An-Najm 53:27

An-Najm · from ayah 27

53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰی۟ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ الۡاُنۡثٰى

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:27

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ فرشتوں کو زنانے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو آخرت پر ایمان رکھتے نہیں ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کر دیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں کی طرح رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو موسوم کرتے ہیں عورتوں کے ناموں سے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو زنانے نام سے نامزد کرتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مونث نام رکھ دیے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who do not believe in the Hereafter give angels the names of females,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who do not believe in the Hereafter call the angels by names of females.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who do not believe in the Hereafter call the angels by names of females.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who believe not in the Hereafter, name the angels with female names.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! it is those who disbelieve in the Hereafter who name the angels with the names of females.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,

— Saheeh International

Only those who do not believe in the life hereafter call the angels, females. They have no knowledge about it.

— Muhammad Sarwar

Most surely they who do not believe in the hereafter name the angels with female names.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who believe not in the Hereafter name the angels with the names of females.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who believe not in the Hereafter, name the angels with female names.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–30

آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19؀) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 22 یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ ان بےاختیار فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ سے سفارش تک کرنے کا یارا نہیں رکھتے انہوں نے معبود بنا لیا ہے۔ اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورتیں سمجھتے ہیں اور ان کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ اگر وہ آخرت کے ماننے والے ہوتے تو کبھی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کرسکتے تھے۔ انکار آخرت نے انہیں انجام سے بےفکر بنادیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو ماننے یا نہ ماننے، یا ہزاروں خدا مان بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں سے کسی عقیدے کا بھی کوئی اچھا یا برا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–28

ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ان الذین لا یومنون بالاخرۃ لیسمون الملیکۃ تسمیۃ الانثی) (27) (شرک کی دیومالا کے مصنفین)۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ ساری دیو ما لا گھڑی ہے، فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن خدا کے کامل کے ظہور کا دن ہوگا اور ہر ایک ٹھیک اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جنہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ کر یہ دیو مالا تصنیف کی ہے کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں، انہی کی سفارش سے اس دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–30

26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

ان الذین ........ شیئا (35 : 82) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ یہ آخری تبصرہ بھی بتاتا ہے کہ لات منات اور عزی کا تعلق اس افسانہ سے تھا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے متعلق انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہ ایک بےبنیاد افسانہ تھا۔ محض ظن وتخمین اور سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ علم ہی نہ تھا کہ وہ فرشتوں کی حقیقت کو سمجھیں۔ فرشتوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنا تو باطل محض تھا۔ وہم کے سوا اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–28

7 یعنی جن کو آخرت کا یقین نہیں وہ سزا کی طرف سے بےفکر ہو کر ایسی گستاخیاں کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو زنانہ قرار دے کر خدا کی بیٹیاں کہہ دیا۔ یہ ان کی محض جہالت ہے۔ بھلا فرشتوں کو مرد اور عورت ہونے سے واسطہ۔ اور خدا کے لیے اولاد کیسی۔ کیا سچی اور ٹھیک بات پر قائم ہونا ہو تو ایسی اٹکلوں اور پادر ہوا اوہام سے کام چل سکتا ہے۔ اور کیا تخمینے اور اٹکلیں حقائق ثابتہ کے قائم مقام ہوسکتی ہیں ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27{ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی۔ } ”یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے فرشتوں کے مونث نام رکھ دیے ہیں۔“ اور پھر اپنے خیال کے مطابق ان ہی ناموں پر انہوں نے اپنے لیے دیویاں گھڑ لی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

18 اپنی دیویوں سے متعلق مشرکین مکہ کے عقائد :۔ فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ ان کی اطاعت اضطراری اور اجباری ہے اختیاری نہیں۔ پھر وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن ان مشرکوں نے ان فرشتوں کو خدائی اختیارات سونپ کر ان کی پوجا شروع کردی۔ دوسرا ستم یہ ڈھایا کہ انہیں اللہ کی اولاد قرار دے دیا اور تیسرا یہ کہ فرشتوں کو مونث سمجھ لیا اور ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتی ہیں اور اگر قیامت فی الواقع ہوئی تھی ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گی۔ پھر انہوں نے ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

21۔ (آیت) ” الظن “۔ ظن سے مراد تخمین و قیاس ہے اور وہ بھی ایسا جو نہ کسی دلیل شرعی پر مبنی ہو نہ کسی قاعدۂ عقلی سے مستنبط۔ (آیت) ” من علم “۔ علم یہاں تحقیق یا حقیقت رسی کے معنی میں ہے اور ظن یا تخمین کے ٹھیک مقابل من نے موقع پر نفی پر آکر معنی میں استغراق پیدا کردیا، یعنی کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–28

