Explained with ayahs 16–23
حسن کارکردگی کے انعامات
پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے دن جنتوں میں اور نہروں میں ہوں گے بخلاف ان بد کرداروں کے جو عذاب و سزا، طوق و زنجیر، سختی اور مار پیٹ میں ہوں گے۔ جو فرائض الہٰی ان کے پاس آئے تھے یہ ان کے عامل تھے اور ان سے پہلے بھی وہ اخلاص سے کام کرنے والے تھے۔ لیکن اس تفسیر میں ذرا تامل ہے دو وجہ سے اول تو یہ کہ یہ تفسیر حضرت ابن عباس کی کہی جاتی ہے لیکن سند صحیح سے ان تک نہیں پہنچتی بلکہ اس کی یہ سند بالکل ضعیف ہے دوسرے یہ کہ (اخذین) کا لفظ حال ہے اگلے جملے سے تو یہ مطلب ہوا کہ متقی لوگ جنت میں اللہ کی دی ہوئی نعمتیں حاصل کر رہے ہوں گے اس سے…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 14
اگرچہ اصل الفاظ ہیں اٰخِذِیْنَ مَآ اٰتٰہُمْ رَبُّھُمْ ، اور ان کا لفظی ترجمہ صرف یہ ہے کہ " لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا ہوگا "، لیکن موقع و محل کی مناسبت سے اس جگہ " لینے " کا مطلب محض " لینا " نہیں بلکہ خوشی خوشی لینا ہے، جیسے کچھ لوگوں کو ایک سخی داتا مٹھیاں بھر بھر کر انعام دے رہا ہو اور وہ لپک لپک اسے لے رہے ہوں۔ جب کسی شخص کو اس کی پسند کی چیز دی جائے تو اس لینے میں آپ سے آپ بخوشی قبول کرنے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ اَلَمْ یَعْلَموٓا اَنَّ اللہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَأخُذُ الصَّدَقَاتِ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →اخذین ماتھم ربھم ط انھم کانوا قبل ذلک محسنین 16
جنہوں نے دنیا میں خدا کی پابندیوں کا احترام کا یا ان کے لئے آخرت میں آزادی
یہ ان نعمتوں سے ان کے آزادانہ متمتع ہونے کی تصویر ہے۔ اخذین حال واقع ہے اس وجہ سے میرے نزدیک یہ صورتحال کی تصویر کا فائدہ دے رہا ہے یعنی وہ دمبدم وہ کچھ پا رہے ہوں گے جو ان کے رب نے ان کو عطا فرمای۔ ما اتھم ربھم میں صیغہ ماضی اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جہاں تک دیئے جانے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ اور وعدہ تو ان کے رب نے پہلے ہی سے کر رکھا ہے، اس بات میں ان کو کسی نئے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ اب صرف ان نعمتوں سے متمع و محظوظ ہونے کا دور ہوگا۔ وہ جس چیز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 فِتْنَۃ بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
6: کافر لوگوں کو جب آخرت کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا۔
Read the full tafseer →اخذین ما اتھم ربھم (51 : 61) ” جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے “ رب کے فضل ، اس کے انعامات وہ لے رہے ہوں گے ان اعمال کے بدلے جو انہوں نے حیات دنیا میں کئے۔ انہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی گویا اسے دیکھ رہے ہیں اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ وہ دیکھ رہا ہے اور۔
انھم کانوا قبل ذلک محسنین (51 : 61) ” وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکوکار تھے اور ان کی نیکی کی تصویر بھی بڑی دلکش ہے ، نہایت ہی چمکدار اور حساس :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
2 یعنی خوشی خوشی ان نعمتوں کو قبول کرتے ہیں جو ان کے پروردگار نے ارزانی فرمائی ہیں
2 یعنی دنیا سے نیکیاں سمیٹ کر لائے تھے۔ آج ان کا نیک پھل مل رہا ہے۔ آگے ان نیکیوں کی قدرے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 16{ اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰٹہُمْ رَبُّہُمْط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ۔ } ”وہ شکریے کے ساتھ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پہلے نیکوکار تھے۔“
یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے نیک اعمال کی وجہ سے درجہ احسان تک پہنچے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →9 یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی نعمتیں عطا فرمائے گا بخوشی انہیں قبول کرتے جائیں گے اور یہ ان کے ان نیک اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ دنیا میں بجا لاتے رہے۔ ان اعمال کا ذکر آئندہ آیات میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
6۔ (توایسوں کو جنت بھلا کیوں نہ ملتی ؟ ) (آیت) ” قبل ذلک “۔ یعنی اپنی دنیوی زندگی میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Read the full tafseer →اخذین ما اتاھم ربھم انھم کانوا قبل ذلک محسین .
