An-Najm 53:21

An-Najm · from ayah 21

53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰی۟ اَلَـكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى

(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Is the male for you and for Him the female?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:21

کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں، اور اللہ کے لیے بیٹیاں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مشرکو!) کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس (اﷲ) کے لئے بیٹیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تمہارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تمہارے لئے تو لڑکے ہوں اور اس کے لئے لڑکیاں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اس کے لیے بیٹیاں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تمہارے لئے تو ہوں بیٹے اور اس کے لئے ہوں بیٹیاں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مشرکو ! کیا تمہارے لیے تو بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں

— محترمہ رفعت اعجاز

Shall you have the male issues, and He the female issues?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that you have males and He (Allah) has females?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that you have males and He (Allah) has females?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it for you the males and for Him the females

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Are yours the males and His the females?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Is the male for you and for Him the female?

— Saheeh International

Do sons belong to you and daughters to God?

— Muhammad Sarwar

What! for you the males and for Him the females!

— Muhammad Habib Shakir

What!-Unto YOu the males and Unto Him the females?

— Abdul Majid Daryabadi

What! for you the male sex, and for Him, the female?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة النَّجْم 16 یعنی ان دیویوں کو تم نے اللہ رب العالمین کی بیٹیاں قرار دے لیا اور یہ بیہودہ عقیدہ ایجاد کرتے وقت تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اپنے لیے تو تم بیٹی کی پیدائش کو ذلت سمجھتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہیں اولاد نرینہ ملے۔ مگر اللہ کے لیے تم اولاد بھی تجویز کرتے ہو تو بیٹیاں !

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر (اے مشرکو بعد اس کے کہ رسول ﷺ کا ناطق بالحق و متبع للوحی ہونا ثابت ہوگیا اور آپ اس وحی سے توحید کا حکم فرماتے ہیں، جو کہ دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہے، اور تم پھر بھی بتوں کی پرستش کرتے ہو تو) بھلا تم نے (کبھی ان بتوں کے مثلاً) لات اور عزی اور ایک تیسرے منات کے حال میں غور بھی کیا ہے (تاکہ تم کو معلوم ہوتا کہ وہ قابل پرستش ہیں یا نہیں، پس کلمہ فاء سے یہ فائدہ ہوا کہ آپ کی تنبیہ کے بعد متنبہ ہونا چاہئے تھا اور توحید کے متعلق ایک اور بات قابل غور ہے کہ تم جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر معبود کہتے ہو تو) کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں (تجویز ہوں یعنی جن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

(الکم الذکر ولہ الاتثی تلک اذا قسمۃ صیزی) (21، 22) (ستم بالا ستم)۔ ان فقروں کا اسلوب طنزیہ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، تو جب لڑکیوں سے متعلق تمہارے احساسات یہ ہیں تو کم از کم اپنے رب پر اتنا کرم تو کیا ہوتا کہ جس چیز کو اپنے لیے اس درجہ ناپسند کرتے ہو وہ اس کی گود میں نہ ڈالتے ! آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پیدا تو ہر چیز اللہ نے کی لیکن بیٹیاں تم اس کے حصے میں ڈالو اور بیٹے اپنے حصہ میں، یہ تقسیم تو نہایت غیر منصافنہ اور بھونڈی تقسیم ہوئی ! عدل و انصاف کا بدیہی تقاضا یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–23

11: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ ان کے اس عقیدے کی طرف اشارہ ہے کہ تم خود تو بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیاں منسوب کر رکھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الکم ............ ضیزی (35 : 22) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ہیں۔ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی “ اس سے یعنی ان بتوں کے تعجب خیز ذکر کے بعد یہ تنقید بتائی ہے کہ یہ تینوں بت دراصل فرشتوں کے ناموں کے رمز تھے جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ ان کی حالت اپنے ہاں یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹیوں کی ولادت کو سخت مکروہ سمجھتے تھے لیکن اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنے میں شرم محسوس نہ کرتے تھے حالانکہ وہ فرشتوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے اور نہ معلومات تھیں ان کو جن کی بنا پر وہ یوں کہتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ خود ان کے تصورات اور ان کے افسانوی عقائد کی رو سے ان پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

