An-Najm 53:15

An-Najm · from ayah 15

53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰی ۟ؕعِنۡدَهَا جَنَّةُ الۡمَاۡوٰىؕ‏

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Near it is the Garden of Refuge -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:15

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی کے پاس جنہ الماویٰ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اسی کے پاس جنت الماوی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی کے پاس جنت الْمَاْوٰى ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس کے پاس یہی جنت الماوٰی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس کے پاس جنت الماویٰ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ اس کے قریب جنت الماوی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جنت الماویٰ بھی اس کے پاس ہی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

near which is the Garden of Abode.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

near which there is Jannat-ul-Ma‘wa (the Paradise of Abode),

— Muhammad Taqi Usmani

near which there is Jannat-ul-Ma‘wa (the Paradise of Abode),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Near it is the Paradise of Abode.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nigh unto which is the Garden of Abode.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Near it is the Garden of Refuge -

— Saheeh International

near which is Paradise.

— Muhammad Sarwar

Near which is the garden, the place to be resorted to.

— Muhammad Habib Shakir

Nigh thereto is the Garden of Abode.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 53:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 11 یہ جبریل ؑ سے نبی ﷺ کی دوسری ملاقات کا ذکر ہے جس میں وہ آپ کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے۔ اس ملاقات کا مقام " سدرۃ المنتہیٰ " بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے قریب " جنت الماویٰ " واقع ہے۔ سدرہ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں، اور منتہیٰ کے معنی ہیں آخری سرا۔ " سدرۃ المنتہیٰ " کے لغوی معنی ہیں " وہ بیری کا درخت جو آخری یا انتہائی سرے پر واقع ہے "۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس کی تشریح یہ کی ہے کہ الیھا ینتہی علم کل عالم وما وراءھا لا یعلمہ الا اللہ۔ " اس پر ہر عالم کا علم ختم ہوجاتا ہے، آ گے جو کچھ ہے اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا "۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى، ماوی کے معنی ٹھکانا اور آرام کی جگہ، جنت کو ماوی اس لئے فرمایا کہ انسان کا اصل ٹھکانا اور مقام یہی ہے، یہیں آدم و حوا (علیہما السلام) کی تخلیق ہوئی ہے، یہیں سے ان کو زمین پر اتارا گیا اور پھر یہیں اہل جنت کا مقام ہوگا۔ جنت و دوزخ کا موجودہ مقام اس آیت نے یہ بھی بتلا دیا کہ جنت اس وقت بھی موجود ہے جیسا کہ جمہور امت کا عقیدہ یہی ہے کہ جنت و دوزخ قیامت کے بعد پیدا نہیں کی جائی گی، یہ دونوں مقام اس وقت بھی موجود ہیں، اس آیت نے جنت کا محل وقوع بھی بتلا دیا کہ وہ ساتویں آسمان کے اوپر، عرش رحمن کے نیچے ہے، گویا ساتواں آسمان جنت کی زمین اور عرش رحمن اس کی چھت ہے، دوزخ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–15

(ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھی عندھا حبۃ الماوی (13، 15) (دوسرا مشاہدہ) یعنی یہ بات نہیں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو یہ مشاہدہ صرف ایک ہی بار ہوا ہو اس وجہ سے اس کو کوئی داہمہ یا مغالطہ قرار دیا جاسکے بلکہ اسی طرح انہوں نے دوبارہ بھی جبریل ؑ کو سدرۃ المنتی کے پاس دیکھا جس کے پاس ہی جنت الماویٰ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا جو مشاہدہ تمہارے سامنے وہ بیان کر رہے ہیں وہ مذاق اڑانے کی چیز نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرنے کی چیز ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں صرف دو ابتدائی مشاہدوں کا حوالہ ان لوگوں کے جواب میں دیا گیا ہے جنہوں نے شروع شروع میں آپ کے ان مشاہدات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 اسے جنت الماویٰ ، اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ روحیں یہاں آکر جمع ہوتی ہیں (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یہ حضرت جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا دوسرا واقعہ ہے جو معراج کے سفر میں پیش آیا، اس موقع پر بھی آنحضرت ﷺ نے انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھا، سدرۃ المنتہی عالم بالا میں ایک بیر کا بہت بڑا درخت ہے اور اسی کے پاس جنت واقع ہے جسے جنت المأوی اس لئے کہا گیا ہے کہ مأوی کے معنی ہیں ٹھکانا اور وہ مومنوں کا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–15

