Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →سورة الذّٰرِیٰت 13
اس سیاق وسباق میں لفظ متقی صاف طور پر یہ معنی دے رہا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی دی ہوئی خبر پر یقین لا کر آخرت کو مان لیا، اور وہ رویہ اختیار کرلیا جو حیات اخروی کی کامیابی کے لیے انہیں بتایا گیا تھا، اور اس روش سے اجتناب کیا جس کے متعلق انہیں بتادیا گیا تھا کہ یہ خدا کے عذاب میں مبتلا کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →3۔ آگے آیات 19-15 کا مضمون
اوپر ان لوگوں کا ذکر گزرا ہے جو جزا و سزا سے بالکل نچنت لا ابا لیانہ زندگی گزارتے رہے اگر کسی نے اس خواب غفلت سے ان کو بیدار کرنے کی کوشش کی تو اس کا منہ انہوں نے اسی جواب سے بند کرنے کی کوشش کی کہ جزاء و سزا کا کوئی دن ہے تو وہ کہاں ہے ؟ اس کو لائو اور دکھائو۔ اب ان کے مقابل میں ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو اس دن کو ایک حقیقت سمجھ کر برابر اس سے رتے اور اس کے لئے تیاریوں میں مصروف رہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
4 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ان المتقین فی جنت وعیون 15
تقویٰ کی روح
متقین ایک جامع صفت ہے جو قرآن میں ان لوگوں کے لئے استعمال ہوئی ہے جو خدا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
14۔ 1 فِتْنَۃ بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
6: کافر لوگوں کو جب آخرت کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا۔
Read the full tafseer →یہ گروہ گروہ متقین ہے۔ یہ جاگنے والے ہیں۔ یہ شدید احساس رکھتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے نفس کے بارے میں بھی حساس ہیں۔ یہ لوگ۔
فی جنت وعیون (15 : 15) ” باغوں اور چشموں میں ہوں گے “ اور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
2 یعنی خوشی خوشی ان نعمتوں کو قبول کرتے ہیں جو ان کے پروردگار نے ارزانی فرمائی ہیں
2 یعنی دنیا سے نیکیاں سمیٹ کر لائے تھے۔ آج ان کا نیک پھل مل رہا ہے۔ آگے ان نیکیوں کی قدرے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 15{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ } ”یقینا اہل تقویٰ باغات اور چشموں کے اندر ہوں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
7 فتنہ کا لغوی مفہوم :۔ فَتَنَ کے لغوی معنی سونا یا چاندی کو کٹھالی میں ڈال کر تپانا، گلانا اور کھوٹ معلوم کرنا ہے۔ سابقہ آیت میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور فتنۃ کا لفظ دراصل آزمائش کے معنی میں آتا ہے جس میں سختی بھی پائی جائے اور اکثر برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی آزمائش، دکھ، رنج، رسوائی، شرارت، عبرت، عذاب، مرض ہے اور فتّان بمعنی شر انگیز انسان اور شیطان ہے (منجد) اس لحاظ سے اس لفظ کا ایک وہی مطلب ہے جو ترجمہ سے واضح ہے اور دوسرا معنی عذاب لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنی شرارتوں کا بدلہ یا عذاب چکھو۔
8 عذاب کے لئے جلدی مچانا اپنے آپ سے دشمنی ہے :۔ بعض چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
6۔ (توایسوں کو جنت بھلا کیوں نہ ملتی ؟ ) (آیت) ” قبل ذلک “۔ یعنی اپنی دنیوی زندگی میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قتل الخراصون، خراص کے لغوی معنی اندازہ لگا انے والے اور ظن وتخمین سے باتیں کرنے والے کے ہیں، مراد کفار ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں بلا کسی علم و دلیل کے مختلف اور متضاد باتیں کہتے تھے اس لئے خراصون کا ترجمہ کا ذابون سے بھی کردیا جائے گا تو بعید نہیں۔
Read the full tafseer →ان المتقین فی جنت و عیون
بے شک متقی لوگ بہشتوں میں اور چشموں میں ہوں گے
عُیُوْنٍ : یعنی نہریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
