An-Najm 53:18

An-Najm · from ayah 18

53:18

لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰی ۟لَقَدۡ رَاٰى مِنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِ الۡكُبۡرٰى

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

He certainly saw of the greatest signs of his Lord.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:18

اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بہت کچھ دیکھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ اس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کے مشاہدے کیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ آپ ﷺ نے دیکھا اپنے رب کی بڑی نشانیوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے اپنے رب کی قدرت کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and he certainly saw some of the greatest Signs of His Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has indeed seen a part of the biggest signs of your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

He has indeed seen a part of the biggest signs of your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed he saw of the greatest Ssgns of his Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily he saw one of the greater revelations of his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He certainly saw of the greatest signs of his Lord.

— Saheeh International

He certainly saw the greatest (signs) of the existence of his Lord.

— Muhammad Sarwar

Certainly he saw of the greatest signs of his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly he beheld of the sign of his Lord, the greatest.

— Abdul Majid Daryabadi

For truly did he see, of the Signs of his Lord, the Greatest!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 18–19

سورة النَّجْم 14 یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق وسباق کی رو سے یہ دوسری ملالات (ملاقات) بھی اسی ہستی سے ہوئی تھی جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اس کی تصریح کردی جاتی حضرت موسیٰ کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری بات یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ سورة نجم کی ابتدائی آیات میں کم از کم آیت وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى سے لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى تک سب آیتیں واقعہ معراج کے متعلق ہیں۔ امور مذکورہ کے پیش نظر استاذ محترم حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے سورة نجم کی ابتدائی آیات کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے کہ قرآن کریم نے اپنے عام اسلوب کے مطابق سورة نجم کی ابتدائی آیتوں میں دو واقعات کا ذکر فرمایا ہے کہ واقعہ جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں اس وقت دیکھنے کا ہے جب کہ آپ فترت وحی کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں کسی جگہ جا رہے تھے اور یہ واقعہ اسراء و معراج سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لقد رای من آیت ربہ الکبری) (18) (اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ)۔ یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر نبی ﷺ کو ہوئے۔ فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی بعض بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہو سکتے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں تاہم لفظ کبری دلیل ہے کہ یہ نشانیاں ان نشانیوں سے بالا تر تھیں جن کا مشاہدہ، آفاق وانفس ہیں، ہر قدم پر، ہر صاحب نظر کو ہوتا رہتا ہے۔ مفسرین نے ان سے وہ مشاہدہ مراد لیے ہیں جو حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر ہوئے۔ ان کی اس رائے کے حق میں یہ قرینہ موجود ہے کہ سورة اسراء میں ذکر ہے کہ اس موقع پر آپ نے اپنے رب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 18–19

18۔ 1 جن میں جبرائیل ؑ اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–19

9: یعنی نہ تو نگاہ نے دیکھنے میں کوئی دھوکا کھایا، اور نہ وہ اس حد سے آگے بڑھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمادی تھی کہ اس سے آگے نہ دیکھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

اور یہ مشاہدایت بھی حق اور یقینی ہے۔ مازاغ ............35 : 71) ” نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوزہوئی “ یہ نہ تھا کہ نظر چکا چوند ہوگئی اور وہ اچھی طرح نہ دیکھ سکی۔ نہ یہ ہوا کہ نظر آگے بڑھ گئی اور ہدف کو دیکھ نہ سکی بلکہ یہ مشاہدات واضح ، صاف اور ایک حقیقت اور ٹھوس شکل میں تھے جن میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور ان مشاہدات میں صرف یہ باتیں نہ تھیں جو بتائی گئی ہیں بلکہ آپ کو اپنے رب کی بہت عظیم عظیم دوسری نشانیاں بھی بتائی گئیں اور اس کائنات کی حقیقت آپ کو بالکل کھول کر براہ راست دکھائی گئی۔ لہٰذا حضور ﷺ کے وحی وصول کرنے کا معاملہ ایک مشاہدہ ہے۔ حقیقی طور پر آپ نے عالم بالا کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 " اِذْیَغْشَی السِّدْرَۃً " کے فائدہ میں جو بیان ہوچکا ہے اس کے علاوہ جو نمونے دیکھے ہوں گے وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اکنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرد

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی۔ } ”انہوں نے اپنے رب کی عظیم ترین آیات کو دیکھا۔“ معراج کے موقع پر حضور ﷺ کے مشاہدے سے متعلق صحابہ کرام میں بھی دو آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ صحابہ رض کا خیال ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا ‘ جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ کو نہیں دیکھا بلکہ انوارِالٰہیہ کا مشاہدہ کیا۔ حضرت عائشہ رض اور حضرت عبداللہ بن مسعود رض اس بات کے قائل تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ رض تو یہاں تک فرمایا کرتی تھیں کہ ”جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے“۔ صحیح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

