وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَّاَكْدٰی ۟وَاَعۡطٰى قَلِيۡلًا وَّاَكۡدٰى
اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And gave a little and [then] refrained?
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَّاَكْدٰی ۟وَاَعۡطٰى قَلِيۡلًا وَّاَكۡدٰى
اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And gave a little and [then] refrained?
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
اور تھوڑا سا دے کر رک گیا
اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
اور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا
اور جس نے تھوڑا سا دیا، پھر رک گیا ؟
اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا
اور اس نے (راہِ حق میں) تھوڑا سا (مال) دیا اور (پھر ہاتھ) روک لیا،
اور تھوڑا سا دیا اور رک گیا۔
اور تھوڑا سا دیا پھر رک گیا۔
تھوڑا سا دیا پھر رک گیا ،
اور وہ تھوڑا سا دے کر رک گیا ؟
اور مال قلیل دیا اور (اب) بند کردیا۔
تھوڑا سا دیا اور پھر سخت ہوگیا۔
اور تھوڑا سا دیا پھر ہاتھ روک لیا
who gave a little, and then stopped?
and gave a little, and stopped?
and gave a little, and stopped?
And gave a little, then stopped
And gave a little, then was grudging?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And gave a little and [then] refrained?
and grudgingly spends very little for the cause of God?
And gives a little and (then) withholds.
And gave little, and then stopped?
Gives a little, then hardens (his heart)?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 34–48
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 34 اشارہ ہے ولید بن مغیرہ کی طرف جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ یہ شخص پہلے رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ مگر جب اس کے ایک مشرک دوست کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ تم دین آبائی کو نہ چھوڑو، اگر تمہیں عذاب آخرت کا خطرہ ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو ، میں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہارے بدلے وہاں کا عذاب میں بھکت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا، مگر جو رقم اس نے اپنے مشرک دوست کو دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے…
Read the full tafseer →وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى، اکدی، کُدیَہ سے مشتق ہے، کدیہ اس سخت پتھر کو کہا جاتا ہے جو کوئی کنواں یا بنیاد کھودتے ہوئے زمین میں نکل آوے اور کھدائی کے لئے رکاوٹ بن جاوے، اس لئے اکدی کے معنی یہ ہوئے کہ پہلے کچھ دیا پھر دینے سے رک گیا، آیت کے شان نزول میں جو ایک واقعہ اوپر بیان ہوچکا ہے اس کے مطابق تو معنی ظاہر ہیں اور اس سے قطع نظر کی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا پھر چھوڑ دیا، یا شروع میں کچھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف مائل ہوا، کچھ کرنے لگا پھر چھوڑ بیٹھا، اس لفظ کی یہ تفسیر حضرت مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ وغیرہ سے منقول ہے (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
(افرء یت الذی تولی واعطی قلیلاً والدی اعندہ علم الغیب فھویری (33، 35) (مفت کی جنت کے خواب دیکھنے والوں کی تمثیل)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کردار کو ممثل کر کے پیش کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھدا اتارنے کے لیے لیکن اپنے لیے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے کہ وہ اس کی مدد سے ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے لیے محفوظ ہیں۔ الذی سے ہمارے مفسرین نے عام طور پر قریش کے ایک سردار ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اسلام…
Read the full tafseer →34۔ 1 یعنی تھوڑا سا دیکر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھ ہٹ گیا، یعنی کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
