Explained with ayahs 34–48
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة النَّجْم 35
یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے۔ ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ، اس آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی ایک خاص صفت وَفّٰی بیان فرمائی گئی، وفا کے معنی کسی وعدہ یا معاہدے کو پورا کردینے کے آتے ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی خاص صفت ایفائے عہد کی کچھ تفصیل
مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اور اس کا پیغام مخلوق کو پہنچا دیں گے، انہوں نے اس معاہدہ کو ہر حیثیت سے پورا کر دکھایا، جس میں ان کو بہت سخت آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا، وفی کی یہی تفسیر ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی ہے۔
بعض روایات حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاص خاص اعمال کو لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ وابراھیم الذی و فی الا تزروازرۃ وزرا اخری) (36، 38)
(قریش اور اہل کتاب دونوں کو ایک تنبیہ)۔ یعنی یہ لوگ مفت میں، محض اپنے بزرگوں اور فرضی دیوتائوں کی سفارش کے بل پر جنت کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ کیا موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کے صحیفوں کی یہ تعلیم ان کو نہیں پہنچی کہ خدا کے ہاں کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں مخاطب اصلاً قریش اور ضمناً اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ ، دونوں نبیوں کی پیروی کے مدعی تھے۔ اسی طرح قریش حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا خاندانی بزرگ بھی مانتے تھے اور دنی پیشوا بھی، اس وجہ سے ان دونوں جلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا ؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
18: ان آیتوں کا پس منظر حافظ ابن جریر وغیرہ نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک کافر شخص قرآن کریم کی کچھ آیتیں سن کر اسلام لانے کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے کہا کہ تم اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ دوست نے کہا کہ اگر تم مجھے کچھ پیسے دو تو میں یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ اگر آخرت میں تمہیں عذاب ہونے لگا تو وہ میں اپنے سر لے کر تمہیں بچا لوں گا۔ چنانچہ اس شخص نے کچھ پیسے دے دئیے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے مزید پیسے مانگے تو اور دے دئیے، لیکن پھر دینا بند کردیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک دستاویز لکھ کر دے دی۔ یہ آیات ان دونوں کی حماقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ام لم ............ الذی وفی (35 : 73) ” کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ “ یہ سیدھا دین وہ ہے جو تمام پیغمبروں کے ہاں ایک ہی رہا ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں ایک ہی رہی ہیں۔ تمام رسولوں کی کتابیں اور دعوتیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگرچہ زمانہ ومکان کا اختلاف ہے۔ یہی اصول صحف موسیٰ میں تھے۔ یہی ملت ابراہیمی کے اصول تھے۔ حضرت ابراہیم وہ تھے جنہوں نے بہت بڑی وفاداری کا ثبوت دیا۔ ہر چیز کو پوراپورا ادا کیا۔ مطلقا وفادار تھے۔ یہاں وفا کا ذکر اکدی کے مقابلے میں ہوا۔ اکدی انقطاع کو کہتے ہیں۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
8 یعنی ابراہیم اپنے قول وقرار اور عہد و پیمان کی پابندی میں پورا اترا اور اللہ کے حقوق پوری طرح ادا کیے اور اس کے احکام کی تعمیل میں ذرہ بھر تقصیر نہ کی۔
Read the full tafseer →آیت 36{ اَمْ لَمْ یُـنَـبَّـاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی۔ } ”کیا اسے خبر نہیں پہنچی اس بارے میں جو کچھ موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں تھا ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
26 اس سے مراد ولید بن مغیرہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کا مشرک ساتھی بھی۔ آخرت کے متعلق ان دونوں کا علم نہایت ناقص اور ظن و قیاس پر مبنی تھا۔ لیکن دونوں نے معاہدہ اس انداز سے کرلیا جیسا وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آخرت کے احوال سے پوری طرح واقف ہوچکے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کا علم تو اس لحاظ سے ناقص تھا کہ اس نے یہ سمجھا کہ جیسے دنیا میں مال وغیرہ دے کر کسی مصیبت سے انسان بچ سکتا ہے اور مال لینے والا دینے والے کی مصیبت اپنے سر مول لے لیتا ہے ویسے آخرت کا معاملہ بھی ہوگا اور اس کا مشرک ساتھی اس کی بلا اپنے سر لے لے گا اور مشرک ساتھی نے اس بنا پر وعدہ کیا تھا کہ وہ آخرت کا قطعی طور پر منکر تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
