An-Najm 53:30

An-Najm · from ayah 30

53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ؕ— اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ۙ— وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰی ۟ذٰ لِكَ مَبۡلَـغُهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اهۡتَدٰى

ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is their sum of knowledge. Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of who is guided.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:30

اِن لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے، یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایسے لوگوں کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے۔ تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے، اور وہی خوب جانتا ہے کون راہ پا گیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن لوگوں کے علم کی رسائی کی یہی حد ہے، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جِس نے ہدایت پا لی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے علم کی پرواز بس یہیں تک ہے۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ گم کئے ہوئے ہے اور کون ٹھیک راہ پر چل رہا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے علم کی رسائی بس یہیں تک ہے، تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ یاب ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہے رسائی (اور پہنچ) ایسے لوگوں کے علم (و ہنر) کی بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی خوب جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگوں کے علم کی رسائی کی حد بھی بس یہی ہے۔ آپ کا پروردگار ہی بیشک خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی اس کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راست پر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہے ان کے علم کی رسائی کی حد یقینا آپ ﷺ کا ربّ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو اس کی راہ سے بھٹک گئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے ان کو بھی جو ہدایت پر ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کے علم کی یہی انتہا ہے۔ تمہارا رب اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا

— محترمہ رفعت اعجاز

that being the utmost of their knowledge. Surely your Lord fully knows those who have strayed away from His Path and He also fully knows those who are rightly guided.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is the limit of their access to knowledge. Indeed only your Lord knows well about the one who has gone astray from his way, and He knows well about the one who has adopted the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

That is the limit of their access to knowledge. Indeed only your Lord knows well about the one who has gone astray from his way, and He knows well about the one who has adopted the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is what they could reach of knowledge. Verily, your Lord is He, Who knows best him who goes astray from His path, and He knows best him who receives guidance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such is their sum of knowledge. Lo! thy Lord is Best Aware of him who strayeth, and He is Best Aware of him whom goeth right.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is their sum of knowledge. Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of who is guided.

— Saheeh International

This is what the extent of their knowledge amounts to. Your Lord knows best who has gone astray from His path and who has been rightly guided.

— Muhammad Sarwar

That is their goal of knowledge; surely your Lord knows best him who goes astray from His path and He knows best him who follows the right direction.

— Muhammad Habib Shakir

That is their highest point of knowledge. Verily thine Lord! it is He Who is the Best Knower of him who strayeth from His way, and He is the Best Knower of him who letteth himself be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

That is as far as knowledge will reach them. Verily thy Lord knoweth best those who stray from His Path, and He knoweth best those who receive guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–30

آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 27 یعنی یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آ گے نہ کچھ جانتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں، اس لیے ان پر محنت صرف کرنا لا حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–31

خلاصہ تفسیر (جب اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ اور جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى سے مشرکین عرب کا معاند ہونا معلوم ہوگیا کہ باجود نزول قرآن اور ہدایت کے یہ اپنے گمان اور ہویٰ پر چلتے ہیں، اور معاند سے قبول حق کی امید نہیں ہوتی) تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کو کوئی (اخروی مطلب) مقصود نہ ہو (جس کی وجہ عدم ایمان بالآخرة ہے جو لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ سے اوپر مفہوم ہوا ہے اور) ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی) ہے (جب ان کی بدفہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے، ان کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ذلک مبلغھم من العلم ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی) (30) (دنیا پرستوں کی تنگ نگاہی)۔ یعنی ان لوگوں کے علم کی رسائی بس اس دنیا کے ظاہر ہی تک ہے، اس ظاہر کے پیچھے جو حقیقت پوشیدہ ہے اس تک ان کی رسائی نہ ہے اور نہ یہ اس کے طالب ہیں، حالانکہ اصل چیز وہی ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک بازیچہ اطفال بن کر رہ جاتی ہے، حالانکہ اس کے ہر گوشے سے اس کے خالق کی قدرت و حکمت ایسی واضح ہے کہ ایک بلید کے سوا کوئی اس کے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا اور ایک قدیر و حکیم ذات سے یہ بات بعید ہے کہ وہ اتنا بڑا کا رخانہ محض ایک کھیل کے طور پر بنا ڈالے۔ (ذلک مبلغھم من العلم) کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–30

