Explained with ayahs 27–30
آخرت کا گھر اور دنیا
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 23
یعنی ملائکہ کے متعلق یہ عقیدہ انہوں نے کچھ اس بنا پر اختیار نہیں کیا ہے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کرلی ہے اور اس پر یہ آستانے بنائے بیٹھے ہیں جن سے مرادیں مانگی جا رہی ہیں اور نذریں اور نیازیں ان پر چڑھائی جا رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام
وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی…
Read the full tafseer →(وما لھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیاء) (28)
(شرک کی تمام تر بنیاد ظن پر ہے)۔ فرمایا کہ آخرت کی ذمہ داریوں سے اپنے کو بچانے کے یلے انہوں نے یہ افسانہ ایجاد تو کر ڈالا لیکن اس کی بنیاد کسی علم پر نہیں، بلکہ محض ظن پر ہے۔ محض اپنی خواہش نفس کو حقیقت بنانے کے لیے یہ اٹکل کے تیر تکے چلائے گئے ہیں۔ ان نادانوں کو خبر نہیں کہ اٹکل بہر حال اٹکل ہے، یہ حق و حقیقت کا بدل کسی درجے میں نہیں ہو سکتی۔ جب حقیقت ظاہر ہوگی تب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ عمر بھر محض خواب دیکھتے رہے ہیں۔
(ظن اور علم میں فرق)۔ لفظ ظن آیت 23 میں الھدی کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ علم کے مقابل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
14: یعنی انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “
یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
7 یعنی جن کو آخرت کا یقین نہیں وہ سزا کی طرف سے بےفکر ہو کر ایسی گستاخیاں کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو زنانہ قرار دے کر خدا کی بیٹیاں کہہ دیا۔ یہ ان کی محض جہالت ہے۔ بھلا فرشتوں کو مرد اور عورت ہونے سے واسطہ۔ اور خدا کے لیے اولاد کیسی۔ کیا سچی اور ٹھیک بات پر قائم ہونا ہو تو ایسی اٹکلوں اور پادر ہوا اوہام سے کام چل سکتا ہے۔ اور کیا تخمینے اور اٹکلیں حقائق ثابتہ کے قائم مقام ہوسکتی ہیں ؟
Read the full tafseer →آیت 28{ وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ ط اِنْ یَّـتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ج } ”اور ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ نہیں پیروی کر رہے مگر صرف گمان کی۔“
یعنی فرشتوں کے مونث نام رکھنے اور پھر ان ناموں کے مطابق دیویاں بنا کر ان کی پوجا کرنے کے بارے میں ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ ہی اللہ کی اتاری ہوئی کسی کتاب سے کوئی سند۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ لوگ محض اپنے ظن وتخمین اور وہم و گمان کی پیروی کرر ہے ہیں۔
{ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔ } ”اور ظن تو حق سے کچھ بھی مستغنی نہیں کرسکتا۔“
یعنی گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18 اپنی دیویوں سے متعلق مشرکین مکہ کے عقائد :۔ فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ ان کی اطاعت اضطراری اور اجباری ہے اختیاری نہیں۔ پھر وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن ان مشرکوں نے ان فرشتوں کو خدائی اختیارات سونپ کر ان کی پوجا شروع کردی۔ دوسرا ستم یہ ڈھایا کہ انہیں اللہ کی اولاد قرار دے دیا اور تیسرا یہ کہ فرشتوں کو مونث سمجھ لیا اور ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتی ہیں اور اگر قیامت فی الواقع ہوئی تھی ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گی۔ پھر انہوں نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
21۔ (آیت) ” الظن “۔ ظن سے مراد تخمین و قیاس ہے اور وہ بھی ایسا جو نہ کسی دلیل شرعی پر مبنی ہو نہ کسی قاعدۂ عقلی سے مستنبط۔ (آیت) ” من علم “۔ علم یہاں تحقیق یا حقیقت رسی کے معنی میں ہے اور ظن یا تخمین کے ٹھیک مقابل من نے موقع پر نفی پر آکر معنی میں استغراق پیدا کردیا، یعنی کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ان الذین لا یومنون بالاخرۃ الخ یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے بےاختیار فرشتوں کو جو بغیر اجازت سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتے معبود بنا لیا ہے، اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورت سمجھتے ہیں اور انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت نہیں مانتے اور ملائکہ کے متعلق انہوں نے یہ عقیدہ کچھ اس بناء پر اختیار نہیں کیا ہے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کرلی ہے، حالانکہ یہ اصول اور عقیدہ کا مسئل ہے اس میں تو علم قطعی کی…
