Explained with ayahs 19–26
بتکدے کیا تھے ؟
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 21
یعنی تمام فرشتے مل کر بھی اگر کسی کی شفاعت کریں تو وہ اس کے حق میں نافع نہیں ہو سکتی، کجا کہ تمہارے ان بناوٹی معبودوں کی شفاعت کسی کی بگڑی بنا سکے۔ خدائی کے اختیارات سارے کے سارے بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ فرشتے بھی اس کے حضور کسی کی سفارش کرنے کی اس وقت تک جسارت نہیں کرسکتے جب تک وہ انہیں اس کی اجازت نہ دے اور کسی کے حق میں ان کی سفارش سننے پر راضی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام
وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی…
Read the full tafseer →(وکم من ملک فی السموات لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی (26)۔ یہ اسی اوپر والے ٹکڑے کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کی ان دیویوں کا تو کیا ذکر آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے، بڑے اور چھوٹے، موجود ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی کسی کے کام آنے والی نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ ان میں سے کسی کو کسی کے باب میں شفاعت کی اجازت دے۔ اول تو کوئی خدا کے اذن کے بغیر زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا اور جو اذن کے بعد زبان کھولے گا بھی تو صرف اسی کے باب میں کھولے گا جس کے لیے خدا یہ پسند فرمائے کہ اس کی سفارش کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟
Read the full tafseer →13: یعنی جب فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت اور مرضی کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے تو یہ من گھڑت خدا کیسے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →وکم من ............ ویرضیٰ (35 : 62) ” آسمان میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔ “ لہٰذا ان کا دعویٰ بےبنیاد ہے اس سے پہلی آیت میں بھی ان کا بطلان ثابت کردیا گیا ہے اور عقائد کو ہر قسم کے شبہات اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں میں فیصلے کا اختیار اللہ کو ہے اور انسان کی تمنائیں اور خواہشات حق میں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ سفارش کی اجازت اللہ کے اذن کے بغیر نہ ہوگی۔ لہٰذا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
اس پیراگراف کے آخر…
Read the full tafseer →6 یعنی ان بتوں کی تو حقیقت کیا ہے آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ ہاں اللہ ہی جس کے حق میں سفارش کرنے کا حکم دے اور اس سے راضی ہو تو وہاں سفارش بیشک کام دے گی۔ ظاہر ہے اس نے نہ بتوں کو سفارش کا حکم دیا اور نہ وہ کفار سے راضی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 26{ وَکَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا } ”اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں جن کی شفاعت کسی کام نہیں آئے گی“
{ اِلَّا مِنْم بَعْدِ اَنْ یَّـاْذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی۔ } ”مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجازت بخشے اور سفارش پسند کرے۔“
آسمانوں کے فرشتے اہل ایمان کے لیے تو دعا کرتے ہیں : { یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج } المومن : 7 کہ پروردگار ! تو اہل ایمان کی مغفرت فرما دے۔ لیکن ان مشرکین کے لیے نہ کوئی دعا کرے گا اور نہ ہی شفاعت۔
Read the full tafseer →17 سفارش کا ضابطہ :۔ تمہارے ان معبودوں کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں اگر آسمان کے سارے فرشتے مل کر بھی تمہاری سفارش کریں تو وہ تمہارے کسی کام نہ آسکے گی۔ وجہ یہ ہے کہ سفارش اسی کے حق میں مقبول ہو سکے گی جس کے حق میں اللہ چاہے گا اور اللہ مشرکوں کے حق میں فیصلہ کرچکا ہے کہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا تو وہ تمہارے حق میں سفارش کیسے کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں سفارش تو وہ کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفارش کرنے کی اجازت ہوگی خواہ یہ انسان ہوں یا فرشتے۔ تمہارے ان پتھر کے معبودوں کی سفارش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جنہیں تم فرشتے اور اللہ کی بیٹیاں قرار دے رہے ہو۔ لہذا تمہاری یہ آرزوئیں کبھی پوری نہیں…
