Explained with ayahs 31–33
گناہ اور ضابطہ الہٰی
مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31) 4۔ النسآء :31) اگر تم…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 28
بالفاظ دیگر کسی آدمی کے گمراہ یا بر سر ہدایت ہونے کا فیصلہ نہ اس دنیا میں ہونا ہے نہ اس کا فیصلہ دنیا کے لوگوں کی رائے پر چھوڑا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہی زمین و آسمان کا مالک ہے، اور اسی کو یہ معلوم ہے کہ دنیا کے لوگ جن مختلف راہوں پر چل رہے ہیں ان میں سے ہدایت کی راہ کون سی ہے اور ضلالت کی راہ کون سی۔ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروا نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ تم کو بہکا اور بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق اور ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ یہ اگر اپنے اسی زعم باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو انہیں مگن رہنے دو۔ ان سے بحث و تکرار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
خلاصہ تفسیر
(جب اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ اور جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى سے مشرکین عرب کا معاند ہونا معلوم ہوگیا کہ باجود نزول قرآن اور ہدایت کے یہ اپنے گمان اور ہویٰ پر چلتے ہیں، اور معاند سے قبول حق کی امید نہیں ہوتی) تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کو کوئی (اخروی مطلب) مقصود نہ ہو (جس کی وجہ عدم ایمان بالآخرة ہے جو لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ سے اوپر مفہوم ہوا ہے اور) ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی) ہے (جب ان کی بدفہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے، ان کا…
Read the full tafseer →4۔ آگے آیات 31۔ 55 کا مضمون
آگے اسی مضمون کو جو اوپر والے پہرے میں بیان ہوا ہے مزید واضح اور موکد فرمایا ہے۔ پہلے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کے قبضہ میں ہے۔ تمہارے مزعومہ دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کو بھی اس نے اپنا شریک نہیں بنایا ہے کہ وہ اس کے عدل و انصاف پر اثر انداز ہو سکے، چناچہ وہ لازماً ان لوگوں کو سزا دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کو اصلہ دے گا جو نیکی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنے سفارشیوں یا اپنے حسب و نسب یا بزرگوں کو صلہ دے گا جو نیکی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنے سفارشیوں یا اپنے حسب و نسب…
Read the full tafseer →31۔ 1 یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
15: یہ ان لوگوں پر تبصرہ ہے جو بس اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اور آخرت کا انہیں کوئی خیال ہی نہیں ہے کہ ان بیچاروں کی رسائی بس یہیں تک ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
Read the full tafseer →وللہ ............ بالحسنی (35 : 13) ” اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا “ یہ کہ اللہ زمین و آسمانوں کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔ اس سے آخرت کے عقیدے میں قوت اور تاثیر پیدا ہوتی ہے کیونکہ جس نے آخرت پر حساب و کتاب کو مقدر کیا ہے وہی مالک ہے زمین اور آسمانوں کا۔ لہٰذا وہ جزا وسزا پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ کام صرف اسی کا ہے اور وہی ان کے اسباب کا بھی مالک ہے اور اس حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مکمل اور عادلانہ جزاء وسزا دے۔
لیجزی ............ بالحسنی (35 : 13) ” تاکہ اللہ برائی کرنے…
Read the full tafseer →1 یعنی ہر شخص کا حال اس کو معلوم اور زمین و آسمان کی ہر چیز پر اس کا قبضہ۔ پھر نیک و بد کا بدلہ دینے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے۔ بلکہ غور سے دیکھو تو زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں زندگی کا ایک دوسرا غیر فانی سلسلہ قائم کیا جائے جہاں بروں کو ان کی برائی کا بدلہ ملے اور نیکوں کے ساتھ ان کی بھلائی کے صلہ میں بھلائی کی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 31{ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے“
آسمانوں اور زمین کی ہرچیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
{ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْا } ”تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں ان کے اعمال کا“
{ وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور بدلہ دے ان کو جنہوں نے نیک کام کیے ہیں اچھا۔“
Read the full tafseer →21 اس آیت میں واضح طور پر آخرت، اس کی اہمیت اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے یعنی دنیا میں مشرک و موحد، نیک اور بد، متقی اور ظالم کے اعمال کا نتیجہ کبھی اتنا واضح طور پر نہیں نکلا کرتا جس سے انسان بھلائی کی راہ قبول کرنے پر مجبور ہوجائے۔ یہ دنیا صرف دارالعمل ہے دارالجزا اخروی زندگی ہے۔ وہاں برے اور بھلے مشرک اور موحد کا فرق اتنا واضح ہوگا جس کو ہر شخص دیکھ بھی لے گا اور عذاب وثواب اس پر واقع ہوگا۔
Read the full tafseer →25۔ (کہ قدرت اسی کی کامل ہے)
26۔ یعنی اس کے علم کامل وقدرت کامل کے مجموعہ کا متقضایہ ہے کہ مکلفین کے انجام دو قسم کے ہوں۔ اہل ضلالت کا انجام عذاب پر ہو اور اہل ہدایت کا مسرت و راحت پر۔ (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی انجام کار یہ ہونا تھا۔ قال الواحیدی اللام للعاقبۃ (کبیر) والتحقیق فیہ ھو ان حتی ولام الغرض متقاربان فی المعنی لان الغرض نھایۃ العقل وحتی للغایۃ المطلقۃ فبینھما مقاربۃ یستعمل احدھما مکان الاخر (کبیر)
Read the full tafseer →وللہ مافی السموات وما فی الارض یہ جملہ معترضہ ہے اور لیجزی کا تعلق ماقبل سے ہے۔
Read the full tafseer →واللہ ما فی السموات وما فی الارض لیجزی الذین اساء وا بما عملوا و یجزی الذین احسنوا بالحسنی . اور جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے ‘ انجام کار یہ ہے کہ برے کام
کرنے والوں کو انکے کیے (ہوئے برے کاموں) کی سزا دیگا اور نیک کام کرنے والوں کو انکے نیک کاموں کے بدلہ میں اچھی جزا دیگا۔
وَِ ﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ : یعنی سارے جہان کا خالق اور مالک اللہ ہی ہے ‘ وہ معبود برحق ہے ‘ جو چاہتا اور جیسا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا ہے۔
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ : اس نے ساری کائنات کو پیدا کیا اور گمراہوں سے ہدایت یافتہ لوگوں کو الگ کردیا اور ان کے اچھے ‘ برے احوال کو محفوظ…
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین کو ان کے شرک کی سزا دے گا اور موحدین کو ان کی توحید کے صلہ میں جنت عطا کرے گا۔
Read the full tafseer →(1) وللہ ما فی السموت وما فی الارض : لفظ ”للہ“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار کے کمال کا ذکر ہے کہ ساری کائنات کی ہر چیز کا وہی مالک ہے۔
(2) لیجزی الذین آساء وبما عملوا : تو جب وہ علم اور قدرت دونوں میں کامل ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلا دے گا اور بھلائی کرنے والوں کو بھلائی کے ساتھ بدلا دے گا، ان میں سے کوئی بھی نہ کے علم سے اوجھل ہے نہ اس کی قدرت سے باہر ہے۔ اس میں برائی کرنے والوں کے لئے وعید اور بھلائی کرنے والوں کے لئے وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →وللہ ما فی السموت وما فی الارض لیجزی الذین اسآء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی۔ لیجزی کا لام اس معنی کے متعلق ہے جس پر للہ ما فی السموت وما فی الارض دلالت کرتا ہے گویا فرمایا : وہ اس کا مالک ہے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تاکہ محسن کو اس کے احسان کا بدلہ دے اور گناہگار کو اس کے گناہ کا بدلہ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : للہ ما فی السموت وما فی الارض۔ جملہ معترضہ ہے۔ معنی ہوگا تیرا رب گمراہ کو خوب جانتا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے تاکہ اسے بدلہ دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لام عاقبہ ہے معنی بنے گا خلق کے امر کا انجام یہ ہے کہ ان میں گناہگار…
Read the full tafseer →وقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وللہ مافی السموت وما فی الارض ''
4:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لیجزی الذی اسآء وابما عملوا '' (تاکہ بدلہ دے (اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کو جنہوں نے برے کام کئے) یعنی شرک کرنے والے (آیت ) '' لیجزی الذی احسنوا '' (اور اللہ تعالیٰ بدلہ دیں گے نیک کام کرنے والوں کو) یعنی ایمان لانے والے۔
