Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
سورة الطُّوْر 9
مطلب یہ ہے کہ نبی سے قیامت اور آخرت اور جنت و دوزخ کی خبریں سن کر انہیں مذاق کا موضوع بنا رہے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرنے کے بجائے محض تفریحاً ان پر باتیں چھانٹ رہے ہیں۔ آخرت پر ان کی بحثوں کا مقصود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں ہے، بلکہ ایک کھیل ہے جس سے یہ دل بہلاتے ہیں اور انہیں کچھ ہوش نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
۔۔۔۔ (13۔۔۔۔ 14) (آخرت کا مذاق اڑانے والوں کا انجام)۔۔۔ اس دن ان دل لگی بازوں پر جو آفتیں نازل ہوں گی۔ یہ ان کی تفصیل ہے۔ دع کے معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں اور اس کے بعد دعا اس کی مزید تاکید کے لیے ہے، یعنی آج یہ دل لگی میں مصروف ہیں لیکن اس دن یہ جہنم کی طرف دھکے دے دے کر ہانکے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کا دنیا میں تم مذاق اڑاتے اور جس کو جھٹلاتے تھے
Read the full tafseer →13۔ 1 الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔
Read the full tafseer →یوم یدعون الی نار جھنم دعا (25 : 31) ” جس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔ “ یہ بھی ایک نہایت ہی پر آشوب منظر ہے۔ الدع کے معنی ہوتے ہیں پیچھے کی طرف دھکیلنا۔ یہ ایک ایسی حرکت ہے جو ان لوگوں کے حالات کے عین مطابق ہے جو تصور کائنات کے بارے میں طفلانہ تصورات رکھتے ہیں جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور جو اپنے ارد گرد میں چلنے والے معاملات پر غور نہیں کرتے۔ یوں ان کو چلایا جائے گا جہنم کی طرف مگر پیٹھ پر بھی دھکے مارمار کر۔
اس طرح دھکیل دھکیل کر جب ان کو جہنم کے کنارے پہنچا دیا جائے گا تو کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10 یعنی فرشتے ان کو سخت ذلت کے ساتھ دھکیلتے ہوئے دوزخ کی طرف لے جائیں گے اور وہاں پہنچا کر کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ حاضر ہے جس کو تم جھوٹ جانتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 13{ یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا۔ } ”جس دن ان کو دھکے دے دے کر جہنم کی طرف دھکیلاجائے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10 دعَّ بمعنی دھکے مار کر نکال دینا۔ سختی سے رفع کرنا (فقہ اللغۃ) یعنی کافر جہنم کی طرف جانے کو تیار نہ ہوں گے تو انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
3۔ ملامت مزید کے طور پر اہل دوزخ کو قائل کیا جائے گا کہ دنیا میں تو دوزخ کے بیان کو خوب جھٹلاتے اور سحرپر محمول کرتے رہے۔ اب کہو، اب مشاہدہ کے بعد بھی اس کے سحر ہی ہونے کے قائل ہو یا یہ کہ دنیا کی طرح یہاں بھی، یہ تمہیں نظر نہیں آرہا ہے ؟ (آیت) ” فی خوض یلعبون “۔ اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی آگیا کہ یہ منکرین ومکذبین اب بھی ان حقائق ومسائل پر اس سنجیدگی سے غور وفکر نہیں کرتے جو ان حقائق کی اہمیت کی متقاضی ہے بلکہ بےفکری، بےغوری، بےخیالی کے ساتھ ان پر سے یوں ہی سرسری گزرتے چلے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔
Read the full tafseer →یوم یدعون الی نار جھنم دعا
جس روز جہنم کی آگ کی طرف ان کو دھکے دے کرلے جایا جائے گا
یَوْمَ یُدَعُّوْنَ : وَعٌّ : سختی کے ساتھ دھکے دینا جہنم کے کارندے کافروں کے ہاتھ گردن سے باندھ کر پیشانیوں کو (جھکا کر) قدموں سے ملا کر منہ کے بل دھکے دے کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
جس روز کہ ان کو جہنم کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے فرشتے ان کو دھکے دیں گے اور ان کے منہ کے بل ان کو دوزخ کی طرف گھسیٹیں گے اور ان سے زبانیہ فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے تو کیا یہ دن اور یہ عذاب بھی سحر کیونکہ تم دنیا میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ساحر کہتے تھے یا تم اب بھی نہیں سمجھ رہے۔
پھر ارشاد خداوندی ہوگا اچھا تو اب دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر خواہ اس عذاب کو سہو یا نہ سہو کیونکہ خاموشی سے سہنا اور شور مچانا دونوں تمہارے حق میں برابر ہیں اور تم دنیا میں جیسا کرتے اور کہتے تھے ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →یوم یدغون الی نار جھنم دعا :”’ ع یدع“ سختی کے ساتھ دھکیلنا۔”’ غا“ مصدر مجہول برائے تاکید ہے، بری طرح دھکیلا جانا۔ یعنی فرشتے انہیں نہایت سختی کے ساتھ بری طرح دھکیلتے ہوئے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة دخان (47) ، رحمان (41) ، قمر (48) اور سورة مومن (70 تا 72)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔
