Explained with ayahs 19–26
بتکدے کیا تھے ؟
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 17
یعنی تم جن کو دیوی اور دیوتا کہتے ہو وہ نہ دیویاں ہیں اور نہ دیوتا، نہ ان کے اندر الوہیت کی کوئی صفت پائی جاتی ہے، نہ خدائی کے اختیارات کا کوئی ادنیٰ سا حصہ انہیں حاصل ہے۔ تم نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور معبود اور خدائی میں شریک ٹھہرا لیا ہے۔ خدا کی طرف سے کوئی سند ایسی نہیں آئی ہے جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کرسکو۔
سورة النَّجْم 18
بالفاظ دیگر ان کی گمراہی کے بنیادی وجوہ دو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی چیز کو اپنا عقیدہ اور دین بنانے کے لیے علم حقیقت کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ محض قیاس و گمان سے ایک بات فرض کرلیتے ہیں اور پھر اس پر اس طرح ایمان لے آتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام
وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی…
Read the full tafseer →(ان ھی الا اسماء سمیتوھا انتم واباکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاء ھم من ربھم الھدی) (23)۔
(نام جن کا کوئی مسمی نہیں ہے)۔ یہ ان دیویوں کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ محض تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے رکھے ہوئے نام ہیں جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے (ما انزل اللہ بھا من سلطنن) ان کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری جو تم اپنی تائید میں پیش کرسکو۔ اگر تم نے اپنے باپ دادا کو ان کو پوجتے پایا تو یہ بھی کوئی دلیل نہیں ہوئی، انہوں نے بھی اسی طرح اپنے اگلوں کی اندھی تقلید کی جس طرح تم کر رہے ہو۔ خدا کی اتاری ہوئی دلیل ہو سکتی تھی تو یہ کہ تمہاری عقل و فسات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 1 ضِیْزیٰ ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ ان کے اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ تم خود تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیاں منسوب کر رکھی ہیں۔
Read the full tafseer →ان ھی الا اسمائ ........ ربھم الھدی (35 : 32)
” دراصل یہ کچھ نہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ “
یہ نام لات ، منات اور عزی وغیرہ کو معبود کہنا ، ان کو فرشتے کہنا ، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا یا فرشتوں کو عورتیں کہنا ، یہ سب الفاظ ہیں لیکن جن معانی کے لئے یہ لوگ ان کو بولتے ہیں وہ تو سرے سے ہیں ہی نہیں نہ اس قسم کے دعا دی پر کوئی حجت ہے۔ اللہ نے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی…
Read the full tafseer →3 یعنی پتھروں اور درختوں کے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کی خدائی کی کوئی سند نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہیں۔ ان کو اپنے خیال میں خواہ بیٹیاں کہہ لو۔ یا بیٹے یا اور کچھ محض کہنے کی جس کے نیچے حقیقت کچھ نہیں۔
4 یعنی باوجودیکہ اللہ کے پاس سے ہدایت کی روشنی آچکی اور وہ سیدھی راہ دکھا چکا۔ مگر یہ احمق ان ہی اوہام و اہواء کی تاریکیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو کچھ اٹکل پچو ذہن میں آگیا اور دل میں امنگ پیدا ہو کر گزرے۔ تحقیق و بصیرت کی راہ سے کچھ سروکار نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23{ اِنْ ہِیَ اِلَّآ اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ } ”یہ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ کچھ نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے“
{ مَّــآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍط } ”اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اتاری۔“
{ اِنْ یَّـتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاَنْفُسُ ج } ”یہ لوگ نہیں پیروی کر رہے مگر ظن وتخمین کی اور اپنی خواہشاتِ نفس کی۔“
یعنی ان لوگوں نے اپنی خواہشاتِ نفس اور wishful thinkings کو عقائد کی شکل دے دی ہے اور کچھ فرضی نام رکھ کر ان کی پوجا شروع کردی ہے۔
{ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی۔ } ”جب کہ ان کے پاس…
Read the full tafseer →14 یعنی تمہارے یہ پتھر کے بت بس پتھر ہی ہیں۔ نہ یہ خدا یا دیوتا یا دیویاں ہیں۔ نہ ہی انہیں کچھ تصرف اور اختیار حاصل ہے۔ تم نے اپنے طور پر ایک عقیدہ بنا لیا۔ پھر اس پر جم گئے اور تمہارے وہم و قیاس کے علاوہ ان کی خدائی کی کوئی بنیاد نہیں۔ اللہ نے اپنی کسی کتاب میں ان کو اپنا یا اپنے اختیارات میں شریک قرار نہیں دیا اور تمہارے اس وہم و قیاس کی اصل وجہ ہی یہی کچھ ہے کہ تمہارا دل یہی چاہتا ہے جو پیکر محسوس کی شکل میں تمہارے سامنے ہوں اور تم ان پر نذریں نیازیں چڑھا کر یہ یقین کرلو کہ تمہارے سارے کام انہیں نذروں نیازوں اور انہیں دیوی دیوتاؤں کے طفیل سیدھے ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ کے ہاں یہ تمہاری…
