Explained with ayahs 31–33
گناہ اور ضابطہ الہٰی
مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31) 4۔ النسآء :31) اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
سورة النَّجْم 30
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ 53۔
سورة النَّجْم 31
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 130 جلد دوم، النحل حاشیہ 89۔
سورة النَّجْم 32
اصل الفاظ ہیں اِلَّا اللَّمَمَ۔ عربی زبان میں لَمَم کا لفظ کسی چیز کی تھوڑی سی مقدار، یا اس کے خفیف سے اثر، یا اس کے محض قرب، یا اس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں اَلَمَّ بَالْمَکَانِ ، وہ شخص فلاں جگہ تھوڑی دیر ہی ٹھہرا، یا تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں گیا۔ اَلَمَّ بالطَّعَامِ ، اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ بِہ لَمَمٌم اس کا دماغ ذرا سا کھسکا ہوا ہے، یا اس میں…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ، اس آیت میں ہدایت ربانی کی پیروی کرنے والے محسنین (نیک لوگوں) کا ذکر مقام مدح میں فرما کر ان کی پہچان یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے عموماً اور فحش و بےحیائی کے کاموں سے بالخصوص دور رہتے ہیں، اس میں ایک استثناء، بلفظ لمم فرمایا گیا ہے (جس کی تشریح آگے آتی ہے) اور حاصل استثناء کا وہی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا کہ ان لوگوں کو جو محسن یعنی نیکوں کار کا خطاب دیا گیا ہے، لمم میں ابتلاء ان کو اس خطاب سے محروم نہیں کرتا۔
لَمَمَ کی تفسیر میں صحابہ وتابعین سے دو قول منقول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد صغیرہ…
Read the full tafseer →(الذین یجتنبون کبیرالاثم والفواحش الا المم ان ربک واسمع المغفرۃ ھو اعلم بکم اذا نشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امتھکم فلا تزکوانفسکم ھو اعلم بمن اتقی) (32)
(انسان سے اللہ تعالیٰ کا اصل مطالبہ) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک وہ ہیں جو بڑے گناہوں اور کھلی ہوئی بےحیائیوں سے بچنے والے ہیں، ان سے اگر کوئی برائی صادر ہوتی ہے تو اس کی نوعیت بس یہ ہوتی ہے کہ گویا چلتے چلتے کسی گندگی پر پائوں پڑگئے۔ وہ کبھی ٹھوکر کھا کر کسی گناہ میں مبتلا تو ہوجاتے ہیں لیکن جس طرح کوئی صفائی پسند کسی گندگی پر اپنا بستر نہیں ڈال دیتا بلکہ جلد سے جلد اس سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے اس طرح یہ بھی نہیں کرتے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ 1 کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بےحیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
16: قرآن کریم میں اصل لفظ لمم استعمال ہوا ہے، اس کے لفظی معنی ہیں تھوڑاسا، چنانچہ عام طور سے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گناہ جو کبھی سرزد ہوجائیں، اور لمم کے معنی قریب ہونے کے بھی ہوتے ہیں، اس لحاظ سے بعض مفسرین نے اس لفظ کی تشریح یہ کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی گناہ کے قریب چلا جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے۔
17: اس آیت میں اپنے آپ کو مقدس اور متقی سمجھنے اور اپنی تعریفیں کرتے رہنے سے منع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →الذین ............ اللمم (35 : 23) ” جو بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں اور یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ “ بڑے گناہوں سے مراد بڑی نافرمانیاں ، فواحش سے مراد بھی بڑے گناہ ہیں لیکن خصوصاً وہ جن کے اندر فحاشی ہو۔ ” اللمم “ کے بارے میں مفسرین کے احوال مختلف ہیں۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ استثنا منقطع ہے۔ (استثنا منقطع وہ ہے جہاں استثنا کردہ چیز اس مجموعے کی فرد نہ ہو جس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ ) کیونکہ لمم چھوٹے گناہوں کو کہا جاتا ہے یعنی چھوٹے چھوٹے اعمال ، امام احمد نے روایت کی ہے ، عبدالرزاق سے انہوں نے معمر سے انہوں نے ابن طاؤس سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں…
