An-Najm 53:19

An-Najm · from ayah 19

53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی ۟ۙاَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So have you considered al-Lat and al-'Uzza?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:19

اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا تم نے لات اور عزی (کی حقیقت) پر بھی غور کیا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا تم نے دیکھ ا لات اور عزیٰ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا بھلا تم نے لات و عزیٰ (دیویوں) پر بھی غور کیا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(بھلا، کبھی غور کیا ہے لات اور عزی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا تم لوگوں نے کبھی لات اور عزی کی حقیقت پر بھی کچھ غور کیا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا ! تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you ever thought about al-Lat and al-Uzza,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you ever considered about the (idols of) Lat and _Uzza,

— Muhammad Taqi Usmani

Have you ever considered about the (idols of) Lat and _Uzza,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Have ye thought upon Al-Lat and Al-'Uzza

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So have you considered al-Lat and al-'Uzza?

— Saheeh International

(Can anything as such be considered true) of al-Lat, al-Uzza,

— Muhammad Sarwar

Have you then considered the Lat and the Uzza,

— Muhammad Habib Shakir

Have ye then considered Al-Lat and AL-'uzza:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–19

سورة النَّجْم 14 یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق وسباق کی رو سے یہ دوسری ملالات (ملاقات) بھی اسی ہستی سے ہوئی تھی جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اس کی تصریح کردی جاتی حضرت موسیٰ کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

خلاصہ تفسیر (اے مشرکو بعد اس کے کہ رسول ﷺ کا ناطق بالحق و متبع للوحی ہونا ثابت ہوگیا اور آپ اس وحی سے توحید کا حکم فرماتے ہیں، جو کہ دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہے، اور تم پھر بھی بتوں کی پرستش کرتے ہو تو) بھلا تم نے (کبھی ان بتوں کے مثلاً) لات اور عزی اور ایک تیسرے منات کے حال میں غور بھی کیا ہے (تاکہ تم کو معلوم ہوتا کہ وہ قابل پرستش ہیں یا نہیں، پس کلمہ فاء سے یہ فائدہ ہوا کہ آپ کی تنبیہ کے بعد متنبہ ہونا چاہئے تھا اور توحید کے متعلق ایک اور بات قابل غور ہے کہ تم جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر معبود کہتے ہو تو) کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں (تجویز ہوں یعنی جن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–20

2۔ آگے آیات 19۔ 30 کا مضمون آگے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم کو اس اہتمام کے ساتھ روز جزاء و سزا سے جو ڈرایا جا رہا ہے تو آخر کس بل بوتے پر اس سے نچنت بیٹھے ہو ! کیا اپنی مزعومہ دیویوں، لات، عزی اور نہایت کی سفارش کے بھروسہ پر اگر اس وہم پر مبتلا ہو تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے رکھے ہوئے محض فرضی نام ہیں جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ جزاء و سزا ایک حقیقت ہے، حقیقت کا مقابلہ تم محض اٹکل پچو مفروضات سے نہیں کر سکت، تم نے جو جھوٹی آرزو میں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں یہ محض تمہاری خواہشیں ہیں، ضروری نہیں کہ یہ پوری بھی ہوجائیں۔ دنیا و آخرت کے سارے معاملات اللہ ہی کے ہی اختبار میں ہیں۔ کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18۔ 1 جن میں جبرائیل ؑ اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–19

9: یعنی نہ تو نگاہ نے دیکھنے میں کوئی دھوکا کھایا، اور نہ وہ اس حد سے آگے بڑھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمادی تھی کہ اس سے آگے نہ دیکھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

لات ایک سفید پتھر تھا جس پر نقش ونگار تھے۔ طائف میں اس کے اوپر ایک مکان اور درگاہ بنی ہوئی تھی جو طائف میں تھی اور اس کے اوپر پجاری متعین تھے۔ اس درگاہ کے اردگرد ایک بڑی چار دیواری تھی اور اہل طائف اس کا بہت احترام کرتے تھے یعنی فخر کرتے تھے ماسوائے قریش کے کہ ان کے پاس کعبہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لات کا لفظ مونث ہے اللہ کا جو اس سے پاک ہے۔ اور عزی ایک درخت تھا جس کے اوپر بھی ایک عبادت گاہ بنی ہوئی تھی اور پردے تھے اور یہ نخلہ کے مقام پر تھی جو مکہ اور طائف کے درمیان تھی۔ اس کی تعظیم قریشی بھی کرتے تھے جس طرح احد کے دن ابوسفیان نے کہا۔ لنا العزی ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