Read the full tafseer →20۔ مطلب یہ ہوا کہ ان بتوں، مورتیوں کا تو خیر ذکر ہی نہیں جو شفاعت کی سرے سے کوئی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ ملائکہ مقربین تک کی یہ مجال نہیں کہ اپنی رائے و ارادہ سے جس کسی کی چاہیں بےدھڑک سفارش کرڈالیں، بلکہ وہ بھی صرف اجازت الہی کے بعد ہی اس کی جرات کرسکتے ہیں۔ (آیت) ” وکم ..... السموت۔ فی السموت “۔ کا اضافہ عجب نہیں جو ملائکہ کے مزید تقرب وشرف واکرام کے اظہار کیلئے ہو۔ (آیت) ” لمن یشآء “۔ اس کے اندر ساری مشیت تکوینی کا قانون آگیا۔ یعنی اجازت بھی صرف اسی کے حق میں سفارش کی ملے گی، جسے خود حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی چاہ رہی ہو۔ (آیت) ” ویرضی، یہ قید غالبا اس لیے بڑھادی کہ کہیں دنیا والوں کی طرح وہاں…
Read the full tafseer →ترجمہ : اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں یعنی بہت سے فرشتے ہیں اور عنداللہ کس قدر مکرم ہیں (پھر بھی) ان کی سفاعت کچھ فائدہ نہ دے گی مگر بعد اس کے کہ اللہ ان کو شفاعت کی اجازت عطا فرما دے اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے اور اس سے راضی ہو (اللہ تعالیٰ کے قول) ولایشفعون الا لمن ارتضی کی وجہ سے اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ فرشتوں کی شفاعت کا وجود شفاعت کی اجازت کے بعد ہی ہوگا، کس کی مجال کہ اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرے ؟ بلاشبہ وہ لوگ جو آخرت کا یین نہیں رکھتے تو وہ فرشتوں کے زنانے نام رکھتے ہیں بایں طور کہ انہوں نے فرشتوں کے بارے میں کہا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ ان کو اس…
Read the full tafseer →وکم من ملک فی السموات لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی . اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ‘ ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ جس کے لیے
چاہے اجازت دے اور (اس کی شفاعت کو) پسند کرے۔
شَیْءًا : یعنی کسی قسم کا اور کسی وقت کوئی فائدہ نہیں دے گی۔
اَنْ یَّاْذَنَ اللہ : کہ اللہ شفاعت کی اجازت دے۔
لِمَنْ یَّشَآءُ : یعنی جس فرشتے کو شفاعت کرنے کی یا جس آدمی کے لیے شفاعت کرنے کی اجازت دے۔
وَیَرْضٰی اور اس کے لیے شفاعت کو پسند کرے۔
مطلب یہ ہے کہ فرشتے باوجودیکہ اللہ کے معزز و مقرب بندے ہیں پھر بھی اللہ کی اجازت کے بغیر وہ شفاعت نہیں کریں گے۔ پس کس…
Read the full tafseer →اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں جن کے متعلق تمہارا یہ خیال ہے کہ معاذ اللہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں مگر ان کی سفارش ذرا بھی کسی کے لیے کام نہیں آسکتی مگر سوائے اس کے جس کے لیے اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے کا حکم دیں یعنی اہل ایمان میں سے جو اس چیز کا اہل ہو اور اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں۔
Read the full tafseer →(وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیاً …: یعنی تمہارے یہ حاجت روا اور مشکل شکا اور فرشتوں کے ناموں پر بنائے ہوئے دیوی دیوتا تو محض تمہارے وہم و گمان کی پیداوار ہیں، حقیقت میں ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں تو حقیقی فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے، ان کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں سے کسی کی سفارش کام نہیں آتی، سوائے اس کے جسے نص
اجازت دے اور اسیک وف ائدہ دیتی ہے جس کے حق میں سفارش کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اور اس کے حق میں سفارش کی اجازت دے۔ غرض سفاشر کا اختیار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، فرمایا :(قل للہ الشفاعۃ جمیعاً) (الزمر : 33)”کہہ دے سفارش ساری کی…
Read the full tafseer →وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیاء الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشآء ویرضی۔ جو لوگ فرشتوں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں شرمندہ کیا گیا ہے۔ اس نے یہ گمان کیا کہ اس کا یہ عمل اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے گا۔ یہ بات ذہن نشین کرلو کہ فرشتے عبادت کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز ہونے کے باوجود وہ کسی کی شفاعت نہیں کریں گیمگر جس کے حق میں انہیں اجازت ملے گی۔ اخفش نے کہا، ملک واحد ہے اس کا معنی جمع ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے فما منکم من احد عنہ حجزین۔ (الحاقتہ) (1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت '' (الآیہ)
