Adh-Dhaariyat 51:45

Adh-Dhaariyat · from ayah 45

51:45

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ ۟ۙفَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَۙ

پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they were unable to arise, nor could they defend themselves.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat

All translations of 51:45

پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر وہ نہ تو اُٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ ہی کرسکتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس نہ تو وه کھڑے ہو سکے اور نہ بدلہ لے سکے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نتیجہ یہ کہ نہ تو ان میں یہ سکت رہی کہ کھڑے ہوسکیں اور نہ وہ اس قابل تھے کہ اپنا بچاؤ کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ نہ کھڑے رہنے پر قدرت پا سکے اور نہ وہ (ہم سے) بدلہ لے سکنے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر نہ انھوں نے کسی طرح کھڑے ہونے کی طاقت پائی اور نہ وہ بدلہ لینے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر نہ تو ان میں میں کھڑا ہونے کی سکت رہ گئی اور نہ ہی وہ اپنا بچاؤ کرسکے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر نہ وہاٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو ہی کرسکے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس کے بعد نہ تو ان میں کھڑے ہونے کی کوئی سکت تھی اور نہ ہی اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت (و قوت)

— مولانا اسحاق مدنی

سو نہ تو وہ کھڑے ہی ہو سکے اور نہ (ہم سے) بدلہ ہی لے سکے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو نہ ان میں کھڑے ہونے کی سکت رہی اور نہ ہی اس قابل رہے کہ بدلہ لیتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر وہ نہ تو اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ مقابلہ کرسکتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They were unable even to stand up or protect themselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then they were neither able to stand (before the punishment), nor could they defend themselves.

— Muhammad Taqi Usmani

Then they were neither able to stand (before the punishment), nor could they defend themselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they were unable to rise up, nor could they help themselves.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they were unable to rise up, nor could they help themselves.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they were unable to arise, nor could they defend themselves.

— Saheeh International

They were unable to stand up, nor were they helped.

— Muhammad Sarwar

So they were not able to rise up, nor could they defend themselves-

— Muhammad Habib Shakir

So they were not able to stand, nor could they help themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

Then they could not even stand (on their feet), nor could they help themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 51:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–46

انجام تکبر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 45–46

سورة الذّٰرِیٰت 42 اصل الفاظ ہیں مَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ۔ انتصار کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے حملہ سے بچانا۔ اور دوسرے معنی ہیں حملہ کرنے والے سے بدلہ لینا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–46

قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فما استطا عوامن قیام وماکانوامنتصرین (45) یعنی جب انہوں نے کڑک سنی تو ان پر دہشت اور کپکپی طاری ہوگئی۔ وہ کھڑے نہ رہ سکے بلکہ زمین پر گر پڑے۔ سورة اعراف میں ان کا حال یوں بیان ہوا ہے : فاخذتھم الرجفۃ فاصبعوا فی دارھم جثمین (الاعراف : 91) (پس ان کو کپکی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے)۔ وما کانو متنصرین، انتصار، کے معنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب سے اپنی مدافعت کرنے والے نہ بن سکے۔ اس معنی میں یہ لفظ معروف ہے۔ امرء القیس کا شعر ہے۔ فانشب اظفارہ فی النساء فقلت ھسلت الاتنتصر (کتے نے اس نیل گائو کی ران میں اپنے پنجے گاڑدیئے۔ تب میں نے اس سے کہا، کم بخت، اب تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 چہ جائیکہ وہ بھاگ سکیں۔ 45۔ 2 یعنی اللہ کے عذاب سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–45

14: یعنی وہ عذاب کی آندھی تھی، اس لیے ہواؤں میں عام طور سے جو فائدے ہوا کرتے ہیں، وہ اس میں نہیں تھے۔ قوم عاد کا تعارف سورة اعراف : 65 میں اور قوم ثمود کا تعارف سورة اعراف : 73 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقوم ........ فسقین (15 : 64) ” اور ان سب سے پہلے ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔ “ یہ قصہ نوح کی طرف نہایت ہی سرسری اشارہ ہے۔ بغیر تفصیلات کے اور بغیر اضافوں کے کہ ذرا قوم نوح کو بھی یاد کرلو ، جہاں قوم نوح کے قصے میں (فی نوح) کی بجائے (قوم نوح) کے الفاظ آئے ہیں اصل عبارت یوں ہے۔ اذکرقوم نوح کہ قوم نوح کا تذکرہ بھی کردے اور اس کے بعد آیات کا آغاز ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 44–45

