عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی ۟عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى
پرلی حد کی بیری کے پاس
— Fateh Muhammad Jalandhari
At the Lote Tree of the Utmost Boundary -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی ۟عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى
پرلی حد کی بیری کے پاس
— Fateh Muhammad Jalandhari
At the Lote Tree of the Utmost Boundary -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا
پرلی حد کی بیری کے پاس
سدرةالمنتہیٰ کے پاس
اس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہی ہے۔
سدرة المنتہیٰ کے پاس
سِدرۃ المنتہٰی کے قریب،
آخری حد کی بیری کے پاس۔
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا
سدرۃ المنتیٰ کے پاس
یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس
سدرۃ المنتہی کے قریب۔
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
آخری حد کی بیری کے پاس۔
by the lote-tree at the farthest boundary,
by Sidrat-ul-Muntaha (the lote-tree in the upper realm),
by Sidrat-ul-Muntaha (the lote-tree in the upper realm),
Near Sidrat Al-Muntaha.
By the lote-tree of the utmost boundary,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
At the Lote Tree of the Utmost Boundary -
to the Lot-tree (in the seven heavens)
At the farthest lote-tree;
Nigh Unto the lote-tree at the boundary.
Near the Lote-tree beyond which none may pass:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
سورة النَّجْم 10 یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد ﷺ کو ہوا۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آگئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو ایسے عجیب اور غیر معمولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى، یہاں بھی رَاٰهُ کی ضمیر میں وہی دو قول ہیں کہ حق تعالیٰ مراد ہیں، یا جبرئیل امین نَزْلَةً اُخْرٰى کے معنی دوسری مرتبہ کا نزول ہے، راجح تفسیر کے مطابق یہ نزول بھی جبرئیل امین کا ہے اور جیسا کہ پہلی رویت کا مقام قرآن کریم نے اسی عالم دنیا میں مکہ مکرمہ کا افق اعلیٰ بتلایا تھا، اسی طرح اس دوسری رویت کا مقام ساتویں آسمان میں سدرة المنتہیٰ بتلایا اور یہ ظاہر ہے کہ ساتویں آسمان پر رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا شب معراج میں ہوا ہے، اس سے اس دوسری رویت کا وقت بھی فی الجملہ متعین ہوجاتا ہے، سدرہ لغت میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور منتہیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھی عندھا حبۃ الماوی (13، 15) (دوسرا مشاہدہ) یعنی یہ بات نہیں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو یہ مشاہدہ صرف ایک ہی بار ہوا ہو اس وجہ سے اس کو کوئی داہمہ یا مغالطہ قرار دیا جاسکے بلکہ اسی طرح انہوں نے دوبارہ بھی جبریل ؑ کو سدرۃ المنتی کے پاس دیکھا جس کے پاس ہی جنت الماویٰ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا جو مشاہدہ تمہارے سامنے وہ بیان کر رہے ہیں وہ مذاق اڑانے کی چیز نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرنے کی چیز ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں صرف دو ابتدائی مشاہدوں کا حوالہ ان لوگوں کے جواب میں دیا گیا ہے جنہوں نے شروع شروع میں آپ کے ان مشاہدات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے…
Read the full tafseer →14۔ 1 یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل ؑ کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس کے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جاسکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
6: یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو، دل نے اس کے سمجھنے میں غلطی کردی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
11 جس طرح جنت کے انگور، انار وغیرہ کو دنیا کے پھلوں اور میووں پر قیاس نہیں کرسکتے، محض اشتراک اسمی ہے۔ اس بیری کے درخت کو بھی یہاں کی بیریوں پر قیاس نہ کیا جائے اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ بیری کس طرح کی ہوگی۔ بہرحال وہ درخت ادھر ادھر کی سرحد پر واقع ہے جو اعمال وغیرہ ادھر سے چڑھتے ہیں، اور جو احکام وغیرہ ادھر سے اترتے ہیں سب کا منتہی وہ ہی ہے۔ مجموعہ روایات سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں پھیلاؤ ساتویں آسمان میں ہوگا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 14{ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی۔ } ”سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔“ یہ ساتویں آسمان پر وہ مقام ہے جس سے آگے کسی مخلوق کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس انتہائی حد کی علامت بیری کا وہ درخت ہے جسے آیت میں ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مقام کی کیفیت اور نوعیت ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ معراج کے موقع پر ”سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی“ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصل ملکوتی شکل میں ظاہر ہوئے اور آگے جانے سے معذرت کرلی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