Read the full tafseer →17۔ یعنی نظریہ شرک پر کوئی دلیل نہ تو عقل سے ملتی ہے نہ نقل سے، نہ کوئی الہامی ثبوت نہ کوئی علمی وتجربی شہادت۔ (آیت) ” ما .... سلطن “۔ قرآن مجید نے محض اثبات توحید ہی پر دلائل نہیں قائم ہیں بلکہ بار بار مدعیان شرک کو چیلنج کیا ہے تم اثبات شرک پر کوئی ایک دلیل کسی درجہ کی بھی تو پیش کرکے دکھاؤ۔
18۔ (پیغمبر کے ذریعہ سے) یعنی بلادلیل وبلاثبوت ان ادہام فاسدہ میں مبتلا ہوجانا یوں بھی بڑے غضب کی بات تھی، چہ جائیکہ جب اس کے خلاف دلائل اور ثبوت پیغمبر برحق کی معرفت پہنچ جائیں۔ (آیت) ” ان ..... الانفس “۔ ان کی یہ خواہشات نفس بھی انہیں ادہام اور بےعقلی کے خیالات پر مبنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
انھی الا اسماء سمیتموھا الخ یعنی جن کو تم دیوی دیوتا کہتے ہو اور جن کی تم پوجا پاٹ کرتے ہو اور جن کے لئے تم خدائی صفات اور اختیارات ثابت کرتے ہو اور تم نے اور تمہارے آباء نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور خدائی میں شریک مان کر نام رکھ لئے ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور نہ خدا کی طرف سے کوئی ایسی سند آئی کہ جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کرسکو اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ تم اپنی خواہشات نفس کی پیروی اختیار کئے ہوئے ہو، حالانکہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ان گمراہ لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے رہے ہیں اور اب اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ نے آ کر بتادیا ہے کہ کائنات میں خدائی کس کی ہے…
Read the full tafseer →انھی الا اسماء سمیتموھا انتم واباء وکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس . یہ (فرضی معبود) صرف نام ہی نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ٹھہرا لیا ہے۔ خدا
تعالیٰ نے تو ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل بھیجی نہیں ‘ یہ صرف بےاصل خیالات اور اپنے نفس کی خواہش پر چل رہے ہیں۔
اِنْ ھِیَ : ہی ضمیر اصنام کی طرف راجع ہے یعنی یہ اصنام محض سنگی اجسام ہیں ‘ کسی طرح الوہیت کے قابل نہیں ‘ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے ان کو اِلٰہ (معبود) کا نام بغیر کسی وجہ کے دے رکھا ہے۔ اللہ نے ان کی الوہیت اور استحقاق معبودیت کی کوئی دلیل قائم نہیں کی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تم نے جو ان…
Read the full tafseer →لات و عزی اور منات صرف بت ہی ہیں جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے خود ہی گھڑ لیا تھا اللہ تعالیٰ نے تو ان کی عبادت کرنے اور ان کے معبود بنانے کے بارے میں کوئی کتاب نازل نہیں کی جس سے تم حجت پکڑو۔
بلکہ یہ لوگ صرف بےبنیاد خیالات اور نفس کی خواہش کی وجہ سے ان کی عبادت کر رہے ہیں اور ان کو معبود تجویز کر رکھا ہے۔
حالانکہ ان مکہ والوں کے پاس قرآن کریم میں صاف یہ مضمو آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔
Read the full tafseer →(1) انھی الا اسمآء سمیتموھآ انتم وابآئکم …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (71) اور سورة یوسف (40) کی تفسیر۔
(2) ان یتثبعون الا الظن : تفسری کیلئے دیکھیے سورة یونس (36، 66) کی تفسیر۔
(3) وما تھوی الانفس ولقد جآء ھم …: یعنی یہ لوگ ان کی پرستش صرف اپنے دلوں کی خواہشات کی پشیروی میں کر رہے ہیں۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ایسا معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام بناتا رہے اور اگر آخرت آہی جائے تو وہاں بھی انہیں بخشوا دے، مگر ان پر حلال و حرام کی کوئی پابندی ہو نہ ان کی خواہشات پر کوئی قدغن ہو۔ اس لئے کبھی کسی کو اللہ کی اولاد بنا کر پوجنا شروع کر یدتے ہیں، جیسے کوئی مسیح یا عزیز ؑ کو اس کا بیٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ان ھی الا اسمآء سیمتموھا یعنی یہ بات نہیں مگر ایسے نام جن کو تم نے خود تراش لیا ہے اور ان کے نام معبود رکھ لئے ہیں۔ انتم وابآء کم تم نے اس مسئلہ میں اپنے آباء کی تقلید کی۔ مآ انزل اللہ بھا من سلطن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ان یتبعون الا لظن خطاب سے غائب کی طرف رجوع کیا ہے، یعنی یہ لوگ ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ وما تھوی الانفس اور جس کی طرف نفوس مائلہ وتے ہیں عام قراء کی قرأت یتبعون ہے۔ عیسیٰ بن عمر، ایوب اور ابن سمیقع نے تتبعون پڑھا ہے، یہی حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس کی قرأت ہے۔
