Explained with ayahs 38–46
انجام تکبر
ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح قوم لوط کے انجام کو دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں اسی قسم کا فرعونیوں کا واقعہ ہے ہم نے ان کی طرف اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ کو روشن دلیلیں اور واضح برہان دے کر بھیجا لیکن ان کے سردار فرعون نے جو تکبر کا مجسمہ تھا حق کے ماننے سے عناد کیا اور ہمارے فرمان کو بےپرواہی سے ٹال دیا اس دشمن الہٰی نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر اپنے راج لشکر کے بل بوتے پر رب کے فرمان کی عزت نہ کی اور اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضرت موسیٰ کی ایذاء رسانی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ یا تو جادوگر ہے یا دیوانہ ہے پس اس ملامتی کافر، فاجر، معاند متکبر شخص کو ہم نے اس کے لاؤ…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 41
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں اسے رَجْفہ (دہلا دینے والی اور ہلا مارنے والی آفت) کہا گیا ہے۔ کہیں اس کو صیحہ (دھماکے اور کڑکے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہیں اس کے لیے طاغیہ (انتہائی شدید آفت) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں اسی کو صاعقہ کہا گیا ہے جس کے معنی بجلی کی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کے بھی ہیں اور سخت کڑک کے بھی۔ غالباً یہ عذاب ایک ایسے زلزلے کی شکل میں آیا تھا جس کے ساتھ خوفناک آواز بھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔
اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وفی ثمود اذقیل لھم حتی حین، فعتواعن امرربھم فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون (43۔ 44)
قوم ثمود کے انجام کی طرف اشارہ
عاد کے بعد یہ ثمود کے انجام کی یاددہانی ہے۔ فرمایا کہ ان کی سرگزشت میں بھی عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے سامان عبرت موجود ہے۔ اذقیل لھم تمتعواحتی حین، یہ خاص طور پر اس وقت یاد دہانی فرمائی ہے جب ان کے سرکش لیڈر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور ان کے رسول حضرت صالح ؑ نے ان کو آخری تنبیہہ فرمائی ہے کہ بس کچھ دیر اور اس دنیا کے عیش سے بہرہ مند ہولو، اب تمہاری ہلاکت کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ اس آیت میں جو بات حتیٰ حین کے مجمل الفاظ میں فرمائی گئی ہے سورة ہود میں اس کی وضاحت یوں ہوئی ہے :…
Read the full tafseer →44۔ 1 (کڑاکا) آسمانی چیخ تھی اور اس کے ساتھ (زلزلہ) تھا جیسا کہ (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ 78) 7۔ الاعراف :78) میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
14: یعنی وہ عذاب کی آندھی تھی، اس لیے ہواؤں میں عام طور سے جو فائدے ہوا کرتے ہیں، وہ اس میں نہیں تھے۔ قوم عاد کا تعارف سورة اعراف : 65 میں اور قوم ثمود کا تعارف سورة اعراف : 73 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
اور تیسری نشانی قوم ثمود کی :
وفی ثمود ........ منتصرین (54) (15 : 14 تا 54)
” اور (تمہارے لئے نشانی ہے) ثمود میں جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کرلو مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرسکتے تھے۔ “
اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین (15 : 34) ” ایک خاص وقت تک مزے کرلو “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کو تین دنوں کی مہلت دی گئی تھی یعنی ناقہ کے بعدذ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔
قال تمتعوا ........ ایام ” پھر صالح نے ان کو خبردار کردیا کہ بس اب تین دن دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
11 یعنی ان کی شرارت روز بروز بڑھتی گئی۔ آخر عذاب الٰہی نے آلیا ایک کڑک ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب ٹھنڈے ہوگئے۔ وہ سب زور و طاقت اور متکبرانہ دعوے اور طنطنے خاک میں مل گئے کسی سے اتنا بھی نہ ہوا کہ پچھاڑ کھانے کے بعد ذرا اٹھ کھڑا ہوتا۔ بھلا بدلہ تو کیا لے سکتے تھے اور اپنی مدد پر کسے بلاتے۔
Read the full tafseer →آیت 44{ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ } ”تو انہوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے“
{ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ۔ } ”تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چنگھاڑ نے انہیں آپکڑا۔“
