An-Najm 53:20

An-Najm · from ayah 20

53:20

وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰی ۟وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Manat, the third - the other one?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:20

اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور منات تیسرے پچھلے کو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس ایک اور تیسرے پر جس کا نام منات ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس تیسری منات کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اﷲ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایک تیسری منات پر بھی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس پچھلے تیسرے مناۃ کے بارے میں بھی کبھی سوچا

— مولانا اسحاق مدنی

اور تیسرے منات کے حال میں بھی غور کیا ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو تیسری ایک اور (دیوی) منات ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تیسرے منات کو کہ یہ بت کہیں اللہ ہوسکتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and about the third deity, al-Manat?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and about the other, the third (idol), namely, Manat,?

— Muhammad Taqi Usmani

and about the other, the third (idol), namely, Manat,?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Manat, the other third

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Manat, the third - the other one?

— Saheeh International

and your third idol al-Manat (whom you considered as God's daughters)?

— Muhammad Sarwar

And Manat, the third, the last?

— Muhammad Habib Shakir

And Manat the other third?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 15 مطلب یہ ہے کہ جو تعلیم محمد ﷺ تم کو دے رہے ہیں اس کو تو تم لوگ گمراہی اور بد راہی قرار دیتے ہو، حالانکہ یہ علم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور اللہ ان کو آنکھوں سے وہ حقائق دکھا چکا ہے جن کی شہادت وہ تمہارے سامنے دے رہے ہیں۔ اب ذرا تم خود دیکھو کہ جن عقائد کی پیروی پر تم اصرار کیے چلے جا رہے ہو وہ کس قدر غیر معقول ہیں، اور ان کے مقابلے میں جو شخص تمہیں سیدھا راستہ بتارہا ہے اس کی مخالفت کر کے آخر تم کس کا نقصان کر رہے ہو۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ان تین دیویوں کو بطور مثال لیا گیا ہے جن کو مکہ، طائف، مدینہ، اور نواحی حجاز کے لوگ سب سے زیادہ پوجتے تھے۔ ان کے بارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر (اے مشرکو بعد اس کے کہ رسول ﷺ کا ناطق بالحق و متبع للوحی ہونا ثابت ہوگیا اور آپ اس وحی سے توحید کا حکم فرماتے ہیں، جو کہ دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہے، اور تم پھر بھی بتوں کی پرستش کرتے ہو تو) بھلا تم نے (کبھی ان بتوں کے مثلاً) لات اور عزی اور ایک تیسرے منات کے حال میں غور بھی کیا ہے (تاکہ تم کو معلوم ہوتا کہ وہ قابل پرستش ہیں یا نہیں، پس کلمہ فاء سے یہ فائدہ ہوا کہ آپ کی تنبیہ کے بعد متنبہ ہونا چاہئے تھا اور توحید کے متعلق ایک اور بات قابل غور ہے کہ تم جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر معبود کہتے ہو تو) کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں (تجویز ہوں یعنی جن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–20

2۔ آگے آیات 19۔ 30 کا مضمون آگے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم کو اس اہتمام کے ساتھ روز جزاء و سزا سے جو ڈرایا جا رہا ہے تو آخر کس بل بوتے پر اس سے نچنت بیٹھے ہو ! کیا اپنی مزعومہ دیویوں، لات، عزی اور نہایت کی سفارش کے بھروسہ پر اگر اس وہم پر مبتلا ہو تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے رکھے ہوئے محض فرضی نام ہیں جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ جزاء و سزا ایک حقیقت ہے، حقیقت کا مقابلہ تم محض اٹکل پچو مفروضات سے نہیں کر سکت، تم نے جو جھوٹی آرزو میں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں یہ محض تمہاری خواہشیں ہیں، ضروری نہیں کہ یہ پوری بھی ہوجائیں۔ دنیا و آخرت کے سارے معاملات اللہ ہی کے ہی اختبار میں ہیں۔ کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل ؑ جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: لات، عزی اور منات تینوں بتوں کے نام جو عرب کے مختلف قبائل نے مختلف جگہوں پر بنا رکھے تھے، اور ان کو خدا مان کر ان کی عبادت کی جاتی تھی، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کی حقیقت بےجان پتھروں کے سوا کیا ہے، پھر ان کو خدا ماننا کتنی بڑی جہالت کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