18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیأا '' اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی یعنی ان کا یہ کہنا کہ غرانقہ یعنی خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں سفارش کریں گے (جب فرشتے سفارش نہیں کرسکتے تو بت کیسے سفارش کریں گے )
Read the full tafseer →وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ [ اور کتنے ہی فرشتے ہیں ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] لَا تُغْـنِيْ [ کام نہیں آتی ] شَفَاعَتُهُمْ [ جن کی شفاعت ] شَـيْــــًٔا [ ذرا سا بھی ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ [ مگر اس کے بعد ] اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ [کہ اجازت دے اللہ ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [ جس کے لئے وہ چاہے ] وَيَرْضٰى [ اور راضی ہو ]
Read the full tafseer →مشرکین کا خیال باطل کہ ہمارے معبود سفارش کردیں گے :
مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے ان معبودین میں بت بھی تھے اور فرشتے بھی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ اللہ کے سواجن کی عبادت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے سفارش کردیں ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے۔ یہ شیطان نے انہیں سمجھایا تھا، مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ ہم شرک کرتے ہیں یہ اللہ کی رضا ہی کے لیے کرتے ہیں، قرآن مجید نے ان لوگوں کی تردید فرمائی بت تو بیچارے کیا سفارش کریں گے وہ تو خود ہی بےحس، بےروح اور بےجان ہیں اپنے نفع و ضرر ہی کو نہیں جانتے جو انہیں توڑنے لگے اسی سے بچاؤ نہیں کرسکتے وہ کیا سفارش کریں گے، فرشتے اور انبیائے کرام اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو…
Read the full tafseer →15:۔ ” وکم من ملک۔ الایۃ “ یہ سورت کے دوسرے دعوے کا اعادہ ہے۔ اللہ کے بیشمار فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور ہر وقت اللہ کی عبادت میں مصروف اور اس کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں، اس قرب و تقدس کے باوجود وہ بھی اللہ کے اذن کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، اس لیے وہ بھی شفیع قاہر نہیں ہیں بلکہ اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ فرشتے صرف ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کی شفاعت اللہ کو پسند ہوگی اور وہ صرف اہل توحید ہیں جن سے گناہ سردزد ہوئے۔ مشرکین کے حق تو فرشتوں کو شفاعت کی اجازت ہی نہیں ملے گی۔ لمن یشاء ویرضی ای من اھل التوحید (معالم و خازن ج 6 ص 264) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ربطہ آیات
سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ…
Read the full tafseer →وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُہُمْ شَـيْــــًٔــا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللہُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى 26
كم
كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو :
كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی…
Read the full tafseer →وَکَمْ مِّنْ مَّلَـکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لاَ تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْئًا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ اَنْ یَّاذَنَ اللّٰہُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَرْضٰی۔ (النجم : 26)
(اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی کام آنے والی نہیں، مگر بعد اس کے کہ اللہ اجازت دے جس کو چاہے اور جس کے لیے پسند کرے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
اوپر والے مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہارے جی نے چاہا تو تم نے بعض دیویوں اور دیوتائوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اولاً تو قیامت آئے گی نہیں اور اگر آہی گئی تو یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گی۔ اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت کے معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ قیامت کے دن بلا اجازت اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش کرسکے۔