18: ان آیتوں کا پس منظر حافظ ابن جریر وغیرہ نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک کافر شخص قرآن کریم کی کچھ آیتیں سن کر اسلام لانے کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ اس کے ایک دوست نے کہا کہ تم اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ دوست نے کہا کہ اگر تم مجھے کچھ پیسے دو تو میں یہ ذمہ داری لیتا ہوں کہ اگر آخرت میں تمہیں عذاب ہونے لگا تو وہ میں اپنے سر لے کر تمہیں بچا لوں گا۔ چنانچہ اس شخص نے کچھ پیسے دے دئیے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے مزید پیسے مانگے تو اور دے دئیے، لیکن پھر دینا بند کردیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک دستاویز لکھ کر دے دی۔ یہ آیات ان دونوں کی حماقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
کون ہے یہ شخص۔ الذی ............ واکدی (35 : 43) ” جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا “ اور اللہ تعالیٰاس کی روش کو تعجب انگیز قرار دیتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک متعین شخص تھا جس نے اللہ کی راہ میں تھوڑا سا خرچ کیا اس کے بعد وہ خرچ کرنے سے رک گیا۔ اس لئے کہ وہ فقیر نہ ہوجائے۔ کشاف میں علامہ زمحشری نے اس کا تعین کیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ابن عفان ؓ ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ کا جو مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے تحریک اسلامی کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا ، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی حساب کے وہ معلوم ہے اور ان کا جو عقیدہ تھا وہ بھی معلوم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے…
Read the full tafseer →6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا پھر اس کا دل سخت ہوگیا۔ " مجاہد وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ کی باتیں سن کر اس کو اسلام کی طرف تھوڑی سی رغبت ہو چلی تھی۔ اور کفر کی سزا سے ڈر کر قریب تھا کہ مشرف باسلام ہوجائے۔ ایک کافر نے کہا کہ ایسا مت کر میں تیرے سب جرائم اپنے اوپر لیتا ہوں۔ تیری طرف سے میں سزا بھگت لوں گا۔ بشرطیکہ اس قدر مال مجھ کو دیا جائے۔ اس نے وعدہ کرلیا اور مقررہ رقم کی کچھ قسط ادا کر کے باقی سے انکار کردیا۔ اس صورت میں " وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَاَکْدیٰ " کے معنی یہ ہوں گے کہ کچھ مال دیا، پھر ہاتھ کھینچ لیا۔
Read the full tafseer →آیت 34{ وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَّاَکْدٰی رض } ”تھوڑا سا دیا اور پھر سخت ہوگیا۔“ عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان آیات میں ولید بن مغیرہ کا تذکرہ ہے۔ مجھے بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ تاریخ میں اس شخص کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا ‘ مگر پھر اچانک اسے اپنی چودھراہٹ یاد آگئی۔ حق جوئی کی خواہش پر عصبیت کا جذبہ غالب آگیا اور یوں اس نے اپنی سوچ دوبارہ بدل لی۔ یہاں اس کے اسی رویے کا ذکر ہے۔ سورة المدثر میں اس شخص کا تذکرہ قدرے تفصیل سے آیا ہے۔
Read the full tafseer →25 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو آیات ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئیں۔ ابو جہل سے پہلے ولید بن مغیرہ ہی سرداران قریش کا رئیس تھا اور اس کے سمجھ دار ہونے میں کچھ شک نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت سے کافی حد تک متاثر ہوچکا تھا اور قریب تھا کہ ایمان لے آئے۔ اس کے ایک مشرک دوست کو جب اس صورت حال کا پتہ چلا تو اسے کہنے لگا : جس آخرت سے تم ڈرتے ہو اس کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ اگر تمہیں عذاب ہوا تو تمہاری سزا میں اپنے سر لے لوں گا بشرطیکہ تم مجھے اتنا اتنا مال دے دو ۔ چناچہ ولید بن مغیرہ اس کے چکمے میں آگیا۔ اس کی بات کو قبول کرتے ہوئے طے شدہ مال کی ایک قسط اسے ادا بھی کردی لیکن بعد میں اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