11 جس طرح جنت کے انگور، انار وغیرہ کو دنیا کے پھلوں اور میووں پر قیاس نہیں کرسکتے، محض اشتراک اسمی ہے۔ اس بیری کے درخت کو بھی یہاں کی بیریوں پر قیاس نہ کیا جائے اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ بیری کس طرح کی ہوگی۔ بہرحال وہ درخت ادھر ادھر کی سرحد پر واقع ہے جو اعمال وغیرہ ادھر سے چڑھتے ہیں، اور جو احکام وغیرہ ادھر سے اترتے ہیں سب کا منتہی وہ ہی ہے۔ مجموعہ روایات سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں پھیلاؤ ساتویں آسمان میں ہوگا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ } ”جنت الماویٰ بھی اس کے پاس ہی ہے۔“ ”جنت الماویٰ“ سب سے اونچے درجے کی جنت ہے ‘ جو ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہے۔ قیامت کے دن اہل جنت کو جہاں ”نزل“ پیش کیا جائے گا وہ جنت تو زمین پر واقع ہوگی۔ اس کے بعد ان میں سے ہر شخص کے اپنے اپنے ایمان و خلوص کی گہرائی اور انفاقِ جان و مال کے تناسب کے حساب سے درجہ بدرجہ ترقی ہوتی جائے گی۔ حتیٰ کہ کچھ خوش قسمت لوگ جنت الماویٰ میں پہنچ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

9 سدرۃ المنتہیٰ کا محل وقوع اور اہمیت :۔ ( سِدْرَۃُ ) بمعنی بیری کا درخت جس پر بیر کا پھل لگتا ہے۔ اور منتہیٰ بمعنی انتہائی سرحد۔ یعنی انتہائی سرحد پر واقع بیری کا درخت جو ساتویں آسمان پر واقع ہے۔ جہاں عالم سفلی کے معلومات ختم ہوجاتے ہیں اور عالم علوی کے افاضات بھی وہیں سے نیچے نازل ہوتے ہیں۔ فرشتے بھی اس مقام سے آگے نہیں جاسکتے۔ اسی مقام پر معراج کی رات رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جبریل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا تھا (م۔ ق) اور بمعنی عرش الٰہی کی داہنی جانب بیری کا درخت جو ملائکہ وغیرہ کی پہنچ کی آخری حد ہے (منجد) نیز وہ مقام جہاں رسول اللہ ﷺ کو فیوضات الٰہیہ اور بھاری انعامات سے نوازا گیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

13۔ یہ لپٹنے والی چیزیں روایات کے مطابق فرشتے تھے جو بکثرت دیوانہ وار گر رہے تھے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ انوار و تجلیات جمال مطلق تھے جو سدرہ کو لپٹے ہوئے تھے اور فرشتے انہیں پر عاشقانہ گر رہے تھے۔ غشیھا نورالرب وغشی تھا الملائکہ من حب اللہ (ابن جریر۔ عن الربیع) قد تقدم فی احدیث الاسراء انہ غشی تھا الملائکہ مثل الغربان وغشیھا نور الرب وغشیھا الوان ما ادری ماھی (ابن کثیر) مایغشی کلمہ تفخیم ہے۔ اہل عرب کمال عظمت کے اظہار کے موقع پر ایسا ہی صیغہ اجمال وابہام کا لاتے ہیں۔ تعظیم وتکبیرلما یغشھا (کشاف۔ مدارک) وفی ابھام مایغشی من التفخیم مالا یخفی (روح) (آیت) ” عندھا جنۃ الماوی “۔ پہلے فقرہ میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

عندھا جنۃ الماوی اسے جنت الماویٰ اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ ماویٰ اس لئے کہتے ہیں کہ یہاں روحیں آ کر جمع ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عندھا جنۃ الماوی . اس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جنت الماویٰ میں علماء کوفہ کے نزدیک اضافت موصوف الی الصفت ہے اور بصرہ کے نحویوں کے نزدیک موصوف محذوف ہے۔ یعنی جنۃ المکان الماوٰی۔ عطاء کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ ایسی جنت ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) اور ملائکہ کی قرارگاہ (جائے رجوع) ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : شہداء کی روحیں یہیں اقامت گزیں ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–18

(15۔ 18) یہ ایسا مقام ہے جہاں تک ہر مقرب فرشتہ اور نبی منتہی ہوجاتا ہے یا یہ کہ ہر ایک مقرب فرشتہ اور نبی مرسل اور عالم راسخ کا علم اس مقام پر پہنچ کر منتہی ہوجاتا ہے اس سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہے جہاں شہداء کی روحیں ٹھہرتی ہیں جب اس سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں یعنی سونے کے پروانے یا یہ کہ نور اور کہا گیا ہے کہ وہ لپٹنے والے فرشتے تھے۔ اور رسول اکرم کی نگاہ ان چیزوں کے دیکھنے سے دائیں بائیں نہ ہٹی اور جبریل امین کو جو اس وقت ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا تو نہ اس سے آپ کی نگاہ آگے بڑھی۔ اور اس وقت رسول اکرم نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(عندھا جنۃ الماوی :’ الماوی“”اوی یاوی اویاً“ (ض) ”البیت والی البیت“ سے مصدر میمی ہے، گھر میں قیام کرنا، رہائش رکھنا۔ یعنی وہ جنت جو متقی لوگوں کے قیام اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جنت جس میں ایمان والوں کا دائمی قیام ہوگا آسمانوں کے اوپر سدرۃ المنتہی کے پاس ہے۔ ابو ذر غفاری ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہی کے بعد جنت میں لے جایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :(حتی انتھی بن الی سدرۃ المنتھی وغشیھا الو ان لا ادری ماھی ثم ادخلت الجنۃ فاذا فیھا حبایل اللولو، و اذا ترابھا المسک) (بخاری، الصلوۃ باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسرائ 1:339)”پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک پہنچایا گیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