1 یعنی اس لا محدود عظمت و جلال والے خدا کے مقابلہ میں ان حقیر و ذلیل چیزوں کا نام لینے سے شرم آنی چاہیے۔ (تنبیہ) " لات " و " عزیٰ "، " منات " ان کے بتوں اور دیویوں کے نام ہیں۔ ان میں " لات " طائف والوں کے ہاں بہت معظم تھا۔ " منات " اوس و خزرج اور خزاعہ کے ہاں۔ اور " عزیٰ " کو قریش اور بنی کنانہ وغیرہ ان دونوں سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اول " عزیٰ " جو مکہ کے قریب نخلہ میں تھا۔ پھر " لات " جو طائف میں تھا۔ پھر سب سے پیچھے تیسرے درجہ میں " منات " جو مکہ سے بہت دور مدینہ کے نزدیک واقع تھا۔ علامہ یاقوت نے معجم البلدان میں یہ ترتیب نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی۔ } ”تو کیا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیا ہے ؟“ اب یہاں سے مکی سورتوں کے عمومی مضامین کا آغاز ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

11 جبرئیل (علیہ السلام) بھی اللہ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں :۔ اس آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو دیکھا تھا۔ کیونکہ اگر آپ ﷺ نے فی الواقع اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی اہم اور فضیلت والی بات تھی کہ اس کا ذکر صراحت کے ساتھ ہونا ضروری تھا کیونکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی لَنْ تَرََانِیْ کا جواب ملا تھا۔ یہ بڑی بڑی نشانیاں کیا تھیں ؟ اس کی تفصیل اللہ ہی جانتا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے (مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ ) دکھائی تھیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

15۔ (کہ وہ کوئی بھی شائبہ الوہیت کا اپنے اندر رکھتی ہیں اے مشرکو) لات۔ عزی اور منات تینوں مشرکین عرب کے مشہور بت تھے۔ (آیت) ” اللت “۔ عرب کی بہت مشہور وقدیم دیوی تھی، نباطی کتبات تک میں اس کا نام موجود ہے۔ یہ سورج دیوتا کی مظہر تھی، اور قبیلہ ثقیف کی دیوی تھی۔ DOUGHTY کی (ARABIA.DISERTA) جلد دوم میں اس کافوٹو بھی دیا ہوا ہے۔ (آیت) ’ العزی “۔ یہ قوت و طاقت کی دیوی تھی جیسے ہندوستان میں درگاہ دیوی۔ یونان ورومہ کی زہرہ دیوی کی قائم مقام، ظہور اسلام کے وقت عربوی میں اس کا سب سے زیادہ شہرہ تھا۔ اس کا بت نخلہ میں نصب تھا اور یہ دیوی قبیلہ غطفان کی تھی۔ منات۔ یہ دیوی تقدیر کی حکمران تھی، اس کا بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–20

افرایتم الات والعزی اس سے مشرکین کی تو بیخ مقصود ہے بایں طور کہ اول اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا بیان ہے کہ وہ جبرئیل جیسے عظیم فرشتے کا خالق ہے اور محمد ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں جنہیں اس نے آسمانوں پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا اور ان پر وحی بھی نازل فرماتا ہے، کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین بتوں کا بطور مثال ذکر کیا، ایک ان میں سے لات ہے، یہ لت یلت سے اسم فاعل ہے، اس کے معنی ہیں گھولنے والا، گوندھنے والا، یہ ایک نیک شخص تھا جو حج کے موسم میں حاجیوں کو ستوگھول کر پلایا کرتا تھا، جب اس کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افرء یتیم اللت والعزی . بھلا کیا تم نے لات اور عزّٰی اور مناۃ کی حالت پر بھی غور کیا۔ اَفَرَءَ یْتُمُ : استفہام انکاری تنبیہی ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ‘ کیا تم نے اپنے معبودوں کو دیکھا اور کیا لاۃ اور عزّٰی کا (غور کی نظر سے) مشاہدہ کیا۔ اَللاَّتَ وَالْعُزّٰی : یہ بتوں کے نام تھے۔ مشرک جن کی پوجا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ملائکہ کے ہیکل ہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ جنات کی عورتیں (پریاں) خدا کی بیٹیاں ہیں اور یہ بت ان کے مسکن ہیں۔ اس لیے ان بتوں کو بصیغۂ مؤنث کہتے تھے۔ اللہ کا مؤنث اللات اور اعز (صیغۂ اسم تفصیل مذکر) سے عزیٰ بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–22