30۔ یعنی اپنے ہی مطلب کے لئے مال دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اور پھر اس کا بھی پوری طرح ایفاء نہ کیا تو ایسا شخص بھلا دوسروں کی نفع رسانی کیلئے کھلے دل سے کیا خرچ کرے گا ؟ حدیث میں ایک شخص متعین کا ذکر آتا ہئے۔ ولید بن مغیرہ نامی کا، کہ اس کا میلان اسلام کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے مشرک نے اس سے کہا کہ کیوں اس فکر میں گھلا جاتا ہے۔ مجھے اتنا روپیہ دے میں سب تیری طرف سے اوڑھے لیتا ہوں۔ ولید نے وعدہ کرلیا لیکن کچھ تھوڑا بہت دے کر اسے بھی بند کردیا۔ (آیت) ” الذی تولی “۔ یعنی دین حق سے وہ شخص پھر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ترجمہ :۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ایمان سے پھر گیا یعنی مرتد ہوگیا جب ایمان پر اس کو عار دلائی گئی اور کہا مجھے اللہ کے عذاب سے خوف آیا، تو اس کے لئے عاردلانے والا اس بات کا ضامن ہوگیا کہ وہ اس کی طرف سے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر اٹھا لے گا، اگر وہ اپنے شرک کی طرف لوٹ آئے اور اسے مال میں سے اتنا دیدے، چناچہ یہ شخص مرتد ہوگیا اور اس شخص نے مقررہ مال میں سے قلیل حصہ دیدیا اور باقی مال کو روک لیا اکدی کدیۃ سے ماخوذ ہے، کدیہ چٹان کے مانند زمین کا وہ سخت حصہ جو کنواں کھودنے والے کھودنے سے روکدے جب کھودتا ہوا اس چٹان پر پہنچے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے ؟ کہ وہ جانتا ہے منجملہ اس کے یہ علم بھی…
Read the full tafseer →واعطی قلیلا واکدی . اور تھوڑا مال دیا اور (پھر بالکل) بند کردیا۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً : یعنی اس مشرک نے جو مال دینے کا وعدہ کیا تھا ‘ اس کا کچھ حصہ تو دے دیا اور کچھ نہیں دیا۔ وَّاَکْدٰی : یعنی باقی حصہ دینے میں بخل کیا ‘ نہیں دیا۔ بغوی نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ ابن جریر نے بحوالہ ابن زید بیان کیا کہ ایک شخص مسلمان ہوگیا ‘ کسی نے اس کو غیرت دلائی کہ تو نے بزرگوں کے دین کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ سمجھا اور دوزخی قرار دیا ؟ مسلمان ہونے والے نے کہا : مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ غیرت دلانے والے نے کہا : تو مجھے کچھ مال دے دے تجھ پر جو عذاب آئے گا میں اس کو اٹھا لوں گا۔ اس شخص نے اس کو کچھ دے دیا ‘ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33۔ 34) بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اصحاب محمد میں جو غرباء ہیں ان پر خرچ کرنے سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں بہت تھوڑا مال دیا اور پھر وہ بھی بند کردیا۔ شان نزول : اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى (الخ) اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم جہاد میں تشریف لے چلے تو ایک شخص اس راہ سے آیا کہ اسے کوئی سوار کرالے پر اس کے سوار ہونے کے لیے کوئی چیز نہ ملی اتنے میں اس کا دوست ملا تو اس شخص نے اپنے دوست سے کہا کہ مجھے بھی کچھ دو ، وہ کہنے لگا میں اپنی یہ سواری دیتا ہوں اس شرط پر کہ میرے گناہوں کا بوجھ تو اٹھا لے تو اس نے اپنے دوست سے کہا کہ منظور ہے اس پر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1۔ افرء یت الذی تولی :۔ اس سورت کا مضمون رسالت کا اثبات ، شرک اور بت پرستی کی تردید اور مشرکین مکہ کی مذمت ہے۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے پاک ہونے کے گمان اور دعویٰ سے منع فرمایا۔ قریش مکہ اپنے بارے میں کئی طرح کے گمان اور دعوے رکھتے تھے ، جنہوں نے انہیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان کے وہ گمان ذکر فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی برتری کا گمان تھا ، اللہ تعالیٰ کے تمام لوگوں کو مٹی سے ، پھر ماں کے شکم سے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر تقویٰ کو معیار فضیلت قرار دیا۔ ایک کام ان کا یہ تھا کہ انہوں نے عین کعبہ کے اندر…
Read the full tafseer →واعظی قلیلاً واکدی۔ یعنی تھوڑا دینا بھی ختم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' یعنی پھر اس نے دنیا ختم کردیا تو (یہ آیت) عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے تھوڑا مال دیا پھر وہ سلسلہ کٹ گیا۔ 7:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' واعطی قلیلا واکدی ' ' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس نے تھوڑا سا اپنے مال میں سے دیا اور زیادہ مال کو روک لیا، پھر اسے احسان جتانے کے ساتھ مکدر کرنے لگا پھر فرمایا کیا…
Read the full tafseer →وَاَعْطٰى [اور اس نے دیا ] قَلِيْلًا [تھوڑا سا ] وَّاَكْدٰى [اور ہاتھ روک لیا ] ک د ی : (ض) کدیا ۔ کسی کو روکنا ۔ دینے میں بخل کرنا ۔ (افعال ) اکداء کسی چیز سے باز رکھنا ۔ روک لینا زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