لات ایک سفید پتھر تھا جس پر نقش ونگار تھے۔ طائف میں اس کے اوپر ایک مکان اور درگاہ بنی ہوئی تھی جو طائف میں تھی اور اس کے اوپر پجاری متعین تھے۔ اس درگاہ کے اردگرد ایک بڑی چار دیواری تھی اور اہل طائف اس کا بہت احترام کرتے تھے یعنی فخر کرتے تھے ماسوائے قریش کے کہ ان کے پاس کعبہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لات کا لفظ مونث ہے اللہ کا جو اس سے پاک ہے۔ اور عزی ایک درخت تھا جس کے اوپر بھی ایک عبادت گاہ بنی ہوئی تھی اور پردے تھے اور یہ نخلہ کے مقام پر تھی جو مکہ اور طائف کے درمیان تھی۔ اس کی تعظیم قریشی بھی کرتے تھے جس طرح احد کے دن ابوسفیان نے کہا۔ لنا العزی ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

1 یعنی اس لا محدود عظمت و جلال والے خدا کے مقابلہ میں ان حقیر و ذلیل چیزوں کا نام لینے سے شرم آنی چاہیے۔ (تنبیہ) " لات " و " عزیٰ "، " منات " ان کے بتوں اور دیویوں کے نام ہیں۔ ان میں " لات " طائف والوں کے ہاں بہت معظم تھا۔ " منات " اوس و خزرج اور خزاعہ کے ہاں۔ اور " عزیٰ " کو قریش اور بنی کنانہ وغیرہ ان دونوں سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اول " عزیٰ " جو مکہ کے قریب نخلہ میں تھا۔ پھر " لات " جو طائف میں تھا۔ پھر سب سے پیچھے تیسرے درجہ میں " منات " جو مکہ سے بہت دور مدینہ کے نزدیک واقع تھا۔ علامہ یاقوت نے معجم البلدان میں یہ ترتیب نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20{ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی۔ } ”اور جو تیسری ایک اور دیوی منات ہے ؟“ یعنی کبھی تم لوگوں نے اپنی ان تین دیویوں کی حقیقت کے بارے میں بھی سوچا ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

12 مشرکین مکہ کی کئی دیویاں لات عزیٰ اور منات :۔ اب ایسے لا محدود عظمت و جلال والے پروردگار کے مقابلہ میں ذرا ان دیویوں کا ذکر بھی سن لو جن کی اہل عرب پوجا کرتے ہیں۔ لات (الہ کا مؤنث) کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے۔ عزیٰ (عزیز سے مونث) بمعنی عزت والی یا عزت عطا کرنے والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا۔ منات کا استھان یا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا۔ زمانہ حج میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

15۔ (کہ وہ کوئی بھی شائبہ الوہیت کا اپنے اندر رکھتی ہیں اے مشرکو) لات۔ عزی اور منات تینوں مشرکین عرب کے مشہور بت تھے۔ (آیت) ” اللت “۔ عرب کی بہت مشہور وقدیم دیوی تھی، نباطی کتبات تک میں اس کا نام موجود ہے۔ یہ سورج دیوتا کی مظہر تھی، اور قبیلہ ثقیف کی دیوی تھی۔ DOUGHTY کی (ARABIA.DISERTA) جلد دوم میں اس کافوٹو بھی دیا ہوا ہے۔ (آیت) ’ العزی “۔ یہ قوت و طاقت کی دیوی تھی جیسے ہندوستان میں درگاہ دیوی۔ یونان ورومہ کی زہرہ دیوی کی قائم مقام، ظہور اسلام کے وقت عربوی میں اس کا سب سے زیادہ شہرہ تھا۔ اس کا بت نخلہ میں نصب تھا اور یہ دیوی قبیلہ غطفان کی تھی۔ منات۔ یہ دیوی تقدیر کی حکمران تھی، اس کا بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–20