ان الذین لا یومنون بالاخرۃ الخ یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے بےاختیار فرشتوں کو جو بغیر اجازت سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتے معبود بنا لیا ہے، اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورت سمجھتے ہیں اور انہیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت نہیں مانتے اور ملائکہ کے متعلق انہوں نے یہ عقیدہ کچھ اس بناء پر اختیار نہیں کیا ہے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کرلی ہے، حالانکہ یہ اصول اور عقیدہ کا مسئل ہے اس میں تو علم قطعی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین لا یومنون بالاخرۃ لیسمون الملٰئکۃ تسمیۃ الانثی . جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ : یعنی کفار مکہ۔ لَیُسَمُّوْنَ : یعنی ان میں سے ہر شخص فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–28

(27۔ 28) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی کفار مکہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں حالانکہ ان کے اس قول پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں صرف یہ لوگ گمان سے گھڑ کر ایسی باتیں بک رہے ہیں اور گمان سے کسی کی عبادت کرنا اور گمانی باتیں کرنا عذاب خداوندی کے سامنے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان الذین لایومنون بالاخرۃ …: اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة زخرف (19) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

ان الذین لایومنون بالاخرۃ مراد کفار ہیں جنہوں نے کہا : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لیسمون الملٓئکۃ تسبیۃ الانثی۔ یہاں تسمیہ سے پہلے کاف محذو ہے یعنی وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ فرشتے، مونث ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ومالھم بہ من علم یعنی انہوں نے اس امر کا مشاہدہ نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے انہوں نے جو کچھ کہا اسے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا اور کسی کتاب میں اسے نہیں دیکھا۔ ان یتبعون یہاں ان نافیہ ہے الا الظن وہ جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے مئونث ہیں اس قول میں وہ صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت '' (الآیہ) 18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیأا '' اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی یعنی ان کا یہ کہنا کہ غرانقہ یعنی خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں سفارش کریں گے (جب فرشتے سفارش نہیں کرسکتے تو بت کیسے سفارش کریں گے )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ [ بیشک جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] لَيُسَمُّوْنَ [ اور یقینا نام رکھتے ہیں ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کے ] تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى [ جیسے عورتوں کے نام رکھنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین نے اپنی طرف سے فرشتوں کا مادہ ہونا تجویز کیا مشرکین جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اس کے بارے میں فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى 0027﴾ (بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو مونث یعنی لڑکی کے نام سے نامزد کرتے ہیں) ان کی یہ سب بری حرکتیں ہیں اور برے عقیدے ہیں اور ان کے یہ جو خیالات ہیں فکر آخرت نہ ہونے کی وجہ سے ہیں اگر آخرت پر ایمان لاتے اور یہ فکر ہوتا کہ موت کے بعد ہمارا کیا بنے گا ایسا تو نہیں کہ ہمارے عقائد اور اعمال ہمیں عذاب میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–32

عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 16: ” ان الذین “ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کی صفات سے متصف کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ عیاذاً باللہ۔ ان کا یہ دعوے سراسر بےدلیل اور ان کی جہالت و سفاہت پر مبنی ہے، وہ محض ایک خیال باطل اور وہم فاسد کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جو انہوں نے اپنے مشرک باپ داد سے حاصل کیے ہیں۔ بھلا وہم و خیال سے بھی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے ؟ حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے تو یقینی اور قطعی دلیلوں کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–30

ربطہ آیات سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃَ تَسْمِيَۃَ الْاُنْثٰى۝ 27 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–32

ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔ تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال : بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی وکم من ملک فی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ لَـیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی۔ (النجم : 27) (بےشک جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان ہی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں۔ ) شرک کی بےسروپا باتیں کرنے والے کون ہیں ؟ اب اس بات کی وجہ بیان کی جارہی ہے کہ آخر ایسی بےسروپا باتیں کون اختیار کرتا ہے اور کس نے ایسی نامعقول باتوں کا آغاز کیا ہے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینا اور انھیں مؤنث ٹھہرانا اور اپنے لیے بیٹیوں کو ذلت کا باعث سمجھنا ایسی گری ہوئی باتوں کی ایک عام آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔ چہ جائیکہ ایک پوری قوم اس میں مبتلا ہوجائے۔ اس گرہ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–30

فہم القرآن ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔ جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 27: اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰۗىِٕكَةَ تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى (جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کے نام سے نامزد کرتے ہیں) یسمون یعنی ان میں سے ہر ایک فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتا ہے، تسمیۃ الانثی اس لیے کہا وہ ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتا ہے۔ تسمیۃ الانثی اس لیے کہا کہ وہ ملائکہ کو بنات اللہ کہتے تھے، ان میں سے ہر ایک کو بیٹیاں کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26 ۔” وکم من ملک فی السموات “ ان میں سے جن کی عبادت یہ کفار کرتے ہیں اور عنداللہ ان کی سفارش کی امید کرتے ہیں۔ ” لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ “ سفارش کی۔ ” لمن یشاء ویرضیٰ “ یعنی اہل توحید میں سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ فرشتے اسی کے لئے سفارش کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوں گے۔ ” شفاعتھم “ کی ضمیر جمع لائی گئی ہے حالانکہ الملک واحد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے قول ” وکم من ملک “ میں کثرت مراد ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فمامنکم من احد عنہ حاجزین “ کی طرح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیا ومرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایسے اقوال وافعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں مثلا وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں پس انہوں نے اللہ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انہوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انہوں نے ان کو مونث سے بالاتر سمجھا حالانکہ انہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 33] آخرت پر ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ایمان بالآخرت سے محروم انسان سب سے بڑا محروم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ کہ آخرت پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان راہ حق و ہدایت سے محروم ہوتا ہے، اور وہی فرشتوں کے بارے میں اس طرح کی بات کرسکتا ہے، کہ وہ اللہ کی بیٹیاں اور ہمارے نجات دہندہ ہیں۔ ورنہ یہ ایسی بےبنیاد اور گستاخانہ بات ہے کہ آخرت پر ایمان و یقین رکھنے والے کسی انسان سے یہ صادر ہو ہی نہیں سکتی۔ اس جرم کا ارتکاب وہی لوگ کرسکتے ہیں جو آخرت پر ایمان و یقین کی دولت سے مھروم ہوں سو اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کا انکار تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے، جس سے آگے طرح طرح کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–30

