An-Najm 53:33

An-Najm · from ayah 33

53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی ۟ۙاَفَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ تَوَلّٰىۙ‏

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you seen the one who turned away

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:33

پھر اے نبیؐ، تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منھ موڑ لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو (حق سے) منہ موڑ گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے (حق سے) منہ پھیر لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے روگردانی کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بھلا اس کو دیکھا جس نے اعراض کیا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے منہ پھیرلیا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر نظر کی ہے جس نے روگردانی کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر (اے نبی ﷺ !) کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے پیٹھ موڑ لی ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), did you see him who turned away (from the Path of Allah),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did you see the one who turned away,

— Muhammad Taqi Usmani

Did you see the one who turned away,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Did you observe him who turned away (from Islam).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Didst thou (O Muhammad) observe him who turned away,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you seen the one who turned away

— Saheeh International

(Muhammad), have you ever seen the one who has turned away (from guidance),

— Muhammad Sarwar

Have you then seen him who turns his back?

— Muhammad Habib Shakir

Observedest thou him who turned away?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀) 4۔ النسآء :31) اگر تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–33

سورة النَّجْم 30 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ 53۔ سورة النَّجْم 31 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 130 جلد دوم، النحل حاشیہ 89۔ سورة النَّجْم 32 اصل الفاظ ہیں اِلَّا اللَّمَمَ۔ عربی زبان میں لَمَم کا لفظ کسی چیز کی تھوڑی سی مقدار، یا اس کے خفیف سے اثر، یا اس کے محض قرب، یا اس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں اَلَمَّ بَالْمَکَانِ ، وہ شخص فلاں جگہ تھوڑی دیر ہی ٹھہرا، یا تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں گیا۔ اَلَمَّ بالطَّعَامِ ، اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ بِہ لَمَمٌم اس کا دماغ ذرا سا کھسکا ہوا ہے، یا اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شان نزول در منثور میں بروایت ابن جریر یہ نقل کیا ہے کہ کوئی شخص اسلام لے آیا تھا، اس کے کسی ساتھی نے اس کو ملامت کی کہ تو نے اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ دیا ؟ اس نے کہا کہ میں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں وہ بولا کہ تو مجھے کچھ دیدے تو میں آخرت کا تیرا عذاب اپنے سر پر رکھ لوں گا، تو عذاب سے بچ جائے گا، چناچہ اس نے کچھ دیدیا، اس نے اور مانگا تو کچھ کشا کشی کے بعد کچھ اور بھی دے دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی، روح المعانی میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ لکھا ہے، جس کا اسلام کی طرف میلان ہوگیا تھا، اس کے دوست نے ملامت کی اور عذاب کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ خلاصہ تفسیر (آپ نے نیکوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–35

(افرء یت الذی تولی واعطی قلیلاً والدی اعندہ علم الغیب فھویری (33، 35) (مفت کی جنت کے خواب دیکھنے والوں کی تمثیل)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کردار کو ممثل کر کے پیش کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھدا اتارنے کے لیے لیکن اپنے لیے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے کہ وہ اس کی مدد سے ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے لیے محفوظ ہیں۔ الذی سے ہمارے مفسرین نے عام طور پر قریش کے ایک سردار ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اسلام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 32–33

32۔ 1 کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بےحیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–33

16: قرآن کریم میں اصل لفظ لمم استعمال ہوا ہے، اس کے لفظی معنی ہیں تھوڑاسا، چنانچہ عام طور سے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ جو کبھی سرزد ہوجائیں، اور لمم کے معنی قریب ہونے کے بھی ہوتے ہیں، اس لحاظ سے بعض مفسرین نے اس لفظ کی تشریح یہ کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی گناہ کے قریب چلا جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ 17: اس آیت میں اپنے آپ کو مقدس اور متقی سمجھنے اور اپنی تعریفیں کرتے رہنے سے منع کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–34