افرایتم الات والعزی اس سے مشرکین کی تو بیخ مقصود ہے بایں طور کہ اول اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بیان ہے کہ وہ جبرئیل جیسے عظیم فرشتے کا خالق ہے اور محمد ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے آسمانوں پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا اور ان پر وحی بھی نازل فرماتا ہے، کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین بتوں کا بطور مثال ذکر کیا، ایک ان میں سے لات ہے، یہ لت یلت سے اسم فاعل ہے، اس کے معنی ہیں گھولنے والا، گوندھنے والا، یہ ایک نیک شخص تھا جو حج کے موسم میں حاجیوں کو ستوگھول کر پلایا کرتا تھا، جب اس کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومنوۃ الثالثۃ الاخرٰی . مَنَاۃ : ابن کثیر کی قراءت میں مناۃ مد اور ہمزہ کے ساتھ آیا ہے۔ اس صورت میں مناۃ کا وزن مفعلۃ ہوگا اور اس کا اشتقاق نَوْءٌ سے ہوگا۔ گویا لوگ اس بت کے پاس جمع ہو کر اس سے تبرک حاصل کرتے تھے اور نچھتر (انواء) ستاروں سے بارش مانگتے تھے اس صورت میں مناۃ اصل میں منوۃ تھا۔ واؤ کی حرکت نقل کر کے نون کو دے دی پھر واؤ کو الفؔ سے بدل دیا گیا۔ ابن کثیر (رح) کے علاوہ باقی قراء نے بغیر مد اور الف کے پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کا وزن فعلۃ ہوگا اور (میم اصلی ہوگا اور) اس کا اشتقاق مَنَّاہ ہوگا۔ مناہ کا ترجمہ ہے اس کو قطع کیا۔ مشرکین قربانی کے جانور مناۃ کے پاس لے جا کر ذبح کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–22

(19۔ 22) بھلا اے مکہ والو تم نے لات و عزی اور تیسرے منات بت کی حالت میں بھی غور کیا ہے کہ یہ تمہارے آخرت میں کام آسکتے ہیں ہرگز نہیں قیامت کے دن یہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لات، طائف میں قبیلہ ثقیف کا بت تھا وہ اس کو پوجتے تھے اور عزی بطن نخلہ میں غطفان کا ایک درخت تھا وہ اس کی پوجا کرتے تھے اور مناۃ مکہ مکرمہ میں قبیلہ ہزیل اور خزاعہ کا بت تھا وہ اللہ کے علاوہ اس کو پوجا کرتے تھے۔ مکہ والو تم اپنے لیے بیٹے تجویز کرو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز ہوں حالانکہ تم بیٹیوں کو برا سمجھتے ہو اور اپنے لیے ان کا ہونا ناگوار نہیں کرتے یہ تو بہت ہی جاہلانہ نازیبا تقسیم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

(افرء یتم اللت والعزی …: گزشتہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی صراط مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہی کے پاس نزول اور رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب آکر وحی پہنچانے کا اور آپ ﷺ کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بیشمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

ومنوۃ الثالثۃ الاخری۔ ابن کثیر، ابن محیصن حمید، مجاہد، سلمی اور اعشی نے ابوبکر سے ومناءۃ مد اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کو ترک کیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے یہ نام اس سلئے دیا گیا کیونکہ وہ اس بات کے پانچ جانور ذبح کیا کرتے تھے اور اس عمل کے ذریعے اس کا قرب حاصل کیا کرتے تھے۔ منیٰ کو منیٰ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ کسائی، ابن کثیر اور ابن محیصن ھاء پر وقف کرتے جس طرح اصل قاعدہ ہے باقی تاء پر وقف کرتے وہ مصف کے خط کا اتباع کرتے۔ صحاح میں ہے : مناۃ بت کا نام ہے جو بنو بذیل اور بنو خزاعہ کا تھا یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوتلتا تھا عبید بن حمید (رح) نے الفاظ اس طرح ہیں کہ وہ ستوتلتا تھا اور حاجی لوگ اسے پانی پلاتے تھے۔ 2:۔ النسائی وابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو خالد بن ولید کو نخلہ کی طرف بھیجا وہاں عزی (بت) تھا خالد وہاں آئے تو وہ تین ببول کے درخت تھے انہوں نے درخت کو کاٹا اور اس مکان کو گرادیا جس پر وہ تھا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی آپ نے فرمایا واپس جاؤ تو نے کچھ نہیں کیا خالد واپس آئے جب وہاں کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–20

مشرکین عرب کی بت پرستی، لات، عزیٰ اور منات کی عبادت اور ان کے توڑ پھوڑ کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب مشرک تھے اور اہل مکہ بھی شرک اختیار کیے ہوئے تھے حالانکہ یہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی اولاد تھے جنہوں نے توحید کی دعوت دی اور مکہ معظمہ میں کعبہ شریف بنایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی ﴿ وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ0035﴾ (اے رب مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچانا) ان کی اولاد میں ایک عرصہ تک موحدین مخلصین کا وجود رہا پھر شدہ شدہ عرب کے دیگر قبائل سے متاثر ہو کر اہل مکہ مشرک ہوگئے، اہل عرب نے بہت سے بتوں کو معبود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

