وجہ سے وہ جانتا ہے کہ میں اگر کچھ مال دے دوں گا تو وہ شخص میرے اوپر سے شرک کا عذاب اٹھا کر اپنے اوپر لاد لے گا۔
Read the full tafseer →کیا اس کے سامنے لوح محفوظ ہے کہ وہ اس میں اپنے کام کو دیکھ رہا ہے کہ جو یہ کر رہا ہے۔
حضرت عثمان بن عفان بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والے اور اصحاب محمد کی مدد کرنے والے تھے اتفاق سے عبداللہ بن سعد ابی سرح ان سے ملا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان لوگوں پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کنگال ہوجائیں گے۔ حضرت عثمان بولے کہ میرے بہت زیادہ گناہ اور غلطیاں ہیں میں ان کی معافی اور اپنے پروردگار کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرتا ہوں تو اس پر عبداللہ کہنے لگا اپنی اونٹنی کی مہار مجھے دے دو اور دنیا و آخرت میں جو تمہارے گناہ ہیں وہ میرے حوالے کردو تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →اعندہ علم الغیب فھویری“ یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے ، کیا اس کے پاس علم الغیب کی دور بین (آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ؟
Read the full tafseer →اعندہ علم الغیب فھویری۔ کیا اس کم کرنے والے کے پاس اس چیز کا علم ہے جو عذاب اس سے غائب ہے فھویری یعنی آخرت کا امر جو اس سے غائب ہے اسے وہ جانتا ہے کہ وہ غیر کے عذاب کو اٹھان کا ضامن بن رہا ہے اتنی جہالت اور حماقت ہی کافی ہے یہ فعل رئویت دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے جب کہ دونوں مفعول محذوف ہیں گویا فرمایا : وہ غیب کو شہادت کی طرح دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' یعنی پھر اس نے دنیا ختم کردیا تو (یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی۔
6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے تھوڑا مال دیا پھر وہ سلسلہ کٹ گیا۔
7:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس نے تھوڑا سا اپنے مال میں سے دیا اور زیادہ مال کو روک لیا، پھر اسے احسان جتانے کے ساتھ مکدر کرنے لگا پھر فرمایا کیا…
Read the full tafseer →اَعِنْدَهٗ [ کیا اس کے پاس ] عِلْمُ الْغَيْبِ [ غیب کا علم ہے ] فَهُوَ يَرٰى [ تو وہ دیکھتا ہے (غیب کو) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
کافر دھوکہ میں ہیں کہ قیامت کے دن کسی کا کام یا عمل کام آجائے گا
روح المعانی صفحہ 65: ج 27 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرات سنی تو متاثر ہوا اور اسلام کے قریب ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کے اسلام کے قبول کرنے کی امید بندھ گئی پھر اسے مشرکین میں سے ایک شخص نے ملامت کی اور کہا کیا تو اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹ رہا ہے تو سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کا دین قبول نہ کیا تو موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا ایسا کر تو اپنے دین پر واپس آجا اور تجھے جو عذاب کا ڈر ہے تیری طرف سے برداشت کرلوں گا مگر یوں ہی مفت میں نہیں شرط یہ ہے کہ تو مجھے اتنا مال دیدے۔ ولید اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →22:۔ ” اعندہ۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتا ہے اور پردہ غیب سے ورے دیکھ رہا ہے اور اسے معلوم ہوگیا ہے کہ وہ کسی کی سفارش اور حمایت سے اللہ کے عذاب سے بچ جائیگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ غیب نہیں جانتا اور فرشتوں کی شفاعت سے یا کسی کی ضمانت و حمایت کی بناء پر عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…
Read the full tafseer →اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَہُوَيَرٰى 35
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔
تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً وَّاَکْدٰی۔ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَھُوَ یَرٰی۔ (النجم : 33 تا 35)
(اے پیغمبر ! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو پشت پھیر گیا۔ اور تھوڑا دے کر رک گیا۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے، کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ )
قریش کے سرداروں کی فکری نارسائیاں