کون ہے یہ شخص۔ الذی ............ واکدی (35 : 43) ” جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا “ اور اللہ تعالیٰاس کی روش کو تعجب انگیز قرار دیتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک متعین شخص تھا جس نے اللہ کی راہ میں تھوڑا سا خرچ کیا اس کے بعد وہ خرچ کرنے سے رک گیا۔ اس لئے کہ وہ فقیر نہ ہوجائے۔ کشاف میں علامہ زمحشری نے اس کا تعین کیا ہے کہ یہ حضرت عثمان ابن عفان ؓ ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ کا جو مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے تحریک اسلامی کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا ، بغیر کسی توقف اور بغیر کسی حساب کے وہ معلوم ہے اور ان کا جو عقیدہ تھا وہ بھی معلوم ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ہر شخص اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33{ اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ } ”پھر اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے پیٹھ موڑ لی ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–33

22 اس فقرہ کی تشریح و تفسیر کے لیے سورة نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ 51، 53 ملاحظہ فرمائیے۔ 23 یعنی یہ اس کی مغفرت کی وسعت ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو وہ ان گناہوں سے متعلق تمہارے خیالات، ابتدائی اقدامات تمہاری لغزشیں اور آلودگیاں سب کچھ معاف فرما دے گا۔ حالانکہ ان کی تعداد بڑے گناہوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ 24 اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیوں غلط ہے ؟۔ یعنی کسی بھی شخص کو اپنے تقویٰ اور نیک اعمال پر ناز اور فخر نہیں کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بزرگ نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اسے ابتدائ ً اپنی پیدائش پر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ کن کن حالتوں سے گزر کر اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

30۔ یعنی اپنے ہی مطلب کے لئے مال دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اور پھر اس کا بھی پوری طرح ایفاء نہ کیا تو ایسا شخص بھلا دوسروں کی نفع رسانی کیلئے کھلے دل سے کیا خرچ کرے گا ؟ حدیث میں ایک شخص متعین کا ذکر آتا ہئے۔ ولید بن مغیرہ نامی کا، کہ اس کا میلان اسلام کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے مشرک نے اس سے کہا کہ کیوں اس فکر میں گھلا جاتا ہے۔ مجھے اتنا روپیہ دے میں سب تیری طرف سے اوڑھے لیتا ہوں۔ ولید نے وعدہ کرلیا لیکن کچھ تھوڑا بہت دے کر اسے بھی بند کردیا۔ (آیت) ” الذی تولی “۔ یعنی دین حق سے وہ شخص پھر گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–34

ترجمہ :۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ایمان سے پھر گیا یعنی مرتد ہوگیا جب ایمان پر اس کو عار دلائی گئی اور کہا مجھے اللہ کے عذاب سے خوف آیا، تو اس کے لئے عاردلانے والا اس بات کا ضامن ہوگیا کہ وہ اس کی طرف سے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر اٹھا لے گا، اگر وہ اپنے شرک کی طرف لوٹ آئے اور اسے مال میں سے اتنا دیدے، چناچہ یہ شخص مرتد ہوگیا اور اس شخص نے مقررہ مال میں سے قلیل حصہ دیدیا اور باقی مال کو روک لیا اکدی کدیۃ سے ماخوذ ہے، کدیہ چٹان کے مانند زمین کا وہ سخت حصہ جو کنواں کھودنے والے کھودنے سے روکدے جب کھودتا ہوا اس چٹان پر پہنچے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے ؟ کہ وہ جانتا ہے منجملہ اس کے یہ علم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افرء یت الذی تولی کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی اَفَرَءَ یْتَ : استفہام : تعجبی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ اَلَّذِیْ تَوَلّٰی : جس نے اتباع حق کی طرف سے پشت پھیرلی ‘ مُنہ موڑ لیا اور حق پر ثابت قدم اور قائم رہنے سے اعراض کیا۔ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ ولید رسول اللہ ﷺ کا متبع ہوگیا تھا ‘ لیکن بعض مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا : تم نے باپ ‘ دادا کے مذہب کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ سمجھنے لگا۔ ولید نے کہا : مجھے اللہ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔ ایک شخص بولا : اگر تم باپ ‘ دادا کے مذہب کی طرف لوٹ آئے تو میں تم کو اتنا مال دوں گا اور اگر اللہ کا عذاب تم پر آیا تو تمہاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اصحاب محمد میں جو غرباء ہیں ان پر خرچ کرنے سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں بہت تھوڑا مال دیا اور پھر وہ بھی بند کردیا۔ شان نزول : اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى (الخ) اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم جہاد میں تشریف لے چلے تو ایک شخص اس راہ سے آیا کہ اسے کوئی سوار کرالے پر اس کے سوار ہونے کے لیے کوئی چیز نہ ملی اتنے میں اس کا دوست ملا تو اس شخص نے اپنے دوست سے کہا کہ مجھے بھی کچھ دو ، وہ کہنے لگا میں اپنی یہ سواری دیتا ہوں اس شرط پر کہ میرے گناہوں کا بوجھ تو اٹھا لے تو اس نے اپنے دوست سے کہا کہ منظور ہے اس پر یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 33–34

