Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 13
یعنی ایک طرف رسول اللہ ﷺ کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ کی نگاہ میں کوئی چکا چوند پیدا نہ ہوئی اور آپ پورے سکون کے ساتھ ان کو دیکھتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے ضبط اور یکسوئی کا کمال یہ تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ نے ایک تماشائی کی طرح ہر طرف نگاہیں دوڑانی نہ شروع کردیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو ایک عظیم و جلیل بادشاہ کے دربار میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور وہاں وہ کچھ شان و شوکت اس کے سامنے آتی ہے جو اس کی چشم تصور نے بھی نہ دیکھی تھی۔ اب اگر وہ شخص کم ظرف ہو تو وہاں پہنچ کر بھونچکا رہ جائے گا، اور اگر آداب حضوری سے ناآشنا ہو تو مقام شاہی سے…
Read the full tafseer →مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى، زاغ، زیغ سے مشتق ہے، جس کے معنی ٹیڑھا یا بےراہ ہوجانا اور طغیٰ طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی حد سے تجاوز کر جانے کے ہیں، مراد ان دونوں لفظوں سے یہ بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا اس میں نظر نے کوئی خطا یا غلطی نہیں کی، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ بعض اوقات انسان کی نظر بھی خطا کر جاتی ہے، خصوصاً جبکہ وہ کوئی عجیب غیر معمولی واقعہ دیکھ رہا ہو اس شبہ کے جواب میں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے کیونکہ نظر کی غلطی دو وجہ سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ جس چیز کو دیکھنا چاہتا تھا نظر اس سے ہٹ کر دوسری طرف چلی گئی، لفظ ما زاغ سے اس قسم کی غلطی کی نفی کی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →(ما زاغ البصر وما طغی) (17)
(تجلیات کے ہجوم میں پیغمبر ﷺ کا قرار و سکون)۔ جس طرح اوپر ارشاد ہوا ہے (ما کذب الفواد ما رای) (11) (جو کچھ اس نے دیکھا وہ دل کی خیال آرائی نہیں تھی) اسی طرح یہاں فرمایا کہ اس مشاہدے کے موقع پر بھی نہ تو لگاہ بہکی اور نہ بےقابو ہوئی، بلکہ پیغمبر ﷺ نے جو کچھ مشاہدہ کیا پورے قرار و سکون اور پوری دلجمعی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ زیغ کے معنی کج ہونے کے ہیں یعنی نبی ﷺ کی نگاہ کسی جلوے کے مشاہدے میں اس کے صحیح زاویے سے کج نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اس کے بالکل صحیح زاویے سے کیا۔ طغی کے معنی بےقابو ہونے کے ہیں۔ یعنی اگرچہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اس کی…
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کردی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
9: یعنی نہ تو نگاہ نے دیکھنے میں کوئی دھوکا کھایا، اور نہ وہ اس حد سے آگے بڑھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمادی تھی کہ اس سے آگے نہ دیکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اور یہ مشاہدایت بھی حق اور یقینی ہے۔
مازاغ ............35 : 71) ” نگاہ نہ چندھائی نہ حد سے متجاوزہوئی “ یہ نہ تھا کہ نظر چکا چوند ہوگئی اور وہ اچھی طرح نہ دیکھ سکی۔ نہ یہ ہوا کہ نظر آگے بڑھ گئی اور ہدف کو دیکھ نہ سکی بلکہ یہ مشاہدات واضح ، صاف اور ایک حقیقت اور ٹھوس شکل میں تھے جن میں کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں تھی اور ان مشاہدات میں صرف یہ باتیں نہ تھیں جو بتائی گئی ہیں بلکہ آپ کو اپنے رب کی بہت عظیم عظیم دوسری نشانیاں بھی بتائی گئیں اور اس کائنات کی حقیقت آپ کو بالکل کھول کر براہ راست دکھائی گئی۔