2 یاقوت نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ کفار ان بتوں کو خدا کے بیٹیاں کہتے تھے۔ سو اول تو خدا " لم یلد ولم یولد " ہے اور بالفرض اولاد کا نظریہ تسلیم کیا جائے تب بھی یہ تقسیم کس قدر بھونڈی اور مہمل ہے کہ تم خود تو بیٹے لے جاؤ اور خدا کے حصہ میں بیٹیاں لگادو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰی۔ } ”کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ؟“ تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو تم نے الاٹ بھی کی ہیں تو بیٹیاں !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

12 مشرکین مکہ کی کئی دیویاں لات عزیٰ اور منات :۔ اب ایسے لا محدود عظمت و جلال والے پروردگار کے مقابلہ میں ذرا ان دیویوں کا ذکر بھی سن لو جن کی اہل عرب پوجا کرتے ہیں۔ لات (الہ کا مؤنث) کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے۔ عزیٰ (عزیز سے مونث) بمعنی عزت والی یا عزت عطا کرنے والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا۔ منات کا استھان یا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا۔ زمانہ حج میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–22

16۔ یعنی شرک پر مستزاد یہ کہ اپنے لئے تو اپنے رواج وعرف کی بناء پر اچھی چیز یعنی بیٹے تجویز کرتے اور خدا کیلئے اپنے رواج وعرف کے معیار سے بھی ناقص اور گھٹیا چیز یعنی بیٹیاں تجویز کئے ہوئے ہو۔ (آیت) ” تلک ..... ضیزی “۔ یعنی یہی کہ کسی کو دیوی ٹھہرائی کسی کو دیوتا، کسی کا نام ہوا کا خدا رکھ دیا، کسی کو رزق وبارش کا دیوتا کہنے لگے۔ ان اسماء والقاب کو حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ تو نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–22

الکم الذکر ولہ الانثی تلک اذا قسمۃ ضیزی مشرکین مکہ فرشتوں اور مذکورہ دیویوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے یہ اس کی تردیدے، ضیزی ضور یا ضیر سے مشتق ہے جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے نیز جادہ حق سے ہٹنے کے ہیں، ابن عباس ؓ نے ضیزی کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اناث جن کو تم ناپسند کرتے اور حقیر سمجھتے ہو ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہو اور ذکور ہو اور ذکور جن کو تم پسند کرتے ہو اپنے حصہ میں رکھتے ہو، یہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–22

(19۔ 22) بھلا اے مکہ والو تم نے لات و عزی اور تیسرے منات بت کی حالت میں بھی غور کیا ہے کہ یہ تمہارے آخرت میں کام آسکتے ہیں ہرگز نہیں قیامت کے دن یہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لات، طائف میں قبیلہ ثقیف کا بت تھا وہ اس کو پوجتے تھے اور عزی بطن نخلہ میں غطفان کا ایک درخت تھا وہ اس کی پوجا کرتے تھے اور مناۃ مکہ مکرمہ میں قبیلہ ہزیل اور خزاعہ کا بت تھا وہ اللہ کے علاوہ اس کو پوجا کرتے تھے۔ مکہ والو تم اپنے لیے بیٹے تجویز کرو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز ہوں حالانکہ تم بیٹیوں کو برا سمجھتے ہو اور اپنے لیے ان کا ہونا ناگوار نہیں کرتے یہ تو بہت ہی جاہلانہ نازیبا تقسیم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