2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔
عذاب الہی کے تصور سے رونا :
3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُدَعُّوْنَ [ جس دن وہ لوگ دھکیلے جائیں گے ] اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ کی طرف ] دَعًّا [جیسے دھکیلے جاتے ہیں ]
دع ع : دعا ۔ سختی سے ہٹانا ۔ دھکا دینا زیر مطالعہ آیت ۔ 13 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
اس کے بعد جھٹلانے والوں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0011﴾ (سو اس دن بڑی خرابی ہے یعنی بربادی ہے اور عذاب میں گرفتاری ہے ان لوگو کے لیے جو حق کو جھٹلاتے ہیں) ﴿ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَۘ0012﴾ (جو بیہودہ باتوں میں گھسے ہوئے ہیں اور اس شغل کو انہوں نے کھیل کے طور پر اختیار کر رکھا ہے) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں۔ یخوضون فی الباطل یلعبون غافلین لاھین یعنی یہ لوگ باطل چیزوں میں گھستے ہیں حق کے خلاف بولتے ہیں اور مشورے کرتے ہیں، غافل ہیں اپنے شغل کو کھیل بنا رکھا ہے۔ ﴿يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ0013﴾ یہاں ان کا یہ حال ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔
(ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔
قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
6:۔ ” یوم یدعون “ یدعون، انہیں دھکا دے کر پھینکا جائیگا۔ یدفعون الیھا بعنف (بیضاوی) ۔ ھذہ النار، سے پہلے فیقال لہم مقدر ہے (مدارک) جس دن جھٹلانے والوں کو دھکے دے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائیگا یہ وہی جہنم ہے جس سے ہمارے پیغمبر (علیہم الصلوۃ والسلام) تمہیں ڈراتے تھے لیکن تم اس کو نہ مانتے تھے۔ ” افسحر ھذا۔ الایۃ “ اب بتاؤ کیا یہ بھی جادو ہی ہے اور تمہاری نظر بندی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ دوزخ نظر آرہا ہے، لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں ؟ جس طرح دنیا میں تم معجزات ِ انبیاء (علیہم السلام) کو جادو اور نظر بندی سے تعبیر کیا کرتے تھے کیا یہ جہنم بھی تمہیں نظر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا 13 ۭ
دع
الدَّعُّ : الدفع الشدید وأصله أن يقال للعاثر : دع دع، كما يقال له : لعا، قال تعالی: يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلى نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا[ الطور/ 13] ، وقوله : فَذلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ [ الماعون/ 2] ، قال الشاعر : دَعَّ الوصيّ في قفا يتيمه
( د ع ع ) الدع ۔ کے معنی سختی کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں ۔ اصل میں یہ کلمہ زجر ہے جس طرح پھسلنے والے کو ( بطور دعا لعا کہا جاتا ہے ۔ اسیطرح دع دع بھی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں : ۔ يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلى نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا[ الطور/ 13] جس دن وہ آتش جہنم کی طرف نہایت سختی سے دھکیلے جائیں گے ۔ فَذلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَھَنَّمَ دَعًّا۔ ھٰذِہِ النَّارُالَّتِیْ کُنْتُمْ بِھَا تُـکَذِّبُوْنَ ۔ (الطور : 13، 14)
(جس دن انھیں آتش دوزخ کی طرف دھکے مار مار کرلے جایا جائے گا۔ کہ یہ ہے وہ دوزخ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ )
مذاق اڑانے والوں کا انجام
یہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کو دل لگی کا موضوع بناتے اور اس کا تمسخر اڑاتے تھے، قیامت کے دن انھیں دھکے دیتے ہوئے نارِجہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ دَعّ کا معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں۔ جہنم کی طرف یہ لوگ اسی طرح دھکے دے دے کے لے جائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم دنیا میں مذاق اڑاتے اور انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔
ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے…
Read the full tafseer →آیت 13 : یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا (جس روز ان کو جہنم کی آگ کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے) یہ یوم تمور سے بدل ہے۔ الدع : زور سے دھکا دینا اور وہ اس طرح ہوگا۔ کہ آگ کے مقررہ فرشتے ان کے ہاتھ گردنوں سے باندھ دیں گے اور
