An-Najm 53:22

An-Najm · from ayah 22

53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰی ۟تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That, then, is an unjust division.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:22

یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر تو یہ بڑی بھونڈی تقسیم ہوئی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اگر تمہارا تصور درست ہے) تب تو یہ تقسیم بڑی ناانصافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ تو اس وقت ناانصافی کی تقسیم ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب تو یہ بڑی ہی ٹیڑھی (اور بےڈھنگی) تقسیم ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تو بڑی ہی بےڈھنگی تقسیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تقسیم تو بڑی ناانصافی کی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

That is indeed an unfair division!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If so, it is a bizarre division.

— Muhammad Taqi Usmani

If so, it is a bizarre division.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That indeed is a division most unfair!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That, then, is an unjust division.

— Saheeh International

This is an unfair distinction!

— Muhammad Sarwar

This indeed is an unjust division!

— Muhammad Habib Shakir

That indeed is a division unfair!

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, such would be indeed a division most unfair!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة النَّجْم 16 یعنی ان دیویوں کو تم نے اللہ رب العالمین کی بیٹیاں قرار دے لیا اور یہ بیہودہ عقیدہ ایجاد کرتے وقت تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اپنے لیے تو تم بیٹی کی پیدائش کو ذلت سمجھتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہیں اولاد نرینہ ملے۔ مگر اللہ کے لیے تم اولاد بھی تجویز کرتے ہو تو بیٹیاں !

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قِسْمَةٌ ضِيْزٰى، صنوز سے مشتق ہے، جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے کے ہیں، اسی لئے ابن عباس نے قِسْمَةٌ ضِيْزٰى کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

(الکم الذکر ولہ الاتثی تلک اذا قسمۃ صیزی) (21، 22) (ستم بالا ستم)۔ ان فقروں کا اسلوب طنزیہ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، تو جب لڑکیوں سے متعلق تمہارے احساسات یہ ہیں تو کم از کم اپنے رب پر اتنا کرم تو کیا ہوتا کہ جس چیز کو اپنے لیے اس درجہ ناپسند کرتے ہو وہ اس کی گود میں نہ ڈالتے ! آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پیدا تو ہر چیز اللہ نے کی لیکن بیٹیاں تم اس کے حصے میں ڈالو اور بیٹے اپنے حصہ میں، یہ تقسیم تو نہایت غیر منصافنہ اور بھونڈی تقسیم ہوئی ! عدل و انصاف کا بدیہی تقاضا یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–23

11: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ ان کے اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ تم خود تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیاں منسوب کر رکھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تلک اذا قسمة ضیزی (35 : 22) ” یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے “ جبکہ حقیقت پسند نظر سے دیکھا جائے تو اس تصور کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔ عقل و دانش کے زاویہ سے دیکھا جائے تو کوئی عقلی ونقلی دلیل اس پر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

2 یاقوت نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ کفار ان بتوں کو خدا کے بیٹیاں کہتے تھے۔ سو اول تو خدا " لم یلد ولم یولد " ہے اور بالفرض اولاد کا نظریہ تسلیم کیا جائے تب بھی یہ تقسیم کس قدر بھونڈی اور مہمل ہے کہ تم خود تو بیٹے لے جاؤ اور خدا کے حصہ میں بیٹیاں لگادو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ تِلْکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ } ”یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے اور انہیں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے جبکہ اپنے لیے وہ بیٹیوں کو قطعاً پسند نہ کرتے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کردیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–22

16۔ یعنی شرک پر مستزاد یہ کہ اپنے لئے تو اپنے رواج وعرف کی بناء پر اچھی چیز یعنی بیٹے تجویز کرتے اور خدا کیلئے اپنے رواج وعرف کے معیار سے بھی ناقص اور گھٹیا چیز یعنی بیٹیاں تجویز کئے ہوئے ہو۔ (آیت) ” تلک ..... ضیزی “۔ یعنی یہی کہ کسی کو دیوی ٹھہرائی کسی کو دیوتا، کسی کا نام ہوا کا خدا رکھ دیا، کسی کو رزق وبارش کا دیوتا کہنے لگے۔ ان اسماء والقاب کو حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ تو نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–22

