Explained with ayahs 27–30
آخرت کا گھر اور دنیا
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 24
ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے، محض نصیحت بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے۔
سورة النَّجْم 25
یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ کیونکہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اور جس میں اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
خلاصہ تفسیر
(جب اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ اور جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى سے مشرکین عرب کا معاند ہونا معلوم ہوگیا کہ باجود نزول قرآن اور ہدایت کے یہ اپنے گمان اور ہویٰ پر چلتے ہیں، اور معاند سے قبول حق کی امید نہیں ہوتی) تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کو کوئی (اخروی مطلب) مقصود نہ ہو (جس کی وجہ عدم ایمان بالآخرة ہے جو لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ سے اوپر مفہوم ہوا ہے اور) ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی) ہے (جب ان کی بدفہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے، ان کا…
Read the full tafseer →(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا) (29)
(ہدایت سے اعراض کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت)۔ یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ ایسے سر پھرے ہیں کہ اللہ کی ہدایت کے مقابل میں اپنی ہوائے نفس کی، علم کے مقابل میں ظن کی اور حق کے مقابل میں باطل کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، تم انکے زیادہ درپے نہ ہو، جب انہوں نے ہماری یاددہانی سے منہ پھیرلیا تو بھی ان سے اعراض کرو، تم نے اپنا فرض ادا کردیا، اب ذمہ داری ان کی ہے۔ یہ اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ ذکر سے مراد یہاں قرآن مجید ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں جن کی طرف ہم مختلف مقامات میں اشارہ کرچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
14: یعنی انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →فاعرض ............ بمن التقی (23) ک (35 : 92 تا 23)
” پس اے نبی جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے۔ یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الایہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد ہوجائے۔ بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
8 یعنی جس کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہو کہ اس میں منہمک ہو کر کبھی خدا کو اور آخرت کو دھیان میں نہ لائے، آپ ﷺ اس کی بکواس کو دھیان میں نہ لائیں۔ وہ خدا سے منہ موڑتا ہے۔ آپ ﷺ اس کی شرارت اور کجروی کی طرف سے منہ پھیر لیں۔ سمجھانا تھا سو سمجھا دیا۔ ایسے بدطینت اشخاص سے قبول حق کی توقع رکھنا اور ان کے غم میں اپنے کو گھلانا بیکار ہے۔ ان کی سمجھ تو بس اسی دنیا کے فوری نفع نقصان تک پہنچتی ہے اس سے آگے ان کی رسائی نہیں۔ وہ کیا سمجھیں کہ مرنے کے بعد مالک حقیقی کی عدالت میں حاضر ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ ان کی تمام تر علمی جدوجہد صرف بہائم کی طرح پیٹ بھرنے اور شہوت فرو کرنے کے…
Read the full tafseer →آیت 29{ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ اعراض کر لیجیے ہر اس شخص سے جس نے روگردانی کی ہے ہمارے ذکر سے ‘ اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے۔“
آپ ﷺ ہر ایسے شخص کو نظر انداز کردیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں جو صرف اور صرف دنیا کا طالب ہے اور اپنے اس مطلوب کی دھن میں اس نے ہماری یاد سے پیٹھ موڑ لی ہے۔ ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے جس کی وضاحت سورة بنی اسرائیل کی ان آیات میں کردی گئی ہے :
{ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا…
Read the full tafseer →19 ذکر سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور معبود ان باطل کے مقابلہ میں خالص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی اور رسول اللہ ﷺ کی زبان سے دعوت حق اور وعظ و نصیحت بھی یعنی جو شخص میرا ذکر سننا گوارا ہی نہیں کرتا آپ ﷺ اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ ایسے لوگوں کا منتہائے مقصود صرف دنیوی مفادات ہی ہوتے ہیں جبکہ یہ تعلیم اخروی فلاح کی طرف بلاتی ہے۔ جس پر نہ ان کا ایمان ہے اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ آپ ﷺ کی باتوں کی طرف کیوں توجہ دیں گے ؟۔