لہٰذا حضور ﷺ کے وحی وصول کرنے کا معاملہ ایک مشاہدہ ہے۔ حقیقی طور پر آپ نے عالم بالا کو…
Read the full tafseer →13 یعنی آنکھ نے جو کچھ دیکھا، پورے تمکن و اتقان سے دیکھا، نہ نگاہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر داہنے بائیں ہٹی نہ مبصر سے تجاوز کر کے آگے بڑھی، بس اسی چیز پر جمی رہی جس کا دکھلانا منظور تھا۔ بادشاہوں کے دربار میں جو چیز دکھلائی جائے اس کو نہ دیکھنا اور جو نہ دکھلائی جائے اس کو تاکنا دونوں عیب ہیں آپ ﷺ ان دونوں سے پاک تھے۔
Read the full tafseer →آیت 17{ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی۔ } ”اُس وقت محمد ﷺ کی آنکھ نہ تو کج ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی۔“
یہاں پر دونوں انتہائی کیفیات کی نفی کردی گئی۔ انسان کی فطری اور طبعی کمزوری ہے کہ اگر اسے اچانک بہت تیز روشنی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ نظروں کو اس سے پھیرنے اور ہٹانے کی کوشش کرتا ہے یا پلک جھپک لیتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں بتایا گیا کہ حضور ﷺ نے انوار و تجلیاتِ اِلٰہیہ کا کھلی آنکھوں سے براہ راست مشاہدہ کیا اور نگاہ جما کر دیکھا۔ لیکن اس مشاہدے میں حد ادب سے تجاوز بھی نہیں کیا۔
واقعہ یہ ہے کہ اس آیت کو اکثر و بیشتر لوگ سمجھ نہیں سکے۔ جبکہ میں نے اس کے مفہوم کو علامہ اقبال ؔکے اس شعر کی مدد سے…
Read the full tafseer →10 بیری کے اس درخت پر اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات پڑ کر انتہائی خوشنما منظر پیش کر رہے تھے جس سے آنکھیں چکا چوند ہوتی جاتی تھیں لیکن اتنے انوار و تجلیات کے باوجود جب آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھیں چندھیائیں اور نہ ہی نگاہ ایک طرف ہٹ کر، یعنی اس نظارہ کے مقابلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے ادھر ادھر چلی گئی۔ بلکہ آپ ﷺ نے ٹھیک طرح سے جبریل کو دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ دکھانا منظور تھا، وہی کچھ آپ ﷺ نے دیکھا تھا۔ اسی پر آپ ﷺ کی نظریں جمی رہیں ادھر ادھر نہیں گئیں۔
Read the full tafseer →14۔ ان چیزوں سے جن کی رویت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ (آیت) ” ما زاغ البصر “۔ یعنی ان چیزوں سے نہ ہٹی جن کی رویت کا حکم ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اذ یغشی السدرۃ مایغشی یہ سدرۃ المنتھی کی اس کیفیت کا بیان ہے کہ جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ فرمایا تھا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی درخت تھا (ابن کثیر) اسی جگہ آپ ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور ان مسلمانوں کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوں گا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان)
Read the full tafseer →ما زاغ البصر وما طغی . نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ بڑھی۔
مَا زَاغَ : یعنی رسول اللہ ﷺ کی نظر دائیں ‘ بائیں نہیں بھٹکی۔ نہ آپ کی نگاہ چوکی۔
وَمَا طَغٰی : اور نہ نظر محبوب سے ہٹی۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
آہ من العشق و حالاتہ
احرق قلبی بحر اراتہ
ما نظر العین الی غیرکم
اقسم باللہ وایاتہ
” آہ ! عشق اور کیفیات عشق کی گوناگوں تپش نے میرے دل کو سوختہ کردیا۔ اللہ اور کلام اللہ کی قسم میری آنکھ نے تو تمہارے سوا (کسی چیز کو) دیکھا بھی نہیں۔ “
بعض علماء نے مَا طَغٰی کا یہ مطلب بیان کیا کہ جن عجائبات قدرت کو دیکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان سے نگاہ دوسری طرف نہیں مڑی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