الکم الذکر ولہ الانثی تلک اذا قسمۃ ضیزی مشرکین مکہ فرشتوں اور مذکورہ دیویوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے یہ اس کی تردیدے، ضیزی ضور یا ضیر سے مشتق ہے جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے نیز جادہ حق سے ہٹنے کے ہیں، ابن عباس ؓ نے ضیزی کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اناث جن کو تم ناپسند کرتے اور حقیر سمجھتے ہو ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو اور ذکور ہو اور ذکور جن کو تم پسند کرتے ہو اپنے حصہ میں رکھتے ہو، یہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تلک اذا قسمۃ ضیری . یہ تو بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے قسمۃ ضیزیٰ کا ترجمہ کیا : قِسْمَۃٌ جَائرۃٌ : (ٹیڑھی ‘ بےجا تقسیم) کہ جو چیز تم کو اپنے لیے پسند نہیں اللہ کے لیے وہ چیز ثابت کر رہے ہو۔ مجاہد اور مقاتل نے ضیزٰی کا ترجمہ ٹیڑھی کیا ہے۔ حسن نے کہا : غیر معتدل۔ ابن کثیر نے ضیزٰی پڑھا ہے۔ ضَءَزَہٗ اس پر ظلم کیا۔ یعنی یہ تقسیم غیر منصفانہ ہے۔ باقی قراء نے یاء کے ساتھ ضیزیٰ پڑھا ہے۔ کسائی نے کہا : ضَازَ یَضِیْزُ ضَازًا (ضرب یضرب) اور ضاز یَضُوْزُ ضَوْزًا (نصر ینصر) اور ضاز یَضَازُ ضَازًا (سمع یسمع) تینوں (ابواب) کا معنی ہے ‘ ظلم کیا ‘ حق تلفی کی۔ میں کہتا ہوں ‘ ضیزٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–22

(19۔ 22) بھلا اے مکہ والو تم نے لات و عزی اور تیسرے منات بت کی حالت میں بھی غور کیا ہے کہ یہ تمہارے آخرت میں کام آسکتے ہیں ہرگز نہیں قیامت کے دن یہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لات، طائف میں قبیلہ ثقیف کا بت تھا وہ اس کو پوجتے تھے اور عزی بطن نخلہ میں غطفان کا ایک درخت تھا وہ اس کی پوجا کرتے تھے اور مناۃ مکہ مکرمہ میں قبیلہ ہزیل اور خزاعہ کا بت تھا وہ اللہ کے علاوہ اس کو پوجا کرتے تھے۔ مکہ والو تم اپنے لیے بیٹے تجویز کرو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز ہوں حالانکہ تم بیٹیوں کو برا سمجھتے ہو اور اپنے لیے ان کا ہونا ناگوار نہیں کرتے یہ تو بہت ہی جاہلانہ نازیبا تقسیم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(تلک اذاً قسمۃ ضیزی :):”ضیزی“”ضاز یصیز صیزاً“ (ض) سے ”فعلی“ (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو ”افعل“ (اسم تفصیل) کی مونث ہے۔ اس کا معنی ”شدید الضیز“ (سخت ناانصافی والی ہے)۔ ”ضاد“ کے ضمہ کو ”یائ“ کی موافقت کے لئے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لئے اولاد بتانا، پھر اپنے لئے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑکیاں پسند کرنا ، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قسمۃ ضیزی ٰ یہ ناحق تقسیم ہے یہ فعلی کا وزن ہے جس طرح طوبی اور حبلی ہے یاء کی مناسبت کی وجہ سے ضاد کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ کلام عرب میں فعلی کے وزن پر صفت کا صیغہ نہیں آتا اسماء کے اوزان میں یہ وزن ہے جس طرح شعری اور دخلی ہے۔ فراء نے کہا : بعض عرت کہتے ہیں ضوزی اور ضزی۔ ابو حاتم نے ابوزید سے حکایت بیان کی ہے کہ انہوں نے عربوں کو ضنزی ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے اس کے علاوہ علماء نے کہا : ابن کثیر نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اسے مصدر بنایا ہے جس طرح ذکری مصدر ہے یہ صفت نہیں کیونکہ صفات میں فعلی کا وزن نہیں اس کی اصل فعلی نہیں کیونکہ یہاں کوئی ایسا سبب موجود نہیں جو قلب کا تقاضا کرے یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–23