اور ان کے رب نے جو (ثواب) ان کو عطا کیا ہوگا وہ اس کو (خوشی خوشی) لے رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں نیکو کار تھے۔
مَا اٰتٰھُمْ : یعنی جو (ثواب اور) خیر و عزت ان کا رب ان کو عطا فرمائے گا وہ اس کو خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جو کچھ ان کو عطا فرمائے گا وہ اعلیٰ اور پسندیدہ ہوگا۔
قَبْلَ ذٰلِکَ : یعنی جنت میں داخل ہونے سے پہلے دنیا میں۔
مُحْسِنِیِْنَ : یعنی حضور خاطر اور خلوص قلب کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کی خوشنودی کے طلبگار تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
(15۔ 18) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کا مقام بیان فرمتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے باغوں اور پاکیزہ پانی کے چشموں میں ہوں گے اور جنت میں ان کے پروردگار نے جو انہیں اجر وثواب عطا کیا ہوگا اس سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے یا یہ کہ دنیا میں ان کے پروردگار نے جو ان کو حکم دیا تھا اس کی کمال کے ساتھ تعمیل کرنے والے ہوں گے اور کیوں نہ ہوں وہ اس ثواب اور درجات کی بلندی سے پہلے بھی دنیا میں قول فعل سے نیکوکار تھے، رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں خوب نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(1) اخذین ما اتھم ربھم : اس کے لفظی معنی اگرچہ یہی ہیں کہ ”وہ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انہیں دے گا“ مگر موقع و محل کی مناسبت اور ”اتھم ربھم“ کے لفظ کے تقاضے سے ظاہر ہے کہ یہاں صرف لینا ہی مراد نہیں بلکہ مراد ان کے رب کا انھیں بےحساب دینا اور ان کا اس سے جی بھر کر خوشی خوشی لینا ہے۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ یقول لاھل الجنۃ یا اھل الجنۃ ! فیقولون لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک ، فیقول ھل رضیتم ؟ فیقولون وما لنا لا ترضی یا رب ! وقد اعطیتنا مالم تعط احداً من خلفک ؟ فیقول الا اعطیکم افضل من ذلک ؟ فیقولون یا رب ! وای شیء افضل من ذلک ؟ فیقول احل علیکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ان المتقین فی جنت وعیون ،۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر کیا تو مومنوں کے انجام کا بھی ذکر کیا یعنی مومن ایسے باغوں میں ہوں گے جن میں چشمے ہوں گے یعنی انتہائی پاکیزہ ہوں گے۔ اخذین حال ہونے کی حثیت سے منصوب ہے۔
ماانتھم ربھم ان کے رب نے انہیں جو ثواب اور مختلف قسم کی عزتیں عطا فرمائیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جیر نے کہا : معنی ہے وہ فرائض پر عمل کرنے والے ہیں۔ انھم کانو اقبل ذلک محسنین۔ یعنی جنت میں داخل ہونے سے قبل دنیا میں وہ فرائض بجا لانے والے تھے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے فرائض کے لازم ہونے سے قبل وہ اپنے اعمال میں احسان کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →اٰخِذِيْنَ [ لینے والے ہوتے ہوئے ] مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۭ [ اس کو جو دے گا ان کو ان کا رب ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک یہ لوگ تھے ] قَبْلَ ذٰلِكَ [ اس سے پہلے ] مُحْسِنِيْنَ [ حسن دینے والے (نیکی کو ) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
متقی بندوں کے انعامات کا اور دنیا میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کا تذکرہ