(19۔ 22) بھلا اے مکہ والو تم نے لات و عزی اور تیسرے منات بت کی حالت میں بھی غور کیا ہے کہ یہ تمہارے آخرت میں کام آسکتے ہیں ہرگز نہیں قیامت کے دن یہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لات، طائف میں قبیلہ ثقیف کا بت تھا وہ اس کو پوجتے تھے اور عزی بطن نخلہ میں غطفان کا ایک درخت تھا وہ اس کی پوجا کرتے تھے اور مناۃ مکہ مکرمہ میں قبیلہ ہزیل اور خزاعہ کا بت تھا وہ اللہ کے علاوہ اس کو پوجا کرتے تھے۔ مکہ والو تم اپنے لیے بیٹے تجویز کرو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز ہوں حالانکہ تم بیٹیوں کو برا سمجھتے ہو اور اپنے لیے ان کا ہونا ناگوار نہیں کرتے یہ تو بہت ہی جاہلانہ نازیبا تقسیم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

(افرء یتم اللت والعزی …: گزشتہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی صراط مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہی کے پاس نزول اور رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب آکر وحی پہنچانے کا اور آپ ﷺ کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بیشمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

افرء یتم اللت والعزی۔ ومنوۃ الثالثہ الاخری۔ جب نبی کریم ﷺ کی طرف کی جانے الی وحی کا ذکر کیا اور اپنی قدرت کے آثار کا ذکر کیا تو مشرکین سے دلیل کے ساتھ گفتگو کی کیونکہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے تھے جو عقل نہیں رکھتی تھی فرمایا، بتائو تو سہی یہ بت جن کی تم عبادت کرتے ہو اس کے بارے میں تمہاری طرف کوئی وحی کی گئی ہے جس طرح حضرت حمد ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ لات بنوثقیف کا بت تھا، عزی قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا، منات بنو ہلال کا بت تھا، ہشام نے کہا : منات ہذیل اور خزاعہ کا بت تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو بھیجا تو انہوں نے فتح مکہ کے سال اسے گرا دیا۔ پھر انہوں نے طائف میں لات کا بت بنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–21

1:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوتلتا تھا عبید بن حمید (رح) نے الفاظ اس طرح ہیں کہ وہ ستوتلتا تھا اور حاجی لوگ اسے پانی پلاتے تھے۔ 2:۔ النسائی وابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو خالد بن ولید کو نخلہ کی طرف بھیجا وہاں عزی (بت) تھا خالد وہاں آئے تو وہ تین ببول کے درخت تھے انہوں نے درخت کو کاٹا اور اس مکان کو گرادیا جس پر وہ تھا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی آپ نے فرمایا واپس جاؤ تو نے کچھ نہیں کیا خالد واپس آئے جب وہاں کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَرَءَيْتُمُ [ تو کیا تم لوگوں نے (کبھی ) غور کیا ] اللّٰتَ وَالْعُزّٰى [ لات اور عزی پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–20

مشرکین عرب کی بت پرستی، لات، عزیٰ اور منات کی عبادت اور ان کے توڑ پھوڑ کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب مشرک تھے اور اہل مکہ بھی شرک اختیار کیے ہوئے تھے حالانکہ یہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی اولاد تھے جنہوں نے توحید کی دعوت دی اور مکہ معظمہ میں کعبہ شریف بنایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی ﴿ وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ0035﴾ (اے رب مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچانا) ان کی اولاد میں ایک عرصہ تک موحدین مخلصین کا وجود رہا پھر شدہ شدہ عرب کے دیگر قبائل سے متاثر ہو کر اہل مکہ مشرک ہوگئے، اہل عرب نے بہت سے بتوں کو معبود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