9:۔ ” افرایتم “ تمہید کے بعد سورت کے پہلے دعوے کا ذکر ہے یعنی حاجات و مصائب میں ان خود ساختہ معبودوں کو غائبانہ مت پکارو۔ جب ثابت ہوگیا کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے تو اس وحی ربانی کو مانو جو یہ کہتی ہے کہ مصائب و حاجات میں معبودانِ باطلہ کو مت پکارو۔ اللات، اس میں دو قراءتیں ہیں۔ اول بتخفیف تاء۔ دوم، بتشدید تاء، پہلی صورت میں یہ ” لوی “ سے مشتق ہے جس کے معنی لپٹنے اور گھومنے کے ہیں۔ مشرکین اس بات کے پاس عبادت کے لیے اعتکاف کرتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے وہ اس نام سے موسم کیا گیا۔ والاصل لویۃ بزنۃ فعلۃ من لوی لانھم کانوا یلوون علیہ و یعتکفون للعبادۃ، او یلتون علیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰى۝ 20 اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَہُ الْاُنْثٰى۝ 21 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اَلَـکُمُ الذَّکَرُ وَلَـہُ الْاُنْثٰی۔ تِلْـکَ اِذًا قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی۔ (النجم : 21، 22) (کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے۔ یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ ) دیویوں کے پرستاروں پر طنز ان دیویوں کے پرستاروں پر طنز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم ان بتوں کو دیویاں ٹھہرا کر مؤنث قرار دیتے ہو۔ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ گویا کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہونا باعث شرم اور باعث ذلت ہے۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق اور رازق بھی مانتے ہو اور خود…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–22

فہم القرآن ربط کلام : رب کبریا کو چھوڑ کر لات عزّٰی اور منات وغیرہ کی عبادت کرنے والوں کی مذمت۔ اللہ تعالیٰ نے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نہ بہکے ہیں اور نہ ہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہیں۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اللہ کی وحی کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ پر وحی لانے والا جبریل امین بڑا طاقتور، نہایت سمجھدار، باصلاحیت اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ نے اسے اس کی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دو کمانوں سے بھی قریب تردیکھا۔ نہ آپ ﷺ کی آنکھ چندھائی اور نہ ہی آپ نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی نشانیوں کو براہ راست…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 19–20

جاہلیت کے بت : آیت 19: اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى (20) وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (بھلا کیا تم نے لات و عزی ایک اور منات کی حالت پر غور بھی کیا) یعنی تم بتلاؤ ان چیزوں کے متعلق جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ کیا ان میں وہ قدرت و عظمت پائی جاتی ہے جو رب العزت کی صفات میں سے ہے ؟ اللات، العزی، مناۃ، یہ تینوں بتوں کے نام ہیں یہ تینوں مونث ہیں، لات یہ ثقیف کا بت تھا جس کو اہل طائف پوجتے تھے۔ ایک قول یہ ہے : یہ مقام نخلہ میں تھا اس کی پوجا قریش کرتے تھے، لات یہ لوی سے فعلۃ کا وزن ہے، لات کہنے کی وجہ سے یہ ہے لوی یلوی وہ اس کی طرف مڑتے اور متوجہ ہوتے اور عبادت کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” افرایتم اللات والعزیٰ “ یہ بتوں کے نام ہیں جن کو انہوں نے معبود بنالیا، ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے اسماء سے نام نکالے۔ پس کہنے لگے اللہ سے لات اور العزیز سے عزیٰ اور کہا گیا ہے کہ ” العزی اعز “ کی مونث ہے۔ بہرحال لات، تو قتادہ (رح) فرماتے ہیں طائف میں تھا۔ پس ابن زید (رح) نے کہا ہے کہ کھجور کا کمرہ تھا قریشی اس کی عبادت کرتے تھے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ابوصالح رحمہما اللہ نے ” اللات “ کو تاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے اور ان حضرات نے کہا ہے کہ یہ ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوبنایا کرتا تھا۔ پس جب یہ مرگیا تو اس کی قبر کی طرف مائل ہوئے اور اس کی عبادت کرنے لگے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–20