جس طرح مشرکین کا عقیدہ ہے کہ فوت شدگان قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے اسی طرح ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ جس طرح فوت شدگان کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اسی طرح ہی ملائکہ کی سفارش کی نفی کی گئی ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ زمین و آسمانوں میں بیشمار ملائکہ ہیں جو سب مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ ہاں وہ فرشتے اور نیک لوگ اپنے رب کے…
Read the full tafseer →اللہ کے ذن کے بغیر کسی کی سفارش کام نہیں دیتی :
آیت 26: وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى ( اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں، ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے اجازت دے اور پسند کرے) شفاعت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، ملائکہ قرب و کثرت کے باوجود اگر تمام کے تمام کسی ایک کی سفارش کریں تو ان کی شفاعت ذرہ بھر کام نہ دے گی اور نہ فائدہ پہنچائے گی۔ مگر جبکہ اللہ تعالیٰ اس سفارش کی اجازت دیں اور جس کے حق میں شفاعت کی اجازت دیں اور ان کی شفاعت…
Read the full tafseer →25 ۔” فللہ الآخرۃ والاولیٰ “ معاملہ ویسے نہیں جیسے کافر نے گمان کیا خواہش کی بلکہ اللہ ہی کے لئے آخرت اور پہلی ہے کوئی ایک ان دونوں میں کسی چیز کا مالک نہ ہوگا مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →جو لوگ فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ ہستیاں قیامت کے روز ان کی شفاعت کریں گی اللہ ان پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے (وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ ) یعنی آسمانوں میں کتنے ہی اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم فرشتے ہیں ( لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا) جن کی شفاعت کچھ کام نہ آئے گی یعنی جو کوئی اس شفاعت کا دعوی کرتا ہے اس سے امید وابستہ کرتا ہے یہ شفاعت اس کے کسی کام نہیں آئے گی (اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى) مگر بعدازاں کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور پسند کرے، شفاعت کے لیے دو شرائط کا مجتمع ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 31] فرشتوں کی شفاعت بھی اذن خداوندی کے بغیر کام نہیں آسکتی :
سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ فرشتوں اور آسمان کے فرشتوں کے اختیار میں بھی کچھ نہیں مگر اللہ ہی کے اذن سے۔ چناچہ اس بارے میں واضح فرما دیا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے اذن کے بغیر آسمانوں کے فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں آسکتی۔ حالانکہ وہ پاکیزہ اور نوری مخلوق ہیں، اور ان کو اللہ پاک سے خاص قرب اور حضور بھی نصیب ہے، تو پھر اور کسی کا کہنا ہی کیا اور ان کے حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا سوال ہی کیا ؟ سو مشرکین کی دیویوں، دیوتاؤں، آستانوں اور سرکاروں وغیرہ خود ساختہ سہاروں کی حیثیت ہی کیا ؟ یہاں تو حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ
تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ':
اور آسمانوں میں بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
آیات 26 تا 32۔
اسرار ومعارف۔
ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 12 مطلب یہ ہے کہ جب فرشتوں کا یہ حال ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں تو تمہارے ان بتوں کی کیا مجال کہ کسی کی سفارش کرسکیں۔
Read the full tafseer →(53:26) کم اسم مبنی ہے اور صدر کلام میں آتا ہے۔ مبہم ہونے کی وجہ سے تمیز کا محتاج ہے یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور دو قسم پر ہے۔ استفہامیہ ۔ خبر یہ۔ استفہامیہ قرآن مجید میں نہیں آیا۔ استفہامیہ اگر آئے تو اس کا مابعد تمیز بن کر منصوب ہوتا ہے ۔ اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں جیسے کم رجلا ضربت : تو نے کتنے آدمیوں کو پیٹا۔