ولقد جآء ھم من ربہم الھدی ٰ یعنی رسول اللہ ﷺ کی جانب سے وضاحت آگئی ہے کہ وہ معبود برحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
قولہ تعالیٰ : (آیت) '' تلک اذا قسمۃ ضیزی ''
12:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ضیزی '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے ظلم کرنے والی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرؤالقیس کا یہ قول نہیں سنا۔
ضازت بنواسد بحکمھم اذیعدلون الراس بالذنب :
ترجمہ : بنواسد نے ظلم کیا اپنے فیصلہ کے ساتھ کیونکہ وہ سرکودم کے برابر قرار دیتے ہیں۔
13:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ضیزی '' سے مراد منقوصۃ یعنی جس کو کم کردیا گیا۔
14:۔ عبدالرزاق وعبد بن…
Read the full tafseer →اِنْ هِىَ [ نہیں ہیں یہ ] اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ [ مگر کچھ ایسے نام ] سَمَّيْتُمُوْهَآ [ تم لوگوں نے نام دھرے جن کے ] اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ [ تم نے اور تمہارے آباؤاجداد نے ] مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ [ نہیں اتاری اللہ نے ] بِهَا [ جن کے بارے میں ] مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ [ کوئی بھی سند ] اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ [ وہ لوگ نہیں پیروی کرتے ] اِلَّا الظَّنَّ [ مگر گمان کی ] وَمَا [ اور اس کی جو ] تَهْوَى [ پسند کرتے ہیں ] الْاَنْفُسُ ۚ [ (ان کے ) جی ] وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [ حالانکہ آچکی ہے ان کے پاس ] مِّنْ رَّبِّهِمُ [ ان کے رب (کی طرف) سے ] الْهُدٰى [ہدایت ]
Read the full tafseer →مشرکین نے اپنے لیے خود معبود تجویز کیے اور ان کے نام بھی خود ہی رکھے :
مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے تھے خود ہی تجویز کیے تھے خود ہی ان کے نام رکھے تھے اسی کو فرمایا ﴿ اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ ﴾ (یہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نام رکھ لیے ہیں اور انہیں معبود تجویز کرلیا ہے) یہ مستحق عبادت ہو ہی نہیں سکتے غیر معبود کو تم معبود کہنے لگے ﴿ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ﴾ (اللہ تعالیٰ نے ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی) ۔ ﴿ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔
تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…
Read the full tafseer →11:۔ ” انھی “ یہ پہلے دعوے کا اعادہ ہے بطریق لف و نشر مرتب۔ یہ معبودانِ باطلہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی خواہشات کے مطابق تجویز کر رکھے ہیں۔ ان کو معبود، کارساز، حاجت روا کہنا محض تمہارے الفاظ ہیں لیکن حقیقت میں وہ ان صفات سے سراسر عاری ہیں۔ وہ نہ معبود و کارساز ہیں، نہ شفیع و حاجت روا ان کو ان ناموں سے موسوم کرنا صریح گمراہی ہے۔ کیونکہ ان خود ساختہ معبودوں کے معبود ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ماجعل اللہ علی الوھیتہا واستحقاقہا للعبادۃ حجۃ (مظہری ج 9 ص 118)
12:۔ ” ان یتبعون “ خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سفہاء لائق خطاب ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…
Read the full tafseer →اِنْ ہِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ 0 ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَى الْاَنْفُسُ 0 ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰى 23 ۭ
«أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء
«أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال
الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…
Read the full tafseer →اِنْ ھِیَ اِلاَّ ٓ اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَـآئُ کُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ ج وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنْ رَّبِّھِمُ الْھُدٰی۔ (النجم : 23)
(یہ کچھ نہیں ہیں مگر چند نام، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی، یہ لوگ محض گمان اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ )
نام جن کا کوئی مسمیٰ نہیں
جن بتوں کو فرشتوں کی دیویاں قرار دے کر لوگ پوج رہے تھے ان کی حقیقت واضح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین جس طرح یہ ظلم کرتے ہیں کہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قراردیتے ہیں اسی طرح ہی ان کا یہ بھی ظلم ہے کہ وہ بلادلیل اپنے بتوں اور بزرگوں کے نام داتا، گنج بخش، دستگیر اور لجپال وغیرہ رکھتے ہیں۔