پیشانیوں اور قدموں کو جکڑ کر اکٹھا کردیں گے۔ پھر چہروں کے بل ان کو جہنم کی طرف دھکیل کرلے جائیں گے۔ پس ان کو کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →12 ۔” الذین ھم فی خوض یلعبون “ باطل میں غوروخوض کرتے ہیں ، غفلت ولاپروائی میں کھیلتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا) ۔ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے جائیں گے اور نہایت درشتی سے انہیں ہانکا جائے گا انہیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر وتوبیخ اور ملامت کے طور پر انہیں کہا جائے گا۔ (ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون) یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے، آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[ 11] مکذبین کی غفلت شعاری اور سخن سازی کا حوالہ و ذکر :
سو اس سے مکذبین یعنی جھٹلانے والوں کی ایک خاص صفت یعنی ان کی غفلت اور سخن سازی کا حوالہ و ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی ہولناک خرابی اور ہلاکت ہے ان جھٹلانے والوں کے لئے جو اپنی سخن سازیوں میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ خوض کے اصل معنی گھسنے اور پانی میں چلنے کے ہیں، پھر یہ مطلقاً شروع کرنے اور اپنانے کے معنی میں مستعمل ہونے لگا۔ اور پھر باطل میں گھسنے اور مشغول ہونے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، اور باطل پرست انسان چونکہ اپنے باطل کو درست ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی منطق طرازی، سخن سازی، اور حجت بازی، سے کام لیتا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
گنہگاروں کی حالت حساب کے دن
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں قیامت کا ہلکا سا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ ' جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے کائنات میں کشش ثقل اور گردشی حرکت نے ناقابل یقین توازن قائم کر رکھا ہے۔ ایک دن یہ توازن اللہ کے حکم سے ختم ہوجائے گا زمین کی کشش ثقل ختم ہوجائے گی تو زمین پر موجود ہر چیز زمین کو چھوڑ کر اڑنا شروع کر دے گی۔ زمین کے ان حالات کا ذکر بیشمار دفعہ کیا جاچکا ہے اور سائنس دان اس حقیقت کو مان رہے ہیں۔ اور قیامت کے قریب آنے کی نشانیاں سائنس اپنی زبان میں اور قرآن و احادیث اپنے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 5 یعنی جنہیں فرشتے دھکیل کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(52:13) یوم یدعون الی نار جھنم دعا : یوم مفعول فیہ۔ یدعون مضارع مجہول جمع مذکر غائب : وہ دھکے مار کر ہنکائے جائیں گے۔ وہ نہایت سختی سے دھکیلے جائیں گے۔ دع (باب نصر) مصدر بمعنی سختی سے دھتکارنا۔ دعا مفعول مطلق، یوم یدعون بدل ہے یوم تمور سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16
مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔
(ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔
[7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔
(الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور
1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔
اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(13) وہ دن وہ ہوگا جس دن یہ لوگ دوزخ کی طرف دھکے دے دے کر دھکیلے جائیں اور سختی سے نار جہنم کی طرف روانہ کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ف 6۔ یعنی جن آیتوں میں اس کی خبر تھی ان کو جھٹلاتے تھے۔
Read the full tafseer →جس روز وہ آتش دوزخ کی طرف دھکیل کرلے جائے جائیں گے
13 ؎ (یدعون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول اس کا اصل مادہ د ع ع ہے دع کے معنی ان کے دھکے دے کر ہنکایا جائے گا۔ اور دعا دع یدع کا مصدر ہے۔ دھکیلنا ‘ دھکے دینا یعنی ان کو دیکھے دے کر نکالا جائے گا ‘ دھکے دے کر نکالنا۔ یعنی جس روز ان کو دھکے دے کر دوزخ کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا اور یہ وہ صورت ہے کہ جب کوئی شخص کسی جگہ میں داخل ہونے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کو دھکے دے کر اس مقام کی طرف لے جایا جائے اور نہایت سختی کے ساتھ وہاں لے جا کر کھڑا کردیا جائے اور وہ وہاں داخل ہونے اور کھڑا ہونے پر مجبور ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
9 It means that they are mocking and ridiculing the news of Resurrection, Hereafter, Heaven and Hell when they hear it from the Prophet, and instead of – considering it seriously they are disputing it only for fun and amusement. Their discussions of the Hereafter are not meant to understand the reality, but only to amuse themselves, and they do not at all realize the fate for which they arc destined.
Read the full tafseer →