اللہ کے علم میں ہے کون نیک ہے کون بد ؟ تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی کے کچھ اصول بتاتے ہیں اور بےعلمی کی مذمت فرماتے ہیں۔ اور علم و عرفان کی برکات اور جہالت کی خرابی کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جاہل انسان نہ خود کو پہچانتا ہے نہ رب کو پہچانتا ہے۔ اسی لیے کفر و شرک میں مبتلا رہتا ہے اور جب کوئی علم والا ان سے بات چیت کرتا ہے تو وہ حق بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا لہٰذا ایسے شخص کو نیکی کی راہ دکھانی چاہیے لیکن اگر وہ بحث میں پڑے تو اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ دنیا کی طلب میں جو کھو جاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–32

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 1 یعنی اعتقادیات کے باب میں ظن وتخمین کافی نہیں ان کی بنیاد یقین پر ہونی ضروری ہے البتہ عملی مسائل کی بنیاد ظن پر ہوسکتی ہے۔ اس لئے قرآن و حدیث میں نص صریح نہ ملنے کی صورت میں قیاس و اجتہاد بھی کام دے سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:27) ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ۔ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ فاعل۔ لیسمون : لام تاکید کا۔ یسمون مضارع جمع مذکر غائب۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر۔ وہ نامزد کرتے ہیں (فعل) الملئکۃ : فرشتوں کو۔ مفعول اول۔ تسمیۃ الانثی : مضاف مضاف الیہ تسمیۃ نا رکھنا بروزن تفعلۃ باب تفعیل سے مصدر ہے انثی عورت کا سا (نام رکھنا) مفعول ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے سے نام سے نامزد کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–31

[12] یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن اللہ تعالیٰ کے کامل ظہور کا دن ہوگا اور ہر شخص ٹھیک ٹھیک اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا۔ [13] یعنی انہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ لئے ہیں اور انہیں اللہ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہی کی سفارش سے ان کو دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ان کو وہ سب کچھ دلوائیں گی جو وہ چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–31

فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث 3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) بلا شبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو لڑکیوں کے نام سے نامزد کرتے ہیں اور ……فرشتوں کے زنانے اور عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

ف 4۔ ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے زنا نے نام رکھتے ہیں 27 ؎ کہاوت ہے کہ ” آنکھوں دکھائی نہ دے نام نور بھری “ اظہار تعجب ہے کجہ وہ لوگ جو آخرت کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یہ آخرت و اخرت اور قیامت و یا مت کچھ نہیں محض ایک ڈھکوسلا ہے جو ملائیت نے گھڑ لیا ہے اس طرح کی واہیات بکنے والے ایک طرف تو قیامت کو ماننے ہی کے لئے تیار نہیں اور دوسری طرف یہ سر پھرے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں اور اظہار عقیدہ اس طرح کرتے ہیں کہ یہ ہماری سفارش کریں گے اور ہمیں آخرت میں کام آئیں گے اور ان کے ذریعہ اگر کوئی قیامت ہوئی بھی تو اس کی سختیوں سے ہم بچ جائیں گے۔ اس طرح ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–28

Various Types of Zann إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (and conjecture is of no use in [ the matter on Truth.... 53:28) The Arabic word ظَن Zann is used in several different senses, and one of them is baseless thoughts. This is the sense in which it is employed in the verse, because baseless thoughts were the cause of idolatry. And the verse purports to remove the cause. Zann is also used as the antonym of yaqin. Yaqin refers to assured or definitive knowledge about something that really exists, not the figment of someone's imagination. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 That is, "Their first folly is that they have taken these powerless angels who cannot even intercede for anyone before AIIah as their deities; their second folly is that they regard them as female and daughters of Allah. The basic reason for these errors is that they do not believe in the Hereafter. For had they been believers in the Hereafter, they would never have behaved so irrationally and irresponsibly. Their denial of the Hereafter has made them heedless of their end, and they think that believing or disbelieving in God, or believing in a thousand gods, dces not make any difference,…

Read the full tafseer →