دنیا میں کیے جانے والے شرک کا جائزہ لیا جائے تو قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت روز روشن کی طرح آشکارہ دکھائی دیتی ہے کہ مشرکین جنہیں خدائی القابات سے پکارتے ہیں وہ صرف نام برائے نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ فوت شدگان میں جن کے نام پر پاکستان کی اکثریت شرک کرتی ہے وہ سیدنا حضرت علی ؓ ، پیر عبدالقادر جیلانی اور لاہور میں علی ہجویری، سہوں میں شہباز قلندر، پاکپتن میں بابا فرید اور…
Read the full tafseer →آیت 23: انھی (یہ صرف) یعنی اصنام نہیں ہیں۔ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ (نام ہی نام ہیں) جن کے ماتحت مسمیات نہیں کیونکہ تم ان کے لیے مبعودیت کے قائل ہو حالانکہ وہ اس سے بہت ہی دور ہیں۔ اور اس سے انتہائی منافات رکھتے ہیں۔ سَمَّيْتُمُوْهَآ (جو تم نے ٹھرا لیے ہیں) یعنی تم نے ان کا وہ نام رکھ دیا ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ سمیتہ زیدا اے اسیتہ بزید۔ میں نے اس کا نام زید تجویز کیا۔ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ (اور تمہارے آباواجداد نے اللہ تعالیٰ نے تو ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل بھیجی نہیں یہ صرف بےاصل خیالات ہیں) سلطان، حجت و دلیل، ظن سے…
Read the full tafseer →22 ۔” تلک اذا قسمۃ ضیزی “ ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ظالم تقسیم ہے کہ تم نے اپنے رب کے لئے وہ چیز مقرر کی جو تم خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں ٹیڑھی تقسیم ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں غیر معتدل۔ ابن کثیر (رح) نے ” ضئزی “ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر ہمزہ کے۔ کسائی (رح) فرماتے ہیں اسی سے کہا جاتا ہے ” ضاز، یضیز، ضیزا “ اور ” ضاز یضوز ضوزا “ اور ضاز یضاز ضازا “ جب ظلم کرے اور کم کرے اور ضیزی کی اصل کلام سے فعلی فاء کے پیش کے ساتھ ہے ۔ اس لئے کہ یہ صفت ہے اور صفات صرف فعلی بضم الفاء کے وزن ہوتی ہیں جیسے ” حبلی انثیٰ اور بشری “ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ ) یہ تو صرف چند نام ہی ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری یعنی تمہارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمہارے پاس کوئی دلیل وبرہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے اسے دین نہیں بنایا جاسکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل وبرہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انہیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں حالانکہ علم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 25] مشرکوں کی مت ماری کے ایک اور نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان :
کہ یہ لوگ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں لیکن اللہ کے لئے بیٹیاں، سو ان کی اس مت ماری پر ان کی علامت اور سرزنش کرتے ہوئے اور ان کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ان سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا خود تمہارے لئے تو ہوں لڑکے، اور اس [ وحدہٗ لاشریک ] کیلئے ہوں لڑکیاں ؟ جن کو تم لوگ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ سو ایسے میں تو یہ بڑی ہی ٹیرھی تقسیم ہے۔ کہ جو چیز تم خود اپنے لئے پسند نہ کرو، وہ اپنے خالق ومالک کے لئے تجویز کرو، جیسا کہ آج کے بعض جاہل مسلمانوں کا حل ہے کے مسلمان ایسے ہیں جو کسی چیز کو جب خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ
تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ':
اور آسمانوں میں بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔
صاحبکم۔
اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 11 یعنی قرآن اور محمد ﷺ کے ذریعہ
Read the full tafseer →(53:23) ان ہی : میں ان نافیہ ہے ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کا اشارہ اصنام کی طرف ہے۔ جن کی کفار پوجا کیا کرتے تھے۔
سمیتموھا۔ سمیتم ماضی جمع مذکر حاضر تسمیۃ (باب تفعیل) مصدر سے واؤ اشباع کا ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اصنام کے لئے ہے جنہیں وہ پوجا کرتے تھے۔
