An-Najm 53:24

An-Najm · from ayah 24

53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰی ۟ؗۖاَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or is there for man whatever he wishes?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:24

کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وحی حق ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا انسان کے لئے وہ (سب کچھ) میسّر ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا انسان کے لیے وہ (میسر) ہے جو وہ آرزو کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انسان جیسی بھی آرزو کرے کیا وہ اسے مل جاتی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انسان وہ سب کچھ پا لے گا جو وہ تمنا رکھتا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا انسان کو وہ سب کچھ مل جاتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا کہیں انسان کو ہر وہ چیز مل جاتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟ (نہیں بلکہ ہر تمنا)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ آرزو کرتا ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا جس چیز کی انسان خواہش کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Does man imagine that whatever he wishes for is right for him?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that man can get whatever he wishes?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that man can get whatever he wishes?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or shall man have what he wishes

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or is there for man whatever he wishes?

— Saheeh International

Can the human being have whatever he wishes?

— Muhammad Sarwar

Or shall man have what he wishes?

— Muhammad Habib Shakir

Shall man have whatsoever he wisheth for!

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, shall man have (just) anything he hankers after?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–26

بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة النَّجْم 20 اس آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا انسان کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہے معبود بنا لے ؟ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ کیا انسان ان معبودوں سے اپنی مرادیں پالینے کی جو تمنا رکھتا ہے وہ کبھی پوری ہو سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–28

ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

(ام للانسان ما تمنی فلللہ الاخرۃ والاولی (24، 25) (خواہشیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں)۔ یہ اسی اوپر والی بات پر اظہار تعجب بھی ہے اور اس پر تبصرہ بھی، مطلب یہ ہے کہ تم اپنی خواہشوں اور تمنائوں کی رہنمائی میں، اپنے جی کو خواہش رکھنے کو، جو فلسفہ چاہو بنا ڈالو لیکن ضروری نہیں کہ تمہاری ہر تمنا اور خواہش پوری بھی ہوجائے، در حقیقت اور خواہش میں بڑا فرق ہے۔ جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تب دیکھ لو گے کہ تم جو خیالی محل تعمیر کرتے رہے اس کی بنیاد ریت پر تھی۔ تمہارے یہ معبود ذرا بھی کسی کے کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ ہر ایک کو سابقہ اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ جس کے نیک اعمال کی میزان بھاری ہوگی وہ جنت میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–25

12: یہ مشرک لوگ اپنے من گھڑت خداؤں کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کریں گے۔ (دیکھئے سورة یونس : 18) یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ تمہاری تمنا ضرور ہوگی لیکن انسان کو ہر وہ چیز نہیں ملا کرتی جس کی وہ تمنا کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام للانسان ماتمنی (35 : 42) ” کیا انسان جو کچھ چان ہے اس کے لئے وہی حق ہے “ یوں کہ وہ جو چاہے حقیقت بن جائے۔ اس کی خواہشات واقعہ بن جائیں لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے۔ حق حق ہوتا ہے اور واقعہ واقعہ ہوتا ہے۔ کوئی جس قدر بھی چاہے اس کی چاہت سے واقعات اور حقائق نہیں بدل سکتے۔ انسان تباہی تمناؤں کے ہاتھ سے ہوتا ہے اور ہلاکت کے گڑھے میں پڑتا ہی خواہشات نفس سے ہے۔ اس لئے خواہشات اور تمنائیں حقیقت نفس الامری کو بدل نہیں سکتیں۔ دنیا اور آخرت کے حقائق میں تغیر وتبدل کوئی نہیں کرسکتا۔ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو حق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 24–25

5 یعنی سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے سفارشی بنیں گے۔ یہ خالی خیالات اور آرزوئیں ہیں۔ کیا انسان جو تمنا کرے وہ ہی مل جائے گا۔ یاد رہے دنیا اور آخرت کی سب بھلائی اللہ کے ہاتھ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بت پوجنے سے کیا ملتا ہے، ملے وہ ہی جو اللہ دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24{ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰی۔ } ”کیا انسان کو وہی کچھ مل جائے گا جس کی وہ آرزو کرتا ہے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–25

16 مشرکین مکہ کی آرزو معبود ایسا ہو جو کسی قسم کی بھی پابندیاں نہ لگائے :۔ یعنی تمہاری آرزو یہ ہے کہ تمہارے معبود ایسے ہونے چاہییں جو تم پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائیں تو کیا تمہاری یہ آرزو پوری کی جاسکتی ہے ؟ یا کیا تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ جسے چاہو اپنا معبود بنا لو ؟ یا اگر تم نے اپنے معبودوں سے سفارش کی توقع وابستہ کر رکھی ہے تو کیا تمہارے خیال میں یہ پوری کردی جائے گی ؟ جبکہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کلی اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 24–25