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اور اللہ ہی کا ہے جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۙ [ اور وہ (بھی ) جو زمین میں ہے ] لِيَجْزِيَ [ نتیجۃ وہ بدلہ دے گا ] الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا [ ان کو جنھوں نے برا کیا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] عَمِلُوْا [ انھوں نے عمل کیا ] وَيَجْزِيَ [اور وہ بدلہ دے گا ] الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا [ان کو جنھوں نے اچھا کیا ] بِالْحُسْنٰى [ بڑی بھلائی سے ]
Read the full tafseer →برے کام کرنے والوں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گا اور محسنین کو اچھا بدلہ دیا جائے گا
﴿وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ ﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) اسی نے سب چیزوں کو پیدا فرمایا اسی مخلوق میں بنی آدم بھی ہیں جن کے لیے ہدایت بھیجی ہے ہدایت پہنچنے کے بعد دو فریق ہوگئے ایک فریق برے اعمال والا ہے دوسرا فریق اچھے اعمال والا ہے دونوں فریق کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اس بات کو ﴿ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بالْحُسْنٰى ۚ0031﴾ میں بیان فرمایا ہے پھر اچھے عمل کرنے والوں کی صفت بتاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
19:۔ ” وللہ ما فی السموات وما فی الارض “ یہ جملہ معترضہ برائے بیان توحید یہ ساری کائنات فرش سے لے کر عرش تک اللہ کی مخلوق و مملوک ہے وہی اس میں متصرف و مختار ہے اور تصرف و اختیار میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ اپنے ارادے اور اپنی مرضی سے جو چاہتا ہے کرتا ہے، کسی کو اس کے آگے دم مارنے کی جرات نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے۔
20:۔ ” لیجزی الذین “ لام عاقبت کیلئے ہے اور یہ اعلم بمن ضل کے ساتھ اور یجزی الذین احسنوا، اعلم بمن اھتدی کے ساتھ متعلق ہے بطریق لف و نشر مرتب۔ اللہ تعالیٰ گمراہوں کو اور ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے جس کا انجام یہ ہے کہ وہ گمراہوں اور برے لوگوں کو ان کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ربطہ آیات
سورة کے ابتدائی حصہ میں زیادہ تر رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کا اثبات اور شرک کا ردّ ہوا۔ اس کے بعد جزائے عمل کا بیان ہوا۔ اللہ نے نیکی اور برائی کا اصول بیان فرمایا۔ پھر اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ جو لوگ خدا کی یاد سے اعراض کرتے ہیں آپ ان کی طرف زیادہ دھیان نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا مقصد محض دنیا کی زندگی ہے اور ان کا مبلغ علم یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ بےراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔
جزائے عمل
اب ارشاد ہوتا ہے وللہ ما فی السموت وما فی الارض اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کے تصرف میں ہے۔ اس نے کائنات کا یہ سلسلہ…
Read the full tafseer →وَلِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۙ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى 31 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی…
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لا لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی۔ (النجم : 31)
(اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جن لوگوں نے برے کام کیے اور ان لوگوں کو اچھی جزاء دے جن لوگوں نے اچھے کام کیے۔ )
ہدایت و ضلالت کا سررشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے
ہدایت و ضلالت کا سررشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اسے بجاطور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر شخص کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ ہدایت کے راستے میں گامزن ہے یا گمراہی کے راستے کو اختیار کیے ہوئے ہے اس لیے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کی ملک ہے۔
اللہ تعالیٰ برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا دے گا اور جو نیکی کو اچھے طریقے سے کرتے ہیں انہیں جزا دے گا۔ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی سے بچتے ہیں اگر وہ کسی چھوٹے گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔ کیونکہ آپ کا رب بڑی بخشش والا ہے اور وہ تمہیں اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تمہاری اپنی ماؤں کے پیٹ میں ابتدا…