8 اس کے مخاطب قریش مکہ ہیں اور انہیں کہا یہ جارہا ہے کہ تم اپنے رفیق ( محمد ﷺ کو خود سچا اور راست باز انسان تسلیم کرتے ہو۔ اور وہ اپنے ذاتی اور عینی مشاہدہ کی بنا پر تم سے ایک بات کہتا ہے جو اسے دن کی روشنی میں اور عالم بیداری میں پیش آئی۔ پھر تم اس کی بات کا انکار کرتے۔ اور اس سے جھگڑا کرتے ہو تو آخر تمہارے پاس اس کو جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کے لیے کیا دلیل ہے ؟ واضح رہے کہ اس بارے میں صحابہ میں بھی اختلاف تھا کہ آیا آپ ﷺ نے اس وقت جبریل کو دیکھا تھا یا اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا تو اس کے متعلق صحابہ کی اکثریت کا یہ قول ہے کہ آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا تھا۔ لے دے کے ایک سیدنا ابن عباس ؓ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
12۔ (آیت) ” سدرۃ المنتھی۔ سدرۃ “۔ کے لفظی معنی بیری کے درخت کے ہیں۔ اور (آیت) ” سدرۃ المنتھی “۔ اصطلاح میں وہ بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان یا دونوں پر ہے ایک سے لے دوسرے تک اور گویا اس عالم اور اس عالم کے درمیان ایک نقطہ اتصال ہے۔ عالم بالا سے جتنے احکام وغیرہ صادر ہوتے ہیں وہ (آیت) ” سدرۃ المنتھی ہی تک پہلے آتے ہیں اور پھر ملائکہ وہاں سے زمین پر لاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں سے جو اعمال صعود کرتے ہیں وہ بھی پہلے (آیت) ” سدرۃ المنتھی “۔ تک پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں سے اوپر اٹھالئے جاتے ہیں۔ عن ابن مسعود ؓ والضحاک سدرۃ المنتھی فی السماء السادسۃ والیھا ینتھی مایعرج الی السماء (جصاص) الجمھور علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی…
Read the full tafseer →عند سدرۃ المنتھی . سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ ظاہر یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور کعب الاحبار کے سوال میں جس رؤیت چشم کا ذکر آیا ہے یہ وہی رؤیت ہے جو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہوئی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی کا تعلق مَا یَرٰی سے ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ میں اضافت موصوف الی الصفت ہے جیسے جانب الغرب اور مسجد الجامع میں ہے۔ علمائے بصرہ کے نزدیک موصوف محذوف ہے۔ اصل میں سدرۃ المکان المنتہیٰ تھا۔ سدرۃ کو منتہیٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اعمال خلق پہنچنے کی یہ آخری حد ہے ‘ یہاں پہنچ کر ملائکہ سے لے لیے جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اتر کر یہاں تک پہنچتے ہیں اور یہاں سے ملائکہ لے کر نیچے اترتے ہیں۔ گویا یہ مقام احکام الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
(11۔ 14) اور رسول اللہ کے قلب مبارک نے جو اپنے قلب سے اپنے پروردگار کو دیکھا اس میں ان کے قلب نے کوئی غلطی نہیں کی اور کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا اور یہ بھی قول روایت کیا گیا کہ آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا یہ جواب قسم ہے، چناچہ جب رسول اکرم نے اپنی قوم کو اس چیز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تکذیب کی تب یہ آیت نازل ہوئی تو کیا یہ لوگ رسول اکرم کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ آپ کی دیکھی بھالی چیز میں جھگڑا کرتے ہیں۔ اور رسول اکرم نے تو جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کو اپنے دل یا اپنی…
Read the full tafseer →(عند سدرۃ الم تھی :”سدرۃ“ بیری کا درخت۔”المنتھی“”انتھی ینتھی ان تھا“ (افتعال) سے ظرف مکان ہے، انتہا کی جگہ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس نام کی وجہ بیان فرمائی ہے، انہوں نے فرمایا :(لما اسری برسول اللہ ﷺ انتھی بہ الی سدرۃ المنتھی وھی فی السماء السادسۃ : الیھا ینتھی ما یعرج بہ من الارض فیقص منھا والیھا ینتھی ما یھبط بہ من فوقھا فیقبض منھا) (مسلم، الایان، باب فی ذکر سدرۃ المنتھی : 183)”جب رسول اللہ ﷺ کو رات (معراج کے لئے) لے جایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتی تک پہنچایا گیا اور وہ چھٹی آسمان میں ہے۔ زمین سے اوپر جو کچھ چڑھتا ہے اس کی انتہا وہاں تک ہوتی ہے، پھر اسے وہاں سے لے لیا جاتا ہے اور اس کے اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
عند سدرۃ المنتھی۔ عندیہ راہ کا صلہ ہے جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ سدرۃ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ ساتویں آسمان میں ہے۔ اس بارے میں حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ پہلی روایت وہ ہے جسے مرہ نے حضرت عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے یہ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے جو چیز بلندی کی طرف جاتی ہے اس پر اس کی انتہاء ہوجاتی ہے تو اس سے قبض کرلیا جاتا ہے جو اوپر سے چیز نیچے آتی ہے اس کا اترنا یہاں تک ہوتا ہے پھر اسے قبض کرلیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →معرج کے موقع پر نبی (علیہ السلام) کو ملنے والا تحفہ : 63:۔ احمد وعبدبن حمید (رح) ومسلم الترمذی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ البیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے اور یہ چھٹے آسمان میں ہے جو روحیں اوپر چڑھتی ہیں وہ یہاں تک پہنچتی ہیں اور ان کو قبض کرلیا جاتا ہے۔ اور جو چیز اس کے اوپر سے اترتی ہے وہ بھی یہاں تک پہنچتی ہے اور یہاں سے اسے قبض کرلیا جاتا ہے۔ فرمایا (آیت ) '' عند سدرۃ المنتھی '' (جب سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) یعنی وہ بچھونا تھا سونے کا (اور) فرمایا رسول اللہ ﷺ کو تین…