(افرء یتم اللت والعزی …: گزشتہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی صراط مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہی کے پاس نزول اور رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب آکر وحی پہنچانے کا اور آپ ﷺ کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بیشمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ ابن کثیر، ابن محیصن حمید، مجاہد، سلمی اور اعشی نے ابوبکر سے ومناءۃ مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کو ترک کیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے یہ نام اس سلئے دیا گیا کیونکہ وہ اس بات کے پانچ جانور ذبح کیا کرتے تھے اور اس عمل کے ذریعے اس کا قرب حاصل کیا کرتے تھے۔ منیٰ کو منیٰ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ کسائی، ابن کثیر اور ابن محیصن ھاء پر وقف کرتے جس طرح اصل قاعدہ ہے باقی تاء پر وقف کرتے وہ مصف کے خط کا اتباع کرتے۔ صحاح میں ہے : مناۃ بت کا نام ہے جو بنو بذیل اور بنو خزاعہ کا تھا یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوتلتا تھا عبید بن حمید (رح) نے الفاظ اس طرح ہیں کہ وہ ستوتلتا تھا اور حاجی لوگ اسے پانی پلاتے تھے۔ 2:۔ النسائی وابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو خالد بن ولید کو نخلہ کی طرف بھیجا وہاں عزی (بت) تھا خالد وہاں آئے تو وہ تین ببول کے درخت تھے انہوں نے درخت کو کاٹا اور اس مکان کو گرادیا جس پر وہ تھا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی آپ نے فرمایا واپس جاؤ تو نے کچھ نہیں کیا خالد واپس آئے جب وہاں کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَكُمُ الذَّكَرُ [ کیا تمہارے لیے لڑکا ہے ] وَلَهُ [ اور اس (اللہ ) کے لیے ] الْاُنْثٰى [لڑکی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کی ضلالت اور حماقت : مشرکین کے بڑے بڑے بتوں کی عاجزی اور محتاجی اور نفع و ضرر پر قدرت نہ رکھنے کی حالت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى0021﴾ (کیا تمہارے لیے نر ہو اور اللہ کے لیے مادہ ہو) اول تو یہ گمراہی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کردی پھر جو اولاد تجویز کی تو بیٹیاں تجویز کردیں اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا حالانکہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے تھے اسی کو سورة الاسراء میں فرمایا ﴿ اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنَاثًا 1ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا (رح) 0040﴾ (کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

10:۔ ” الکم الذکر “ یہ سورت کے دوسرے دعوے کا بیان ہے یعنی اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع غالب نہیں۔ مشرکین اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے لیکن اس کے ساتھ ہی فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں جس طرح ایک باپ کو بیٹیاں محبوب ہوتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کی سفارش کو ہرگز رد نہیں کرتا۔ فرمایا یہ تقسیم تو سراسر بےانصافی پر مبنی اور عدل و انصاف سے ہٹی ہوئی ہے، کیونکہ وہ جس چیز کو خود ناپسند کرتے ہیں اس کی نسبت خدا کی طرف کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کرتے۔ اس لیے ان کا یہ کہنا غلط ہے اور بےانصافی پر مبنی ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کی بارگاہ میں شفیع قاہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰى۝ 20 اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰى۝ 21 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَـہُ الْاُنْثٰی۔ تِلْـکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ (النجم : 21، 22) (کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے۔ یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ ) دیویوں کے پرستاروں پر طنز ان دیویوں کے پرستاروں پر طنز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم ان بتوں کو دیویاں ٹھہرا کر مؤنث قرار دیتے ہو۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ گویا کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہونا باعث شرم اور باعث ذلت ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور رازق بھی مانتے ہو اور خود…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–22