Read the full tafseer →38 گرنے والی بجلی کا عذاب :۔ صاعقۃ آسمان سے گرنے والی بجلی کو کہتے ہیں اور وہ جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر خاکستر بنا دیتی ہے۔ قوم ثمود کا قصہ بھی پہلے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے۔ ان پر جو عذاب نازل ہوا اس کے لیے کہیں صیحہ (زبردست چیخ، کڑک، دھماکہ) کا لفظ آیا ہے اور کہیں رجفۃ (زلزلہ) کا۔ گویا ان پر زمین سے عذاب آیا تھا اور آسمان سے بھی اور ہر مقام پر کسی ایک پہلو کا ذکر کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
25۔ قوم ثمود۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی سرگذشت کئی بار قرآن مجید میں آچکی ہے۔ اور حاشیے وہیں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اذ قیل لھم “۔ اس قول کے قائل پیغمبر وقت حضرت صالح (علیہ السلام) تھے۔ (آیت) ” تمتعوا حتی حین “۔ یعنی اگر کفر و سرتابی سے باز نہ آئے تو یہ دنیوی عروج واقبال چند ہی روز کا مہمان ہے اور اس کے بعد پھر ہلاکت ہی ہلاکت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
وترکنا فیھا آیۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس کے بعد ہم نے بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وہ نشانی کیا تھی ؟
بعض مفسرین حضرات نے ان نشان زدہ کنکریوں کو نشانی قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس نشانی سے مراد بحیرہ مردار (Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی تباہی و بربادی کے آثار پیش کر رہ ا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرہ مردار کا پانی پھیل گیا تھا۔ کیونکہ اس بحیرہ کا وہ حصہ جو ” اللسان “ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے صاف طور پر بعد کی پیداوار…
Read the full tafseer →فعتوا عن امر ربھم فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون . اور ثمود کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ان سے کہا گیا اور تھوڑے دن چین کرلو سو (اس ڈرانے پر بھی) ان لوگوں نے
اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ اس (عذاب کو) دیکھ رہے تھے۔
وَفِیْ ثَمُوْدَ : یعنی قوم ثمود کو ہلاک کرنے میں بھی ہم نے (اپنی قدرت کی) نشانیاں چھوڑی۔
اِذْ قِیْلَ لَھُمْ : یعنی جب انہوں نے اونٹنی کو قتل کردیا تو حضرت صالح نے ان سے کہا۔
تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ : یعنی اپنے گھروں میں صرف تین روز تک مزے اڑاتے رہو۔
فَعَتَوْا : یعنی انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے سرتابی کی اور صالح پر ایمان لانے اور ان کے کہے پر چلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(43۔ 44) اور صالح کی قوم کے واقعہ بھی عبرت ہے جبکہ ناقہ کی کونچیں کاٹنے کے بعد پھر صالح نے اپنی قوم سے فرمایا کہ عذاب آنے تک عیش کرلو تو انہوں نے پھر بھی اپنے پروردگار کے حکم کو قبول کرنے سے انکار کیا سو ان کو صاعقہ (کڑک) کے عذاب نے آلیا اور وہ اس عذاب کو اپنے اوپر نازل ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(وفی ثمود اذ قیل لھم تمتعواحتی حین…: اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ جب انہوں نے اونٹنی کو کاٹ دیا تو ان سے کہا گیا کہ تین دن تک خوب فائدہ اٹھا لو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ ان تین دنوں میں وہ تائب ہوسکتے تھے، مگر وہ اپنی سرکشی پر اور صالح ؑ کی تکذیب پر اڑے رہے تو تیسرے دن ان کے دیکھتے دیکھتے ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی (ہود : 67) جس کے ساتھ نہایت خوفناک کڑک والی بجلی گری، جس نے انہیں بھسم کردیا اور وہ اس طرح نیست و نابود ہوئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ فرمایا :(کان لم یغنوا فیھا) (ھود : 68) ”جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔“ دوسرا قول یہ ہے کہ اس ”تمتعوا حتی حین“ (ایک وقت تک خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
وفی ثمود یعنی ثمود میں بھی عبرت اور نشانی ہے جب انہیں کہا گیا : تم دنیا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی گزارو۔ حتی حین ہلاکت کے وقت تک۔ یہ تین دن ہیں۔ جس طرح سورة ہود آیت میں ہے تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمثعوا کا معنی ہے اسلام لے آئو اور اپنی اجل کے پورا ہونے تک لطف اندوز ہو لو۔ فعتو اعن امر ربھم انہوں نے اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ فاخذ تھم الصعقۃ صاعقہ سے مراد موت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہر قسم کا مہلک عذاب ہے۔ حسین بن واقد نے کہا : قرآن حکما میں جہاں بھی صاعقہ کا لفظ ہے اس مراد عذاب ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ حمید، ابن…