1۔ افرء یت الذی تولی :۔ اس سورت کا مضمون رسالت کا اثبات ، شرک اور بت پرستی کی تردید اور مشرکین مکہ کی مذمت ہے۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے پاک ہونے کے گمان اور دعویٰ سے منع فرمایا۔ قریش مکہ اپنے بارے میں کئی طرح کے گمان اور دعوے رکھتے تھے ، جنہوں نے انہیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان کے وہ گمان ذکر فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی برتری کا گمان تھا ، اللہ تعالیٰ کے تمام لوگوں کو مٹی سے ، پھر ماں کے شکم سے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر تقویٰ کو معیار فضیلت قرار دیا۔ ایک کام ان کا یہ تھا کہ انہوں نے عین کعبہ کے اندر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

افرء یت الذی تولی۔ واعطی قلیلاً واکدی۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کرنے میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا تو ان میں سے ایک معین شخص کو اس کے برے فعل کے ساتھ ذکر کیا۔ مجاہد، ابن زید اور مقاتل نے کہا، یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی (1) اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی اتباع کی تو بعض مشرکوں نے اسے عار دلائی اور کہا : تو نے اپنے آباء کے دین کو کیوں چھوڑ دیا، انہیں گمراہ قرار دیا اور تو نے گمان کیا کہ وہ جہنم میں ہیں ؟ اس نے کہا میں اللہ کے عذاب سے ڈر گیا ہوں۔ تو اس مشرک نے کہا، اگر وہ اپنے مال میں سے کچھ اسے دے دے اور شرک کی طرف واپس لوٹ آئے تو وہ وحید کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک جہاد میں نکلے ایک آدمی آیا اس نے کوئی (سواری) نہیں پائی کہ اس پر وہ بھی (جہاد کے لئے) نکلے وہ اپنے ایک دوست سے ملا اور اس سے کہا مجھے کوئی چیز (سواری کے لئے) دے دو اس نے کہا میں تجھ کو اپنا جوان اونٹ دیتا ہوں اس شرط پر کہ تو میرے گناہوں کو اٹھالے، اس نے کہا (میں اٹھالوں گا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) '' نازل فرمائی '' افرء یت الذی تولی (33) واعطی قلیلا واکدی (34) '' (کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی اور تھوڑا مال دیا اور پھر بالکل بند کردی) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے دراج ابی السمح (رح) سے روایت کیا کہ ایک لشکر جنگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَرَءَيْتَ [ تو کیا آپ نے دیکھا ] الَّذِيْ [ اس کو جس نے ] تَوَلّٰى [منہ موڑا ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 33 تا 35 ۔ میں ان لوگوں کے کردار کو ایک تمثیل کے پیرائے میں پیش کیا ہے جو اللہ کی راہ میں کچھ دینے دلانے کا تو حوصلہ نہیں رکھتے ، اور اگر کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس ذرا سا لیکن اپنے فرضی معبودوں کی شفاعت اور اپنے خاندانی شرف کے زعم میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے لیے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا انکے پاس علم غیب کی دوربین ہے جس کی مدد سے وہ اپنے مراتب کو دیکھ رہے ہیں ۔ (تدبر قرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 33–36