Read the full tafseer →آیت 31: وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۙ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا (اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، انجام کار یہ ہے کہ برے کام کرنے والوں کو ان کے کیے کی سزا دے گا) جو برے کام کیے ان کی سزا یا اس وجہ سے کہ انہوں نے برے کام کیے وہ ان کو سزا دے گا۔ وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى (اور نیک کام کرنے والوں کو ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں اچھی جزا دے گا) الحسنی : اچھا ثواب و بدلہ اور وہ جنت ہے یا اعمال حسنی کے سبب سے ان کو بدلہ دے گا۔ مطلب اس طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے جہان کو پیدا فرمایا اور کارخانہ کو…
Read the full tafseer →30 ۔ پھر ان کی رائے کو حقیر قرار دیا اور فرمایا ” ذلک مبلغھم من العلم “ یعنی یہ ان کے علم کی انتہا ہے اور ان کی عقلوں کی مقدار ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور کہا گیا ہے کہ وہ علم تک نہیں پہنچے مگر ان کا یہ گمان کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ ان کی سفارش کریں گے۔ پس تم اس پر اعتماد کرو اور قرآن سے اعراض کرو۔ ” ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی “ یعنی وہ دونوں فریقوں کو جاننے والا ہے۔ پس ان کو بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31۔ 32۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمیان میں ہر طرح کی حکومت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بےفائدہ کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس جہان کے بعد پھر دوسرا جہان پیدا کیا جائے اور اس میں نیک و بد کی جزا و سزا کی جائے پھر نیکیوں کی نشانیاں بتائیں کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ کبیرہ گناہ کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جس گناہ پر حد شرعی ہے یا عقبیٰ میں جس گناہ پر عذاب کا وعدہ آیا ہے وہ گناہ کبیرہ 1 ؎ ہے۔ جس کبیرہ گناہ کی شریعت میں مذمت زیادہ ہے وہ فاحشہ ہے۔ مثلاً ہمسایہ کی عورت سے بدکاری کرنا بہ نسبت عام…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے دنیا وآخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے دنیا وآخڑت میں جو کچھ ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے وہ ان پر اپنی قضا وقدر نافذ کرتا ہے ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے انہیں حکم دیتا ہے انہیں منع کرتا ہے اپنے اوامر ونواہی پر انہیں جزا وسزا دیتا ہے پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔ ( لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا) تاکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور اعمال شر کا ارتکاب کیا انہیں جزا کے طور پر بدترین سزا دے۔ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 42] سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا، اور اس اہم اور بنیادی حقیقت کی توضیح و تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ تخلیق وتکوین کے اعتبار سے بھی کہ اس سب کا خالق اور پیدا کرنے والا تنہا وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور ملک و ملکیت کے اعتبار سے بھی، کہ اس سب کا بادشاہ اور مالک حقیقی بھی بہرحال وہی ہے، اور اس میں حکومت و بادشاہی بھی صرف وحدہٗ لاشریک کی ہے، اور قبضہ و تصرف بھی اسی کا ہے، کہ اس میں اس کا ہے، کہ اس میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اچھے برے سب کو بدلہ ملے گا
تشریح : ان آیات میں مختلف موضوعات پر بات چیت کی گئی ہے۔ مثلاً سب سے پہلے تو انسان اور کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بےمقصد پیدا نہیں کئے گئے بلکہ کائنات انسان کے لیے اور انسان امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جو نیک اعمال کیوجہ سے پاس ہوگیا وہ جنت میں جگہ پائے گا اور جو برے اعمال کی وجہ سے فیل ہوگیا تو وہ دوزخ میں جگہ پائے گا۔ اب مسئلہ پیدا ہوتا ہے اچھے برے اعمال کا، تو یہ کافی تفصیل سے بحث ہوچکی ہے یہاں مختصراً بتایا جا رہا ہے کہ جو چھوٹے گناہ ہیں وہ بڑی نیکیوں کی وجہ سے اللہ معاف کردے گا اور وہ گناہ بھی اللہ نے معافی کے دائرے میں رکھے ہیں کہ جن کو سوچا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی اب بطور نتیجہ ایسا ہونا ضروری ہے کہ …
Read the full tafseer →(53:31) وللہ : میں واؤ عاطفہ ہے اور لام تخصیص کا ہے۔ اور اللہ ہی کا ہے۔