قولہ تعالیٰ : (آیت) '' تلک اذا قسمۃ ضیزی '' 12:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ضیزی '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے ظلم کرنے والی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرؤالقیس کا یہ قول نہیں سنا۔ ضازت بنواسد بحکمھم اذیعدلون الراس بالذنب : ترجمہ : بنواسد نے ظلم کیا اپنے فیصلہ کے ساتھ کیونکہ وہ سرکودم کے برابر قرار دیتے ہیں۔ 13:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ضیزی '' سے مراد منقوصۃ یعنی جس کو کم کردیا گیا۔ 14:۔ عبدالرزاق وعبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تِلْكَ اِذًا [ یہ تو پھر ] قِسْمَةٌ ضِيْزٰى [ بڑی ناانصافی والی تقسیم ہے ] ض ی ز : (ض) ضیزا ۔ حق سے کم دینا ۔ ناانصافی کرنا ۔ ضیزی (یہ دراصل فعلی کے وزن پر ضیزی ہے ۔ یا کی مناسبت سے ض کی ضمہ کو کسرہ میں تبدیل کرکے ضیزی استعمال کرتے ہیں ) زیادہ یا سب سے زیادہ ناانصافی ۔ پھر مجرد بڑی ناانصافی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 22 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ان لوگوں کی اس تجویز باطل کے بارے میں فرمایا ﴿ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ کہ یہ تقسیم بڑی ظالمانہ ہے بھونڈی ہے باطل ہے خود غور کرنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے تجویز کیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

10:۔ ” الکم الذکر “ یہ سورت کے دوسرے دعوے کا بیان ہے یعنی اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب نہیں۔ مشرکین اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے لیکن اس کے ساتھ ہی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں جس طرح ایک باپ کو بیٹیاں محبوب ہوتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کی سفارش کو ہرگز رد نہیں کرتا۔ فرمایا یہ تقسیم تو سراسر بےانصافی پر مبنی اور عدل و انصاف سے ہٹی ہوئی ہے، کیونکہ وہ جس چیز کو خود ناپسند کرتے ہیں اس کی نسبت خدا کی طرف کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرتے۔ اس لیے ان کا یہ کہنا غلط ہے اور بےانصافی پر مبنی ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کی بارگاہ میں شفیع قاہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِيْزٰى۝ 22 قسم تقسیم کرنا الْقَسْمُ : إفراز النّصيب، يقال : قَسَمْتُ كذا قَسْماً وقِسْمَةً ، وقِسْمَةُ المیراث، وقِسْمَةُ الغنیمة : تفریقهما علی أربابهما، قال : لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ [ الحجر/ 44] ، وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْماءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ [ القمر/ 28] ( ق س م ) القسم والقسمہ ( ض ) کے معنی کسی چیز کے حصے کرنے اور بانٹ دینے کے ہیں مثلا قسمۃ المیراث تر کہ کو دا وارثوں کے در میان تقسیم کرنا قسمۃ الغنیمۃ مال غنیمت تقسیم کرنا قسمہ الغنیمۃ مال غنیمت تقسیم کرنا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ [ الحجر/ 44] ہر ایک دروازے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَـہُ الْاُنْثٰی۔ تِلْـکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ (النجم : 21، 22) (کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے۔ یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ ) دیویوں کے پرستاروں پر طنز ان دیویوں کے پرستاروں پر طنز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم ان بتوں کو دیویاں ٹھہرا کر مؤنث قرار دیتے ہو۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ گویا کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہونا باعث شرم اور باعث ذلت ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور رازق بھی مانتے ہو اور خود…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–22

فہم القرآن ربط کلام : رب کبریا کو چھوڑ کر لات عزّٰی اور منات وغیرہ کی عبادت کرنے والوں کی مذمت۔ اللہ تعالیٰ نے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نہ بہکے ہیں اور نہ ہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہیں۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اللہ کی وحی کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ پر وحی لانے والا جبریل امین بڑا طاقتور، نہایت سمجھدار، باصلاحیت اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ نے اسے اس کی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دو کمانوں سے بھی قریب تردیکھا۔ نہ آپ ﷺ کی آنکھ چندھائی اور نہ ہی آپ نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی نشانیوں کو براہ راست…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 22: تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى ( کیا تمہارے لیے بیٹے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں، یہ تو بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی) یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے تمہارا یٹیاں مقرر کرنا اور اپنے لیے بیٹے یہ بھونڈی یعنی ظالمانہ تقسیم ہے۔ ضیزی یہ ضازہ یضیزہ جبکہ اس کی حق تلفی کرے، ضیزی یہ فعلی کا وزن ہے، اس لیے کہ صفت میں فعلی بکسر الفاء نہیں آتا۔ یاء کی مناسبت سے فا کر کسرہ دیا گیا ہے، جیسا کہا جاتا ہے بیض حالانکہ وہ بوض ہے جیسا کہ حمر سود ہے۔ ضئزی ہمزہ سے مکی نے پڑھا اور اس کو ضازہ یہ ضازہ ہی کی طرح ہے معنی میں فرق نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى) تب تو یہ بہت ہی ظالمانہ تقسیم ہے اس تقسیم سے بڑھ کر کون ساظلم ہوسکتا ہے جو خالق پر بندہ مخلوق کی فضیلت کو مقتضی ہو، اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