(15۔ 18) یہ ایسا مقام ہے جہاں تک ہر مقرب فرشتہ اور نبی منتہی ہوجاتا ہے یا یہ کہ ہر ایک مقرب فرشتہ اور نبی مرسل اور عالم راسخ کا علم اس مقام پر پہنچ کر منتہی ہوجاتا ہے اس سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہے جہاں شہداء کی روحیں ٹھہرتی ہیں جب اس سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں یعنی سونے کے پروانے یا یہ کہ نور اور کہا گیا ہے کہ وہ لپٹنے والے فرشتے تھے۔
اور رسول اکرم کی نگاہ ان چیزوں کے دیکھنے سے دائیں بائیں نہ ہٹی اور جبریل امین کو جو اس وقت ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا تو نہ اس سے آپ کی نگاہ آگے بڑھی۔
اور اس وقت رسول اکرم نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے…
Read the full tafseer →(مازاع البصر وما طغی :“”زاغ یزیغ زیغاً“ ٹیڑھا ہونا اور ”طغی یطغی طغیاناً“ حد سے بڑھنا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے کمال ادب، تجمل اور استقامت کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلم کو اور اللہ تعالیٰ کی دوسری آیات کبریٰ کو دیکھتے ہوئے آپ کی نگاہ اٹھی پر مرکوز ہی ، نہ دائیں یا بائیں طرف گئی اور نہ ان سے آگے بڑھی۔
Read the full tafseer →ما زاغ البصر وما طغی۔ حضرت ابن عباس نے کہا : آنکھ دائیں پھری نہ بائیں پھری اور نہ ہی اس حد سے تجاوز کیا جس حد کو اس نے دیکھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے جو حکم دیا گیا اس سے اس نے تجاوز نہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آنکھ نے جو آیات دیکھیں ان سے وہ غیر کی طرف نہ اٹھی۔ اس مقام پر جو نبی کریم ﷺ کا ادب ہے یہ اس کا بیان ہے کیونکہ وہ دائیں اور بائیں متوجہ نہ ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
79:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ بیری کی ٹہنیاں موتی اور یاقوت کی ہیں محمد ﷺ نے اپنے دل سے اسے اور اپنے رب کو دیکھا ہے۔
80:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' سے مراد ہیں فرشتے (کہ فرشتوں نے اس بیری کو ڈھانک لیا تھا)
81:۔ عبد بن حمید (رح) نے سلمہ بن وھرام (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتوں نے رب تبارک وتعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے…
Read the full tafseer →مَا زَاغَ الْبَصَرُ [ کج نہیں ہوئی نگاہ ] وَمَا طَغٰى [ اور نہ وہ حد سے بڑھی ]
Read the full tafseer →﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى 0017﴾ یعنی آپ نے جو دیکھا ٹھیک دیکھا، صحیح دیکھا آپ کی نظر مبارک دیکھنے کی جگہ سے دائیں یا بائیں نہیں ہٹی اور جن چیزوں کو دیکھنا تھا ان سے آگے نہ بڑھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری :
(ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
7:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ…
Read the full tafseer →مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى 17
زيغ
الزَّيْغُ : المیل عن الاستقامة، والتَّزَايُغُ : التمایل، ورجل زَائِغٌ ، وقوم زَاغَةٌ ، وزائغون، وزاغت الشمس، وزَاغَ البصر، وقال تعالی: وَإِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ، يصحّ أن يكون إشارة إلى ما يداخلهم من الخوف حتی اظلمّت أبصارهم، ويصحّ أن يكون إشارة إلى ما قال : يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، وقال : ما زاغ الْبَصَرُ وَما طَغى [ النجم/ 17] ، مِنْ بَعْدِ ما کادَ يَزِيغُ [ التوبة/ 117] ، فَلَمَّا زاغُوا أَزاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
[ الصف/ 5] ، لمّا فارقوا الاستقامة عاملهم بذلک .