9:۔ ” افرایتم “ تمہید کے بعد سورت کے پہلے دعوے کا ذکر ہے یعنی حاجات و مصائب میں ان خود ساختہ معبودوں کو غائبانہ مت پکارو۔ جب ثابت ہوگیا کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے تو اس وحی ربانی کو مانو جو یہ کہتی ہے کہ مصائب و حاجات میں معبودانِ باطلہ کو مت پکارو۔ اللات، اس میں دو قراءتیں ہیں۔ اول بتخفیف تاء۔ دوم، بتشدید تاء، پہلی صورت میں یہ ” لوی “ سے مشتق ہے جس کے معنی لپٹنے اور گھومنے کے ہیں۔ مشرکین اس بات کے پاس عبادت کے لیے اعتکاف کرتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے وہ اس نام سے موسم کیا گیا۔ والاصل لویۃ بزنۃ فعلۃ من لوی لانھم کانوا یلوون علیہ و یعتکفون للعبادۃ، او یلتون علیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى۝ 19 ۙ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی۔ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی۔ (النجم : 19، 20) (کیا تم نے غور کیا ہے لات اور عزیٰ ۔ اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے۔ ) قریش کو ملامت اس آیت کریمہ کے اندر سوال میں تعجب کا پہلو بھی ہے اور استخفاف اور تحقیر کا بھی۔ تعجب اس بات پر کہ جس ذات عزیز نے تمہارے اندر نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ذات تمہارے لیے اجنبی نہیں۔ تم اس کی زندگی کے ہر دور سے پوری طرح آگاہ ہو۔ اس کا حُسنِ کردار اور اصابتِ رائے ہمیشہ تمہاری نظروں میں قابل اعتماد رہی ہے اور تم نے ہمیشہ اسے عزت و احترام سے یاد کیا ہے۔ اور پھر زندگی کے جن حقائق کی تمہیں وہ دعوت دے رہا ہے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–22

فہم القرآن ربط کلام : رب کبریا کو چھوڑ کر لات عزّٰی اور منات وغیرہ کی عبادت کرنے والوں کی مذمت۔ اللہ تعالیٰ نے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ نہ بہکے ہیں اور نہ ہی صحیح عقیدہ اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہیں۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اللہ کی وحی کے مطابق ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ پر وحی لانے والا جبریل امین بڑا طاقتور، نہایت سمجھدار، باصلاحیت اور بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ نے اسے اس کی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دو کمانوں سے بھی قریب تردیکھا۔ نہ آپ ﷺ کی آنکھ چندھائی اور نہ ہی آپ نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی نشانیوں کو براہ راست…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 19–20

جاہلیت کے بت : آیت 19: اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى (20) وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (بھلا کیا تم نے لات و عزی ایک اور منات کی حالت پر غور بھی کیا) یعنی تم بتلاؤ ان چیزوں کے متعلق جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے ہو۔ کیا ان میں وہ قدرت و عظمت پائی جاتی ہے جو رب العزت کی صفات میں سے ہے ؟ اللات، العزی، مناۃ، یہ تینوں بتوں کے نام ہیں یہ تینوں مونث ہیں، لات یہ ثقیف کا بت تھا جس کو اہل طائف پوجتے تھے۔ ایک قول یہ ہے : یہ مقام نخلہ میں تھا اس کی پوجا قریش کرتے تھے، لات یہ لوی سے فعلۃ کا وزن ہے، لات کہنے کی وجہ سے یہ ہے لوی یلوی وہ اس کی طرف مڑتے اور متوجہ ہوتے اور عبادت کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

من آیات ربہ الکبریٰ کی تفسیر 18 ۔” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ یعنی بڑی آیات۔ اور کہا گیا ہے کہ جو اس رات آپ (علیہ السلام) نے اپنے سفر اور واپسی پر جو کچھ دیکھا وہ مراد ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” لنریہ من آیاتنا “ ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب کی آیات میں سے بڑی آیت کو دیکھا۔ زر بن حبیش نے حضرت عبداللہ ؓ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا ” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی صورت میں دیکھا۔ ان کے چھ سو 600 پر تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے علقمہ نے روایت کی ہے کہ ” لقد رای من آیات ربہ الکبریٰ “ فرمایا۔ آپ (علیہ السلام) نے سبز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–20

