Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 12
یعنی اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ وہ ایسی تجلیات تھیں کہ نہ انسان ان کا تصور کرسکتا ہے اور نہ کوئی انسانی زبان اس کے وصف کی متحمل ہے۔
Read the full tafseer →اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى، یعنی جبکہ ڈھانپ لیا تھا سدرہ کو ڈھانپنے والی چیز نے، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ روایت ہے کہ اس وقت سدرة المنتہیٰ پر سونے کے بنے ہوئے پروانے ہر طرف گر رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روز سدرة المنتہیٰ کو خاص طور سے سجایا گیا تھا جس میں آنے والے مہمان حضرت نبی کریم ﷺ کا اعزاز تھا۔
Read the full tafseer →(اذا یغشی السدرۃ ما یغنی (16)
(مشاہدے کی کیفیت حیط بیان سے باہر ہے) یہ اس مشاہدے کی کیفیت بیان ہوئی ہے کہ سدرۃ کو چھائے ہوئے تھی۔ یہ اسلوب بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس وقت اس سدرۃ پر انوار تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →16۔ 1 سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔
Read the full tafseer →8: یہ آیت بھی ایک عربی محاورے کے مطابق ہے جس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ اس کے صحیح تأ ثر کے ساتھ بہت مشکل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اس بیر کے درخت پر چھائی ہوئی تھیں وہ بیان سے باہر ہیں، احادیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت لاتعداد فرشتے سونے کے پروانے کی شکل میں اس درخت پر آنحضرت ﷺ کی زیارت کے لئے جمع ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →اذ یغشی ........ یغشیٰ (35 : 61) ” اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھارہا تھا “ اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اور نہ تعین کیا گیا ہے کہ وہ کیا چھا رہا تھا۔ وہ اس قدر عظیم اور ہولناک چیز تھی کہ اس کا بیان مشکل ہے اور اس کا تعین کرنا مشکل۔ غرض وہ ایک عظیم حقیقت تھی۔
Read the full tafseer →12 یعنی حق تعالیٰ کے انوار و تجلیات اس درخت پر چھا رہے تھے۔ اور فرشتوں کی کثرت و ہجوم کا یہ عالم تھا کہ ہر پتے کے ساتھ ایک فرشتہ نظر آتا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ " مایَغْشٰی " سنہری پروانے تھے۔ یعنی نہایت خوش رنگ جن کے دیکھے سے دل کھنچا جائے۔ اس وقت درخت کی بہار اور رونق اور اس کا حسن و جمال ایسا تھا کہ کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ لفظوں میں بیان کرسکے۔ شاید ابن عباس وغیرہ کے قول کے موافق معراج میں جو اللہ کا دیدار حضور ﷺ کو ہوا اس کا بیان اسی آیت کے ابہام میں منطوی و مندرج ہو۔ کیونکہ پہلی آیتوں کے متعلق تو عائشہ صدیقہ کی احادیث میں تصریح ہے کہ ان سے رویت رب مراد نہیں۔ محض رویت جبرائیل مراد ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 16{ اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی۔ } ”جبکہ چھائے ہوئے تھا سدرہ پر جو چھائے ہوئے تھا۔“
یعنی تم انسانوں کو کیا بتایا جائے کہ اس بیری کے درخت کی اس وقت کیا کیفیت تھی۔ تم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے ہو۔ وہ انوار و تجلیاتِ الٰہیہ کے نزول کی ایسی کیفیت تھی جو نہ تو کسی زبان سے ادا ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے الفاظ اس کی تعبیر کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
9 سدرۃ المنتہیٰ کا محل وقوع اور اہمیت :۔ ( سِدْرَۃُ ) بمعنی بیری کا درخت جس پر بیر کا پھل لگتا ہے۔ اور منتہیٰ بمعنی انتہائی سرحد۔ یعنی انتہائی سرحد پر واقع بیری کا درخت جو ساتویں آسمان پر واقع ہے۔ جہاں عالم سفلی کے معلومات ختم ہوجاتے ہیں اور عالم علوی کے افاضات بھی وہیں سے نیچے نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے بھی اس مقام سے آگے نہیں جاسکتے۔ اسی مقام پر معراج کی رات رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جبریل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا تھا (م۔ ق) اور بمعنی عرش الٰہی کی داہنی جانب بیری کا درخت جو ملائکہ وغیرہ کی پہنچ کی آخری حد ہے (منجد) نیز وہ مقام جہاں رسول اللہ ﷺ کو فیوضات الٰہیہ اور بھاری انعامات سے نوازا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