Read the full tafseer →11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فعتوا '' (انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے سرتابی کی) یعنی سرکشی کی (آیت ) '' فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون '' (سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ اس کو دیکھ رہے تھے) یعنی اچانک (عذاب نے آپکڑا )
12:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فعتوا '' یعنی انہوں نے سرکشی کی (آیت ) '' فاخذتھم الصعقۃ وھم ینظرون '' یعنی اچانک (عذاب نے پکڑلیا ) ۔
Read the full tafseer →فَعَتَوْا [ پھر انہوں نے سرتابی کی ] عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حکم سے ] فَاَخَذَتْهُمُ [ پھر پکڑا ان کو ] الصّٰعِقَةُ [ آسمانی بجلی نے ] وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ [اس حال میں کہ وہ دیکھتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
فرعون اور قوم عاد وثمود کی بربادی کا تذکرہ
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ فرمانے کے بعدفرعون اور عاد اور ثمود کی سرکشی اور ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بھی عبرت ہے ہم نے انہیں کھلی ہوئی دلیل دے کر بھیجا یعنی انہیں متعدد معجزات دیئے انہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل فیصلہ کرسکتا تھا کہ یہ شخص واقعی اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہے اور اس کا حق کی دعوت دینا اور خالق اور مالک جل مجدہ کی توحید اور عبادت کی طرف بلانا حق ہے لیکن فرعون نے حق سے اعراض کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ بتادیا اس نے جو یہ حرکت کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
تذکرہ مہمانان ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل برثواب مصدقین و عقوبت مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتک حدیث ...... الی ...... انھم کانوا قوما فسقین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مومنین ومتقین اور انکے انعامات کا بیان تھا قرآن کریم کا یہ خصوصی طرز بیان ہے کہ ایک فریق کے ذکر کے بعد اس کے بالمقابل فریق کا بھی حال بیان کردیا جائے تاکہ دونوں کا تقابل کرلیا جائے اور اس طرح ذہنی طور پر سامعین کیلئے قبول حق کی رغبت اور کفر ونافرمانی سے نفرت اور ڈر پیدا ہوسکے تو اب ان آیات میں نافرمانوں اور مجرموں کا ذکر ہے کہ خدا کے فرشتے ان پر عذاب لے کر پہنچے اور ان کو اس طرح ایک آن کی آن میں ہلاک کردیا گیا اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
14:۔ ” وفی ثمود “ یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے۔ قوم ثمود کی تباہی بھی عبرتناک تھی جب ان سے کہا گیا اللہ کی نعمتوں سے زندگی بھر فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کے پیغمبر کا اتباع کرو، لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کی تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک گرج اور کڑک نے انہیں آلیا اور وہ اس کے سامنے ایک لمحہ بھی نہ ٹھہر سکے اور اس سے اپنے کو نہ بچا سکے، نہ اس عذاب کا مقابلہ ہی کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو…
Read the full tafseer →فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ وَہُمْ يَنْظُرُوْنَ 44
عتو
العُتُوُّ : النبوّ عن الطاعة، يقال : عَتَا يَعْتُو عُتُوّاً وعِتِيّاً. قال تعالی: وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً
[ الفرقان/ 21] ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها
[ الطلاق/ 8] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ، مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] ، أي : حالة لا سبیل إلى إصلاحها ومداواتها . وقیل :إلى رياضة، وهي الحالة المشار إليها بقول الشاعر : 310 ۔ ومن العناء رياضة الهرم«2» وقوله تعالی: أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا
[ مریم/ 69] ، قيل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