Read the full tafseer →عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى [ رکنے کی جگہ کی بیری کے پاس ]
Read the full tafseer →﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى 0014 عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى ؕ0015 اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى ۙ0016﴾ (سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے قریب جنت الماویٰ ہے، جبکہ سدرۃ المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) ۔ اس میں یہ بتایا کہ دوسری بار رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو عالم بالا میں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا، سدریٰ کے قریب جنت الماویٰ ہے، اس وقت سدرۃ المنتہیٰ کو عجیب عجیب حسین چیزیں لپٹ رہی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
7:۔ ” ولقد راہ “ یہ جبریل (علیہ السلام) کو دوسری بار اصلی صورت میں دیکھنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ شب معراج میں پیش آیا۔ عند اور اذ ظروف رای سے متعقلق ہیں۔ ” سدرۃ المنتہی “ بیری کے مانند ساتویں آسمان پر ایک درخت ہے جس کا پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہے۔ اسی کے قریب جبریل (علیہ السلام) کا مقام ہے اور یہی اس کے پرواز کی منتہا ہے۔ مایغشی سے اللہ کا نور اور فرشتے مراد ہیں۔ اس پر اس قدرت فرشتے تھے کہ دخت ان میں چھپ گیا تھا۔ غشیہا نور الرب او الملائکۃ تقع علیہا کما یقع الغربان علی الشجرۃ (قرطبی ج 17 ص 96) ۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل امین کو اس کی اصلی صورت میں صرف زمین پر ایک ہی بار نہیں دیکھا بلکہ دوسری بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ…
Read the full tafseer →عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰى 14 عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ سدر السِّدْرُ : شجر قلیل الغناء عند الأكل، ولذلک قال تعالی: وَأَثْلٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
اَفَـتُمَارُوْنَـہٗ عَلٰی مَایَرٰی۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَـۃً اُخْرٰی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ (النجم : 12 تا 15) (تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اس نے اس کو دوسری مرتبہ دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔ ) شک کرنے والوں کو ملامت جو لوگ آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے یا شبے کا اظہار کررہے تھے انھیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اور نبی کریم ﷺ کا معاملہ عجیب ہے کہ حضور ﷺ تمہیں ان باتوں کی خبر دے رہے ہیں جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اور وہ باتیں اس جہان کی ہیں جو تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا لیکن کفار اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ نبی (علیہ السلام) نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی جنت الماویٰ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ ” اَلْمُنْتَہٰی “ کا معنٰی انتہا ہے جس کا اہل علم نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی پہنچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے نیچے کی مخلوق کے لیے عالم سفلٰی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس سے اوپر کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر ” اللہ “ کی مخلوق میں سے کوئی نہیں…
Read the full tafseer →یہ بیری کا درخت ہے : آیت 14: عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى (سدرۃ المنتہی کے پاس) جمہور کا قول یہ ہے کہ یہ بیری کا درخت ہے جو ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش کے دائیں جانب ہے۔ المنتھی انتہا کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یا نمبر 2، انتہا کرنا، گویا وہ جنت کی انتہا اور اس کے آخر میں ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے کوئی تجاوز نہیں کرتا۔ اس تک فرشتوں کا علم ختم ہوجاتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے مابعد کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے : ارواح شہداء اس تک پہنچتی ہیں اس لیے اس کو سدرۃ المنتہی کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →13 ۔” ولقد راہ نزلۃ اخریٰ “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اس صورت میں دیکھا جس پر وہ پیدا کیے گئے اس حال میں کہ وہ آسمان سے دوسری مرتبہ اترنے والے تھے اور یہ اس وجہ سے کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کو ان کی صورت میں دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ زمین میں اور ایک مرتبہ آسمان میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى) ۔ یعنی رسول اللہ نے جبرائیل کو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا۔ (عند سدرۃ المنتھی) سدرۃ المنتھی کے پاس۔ سدرۃ المنتھی ساتویں آصمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتھی اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے اس کے پاس آکر رک جاتی ہے اور الہ تعالیٰ کی مخلوق سے جو وحی وغیرہ نازل ہوئی ہے یہاں آکر ٹھہر جاتی ہے یا اس بنا پر سدرۃ المنتھی کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے، نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتھی اس کی بلندی کی انتہا ہے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–31
جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[ 16] سدرۃ المنتھیٰکے پاس کی رؤیت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضور ﷺ نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے ان کو یقینا ایک اور مرتبہ دیکھا سدرۃ المنتہی کے پاس۔ کہ مخلوقات کا علم اس پر ختم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے خود آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس کو منتہی اسی لئے کہتے ہیں کہ مخلوق اور ملائکہ کا علم یہاں تک ختم ہوجاتا ہے [ خازان، ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ وغیرہ ] باقی اس سدرہ [ بیری ] کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ سو وہ اللہ پاک ہی کے علم میں ہے کہ یہ چیز ان امور غیبیہ میں سے ہے جن کی حقیقت تک رسائی انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 7 صحیح حدیث میں ہے کہ یہ درخت چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور اسے منتہی اس لئے کہتے ہیں کہ اس پر تمام مخلوق کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(53:14) سدرۃ المنتھی اس ترکیب میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف کی گئی ہے سدرۃ بیری کا درخت منتہی انتہائ۔ اختتام ، آخری سرحد۔ آخری کنارہ۔ انتھاء سے مصدر میمی۔ سدرۃ المنتھی بیری کا وہ درخت جو مادی جہان کی آخری سرحد پر ہے۔ یہ کیسا درخت ہے اس کی حقیقت کیا ہے اس کی شاخوں ، پتوں اور پھلوں کی نوعیت کیا ہے ہمیں ان کی ماہیت کا علم نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ اعمال خلق پہنچنے کی یہ آخری حد ہے انتہائی حد ہے۔ یہاں پہنچ کع یہ اعمال ملائکہ سے لے لئے جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اتر کر یہاں تک پہنچتے ہیں اور یہاں سے ملائکہ لے کر نیچے اترتے ہیں ۔ گویا یہ مقام احکام الٰہی کے نزول اور اعمال خلق کے عروج کی آخری حد ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔ (ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[7] یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے جب جبرائیل (علیہ السلام) پہلی مرتبہ اپنی اصلی صورت میں نبی ﷺ کو نظر آئے۔ اس وقت آسمان مشرق سے مغرب تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(14) یہ دیکھنا اس بیری کے پاس تھا جو منتہائے حد پر واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(سدرۃ المنتہیٰ ) وہی ہے جس کے پاس جنت الماویٰ ہے 15 ؎ (الماوی) مصدر اور اسم ظرف۔ قیام کرنا ‘ رہنا ‘ سکونت کرنا ‘ سکونت پذیر ہونا ‘ مقام سکونت ‘ ٹھکانہ ‘ آوی یاوی ماضی مضارع اور اوی بھی مصدر ہے۔ (الماوی) معرف باللام۔ قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے اور ہر جگہ مصدری معنی ہیں۔ (عندھا) اس کے پاس یعنی ( سدرۃ المنتہیٰ ) کے پاس وہ جنت ہے جو قیام گاہ یا ٹھہرنے کی جگہ بنے گی۔ اس پر اتنے سوال اٹھائے گئے ہیں کہ آیا جنت الماوی سارے جنتیوں کی جگہ ہے یا کچھ خاص قسم کے جنتیوں کی ؟ پھر اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں کسی نے کہا کہ اس میں نبیوں اور رسولوں کو سکونت ملے گی ‘ کسی نے کہا یہ صرف شہداء کی جگہ ہوگی ‘ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ولَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ (And indeed he saw him another time by sidrat-ul-muntaha [ the lote-tree in the upper realm ]...53:13-14). Here too there are two views regarding the antecedent of the pronoun hu (him): [ 1] that it refers to seeing Allah; or [ 2] that it refers to seeing Jibra'il (علیہ السلام) . The adverb نَزْلَةً أُخْرَىٰ nazlatan ` ukhra [ another time or at another descent ], according to overwhelming majority, this nuzul refers to the second descent of Jibra'il (علیہ السلام) . The first vision was experienced in this world on the uppermost…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
10 That is, "As the Holy Prophet Muhammad (upon whom be peace) observed all this in broad daylight in the waking condition, with open eyes, his heart did not deem it was a delusion, or that it was a jinn or a devil, who had appeared before him, or that it was an imaginary figure, or a vision that he was seeing while awake, but his heart fully confirmed what his eyes saw. He did not for a moment doubt that it was the Angel Gabriel and the Message he was conveying was indeed God's Revelation to him." Here, the question arises: How is it that the Holy Prophet (upon whom be peace) did not…
Read the full tafseer →