کافر دھوکہ میں ہیں کہ قیامت کے دن کسی کا کام یا عمل کام آجائے گا روح المعانی صفحہ 65: ج 27 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرات سنی تو متاثر ہوا اور اسلام کے قریب ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کے اسلام کے قبول کرنے کی امید بندھ گئی پھر اسے مشرکین میں سے ایک شخص نے ملامت کی اور کہا کیا تو اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹ رہا ہے تو سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کا دین قبول نہ کیا تو موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا ایسا کر تو اپنے دین پر واپس آجا اور تجھے جو عذاب کا ڈر ہے تیری طرف سے برداشت کرلوں گا مگر یوں ہی مفت میں نہیں شرط یہ ہے کہ تو مجھے اتنا مال دیدے۔ ولید اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
21:۔ ” افرایت۔ تا۔ یری “ یہ معاندین کے لیے زجر ہے۔ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ شروع میں وہ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھتا اور وعظ و نصیحت سنتا تھا اور اسلام سے متاثر ہوچلا تھا۔ قرآن کی تعریف بھی کرتا تھا۔ بعض، مشرکین نے اس کو حق گوئی اور اسلام میں رغبت کا طعنہ دیا اور کہا اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر انہیں گمراہ قرار دیتا ہے اس نے جواب دیا میں تو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں اس پر اس مشرک نے کہا عذاب سے تمہیں بچانے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ چناچہ وہ پھر گیا اور زبان سے جو حق بات کہتا تھا اس سے رک گیا۔ کان الولید مدح القران ثم امسک عنہ فنزل (واعطی قلیلا) ای من الخیر بلسانہ (واکدی) ای قطع ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…
Read the full tafseer →وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى 34 عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–52
ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً وَّاَکْدٰی۔ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَھُوَ یَرٰی۔ (النجم : 33 تا 35) (اے پیغمبر ! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو پشت پھیر گیا۔ اور تھوڑا دے کر رک گیا۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے، کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ ) قریش کے سرداروں کی فکری نارسائیاں اسلام نے ایمان لانے والوں میں جو خصائل و فضائل پیدا کیے ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد یہود اور قریش کے بڑے بڑے لوگوں کی فکری نارسائیوں اور عملی بےہودگیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ ہر عقل رکھنے والا شخص اندازہ کرسکے کہ اسلام اپنے اندر کیا فکری اور عملی تبدیلی کا پیغام لے کر آیا ہے جس کے نتیجے میں جو لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →اسلام کے بعد کفر اختیار کیا : آیت 34: وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى (اور تھوڑا مال دیا اور بند کردیا) اپنا عطیہ دینا بند کردیا اور اس کے دینے سے رک گیا۔ اکدی اصل میں اکداء الحاضر سے لیا گیا۔ وہ یہ ہے کہ کھودنے میں سامنے سخت چٹان آجائے اور وہ اس کو کھودنے سے روک دے۔ قول ابن عباس ؓ : یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اسلام کے بعد کفر اختیار کیا۔ ایک قول یہ ہے : ولید بن مغیرہ کے متعلق اتری، اس نے قریب تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع کرلی مگر بعض کفار نے اس کو عار دلائی، اور کہنے لگے تو نے اپنے بڑوں کا دین چھوڑ دیا اور خیال کیا کہ وہ جہنمی ہیں۔ اس نے جواب دیا مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل…