مکذبین کی سزا بتانے کے بعد مومنین متقین کا انعام بتایا اور فرمایا کہ متقی لوگ باغوں میں چشموں میں ہوں گے ان کے رب کی طرف سے انہیں وہاں جو کچھ دیا جائے گا اسے (بڑی خوشی سے) لینے والے ہوں گے، دنیا میں یہ حضرات گناہوں سے تو بچتے ہی تھے جس کی وجہ سے انہیں متقین کے لقب سے سرفراز فرمایا، اعمال صالحہ بھی بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں محسنین کے لقب سے ملقب فرمایا ان کے نیک کاموں میں ایک بڑا قیمتی عمل یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے نمازیں پڑھتے رہتے تھے دنیا سوتی رہتی اور یہ لوگ جاگتے رہتے تھے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
6:۔ ” ان المتقین۔ تا۔ والمحروم “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور رفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے یعنی شرک نہ کرو، ظلم نہ کرو اور احسان کرو۔ المتقین، شرک سے بچنے والے۔ یہ امر اول کا بیان ہے۔ یہ لوگ جنت کے باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور وہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو حاصل کریں گے اور ان سے متمتع ہوں گے۔ ” انہم کانوا قبل ذلک محسنین “ یہ امر دوم کا بیان ہے یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ ” کانوقا قلیلا۔ الایۃ “ ” ما “ زائدہ ہے وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور نیند کم کیا کرتے تھے۔ ” وباالاسحار۔ الایۃ “ اور بوقت سحر اٹھ اٹھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان
سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىہُمْ رَبُّہُمْ 0 ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِـنِيْنَ 16 ۭ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →اٰخِذِیْنَ مَـآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ ۔ (الذریٰت : 16)
(وہ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کا رب انھیں عطا فرما رہا ہوگا، بیشک وہ اس سے پہلے محسنین میں سے تھے۔ )
اہلِ جنت کی تصویر
اس آیت کریمہ میں اہل جنت کی تصویرکشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو بھی جنت عطا فرمائے گا۔ اس کو جنت میں وہ تمام نعمتیں ملیں گی جن کی وہ خواہش کرے گا۔ اگر وہ کسی ایسی بات کی خواہش کرے گا جو دنیا میں بظاہر ناممکن سمجھی جاتی ہے تو اس کی وہ خواہش بھی پوری کی جائے گی۔ لیکن اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے لیے جن نعمتوں کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کی سزا کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ، قیامت پر ایمان لانے اور اس کی جوابدہی کا خوف رکھنے والوں میں یہ صفات پید اہوتی ہیں۔
قیامت پر یقین رکھنا انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے اور نیکی کے کاموں پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے قیامت پر یقین رکھنے والوں کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یقیناً یہ لوگ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن میں چشمے جاری ہوں گے اور اپنے رب سے جنت کی نعمتیں حاصل کریں گے۔ کیونکہ وہ دنیا میں نیکی کرنے والے تھے۔ وہ پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ سویا کرتے تھے اور سحری کے وقت اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے اور اپنے مال سے سائل…
Read the full tafseer →اٰخِذِیْنَ مَآ اٰتٰہُمْ رَبُّہُمْ (ان کے رب نے جو کچھ ان کو عطاء کیا اس کو وہ لے رہے ہونگے) اس سب کو وہ قبول کرنے والے ہونگے۔ جو اللہ تعالیٰ ان کو ثواب میں سے عطاء فرمائیں گے اور اس پر وہ راضی ہونگے۔
نحو : آخذین یہ ظرف کی ضمیر سے حال ہے۔ اور وہ اِنّ کی خبر ہے۔ اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ (وہ لوگ اس سے قبل) دنیا میں داخلہ جنت سے پہلے مُحْسِنِیْنَ (نیکوکار تھے) انہوں نے خوب نیک اعمال کیے۔ ان کے احسان کی تفسیر بعد میں آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