Read the full tafseer →2 گناہ کبیرہ اور صغیر کا فرق سورة " نساء " کے فوائد میں مفصل گزر چکا۔ " لمم " کی تفسیر میں کئی قول ہیں۔ بعض نے کہا کہ جو خیالات وغیرہ گناہ کے دل میں آئیں مگر ان کو عمل میں نہ لائے وہ " لمم " ہیں۔ بعض نے صغیرہ گناہ مراد لیے ہیں۔ بعض نے کہا کہ جس گناہ پر اصرار نہ کرے یا اس کی عادت نہ ٹھہرائے یا جس گناہ سے توبہ کرلے وہ مراد ہے، ہمارے نزدیک بہترین تفسیر وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے سورة " نساء " کے فوائد میں اختیار کی ہے لیکن یہاں ترجمہ میں دوسرے معانی کی بھی گنجائش رکھی ہے۔
3 اسی لیے بہت سے چھوٹے موٹے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔ گنہگار کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔…
Read the full tafseer →آیت 32{ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ } ”وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں سوائے کچھ آلودگی کے۔“
یہاں پر لَـمَم سے مراد صغائر ہیں 1۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت 31 اور سورة الشوریٰ ‘ آیت 37 میں بھی آچکا ہے اور اب یہاں تیسری مرتبہ آیا ہے۔ مذکورہ آیات کے ضمن میں اس مضمون کے مختلف پہلوئوں کی وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بہت زیادہ متفکر ّ بھی نہ ہواجائے اور دوسروں سے درگزر سے بھی کام لیا جائے۔
یہاں اس حوالے سے میں آپ کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
22 اس فقرہ کی تشریح و تفسیر کے لیے سورة نساء کی آیت نمبر 31 کا حاشیہ 51، 53 ملاحظہ فرمائیے۔
23 یعنی یہ اس کی مغفرت کی وسعت ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہے تو وہ ان گناہوں سے متعلق تمہارے خیالات، ابتدائی اقدامات تمہاری لغزشیں اور آلودگیاں سب کچھ معاف فرما دے گا۔ حالانکہ ان کی تعداد بڑے گناہوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔
24 اپنے منہ میاں مٹھو بننا کیوں غلط ہے ؟۔ یعنی کسی بھی شخص کو اپنے تقویٰ اور نیک اعمال پر ناز اور فخر نہیں کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور بزرگ نہ سمجھنا چاہئے بلکہ اسے ابتدائ ً اپنی پیدائش پر نظر رکھنی چاہئے کہ وہ کن کن حالتوں سے گزر کر اس…
Read the full tafseer →27۔ (کبھی کبھار۔ تو وہ درجہ محسنیت اور محبوبیت کے منافی نہیں) ” جو محبوبیت یہاں بقرینہ مقام مدح مذکور ہے اس کا مصداق بننے کے لئے کبائر سے بچنا تو شرط ہے لیکن صغائر کا احیانا صدور اس کے لئے موقوف علیہ نہیں البتہ عدم اصرار شرط ہے۔ “ (تھانوی (رح)) (آیت) ” الااللم “۔ لمم اور الالمام وہ معصیت ہے جو کبھی کبھی اور اتفاقا سرزد ہوجائے۔ یقال فلان یفعل کذالمما اے حینا بعد حین (راغب) واصل اللمم والالمام مایعملہ الانسان الحین بعد الحین ولایکون لہ عادۃ ولا اقامۃ علیہ (روح) اے مایاتی بہ المومن ویندم فی الحال وھو من اللمم الذی ھو مس من الجنون (کبیر) مقصود کلام یہ ہے کہ انسان گناہ پر جما نہ رہے۔ گناہ اس سے…
Read the full tafseer →الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الا اللمم اس آیت میں ” محسنین “ جن کی اوپر مدح فرمائی گئی ہے کی علامت اور شناخت بتائی گی ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے عموماً اجتناب کرتے ہیں اور فحش و بےحیائی کے کاموں سے بالخصوص دور رہتے ہیں، اس میں ایک استثناء، بلفظ لمم سے فرمایا گیا ہے (لمم) کی تشریح سابق میں بھی گذر چکی ہے، مطلب یہ کہ ان حضرات کو محسن (نیکو کار) ہونے کا جو خطاب دیا گیا ہے، لمم میں ابتلاء ان کو اس خطاب سے محروم نہیں کرتا۔
لمم کی تشریح میں صحابہ اور تابعین کے دو قول منقول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد صغیر گناہ ہیں جن کو سورة نساء کی آیت میں سیئات سے تعبیر فرمایا گیا ہے ان تجتنبوا کبائر ماتنھون…
Read the full tafseer →الذین یحتنبون کبائر الاثم والفواحش الا اللھم ان ربک واسع المغفرۃ .
یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔ سوائے ہلکے ہلکے گناہوں کے ‘ بلاشبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے۔
کبیرہ گناہ کون کونسے ہیں ؟ سورة نساء کی آیت : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ... کی تفسیر میں ہم اس کی تفصیل کرچکے ہیں۔
اَلْفَوَاحِشَ : اس سے مراد یا تو کبیرہ گناہ ہی ہیں اور عطف تفسیری ہے یا حد سے بڑھے ہوئے کبیرہ گناہ مراد ہیں ‘ بعض کے نزدیک وہ کبیرہ گناہ مراد ہیں جن کی حد شرعی مقرر ہے۔
اِلاَّ اللَّمَمَ : : لمم سے وہ گناہ مراد ہیں جو کبھی آدمی سے صادر ہوجائیں پھر وہ ان پر جما نہ رہے…
Read the full tafseer →اب اس طبقہ کے دنیوی اعمال کو بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ شرک اور کبیرہ گناہوں اور زنا اور تمام سے بچتے ہیں۔
مگر ہلکے ہلکے گناہ کہ بےخیالی میں کسی پر نظر پڑگئی یا کسی کو ہاتھ لگ گیا اور پھر اس سے نفس کو ملامت کر کے توبہ کرلی یا یہ کہ شادی کے علاوہ وہ لوگ اور کچھ نہیں کرتے۔
بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بڑی وسیع ہے کہ صغائر و کبائر جو بھی توبہ کرے اس کو معاف فرما دیتا ہے۔ اور وہ تمہارے احوال کو تم سے زیادہ اس وقت سے اچھی طرح جانتا ہے جبکہ تمہیں کو آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے اسی وقت سے ہمیں تمہاری سب حالتوں کا علم…
Read the full tafseer →(1) الذین یجتنبون کبیر الاثم و الفواحشن …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شوریٰ (37) کی تفسیر۔
(2) الا اللم :”الالمام“ اور ”اللم“ کا اصل معنی ”کسیج گہ تھوڑی دیر کے لئے اترنا“ ہے۔ ”الم فلان بالمکان“ جب کبیرہ و گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سیا ن کی آلودگی تھوڑی دیر کے لئے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نسائ : 17، 18) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا :”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیات ہے۔“”اللم“ کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، ”الم بالشیء اذا…
Read the full tafseer →الذین یجتنبون کبرا الاثم والفواحش الاللمم
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذین یجتنبون کبیر الاثم والفواحش الا اللم یہ محسنین کی صفت ہے یعنی وہ بڑے گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے جو شرک ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اعمش، یحییٰ بن وثاب، حمزہ اور کسائی نے کبیر پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد شرک ہے۔ الفواحش سے مراد زنا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة نسئا میں گزر چکی ہے، پھر اس سے مستثنیٰ مقنطع کی صورت میں استثناء کی۔
مسئلہ نمبر 2۔ فرمایا : الا اللمم اس سے مراد گناہ صغیر ہیں ایسے فاعال سے کوئی بھی محفوظ نہیں مگر اللہ تعالیٰ جس کی حفاظت فرمائے۔ اس کے معنی میں…
Read the full tafseer →1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الذین یجتنبون کبرالاثم والفواحش '' (یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں) سے مراد وہ بڑے گناہ ہیں جن کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کا ذکر کیا (آیت ) '' والفواحش '' (سے مراد وہ گناہ ہیں) کہ جن دنیا میں حدمقرر کی ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' الا اللم ''
زنا صدور دیگر اعضاء سے بھی ہوتا ہے :
2:۔ عبدالرزاق (رح) و سعید بن منصور (رح) واحمد (رح) وعبد بن حمید (رح) والبخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ [ وہ لوگ جو بچتے ہیں ] كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے بڑوں سے ] وَالْفَوَاحِشَ [ اور بےحیائیوں سے ] اِلَّا اللَّمَمَ ۭ [ سوائے چھوٹی موٹی غلطی کرنے کے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۭ [ مغفرت کو وسعت دینے والا ہے ] هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ [ وہ خوب جاننے والا ہے تم لوگوں کو ] اِذْ اَنْشَاَكُمْ [ جب اس نے بنایا تم لوگوں کو ] مِّنَ الْاَرْضِ [ زمین سے ] وَاِذْ اَنْتُمْ [ اور جب تم لوگ ] اَجِنَّةٌ [ چھپائے گئے تھے ] فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ۚ [ تمہاری ماؤں کے بیٹوں میں ] فَلَا تُزَكُّوْٓا [ تو تم تزکی (کا چرچا ) مت کرو ] اَنْفُسَكُمْ ۭ [اپنے آپ…