26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 30–31

15: یہ ان لوگوں پر تبصرہ ہے جو بس اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اور آخرت کا انہیں کوئی خیال ہی نہیں ہے کہ ان بیچاروں کی رسائی بس یہیں تک ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک ........ العلم (35 : 03) ” ان کا مبلغ علم بس یہی ہے “ یہ پہنچ بہت ہی معمولی ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بہت بڑے پہنچ والے نظر آئیں۔ یہ کوتاہ دست ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاتھ لمبے نظر آئیں وہ گمراہ ہیں اگرچہ تیزی سے فاصلے طے کررہے ہوں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے دل کے احساس اور عقل کے لحاظ سے اس دنیا میں قید ہو وہ کو لہو کے بیل کی طرح اس میں چکر کاٹے گا ، آگے نہیں بڑھ سکے گا حالانکہ ان کی نظروں کے سامنے یہ عظیم کائنات پڑی ہے۔ اس کائنات نے اپنے آپ کو پیدا نہیں کیا اور اس دنیا کا خود بخود وجود میں آنا ایک ایسا نظریہ ہے جو بداہتہً غلط ہے پھر یہ دنیا عبث بھی پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کا کوئی خالق ہے اور اگر یہ فرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–30

8 یعنی جس کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہو کہ اس میں منہمک ہو کر کبھی خدا کو اور آخرت کو دھیان میں نہ لائے، آپ ﷺ اس کی بکواس کو دھیان میں نہ لائیں۔ وہ خدا سے منہ موڑتا ہے۔ آپ ﷺ اس کی شرارت اور کجروی کی طرف سے منہ پھیر لیں۔ سمجھانا تھا سو سمجھا دیا۔ ایسے بدطینت اشخاص سے قبول حق کی توقع رکھنا اور ان کے غم میں اپنے کو گھلانا بیکار ہے۔ ان کی سمجھ تو بس اسی دنیا کے فوری نفع نقصان تک پہنچتی ہے اس سے آگے ان کی رسائی نہیں۔ وہ کیا سمجھیں کہ مرنے کے بعد مالک حقیقی کی عدالت میں حاضر ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ ان کی تمام تر علمی جدوجہد صرف بہائم کی طرح پیٹ بھرنے اور شہوت فرو کرنے کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30{ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ط } ”یہ ہے ان کے علم کی رسائی کی حد۔“ ان کے علم کی رسائی بس دنیا تک ہی ہے اور وہ اسی میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ علم آخرت ان کے چھوٹے اور محدود ذہنوں کی پہنچ میں ہے ہی نہیں۔ حالانکہ انسان کا ذہنی ظرف ذرا بھی وسیع ہو تو وہ اپنے غور و فکر سے اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے اس کی زندگی اتنی بےوقعت نہیں ہوسکتی کہ اسے ”چاردن“ کی زندگی کا عنوان دے کر فضول خواہشات کی نذر کردیا جائے۔ بقول بہادر شاہ ظفر ؔ: ؎ عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں ! بہرحال یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان جیسی اشرف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 مشرکین مکہ کا مبلغ علم کیا تھا ؟ یعنی وہ اپنے دنیا کے مفادات سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ان کا تمام تر علم اسی مقصد میں صرف ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ زیادہ مال و دولت کیسے کماسکتے ہیں۔ پھر بھی اگر وہ سمجھیں کہ وہی راہ حق پر ہیں تو یہ فیصلہ نہ ان کے اختیار میں ہے اور نہ ان کی صواب دید پر منحصر ہے بلکہ یہ فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور وہی اپنی مخلوق کے حالات کو سب سے بہتر جان سکتا ہے لہذا آپ کو ان سے بحث و تکرار میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، نہ ہی انہیں راہ راست پر لاکر چھوڑنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ یعنی یہی مادی، عنصری، زودفنا، سریع الزوال، چند روزہ دنیوی زندگی۔ کتنے افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ آج مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کا سارا مبلغ علم اور منتہائے پرواز خیال اسی محدود ومختصرعنصری زندگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اپنی اس تنگ نظری پر انتہائی فخرو ناز ہے ! 24۔ (کہ علم اسی کا کامل ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی یہ اعراض کی علت ہے کسی کے گمراہ یا برسر ہدایت ہونے کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہی زمین و آسمان کا مالک ہے، اور اسی کو یہ علوم ہے کہ دنیا جو مختلف راہوں پر چل رہیں انی میں سے ہدایت کی راہ کونسی ہے ؟ اور ضلالت کی راہ کونسی ؟ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروانہ نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ آپ و بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق و ہدایت سمجھ رہے ہیں یہ اگر اپنے زعل باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو رہنے والے دو ان سے بحث و تکرار میں ضائع کرنے اور سرکھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک مبلغھم من العلم ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھدتدی . ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دُنیوی زندگی) ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی (تمہارا ربّ ) خوب جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہے۔ اَلْعِلْمِ : یعنی ان کی علمی رسائی پس دنیوی امور تک ہے ‘ معاشیات کی سمجھ سے آگے ان کی عقل نارسا اور دانش و علم ناکارہ ہے۔ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ علم ہو یا عقل دونوں اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اللہ نے اپنی مشیت و ارادہ کے ماتحت ان کو پیدا کیا ہے ‘ رہے اسباب تو وہ حقیقی اسباب نہیں ہیں ‘ صرف ظاہری اسباب ہیں۔ اگرچہ فلاسفہ ان اسباب کو حقیقی اسباب (یعنی علل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان لوگوں کے علم و عقل اور رائے کی حد بس یہی ہے کہ فرشتے اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں۔ اے محمد آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستے سے بھٹکا ہوا ہے یعنی ابوجہل اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر ہے، یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ذلک مبلغھم من العلم : ”مبلغ“ ”بلغ یبلغ“ (ن) سے ظرف ہے پہنچنے کی جگہ۔”ذلک“ کا لفظ تحقیر کیلئے ہے کہ ان لوگوں کے علم کی پہنچ اور اتنہا اس حقیر حیات دنیا تک ہی ہے، جو آخرت کے مقابلے میں قلیل بھی ہے اور ناپائیدار بھی، اس سے آگے نہ انہیں کچھ علم ہے نہ وہ اس سے آگے جاننے یا سوچنے کے لئے تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک دعا میں آپ ﷺ کے یہ الفاظ آئے ہیں :(ولاتجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) (ترمذی، الدعوات، باب دعاء ”اللھم اقسم لنا…“ ، 3502، قال الالبانی حسن)”اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنانا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔“ (2) ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ …: اس سے اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ یعنی جو اس کے دین سے بھٹک گیا۔ وھو اعلم بمن اھتدی۔ پس وہ ہر کسی کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دین کے بارے میں رائے دینے سے ڈرو بلاشبہ وہی رائے جو رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہے وہی صحیح رائے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو دکھا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ رائے یہاں مخفی تکلف اور گمان ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) وان الظن لا یغنی من الحق شیأا '' (اور بلاشبہ گمان امر حق میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم '' 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم '' (ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی ہے) سے مراد ہے یہ ان کی رائے ہے۔ مجلس میں پڑھنے کی دعاء : 3:۔ الترمذی (وحسنہ) نے ابن عمر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ [ یہ ان کے پہنچنے کی جگہ ہے ] مِّنَ الْعِلْمِ ۭ [علم میں سے ] اِنَّ رَبَّكَ [بیشک آپ کا رب ] هُوَ اَعْلَمُ [ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَنْ ضَلَّ [ اس کو جو بھٹک گیا ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ [ اس کے راستے سے ] وَهُوَ اَعْلَمُ [ اور وہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَنِ اهْتَدٰى [اس کو جس نے ہدایت پائی ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 30 ۔ میں ذلک کا اشارہ گزشتہ آیت میں الحیوۃ الدنیا کی طرف ہے ۔ اس طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا علم دنیوی زندگی تک محدود ہے ۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ علم کی پہنچ دنیوی زندگی تک ہے ۔ کیونکہ علم کی پہنچ تو اس سے آگے بھی ہے ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ جو دعائیں کیا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ دعا بھی تھی : اللھم لاتجعل مصیبتنا فی دیننا ولا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا (اے ہمارے اللہ ہمارے دین میں کوئی مصیبت مت بھیج، اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر اور ہمارے علم کی پہنچ مت بنادے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 219) پھر فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ 1ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى 0030﴾ (بیشک آپ کا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ خوب جانتا ہے اس شخص کو جس نے ہدایت پائی دونوں فریقوں کا حال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے وہ ہر ایک کے حال کے مطابق جزا سزا دیدے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–32

عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” ان ربک “ یہ جملہ معترضہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ سب کو اچھی طرح جانتا ہے جو لوگ گمراہی پر مصر ہیں اور ہدایت کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔ وہ ان کو بھی جانتا ہے اور وہ بھی اس کے علم میں جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ لوگ قبیل اول سے ہیں، اس لیے آپ ان کی خاطر اپنی جان نہ ماریں اور مشقت نہ اٹھائیں۔ ھو جل شانہ المبالغ فی العلم بمن لا یرعوی عن الضلال ابدا، وبمن یقبل الاھتداء فی الجملۃ لا غیرہ سبحانہ فلا تتعب نفسک فی دعوتہم ولا تبالغ فی الحرص علیہا فانہم من القبیل الاول (روح ج 27 ص 60) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–30

ربطہ آیات سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ مَبْلَغُہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ۝ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝ 0 ۙ وَہُوَاَعْلَمُ بِمَنِ اہْتَدٰى۝ 30 مبلغہم : مضاف مضاف الیہ۔ مبلغ بلوغ سے اسم ظرف پہنچنے کی جگہ۔ ان کی علمی انتہائ۔ ان کے علم کی آخری حد۔ ان کی انتہائی رسائی۔ بلوغ سے مصدر میمی بھی ہے۔ بمعنی پہنچنا۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–32

ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔ تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال : بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی وکم من ملک فی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ مُبْلَغُھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ط اِنَّ رَبَّـکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ لا وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اھْتَدٰی۔ (النجم : 30) (یہ ہے ان کے علم کی رسائی، بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے، اور وہ اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پا گیا ہے۔ ) علمی نارسائی جن لوگوں نے حیات دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے وہی ان کا مطلوب بھی ہے اور وہی منتہائے فکر بھی۔ ان کی کمزوری یہ ہے کہ ان کے علم کی رسائی یہیں تک ہے۔ وہ صرف ظاہر کے پردے کو دیکھتے ہیں اس کے پیچھے جو حقائق مضمر ہیں انھیں نہ ان کا علم ہے اور نہ وہ انھیں جاننا چاہتے ہیں۔ دنیا اور دنیوی معاملات چونکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–30

فہم القرآن ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔ جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 30: ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ( یہ ان کے علم کی حد ہے) ذلک کا مشار الیہ ان کا دنیا پر خوش ہوجانا اور اس کو پسند کرنا ہے۔ مبلغ سے انتہا و مقصود علم ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى (تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون راہ راست پر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ گمراہ و ہدایت یافتہ کو خوب جانتے ہیں وہی ان کو بدلہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” فاعرض عن من تولی عن ذکرنا “ یعنی قرآن سے اور کہا گیا ایمان سے۔ ” ولم یردالا الحیاۃ الدنیا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ۭ ) ان کے علم کی یہی غایت اور انتہا ہے رہے آخرت پر ایمان رکھنے اور اس کی تصدیق کرنے والے عقل مند اور خرد مند لوگ تو ان کی ہمت اور ارادہ آخرت پر مرتکز رہتا ہے۔ ان کے علوم سب سے افضل اور سب سے جلیل القدر علوم ہیں یہ علوم کتاب اللہ اور سنت رسلو سے ماخوذ ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے پس وہ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہدایت کا مستحق نہیں ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے اور اس سے الگ ہوجاتا ہے پس وہ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ بنا بریں فرمایا (اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 41] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ وہ ذکر : سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ دے کر دراصل اس حقیقت کی وضاحت فرما دی گئی کہ معاملہ اصل میں اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے، چناچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے گمراہوں کو اور وہی خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو۔ سو وہ اسی کے مطابق ان سے معاملہ فرمائے گا، اور ان کو سزا و جزاء سے نوازے گا، پس تم لوگ اپنی پاکیزگی اور پاک دامنی کے دعوے کرنے کی بجائے اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور صاف رکھنے کی فکر و کوشش میں رہا کرو۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ لہٰذا نہ تو برائی کرنے والوں کا ہمیں صلہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–30