32۔ (ایمانیات میں) یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آے گا (آیت) ” الذی وفی “۔ سورة البقرۃ پ 1 آیۃ کریمہ (آیت) ” واذابتلی ابرھم ربہ بکلمت فاتمھن “۔ کے ماتحت حاشیے ملاحظہ کرلئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ و ابراہیم الذین وفی اس آیت میں ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد تورات ہے، رہے حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا، صرف قرآن ہی ایک وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صحف ابراہیم کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کئے گئے ہیں ایک یہ مقام اور دوسرے سورة اعلیٰ کی آخری آیات میں۔
تین اہم اصول :
اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں : (1) ایک یہ کہ ہر شخص اپنے فعل کا ذمہ دار ہے…
Read the full tafseer →ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ
یا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے
صُحُفِ مُوْسٰی : یعنی توریت کے مکتوبات میں اور ابراہیم کے صحیفوں میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(36۔ 37) کیا اس کو بذریعہ قرآن حکیم اس مضمون کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور نیز ابراہیم کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے احکام کی پوری تعمیل کی اور رسالت کامل طور پر پہنچا دی یا یہ کہ جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی پوری بجا آوری کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
1۔ الم لم ینبا بما فی صحف موسیٰ۔۔۔۔۔ یعنی اگر وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے پاس علم غیب بھی نہیں تو کیا پہلے انبیاء کی کتابوں میں جو بنیادی اصول کھلے ہیں وہ بھی کسی نے اسے نہیں بتائے ؟ ان انبیاء میں سے ابراہیم اور موسیٰ ؑ کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ابراہیم ؑ کے دین پر چلنے کا وہ دعویٰ رکھتے تھے اور ابراہیم ؑ کے بعد احکام کی بنیادی کتاب موسیٰ ؑ پر نازل ہونے والی تورات ہی تھی جس پر بعد کے تمام انبیاء عمل کرتے تھے اور جو اس وقت بھی موجود تھی اور قریش یہودیوں سے اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔
2۔ و ابراہیم الذی وفی :”فی“ جس نے پورا کیا ، یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ام لم ینتبا بما فی صحف موسیٰ ۔ وابراھیم الذی وفی۔ لفظ ابراہیم سے پہلے صحف کا لفظ محذوف ہے جس طرح سورة اعلیٰ میں ہے صحف ابراہیم و موسیٰ ۔ یعنی کسی نفس کو دوسرے نفس کے بدلہ میں نہیں پکڑا جائے گا جس طرح فرمایا : الا تزر وازرۃ وزراخری۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان آدمی کو انے بھائی، اپنے بیٹے اور اپنے باپ کے بدلے میں پکڑ لیا جاتا تھا، یہ ہذیل بن شرحبیل نے کہا ہے۔ ان یہ مثقلہ سے مخففہ ہے اس کا محل جر ہے کیونکہ یہ ماکا بدل ہے یا یہ محل رفع میں ہے کیونکہ ھو ضمیر مضمر ہے۔
سعید بن جبیر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' یعنی پھر اس نے دنیا ختم کردیا تو (یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی۔
6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے تھوڑا مال دیا پھر وہ سلسلہ کٹ گیا۔
7:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس نے تھوڑا سا اپنے مال میں سے دیا اور زیادہ مال کو روک لیا، پھر اسے احسان جتانے کے ساتھ مکدر کرنے لگا پھر فرمایا کیا…
Read the full tafseer →اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ [ یا اس کو بتایا ہی نہیں گیا ] بِمَا [ اس کے بارے میں جو ] فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى [موسی کے اوراق میں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
کافر دھوکہ میں ہیں کہ قیامت کے دن کسی کا کام یا عمل کام آجائے گا
روح المعانی صفحہ 65: ج 27 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرات سنی تو متاثر ہوا اور اسلام کے قریب ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کے اسلام کے قبول کرنے کی امید بندھ گئی پھر اسے مشرکین میں سے ایک شخص نے ملامت کی اور کہا کیا تو اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹ رہا ہے تو سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کا دین قبول نہ کیا تو موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا ایسا کر تو اپنے دین پر واپس آجا اور تجھے جو عذاب کا ڈر ہے تیری طرف سے برداشت کرلوں گا مگر یوں ہی مفت میں نہیں شرط یہ ہے کہ تو مجھے اتنا مال دیدے۔ ولید اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1
حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