اسلام نے ایمان لانے والوں میں جو خصائل و فضائل پیدا کیے ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد یہود اور قریش کے بڑے بڑے لوگوں کی فکری نارسائیوں اور عملی بےہودگیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ ہر عقل رکھنے والا شخص اندازہ کرسکے کہ اسلام اپنے اندر کیا فکری اور عملی تبدیلی کا پیغام لے کر آیا ہے جس کے نتیجے میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔
نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →آیت 35: اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى (کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ اس کو دیکھ رہا ہے) جس سے وہ جانتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لیے اس کی ضمانت اٹھائی ہے وہ برحق ہے۔
Read the full tafseer →34 ۔” واعطی “ اپنے ساتھی کو۔ ” قلیلا واکدی “ باقی سے بخل کیا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” اعطیٰ “ یعنی ولید کو قلیل خیر میں سے تھوڑا اپنی زبان کے ساتھ۔ ” واکدی ثم اکدی “ یعنی روک لیا اور اس کو کچھ عطیہ نہ دیا اور سدی (رح) فرماتے ہیں یہ عاص بن وائل سہمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ بسا اوقات بعض امور میں نبی کریم ﷺ کی موافقت کرتا تھا اور محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے کہا اللہ کی قسم ! محمد ﷺ تو ہمیں عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب ہے ” واعطیٰ قلیلا واکدیٰ “ اس پر ایمان نہیں لایا اور ” اکدیٰ “ کا معنی یعنی ختم کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →(اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى) کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے غیب کو اور اس کے بارے میں خبر دیتا ہے ؟ یا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتا ہے یا وہ دونوں باتوں کو جمع کرنے کی جسارت کرتا ہے، یعنی برائی اور طہارت نفس کے دعوے کو اور فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے پاس غیب کا کچھ بھی علم نہیں اور اگر یہ فرض کرلیاجائے کہ اسے غیب دانی کا دعوی ہے تو علم غیب کے متعلق قطعی اور یقینی خبریں جو نبی معصوم کی طرف سے دی گئی ہی اس کے قول کے تناقض پر دلالت کرتی ہیں اور یہ اس کے قول کے بطلان کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ہلکے گناہ کون سے ہیں ؟
قول باری ہے (الا اللھم مگر ہاں یہ کہ ہلکے ہلکے گناہ ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے لمم کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر مناسب بات نہیں سنی جس کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کاری کی جو صورت لکھ دی ہے اس کا ارتکاب وہ لامحالہ کرکے رہے گا۔ آنکھوں کی زناکاری غلط نظ رہے اور زبان کی زنا کاری گفتگو ہے۔ انسان کا نفس تمنی کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور پھر اس کی شرمگاہ ان تمام باتوں کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ “
حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لمم سے مراد نظر بازی،…
Read the full tafseer →[ 49] منکر انسان کے دل و دماغ پر ایک دستک کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کی اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس سے وہ دیکھتا ہے ؟ کہ اس کا ساتھی قیامت کے روز اس کا بوجھ اٹھا کر اسے فارغ کرا دے گا ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس شخص نے اس پر کیسے اعتماد کرلیا ؟ سو یہ انجام ہوتا ہے ایمان و یقین کے نور سے محرومی کا کہ اس سے انسان غیر ذمہ دار، لاپرواہ، اور لا ابالی بن جاتا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اس ارشاد کا مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ کیا اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ جانتا ہے کہ اگر اس نے راہ حق میں خرچ کردیا تو اس کے پاس جو کچھ ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214)
اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →ف 11 کہ ” وہ عذاب سے بچ جائے گا ؟ “
Read the full tafseer →(53:35) اعندہ علم الغیب : ہمزہ استفہام انکاری ہے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے (یعنی نہیں ہے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ولید بن مغیرہ ہے یا وہ شخص جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
الیسر التفاسیر میں ہے : ای یعلم ان غیرہ یتحمل عنہ العذاب والجواب لا : (کیا وہ جانتا ہے کہ کوئی دوسرا اس پر سے عذاب کو اٹھالے گا اور اس کا جواب ہے ” نہیں “ )