15-16…” ان المتقین فی جنات وعیون ۔ آخذین ما آتاھم “ جو ان کو دے گا۔ ” ربھم “ خیر اور اعزاز سے۔ ” انھم کانوا قبل ذلک “ ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے۔ ” محسنین “ دنیا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ (ان المتقین) یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (فی جنت) ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میوں پر مشتمل ہوں گے، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہوگا۔ (وعیون) وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
[ 12] صفت احسان باعث سرفرازیء دوجہان :
سو اہل جنت کے نعیم جنت سے سرفرازی کی علت اور اس کے سبب کو بیان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ اس سے پہلے نیک و کار تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں، کہ ان کی نیتیں بھی ٹیک تھیں۔ عقائد بھی صحیح تھے، اور ان کے عمل بھی درست تھے۔ اللہ سب کو توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ نہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو اس عظیم الشان صلہ اور بدلہ سے اس لئے نوازا گیا کہ یہ محسن اور نیکوکار تھے، اور یہ ہر کام اس طرح کرنے کی کوشش کرتے تھے جس طرح کہ اس کے کرنے کا حق تھا۔ اور یہ صفت انہی لوگوں کے اندر پائی جاسکتی ہے جن کے اندر سزاوجزا کا عقیدہ راسخ ہو۔ کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 1 یعنی دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور برائیوں سے بچتے تھے۔ ان کی نیکو کاری کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Read the full tafseer →(51:16) اخذین ما اتہم ربہم : جملہ حالیہ ہے درآن حالیکہ وہ لے رہے ہوں گے۔ جو ان کا پروردگار ان کو عطا کرے گا۔ اخذین اسم فاعل صیغہ جمع مذکر منصوب اخذ (باب نصر) مصدر سے۔ لینے والے۔ ما موصولہ ۔ اتہم ربہم۔ اس کا صلہ۔ موصول اور صلہ مل کر اخذین کا مفعول۔ قبل ذلک ۔ ای فی الدنیا۔
محسنین : اسم فاعل جمع مذکر، احسان (افعال) مصدر۔ فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والے ہر قسم کی خوبی پیدا کرنے والے۔
اعمال میں احسان دو طرح کا ہوتا ہے۔
(1) کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا۔ اور اپنے حق سے کم لینا۔
(2) اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو اور اس میں کچھ نہ کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] کفار کا یہ سوال کہ روز جزا کب آئے گا طنز و تمسخر کے طور پر تھا اس لئے ان کو جواب اس انداز میں دیا گیا ظاہر ہے تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ کسی منکر آخرت کو اقرار پر آمادہ کر دے کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یقین کرلیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(16) ان کی حالت یہ ہوگی کہ جو نعمتیں اور جو ثواب ان کے پروردگار نے ان کو دیا ہوگا وہ اس کو حاصل کررہے ہوں گے کیونکہ وہ اس عالم آخرت سے پہلے نکوکار اور نیکی کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
یہ لوگ اپنے رب کی عطا ئوں سے سرفراز ہوں گے بلاشبہ یہ لوگ قبل ازیں نیکو کار تھے :
16 یہ لوگ ان نعمتوں سے آزادنہ متمتع ہوں گے اور ان کو ان کے رب کی طرف سے جو کچھ ملے گا وہ اس کو خوشی
Missing in book
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…
Read the full tafseer →14 Literally: ".. shall be receiving what their Lord will have granted them", but in this context "receiving" does not merely mean "to receive" but to receive joyfully. Obviously, when a person is given something of his own choice and liking, his receiving it will naturally have the meaning of accepting and receiving it joyfully.
Read the full tafseer →