اللہ تبارک وتعالی نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے تھے نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت جو اوصاف کمال سے محروم ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباؤ اجداد نے گھڑ لیا ہے انہوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے جن کی وہ مستحق نہ تھیں پس انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔ جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انہوں نے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 23] مشرکین کو غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور مشرکین کو دعوت غور وفکر دینے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی ان کے بارے میں کبھی سوچا نہیں ؟ یعنی کبھی تم لوگوں نے اس بارے سوچا اور گور نہیں کیا کہ ایک طرف تو حضرت حق جل مجدہ کی عظمت بےپایاں کے یہ آثار و مظاہر تمہارے سامنے موجود اور ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں، اور دوسری طرف تمہارے یہ بےجان اور بےحقیقت بت اور خود ساختہ اور من گھڑت مورتیاں ہیں، جن کو تم لوگ ازخود اس کا شریک قرار دیتے ہو، کیا اس پر تمہیں شرم بھی نہیں آتی، تمہاری عقلوں کو آخر کیا ہوگیا ہے ؟ آخر لوگ سوچتے کیوں نہیں ؟ کہ تم کس سے توڑ کر کس سے جوڑ رہے ہو ؟ از…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–26

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–20

ف 10 یعنی ان کی پوجا کرنے سے کیا فائدہ ؟ یہ تمہیں کسی طرح کا نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ تین بت بہت مشہور تھے اور کعبہ کی طرح لوگ ان کا طواف کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا۔ ” لات “ طائف میں تھا بنو ثقیف اس کے معتقد تھے۔ عزی قریش کی دیوی تھی۔ اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں تھا اور مناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان قدید کے قریب مثلل کے مقام پر تھا۔ خزاعہ اوس اور خرزج اس کے معتقد تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور تیسرے ایک اور منات کے حال پر غور کیا ہے۔ یعنی جب نبی کریم ﷺ کی وحی اور آپ کا جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھنا تم کو معلوم ہوگیا اور تم کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کی توحید کا حال معلوم ہوگیا اب بتائو کہ تم نے ان بتوں کے حال پر بھی غور کیا جن کے نام تم نے لات اور عزلی اور تیسرے ایک اور کا نام منات رکھ چھوڑا ہے ان میں کیا قدرت ہے اور ان کی کیا حقیقت ہے اور کیا یہ اس قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جائے۔ لات، عزیٰ اور منات قریش کے مشہور بت ہیں، لات کی ثقیف کے لوگ پوجا کیا کرتے تھے عزیٰ کو غطفان پوجتے تھے منات ایک پہاڑ کا ٹکڑا تھا جس کو خزاعہ پوجتے تھے حضرت حق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–22

ف 1۔ عرب میں بت تو بہت تھے مگر تخصیص ان تین کی بوجہ اشہر و اکبر ہونے کے ہے تو اوروں کی الوہیت کا بطلان بدرجہ اولی ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مناۃ کا حال بھی دیکھو جو ان میں آخری تیسری ہے 20 ؎ ان کے ان وہمی مفروضوں میں سے ایک مفروضہ ” مناۃ “ کا بھی تھا۔ مناۃ کا بھی تھا۔ مناۃ اسم غیر مشتق ہے اور مقام قدید میں قبیلہ خزاعہ کا ایک بت تھا جو عورت کی شکل پر تھا۔ (قتادہ) قبیلہ خزاعہ اور ہذیل کا ایک بت تھا جس کو مکہ والے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے۔ (ضحاک) ایک مندر یا مکان مقام شلل میں تھا جس کی پوجا بنی کعب کرتے تھے۔ (ابن زید) ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا : اسلام سے قبل انصار مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل تھا۔ بعض کا قول ہے کہ لات ‘ عزیٰ اور مناۃ تینوں بت کعبہ کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ (بغوی) اور یہ سب اقوال درست…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Refuting Idolatry The preceding verses declared the Glory of Allah, His Majesty and Dignity. They further confirmed and verified in the fullest details the Prophet-hood and messenger-ship of Muhammad ﷺ ، and the preservation of his revelation. The present two verses imply a subtle rebuke to the Makkah pagans. The purport of the verses is to say to them that without any proof, instead of adoring such a Mighty and Powerful Creator and Lord, they stoop so low as to worship gods made of wood and stone. They allege that the angels are the daughters of God. According to other narratives, they also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 That is, "You regard the teachings being givcn to you by Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) as erroneous and falsehood, whereas he is being given this knowledge by Allah, and Allah has made him see with his own eyes the verities to which he is testifying before you. Now consider it for yourself as to how irrational are the beliefs that you are following persistently and'' as to whom you arc causing loss by opposing and resisting the person who is guiding you to the Right Way. In this connection, especially the three goddesses that were worshipped generally by the people of…

Read the full tafseer →