( ز ی غ ) الزیغ کے معنی حالت استقامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی۔ (النجم : 17)
(نہ نگاہ کج ہوئی اور نہ حد سے متجاوز ہوئی۔ )
تجلیات کے ہجوم پر آنحضرت ﷺ کا قرار و سکون
زَاغَ کا مصدر زَیْغ ہے۔ اس کا معنی ہے کج ہونا۔ اور طَغٰی طغیان سے ہے۔ یہ حد سے متجاوز ہونے کو کہتے ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ پر بلاشبہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا جسے الفاظ بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں کوئی چکاچوند پیدا نہیں ہوئی اور آپ ﷺ پورے سکون کے ساتھ اس کو دیکھتے رہے۔ ایسے کیفیات کو دیکھتے ہوئے کہ نظر جن کو دیکھنے کی عادی نہ ہو۔ عام طور پر نگاہوں میں کجی آجاتی اور چکاچوند پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ جس میں معراج کے واقعہ کا ذکر جاری ہے۔
نبی معظم ﷺ نے جبریل امین، سدرۃ المنتہیٰ اور اپنے رب کی قدرت کی عظیم ترین نشانیوں کو براہ راست دیکھا۔ لیکن آپ ﷺ کی آنکھ نہ جھپکی اور نہ ہی آپ کی نظر ادھر ادھر اٹھی بلکہ آپ پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے رب کی قدرت کی عظیم نشانیوں کو دیکھتے رہے جن کے بارے میں آیت گیارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق کی۔ اب ارشاد ہوا ہے کہ آپ ﷺ کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ ادھرا دھر اٹھی۔ گویا کہ آپ نے پوری یکسوئی، کامل توجہ، بھرپور اعتماد اور پورے وقار کے ساتھ شہنشاہ عالم کی عظیم قدرت کو…
Read the full tafseer →کمال شان :
آیت 17: مَا زَاغَ الْبَصَرُ (نگاہ ہٹی) رسول اللہ ﷺ کے بصر مبارک ان عجائب کے دیکھنے سے جن کے دیکھنے کا حکم ہوا مڑی نہیں بلکہ ان میں مصروف و مگن رہی۔ وَمَا طَغٰى (اور نہ بڑھی) جس چیز کو دیکھنے کا حکم ہوا اسی کو دیکھا اس سے تجاوز نہیں کیا۔ (اس میں کمال شان محمد ﷺ کا تذکرہ فرمایا)
Read the full tafseer →16 ۔” اذ یغشی السدرۃ ما یغشی “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں سونے کے پتنگے اور حدیث معراج میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ پر لیجایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کا پھل مٹکوں کی طرح کے۔ فرمایا پھر جب اس کو اللہ کیا مر سے ڈھانپ لیا جس چیز نے ڈھانپا تو وہ متغیر ہوگیا تو اللہ کی مخلوق میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ اس کے حسن کو بیان کرے اور میری طرف وحی کی جو وحی کی پھر مجھ پر ہر دن ورات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔
اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو فرشتوں نے ڈھانپا کو ئوں کی طرح۔ اور سدی (رح) فرماتے ہیں پرندوں سے۔ ابوالعالیہ (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(مَا زَاغَ الْبَصَرُ ) یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کردائیں بائیں نہیں ہوئی۔ (وَمَا طَغٰى) اور نہ نگاہ نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا یہ رسول اللہ کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے جہاں اللہ نے آپ کو کھڑا کیا آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر انحراف ہی کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین وآخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ امور میں سے ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے۔ بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ اس میں کوتاہی کرے۔ اس میں افراط سے کام لے۔ اس پر قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی اکرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
[ 20] اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر وبیان :
سو اس سے آنحضرت ﷺ کے اس موقع پر اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ جیسے سدرۃ المنتھی، بیت المعمور، جنت و دوزخ، اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا، وغیرہ وغیرہ، سو یہیں سے امام فخر الدین رازی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ نے اللہ پاک کو نہیں دیکھا، بلکہ آپ ﷺ کی کچھ آیات کبریٰ ہی کو دیکھا، کیونکہ اگر روئیت باری ہوتی، تو اس کا ضرور ذکر فرمایا جاتا کہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ثابت قدمی اور کامل اطاعت
تشریح : ابن زید فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ ﷺ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ہر پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ ﷺ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں۔ جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے آپ ﷺ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ ایک اور جگہ فرمایا اس لیے کہ ہم نے تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیات کو دلیل بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔
صاحبکم۔
اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 9 نشانیوں سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جو آنحضرت نے معراج کی رات کو دیکھیں جیسے جنت و دوزخ سدرۃ المنتہی اور حضرت جبریل کی اصلی شکل وغیرہ۔ متعدد صحابہ نے تصریح کی ہے کہ یہاں رویت سے مراد جبرئیل کی رئویت سے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار۔ چناچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ” تم سے جو شخص یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے۔ “ حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ آنحضرت سے اپنے رب کو دل سے دیکھا تھا۔ کذا روی عن ابن عباس (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(53:17) ما زاغ البصر وما طغی : ما نافیہ ہے زاغ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ زیغ (باب ضرب) مصدر۔ بہکنا۔ کج ہونا۔ راہ راست سے بہک جانا۔ ان کی آنکھ (اپنے نصب العین سے نہ ہٹی) ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا (3:8) اے ہمارے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر۔ وما طغی۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے طغی ماضی واحد مذکر غائب ۔ طغیان (باب نصر، سمع) مصدر۔ اور نہ وہ حد سے نکل گئی۔ جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہک جاتی ہے۔ اسی طرح جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے۔ یہاں طغی کا استعمال اسی اعتبار سے ہے۔
علامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18
ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 18
ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔
(ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[9] یعنی اس وقت سدرہ پر انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →(17) نہ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگاہ نے کجروی کی اور نہ مقصد کی حد سے تجاوز کیا۔
مطلب یہ ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اس نے فرشتے کو اس کے اصلی روپ میں زمین پر دیکھا بلکہ اس نے ساتویں آسمان پر سورة المنتہیٰ کے قریب ہی اس فرشتے کو اس کی اصل شکل میں دیکھا۔
سیدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر ایک بیری کا درخت ہے منتہیٰ اس بنا پر کہا کہ یہ ایک مرکزی مقام ہے عرش الٰہی سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ پہلے یہیں پہنچتے ہیں اور وہاں سے ہر چیز فرشتے زمین پر لاتے ہیں۔ اسی طرح زمین والوں کے تمام اعمال پہلے وہاں پہنچتے ہیں اور وہاں سے اوپر لے جائے جاتے ہیں ہر جگہ کے فرشتے علیحدہ علیحدہ ہیں فرشتوں کی جماعتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →نہ آپ ﷺ کی نگاہ چندھیائی اور نہ ہی حد سے آگے بڑھی
17 ؎ (راغ) وہ بہکا ‘ وہ کج ہوا (زیغ) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (البصر) بصر آنکھ کو کہتے ہیں اور دیکھنے کی قوت کو بھی اور دل میں جو قوت مدرکہ ہے اس کو بصیرہ بھی کہتے ہیں اور بصر بھی (غ) اور البصیر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اشیاء کو دیکھنا ہے ‘ ظاہر کو بھی اور مخفی کو بھی اور بغیر کسی آلہ کے اور بصر اس کے حق میں وہ صفت ہے جس سے تمام اشیاء کے کمال اوصاف کا انکشاف ہوتا ہے۔ لیکن اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جن باتوں کا اس جگہ ذکر کیا جا رہا ہے وہ بصیرت ہی سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے اس جگہ…
Read the full tafseer →مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ (The eye neither went wrong, nor did exceed the limit...53:17) The verb zagha is derived from the infinitive zaigh which denotes to become crooked or go astray. Tagha is derived from tughyan which means to transgress or exceed the limit. The two expressions purport to say that in whatever the Holy Prophet ﷺ saw, his eyes did not err or slip up. This verse allays the suspicion that sometimes human sight errs or slips up, especially when some wonderful or unusually marvelous thing is seen. In response to this suspicion the Qur'an uses two expressions because…
Read the full tafseer →13 That is, "On the one hand, the Holy Messenger of Allah was so firm and steadfast that even in the Presence of the great Divine Splendor and Glory his sight was not dazzled and he went on gazing at it with great composure. On the other, he was in such complete control of himself and so exclusively attentive that he kept his mind and his sight focused upon the object for which he had been summoned, and he did not let his sight wander to any side like a spectator's to have a glimpse of the wonderful objects present there. This can be understood by the example of a person who gets an…
Read the full tafseer →