19۔ (تو پھر ان مشرکوں کی یہ کیسی حماقت ہے کہ اپنی دیویوں دیوتاؤں سے اس کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کی آرزوؤں، تمناؤں کے مطابق انکے کام آئیں گے اور ان کی سعی وسفارش کریں گے) (آیت) ” ام ..... تبنی “۔ یہ کتنی گہری اور اہم حقیقت کا اعلان ہے۔ اگر انسان کو اسی کو استحضار رہے تو کتنی مایوسیوں، ناکامیوں، نامرادیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (آیت) ” فللہ الاخرۃ والاولی “۔ انسان کی فوری اور انجام دونوں طرح کی بھلائیاں صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ توقع جو کچھ بھی کی جائے۔ بس اسی سے کیجائے۔ (آیت) ’ للانسان “۔ انسان سے یہاں مراد کافر انسان سے لی گئی ہے۔ یعنی الکافر (مدارک) ایظن الکافر ان لہ مایتمنی (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–25

انھی الا اسماء سمیتموھا الخ یعنی جن کو تم دیوی دیوتا کہتے ہو اور جن کی تم پوجا پاٹ کرتے ہو اور جن کے لئے تم خدائی صفات اور اختیارات ثابت کرتے ہو اور تم نے اور تمہارے آباء نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور خدائی میں شریک مان کر نام رکھ لئے ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور نہ خدا کی طرف سے کوئی ایسی سند آئی کہ جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کرسکو اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ تم اپنی خواہشات نفس کی پیروی اختیار کئے ہوئے ہو، حالانکہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ان گمراہ لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے رہے ہیں اور اب اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ نے آ کر بتادیا ہے کہ کائنات میں خدائی کس کی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام للانسان ما تمنی کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے ‘ اَمْ لِلْاَنْسَان : ام منقطعہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی (کافر) انسان کو وہ نہیں مل سکتا جس کی وہ تمنا کیے ہوئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرک انسان جو بتوں کی شفاعت کا امیدوار بنا ہوا ہے اور کہتا ہے : لَءِنْ رَّجَعْتُ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لِلْحُسْنٰی اگر مجھے اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا پڑا تو وہاں میرے لیے بھلائی ہوگی اور یہ بھی کہتا ہے : لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ۔ یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ یہ باتیں صرف اس کی تمنا ہی تمنا ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–25

(24۔ 25) کیا ان مکہ والوں کو جس بات کی یہ خواہش کر رہے ہیں کہ فرشتے اور بت ان کی سفارش کریں گے، کیا ان کی یہ خواہش پوری ہوجائے گی ایسا نہیں ہے بلکہ ثواب و کرامت کا دینا اور شفاعت کروانا اور توفیق و معرفت کا عطا کرنا یہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

(ام للانسان ما تمنی…: یعنی انہوں نے جو آرزوئیں دل میں پال رکیھ ہیں ہ ان کے معبود دنیا میں ان کے کام آئیں گے اور آخرت میں انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، یا اگر آخرت قائم ہوئی تو انہیں وہاں بھی وہی آسئاشیں ملیں گی جو انہیں دنیا میں میسر ہیں، تو سب سے پہلے یہ سوچیں کہ آیا انسان کی ہر تمنا جو وہ کرے، کیا پوری ہوتی ہے ؟ ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں، کیونکہ دنیا کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور آخرت کا مالک بھی وہی ہے، اسلئے کسی اور کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ ہوتا وہی ہے جو مالک چاہے۔ پھر انہوں نے ان خود ساختہ معبودوں سے یہ توقع کیسے باندھ لی کہ وہ ان کی تمنائیں پوری کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–25