ترکیب : الخطب الشان مسومہ ای معلمۃ بعلامات تعرف بھا قیل کانت مخططہ بسواد و بیاض صفۃ لحجارۃ اوحال من الضمیر المستکن فی الجار و المجرور و قیل معنی مسومۃ مرسلۃ من اسمت الماشیتہ ای ارسل تھا و فی موسیٰ فی عطفہ اقوال مختلفہ قیل انہ عطف علی قولہ تعالیٰ ۔ و ترکنا فیہا آیۃ و فی موسیٰ ایضاً ترکنا ایۃ اذ ارسلناہ الظرف متعلق بمحذوف و اذ منصوب بترکنا والاول اولیٰ برکـــنہ ای بقومہ ابن عباس ماتذر الجملہ حال مقدرۃ من الریح او خبر مبتداء محذوفھی وقوم نوح بالجر عطفا علی ماتقدم من قولہ و فی عاد و بالنصب علی تقدیر اھلکنا۔
تفسیر : اب ہم اس قصہ کو مع شرح الفاظ قرانیہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
وَفِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ ۔ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَاَخَذَتْھُمُ الصّٰعِقَۃُ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ ۔ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّمَا کَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ ۔ (الذریٰت : 43 تا 45)
(اور ثمود کی سرگزشت میں بھی نشانیاں ہیں جبکہ ان سے کہا گیا کہ تم ایک خاص وقت تک اور عیش کرلو۔ تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی، تو ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا اور وہ دیکھتے رہے۔ پھر نہ وہ اٹھ ہی سکے اور نہ اپنا بچائو کرسکے۔ )
قومِ ثمود کے انجام کا ذکر
عاد کے بعد قوم ثمود کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے ان میں بھی عبرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کے بعد قوم ثمود کا دور اور ان کا انجام۔
قرآن مجید نے قوم ثمود کو اصحاب الحجر بھی کہا ہے۔ (الحجر : 80) اس کا علاقہ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور کالونیاں تعمیر کرلی تھیں تاکہ زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ بڑے بڑے جرائم میں ملوث تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم میں صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ صالح…
Read the full tafseer →آیت 43 : فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ (پس ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی) اس کو بجا لانے سے تکبر اختیار کیا۔ فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ (پس ان کو عذاب نے آلیا) الصاعقہ : سے عذاب مراد ہے ہر مہلک عذاب کو صاعقۃ کہا جاتا ہے۔
قراءت : الصعقۃ علی نے پڑھا۔ فعلہ کا وزن ایک بار کیلئے آتا ہے۔ یہ مصدر ہے ای صعقتہم الصاعقۃ۔ ان کو عذاب نے پکڑ لیا یکبارگی پکڑنا۔ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ (اور وہ دیکھ رہے تھے) کیونکہ وہ دن کے وقت تھا جس کو وہ آنکھوں سے ملاحظہ کر رہے تھے۔
Read the full tafseer →43 ۔” وفی ثمود اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین “ یعنی ان کی مدتوں کے فناء ہونے کے وقت۔ جب انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹیں تو ان کو کہا گیا تم تین دن نفع اٹھالو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
38۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وَفِيْ ثَمُوْدَ ) ۔ اور ثمود میں بھی۔ ایک عظیم الشان عبرت ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح کو مبعوث فرمایا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طور پر اونٹنی بھیجی مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی۔ (اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ ۔ فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ ) چناچہ انہیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھا لو تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔ یعنی ہلاک کردینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آلیا (وھم ینظرون) اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–60
قول باری ہے (و فی اموالھم حق، اور ان کے اموال میں حق ہوتا تھا) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، حسن بصری اور شعبی کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ ایک حق ہے جو مال کے اندر واجب ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردیتا ہے اگر وہ صدقہ وغیرہ نہیں دیتا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔
ابن سیرین کا قول ہے کہ صدقہ یعنی زکوٰۃ ایک معلوم حق ہے۔ حجاج نے الحکم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ زکوٰۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا ہے ۔ حجاج نے ابوجعفر سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے تاہم راویوں نے حضور ﷺ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[ 40] قوم عاد میں پائے جانے والے درس عبرت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور عاد میں بھی جبکہ ہم نے ان پر بھیجی و انتہائی سخت آندھی۔ عقیم دراصل بانجھ عورت کو کہا جاتا ہے۔ سو اس میں اس ہوا کو بانجھ عورت سے تشبیہہ دی گئی ہے، کہ جس طرح وہ نہ حاملہ ہوتی ہے نہ بچہ جنتی ہے، اسی طرح اس ہوا میں بھی کوئی خیر نہ تھی۔ بلکہ یہ سراسر تباہی کے لئے چھوڑ دی گئی تھی، جس نے اس بدبخت قوم کو ہمیشہ ہمیش کے لئے خاتمہ کردیا گیا، والعیاذ باللّٰہ، سو عاد کی اس بدبخت قوم پر عذاب لانے والی وہ ہولناک ہوا ایسی بےفیض ہوا تھی جو نہ بارش لائے، اور نہ کسی طرح کا کوئی اور نفع پہنچائے، واضح رہے کہ عربی زبان میں بارش لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–46
نافرمان اقوام پر عذاب اِلٰہی
تشریح : تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ وہ فرشتے جو انسانوں کی شکل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی خوشخبری لائے تھے وہ اسرافیل جبرئیل اور میکائیل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ حکمت والا اور علم والا ہے۔ تم جس عزت و اکرام کے مستحق ہو وہ خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ( صفحہ 95) پھر ان قوموں کا ذکر دہرایا گیا ہے کہ جو اپنی نافرمانی، ہٹ دھرمی اور کفر وشرک کی سزا میں نیست و نابود کردی گئیں جن میں قوم نوح (علیہ السلام) طوفان سے برباد ہوئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن پر پتھروں کا عذاب آیا۔ پھر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر ہے۔ ان کو پانی میں ڈبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
تب ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے آنے کا اہم مقصد کیا ہے کس بات کو یہاں ٹھہرے تو آگے کہاں اور کس کام سے جانا ہے تب انہوں نے ساری بات عرض کردی کہ ہم قوم لوط (علیہ السلام) پر عذاب واقع کرنے جا رہے ہیں جو گناہ گار اور مجرم ہیں یعنی جرم وگناہ ان کی سرشت میں داخل ہوچکا ہے ہمیں حکم ہوا ہے کہ ان پر مٹی سے بنے ہوئے کنکر پتھر برسائیں۔ جو ان حد سے گزرنے والوں کے لیے آپ کے پروردگار نے مقرر کر رکھے ہیں کہ ہر آدمی کے لیے اس کے نام کا پتھر گرتا ہے اور وہ جدھر جاتا ہے اس کے پیچھے جاتا اور جب لگتا تو چور چور کردیتا اس ہلاکت سے ہم نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جو بہت کم تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ف 12 لفظ ” انتصار “ ‘ میں اپنے آپکو کسی سے بچانے کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور اس سے بدلہ لینے کا بھی۔
Read the full tafseer →(51:44) فعتوا۔تفعیل کے لئے ہے عتوا ماضی جمع مذکر غائب عتو (باب نصر) مصدر بمعنی اطاعت سے اکڑنا۔ تکبر کرنا۔ اور حد سے بڑھ جانا۔ مگر انہوں نے تکبر اور غرور کے ساتھ (اپنے رب کے حکم کی تعمیل سے) سرتابی کی۔
فاخذتھم :عطف سببی کا ہے۔ اخذت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع الصعقۃ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ پس صاعقہ نے ان کو آلیا۔
الصعقۃ : امام راغب (رح) لکھتے ہیں :۔ الصاعقۃ اور الصادقۃ دونوں کے تقریباایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ہولناک دھماکہ، لیکن صقع کا لفظ اجسام ارضی کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور صعق اجسام علوی کے بارے میں ۔ بعض ایک لغت نے کہا ہے صاعقہ تین قسم پر ہے :۔
اول : بمعنی موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–46
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 46
ضعیف مہمان۔ المکرمین عزت والے۔ منکرون اجنبی لوگ۔ راغ جلدی جلدی گیا۔ عجل بچھڑا۔ سمین تلا ہوا۔ اوجس اس نے چھپا دیا۔ اس نے محسوس کیا۔ غلام لڑکا۔ اقبلت وہ حاضر ہوئے صرۃ چیختی چلاتی ، آواز دیتی ۔ صلت اس نے بیٹا۔ عجوز بڑھیا۔ عقیم بانجھ، اولاد سے ناامید۔ ماخطبکم تمہارا مقصد کیا ہے ؟ ارادہ کیا ہے ؟ مسومۃ نشان لگے ہوئے۔ مسرفین حد سے آگے بڑھنے والے ۔ نبذنا ہم نے پھینکا الیم دریا۔ ملیم قابل ملامت۔ العقیم منحوس۔ ماتذر نہیں چھوڑتی ہے الرمیم ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ تمتعوا فائدے حاصلک ر لو۔ عتوا انہوں نے منہ پھیرا۔ منتصرین بدلہ لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 46