Read the full tafseer →22۔ (اور یہی دلیل ہے ان کی کج فہمی اور بےغوری دونوں کی) مبلغ اعظم ﷺ کو ہدایت ہو رہی ہے کہ ان دنیا پرستوں سے جب قبول حق کی کوئی توقع ہی نہیں تو آپ بھی ان کی پروانہ کیجئے اور ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑے رہئے۔ (آیت) ” عن ذکرنا .... الدنیا “۔ انسان کی حماقت وسفاہت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ وہ ہاتھی کے جسم کی ساری بڑائی کو چھوڑ چھاڑ کر اس کی دم کے آخری سرے کو یا پیر کے ناخنوں کو پکڑ لے۔ اور اسی سے ہاتھی کی جسامت، ساخت، ترکیب سے متعلق رائے قائم کرنے لگے۔ اس سے ہزار اور لاکھ درجہ بڑھ کر اور قابل رحم ان ” روشن خیالوں “ یا ” بےفکروں “ کا حال ہے، جو مابعد الموت جیسے بیحد وسیع عالم سے بالکل قطع نظر…
Read the full tafseer →فاعرض عن من تولی الخ یعنی ایسے لوگوں کے سمجھانے پر اپنا قیمتی وقت صرف نہ کیجیے کہ جو ایسی کسی دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہوا اور جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کیجئے جو خدا کا ذکر سننے کے لئے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں، یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آگے نہ کچھ جانتے ہیں اور نہ سوچ سکتے ہیں، اس لئے ان پر محنت صرف کرنا لاحاصل ہے۔
Read the full tafseer →فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیٰوۃ الدنیا . تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔
ذِکْرِنَا : ذکر سے مراد ہے قرآن یا ایمان یا اللہ کی یاد۔
اِلاَّ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا : یعنی سوائے حیات دنیوی کی خواہشات کے اور کسی چیز کا طلبگار نہیں ‘ دنیوی خواہشات میں ہر وقت منہمک رہتا ہے۔ اس کا منتہائے مقصد اور مبلغ علم صرف دنیا ہے۔
یعنی جب ان مشرکوں کی جہالت ‘ خفت دانش اور سبک سری معلوم ہوگئی اور یہ امر ظاہر ہوگیا کہ یہ اپنے بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور رب کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کی پرواہ نہیں کرتے اور ان پتھروں…
Read the full tafseer →اے محمد آپ ایسے شخص سے اپنی توجہ ہٹا لیجیے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب کا خیال نہ کرے اور اپنی کوششوں سے سوائے دنیوی زندگی کے اسے کوئی مقصود نہ ہو، یعنی ابو جہل۔
Read the full tafseer →(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا : یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ ”فاغرض عنھم“ (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا :(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا) (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آجائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف وتجہ دینے کے لئے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ جاہا ہی نہیں ہے، آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔
Read the full tafseer →فاعرض عن من تولی عن ذکر ناز کر سے مراد قرآن اور ایمان ع ہے۔ یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا۔ یہ آیت نضر کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ولید کے بارے میں نازل ہوئی۔ ذلک مبلغھم من العلم یعنی وہ اپنی دنیا کے معاملات کو دیکھتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ میں جاہل رہتے ہیں۔ فراء نے کہا : ان کی حقارت بیان کی یعنی یہ ان کی عقلوں کا معیار ہے اور علم کی انتہا ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہے کہ انہوں نے فرشتوں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دین کے بارے میں رائے دینے سے ڈرو بلاشبہ وہی رائے جو رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہے وہی صحیح رائے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو دکھا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ رائے یہاں مخفی تکلف اور گمان ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) وان الظن لا یغنی من الحق شیأا '' (اور بلاشبہ گمان امر حق میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم ''
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم '' (ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی ہے) سے مراد ہے یہ ان کی رائے ہے۔
مجلس میں پڑھنے کی دعاء :
3:۔ الترمذی (وحسنہ) نے ابن عمر…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ [ تو آپ توجہ ہٹالیں ] عَنْ مَّنْ [ اس سے جس نے ] تَوَلّٰى ڏ [ منہ موڑا ] عَنْ ذِكْرِنَا [ ہماری یاد سے ] وَلَمْ يُرِدْ [ اور اس نے ارادہ کیا ہی نہیں (کسی بات کا) [اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : سوائے اس دنیوی زندگی کے ]
Read the full tafseer →اہل دنیا کا علم دنیا ہی تک محدود ہے، اللہ تعالیٰ ہدایت والوں کو اور گمراہوں کو خوب جانتا ہے