جب خبر یہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے۔ یعنی کتنے ہی۔ جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے مردوں کو پیٹا۔ اس میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے : کم من قریۃ اہلکناھا (7:4) اور کتنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28
ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 27
قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔
عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔
منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[11] یعنی جب صورت حال یہ ہے کہ تو پھر ان مشرکوں کی یہ کیسی حماقت ہے کہ وہ ان کی آرزوؤں کے مطابق
ان کے کام آئیں گے اور ان کے لئے سعی و سفارش کریں گے۔
Read the full tafseer →فرشتے بھی جرات لب کشائی نہیں رکھتے
2: فرمایا : کہ ان لوگوں کو پتھر کے ان اصنام بےمعنے پر اعتماد ہے ۔ اور سمجھتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں کی سفارش کریں گے ۔ حالانکہ وہاں بےنیازی کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی موجود اتنے تقرب اور پاکیزگی کے اس کے جلال وجبروت کے سامنے لب کشائی کی جرات نہیں رکھتے ۔ ان کو بھی یہ اختیار نہیں ہے ۔ کہ بلا اس کی اجازت کے کسی شخص کے متعلق سفارش کے کلمات کا اظہار کرسکیں ۔ پھر اس صورت حال میں یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ان کا یہ اعتماد درست اور صحیح ثابت ہو ۔
Read the full tafseer →(26) اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے موجود ہیں کہ ان کی سفارش اور شفاعت ذرا بھی نفع نہیں دے سکتی اور کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی مگر ہاں بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے شفاعت کرنے کا حکم اور اجازت دے دے اور اس کے لئے سفارش کو پسند کرے۔ یعنی اول تو فرشتے بلا اجازت کسی کی سفارش ہی نہیں کرسکتے اور اگر سب فرشتے مل کر بھی کسی کی شفاعت کریں تو نافع نہیں…ہاں صرف اس صورت میں نافع ہوسکتی ہے کہ اللہ جس کے لئے چاہے اذن دیدے اور اس کو پسند کرے یعنی اس کے حق میں سفارش کرنا اس کو پسندیدہ ہو یہ نہیں کہ جیسے دنیا میں بعض موقعہ پر محض دبائو سے یا لالچ سے کوئی کسی کی سفارش کرتا ہے یا کسی سے سفارش کرالیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 3۔ یعنی ایسا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →آسمانوں میں کتنے فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کسی کے کام نہیں آسکتی
26 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ مشرکوں کے وہمی مفروضوں سے کیا ہوتا ہے کہ وہ محض اپنے مفروضوں کے سہارے زندہ ہیں اور موہوم آرزوئوں پر زندگی گزار رہے ہیں جس کو چاہتے ہیں حاجت روا اور مشکل کشا بناتے ہیں ‘ جس کو چاہتے ہیں اس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار دے دیتے ہیں ‘ جس کو چاہتے ہیں بھلائی اور خیر کا مالک قرار دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اس کو اللہ کے ہاں اپنا سفارشی قرار دے دیتے ہیں۔ گویا سارا معاملہ ان کی اپنی چاہت اور تمنا کا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کیا تمنا رکھتے ہیں ؟ ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا جا رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
Various Types of Zann
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (and conjecture is of no use in [ the matter on Truth.... 53:28) The Arabic word ظَن Zann is used in several different senses, and one of them is baseless thoughts. This is the sense in which it is employed in the verse, because baseless thoughts were the cause of idolatry. And the verse purports to remove the cause. Zann is also used as the antonym of yaqin. Yaqin refers to assured or definitive knowledge about something that really exists, not the figment of someone's imagination. In…
Read the full tafseer →21 That is, "Even if all the angels together intercede for a person, it cannot be beneficial for him not to speak of the intercession by these invented deities of yours, which can do no one any good. AlI the powers of Godhead rest with AIIah. Even the angels cannot dare intercede for somebody before Him unless He permits it and is pleased to hear their intercession in his behalf."
Read the full tafseer →