Read the full tafseer →آیت شریفہ میں کبیرہ گناہوں سے اور فواحش سے بچنے والوں کو ﴿ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا ﴾ کا مصداق بتایا ہے۔ کبیرہ گناہ کون سے ہیں ان کی تفصیل سورة نساء کی آیت ﴿ اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ ﴾ کے ذیل میں لکھ چکے ہیں۔
بڑے گناہوں سے بچنے کے ساتھ فواحش سے بچنے کا بھی تذکرہ فرمایا۔ فواحش سے بچنا بھی اچھے بندوں کی صفت ہے اور فواحش بھی كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ میں داخل ہیں لیکن الگ سے بھی ان کا تذکرہ فرما دیا تاکہ ان کبیرہ گناہ سے بھی بچیں جو بےحیائی اختیار کرنے کی وجہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں سے جو بےحیائی کے اعمال صادر ہوتے ہیں لفظ الفواحش ان سب کو شامل ہے دیگر گناہوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
19:۔ ” وللہ ما فی السموات وما فی الارض “ یہ جملہ معترضہ برائے بیان توحید یہ ساری کائنات فرش سے لے کر عرش تک اللہ کی مخلوق و مملوک ہے وہی اس میں متصرف و مختار ہے اور تصرف و اختیار میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ اپنے ارادے اور اپنی مرضی سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی جرات نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے۔
20:۔ ” لیجزی الذین “ لام عاقبت کیلئے ہے اور یہ اعلم بمن ضل کے ساتھ اور یجزی الذین احسنوا، اعلم بمن اھتدی کے ساتھ متعلق ہے بطریق لف و نشر مرتب۔ اللہ تعالیٰ گمراہوں کو اور ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے جس کا انجام یہ ہے کہ وہ گمراہوں اور برے لوگوں کو ان کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربطہ آیات
سورة کے ابتدائی حصہ میں زیادہ تر رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کا اثبات اور شرک کا ردّ ہوا۔ اس کے بعد جزائے عمل کا بیان ہوا۔ اللہ نے نیکی اور برائی کا اصول بیان فرمایا۔ پھر اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ جو لوگ خدا کی یاد سے اعراض کرتے ہیں آپ ان کی طرف زیادہ دھیان نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا مقصد محض دنیا کی زندگی ہے اور ان کا مبلغ علم یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ بےراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔
جزائے عمل
اب ارشاد ہوتا ہے وللہ ما فی السموت وما فی الارض اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کے تصرف میں ہے۔ اس نے کائنات کا یہ سلسلہ…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ 0 ۭ ہُوَاَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِكُمْ 0 ۚ فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ 0 ۭ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى 32 ۧ
اجتناب
ورجل جَنِبٌ وجَانِبٌ. قال عزّ وجل : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ
[ النساء/ 31] ، وقال عزّ وجل : وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [ الحج/ 30] ، واجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] عبارة عن تركهم إياه، فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ المائدة/ 90] ، وذلک أبلغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَالْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلاَّ اللَّمَمَ ط اِنَّ رَبَّـکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ ج فَلاَ تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۔ (النجم : 32)
(جو لوگ بچتے رہے بڑے بڑے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے، مگر کچھ ہلکے اور گناہ کی شروعات، بیشک تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے، وہ تم کو خوب جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے، پس تم اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر شخص کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ ہدایت کے راستے میں گامزن ہے یا گمراہی کے راستے کو اختیار کیے ہوئے ہے اس لیے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔
اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا دے گا اور جو نیکی کو اچھے طریقے سے کرتے ہیں انہیں جزا دے گا۔ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں اگر وہ کسی چھوٹے گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔ کیونکہ آپ کا رب بڑی بخشش والا ہے اور وہ تمہیں اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تمہاری اپنی ماؤں کے پیٹ میں ابتدا…
Read the full tafseer →کبیرہ و صغیرہ میں فرق :
آیت 32: اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ (یہ وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں)
نحو : الذین یہ بدل ہے یا مدح کی وجہ سے موضع رفع میں ہے ای ھم الذین الکبائر، گناہ دو قسم پر ہیں۔ نمبر 1 کبائر، نمبر 2 صغائر۔ وہ گناہ جن کی سزا بڑی ہے وہ کبیرہ ہیں، اور جو ایسے نہیں وہ صغائر ہیں۔
قرات : حمزہ علی نے کبیر پڑھا ہے، یعنی ان میں سے وہ قسم جو بڑی ہے۔
وَالْفَوَاحِشَ (جو کبیرہ میں سے حد سے بڑھے ہیں) گویا اس طرح فرمایا اس میں سے فواحش خاص کر گویا یہ عطف تفسیری ہے۔
ایک قول : کبیرہ جس پر عذاب کی دھمکی گئی گئی ہو۔ اور فواحش وہ ہیں جن پر حد لگتی ہو۔ اِلَّا اللَّمَمَ…
Read the full tafseer →31 ۔” وللہ مافی السموات وما فی الارض “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ پہلی آیات اور اللہ تعالیٰ کے قول ” لیجزی اللذین اسائوا بما عملوا “ کے درمیان پس لام اللہ تعالیٰ کے قول ” لیجزی “ میں پہلی آیت کے معنی کے ساتھ متعلق ہے۔ اس لئے کہ جب وہ ان کو جانتا ہے تو ہر ایک وہی بدلہ دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔ ” الذین اسائوا “ یعنی انہوں نے شرک کیا۔ بما عملوا یعنی شرک کے عمل کیے۔ ” ویجزی الذین احسنوا بالحسنیٰ “ اپنے رب کی توحید کی۔ ” بالحسنیٰ “ یعنی جنت کے ساتھ اور نیکی کرنے والے اور گناہ کرنے والے کو بدلہ دینے پر تب ہی قادر ہوسکتے ہیں۔ جب کثیر الملک ہوں اس لئے درمیان میں فرمایا۔ ” وللہ ما فی السموات ومافی الارض “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31۔ 32۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمیان میں ہر طرح کی حکومت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بےفائدہ کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس جہان کے بعد پھر دوسرا جہان پیدا کیا جائے اور اس میں نیک و بد کی جزا و سزا کی جائے پھر نیکیوں کی نشانیاں بتائیں کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ کبیرہ گناہ کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جس گناہ پر حد شرعی ہے یا عقبیٰ میں جس گناہ پر عذاب کا وعدہ آیا ہے وہ گناہ کبیرہ 1 ؎ ہے۔ جس کبیرہ گناہ کی شریعت میں مذمت زیادہ ہے وہ فاحشہ ہے۔ مثلاً ہمسایہ کی عورت سے بدکاری کرنا بہ نسبت عام…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ) ، جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ یعنی ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے اور وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں۔ مثلا، زنا، شراب نوشی، سودخوری، قتل ناحق، اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ( اِلَّا اللَّمَمَ ) الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ سرزد ہو۔ اس سے مراد ایسے چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا۔ ان صغیرہ گناہوں کا مجرد اور ارتکاب بندے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ہلکے گناہ کون سے ہیں ؟
قول باری ہے (الا اللھم مگر ہاں یہ کہ ہلکے ہلکے گناہ ہوجائیں) حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے لمم کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر مناسب بات نہیں سنی جس کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور ﷺ سے کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کاری کی جو صورت لکھ دی ہے اس کا ارتکاب وہ لامحالہ کرکے رہے گا۔ آنکھوں کی زناکاری غلط نظ رہے اور زبان کی زنا کاری گفتگو ہے۔ انسان کا نفس تمنی کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے اور پھر اس کی شرمگاہ ان تمام باتوں کی تصدیق یا تکذیب کردیتی ہے۔ “
حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لمم سے مراد نظر بازی،…
Read the full tafseer →[ 44] نیکو کاروں کیلئے خصوصی معاملے کا ذکر وبیان :
سو جزاء بالحسنی کے حقداروں کی صفت کاشفہ کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو بچتے رہے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے، بجز کچھ قصوروں کے۔ " لمم " یا تو " لمہ " سے ماخوذ ہے جس کے معنی تھوڑی اور معمولی چیز کے آتے ہیں، اسی سے " لممۃ الشعر " آتا ہے اور یہ ماخوذ ہے " المام " سے جس کے معنی کسی چیز کے قریب ہونے اور ذرا ٹھہرنے اور رہنے کے آتے ہیں، سو پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے کچھ چھوٹے گناہ اور معمولی قصور جو بشری تقاضوں کی بناء پر ایسے نیک اور پاکیزہ لوگوں سے سرزد ہوجاتے ہیں، اور دوسرے احتمام پر معنی ہوں گے کہ انہوں نے کسی گناہ کا صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اچھے برے سب کو بدلہ ملے گا
تشریح : ان آیات میں مختلف موضوعات پر بات چیت کی گئی ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تو انسان اور کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بےمقصد پیدا نہیں کئے گئے بلکہ کائنات انسان کے لیے اور انسان امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جو نیک اعمال کیوجہ سے پاس ہوگیا وہ جنت میں جگہ پائے گا اور جو برے اعمال کی وجہ سے فیل ہوگیا تو وہ دوزخ میں جگہ پائے گا۔ اب مسئلہ پیدا ہوتا ہے اچھے برے اعمال کا، تو یہ کافی تفصیل سے بحث ہوچکی ہے یہاں مختصراً بتایا جا رہا ہے کہ جو چھوٹے گناہ ہیں وہ بڑی نیکیوں کی وجہ سے اللہ معاف کردے گا اور وہ گناہ بھی اللہ نے معافی کے دائرے میں رکھے ہیں کہ جن کو سوچا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…
Read the full tafseer →ف 6 لم دراصل کسی چیز کی تھوڑی سی مقداریا اس میں تھوڑی دیر رہنے یا اس کے قریب پہنچ جانے مگر رک جانے کو کہتے ہیں۔ مثلاً الم بالمکان یعنی وہ اس میں تھوڑی دیر ٹھہرا۔ الم بکذا وہ قریب قریب اس تک پہنچ گیا وغیرہ اس بنا پر اکثر مفسرین نے اللمھ سے صغیرہ گناہ مراد لئے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن فوراً باز آجاتے ہیں۔ وغیر ذلک (ابن کثیر)
7 یعنی چھوٹے چھوٹے گناہ معاف فرماتا رہتا ہے۔ اگر انسان بڑے گناہوں سے بچتا رہے اور توبہ کرلے تو بڑے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔
8 ۔ یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا
9 یعنی اپنی تعریف مت کرو اور نہ…
Read the full tafseer →(53:32) یجتنبون مضارع جمع مذکر غائب اجتناب (افتعال) مصدر سے : وہ بچتے ہیں۔ وہ پرہیز کرتے ہیں۔
کبئر الاثم : مضاف مضاف الیہ۔ بڑے بڑے گناہ۔ یجتنبون کا مفعول ہے ۔
الفواحش : بےحیائی کی باتیں۔ ناشائستہ باتیں۔ فاحشۃ کی جمع۔ یجتنبون کا مفعول ثانی۔
گناہ کبیرہ کے بارے میں متعدد روایات ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :۔ ہر وہ کام جس سے کتاب و سنت کی صریح نص سے منع کیا گیا ہو۔ یا اس کے لئے کوئی شرعی حد مقرر ہو یا جس کی سزا جہنم بتائی گئی ہو یا جس کے مرتکب کو لعنت کا مستحق قرار دیا گیا ہو۔ یا جس پر عذاب کے نزول کی خبر دی گئی ہو ایسی تمام باتیں گناہ کبیرہ ہیں۔
ان کے علاوہ جو دوسرے گناہ ہیں انہیں صغیرہ گناہ کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32
مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 32
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اگر تقوی کی کچھ توفیق اللہ نہ دی تو شیخی نہ مارو، اور اپنے کو بہت بزرگ نہ بناؤ وہ سب کی بزرگی اور پاک بازی کو خوب جانتا ہے اور اس وقت سے جانتا ہے جب تم نے ہستی کے اس دائرہ میں قدم بھی نہ رکھا تھا آدمی کو چاہیے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے پھر بطن مادر کی تاریکیوں میں ناپاک خون سے پرورش پاتا رہا، اس کے بعد کتنی جسمانی اور روحانی کمزوریوں سے دو چار ہوا، آخر میں اگر اللہ نے اپنے فضل سے ایک بلند مقام پر پہنچادیا تو اس کو اس قدر بڑھ چڑھ کردعوی کرنے کا استحقاق نہیں ۔
مسئلہ : اس آیت میں ریا اور خود نمائی اور خود سرائی کی ممانعت فرمائی گئی جس کی ابتدا مٹی سے تھی اگر نعمت الٰہی کے اعتراف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