اللہ کے علم میں ہے کون نیک ہے کون بد ؟ تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی کے کچھ اصول بتاتے ہیں اور بےعلمی کی مذمت فرماتے ہیں۔ اور علم و عرفان کی برکات اور جہالت کی خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاہل انسان نہ خود کو پہچانتا ہے نہ رب کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے کفر و شرک میں مبتلا رہتا ہے اور جب کوئی علم والا ان سے بات چیت کرتا ہے تو وہ حق بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا لہٰذا ایسے شخص کو نیکی کی راہ دکھانی چاہیے لیکن اگر وہ بحث میں پڑے تو اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ دنیا کی طلب میں جو کھو جاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–32

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی یہ لوگ صرف دنیا اور اس کے نفع و نقصان کو جانتے ہیں۔ مرنے کے بعد کیا ہوگا ؟ اسے یہ لوگ نہیں جانتے اور نہ اس کے بارے میں کبھی غور فکر کرتے رہیں۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ کو ازل سے معلوم ہے کہ ان میں سے کو ایمان لائے گا اور کون کفر و شرک کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہے گا اور اللہ ہی ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے عمل کا بدلہ دے گا۔ لہٰذا ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑیئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:30) مبلغہم : مضاف مضاف الیہ۔ مبلغ بلوغ سے اسم ظرف پہنچنے کی جگہ۔ ان کی علمی انتہائ۔ ان کے علم کی آخری حد۔ ان کی انتہائی رسائی۔ بلوغ سے مصدر میمی بھی ہے۔ بمعنی پہنچنا۔ بمن میں من موصولہ ہے ضل عن سبیلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ربک کی طرف راجع ہے۔ یہ آیت امر بالاعراض کی تعلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–32

لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32 مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 32 نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–31

[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔ [13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–31

فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث 3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) ان لوگوں کے فہم کی رسائی اور ان کے علم کی پہنچ بس یہیں تک ہے بیشک آپ کا پروردگار ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہی اس سے خوب واقف ہے جس نے صحیح راہ پائی۔ ذکر سے مراد قرآن، یا ایمان، یا ذکر الٰہی اور خدا تعالیٰ کی یاد ہے ایسے لوگ جو ہمارے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں اور کسی طرح نہیں مانتے آپ بھی ان سے بےتوجہی کا برتائو کیجئے کیو کہ ان کا مقصد صرف دنیوی زندگی کا عیش و آرام ہے اور ان کا مبلغ علم اور ان کے فہم کی رسائی اس سے آگے نہیں ہے یعنی عالم آخرت تک پہنچا ہی نہیں ان کے علم کی پہنچ اور رسائی کی حد یہیں تک ہے ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد اور حوالے کیجئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–31

ف 5۔ جب ان کی بد فہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے علم کی پہنچ یہیں تک ہے ‘ اللہ تعالیٰ بھولنے والوں اور راہ پانے والوں کو جانتا ہے 30 ؎ انہوں نے جو دنیوی علوم سیکھے ہیں وہ آخرت کے علم سے بالکل بےبہرہ ہو کر سکھے ہیں اس لئے ان کے علوم کی پہنچ بھی اس دنیا تک محدود ہے اور ظاہر ہے کہ جو برتن میں ڈالا جائے گا وہی اس سے نکلے گا نکالنے والا خواہ کوئی ہو وار ان کے ظرف میں جب آخرت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں تو پھر وہ آخرت کے لئے کچھ کریں گے تو آخر کیوں ؟ ان کی دنیوی آنکھ کھلی ہے اور اس سے وہ خوب کام بھی لے رہے ہیں اور کام ہے کہ وہ بھی خوب ہوا چلا جا رہا ہے اور پھر جب وہ دنیوی لذتوں سے باہر نکل کر کچھ دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تو انکو کچھ دکھائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–31

Necessity of turning away from the Misguided People فَأَعْرِ‌ضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِ‌نَا وَلَمْ يُرِ‌دْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ (So, turn away from him who turns away from Our advice, and seeks nothing but (pleasure of) the worldly life.... 53:29-30) A Special Warning The Qur'an here describes the condition of those unbelievers who denied the Hereafter and the Day of Judgment. Regretfully, nowadays the Muslims have characterized themselves by the same condition as a result of Western education and material needs and desires. All our attempts…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 This is a parenthetical sentence which has been inserted here as an explanation of the preceding verse. 27 That is, "These people neither know nor can think anything beyond the world and its immediate gains; therefore, it is futile merely to expend time and energy on them. "

Read the full tafseer →