ان ھی الا اسمآء سیمتموھا یعنی یہ بات نہیں مگر ایسے نام جن کو تم نے خود تراش لیا ہے اور ان کے نام معبود رکھ لئے ہیں۔ انتم وابآء کم تم نے اس مسئلہ میں اپنے آباء کی تقلید کی۔ مآ انزل اللہ بھا من سلطن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ان یتبعون الا لظن خطاب سے غائب کی طرف رجوع کیا ہے، یعنی یہ لوگ ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ وما تھوی الانفس اور جس کی طرف نفوس مائلہ وتے ہیں عام قراء کی قرأت یتبعون ہے۔ عیسیٰ بن عمر، ایوب اور ابن سمیقع نے تتبعون پڑھا ہے، یہی حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس کی قرأت ہے۔ ولقد جآء ھم من ربہم الھدی ٰ یعنی رسول اللہ ﷺ کی جانب سے وضاحت آگئی ہے کہ وہ معبود برحق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–25

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ام للانسان ماتمنی '' 17:۔ احمد والبخاری والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تمنا کرے تو اس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا تمنی کی کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی آرزو اور خواہش کے سبب اس کے لئے لکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ لِلْاِنْسَانِ [ یا انسان کے لیے ] مَا [ وہ ہے جو ] تَمَــنّٰى [ وہ تمنا کرے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 24 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تمناؤں کی رہنمائی میں جو چاہے فلسفہ بنا ڈالو، لیکن ضروری نہیں کہ تمہاری ہر تمنا پوری ہو حقیقت اور آرزو میں بڑا فرق ہے جب حقیقت سامنے آئے گی تب دیکھ لوگے کہ جو خیالی محل تم نے تعمیر کیے تھے اس کی بنیاد ریت پر تھی ، تمہارے یہ معبود کسی کے کام آنے والے نہیں بنیں گے ۔ یہاں پر امر ملحوظ رہے کہ جس طرح رہے کہ جس طرح مشرکین نے اپنے دیوتاؤں کے بل پر بہت سی تمنائیں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں اسی طرح یہود ، نصاری اور مسلمانوں نے بھی اپنے دلوں میں بہت سی جھوٹی آرزوئیں پال…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا : ﴿ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى ٞۖ0024﴾ (کیا انسان کے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی وہ تمنا کرے) یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہر آرزو پوری نہیں ہوتی مشرکین نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہم جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ان سے دنیا میں ہماری حاجتیں پوری ہوں گی اور آخرت میں یہ معبود ہماری سفارش کردیں گے اور بخشوا دیں گے یہ ان کی صرف اپنی آرزو اور تمنا ہے جو پوری ہونے والی نہیں، دنیا میں خودیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کی ہر تمناپوری نہیں ہوتی پھر اس بات کا یقین کیسے كئے بیٹھے ہیں کہ ان معبودوں سے فائدہ پہنچے گا جب کہ انہیں خود ہی معبود تجویز کرلیا ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–25

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ ” ام للانسان۔ الایۃ “ ” ام “ منقطعہ ہے اور استفہام انکار کے لیے ہے (بیضاوی) ۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان جس چیز کی آرزو اور تمنا کرے وہ اسے مل جائے یا اس کی تمنا کے مطابق ہوجائے لہذا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مشرکین اپنی خواہشات سے لات و منات اور عزی وغیرہا کو معبود، کارساز، حاجت روا اور سفارشی بنا لیں تو ان کے بنانے سے وہ یہ سب کچھ بن جائیں اور ان کی یہ تمنا اور آرزو پوری ہوجائے کہ یہ معبود خدا کی بارگاہ میں ان کی سفارش کریں اور قرب خداوندی کا وسیلہ بنیں۔ ای لیست الاشیاء والشھوات تحصل بالامانی بل اللہ الامر وقولکم ان الہتکم تشفع و تقرب زلفی لیس لکم ذلک (بحر ج 8 ص 163) ۔ والمراد نفی ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–25

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى۝ 24 ۡ ۖ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–25

تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَاتَمَنّٰی۔ فَلِلّٰہِ الْاٰخِرَۃُ وَالْاُوْلٰی۔ (النجم : 24، 25) (کیا انسان کے لیے وہی حق ہے جس کی وہ تمنا کرے۔ سو یاد رکھو کہ آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ) ایک اہم حقیقت کا اظہار اس آیت کریمہ میں نہایت اختصار سے ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوتی، اس کی شکل و صورت میں اس کے اختیار کو دخل نہیں، وہ اپنی قسمت اپنی مرضی سے نہیں بناتا، دنیا میں اسے مکمل طور پر ہر چیز کو حاصل کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح اسے اس بات کا بھی اختیار نہیں کہ وہ جسے چاہے حق بنا دے اور جسے چاہے باطل ٹھہرا دے۔ جسے چاہے حلال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین جس طرح یہ ظلم کرتے ہیں کہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قراردیتے ہیں اسی طرح ہی ان کا یہ بھی ظلم ہے کہ وہ بلادلیل اپنے بتوں اور بزرگوں کے نام داتا، گنج بخش، دستگیر اور لجپال وغیرہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں کیے جانے والے شرک کا جائزہ لیا جائے تو قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت روز روشن کی طرح آشکارہ دکھائی دیتی ہے کہ مشرکین جنہیں خدائی القابات سے پکارتے ہیں وہ صرف نام برائے نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ فوت شدگان میں جن کے نام پر پاکستان کی اکثریت شرک کرتی ہے وہ سیدنا حضرت علی ؓ ، پیر عبدالقادر جیلانی اور لاہور میں علی ہجویری، سہوں میں شہباز قلندر، پاکپتن میں بابا فرید اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24: اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى (کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے) یہ ام منقطعہ بمعنی بل ہے، اور ہمزہ استفہام انکاری کا ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان یعنی کافر کو اس کی ہر تمنا نہیں ملتی جو وہ شفاعت اصنام کی لگائے بیٹھا ہے یا یہ تمنا ولئن رجعت الی ابی ان لی عندہ للحسنی۔ (صافات : 50) ایک قول یہ بھی ہے : اس سے مراد وہ تمنا ہے جو بعض نے کی کہ وہ نبی بن جاتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” انھی “ نہیں ہیں یہ بت۔” الا اسماء سمیتموھا انتم وآبائو کم ماانزل اللہ بھا من سلطان “ حجت وبرہان اس پر جو تم کہتے ہو کہ وہ معبود ہیں پھر خبر کی طرف لوٹے خطاب کے بعد اور فرمایا ” ان یتبعون الا الظن “ ان کے اس قول میں کہ یہ معبود ہیں۔ ” وما تھوی الانفس “ اور وہ ہے جو ان کے لئے شیطان نے مزین کیا۔ ” ولقد جآء ھم من ربھم الھدیٰ “ کتاب اور رسول کا بیان کہ وہ معبود نہیں ہیں اور بیشک عبادت صرف ایک اللہ ” قھار “ کے لئے درست ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 24–25

جب ان کے مذہب کی غرض وغایت محض ظن و گمان کی پیروی اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے تو ان کا اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے بایں ہمہ وہ اپنی آرزوں میں تم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے چناچہ فرمایا (اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى۔ فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَالْاُوْلٰى) کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟ چناچہ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے پس وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–31

جبرئیل (علیہ السلام) کو حضور ﷺ نے دو مرتبہ اصلی حالت میں دیکھا قول باری ہے (ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھیٰ ۔ اور انہوں نے اس فرشتہ کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے سدرۃ المنتہیٰ کے قریب) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور ربیع کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہ بات علم کے معنی کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور ضحاک سے مروی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ آسمان کی طرف جانے والی ہر چیز کے صعود کی اس پر انتہا ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 29] انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان کی ہر خواہش پوری ہوسکتی ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر تمہاری وہ تمنائیں اور آرزوئیں کس طرح اور کیونکر پوری ہوسکتی ہیں جو تم نے خداوند جل و علا کو چھوڑ کر لکڑی پتھر وغیرہ کی ان بےجان مورتیوں، طرح طرح کے آستانوں، اور زندہ و مردہ انسانوں سے وابستہ کر رکھی ہے ؟ سو آج تم لوگوں نے جو اپنے خود ساختہ معبودوں سے طرح طرح کی امیدیں اور آرزوئیں وابستہ کر رکھی ہیں، تو ان کے لئے آج تم اپنے آپ کو خوش کرنے کی غرض سے جو چاہو فلسفہ طرازیاں کرتے رہو، لیکن جب اصل حقیقت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–26

اللہ کی طرف سے کفار کے لیے تنبیہ تشریح : ان آیات میں شرک کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے تو چلو یہ بات تھی کہ یہ لوگ لا علمی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے مگر اب تو ان کے پاس حضرت محمد ﷺ بےحد معقول پیغام اور اللہ کی پہچان کے لیے انتہائی کھلی اور پکی نشانیاں لے کر آچکے ہیں پھر بھی یہ لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو عقل ہی نہیں آتی کہ یہ بےجان پتھر کی مورتیاں بھلا اللہ کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں اور پھر حد تو یہ ہے کہ ان کو اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہی اللہ سے ان کی سفارش کریں گی۔ جب کہ اللہ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ ': اور آسمانوں میں بہت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 24–26