11 یعنی ان کی شرارت روز بروز بڑھتی گئی۔ آخر عذاب الٰہی نے آلیا ایک کڑک ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب ٹھنڈے ہوگئے۔ وہ سب زور و طاقت اور متکبرانہ دعوے اور طنطنے خاک میں مل گئے کسی سے اتنا بھی نہ ہوا کہ پچھاڑ کھانے کے بعد ذرا اٹھ کھڑا ہوتا۔ بھلا بدلہ تو کیا لے سکتے تھے اور اپنی مدد پر کسے بلاتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45{ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ۔ } ”تو نہ ان میں کھڑے ہونے کی سکت رہی اور نہ ہی اس قابل رہے کہ بدلہ لیتے۔“ یعنی نہ تو وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو ہی کرسکے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 انتصر کے دو مفہوم :۔ یعنی عذاب سے دہشت کا یہ عالم تھا کہ جو بیٹھا تھا اس کو اٹھ کر کھڑا ہونے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ کہیں جاکر عذاب سے پناہ لینا تو دور کی بات ہے۔ انتصار کا لفظ دو معنوں میں آتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر کوئی حملہ کرے تو اس سے اپنا بچاؤ کرنا اور دوسرا یہ کہ جو حملہ کرے اس سے بدلہ لے لینا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ یہ قوم بڑے مضبوط جسم والی بڑے ڈیل ڈول والی، اپنی طاقت اور قوت پر فخر و ناز کرنے والی تھی اور ڈھینگیں مارنے والی تھی۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا تو یہ بدلہ تو نہ لے سکی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–47

26۔ (سو کسی مذہب والے کا حق تعالیٰ کی صفت قدرت کو محدود جاننا حد درجہ نادانی وجہل ہے) (آیت) ” باید “۔ ید۔ کے معنی قوت کے ہیں۔ قرآن مجید ہی میں متعدد بار اسی معنی میں آیا ہے۔ مثلااولی الایدی والابصار۔ واذکر عبدنا داود ذا الاید۔ چناچہ یہاں بھی یہی معنی بلاتکلف ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ بقوۃ (روح) والاید القوۃ ھذا ھو المشھور (کبیر) اے بقوۃ قالہ ابن عباس ؓ ومجاہد وقتادۃ والثوری وغیر واحد (ابن کثیر) آیت سے سے مسائل ذیل بھی روشنی میں آگئے۔ اور ہر ہر مسئلہ کے اثبات کے ساتھ ساتھ اس کے مقابل جاہلی مشرکانہ خیال کی تردید بھی ہوگئی :۔ (1) آسمان ساری دوسری مخلوقات کی طرح حادث و مخلوق ہی ہے، قدیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–46

وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ نشانی کیا تھی ؟ بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فما استطاعوا من قیام وما کانوا منتصرین . سو نہ تو کھڑے ہی ہو سکے اور نہ ہم سے بدلہ لے سکے۔ فَمَا اسْتَطَاعُوْا : یعنی نزول عذاب کے بعد بھاگنے کے لیے کھڑے بھی نہ ہو سکے۔ قتادہ ؓ نے کہا : زمین سے اٹھ بھی نہ سکے۔ وَمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ : یعنی عذاب سے محفوظ نہ رہ سکے یا منتصرین کا معنی ہے ‘ انتقام لینے ولے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 45–46

(45۔ 46) سو وہ عذاب کے سامنے نہ تو کھڑے ہی ہوسکے اور نہ وہ خود سے عذاب خداوندی کو ہٹا سکے۔ اور قوم صالح سے پہلے ہی ہم قوم نوح کو ہلاک کرچکے تھے کیونکہ وہ کافر تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فما استطاعوا من قیام…:”منتصرین“”انتصار“ کے لفظ میں اپنے آپ کو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی شامل ہے اور بدلا لینے کا بھی۔ یعنی جب وہ عذاب کے تھپیڑے سے زمین پر گرے تو پھر نہ کسی طرح اٹھ سکے اور نہ اس سے بچاؤ کرسکے، بدلا لینا تو بہت دور کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–45

وفی ثمود یعنی ثمود میں بھی عبرت اور نشانی ہے جب انہیں کہا گیا : تم دنیا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی گزارو۔ حتی حین ہلاکت کے وقت تک۔ یہ تین دن ہیں۔ جس طرح سورة ہود آیت میں ہے تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمثعوا کا معنی ہے اسلام لے آئو اور اپنی اجل کے پورا ہونے تک لطف اندوز ہو لو۔ فعتو اعن امر ربھم انہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ فاخذ تھم الصعقۃ صاعقہ سے مراد موت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہر قسم کا مہلک عذاب ہے۔ حسین بن واقد نے کہا : قرآن حکما میں جہاں بھی صاعقہ کا لفظ ہے اس مراد عذاب ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ حمید، ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 45–46

13:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فما استطاعوا من قیام '' (سو وہ کھڑے نہ ہوسکے) یعنی انہوں نے کھڑے ہونے کی طاقت نہ رکھی۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فما استطاعوا من قیام '' کہ وہ اللہ کے عذاب کی وجہ سے اٹھ نہ سکے جو ان پر نازل ہوا ، (آیت ) '' من قیام وما کانوا منتصرین '' (اور نہ ہم سے بدلہ لے سکے) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انکار کرنے کی طاقت نہ رکھی۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَمَا اسْتَطَاعُوْا [ تو وہ لوگ قدرت نہیں رکھتے تھے ] مِنْ قِيَامٍ [ کسی طرح کھڑے ہونے کی ] وَّمَا كَانُوْا [ اور وہ لوگ نہیں تھے ] مُنْتَصِرِيْنَ [ بدلہ لینے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–45

فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–46

تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–45

14:۔ ” وفی ثمود “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ قوم ثمود کی تباہی بھی عبرتناک تھی جب ان سے کہا گیا اللہ کی نعمتوں سے زندگی بھر فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کے پیغمبر کا اتباع کرو، لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کی تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک گرج اور کڑک نے انہیں آلیا اور وہ اس کے سامنے ایک لمحہ بھی نہ ٹھہر سکے اور اس سے اپنے کو نہ بچا سکے، نہ اس عذاب کا مقابلہ ہی کرسکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–46

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُوْا مُنْتَصِرِيْنَ۝ 45 ۙ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ انْتِصَارُ والاسْتِنْصَارُ وَالانْتِصَارُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–46

ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔ تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 43–45

وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ ۔ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَاَخَذَتْھُمُ الصّٰعِقَۃُ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ ۔ (الذریٰت : 43 تا 45) (اور ثمود کی سرگزشت میں بھی نشانیاں ہیں جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک اور عیش کرلو۔ تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی، تو ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا اور وہ دیکھتے رہے۔ پھر نہ وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو کرسکے۔ ) قومِ ثمود کے انجام کا ذکر عاد کے بعد قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے ان میں بھی عبرت کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–45

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا دور اور ان کا انجام۔ قرآن مجید نے قوم ثمود کو اصحاب الحجر بھی کہا ہے۔ (الحجر : 80) اس کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور کالونیاں تعمیر کرلی تھیں تاکہ زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ صالح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 45 : فَمَا اسْتَطَاعَوْا مِنْ قِیَامٍ (پس نہ تو وہ کھڑے ہی ہوسکے) یعنی بلکہ بھاگ گئے یا یہ عرب کے اس قول سے ہے۔ مایقوم بہٖ ۔ جبکہ وہ کسی چیز کے دفع کرنے سے عاجز آجائے۔ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ (اور نہ وہ بدلہ لے سکے) نہ وہ عذاب کو روک سکے۔ یا ان کو عذاب سے ہمارا مقابلہ ممکن نہ ہوا کیونکہ انتصار مقابلے کے لئے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

44 ۔” فعتوا عن امر ربھم فاخذتھم الصاعقہ “ یعنی تین دن گزرنے کے بعد اور وہ موت ہے ابن عباس ؓ کے قول میں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی عذاب اور صاعقہ ہر ہلاک کردینے والا عذاب۔ اور کسائی (رح) نے ” الصعقہ “ پڑھا ہے۔ یہ اس آواز کو کہتے ہیں جو صاعقہ سے پیدا ہو۔ ” وھم ینظرون “ اس کے سامنے دیکھ رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–46

38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ ) پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے (وما کانو امنتصرین) اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کرسکے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 19–60

قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 42] عذاب یافتہ قوم کی بےبسی کی تصویر کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ عذاب آنے پر ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ نہ ان میں کھڑے ہونے کی کوئی سکت تھی اور نہ ہی اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت ووقت، سو اس سے اس عذاب یافتہ قوم کی بےبسی کی تصویر پیش فرما دی گئی جس کو اپنے قوت پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا، کہ اب وہ لوگ کھڑے بھی نہیں ہوسکتے تھے، کہ اٹھ کر کہیں بھاگ جاتے، اور عذاب سے بچ جاتے، یعنی وہ بالکل عاجز اور بےبس ہو کر رہ گئے تھے، [ منقول عن الحسن (رح) وھو تفسیر حسن، جامع البیان ] سو اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے بھاگ نکلنا کسی کے لئے ممکن نہیں، " والعیاذ باللّٰہ العظیم " روایات کے مطابق جب انہوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–46

نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

آیات 45 تا 60۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے آسمانوں کو اپنے دست قدرت سے بنایا یعنی اس میں کا ہر وصف ہمارا عطا کیا ہوا ہے اور ہم نے زمین کو انسانوں کے رہنے بسنے کے لیے تیار کردیا اور ہم نے کس قدر کمالات اور اوصاف اس میں سمودیے کہ ہر انسانی ضرورت کا خزانہ بنی ہوئی ہے پھر بقائے نسل کا نظام اس کی باریکیاں ہر شے کے جوڑے جوڑے نرومادہ کے مختلف اوصاف اور ان سے نسلوں کا بڑھنایہ سب باتیں اے انسان تمہارے لیے ہیں کہ تم نصیحت حاصل کرو اور عظمت باری کا اعتراف کرو۔ بھاگو نافرمانی شیطان اور نفس کے فریبوں سے اللہ کی طرف کہ میں اللہ کا رسول ﷺ تمہیں نافرمانی کے نتائج بد سے واضح طور پر آگاہ کررہا ہوں اور بروقت کررہا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–45

ف 12 لفظ ” انتصار “ ‘ میں اپنے آپکو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور اس سے بدلہ لینے کا بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(51:45) فما استطاعوا من قیام :عاطفہ۔ استطاعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ نہ کرسکے۔ ان سے نہ ہوسکا۔ ان چیزوں کا بتمام و کمال پایا جانا جن کی وجہ سے فعل سرزد ہوسکے استطاعت کہاتا ہے۔ فما استطاعوا من قیام۔ پھر وہ نہ تو اٹھنے کی طاقت رکھتے تھے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لایستطیعون نصر انفسھم (21:43) وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ یا اور جگہ فرمایا :۔ من استطاع الیہ سبیلا (3:97) جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھے۔ طور مادہ۔ طوع کی ضد کرہ ہے جس کو فعل مکمل کرنے کے اسباب مہیا ہوں اس کو مستطیع کہیں گے۔ اس کی ضد عاجز ہے یعنی جس کو تمام اسباب میں سے چند مہیا ہوں اور چند مہیا نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–46

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46 ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 46 ان آیات میں حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–46

(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–50

مذہب کے معنے 1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) کہ نہ تو وہ اٹھ ہی سکے نہ کھڑے ہی ہوسکے اور نہ وہ عذاب الٰہی کو ہی روک سکے۔ یعنی جہاں بیٹھے تھے بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے اور ہولناک چیخ سے سب کے سب مرگئے۔ وماکانوا منتصرین کے معنی ہم سے بدلہ نہ لے سکے مقابلہ نہ کرسکے۔ یا ممتنعین منا ہمارے عذاب کو نہ روک سکے غرض کئی معنی ہوسکتے ہیں ہم نے ترجمے اور تیسیر میں فرق کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ثمود کی قوم کے لوگ اٹھنے کی طاقت نہ لاسکے اور نہ ہی کسی کی مدد حاصل کر سکے 45 ؎ ثمود قوم کے لوگ اپنے پیشروئوں کی طرح بت پرست تھے بعض جن مرے ہوئے بزرگوں سے ان کو عقیدت تھی۔ ان کے بت تراش کر انہوں نے رکھے ہوئے تھے اور انہیں بزرگوں ‘ پیروں ‘ مرشدوں اور ولیوں کی یاد میں جو بت انہوں نے تراشے ہوئے تھے ان کو معبود سمجھتے تھے اور اس طرح کہ شرک میں وہ مبتلا تھے۔ ان کی اصلاح اور احقاق حق کے لئے ان ہی کے قبیلہ و خاندان سے صالح (علیہ السلام) کو ناصح پیغمبر اور رسول بنا کر بھیجا گیا تھا کہ وہ ان کو راہ راست دکھائیں اور ان کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نعمتیں یاد دلائیں جن سے صبح و شام وہ محفوظ ہوتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–46

After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُ‌كْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُ‌كْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 Intisar from which the word muntasirun in the original is derived means to save oneself from an attack by somebody as well as to avenge oneself on the attacker.

Read the full tafseer →