[14] گناہ کبیرہ کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نساء حاشیہ 27 صفحہ 227۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
خدا کا مطالبہ
1: اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہے ۔ کہ وہ اپنے بندوں سے سو فیصد ہی نیک ہونے کا ماطلبہ نہیں کرتا ۔ اور یہ نہیں چاہتا ۔ کہ ان سے کسی لغزش اور کوتاہی کا صدور نہ ہو ۔ کیونکہ اس نے انسان کی طبیعت کسی قسم کی ہے ۔ وہ صرف یہ توقع رکھتا ہے ۔ کہ جہاں تک متعین گناہوں اور کھلی کھلی برائیوں کا تعلق ہے ۔ انسان ان سے بچنے اور ان سے موافقت نہ کرے ۔ زندگی کا تصور صحیح ہو ۔ دماغ درست ہو اور عقیدہ ایسانہ ہو جو اس کو گمراہ کردے ۔ تو پھر اللہ اتنا واسع المغفرت ہے ۔ کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر مواخذہ نہیں کریگا ۔ وہ تو یہ بھی کرسکتا ہے ۔ کہ کبائر سے بھی چشم پوشی کرلے ۔ اور بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کردے ۔ مگر…
Read the full tafseer →(32) وہ بھلے لوگ وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے اور اجتناب کرتے ہیں الا یہ کہ کوئی معمولی اور صغیرہ گناہ جو اتفاقیہ واقع ہوجائے بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت اور بخشش بہت وسیع ہے وہ تم کو اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹ میں بچے اور جنین تھے لہٰذا تم خود ستائی اور خود اپنی پاکیزگی بیان نہ کیا کرو اور اپنے کو مقدس نہ سمجھا کرو وہ اللہ تعالیٰ ہی تقوے والوں کو خوب جانتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے اس کو جو پرہیزگار ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہر گمراہ اور ہدایت یافتہ کو خوب جانتا ہے تو اب یہ بات فرمائی کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 6۔ یعنی ہلکے ہلکے گناہ اگر کبھی کبھار ہوجائیں تو جس نکو کاری کا یہاں ذکر ہے اس میں ان سے خلل نہیں آتا۔ (تنبیہ) استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں ان کا حال
32 ؎ کبائر کیا ہیں ؟ ان کی پوری وضاحت ہم پیچھے غزوہ الوثقی جلد دوم سورة النساء کی آیت 31 ‘ جلد ہزا سورة ’ الشوریٰ کی آیت 37 میں کرچکے ہیں ان دونوں مقامات کو اچھی طرح دیکھ لیں تو کبائر کی وضاحت آپ کو مل جائے گی۔ فرمایا یہ لوگ کبائر سے اجتناب کرتے ہیں اور بےحاقئی کے کاموں کے قریب نہیں جاتے۔ فواحش۔ فاحش ’ کی جمع ہے اور فاحشتہ اسم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ (قاموس ) ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ابوالفضل) ہر دو چیز جس کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے کردی ہے۔ (منتہیٰ الادب ) برا قول یا عمل۔ (النور : 29) زنا۔ (ابن عباس ؓ)…
Read the full tafseer →Allah Forgives the Small Faults, Al-Lamam
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ (those who abstain from the major sins and from shameful acts, except minor involvements....53:32) The preceding verse praises those who follow the right guidance of Allah and do good deeds. In the present verse, it is stated that the good-doers are those who avoid major sins and, especially immoral sins and shameful deeds. There is one exception made by the expression lamam [ which will be elaborated upon later ].It means that they sometimes do commit minor sins [ lamam ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
30 For explanation, see E.N. 53 of An-Nisa.
31 For explanation, sec E.N. 130 of AI-An'am and E.N. 89 of An-Nahl.
32 The word lamam as found in the original is used for a small quantity of something, or its slight effect, or its mere closeness, or its existence for a short time. This word is used to express the sense that a person did not commit an act but was very near to committing it.
On the basis of its usages some commentators have taken the word lamam in the meaning of minor sins. Some others have taken it in the meaning that a person should practically reach very near a grave sin but…
Read the full tafseer →