23:۔ ” ام لم ینبا۔ تا۔ ما غشی “ یہ دلیل نقلی ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں سے ” ان لاتزر وازرۃ “ سے لے کر ” اظلم وا طغی “ تک دونوں صحیفوں کا مشترکہ بیان ہے اور والمؤتفکۃ۔ الایۃ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں نہیں کیونکہ یہ قوم لوط کی بستیاں ہیں جو صحف ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تباہ ہوئیں۔ ” الذی وفی “ وہ ابراہیم جس نے اللہ کے احکام کو پورا کیا اور ان تمام عہود و مواعید سے عہد برآ ہوئے جو اللہ نے ان سے لیے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…
Read the full tafseer →اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى 36 ۙ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
«لَمْ»
وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔
تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی۔ وَاِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیٓ۔ اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (النجم : 36 تا 38)
(کیا اسے خبر نہیں دی گئی ان باتوں کی جو حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں۔ اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں جس نے وفا کا حق ادا کردیا۔ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ )
تاریخ سے استدلال
قریش میں جو فکری اور عملی گمراہیاں پیدا ہوگئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے بڑے بڑے سردار اور ان کا طبقہ امراء یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں جزیرہ ٔ عرب میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے، قبائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔
نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →آیت 36: اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى (کیا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے) صحف موسیٰ سے تورات مراد ہے۔
Read the full tafseer →35 ۔” اعندہ علم الغیب فھویریٰ “ جو اس سے غائب ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا ساتھی اس کا عذاب اٹھالے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ ) کیا اس مدعی کو وہ خبریں نہیں پہنچیں (بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى۔ وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) جو موسیٰ اور وفادار ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں ؟ یعنی حضرت ابراہیم ان تمام آزمائشوں میں پورے اترے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمایا اور جن احکام شریعت اور دین کے جن اصول و فروع کا آپ کو حکم دیا، آپ نے اس کی تعمیل کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ہلکے گناہ کون سے ہیں ؟
قول باری ہے (الا اللھم مگر ہاں یہ کہ ہلکے ہلکے گناہ ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے لمم کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر مناسب بات نہیں سنی جس کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کاری کی جو صورت لکھ دی ہے اس کا ارتکاب وہ لامحالہ کرکے رہے گا۔ آنکھوں کی زناکاری غلط نظ رہے اور زبان کی زنا کاری گفتگو ہے۔ انسان کا نفس تمنی کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور پھر اس کی شرمگاہ ان تمام باتوں کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ “
حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لمم سے مراد نظر بازی،…
Read the full tafseer →[ 50] " صُحُف موسیٰ وابرہیم " کا حوالہ و ذکر :
سو اس سے ایسے منکر و غافل انسان کو صحف سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات کے حوالے سے تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس شخص کے پاس سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی خبر نہیں پہنچی ؟ یعنی جو توراۃ میں ہے، [ روح، خازن، مدارک، مراغی وغیرہ ] اور گزشتہ صحف کی ان تعلیمات مقدسہ کا خلاصہ آگے بیان ہو رہا ہے، اور ان میں صاف اور صریح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ آخرت میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ کام آئے گا جو اس نے خود کیا کمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214)
اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔
اسرار ومعارف۔
ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا
عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔
اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 1 یعنی کسی دوسرے کا عمل فائدہ نہیں دے سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی شریعت میں یہ حکم عام ہو لیکن ہماری شریعت میں اس میں کچھ مستثنیات ہیں مثلاً گنہگاروں کے لئے انبیاء اور فرشتوں کی شفاعت مردوں کے لئے زندوں کی دعا اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہوناتو قرآن سے ثابت ہے اور میت کی طرف سے صدقہ خیرات اور حج کرنا وغیرہ کا نافع ہونا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اب رہی نماز اور قرآن خوانی تو اس کے متعلق چونکہ قرآن یا کسی صحیح حدیث میں صراحت نہیں ہے اس لئے یہ اس آیت کے عام حکم کے تحت رہینگے اور انسان کی اولاد بھی چونکہ اس کی سعی کا نتیجہ ہے اس لئے اس کے نیک عمل کا ثواب پہنچنا…
Read the full tafseer →(53:36) ام لہم ینبا : ام بمعنی ہمزہ استفہامیہ ہے ای الم ینبا۔ لم ینبا مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر ن ب ء مادہ۔ خبر دینا۔ کیا اس کو خبر نہیں دی گئی۔
بما : میں ب تعدیہ کا ہے۔ ما موصولہ ہے۔
صحف : صحیفے، کتابیں۔ اور اق، صحیفۃ کی جمع ہے۔ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعلیہ بروزن فعل نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس میں اس کی مثال۔ سفینۃ (واحد) کی جمع سفن ہے۔
ترجمہ : کیا اس کو ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62
اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 62
سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[15] یہاں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے کردار کو ایک تمثیلی انداز میں بیان کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھّدا اتارنے کے لئے لیکن اپنے لئے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے جس کی مدد سے وہ ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے زعم کے مطابق ان کے لئے محفوظ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
ف 1: الذی لولی سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ مقصد یہ ہے ۔ کہ ان مکہ والوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ہے ۔ اور تسلیم ورضا سے روگردانی کی ہے ۔ پہلے جب حضور ﷺ تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت تو رفاہ عام کے کاموں میں میں یہ کچھ حصہ لیتے تھے ۔ اور جو دو سخا سے کام لیتے تھے ۔ مگر اب ضد اور تعصب میں آکر انہوں نے وہ بھی بند کردیا ہے ۔ کب ان لوگوں کے پاس اس طرز عمل کے جواز کے لئے کوئی سند غیب سے نازل ہوئی ہے ۔ یا یہ محض بغض وعناد کا مظاہرہ ہے ۔
Read the full tafseer →(36) کیا اس کو ان مضامین کی خبر نہیں پہنچی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ف 1۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ ایک شخص اسلام لے آیا تھا، کسی نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا کہ میں عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ بولا تو مجھ کو کچھ دے میں تیری طرف سے عذاب اپنے سر رکھوں گا۔ چناچہ کچھ دیا، اس نے اور مانگا، نہایت کشاکشی سے اس نے اور بھی دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی۔ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا، ظاہر ہے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو، آیت سب کو شامل ہے
Read the full tafseer →کیا اس کے پاس وہ خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے
36 ؎ گزشتہ آیت میں جس کردار کے لوگوں کی بات کی جا رہی تھی اس کردار کے لوگوں کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ کیا ان لوگوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف نہیں پہنچے اور یہ بات اس لئے فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف یعنی تورات میں یہ تعلیم موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال کبھی ضائع نہیں جاتا اور اسی طرح یہ بھی کہ ایک کے جرم میں دوسرا نہیں پکڑا جاتا خواہ وہ کتنا ہی قریب کا تعلق کیوں نہ رکھتا ہو یہاں تک کہ بیٹے کے عوض میں باپ یا باپ کے عوض میں بیٹا نہیں پکڑا جاسکتا اور جب اتنے قریب کے تعلق میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ (Has he not been told of what was [ revealed ] in the scriptures of Musa and of Ibrahim who fulfilled [ his covenant ]?... 53:36- 37) In verse [ 37], the Prophet Ibrahim I has been described by the expression waffa which is derived from the root word wafa' and it means to fulfill faithfully the covenant one has made with someone.
Special Characteristic of Ibrahim (علیہ السلام) : fulfillment of Covenant
Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام) had a covenant with Allah that he will obey Him and convey His Message to all…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35 That is, °Does he know that this conduct is in any way beneficial for him? Does he know that a person can save himself even in this way from the punishment of the Hereafter?"
Read the full tafseer →