ان آیات میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
(ف 1) اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون ، عاد، ثمود اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزرچکے ہیں یہ سب عبرت کے قابل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[20] یعنی وہ معجزات و دلائل جن سے صاف ظاہر تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
مذہب کے معنے
1: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے ۔ کہ جس وقت بھی لوگ امرحق کی مخالفت کریں انبیاء کے پیغام کو ٹھکرائیں ۔ اور فرطت کی آواز کو نہ سنیں ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکتا ہے ۔ اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ۔ سدومیوں کا ذکر گزر چکا ہے ۔ ان آیتوں میں قوم ثمود اور نوح کے مخالفین کا ذکر ہے ۔ کہ جب ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی اور نہایت سرکشی سے اللہ کی باتوں کا انکار کیا ۔ تو ایسا عذاب آیا ۔ کہ یہ اس کی تاب نہ لاسکے ۔ اللہ کا قانون ہے ۔ کہ فسق وفجور کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کیا جائے ۔ اور ایسے لوگوں کو جو اس کے قانونوں کو توڑیں ۔ اور اس کی شریعت کی مخالفت کریں ۔ فنا اور موت کے گھاٹ…
Read the full tafseer →(44) پس ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی پھر ان کو ایک عذاب اور کڑاکے نے آپکڑا دراں حالیکہ وہ دیکھ رہے تھے۔ یعنی سرکشی کرتے رہے اور ان کو دیکھتے ہی دیکھتے ان کو ایک نعرہ تند نے آپکڑا۔ صاعقہ مہلک عذاب کو بھی کہتے ہیں۔ یہ جو اوپر کی آیت میں مہلت دی گئی تھی یہ شاید وہی تین دن ہوں گے جن کا ذکر سورة ہود میں گزرا ہے۔ کما قال عبداللہ بن عباس ؓ یا عام طور پر کہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجائو ورنہ ہلاک کردیئے جائو گے زندگی دن پورے کرلو بہرحال ان کی آنکھوں دیکھتے ان کو عذاب نے آلیا اور پھر حالت یہ ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
ف 2۔ یعنی فکر سے باز نہیں آوگے تو بعد چندے ہلاک ہوگے۔
Read the full tafseer →ثمود نے بھی حکم الٰہی کی نافرمانی کی اور ان کو سخت کڑک کے عذاب نے آدبایا
44 ؎ مختصر یہ کہ صالح (علیہ السلام) کی مغرور قوم نے ان کی پیغمبرانہ دعوت و نصیحت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اللہ کے نشان کا مطالبہ کیا تب صالح (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں دعا کی اور آپ کی دعا قبول ہوئی۔ قبولیت کے بعد اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارا مطلوبہ نشان اونٹنی کی شکل میں موجود ہے یہ میری اونٹنی جس پر میں سوار ہو کر تمہاری بستیوں میں گھومتا پھرتا اور واعظ و درس کا کام کرتا ہوں دیکھو اگر تم نے اس کو کوئی ایذا پہنچائی تو پھر یہی تمہاری ہلاکت کا وقت ہوگا اور تمہاری یہ نافرمانی تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
After the mention of the people of Lut (علیہ السلام) ، the people of Musa (علیہ السلام) ، Fir'aun and others are taken up briefly. When Musa (علیہ السلام) delivered the message of truth to Fir'aun, the latter reacted thus: فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ (So he turned away along with his chiefs,...51:39) The original word used for 'his chiefs' is rukn which means power. Here it is used to refer to his army and chiefs of his government. In the story of Lut (علیہ السلام) he has been mentioned saying, أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ (or that I had the backing of a strong group' The word rukn is used…
Read the full tafseer →41 Different words have been used for this torment at different places in the Qur'an. Somewhere it has been called rajfah (a frightful and shocking calamity), somewhere saihah (a crashing and thundering disaster), somewhere taghiyah (a most severe affliction) and here it has been described as sa'iqah (a calamity that strikes like a thunderbolt). Probably this torment had occurred as an earthquake which was also accompanied by a terrible noise.
Read the full tafseer →