اعندہ علم الغیب : رایت کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول اسم موصول الذی ہے۔
فھو یری : میںسببیہ ہے۔ یعنی کیا اس کو غیب کا علم ہے جس کی وجہ سے وہ جانتا ہے یا دیکھتا ہے کہ میں اگر کچھ مال دیدوں گا تو وہ شخص میرے اوپر سے شرک کا عذاب اٹحا کر اپنے اوپر لادلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[15] یہاں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے کردار کو ایک تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھّدا اتارنے کے لئے لیکن اپنے لئے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے جس کی مدد سے وہ ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے زعم کے مطابق ان کے لئے محفوظ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
ف 1: الذی لولی سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ مقصد یہ ہے ۔ کہ ان مکہ والوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ہے ۔ اور تسلیم ورضا سے روگردانی کی ہے ۔ پہلے جب حضور ﷺ تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت تو رفاہ عام کے کاموں میں میں یہ کچھ حصہ لیتے تھے ۔ اور جو دو سخا سے کام لیتے تھے ۔ مگر اب ضد اور تعصب میں آکر انہوں نے وہ بھی بند کردیا ہے ۔ کب ان لوگوں کے پاس اس طرز عمل کے جواز کے لئے کوئی سند غیب سے نازل ہوئی ہے ۔ یا یہ محض بغض وعناد کا مظاہرہ ہے ۔
Read the full tafseer →(35) کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ یعنی کیا ولید کے پاس علم غیب ہے کہ وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ مجھ کو عذاب ہوگا تو فلاں شخص یعنی عاتبہ میرے عذاب کو اٹھالے گا اور میں سبکدوش ہوجائوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ف 1۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ ایک شخص اسلام لے آیا تھا، کسی نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا کہ میں عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ بولا تو مجھ کو کچھ دے میں تیری طرف سے عذاب اپنے سر رکھوں گا۔ چناچہ کچھ دیا، اس نے اور مانگا، نہایت کشاکشی سے اس نے اور بھی دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی۔ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا، ظاہر ہے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو، آیت سب کو شامل ہے
Read the full tafseer →کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے ؟
35 ؎ دنیا میں ہمیشہ سے ایسے لوگ رہے ہیں۔ اس وقت بھی موجود ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گے جو ہمیسہ اس طرف کو دیکھتے ہیں جو طرف ان کو بھاری نظر آتی ہے اور اپنی طرف سے وہ اپنے آپ کو بہت سمجھدار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ہر مجلس کے سرخیل بننا پسند کرتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر آدمی ان کی بات کو پسند کرے اور ہر آدمی ان کو اچھا سمجھے۔ وہ قدم رکھتے ہیں تو بہت سنبھل کر ‘ بات کرتے ہیں تو ہر بات میں رخنہ رکھنے کے عادی ہوتے ہیں اس لئے ان کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس ایسی عینک موجود ہے جس کو لگا کر انہوں نے اسلام کی تحریک کو اندر سے دور دور تک دیکھ…
Read the full tafseer →أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ (Does he have knowledge of the Unseen whereby he sees [ what he believes ]?...53:35) According to the story recounted in connection with the occasion of revelation, the verse means: The person who embraced Islam and later abandoned it because his friend assured him that he would bear the punishment in the Hereafter on his behalf, and spare him the pain. The fool believed him and took for granted the assurance given to him. Does he have the knowledge of the Unseen, so that he is able to see that the chastisement he deserves for disbelief will be taken…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35 That is, °Does he know that this conduct is in any way beneficial for him? Does he know that a person can save himself even in this way from the punishment of the Hereafter?"
Read the full tafseer →