کافر دھوکہ میں ہیں کہ قیامت کے دن کسی کا کام یا عمل کام آجائے گا روح المعانی صفحہ 65: ج 27 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرات سنی تو متاثر ہوا اور اسلام کے قریب ہوگیا رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کے اسلام کے قبول کرنے کی امید بندھ گئی پھر اسے مشرکین میں سے ایک شخص نے ملامت کی اور کہا کیا تو اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹ رہا ہے تو سمجھتا ہے کہ محمد ﷺ کا دین قبول نہ کیا تو موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہوگا ایسا کر تو اپنے دین پر واپس آجا اور تجھے جو عذاب کا ڈر ہے تیری طرف سے برداشت کرلوں گا مگر یوں ہی مفت میں نہیں شرط یہ ہے کہ تو مجھے اتنا مال دیدے۔ ولید اس پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–62

خصائص اوصاف سعادت وشقاوت و قانون جزاء اعمال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یت الذی تولی ....... الی ...... فاسجدوا للہ وعبدوا “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ کے عظمت و جلال کا بیان تھا اور اس ضمن میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندوں کا ذکر تھا تو اب بعض ایسے شقی اور بدبخت انسانوں کا ذکر ہے کہ انکی شقاوت دینا کے واسطے سامان عبرت ہے اور اسی کے ساتھ اعمال کی جزاء وسزاکا معیار بیان فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ انسانی کوشش بہرحال اپنے ثمرات ظاہر کرکے رہتی ہے تو ارشاد فرمایا۔ بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے دین حق سے روگردانی کی اور تھوڑا سادیا اور پھر سخت دل ہوگیا۔ 1 حاشیہ (اکدی۔ کدیتہ۔ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

21:۔ ” افرایت۔ تا۔ یری “ یہ معاندین کے لیے زجر ہے۔ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی۔ شروع میں وہ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھتا اور وعظ و نصیحت سنتا تھا اور اسلام سے متاثر ہوچلا تھا۔ قرآن کی تعریف بھی کرتا تھا۔ بعض، مشرکین نے اس کو حق گوئی اور اسلام میں رغبت کا طعنہ دیا اور کہا اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر انہیں گمراہ قرار دیتا ہے اس نے جواب دیا میں تو اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں اس پر اس مشرک نے کہا عذاب سے تمہیں بچانے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ چناچہ وہ پھر گیا اور زبان سے جو حق بات کہتا تھا اس سے رک گیا۔ کان الولید مدح القران ثم امسک عنہ فنزل (واعطی قلیلا) ای من الخیر بلسانہ (واکدی) ای قطع ذلک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–42

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى۝ 33 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–52

ترکیب :۔ اعندہ : الجملۃ المفعول الثانی لرایت بمعنی اخبرت۔ ان لا تزر : ان مخفۃ وضمیر الشان، اسمھا محذوف ای انہ لا تزر والجملۃ المنفیۃ فی محل الجر علی انھا بدل مما فی صحف موسی۔ تفسیر :۔ نیکوں کا بیان کر کے ان مقابلے میں بعض بدوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ایسے بھی بدکار ہوتے ہیں۔ فقال : افرایت الذی تولی۔ کہ اے محمد ! تو نے ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں اور کچھ تھوڑسا سا دے کر دل کو سکیڑ لیتے ہیں کیا ان کو علم غیب ہے کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور ان کو کسی سے حاجت نہیں ہوگی۔ قرآن مجید میں ان طریقوں سے انسانی طبائع کے جزر و مد اور اخیر و شر میں اس کے جذبات بتلائے جاتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 33–35

اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰی۔ وَاَعْطٰی قَلِیْلاً وَّاَکْدٰی۔ اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَھُوَ یَرٰی۔ (النجم : 33 تا 35) (اے پیغمبر ! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو پشت پھیر گیا۔ اور تھوڑا دے کر رک گیا۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے، کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔ ) قریش کے سرداروں کی فکری نارسائیاں اسلام نے ایمان لانے والوں میں جو خصائل و فضائل پیدا کیے ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد یہود اور قریش کے بڑے بڑے لوگوں کی فکری نارسائیوں اور عملی بےہودگیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ ہر عقل رکھنے والا شخص اندازہ کرسکے کہ اسلام اپنے اندر کیا فکری اور عملی تبدیلی کا پیغام لے کر آیا ہے جس کے نتیجے میں جو لوگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–38