اللہ تبارک وتعالی نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے تھے نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت جو اوصاف کمال سے محروم ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباؤ اجداد نے گھڑ لیا ہے انہوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے جن کی وہ مستحق نہ تھیں پس انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔ جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انہوں نے ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 21] مشرکین کی تحقیر و ملامت ان کے شرک پر : سو ارشاد فرمایا گیا اور مشرکین سے تحقیر آمیز خطاب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی لات کو بھی دیکھا ؟ یعنی اس کی حقیقت کے بارے میں بھی کبھی غور کیا ؟ کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر اپنا معبود اور حاجت روا بنا رکھا ہے، آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ؟ اور تمہاری مت کہاں اور کیسے مار دی گئی ؟ اور تم کیوں اور کیسے مرتد ہوگئے ؟ جل وعلا العیاذ باللّٰہ۔ یہ بت طائف میں تھا جس کی بنو ثقیف پوجا کیا کرتے تھے یہ دراصل ایک نیک شخص تھا، جو حاجی صاحبان کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا، پھر جب یہ مرگیا تو کچھ لوگ اس کی قبر پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–26

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–20

ف 10 یعنی ان کی پوجا کرنے سے کیا فائدہ ؟ یہ تمہیں کسی طرح کا نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ تین بت بہت مشہور تھے اور کعبہ کی طرح لوگ ان کا طواف کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر فرمایا۔ ” لات “ طائف میں تھا بنو ثقیف اس کے معتقد تھے۔ عزی قریش کی دیوی تھی۔ اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں تھا اور مناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان قدید کے قریب مثلل کے مقام پر تھا۔ خزاعہ اوس اور خرزج اس کے معتقد تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:19) افرایتم۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ افرایتم میں استفہام انکاری ہے اور ثبنیہی ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ۔ کیا تم نے اپنے معبودوں کو دیکھا اور کیا لات اور عزی اور تیسری ایک اور دیوی منات کا غور سے مشاہدہ کیا۔ (بھلا اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اس کی زمین و آسمان میں سلطنت وسطوت کے سامنے ان حقیر و ذلیل بتوں کی بھی کوئی حیثیت ہے۔ لات، عزی، منات کے متعلق صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ لات ، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ ثقیف کا بت تھا۔ جس کا استھان طائف میں تھا۔ بنو ثقیف اس کے بڑے معتقد تھے۔ جب ابراہہ کا لشکر کعبے کو گرانے کے قصد سے مکہ جاتے ہوئے طائف سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم بھی ذرا الات و عزیٰ کا حال سنائو کہ وہ کیا ہیں ؟ 19 ؎ (اللات) کیا ہے ؟ دور جاہلیت میں قبیلہ ثقیف یا بنی معتب (بقول ابن اسحق) کا ایک چوگوشہ پتھر طائف میں تھا جو معبود سمجھا جاتا تھا اور ایک مندر بھی اس کے نام کا بنا دیا گیا تھا۔ قریش اور دوسرے قبائل عرب اس کی پوجا کرتے تھے۔ وجہ تسمیہ کے متعلق ابن عربی نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ایک عجیب روایت بیان کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زشتہ زمانہ میں ایک آدمی قبیلہ ثقیف کے محلہ میں کسی پتھر پر بیٹھ کر حاجیوں کے ہاتھوں گھی بیچتا تھا اور حاجی ستوئوں میں گھی ملا کر کھاتے تھے۔ (لغت میں لت کے معنی ہیں ملانا یا آمیز کرنا لت سے لات اسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

Refuting Idolatry The preceding verses declared the Glory of Allah, His Majesty and Dignity. They further confirmed and verified in the fullest details the Prophet-hood and messenger-ship of Muhammad ﷺ ، and the preservation of his revelation. The present two verses imply a subtle rebuke to the Makkah pagans. The purport of the verses is to say to them that without any proof, instead of adoring such a Mighty and Powerful Creator and Lord, they stoop so low as to worship gods made of wood and stone. They allege that the angels are the daughters of God. According to other narratives, they also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

14 This verse clearly starts that the Holy Prophet had not seen AIIah but His wonderful Sings. Even according to the context, this second meeting also took place with the same being with whom the first meeting had taken place. Therefore, one will have to admit that neither the one whom he had first seen on the uppermost horizon was Allah nor he whom he saw afterwards by the farthest lote-tree was AIIah. Had he seen Allah Almighty on either occasion it would have been a great thing and must certainly have been mentioned here explicitly. About the Prophet Moses it has been said in the Qur'an…

Read the full tafseer →