Read the full tafseer →ومالھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیئا حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور بیشک بےاصل خیالات امر حق کے (اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔
مَالَھُمْ بِہٖ : حالانکہ ان کو اس بات کا علم نہیں ہے۔
اِلاَّ الظَّنَّ : یعنی یہ جاہل کافر صرف گمان غالب پر جو تقلید آباء سے حاصل ہوا ہے چلتے ہیں یا ظن سے مراد ہیں بےاصل خیالات جن کی کوئی دلیل نہیں۔
حق سے مراد ہے علم (اصطلاح شرع میں) علم کا معنی ہے ایسا عقیدہ جو پختہ ‘ ناقابل رشک اور واقع کے مطابق (یعنی صحیح) ہو اور امر واقعی ہی کو حق کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غالب گمان صحیح علم کے لیے مفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27۔ 28) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی کفار مکہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں حالانکہ ان کے اس قول پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں صرف یہ لوگ گمان سے گھڑ کر ایسی باتیں بک رہے ہیں اور گمان سے کسی کی عبادت کرنا اور گمانی باتیں کرنا عذاب خداوندی کے سامنے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں۔
Read the full tafseer →(2) ان یتبعون الا الظن : اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة یونس (36، 66) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ان الذین لایومنون بالاخرۃ مراد کفار ہیں جنہوں نے کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لیسمون الملٓئکۃ تسبیۃ الانثی۔ یہاں تسمیہ سے پہلے کاف محذو ہے یعنی وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ فرشتے، مونث ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ومالھم بہ من علم یعنی انہوں نے اس امر کا مشاہدہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے انہوں نے جو کچھ کہا اسے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا اور کسی کتاب میں اسے نہیں دیکھا۔ ان یتبعون یہاں ان نافیہ ہے الا الظن وہ جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے مئونث ہیں اس قول میں وہ صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دین کے بارے میں رائے دینے سے ڈرو بلاشبہ وہی رائے جو رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہے وہی صحیح رائے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو دکھا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ رائے یہاں مخفی تکلف اور گمان ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) وان الظن لا یغنی من الحق شیأا '' (اور بلاشبہ گمان امر حق میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم ''
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم '' (ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی ہے) سے مراد ہے یہ ان کی رائے ہے۔
مجلس میں پڑھنے کی دعاء :
3:۔ الترمذی (وحسنہ) نے ابن عمر…
Read the full tafseer →وَمَا لَهُمْ [ حالانکہ ان کے لیے نہیں ہے ] بِهٖ [ اس بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۭ [ کوئی بھی علم ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ یہ لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا الظَّنَّ ۚ [ مگر گمان کی ] وَاِنَّ الظَّنَّ [ درآنحالیکہ یقینا گمان ] لَا يُغْنِيْ [ بےنیاز نہیں کرتا ] مِنَ الْحَقِّ [حق سے ] شَـيْــــًٔا [ذرا سا بھی ]
Read the full tafseer →اسی کو فرمایا ﴿ وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ﴾ (اور ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں) ﴿اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ 1ۚ﴾ (صرف بےاصل خیالات اور محض گمان کے پیچھے چلتے ہیں) ﴿ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔاۚ0028﴾ (اور بلاشبہ گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا) گمان کا اتباع کرنے کا تذکرہ دوبارہ فرمایا ہے پہلی جگہ باطل معبود تجویز کرنے سے متعلق ہے اور دوسری جگہ ان کو شفاعت والا سمجھنے سے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 16: ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ ان کا یہ دعوے سراسر بےدلیل اور ان کی جہالت و سفاہت پر مبنی ہے، وہ محض ایک خیال باطل اور وہم فاسد کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ داد سے حاصل کیے ہیں۔ بھلا وہم و خیال سے بھی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے ؟ حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تو یقینی اور قطعی دلیلوں کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربطہ آیات
سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ…
Read the full tafseer →وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ 0 ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ 0 ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا 28 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی…
Read the full tafseer →وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ ج وَاِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔ (النجم : 28)
(حالانکہ اس معاملہ میں ان کو کوئی علم نہیں، وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں، اور گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ہوسکتا۔ )
شرک کی بنیاد ظن پر ہے
انکارِآخرت کا یہ عقیدہ اور ملائکہ کے بارے میں یہ بےسروپا تصورات انھوں نے اس لیے اختیار نہیں کیے کہ ان کے پاس اس کا کوئی علم آگیا ہے بلکہ شریعت کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اور کسی حد تک اپنے ضمیر کو مطمئن رکھنے کے لیے انھوں نے متعدد تصورات اختیار کر رکھے ہیں جو سراسر ان کے ظن و گمان کا نتیجہ ہیں۔ یہاں ظن علم اور حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔
جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے…
Read the full tafseer →آیت 28: وَمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ (حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں ہے) اپنے اس قول کی۔
قرات : بھا بھی پڑھا گیا، ملائکہ یا تسمیہ کی طرف ضمیر لوٹتی ہے۔
اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا (صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور بیشک اصل خیالات امر حق میں ذرہ بھی مفید نہیں ہوتے) الظن سے ان کی تقلید آباء مراد ہے۔ لا یغنی کا مطلب یہ ہے کہ حق کی پہچان علم و یقین سے ہوتی ہے ظن و توہمات سے نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →27 ۔” ان الذین لا یئومنون بالآخرۃ لیسمون الملائکۃ تسمیۃ الا نثیٰ “ یعنی مونث کے ناموں کے ساتھ جب انہوں نے کہا یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیا ومرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایسے اقوال وافعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں مثلا وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں پس انہوں نے اللہ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انہوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انہوں نے ان کو مونث سے بالاتر سمجھا حالانکہ انہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 35] علم حق سے محرومی، محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اس بارے کچھ بھی علم نہیں، سوائے ظن وتخمین اور اٹکل پچو باتوں کے۔ یہاں پر اس ارشاد کی تعیم ملاحظہ ہو کہ اول تو یہاں نکرہ تحت النفی وارد ہوا ہے جو کہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ پھر من استغراقیہ سے اس کی مزید تاکید و استغراق کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، یعنی ان لوگوں کے پاس اپنی اس بات کیلئے کسی بھی طرح کا علم نہیں اور کوئی علم ہو بھی کیسے سکتا ہے، جب کہ واقع میں اللہ پاک کیلئے بیٹیاں یا اولاد ہونے کا سرے سے کوئی سوال و امکان ہی نہیں، وہ اس سے لحاظ و اعتبار سے پاک ہے۔ { یاہل الکتب لاتغلوا فی دینکم ولا تقولوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
اللہ کے علم میں ہے کون نیک ہے کون بد ؟
تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی کے کچھ اصول بتاتے ہیں اور بےعلمی کی مذمت فرماتے ہیں۔ اور علم و عرفان کی برکات اور جہالت کی خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاہل انسان نہ خود کو پہچانتا ہے نہ رب کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے کفر و شرک میں مبتلا رہتا ہے اور جب کوئی علم والا ان سے بات چیت کرتا ہے تو وہ حق بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا لہٰذا ایسے شخص کو نیکی کی راہ دکھانی چاہیے لیکن اگر وہ بحث میں پڑے تو اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔
دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ دنیا کی طلب میں جو کھو جاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 1 یعنی اعتقادیات کے باب میں ظن وتخمین کافی نہیں ان کی بنیاد یقین پر ہونی ضروری ہے البتہ عملی مسائل کی بنیاد ظن پر ہوسکتی ہے۔ اس لئے قرآن و حدیث میں نص صریح نہ ملنے کی صورت میں قیاس و اجتہاد بھی کام دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →(53:28) وما لہم بہ من علم : ضمیر فاعل یسمون سے حال ہے اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب تسمیۃ کے ذکر کے متعلق ہے وضمیر بہ للمذکور من التسمیۃ (روح المعانی) حالانکہ ان کو اس بات کا (فرشتوں کو عورتوں کے نام سے نامزد کرنے کا) علم نہیں۔ یعنی ان کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں۔ یہ محض اپنے آباواجداد کی تقلید میں وہ اس ظن پر قائم ہیں کہ ملائکہ مؤنث ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں۔
ان یتبعون الا الظن : ان نافیہ ہے۔ الظن مستثنیٰ منقطع۔ یہ صرف طن (بےاصل) بےدلیل خیالات پر چل رہے ہیں ۔ جو تقلید آباء سے حاصل ہوا ہے۔
لایغنی من الح شیئا۔ اور ظن حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں دیتا۔ یعنی ظن حق کا بدل نہیں ہوسکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28
ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 27
قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔
عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔
منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔
[13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث
3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی…
Read the full tafseer →(28) حالانکہ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض بےبنیاد اور بےاصل خیالات اور صرف اٹکل کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ ایک حقیقت واقعیہ اور ثابتہ کے مقابلے میں اٹکل اور اوہام فاسدہ ذرا بھی کارآمد اور مفید نہیں ہوسکتے۔ یعنی ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اس لئے ان کے نام بھی عورتوں اور لڑکیوں کے سے رکھتے ہیں حالانکہ ان کے ایسا کرنے کی کوئی سند نہیں۔ یہ لوگ محض اٹکل کی باتوں پرچلتے ہیں اور اہام کی باتیں کرتے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ امر حق کے مقابلے میں بےاصل اوہام اور خیالات اور اٹکل جن کی کوئی سند نہ ہو کچھ کام نہیں آسکتے۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔
مجتہدین کے کسی مسئلے کا مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 4۔ ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →علم نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں وہ ظن و گمان پر سارا کاروبار کرتے ہیں
28 ؎ افسانے بیان کرنے والے اور مفروضے تراشنے والے داستان گو جو کچھ کرتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ ان کا تعلق علم سے نہیں بلکہ ظن و گمان سے ہوتا ہے۔ ظن و گمان کیا ہے ؟ یہ وہی کچھ ہے جس کو انکل پچو کے لفظ سے تعبیر کی اجاتا ہے۔ حقیقی علم کا سرچشمہ اللہ رب کریم کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا مظہر انبیاء و رسل ہیں جن کو بارگاہ صدی سے براہ راست علم و عرفان کی دولت عطا فرمائی جاتی ہے اور نبوت و رسالت کو یہ لوگ ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں پھر یہی نہیں کہ ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس سے خواہ مخواہ کا برا ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
Various Types of Zann
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (and conjecture is of no use in [ the matter on Truth.... 53:28) The Arabic word ظَن Zann is used in several different senses, and one of them is baseless thoughts. This is the sense in which it is employed in the verse, because baseless thoughts were the cause of idolatry. And the verse purports to remove the cause. Zann is also used as the antonym of yaqin. Yaqin refers to assured or definitive knowledge about something that really exists, not the figment of someone's imagination. In…
Read the full tafseer →23 That is, "They have not adopted this creed about the angels on the ground that they had found through some means of knowledge that they were females and daughters of God, but they have presumed this on mere conjecture and have set up these shrines at which they pray for fulfillment of desires, make offerings and pay tributes."
Read the full tafseer →