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ بخشش فرمانے والا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اس کی بخشش سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ جو شخص کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے جو توبہ کے بغیرجائے اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔ نبی ﷺ یہی بات اہل مکہ کو سمجھاتے تھے لیکن وہ لوگ اسے سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ جس کے لیے وہ مختلف قسم کے بہانے پیش کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں قیامت کے دن چھڑا لیں گے۔ کبھی کہتے کہ جو دنیا میں خوشحال ہے وہ آخرت میں بھی بہتر اور خوشحال ہوگا۔ اسی زعم کے پیش نظر ولید بن مغیرہ کے ساتھ ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 33: اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى (کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی) ایمان سے اعراض کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32 ۔” پھر ان کا وصف بیان کیا اور فرمایا ” الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الااللمم “۔ الا اللمم کی تفسیر میں مختلف اقوال اس آیت کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ استثناء صحیح ہے اور ” اللمم “ کبائر اور فواحش میں سے ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ وہ کسی فاحشہ کا ارتکاب کرلے، ایک مرتبہ پھر توبہ کرلے اور پھر باز آجائے اور یہ ابوہریرہ ؓ ، مجاہد اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے اور عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں ” اللمم “ جو شرک سے کم ہو۔ سدی اور ابو صالح رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” الا اللمم “ کے بارے میں پوچھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–41

33۔ 41۔ تفسیر مقاتل تفسیر ابن جریر 3 ؎ تفسیر خازن وغیرہ میں جو مجاہد وغیرہ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص ولید بن مغیرہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا اس کا یہ حال دیکھ کر مشرکین مکہ نے اس کو طرح طرح سے بہکایا اور ان میں سے ایک شخص نے ولید سے یہ بھی کہا کہ تو مجھ کو اتنے روپے دے دے اور اسلام سے پھر جا۔ اگر قیامت سچ ہوئی اور اسلام سے پھرجانے کے بدلہ میں تیرے اوپر کچھ عذاب ہوا تو وہ عذاب میں اپنے ذمہ لے لوں گا اس بہکانے سے ولید اسلام سے پھر گیا اور اس بہکانے والے شخص سے جس قدر روپے ٹھہرے تھے اس میں سے کچھ تو اس شخص کو دیئے اور کچھ روک رکھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–34

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَفَرَءَيْتَ ) کیا آپ نے اس شخص کا حال دیکھا ہے جسے اپنے رب کی عبادت اور توحید کا حکم دیا گیا تھا مگر اس نے اس سے منہ موڑا اور اعراض کیا اگر اس کا نفس قلیل سے عمل پر آمادہ ہوا بھی تو اس پر قائم نہ رہا بلکہ اس نے بخل سے کام لیا اور اپنے ہاتھ کو روک لیا کیونکہ احسان اس کی عادت اور فطرت نہیں اس کی فطرت تو اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور نیکی پر عدم ثبات ہے بایں ہمہ وہ اپنے نفس کو پاک گردانتا ہے اور اسے وہ منزلت عطا کرتا ہے جو اللہ نے عطا نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–37

ہلکے گناہ کون سے ہیں ؟ قول باری ہے (الا اللھم مگر ہاں یہ کہ ہلکے ہلکے گناہ ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے لمم کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر مناسب بات نہیں سنی جس کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کاری کی جو صورت لکھ دی ہے اس کا ارتکاب وہ لامحالہ کرکے رہے گا۔ آنکھوں کی زناکاری غلط نظ رہے اور زبان کی زنا کاری گفتگو ہے۔ انسان کا نفس تمنی کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور پھر اس کی شرمگاہ ان تمام باتوں کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ “ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لمم سے مراد نظر بازی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 47] منکر و محروم انسان کے حال پر اظہار تعجب : سو منکر و محروم انسان کی روش اور اس کے حال پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو پھر گیا ؟ یعنی اس کا حال بھی بڑا عجیب اور قابل غور وفکر ہے، کہ دولت ایمان اور اتباع حق کے شرف سے مشرف ہونے کے بعد وہ ایک شیطان الانس کے کہنے میں آکر دین حق سے مرتد اور محروم ہوگیا۔ روایات کے مطابق اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے جو کہ قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا، وہ آنحضرت ﷺ کے وعظ سے متأثر ہو کر اسلام لانے پر آمادہ ہوگیا، لیکن جب مشرکین میں سے ایک شخص نے اس کو عار دلائی کہ کیا تم اپنے باپ داد کے دین سے پھر کر گمراہی میں جانا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–42

کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تشریح : یہاں شروع میں اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے تھا یعنی ولید بن مغیرہ ؓ ۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ ' یہ شخص پہلے رسول اللہ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا مگر اس کے ایک مشرک دوست نے کہا کہ اپنے آبائی مذہب کو مت چھوڑو اگر تمہیں عذاب آخرت کا ڈ ر ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں تمہارے حصہ کا عذاب میں بھگت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور اللہ کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا مگر جو رقم اس نے دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ (از تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 214) اس قصہ کے بیان کرنے کا مطلب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–62

آیات 33 تا 62۔ اسرار ومعارف۔ ایسے لوگ جسے آپ دیکھا جس نے دین حق سے منہ پھیرلیا اور کچھ تھوڑا بہت مال خرچ کرکے پھر اس سے بھی بہت سختی سے رک گیا اس طرح مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا عجیب رسم کہ تھوڑا سامال عذاب سے بچ جائے گا۔ اہل مکہ میں سے ایک شخص ایمان لایا تو کسی دوسرے مشرک نے ملامت کی کہا عذاب سے ڈرتا ہوں اس نے کہا مجھے کچھ دوتو تمہارا عذاب میں اپنے سرلیتا ہوں اور تم اسلام چھوڑ دو ۔ اس معاملے میں بھی اس نے تھوڑا بہت دیایوں سمجھ بیٹھا کہ اب میں فارغ ہوں آج کے دور میں لوگوں نے اسلام کا دعوی کرکے اس رسم کو اپنارکھا ہے کہ عملی زندگی میں فرائض چھوڑ دیے سودلے کر کھاتے ہیں اور کبھی کوئی دیگ پکادی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 10 مجاہد ابن زید اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیتیں ایک شخص ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ وہ مسلمان ہوگیا لیکن مشرکین نے اسے عار دلائی کہ تم نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا۔ اس نے کہا مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ عار دلانے والے نے کہا تم مجھے اتنا مال دے دو میں تمہارا عذاب اپنے سر لے لوں گا۔ اس پر وہ شرک کی طرف پلٹ گیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:33) افرایت استفہام تعجبی ہے اور نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا۔ الذی تولی : الذی اسم موصول واحد مذکر ہے۔ تولی ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ تولی (تفعل) مصدر سے۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ وہ پھر گیا۔ جس نے حق کی طرف سے پشت پھیرلی۔ فائدہ : (1) جمہور کے نزدیک اس شخص سے مراد ولید بن مغیرہ ہے، ولید نبی کریم ﷺ کا متبع ہوگیا تھا لیکن بعض مشرکوں نے اس کا عار دلائی اور کہا کہ تم نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ اور ان کو گمراہ سمجھنے لگا۔ ولید نے کہا کہ مجھے اللہ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے ۔ ایک شخص بولا۔ گر تم باب دادا کے مذہب کی طرف لوٹ آؤ تو میں تم کو اتنا مال دوں گا۔ اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–62

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 62 اکدی وہ رک گیا۔ لم ینبئا مطلع نہیں کیا گیا۔ وزراخری دو سے کا بوجھ۔ سعی اس نے کوشش کی۔ جدوجہ دیک۔ سوف یری بہت جلد وہ دیکھ لے گا۔ اضحک اس نے ہنسایا۔ ابکی اس نے رلایا۔ اقنی مال دار کیا۔ الموتفکۃ اوندھی کی گئیں (بستیاں) عشی اوپر سے گرا تتماری تو شک کرے گا۔ ۔ ازقت الازقۃ آنے والی گھڑی قریب آگئی۔ سامدون کھیلنے والے اعبدوا تم بندگی کرو۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 62 سورۃ النجم کی یہ اٹھارہ آیات جن پر اس سورت کو ختم کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو حق و صداقت کی روشنی کو دیکھ کر اس کی طرف آن ی کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان پر دنیا کے مفادات کا غلبہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–41