عند سدرۃ المنتھی۔ عندیہ راہ کا صلہ ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ سدرۃ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ ساتویں آسمان میں ہے۔ اس بارے میں حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ پہلی روایت وہ ہے جسے مرہ نے حضرت عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے جو چیز بلندی کی طرف جاتی ہے اس پر اس کی انتہاء ہوجاتی ہے تو اس سے قبض کرلیا جاتا ہے جو اوپر سے چیز نیچے آتی ہے اس کا اترنا یہاں تک ہوتا ہے پھر اسے قبض کرلیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

74:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) '' عندھا جنۃ الماوی '' پڑھا (اس کے قریب جنت الماوی ہے) اور آپ نے اس پر عیب لگایا جس نے پڑھا (آیت ) '' جنۃ الماوی '' 75:۔ عبدبن حمید (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے (آیت ) '' جنۃ الماوی '' پڑھا یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے دیوانہ بنادیا کیونکہ یہ (آیت ) '' جنۃ الماوی '' ہے 76:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' عندھا جنۃ الماوی '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عرش کے داہنی طرف ہے اور وہ شہد کا گھر ہے۔ 77:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جنۃ الماویٰ کیا ہے ؟ آیت کریمہ میں فرمایا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب جنتہ الماویٰ ہے، ماوی لغتہ ٹھکانہ پکڑنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں جَنَّةُ الْمَاْوٰى سے کیا مراد ہے ؟ علامہ قرطبی ؓ نے اس کے بارے میں متعدد اقوال لکھے ہیں۔ حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس سے وہ جنت مراد ہے جس میں متقی حضرات داخل ہوں گے ایک قول یہ ہے کہ اس جنت میں شہداء کی ارواح پہنچتی ہیں یہ حضرت بن عباس ؓ کا ارشاد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ جنت ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) قیام پذیر تھے، اور ایک قول یہ ہے کہ تمام مومنین کی روحیں جَنَّةُ الْمَاْوٰى میں ٹھہرتی ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل و میکائیل (…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–17

7:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–18

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰى۝ 15 ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–15

اَفَـتُمَارُوْنَـہٗ عَلٰی مَایَرٰی۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَـۃً اُخْرٰی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ (النجم : 12 تا 15) (تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اس نے اس کو دوسری مرتبہ دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔ ) شک کرنے والوں کو ملامت جو لوگ آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے یا شبے کا اظہار کررہے تھے انھیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اور نبی کریم ﷺ کا معاملہ عجیب ہے کہ حضور ﷺ تمہیں ان باتوں کی خبر دے رہے ہیں جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اور وہ باتیں اس جہان کی ہیں جو تمہاری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا لیکن کفار اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ نبی (علیہ السلام) نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی جنت الماویٰ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ ” اَلْمُنْتَہٰی “ کا معنٰی انتہا ہے جس کا اہل علم نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی پہنچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے نیچے کی مخلوق کے لیے عالم سفلٰی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس سے اوپر کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر ” اللہ “ کی مخلوق میں سے کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 15: عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى (اس کے قریب جنت الماوی ہے) یعنی وہ جنت جس میں متقی لوگ پہنچیں گے، ایک قول : اس میں شہدا کی ارواح قیام کرتی ہیں اس لیے اس کا نام جنت الماوی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

سدرۃ المنتہیٰ کی تفسیر 14 ۔” عندسدرۃ المنتھیٰ “ اور ابن عباس ؓ کے قول پر ” نزلۃ اخریٰ “ کا معنی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ معراج کی رات کئی مرتبہ اوپر گئے نماز کی تعداد میں تخفیف کروانے کے لئے ۔ پس ہر عروج کے لئے زوال ہوتا ہے۔ پس ان میں سے کسی میں اپنے رب کو دیکھا اور ہم تک ان سے روایت پہنچی ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو اپنے دل کے ساتھ دو مرتبہ دیکھا ہے اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” عندسدرۃ المنتھیٰ “ ہم تک عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لیجایا گیا۔ اور وہ ساتویں آسمان میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