13۔ یہ لپٹنے والی چیزیں روایات کے مطابق فرشتے تھے جو بکثرت دیوانہ وار گر رہے تھے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ انوار و تجلیات جمال مطلق تھے جو سدرہ کو لپٹے ہوئے تھے اور فرشتے انہیں پر عاشقانہ گر رہے تھے۔ غشیھا نورالرب وغشی تھا الملائکہ من حب اللہ (ابن جریر۔ عن الربیع) قد تقدم فی احدیث الاسراء انہ غشی تھا الملائکہ مثل الغربان وغشیھا نور الرب وغشیھا الوان ما ادری ماھی (ابن کثیر) مایغشی کلمہ تفخیم ہے۔ اہل عرب کمال عظمت کے اظہار کے موقع پر ایسا ہی صیغہ اجمال وابہام کا لاتے ہیں۔ تعظیم وتکبیرلما یغشھا (کشاف۔ مدارک) وفی ابھام مایغشی من التفخیم مالا یخفی (روح) (آیت) ” عندھا جنۃ الماوی “۔ پہلے فقرہ میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اذ یغشی السدرۃ مایغشی یہ سدرۃ المنتھی کی اس کیفیت کا بیان ہے کہ جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ فرمایا تھا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی درخت تھا (ابن کثیر) اسی جگہ آپ ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور ان مسلمانوں کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوں گا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان)
Read the full tafseer →اذ یغشی الدرۃ ما یغشی . جب سدرۃ المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں۔
مَا یَغْشَی : یہ اوّل یغشٰی کا فاعل ہے۔ یعنی سدرہ پر وہ چیز چھائی ہوئی تھی کہ اس کی خوبصورتی کثرت اور حقیقت نہ پانے کی وجہ سے کوئی اس کی پوری کیفیت بیان نہیں کرسکتا۔
حضرت انس کی روایت کردہ حدیث معراج میں اوپر گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب سدرۃ المنتہیٰ پر جو کچھ چھانا تھا ‘ بامر خدا چھا گیا ‘ تو اس کی حالت بدل گئی۔ جس کی وجہ سے کوئی مخلوق بھی اس کی کیفیت نہیں بیان کرسکتی۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ : مَا یَغْشٰی : (یعنی سونے کے پتنگے) ۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول نقل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
(15۔ 18) یہ ایسا مقام ہے جہاں تک ہر مقرب فرشتہ اور نبی منتہی ہوجاتا ہے یا یہ کہ ہر ایک مقرب فرشتہ اور نبی مرسل اور عالم راسخ کا علم اس مقام پر پہنچ کر منتہی ہوجاتا ہے اس سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہے جہاں شہداء کی روحیں ٹھہرتی ہیں جب اس سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں یعنی سونے کے پروانے یا یہ کہ نور اور کہا گیا ہے کہ وہ لپٹنے والے فرشتے تھے۔
اور رسول اکرم کی نگاہ ان چیزوں کے دیکھنے سے دائیں بائیں نہ ہٹی اور جبریل امین کو جو اس وقت ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا تو نہ اس سے آپ کی نگاہ آگے بڑھی۔
اور اس وقت رسول اکرم نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے…
Read the full tafseer →(اذ یغشی السدرۃ مایغشی : سدرۃ المنتہی کے مشاہدے کے وقت اس پر انوار کی بارش، فرشوتں کے ہجوم اور سا کے جلال و جمال کے منظر کی نقشہ کشی کے لئے انسان کے اسعتمال میں آنے والی زبانوں کی تنگ ودامنی کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھیے طہ : 78) حدیث میں اس کے متعلق چند اشارے آئے ہیں، ان میں سے ایک کا ذکر پچھلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ (وعشیھا الو ان لا ادری ماھی) (دیکھیے بخاری :339)”اور اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے۔“ انس ؓ نے حدیث معراج میں سدرۃ المنتہی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے یہ الفاظ بیان فرماتے : (فلما غشیھا من امر اللہ ما غشی تغیرت فما احد من خلق اللہ یستطیع ان ینع تھا…
Read the full tafseer →اذ یغشی السدرۃ مایغشی۔ کہا : یہ سونے کا ایک بستر ہے۔ کہا : رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں۔ پانچ نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات دی گئیں، حضور ﷺ کی امت میں سے جس نے شرک نہیں کیا اس کے گناہ بخش دیئے گئے۔
دوسری حدیث وہ ہے جسے قتادہ نے حضرت انس سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی تک مجھے بلند کیا گیا جس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح ہیں اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اس کی جڑ سے دو ظاہر دریا نکلتے ہیں اور دو مخفی دریا، میں نے پوچھا، اے جبرئیل ! یہ کیا ہے جواب دیا : جہاں تک پوشیدہ کا تعلق ہے وہ تو جنت میں ہوں گے جہاں تک ظاہر دریائوں کا تعلق ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
79:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ بیری کی ٹہنیاں موتی اور یاقوت کی ہیں محمد ﷺ نے اپنے دل سے اسے اور اپنے رب کو دیکھا ہے۔
80:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' سے مراد ہیں فرشتے (کہ فرشتوں نے اس بیری کو ڈھانک لیا تھا)
81:۔ عبد بن حمید (رح) نے سلمہ بن وھرام (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتوں نے رب تبارک وتعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے…
Read the full tafseer →اِذْ يَغْشَى [ جب چھاتا تھا ] السِّدْرَةَ [ اس بیری پر ] مَا يَغْشٰى [ وہ جو چھاتا تھا ]
Read the full tafseer →سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى کیا ہے ؟
سدرہ عربی میں بیری کے درخت کہتے ہیں اور المنتہیٰ کا معنی ہے انتہاء کی جگہ، عالم بالا میں جَنَّةُ الْمَاْوٰى کے قریب سدرۃ المنتہیٰ ہے یعنی بیری کا وہ درخت جس کے پاس چیزیں آکر منتہی ہوجاتی ہیں یعنی ٹھہر جاتی ہیں، زمین سے جو کچھ اعمال وغیرہ اوپر جاتے ہیں وہ پہلے وہاں ٹھہرتے ہیں پھر اوپر جاتے ہیں اور اوپر سے جو کچھ نازل ہوتا ہے پہلے وہاں ٹھہرایا جاتا ہے پھر نیچے اترتا ہے۔
(راجع تفسیر القرطبی صفحہ 94: ج 9)
حدیث شریف کی کتابوں میں معراج شریف کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے۔ اس میں سدرۃ المنتہیٰ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے صاحب معراج ﷺ کی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری :
(ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
7:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ…
Read the full tafseer →اِذْ يَغْشَى السِّدْرَۃَ مَا يَغْشٰى 16 ۙ
غشي
غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23]
( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء
اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔
سدر
السِّدْرُ : شجر قلیل الغناء عند الأكل، ولذلک قال تعالی: وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ [ سبأ/ 16] ، وقد يخضد ويستظلّ به، فجعل ذلک مثلا لظلّ الجنة ونعیمها في قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →اِذْیَغْشٰی السِّدْرَۃَ مَایَغْشٰی۔ (النجم : 16)
(اس وقت چھا رہا تھا سدرۃ پر جو کچھ بھی چھا رہا تھا۔ )
سدرۃ پر تجلیات کا ورود
نبی کریم ﷺ نے جب سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا تو اس مشاہدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس وقت سدرۃ کا حال یہ تھا کہ اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر تھی سدرۃ پر ایسی تجلیات چھا رہی تھیں کہ ہر لحظہ اس کا رنگ تبدیل ہورہا تھا۔ اور ایسے انوار برس رہے تھے کہ ہر آن اس کی کیفیت میں تبدیلی آرہی تھی۔ اور اس پر ایک ایسا حسن برس رہا تھا جس کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا لیکن کفار اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔
نبی (علیہ السلام) نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی جنت الماویٰ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ ” اَلْمُنْتَہٰی “ کا معنٰی انتہا ہے جس کا اہل علم نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی پہنچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے نیچے کی مخلوق کے لیے عالم سفلٰی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس سے اوپر کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر ” اللہ “ کی مخلوق میں سے کوئی نہیں…
Read the full tafseer →آیت 16: اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى (جب سدرۃ المنتہی کو لپیٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) یعنی اس کو دیکھا اس وقت جبکہ سدرہ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں۔ ما یغشی کہہ کر ان چیزوں کی عظمت و کثرت کو ذکر کیا۔
مسئلہ : اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جو مخلوق اس کو ڈھانپے ہوئے تھی وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے جو بیان میں آ نہیں سکتی۔
ایک قول یہ ہے : اس کو فرشتوں کی بہت بڑی جماعت گھیرنے والی تھی جو اس کے قریب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف تھے۔
ایک اور قول یہ ہے : سونے کے پروانے اس کو گھیرے میں لینے والے تھے۔
Read the full tafseer →15 ۔” عندھا جنت الماویٰ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ” جنۃ الماویٰ “ ایسی جنت ہے جس کی طرف جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتے ٹھکانہ حاصل کرتے ہیں اور مقاتل (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کی طرف شہداء کی روحیں ٹھکانہ حاصل کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ یعنی امر الٰہی سے ایک عظیم چیز نے اسے ڈھانپ رکھا تھا جس کا وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا
قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 18] سدرۃ المنتھیٰکی عظمت شان کا بیان و ذکر :
سو اس سے سدرۃ المنتھی کی عظمت شان اور مشاہدہئِ پیغمبر کی کیفیت کو بیان فرمایا گیا ہے، چناچہ پیغمبر کے مشاہدہ کے وقت کی کیفیت کے اظہار وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا کہ جب اس سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا۔ یعنی انورات و تجلیات خداوندی، اور دیگر وہ احوال و کیفیات اور مظاہرِ تزئین و تحسین جن کی تصویر و تعبیر سے الفاظ و کلمات عاجز و قاصر ہیں، ما یغشی کا ابہام اسی عظمت کو ظاہر کرتا ہے، اس لئے محض ظن وتخمین اور گمان و قیاس کی بناء پر اس کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں، بہرکیف یہ اسلوب بیان اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس وقت اس سدرہ پر انورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے
تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔
صاحبکم۔
اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 8 مراد اللہ تعالیٰ کی کی عظمت و جلال کا نور یا فرشتوں کا ہجوم یا سنہری پروانے جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(53:16) اذ یغشی السدرۃ مایغشی : اذ اسم ظرف مکان ہے یغشی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ غشی وغشیان (باب سمع) مصدر سے ہے بمعنی چھا جانا ڈھانپ لینا۔ یہاں مضارع بمعنی حکایت حال ماضی آیا ہے یعنی ایک گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کے بجائے استعمال ہوا ہے اس میں استمرار غشیان کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یعنی جس وقت کا ذکر ہے غشیان کا عمل جاری تھا۔ لہٰذا اس کا ترجمہ اکثر یہ کیا گیا ہے کہ اس وقت تجلی اسکو ڈھانپتے چلی جارہی تھی اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا (تفہیم القرآن)
جبکہ اس سدرہ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں کہ لپٹ رہی تھیں (تفسیر ماجدی) جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ (ضیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18
ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 18
ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔
(ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[9] یعنی اس وقت سدرہ پر انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا
3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔
حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(16) اس وقت اس فرشتے کو دیکھا جس وقت اس بیری کو ڈھانک رہا تھا جس نے بھی ڈھانک رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا
16 ؎ (یغش) واحد مذکر غائب مضارع معروف (غشی) غشیان مصدر۔ وہ چھائی ہوئی تھی ‘ وہ چھا رہی تھی ‘ چھا جائے گا ‘ ڈھانک لے گا۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ اس میں مانگنے اور نہ مانگنے کی حالت کو واضح کیا جا رہا ہے کہ جس نے طلب کی تھی اس نے یہ نہ سمجھا کہ میں کس چیز کی طلب کر رہا ہوں ؟ پھر ہم نے اس کو ایک تجلی کی طرف متوجہ کیا لیکن اس میں تجلی کی برداشت بھی نہ تھی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ غشی کھا کر گر گیا اور جوں ہی ہوش میں آیا تو اس کی طلب ہوا ہوچکی تھی۔ ادھر بغیر طلب کئے ایک پروگرام سپرد کرنے کے لئے خود دعوت دے کر بلایا گیا اور اس مقام تک اس…
Read the full tafseer →إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ (when the lote-tree was covered by that which covered it...53:16) Sahih of Muslim records a Tradition on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ who said: "Golden butterflies were at that time falling on sidrat-ul-muntaha from all sides, and it seemed as if it was specially decorated for that occasion in honour of the most revered guest, the Holy Prophet Muhammad ﷺ "
Read the full tafseer →12 That is, "its Splendor and Glory exceeds aII description. The Divine Glory and effulgence was such as can neither be conceived by man nor can any haman language depict it adequately.
Read the full tafseer →