یہ محض نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں۔ ورنہ ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہے ۔ علامہ راغب آیت ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا کے تحت لکھتے ہیں۔ ” کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے کہ محض نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ :۔ جن ناموں کا تم ذکر کرتے ہو ان کے مسیمیات نہیں ہیں بلکہ یہ اسماء ایسے ہیں جو بغیر مسمی کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28
ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 27
قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔
عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔
منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →بت پرستی پر کوئی دلیل نہیں
2: ان آیتوں میں بت پرستی کی مذمت فرماتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بت جن کو تم نے اللہ کا نام دے رکھا ہے ۔ حقیقتاً ان میں الوہیت کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ یہ محض پتھر ہیں ۔ بالکل بےجان اور بےبس ان کی پوجا اور پرستش کے لئے کوئی دلیل ہی نہیں ۔ محض بربتائے فن وتمخمین تم لوگ ان سے حسبت رکھتے ہو ۔ اور ان کو خبر وشر کا مالک سمجھتے ورنہ عقل ، دجان کے پاس اس کے جو از کے لئے کوئی برہان نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے ۔ کہ یہ پتھر باجود اپنی ساخت کے اور باوجود اس ہدایت کے اپنے اندر اتنا قدس رکھتے ہیں ۔ کہ ان کو خدا قرار دیا جائے اللہ کی طرف سے ہدایت آچکی ہے ۔
حل لغات :۔ ضمیرای ۔ قص…
Read the full tafseer →(23) یہ مذکورہ اصنام کچھ نہیں مگر چند نام ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ثبوت پر کوئی دلیل اور حجت نہیں نازل فرمائی یہ لوگ محض بےبنیاد خیالات اور وہم فاسد اور اٹکل کی اور اپنی نفسانی خواہش اور جیوں کے چائو کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ یہ واقعہ ہے کہ ان کے پروردگار کی جانب سے ان کے پاس صحیح ہدایت اور رہنمائی پہنچ چکی ہے۔ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے پاس قرآنی تعلیم اور پیغمبر ﷺ جن کی ذات مقدس جو ہدایت ہی ہدایت ہے ۔ یہ تمام سامان ہدایت پہنچ چکا ہے مگر باوجود اس کے کہ ان کی حالت یہ ہے کہ چند من گھڑت نام جو انہوں نے اور ان کے بڑوں نے دیوی اور دیوتائوں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی خود اپنے دعوی پر تو کوئی دلیل نہیں رکھتے اور اس دعوی کی نقیض پر رسول کے ذریعہ سے دلیل سنتے ہیں اور پھر نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →یہ تو نام ہی نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں یا تمہارے آبائو اجداد نے
23 ؎ اب ان کے وہمی مفروضوں پر ان کی سرزنش کی جا رہی ہے کہ تم عجیب آدمی ہو کہ جن کو تم نے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیا ہے ان میں کوئی بات حاجت روائی اور مشکل کشائی کی نہیں ہے کیونکہ حاجت روا اور مشکل کشا تو صرف اور صرف وہ ذات ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر ایک چیز کی روزی کا بندوبست فرمایا ہے اور ہر ایک چیز کی حفاظت وہ براہ راست کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ اختیار نہیں دیا اور نہ ہی یہ اختیار کسی انسان کو دیئے جاسکتے ہیں یہ تو محض نام ہی نام ہیں جو تم نے گھڑ لئے یا تمہارے آبائو اجداد نے اور تمہاری ان وہمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
Various Types of Zann
إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (and conjecture is of no use in [ the matter on Truth.... 53:28) The Arabic word ظَن Zann is used in several different senses, and one of them is baseless thoughts. This is the sense in which it is employed in the verse, because baseless thoughts were the cause of idolatry. And the verse purports to remove the cause. Zann is also used as the antonym of yaqin. Yaqin refers to assured or definitive knowledge about something that really exists, not the figment of someone's imagination. In…
Read the full tafseer →17 That is, "Those whom you call gods and goddesses are neither gods nor goddesses, nor do they possess any attribute of divinity, nor any share whatever in the powers of Godhead. You have of your own whim made them children of God and deities and associates in Godhead. Allah has sent down no authority which you may, produce as a proof in support of your presumptions. "
18 In other words, the basic causes of their deviation are two: First, that they do not feel any need for the knowledge of reality for the purpose of adopting a creed and religion, but make a supposition on the basis of a mere…
Read the full tafseer →