قیامت میں ایک بوجھ دوسرا نہ اٹھائے گا۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کا دین میں اتباع کیا تھا، مشرکوں نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا، میں نے عذاب الٰہی کے خوف سے ایسا کیا، توعار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کودے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمہ لیتا ہوں، ولید اسلام سے منحرف ومرتد ہوگیا پھر شرک میں مبتلا ہوگیا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس شخص کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ راہ راست پر آن کر اپنی بےوقوفی سے اس سے پھر گیا اور پھر وہ بےوقوفی بھی ادھوری چھوڑ دی کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–34

[14] گناہ کبیرہ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–34

خدا کا مطالبہ 1: اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہے ۔ کہ وہ اپنے بندوں سے سو فیصد ہی نیک ہونے کا ماطلبہ نہیں کرتا ۔ اور یہ نہیں چاہتا ۔ کہ ان سے کسی لغزش اور کوتاہی کا صدور نہ ہو ۔ کیونکہ اس نے انسان کی طبیعت کسی قسم کی ہے ۔ وہ صرف یہ توقع رکھتا ہے ۔ کہ جہاں تک متعین گناہوں اور کھلی کھلی برائیوں کا تعلق ہے ۔ انسان ان سے بچنے اور ان سے موافقت نہ کرے ۔ زندگی کا تصور صحیح ہو ۔ دماغ درست ہو اور عقیدہ ایسانہ ہو جو اس کو گمراہ کردے ۔ تو پھر اللہ اتنا واسع المغفرت ہے ۔ کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر مواخذہ نہیں کریگا ۔ وہ تو یہ بھی کرسکتا ہے ۔ کہ کبائر سے بھی چشم پوشی کرلے ۔ اور بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کردے ۔ مگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–33

ف 6۔ یعنی ہلکے ہلکے گناہ اگر کبھی کبھار ہوجائیں تو جس نکو کاری کا یہاں ذکر ہے اس میں ان سے خلل نہیں آتا۔ (تنبیہ) استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ ﷺ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا 33 ؎ (افرء یت) کیا پس تو نے دیکھا ؟ تو نے یعنی اے پیغمبر اسلام ! تو نے دیکھا ؟ ظاہر ہے کہ جس شخص کی بات ہو رہی ہے اس کا واقعہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے گزر چکا ہے۔ (الذی) اس شخص کو (تولی) اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ ” اے پیغمبر اسلام ! تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے منہ پھیرلیا۔ “ یہ شخص کون تھا ؟ اس کے متعلق بعض مفسرین نے ولید بن مغیرہ بعض نے نفر بن الحرث اور بعض نے عاص بن وائل مراد لیا ہے۔ لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ تینوں اسلام کی طرف رغبت رکھتے تھے اور آپ ﷺ کی خدمت میں ایک دوسرے سے چھپ کر آتے تھے۔ قرآن کریم سنتے تھے اور اس کلام کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Background of Revelation Ad-Durr-ul-Manthur reports from Ibn Jarir that a person embraced Islam and one of his friends rebuked him for having abandoned his forefather's religion. He responded that he fears Allah's chastisement. The friend told him to make a certain payment to him, and he will take upon himself his punishment of the Hereafter. Thus he [ the new Muslim ] will be spared from the chastisement, and consequently he made the payment to him. The friend demanded more payment. After a scuffle, he made the additional payment to him, and for the balance a document was drawn up with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

30 For explanation, see E.N. 53 of An-Nisa. 31 For explanation, sec E.N. 130 of AI-An'am and E.N. 89 of An-Nahl. 32 The word lamam as found in the original is used for a small quantity of something, or its slight effect, or its mere closeness, or its existence for a short time. This word is used to express the sense that a person did not commit an act but was very near to committing it. On the basis of its usages some commentators have taken the word lamam in the meaning of minor sins. Some others have taken it in the meaning that a person should practically reach very near a grave sin but…

Read the full tafseer →