ف 12 مطلب یہ ہے کہ جب فرشتوں کا یہ حال ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہیں تو تمہارے ان بتوں کی کیا مجال کہ کسی کی سفارش کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:24) ام استفہام انکاری کے لئے ہے الانسان سے مراد یا تو کافر ہے یا عام انسان ۔ پہلی صورت میں مفہوم ہوگا :۔ ان کفار نے ان بتوں سے جو طرح طرح کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں یہ محض دھوکہ اور فریب ہے ان کی یہ توقعات کبھی بھی پوری نہ ہوں گی۔ دوسری صورت میں مفہوم ہوگا :۔ ایسا نہیں ہوا کرتا کہ انسان جو چاہے وہ ضرور پورا ہوکر رہے۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اذن سے ہو رہا ہے۔ اور عالم آخرت میں جو کچھ ہوگا اس کے حکم سے ہوگا۔ ما تمنی : ما موصولہ تمنی اس کا صلہ۔ ماضٰ واحد مذکر غائب ۔ تمنی (تفعل) مصدر۔ بمعنی چاہنا۔ تمنا کرنا، آرزو کرنا۔ جس کی وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–28

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے بت پرست لوگوں کے بتوں کی مذمت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کہیں بت پرستی کی اجازت نہیں ہے شیطان کے بہکانے سے ان بت پرستوں نے یہ بت پرستی اپنی طرف سے تراش لی ہے پھر آخر کو نتیجہ کے طور پر یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی دانائی کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں اور جس خدا نے سب کچھ پیدا کیا ہے اس خدا کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں اور اگرچہ آسمانوں کا حال ان کو معلوم نہیں ہے لیکن جب اللہ کے رسول نے تفصیلی حال معراج اور آسمانوں کا بیان کیا تھا تو ان کو عقل دوڑانی چاہیے تھی کہ بغیر تائید غیبی کے اس طرح غیب کا حال کون…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–24

[10] یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر رسول اکرم ﷺ کو ہوئے۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہوسکتے تھے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کا مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا۔ خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–25

ف 1: یہ واضح طور پر بتایا جاچکا ہے ۔ کو اس کے تخلیل کے لئے کن کن معتقیات کا ہونا ضروری ہے ۔ کیا ان لوگوں کی یہ رائے ہے ۔ کہ یہ جو کچھ چاہیں گے وہی ہوگا ۔ اور دین کو ان کی خواہشات نفس کے تابع کردیا جائے گا ۔ سو ایسا نہیں ہوسکتا ؟ دنیا اور آخرت کے تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ ان کو دنیا میں بھی اس ذلیل عقیدہ پر مواخذہ کریگا ۔ اور عاقبت میں بتائے گا ۔ کہ تم لوگ راہ راست پر گامزن نہیں تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) بھلا کہیں انسان کا ہر چاہا پورا ہوتا ہے اور کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے اور کہیں آدمی کو ملتا ہے جو کچھ چاہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟ 24 ؎ یہ ان خواہشات کے پجاریوں کو کہا جا رہا ہے یا ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا انسان کو وہ سب کچھ ملتا ہے جس کی وہ تمنا کرے ؟ یا بہت سی تمنائیں ایسی ہوتی ہیں جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتیں۔ اگر فی الواقع بات ایسی ہے کہ بہت سی تمنائیں ایسی ہوتی ہیں جو پوری نہیں ہوتیں تو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ تمہاری یہ تمنا کبھی شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہوگی کہ تم جس کو چاہو اپنا معبود بنا لو کیونکہ معبود صرف اور صرف ایک ہے جو وحدہ لا شریک ہے اور اس طرح یہ بھی تم سمجھ لو کہ اپنی مرادیں حاصل کرلینے کی غیر اللہ سے جو امیدیں رکھتے ہو اور جس طرح ان کو اپنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–28

Various Types of Zann إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (and conjecture is of no use in [ the matter on Truth.... 53:28) The Arabic word ظَن Zann is used in several different senses, and one of them is baseless thoughts. This is the sense in which it is employed in the verse, because baseless thoughts were the cause of idolatry. And the verse purports to remove the cause. Zann is also used as the antonym of yaqin. Yaqin refers to assured or definitive knowledge about something that really exists, not the figment of someone's imagination. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

20 Another meaning of this verse can be: "Is man entitled to take anyone he pleases as his god ?" Still another meaning can be: "Can the desire of man to have his prayers answered by these gods ever be fulfilled?"

Read the full tafseer →