Read the full tafseer →آیت افرء یت الذی تولی کی تفسیر 33 ۔” افرایت الذی تولی “ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم ﷺ کے دین کی اتباع کی تو بعض مشرکین نے اس کو عار دلائی اور کہا تونے اپنے بڑے حضرات کے دین کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ قرار دے دیا ؟ تو اس نے کہا میں اللہ کے عذاب سے ڈر گیا ہوں تو اس عار دلانے والے نے اس کو ضمان دی کہ اگر وہ شریک کی طرف لوٹ آئے تو بہت سارا مال دوں گا اور اللہ کا عذاب اس سے اٹھالوں گا تو ولید شریک کی طرف لوٹ آیا اور اس عار دلانے والے نے کچھ مال اس کو دیا اور باقی نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” افرایت الذین تولی “ ایمان سے پیٹھ پھیری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَفَرَءَيْتَ ) کیا آپ نے اس شخص کا حال دیکھا ہے جسے اپنے رب کی عبادت اور توحید کا حکم دیا گیا تھا مگر اس نے اس سے منہ موڑا اور اعراض کیا اگر اس کا نفس قلیل سے عمل پر آمادہ ہوا بھی تو اس پر قائم نہ رہا بلکہ اس نے بخل سے کام لیا اور اپنے ہاتھ کو روک لیا کیونکہ احسان اس کی عادت اور فطرت نہیں اس کی فطرت تو اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور نیکی پر عدم ثبات ہے بایں ہمہ وہ اپنے نفس کو پاک گردانتا ہے اور اسے وہ منزلت عطا کرتا ہے جو اللہ نے عطا نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ہلکے گناہ کون سے ہیں ؟ قول باری ہے (الا اللھم مگر ہاں یہ کہ ہلکے ہلکے گناہ ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے لمم کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر مناسب بات نہیں سنی جس کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کاری کی جو صورت لکھ دی ہے اس کا ارتکاب وہ لامحالہ کرکے رہے گا۔ آنکھوں کی زناکاری غلط نظ رہے اور زبان کی زنا کاری گفتگو ہے۔ انسان کا نفس تمنی کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور پھر اس کی شرمگاہ ان تمام باتوں کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ “ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لمم سے مراد نظر بازی،…
Read the full tafseer →[ 48] منکر شخص کے بخل اور کنجوسی کا ذکرو بیان : سو ایسے شخص کے بخل اور اس کی کنجوسی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تھوڑا سا دے کر رک گیا " اکدٰی " دراصل " کدیہ " سے ماخوذ و مشتق ہے جو اس پتھر اور چٹان کو کہا جاتا ہے جو کھدائی کے دوران سامنے آجاتی ہے، اور اس سے کھدائی کا کام روک جاتا ہے، سو اسی مناسبت سے یہ لفظ ہر ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کہ کام کرنے کے دوران کوئی ایسی رکاوٹ پیش آجائے جس کا توڑنا اس کے لئے بہت مشکل، اور اس وجہ سے کھدائی کا کام رک جائے، اور یہ بخیل دنیا داروں کا عام رویہ ہے کہ وہ مارے باندھے کبھی خرچ کرتے بھی ہیں تو تھوڑا سا خرچ کرکے رک جاتے ہیں، اور طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214) اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 10 مجاہد ابن زید اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیتیں ایک شخص ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ مسلمان ہوگیا لیکن مشرکین نے اسے عار دلائی کہ تم نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا۔ اس نے کہا مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ عار دلانے والے نے کہا تم مجھے اتنا مال دے دو میں تمہارا عذاب اپنے سر لے لوں گا۔ اس پر وہ شرک کی طرف پلٹ گیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(53:34) واعطی قلیلا : واؤ عاطفہ ہے۔ اعطی قلیلا معطوف۔ اور اس نے تھوڑا مال دیا۔ یعنی مشرک نے ولید کو کچھ مال دیا۔ اور باقی کے دینے میں بخل کر گیا۔ انکاری ہوگیا۔ اکدی ماضی واحد مذکر غائب اکداء (افعال) مصدر جس کے معنی زمین کے پتھر کی طرح سخت نکلنے کے ہیں۔ اکدا اصل میں کدیۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی زمین کے سخت ہونے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں حفر فاکدی اذا بلغ الیٰ کدیۃ ای صلابۃ فی الارض فلم یمکنہ الحفر۔ جب زمین کھودتے وقت پتھریلی چٹان آجائے اور مزید کھدائی ناممکن ہوجائے تو کہتے ہیں حفرفاکدی۔ اس نے زمین کھودی اور نیچے سے چٹان نکل آئی ۔ یہاں آیت ہذا میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تھوڑا سا مال دے کر باقی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–62
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
[14] گناہ کبیرہ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