چناچہ اس مقام پر جو پاک خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں حضرت محمد نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔ (عِنْدَهَا) یعنی اس درخت کے پاس (جَنَّةُ الْمَاْوٰى) یعنی وہ جنت میں ہر نعمت جمع ہے یہ ایسا مقام ہے جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلندترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 17] سدرۃ المنتھیٰ کے مقام کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور سدرۃ المنتھیٰ کے مقام کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے پاس جنت ماویٰ ۔ ماویٰ کے معنی ٹھکانا اور جائے قیام کے آتے ہیں اور یہ چونکہ مقام و ٹھکانا ہے فرشتوں اور اروح شہدا کا، اسلئے اس کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے، [ روح، خازن، صفوۃ، مراغی وغیرہ ] پھر اس جنت کے بارے میں حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ حضرات کا کہنا ہے کہ یہ وہی جنت ہے کہ جو اہل ایمان وتقویٰ کو آخرت میں عطا فرمائی جائے گی، اور اسی سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اس جنت کا محل و قوع بیان فرما دیا گیا کہ وہ سدرۃ المنتھیٰ عالم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 15–16

ف 8 مراد اللہ تعالیٰ کی کی عظمت و جلال کا نور یا فرشتوں کا ہجوم یا سنہری پروانے جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:15) عندھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب سدرۃ کے لئے ہے اس کے پاس ہی۔ جنت الماوی : جنت مضاف الماوی مضاف الیہ ماوی، اوی یاوی کا مصدر۔ بمعنی قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ اور اسم ظرف ۔ بمعنی مقام ، سکونت، ٹھکانا ہے باب افعال سے اوی یووی ایواء بمعنی کسی کو جگہ دینا۔ ٹھکانا دینا۔ یا رہنے کا مقام دینا۔ الماوی معرف باللام قرآن مجید میں صرف تین جگہ آیا ہے۔ اور ہر جگہ مصدری معنی ہے۔ جنت الماوی قیام کرنے کی جنت، اس جنت کو جنت الماوی کیوں کہتے ہیں علمائے کرام نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں :۔ (1) شہداء کی روحیں یہاں تشریف فرما ہیں۔ (2) جبرائیل اور دوسرے ملائکہ کی یہ رہائش گاہ ہے۔ (3) اہل ایمان کی روحیں یہاں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔ (ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] سدرہ بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں اس عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیری کا درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان حد فاصل ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ کی نشاندہی یہ کہہ کر فرما دی کہ اس کے پاس جنت الماویٰ یعنی آرام سے رہنے کی بہشت بھی ہے۔ یہ سب چیزیں متشابہات میں داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 14–15

(سدرۃ المنتہیٰ ) وہی ہے جس کے پاس جنت الماویٰ ہے 15 ؎ (الماوی) مصدر اور اسم ظرف۔ قیام کرنا ‘ رہنا ‘ سکونت کرنا ‘ سکونت پذیر ہونا ‘ مقام سکونت ‘ ٹھکانہ ‘ آوی یاوی ماضی مضارع اور اوی بھی مصدر ہے۔ (الماوی) معرف باللام۔ قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے اور ہر جگہ مصدری معنی ہیں۔ (عندھا) اس کے پاس یعنی ( سدرۃ المنتہیٰ ) کے پاس وہ جنت ہے جو قیام گاہ یا ٹھہرنے کی جگہ بنے گی۔ اس پر اتنے سوال اٹھائے گئے ہیں کہ آیا جنت الماوی سارے جنتیوں کی جگہ ہے یا کچھ خاص قسم کے جنتیوں کی ؟ پھر اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں کسی نے کہا کہ اس میں نبیوں اور رسولوں کو سکونت ملے گی ‘ کسی نے کہا یہ صرف شہداء کی جگہ ہوگی ‘ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ (near which there is Jannat-ul-ma'wa [ the Paradize of Abode ],... 53:15) The word ma'wa means 'abode' and a place where one resides or reposes comfortably. The Jannah (Paradize) is called ma'wa because this is man's original abode. This is where 'Adam and Hawwa' (علیہما السلام) were created; from here they were sent down to the earth; and this is where the people of Paradise will be sent back to reside permanently. The Present Locale of Paradise and Hell This verse verifies that Paradise exists at the present moment, as is the belief of the overwhelming majority…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 This is about the Holy Prophet's second meeting with Gabriel (upon whom be peace) in which he appeared before him in his real shape and nature. The place where this meeting took place has been described as Sidrat-al-muntaha, along with which it has been said that nearby it is located Jannat al ma'va (Garden of Repose). Sidrah in Arabic means the lote-tree and muntaha the extreme edge or limit. Thus, literally, sidrat al-muntaha means "the lote-tree that is situated on the extreme edge or limit". 'Allama Alusi in his Ruh al-Ma'ani has explained it thus: "At this the knowledge of every…

Read the full tafseer →