11 جبرئیل (علیہ السلام) بھی اللہ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں :۔ اس آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو دیکھا تھا۔ کیونکہ اگر آپ ﷺ نے فی الواقع اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی اہم اور فضیلت والی بات تھی کہ اس کا ذکر صراحت کے ساتھ ہونا ضروری تھا کیونکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی لَنْ تَرََانِیْ کا جواب ملا تھا۔ یہ بڑی بڑی نشانیاں کیا تھیں ؟ اس کی تفصیل اللہ ہی جانتا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے (مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ ) دکھائی تھیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

15۔ (کہ وہ کوئی بھی شائبہ الوہیت کا اپنے اندر رکھتی ہیں اے مشرکو) لات۔ عزی اور منات تینوں مشرکین عرب کے مشہور بت تھے۔ (آیت) ” اللت “۔ عرب کی بہت مشہور وقدیم دیوی تھی، نباطی کتبات تک میں اس کا نام موجود ہے۔ یہ سورج دیوتا کی مظہر تھی، اور قبیلہ ثقیف کی دیوی تھی۔ DOUGHTY کی (ARABIA.DISERTA) جلد دوم میں اس کافوٹو بھی دیا ہوا ہے۔ (آیت) ’ العزی “۔ یہ قوت و طاقت کی دیوی تھی جیسے ہندوستان میں درگاہ دیوی۔ یونان ورومہ کی زہرہ دیوی کی قائم مقام، ظہور اسلام کے وقت عربوی میں اس کا سب سے زیادہ شہرہ تھا۔ اس کا بت نخلہ میں نصب تھا اور یہ دیوی قبیلہ غطفان کی تھی۔ منات۔ یہ دیوی تقدیر کی حکمران تھی، اس کا بت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–18

اذ یغشی السدرۃ مایغشی یہ سدرۃ المنتھی کی اس کیفیت کا بیان ہے کہ جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ فرمایا تھا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی درخت تھا (ابن کثیر) اسی جگہ آپ ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور ان مسلمانوں کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوں گا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد رای من ایت ربہ الکبری . انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔ آیات کبریٰ سے مراد ہیں۔ عجائب ملکوتی جن کی سیر رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں دوران آمدورفت کی تھی۔ براق ‘ آسمان ‘ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ سدرۃ المنتہیٰ سب کا شمار عجائب ملکوت میں ہے۔ مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت : لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا کہ ان کے چھ سو پنکھ تھے۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت : لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–18

(15۔ 18) یہ ایسا مقام ہے جہاں تک ہر مقرب فرشتہ اور نبی منتہی ہوجاتا ہے یا یہ کہ ہر ایک مقرب فرشتہ اور نبی مرسل اور عالم راسخ کا علم اس مقام پر پہنچ کر منتہی ہوجاتا ہے اس سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہے جہاں شہداء کی روحیں ٹھہرتی ہیں جب اس سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں یعنی سونے کے پروانے یا یہ کہ نور اور کہا گیا ہے کہ وہ لپٹنے والے فرشتے تھے۔ اور رسول اکرم کی نگاہ ان چیزوں کے دیکھنے سے دائیں بائیں نہ ہٹی اور جبریل امین کو جو اس وقت ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا تو نہ اس سے آپ کی نگاہ آگے بڑھی۔ اور اس وقت رسول اکرم نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لقد رای من ایت ربہ الکبری :”من“ تبعیض کے لئے ہے، یعنی قسم ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ان بہت بڑی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی تو جبریل ؑ ہیں، جنہیں دو دفعہ دیکھنے کے ذکر کے لئے یہ آیات نازل ہوئیں، اس کے علاوہ احادیث معراج میں اور بہت سی نشانیوں کا ذکر ہے جنہیں آپ ﷺ نے اس موقع پر دیکھا۔ ان میں براق، ساتوں آسمانوں کے عجائبات اور ان پر انبیائے کرام کی ملاقات، دجال، سدرۃ المنتہی، جنت و جہنم، جہنم کا خازن مالک، نہر کوثر، بیت المور ، چار دریا، وہ (مستوی) بلند ہموار جگہ جس پر چڑھے تو قلموں کے چلنے کی آواز سنیں اور دوسری نشانیاں شامل ہیں، اختصار کے پیش نظر ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لقد رای من ایت ربہ الکبری۔ حضرت ابن عباس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے رفرف دیکھا جس نے افق کو بند کردیا تھا (2) بیہقی نے حضرت عبداللہ سے روایت نقل کی ہے حضرت عبداللہ نے کہا : آپ ﷺ نے سبز رفرف دیکھا جس نے آسمان کے افق کو بند کردیا تھا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل امین کو سبز رفرف کے حلہ میں دیھکا جنہوں نے آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیا تھا۔ بیہقی نے کہا، اس کا حدیث میں قول رای رفرفا اس سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جو رفرف میں اپنی صورت میں تھے۔ رفرف سے مراد قالین ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے، مراد ستر ہے۔ یہ بھی کہا اجتا ہے، بلکہ وہ ایک کپڑا تھا جو ان کا لباس تھا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–18

79:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ بیری کی ٹہنیاں موتی اور یاقوت کی ہیں محمد ﷺ نے اپنے دل سے اسے اور اپنے رب کو دیکھا ہے۔ 80:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' سے مراد ہیں فرشتے (کہ فرشتوں نے اس بیری کو ڈھانک لیا تھا) 81:۔ عبد بن حمید (رح) نے سلمہ بن وھرام (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتوں نے رب تبارک وتعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ رَاٰى [ بیشک اس نے دیکھا ہے ] مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ [ اپنے رب کی نشانیوں میں سے ] الْكُبْرٰى [ زیادہ بڑی کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى 0018﴾ (رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی آیات کو دیکھا) ، آیت کبریٰ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1 میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس سے جبرائیل (علیہ السلام) کا دیکھنا مراد ہے۔ ان کو وہاں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔ (جیسا کہ زمین والی رویت میں بھی یہی بات دیکھی تھی) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:َ ” لقد رای۔ الایۃ “ اس کے علاوہ بھی آپ نے بہت سے قدرت کے بڑے بڑے اور عظیم الشان نشانات کا مشاہدہ کیا۔ ان تمام باتوں سے معلوم ہوا کہ آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں، کیونکہ یہ مشاہدات صرف ایک پیغمبر ہی کو نصیب ہوسکتے ہیں اور غیر پیغمبر تو ان کی تاب ہی نہیں لاسکتا اور جبریل امین آپ پر اللہ کی طرف سے وحی لاتے ہیں، اس لیے آپ کی رسالت پر ایمان لاؤ اور اللہ کی وحی کو مانو اور اس پر عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–18

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّہِ الْكُبْرٰى۝ 18 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْـکُبْرٰی۔ (النجم : 18) (اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ) آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کی حقیقت گزشتہ آیات میں آپ نے جو حیران کن مشاہدات کیے ان میں خاص طور پر ایک ایسے وجود کا افقِ اعلیٰ پر نمودار ہونا اور پھر انتہائی قریب آجانا اور آپ پر وحی کا اتارنا، اس سے کسی کو غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ نہ جانے اس سے کیا مراد ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ نے ایسے تمام واہموں کو ختم کرکے رکھ دیا اور حتمی انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ عالم ناسوت کی انتہا اور عالم لاہوت کی ابتداء کے نقطہ اتصال پر آپ نے جسے دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں معراج کے واقعہ کا ذکر جاری ہے۔ نبی معظم ﷺ نے جبریل امین، سدرۃ المنتہیٰ اور اپنے رب کی قدرت کی عظیم ترین نشانیوں کو براہ راست دیکھا۔ لیکن آپ ﷺ کی آنکھ نہ جھپکی اور نہ ہی آپ کی نظر ادھر ادھر اٹھی بلکہ آپ پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے رب کی قدرت کی عظیم نشانیوں کو دیکھتے رہے جن کے بارے میں آیت گیارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق کی۔ اب ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ ادھرا دھر اٹھی۔ گویا کہ آپ نے پوری یکسوئی، کامل توجہ، بھرپور اعتماد اور پورے وقار کے ساتھ شہنشاہ عالم کی عظیم قدرت کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18: لَقَدْ رَاٰى (انہوں نے دیکھے) اللہ تعالیٰ کی قسم آپ نے دیکھے۔ مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى (اپنے پروردگار کے بڑے بڑے عجائبات) یعنی جب آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا تو آپ نے عالم ملکوت کے عجائبات دیکھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” مازاغ البصر وما طغیٰ “ یعنی نبی کریم ﷺ کی نگاہ دائیں بائیں مائل نہیں ہوئیں۔ ” وماطغیٰ “ یعنی جو دیکھا اس سے تجاوز نہیں کیا اور کہا گیا ہے کہ جس کا حکم دیا گیا اس سے تجاوز نہیں کیا اور یہ اس مقام پر آپ (علیہ السلام) کے ادب کا بیان ہے کہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) انہوں نے اپنے رب کی کچھ بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں یعنی جنت، جہنم اور دیگر آیات الٰہی جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ کیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

[ 20] اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر وبیان : سو اس سے آنحضرت ﷺ کے اس موقع پر اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ جیسے سدرۃ المنتھی، بیت المعمور، جنت و دوزخ، اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا، وغیرہ وغیرہ، سو یہیں سے امام فخر الدین رازی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ نے اللہ پاک کو نہیں دیکھا، بلکہ آپ ﷺ کی کچھ آیات کبریٰ ہی کو دیکھا، کیونکہ اگر روئیت باری ہوتی، تو اس کا ضرور ذکر فرمایا جاتا کہ سب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–18