یہ چند آیات کا ترجمہ ہے، ان میں اولاً رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نصیحت سے اعراض کیا آپ اس کی طرف سے اعراض فرمائیں، بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے پیچھے نہ پڑیں اور ان کی حرکتوں سے دلگیر نہ ہوں ان کو دنیا میں جھٹلانے اور انکار کرنے کی سزا مل جائے گی اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے عذاب ہے ہی اس سے چھٹکارہ نہیں۔
جن لوگوں نے قرآن سے اعراض کیا ان کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ لَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاؕ0029﴾ (کہ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…
Read the full tafseer →17:۔ ” فاعرض۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مشرکین کے لیے زجر ہے۔ ” ذکر “ سے مراد قرآن ہے (روح) ۔ جو لوگ قرآنی تعلیمات سے اعراض کرتے ہیں، توحید و رسالت اور حشر و نشر کے منکر ہیں ان سے اعراض کریں آپ حق تبلیغ ادا کرچکے ہیں لیکن یہ لوگ محض ضدوعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر تل گئے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ ان کا مبلغ علم ہی یہی ہے ان کی عقل و فہم کی رسائی بس یہیں تک ہے۔ ان کی نظریں دنیائے فانی کی چہل پہل، رونق و آرائش اور چند روزہ عیش و تنعم پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں اور عالم آخرت ان کی گناہوں سے اوجھل ہے ایسے لوگوں کو آپ جتنی تبلیغ کریں گے اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربطہ آیات
سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى 0ۥۙ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا 29 ۭ
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی لا 5 عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلاَّالْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ (النجم : 29)
(پس اے نبی ان لوگوں سے اعراض کیجیے جنھوں نے ہمارے ذکر سے منہ پھیرا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا جنھیں کچھ مطلوب نہیں۔ )
ہدایت سے اعراض کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ اس شخص کی ہدایت کے لیے فکرمند نہ ہوں اور اسے راہ راست پر لانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو نچوڑ دینے کی کوشش نہ کریں۔ اور اگر وہ آپ کی بات قبول نہ کرے تو آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں جس شخص نے حیات آخرت کے بارے میں غور کرنے کی بھی کبھی زحمت نہیں کی، وہ یہ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔
جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے…
Read the full tafseer →آیت 29: فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ڏ عَنْ ذِكْرِنَا (تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجیے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے) پس آپ ایسے شخص سے منہ موڑ لیجیے جو ہماری یاد سے منہ موڑنے والا ہو۔ ذکرنا سے قرآن مجید مراد ہے۔ وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا (اور سوائے دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو)
Read the full tafseer →28 ۔” وما لھم بہ من علم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے ان کو یقین نہیں ہے کہ یہ مونث ہیں۔ ” ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ اور حق علم کے معنی میں ہے یعنی ظن علم کے قائم مقام نہیں ہوسکتا اور کہا گیا ہے کہ حق عذاب کے معنی میں ہے۔ یعنی ان کا گمان ان کو عذاب سے نہ بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیا ومرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایسے اقوال وافعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں مثلا وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں پس انہوں نے اللہ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انہوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انہوں نے ان کو مونث سے بالاتر سمجھا حالانکہ انہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 38] ہٹ دھرم منکرین سے اغراض و روگردانی کی تعلیم و تلقین :
سو ارشاد فرمایا گیا " پس چھوڑ دو ایسے شخص کو اس کے اپنے حال پر، یعنی نہ تو آپ اس کے درپے ہوں ارور نہ اس کے حال پر افسوس کریں، کہ ایسوں کو ہدایت پر لے آنا نہ تو آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ کی ذمہ داری، آپ ﷺ کا کام تو پیغام حق پہنچا دینا ہے، اور صاف وصریح طور پر پہنچا دینا ہے اور بس، اس کے بعد حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔ { ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب } اور ایسے ناہنجاروں کو ہدایت کی نعمت مل ہی کیسے سکتی ہے، جو اس سے منہ موڑے ہوئے ہوں ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ناہنجاروں اور بدبختوں سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