لیجزی لام تعلیل کا ہے یعنی اس نے پیدا کیا اس عالم کو جزاء اور سزاء دینے کی غرض سے۔ یجزی مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جزاء (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی جزاء دینا۔ بدلہ دینا۔ سزا دینا۔ وہ معاوضۃ یا بدلہ جو مقابلہ سے مستثنیٰ کردے۔ خیر کے بدلہ میں خیر شر کے بدلہ میں شر جزاء کہلاتا ہے۔ یہاں ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ وہ سزا دے (برابر بدلہ دے) بدکار کو۔
الذین اسم موصول جمع مذکر اساء وا (جنہوں نے برا کام کیا) اساء وا ماضی جمع مذکر غائب۔ اساء ۃ (باب افعال) مصدر۔ انہوں نے برا کیا۔
بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ ہے عملوا اس کا صلہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32
مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 32
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔…
Read the full tafseer →(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں ہر طرح کی حکومت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بےفائدہ کھیل تماشتے کے طور پر نہیں پیدا کیا ، بلکہ غور سے دیکھو تو زمین وآسمان کا یہ ساراکارخانہ پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں زندگی کا ایک دوسرا غیر فانی سلسلہ قائم کیا جائے جہاں بروں کو انکی برائی کا بدلہ ملے اور نیکوں کے ساتھ ان کی بھلائی کے صلہ میں بھلائی کی جائے آگے نیکوں کی شرح بیان کرتا ہے کہ نیک وہی ہے جو کبیرہ گناہ سے بچتے ہیں اس کی تفصیل میں مختلف حدیثیں اور مختلف علماء کے اقوال ہیں شرک کرنا کہ اس سے بڑھ کر کوئی کبیرہ گناہ نہیں، قتل ناحق ، چوری، زنا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔
[13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث
3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی…
Read the full tafseer →(31) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک اور اسی کے اختیار میں ہے تاکہ انجام کار ان لوگوں کو جنہوں نے برے عمل کئے ہیں اور برائیوں کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے کئے کا ان کا بدلا دے اور جنہوں نے بھلے کام کئے اور بھلائیاں کیں ان کو اچھا صلہ عنایت فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 5۔ جب ان کی بد فہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجئے۔
Read the full tafseer →اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بادشاہی میں کسی کی کوئی حصہ داری نہیں ہے
31 ؎ اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور اس طرح اس زمین کے اندر جو کچھ ہے اور آسمانوں کے اوپر سب کا مالک و مختار اور سب کا علم رکھنے والا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے۔ اسی ذات کریمی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور وہی ہرچیز کا محافظ و نگہبان ہے۔ اسی نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا اور عقل و فکر سے نوازا اور اسی عقل و کر کے باعث ان کو مکلف بنا دیا۔ اس دنیا کے لئے قانون مکافات کو بھی رکھا اور آخرت کے قانون عدل کا بھی واضح الفاظ میں اعلان کردیا اور اس کی حکمتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Necessity of turning away from the Misguided People
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ (So, turn away from him who turns away from Our advice, and seeks nothing but (pleasure of) the worldly life.... 53:29-30)
A Special Warning
The Qur'an here describes the condition of those unbelievers who denied the Hereafter and the Day of Judgment. Regretfully, nowadays the Muslims have characterized themselves by the same condition as a result of Western education and material needs and desires. All our attempts…
Read the full tafseer →28 In other words, neither the question whether a person is gone astray or is on right guidance, is to be decided in this world, nor has its decision been left to the judgement of the people of the world; the decision rests with Allah. He alone is the Master of the earth and heavens and He alone knows which way out of the different ways being followed by the people of the world, is the way of guidance and which of error and deviation. Therefore, you should least bother if the polytheistic Arabs and the Makkan disbelievers think you are deluded and misguided and regard their own ignorance as…
Read the full tafseer →