ثابت قدمی اور کامل اطاعت تشریح : ابن زید فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ ﷺ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ہر پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ ﷺ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں۔ جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے آپ ﷺ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ ایک اور جگہ فرمایا اس لیے کہ ہم نے تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیات کو دلیل بنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–18

ف 9 نشانیوں سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جو آنحضرت نے معراج کی رات کو دیکھیں جیسے جنت و دوزخ سدرۃ المنتہی اور حضرت جبریل کی اصلی شکل وغیرہ۔ متعدد صحابہ نے تصریح کی ہے کہ یہاں رویت سے مراد جبرئیل کی رئویت سے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ چناچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ” تم سے جو شخص یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے۔ “ حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ آنحضرت سے اپنے رب کو دل سے دیکھا تھا۔ کذا روی عن ابن عباس (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:18) لقد رای : لام تاکید کے لئے ہے قد ماضی سے قبل تحقیق کا معنی دیتا ہے ۔ یقینا انہوں نے دیکھیں۔ من تبعیضیہ ہے۔ ایت ربہ الکبری : ایت مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف۔ الکبری۔ کبر سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ، یہ سارا جملہ رای کا مفعول ہے۔ آیت کا ترجمہ :۔ یقینا انہوں نے اپنے رب کی (قدرت کی کتنی ہی) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ آیت کبریٰ سے مراد عالم ملکوت کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جن کا مشاہدہ حضور ﷺ نے سفر معراج پر جاتے ہوئے اور واپسی کے دوران میں کیا جیسے براق ، سموت، انبیاء ، فرشتے، سدرۃ المنتہیٰ ، جنت الماوی وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔ (ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) بلا شبہ انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات ملاحظہ فرمائے - عرش کرسی، رفرف اور ملاء اعلیٰ کے تمام فرشتے اور جو باتیں معراج کے بیان میں ذکر کی جاتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس نے اپنے حبیب اور اپنے معزز مہمان کو کیا کیا دکھایا اور کہاں کہاں کی سیرکرائی۔ اس مختصر میں اول تو ان سب باتوں کی گنجائش نہیں، نیز راز کی باتیں راز ہی میں رہیں تو اچھی ہیں جو باتیں حد ادراک سے آگے ہوں اور جہاں عقل وخرد تھک کر گرجائے ان کا بیان ہو بھی کب سکتا ہے او وہ کسی کی سمجھ میں بھی کیا آسکتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوسری بار جبرئیل کو اپنی صورت پر دیکھا معراج کی رات میں سات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یقینا آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں 18 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اس رات میں آپ ﷺ کا سفر مکہ سے شروع اور پلک زون سے پہلے مسجد اقصیٰ میں تھے۔ آپ ﷺ کا یہ سفر براق پر تھا۔ بیت المقدس سے آپ ﷺ آسمان اول ‘ دوم ‘ سوم ‘ چہارم ‘ پنجم ‘ ششم اور ہفتم پر پہنچے۔ یہ سفر جبریل علہم السلام کی معیت میں کیا گیا۔ آسمان اول سے ہفتم تک ہر آسمان پر قدم رکھنے سے پہلے پوچھا گیا کہ کون ؟ پوچھنے والوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لے کر بتایا گیا۔ کیا آپ ﷺ بلائے گئے ؟ اس کی تصدیق ہر بار کی گئی کہ ہاں ! بلائے گئے ہیں۔ آسمانوں پر گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں سے بعض سے آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَقَدْ رَ‌آهُ نَزْلَةً أُخْرَ‌ىٰ 'And indeed he saw him another time' is explicit on the point. This verse too has two possible interpretations: [ 1] he saw Jibra'il (علیہ السلام) ; and [ 2] he saw Allah. That he saw Jibra'il (علیہ السلام) is perfectly obvious to any scholar. But there may be a hint to the fact that he saw Allah also, because seeing requires proximity and closeness to Allah, and the verse 14 عِندَ سِدْرَ‌ةِ الْمُنتَهَىٰ 'by sidrat-ul-muntaha (the lote-tree in the upper realm) indicates this closeness, meaning when the Holy Prophet ﷺ was near sidrat-ul-muntaha and had…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

14 This verse clearly starts that the Holy Prophet had not seen AIIah but His wonderful Sings. Even according to the context, this second meeting also took place with the same being with whom the first meeting had taken place. Therefore, one will have to admit that neither the one whom he had first seen on the uppermost horizon was Allah nor he whom he saw afterwards by the farthest lote-tree was AIIah. Had he seen Allah Almighty on either occasion it would have been a great thing and must certainly have been mentioned here explicitly. About the Prophet Moses it has been said in the Qur'an…

Read the full tafseer →