[ 24] " منات " کے بارے میں غور وفکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے بھی اور اس تیسرے " مناۃ " کے بارے میں بھی سوچا ؟ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان خزاعہ کا بت تھا جس کی پوجا اہل مکہ بھی کیا کرتے تھے، اور اس کے پاس سے مشرکین احرام بھی باندھا کرتے تھے، اور اس کو اخری [ پچھلا ] اس لئے فرمایا گیا کہ یہ مرتبے کے اعتبار سے تیسرے درجے پر تھا [ مراغی، محاسن اور ابن کثیر وغیرہ ] ویسے تو جزیر ہیٔ عرب میں اور بھی بہت سے بت تھے، مگر یہ تینوں چونکہ زیادہ مشہور و معروف تھے، اس لئے ان کا یہاں پر بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے، اور انہی کے بارے میں سوچنے اور گور کرنے کی دعوت دی گئی ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–26

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:22) تلک۔ یعنی یہ نر کا تمہارے لئے ہونا اور مادہ کا اللہ کے لئے ہونا۔ اذا۔ حرف جزاء ہے۔ بمعنی تب، اس وقت، اصل میں یہ اذن تھا۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ قسمۃ ضیزی : موصوف وصفت، بہت بھونڈی تقسیم، نہایت غیر منصفانہ تقسیم، بہت ناقص، ضیزی۔ ضاز یضیر (باب ضرب) کا مصدر بھی ہوسکتا ہے ۔ اجوف یائی ہے اور مہمو العین (باب فتح) سے بھی۔ ضاز یضاز کا مصدر ضیزی ہوگا۔ معنی دونوں کے قریب قریب ایک ہی ہیں۔ لہٰذا ضیزی ہر دو صورت میں مصدر بھی ہے اور صیغہ صفت بھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) اگر ایسا ہے تو پھر اس حالت میں تو یہ بہت ہی بھونڈی اور غیر منصفانہ تقسیم ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ جن بیٹیوں کو تم ناپسند کرتے ہو وہ ناپسندیدہ چیزتم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو اور اپنے لئے بیٹے تجویز کرتے ہو اس قسم کی تقسیم تو بہت ہی غیر منصفانہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–22

ف 1۔ عرب میں بت تو بہت تھے مگر تخصیص ان تین کی بوجہ اشہر و اکبر ہونے کے ہے تو اوروں کی الوہیت کا بطلان بدرجہ اولی ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہاری یہ تقسیم تو بہت ہی بری تقسیم ہے کیونکہ وہ نہایت ہی غیر منصفانہ ہے 22 ؎ (ضیریٰ ) بہت ناقص ‘ غیر منصفانہ ‘ اور بہت بھونڈی۔ خیال رہے کہ ضار یصیر سے ہے جس کا استعمال بیدار کرنے اور ستم ڈھانے کے معنی میں ہوتا ہے اور (ضیریٰ ) کے معنی ہوئے ظالمانہ۔ اس لئے ہم نے اس کو غیر منصفانہ کہا ہے اور اس صورت میں دو وجہوں کا احتمال ہے ایک یہ کہ صفت ہو بروزن فعلی ہضم الفاء اور فا کو کسرہ اس لئے دیا گیا تاکہ ی کی سلامتی برقرار رہ سکے جیسا کہ بیض میں ہوا کہ بیض اصل میں ابیض کی جمع ہے جیسا کہ سود اسود کی جمع ہے اس طرح اس کی باء جو کہ اصل میں ضمہ تھا مگر باء کے سلامت رہنے کے لئے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا گیا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ (If so, it is a totally unjust division.... 53:22) " Diza means to act or behave unjustly or to defraud one of one's right or due. Therefore, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ interprets the phrase as unjust or unfair division.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

16 That is, "You held these goddesses as daughters of Allah, Lord of the worlds, and did not consider while inventing this absurd creed that as for yourselves you regarded the birth of a daughter as disgraceful, and desired to have only male children, but as for Allah you assign w Him only daughters!"

Read the full tafseer →