خدا کا مطالبہ 1: اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہے ۔ کہ وہ اپنے بندوں سے سو فیصد ہی نیک ہونے کا ماطلبہ نہیں کرتا ۔ اور یہ نہیں چاہتا ۔ کہ ان سے کسی لغزش اور کوتاہی کا صدور نہ ہو ۔ کیونکہ اس نے انسان کی طبیعت کسی قسم کی ہے ۔ وہ صرف یہ توقع رکھتا ہے ۔ کہ جہاں تک متعین گناہوں اور کھلی کھلی برائیوں کا تعلق ہے ۔ انسان ان سے بچنے اور ان سے موافقت نہ کرے ۔ زندگی کا تصور صحیح ہو ۔ دماغ درست ہو اور عقیدہ ایسانہ ہو جو اس کو گمراہ کردے ۔ تو پھر اللہ اتنا واسع المغفرت ہے ۔ کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر مواخذہ نہیں کریگا ۔ وہ تو یہ بھی کرسکتا ہے ۔ کہ کبائر سے بھی چشم پوشی کرلے ۔ اور بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کردے ۔ مگر…
Read the full tafseer →(34) اور تھوڑا سا دیا……اور بند کردیا اور سخت دل ہوگیا۔ کہتے ہیں ولید بن مغیرہ دین حق کی جانب کچھ مائل ہوچلا تھا مشرکوں نے اس کو سمجھایا کہ تو یہ کیا کرتا ہے اس نے کہا خدا کے عذاب سے ڈر لگتا ہے اس پر ایک معتصب مشرک نے کہا کہ اگر عذاب کی نوبت آئی تو میں ضامن ہوتا ہوں کہ تیرا عذاب میں اوٹ لوں گا بشرطیکہ تو اپنے مال میں سے اتنا اتنا مال مجھے دیدے۔ ولید نے ان کی بات مان لی اسلام سے بھی ہٹ گیا اور مشرک کو جس کا نام عاتیہ تھا مال بھی پورا نہ دیا اور بند کردیا اس کو فرمایا کہ آپ نے اس شخص کی حالت کو بھی ملاحظہ فرمایا جس نے پیٹھ پھیری اور اسلام سے روگردانی کی یعنی اسلام سے ہٹ گیا اور جو تھوڑا سا مائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
ف 1۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ ایک شخص اسلام لے آیا تھا، کسی نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا کہ میں عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ بولا تو مجھ کو کچھ دے میں تیری طرف سے عذاب اپنے سر رکھوں گا۔ چناچہ کچھ دیا، اس نے اور مانگا، نہایت کشاکشی سے اس نے اور بھی دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی۔ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا، ظاہر ہے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو، آیت سب کو شامل ہے
Read the full tafseer →وہ تھوڑا سا آگے بڑھتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے 34 ؎ (اعطیٰ ) ” اس نے دیا “ (اعطاہ) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس جگہ دینے سے مراد فرمانبرداری کرنا اور بات کو سن کر مائل ہونے کے ہیں یعنی اس نے قرآن کریم جیسا کلام سنا تو فرمانبرداری کی طرف مائل ہوا لیکن جب اپنے سرداروں اور ساتھیوں کی باتیں سنیں تو پھر قدم پیچھے ہٹا لیا اور اسلام کو قبول کرنے کی جرأت پیدا نہ ہوئی۔ حالانکہ اس کے لئے مائل بہ اعتراف تھا اور بات کو قبول کرنے پر دل آمادہ ہوتا تھا۔ (اکدی) وہ پتھر کی طرح سخت نکلا۔ (اکدہ) سے جس کے معنی زمین کے پتھر کی طرح سخت نکلنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (اکدہ) اصل میں کدیتہ سے…
Read the full tafseer →وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ (and gave a little, and stopped? ...53:34) The word akda is derived from kudyah which refers to a hard or stony piece of ground or clod that appears in the course of digging a well or a trench. As a result, the digger cannot dig any further. Thus the meaning of the verse is that at first he gave a little, then he stopped giving. In view of the incident narrated under the heading of "Background of Revelation", the meaning is quite clear. [ For the person in that incident paid a little amount and then stopped payment.] Apart from this meaning, Sayyidna Mujahid,…
Read the full tafseer →34 The reference is to Walid bin Mughirah who was one of the prominent chiefs of the Quraish. According to Ibn Jarir Tabari, this person had first become inclined to accept the invitation of the Holy Prophet (upon whom be peace), but when a polytheist friend of his came to know of his intention to become a Muslim, he counselled him not to give up his ancestral faith, and asked him that if he was afraid of the punishment of the Hereafter, he should pay him a certain amount of money and he would take the responsibility to suffer the punishment on his behalf. Walid accepted the offer and turned…
Read the full tafseer →