فہم القرآن ربط کلام : رب کبریا کو چھوڑ کر لات عزّٰی اور منات وغیرہ کی عبادت کرنے والوں کی مذمت۔ اللہ تعالیٰ نے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نہ بہکے ہیں اور نہ ہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہیں۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اللہ کی وحی کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ پر وحی لانے والا جبریل امین بڑا طاقتور، نہایت سمجھدار، باصلاحیت اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ نے اسے اس کی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دو کمانوں سے بھی قریب تردیکھا۔ نہ آپ ﷺ کی آنکھ چندھائی اور نہ ہی آپ نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی نشانیوں کو براہ راست…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 21: کفار کہا کرتے تھے کہ ملائکہ اور یہ اصنام اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، وہ ان کی عبادت کرتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہیں ان کے سفارشی ہوں گے، اگرچہ وہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں، ان کو کہا گیا۔ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” ومناۃ “ ابن کثیر (رح) نے مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے قصر کے ساتھ اور بغیر ہمزہ کے ۔ اس کے لئے کہ عرب نام رکھتے تھے۔ زید مناۃ اور عبدمناۃ اور ان ناموں میں مد نہیں سنی گئی۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ خزاعۃ کا تھا مقام قدید میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں انصار کے بارے میں کہ یہ مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے اور یہ قدید میں تھا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں یہ گھر تھا مشلل میں اس کی بنوکعب عبادت کرتے تھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں مناۃ ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا۔ اس کی اہل مکہ عبادت کرتے تھے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ لات، عزیٰ اور مناۃ پتھروں کے بت تھے، کعبہ کے وسط میں تھے، وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى) یعنی کیا تم اللہ کے لیے بزعم خود بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لیے بیٹے ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

[ 24] " منات " کے بارے میں غور وفکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے بھی اور اس تیسرے " مناۃ " کے بارے میں بھی سوچا ؟ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان خزاعہ کا بت تھا جس کی پوجا اہل مکہ بھی کیا کرتے تھے، اور اس کے پاس سے مشرکین احرام بھی باندھا کرتے تھے، اور اس کو اخری [ پچھلا ] اس لئے فرمایا گیا کہ یہ مرتبے کے اعتبار سے تیسرے درجے پر تھا [ مراغی، محاسن اور ابن کثیر وغیرہ ] ویسے تو جزیر ہیٔ عرب میں اور بھی بہت سے بت تھے، مگر یہ تینوں چونکہ زیادہ مشہور و معروف تھے، اس لئے ان کا یہاں پر بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے، اور انہی کے بارے میں سوچنے اور گور کرنے کی دعوت دی گئی ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–26

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:21) الذکر۔ مرف ۔ خر۔ واحد اس کی جمع ذکور وذکران ہے ۔ الانثی مادہ۔ عورت۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–22

ف 1۔ عرب میں بت تو بہت تھے مگر تخصیص ان تین کی بوجہ اشہر و اکبر ہونے کے ہے تو اوروں کی الوہیت کا بطلان بدرجہ اولی ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تمہارے لئے بیٹے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ہیں ؟ 21 ؎ غرض انسان کو اندھا کردیتی ہے اور اس کی مت ایسی ماری جاتی ہے کہ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ میں کیا کر رہا ہوں یا کیا کہہ رہا ہوں ؟ یہی حالت قریش مکہ کی تھی کہ جب ان کو کسی نے کہہ دیا کہ یہ دیویاں حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ان کو پکارنے ‘ سورنے اور ان کے نام کی نیازیں دینے سے یہ خوش ہوتی ہیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش بہت مقبول ہے کیونکہ یہ تو اللہ کی بیٹیاں ہیں تو انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ اپنے لئے بیٹی کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے اللہ کے لئے ان کو اللہ کی بیٹیاں تسلیم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ تو اولاد سے پاک ہے اس کے لئے نہ بیٹیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Refuting Idolatry The preceding verses declared the Glory of Allah, His Majesty and Dignity. They further confirmed and verified in the fullest details the Prophet-hood and messenger-ship of Muhammad ﷺ ، and the preservation of his revelation. The present two verses imply a subtle rebuke to the Makkah pagans. The purport of the verses is to say to them that without any proof, instead of adoring such a Mighty and Powerful Creator and Lord, they stoop so low as to worship gods made of wood and stone. They allege that the angels are the daughters of God. According to other narratives, they also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

16 That is, "You held these goddesses as daughters of Allah, Lord of the worlds, and did not consider while inventing this absurd creed that as for yourselves you regarded the birth of a daughter as disgraceful, and desired to have only male children, but as for Allah you assign w Him only daughters!"

Read the full tafseer →