اللہ کے علم میں ہے کون نیک ہے کون بد ؟
تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی کے کچھ اصول بتاتے ہیں اور بےعلمی کی مذمت فرماتے ہیں۔ اور علم و عرفان کی برکات اور جہالت کی خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاہل انسان نہ خود کو پہچانتا ہے نہ رب کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے کفر و شرک میں مبتلا رہتا ہے اور جب کوئی علم والا ان سے بات چیت کرتا ہے تو وہ حق بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا لہٰذا ایسے شخص کو نیکی کی راہ دکھانی چاہیے لیکن اگر وہ بحث میں پڑے تو اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔
دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ دنیا کی طلب میں جو کھو جاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اس کے پیچھے نہ پڑیئے اور اسے سمجھانے میں وقت ضائع نہ کیجیے۔
Read the full tafseer →(53:29) فاعرض : میںعاطفہ ہے جب ان مشرکوں کی جہالت و خفت دانش معلوم ہوگئی اور یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت پر چلنے کی بنائے وہ اپنے بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں تو آپ بھی ان کی طرف سے روگردانی کرلیجئے۔ کیونکہ ایسوں کو سمجھانا اور حق کی دعوت دینا بےکار ہے۔
اعرض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اعراض (افعال) مصدر۔ تو منہ پھیرلے تو کنارہ کرلے۔
من تولی : من موصولہ ہے تولی ماضٰ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر ۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔
عن ذکرنا۔ یہاں ذکر سے مراد قرآن ، یا ایمان یا اللہ کی یاد ہے۔
ولم یرد : واؤ عاطفہ، لم یرد فعل مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32
مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔
تشریح : آیت نمبر 29 تا 32
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔
[13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث
3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی…
Read the full tafseer →(29) پس آپ ایسے شخص کو منہ نہ لگائیے اور ایسے شخص سے منہ پھیر لیجئے اور اس سے بےالتفاقی کا برتائو کیجئے جس نے ہماری نصیحت اور ہماری ذکر سے روگردانی اختیار کر کھی ہو اور سوائے دنیوی زندگی کے اس کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 4۔ ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ محض دنیادار ہیں اور آخرت سے بےنیاز ہیں یہی وہ غافل ہیں جو خسارہ میں ہیں
29 ؎ نبی اعظم و اخر ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ اے رسول ! ﷺ جو شخص ہماری یاد یعنی قرآن کریم سے اعراض کرتا ہے آپ ﷺ اس کی طرف سے منہ پھیر لیں یعنی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور اس کے اعراض کرنے کی پروا نہ کریں اور اپنی جان کو اس غم میں ہلکان نہ کریں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتا۔ جو شخص ایمان نہیں لاتا اور ہماری ہدایت سے روگردانی کرتا ہے وہ سراسر اپنا نقصان کر رہا ہے اور اگر وہ حق کے مقابلہ میں باطل کی پیروی کرنا چاہتا ہے تو ایسا کر کے اس کا نتیجہ دیکھ لے کہ کیا نکلتا ہے۔ (عن ذ کرنا میں (ذکر) سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Necessity of turning away from the Misguided People
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ (So, turn away from him who turns away from Our advice, and seeks nothing but (pleasure of) the worldly life.... 53:29-30)
A Special Warning
The Qur'an here describes the condition of those unbelievers who denied the Hereafter and the Day of Judgment. Regretfully, nowadays the Muslims have characterized themselves by the same condition as a result of Western education and material needs and desires. All our attempts…
Read the full tafseer →24 Dhikr here may imply the Qur'an as well as mere admonition; it may also mean that he does not like that even God be mentioned before him.
25 That is, "You should not waste your time in making him understand the truth, for such a person will never be inclined to accept any invitation which is based on God-worship, which calls to objects and values higher than the material benefits of the world, and according to which the real aim of life may be the eternal success and well-being of the Hereafter. Instead of expending your time and energy on such a materialistic and ungodly person, you…
Read the full tafseer →