(15۔ 18) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کا مقام بیان فرمتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے باغوں اور پاکیزہ پانی کے چشموں میں ہوں گے اور جنت میں ان کے پروردگار نے جو انہیں اجر وثواب عطا کیا ہوگا اس سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے یا یہ کہ دنیا میں ان کے پروردگار نے جو ان کو حکم دیا تھا اس کی کمال کے ساتھ تعمیل کرنے والے ہوں گے اور کیوں نہ ہوں وہ اس ثواب اور درجات کی بلندی سے پہلے بھی دنیا میں قول فعل سے نیکوکار تھے، رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں خوب نمازیں پڑھا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ان المتقین فی جنت وعیون : مکذبین کے عبد متقین کا ذکر فرمایا۔ اس کی تفسیر کیلئے دیکھیے سورة حجر کی آیت (45) کی تفسیر۔ آیت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ جنتوں میں داخلے کا سبب تقویٰ ہے، جیسا کہ فرمایا :(تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیاً) (مریم : 63)”یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ان المتقین فی جنت وعیون ،۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر کیا تو مومنوں کے انجام کا بھی ذکر کیا یعنی مومن ایسے باغوں میں ہوں گے جن میں چشمے ہوں گے یعنی انتہائی پاکیزہ ہوں گے۔ اخذین حال ہونے کی حثیت سے منصوب ہے۔
ماانتھم ربھم ان کے رب نے انہیں جو ثواب اور مختلف قسم کی عزتیں عطا فرمائیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جیر نے کہا : معنی ہے وہ فرائض پر عمل کرنے والے ہیں۔ انھم کانو اقبل ذلک محسنین۔ یعنی جنت میں داخل ہونے سے قبل دنیا میں وہ فرائض بجا لانے والے تھے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے فرائض کے لازم ہونے سے قبل وہ اپنے اعمال میں احسان کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ [ یقینا پرہیزگار لوگ ] فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ [ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
متقی بندوں کے انعامات کا اور دنیا میں اعمال صالحہ میں مشغول رہنے کا تذکرہ
مکذبین کی سزا بتانے کے بعد مومنین متقین کا انعام بتایا اور فرمایا کہ متقی لوگ باغوں میں چشموں میں ہوں گے ان کے رب کی طرف سے انہیں وہاں جو کچھ دیا جائے گا اسے (بڑی خوشی سے) لینے والے ہوں گے، دنیا میں یہ حضرات گناہوں سے تو بچتے ہی تھے جس کی وجہ سے انہیں متقین کے لقب سے سرفراز فرمایا، اعمال صالحہ بھی بڑی خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں محسنین کے لقب سے ملقب فرمایا ان کے نیک کاموں میں ایک بڑا قیمتی عمل یہ تھا کہ رات کو بہت کم سوتے تھے نمازیں پڑھتے رہتے تھے دنیا سوتی رہتی اور یہ لوگ جاگتے رہتے تھے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔
بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
6:۔ ” ان المتقین۔ تا۔ والمحروم “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور رفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے یعنی شرک نہ کرو، ظلم نہ کرو اور احسان کرو۔ المتقین، شرک سے بچنے والے۔ یہ امر اول کا بیان ہے۔ یہ لوگ جنت کے باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور وہاں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو حاصل کریں گے اور ان سے متمتع ہوں گے۔ ” انہم کانوا قبل ذلک محسنین “ یہ امر دوم کا بیان ہے یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ ” کانوقا قلیلا۔ الایۃ “ ” ما “ زائدہ ہے وہ رات کو اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے اور نیند کم کیا کرتے تھے۔ ” وباالاسحار۔ الایۃ “ اور بوقت سحر اٹھ اٹھ کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرتے تھے۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
جالی دار آسمان
سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 15 ۙ
تَّقْوَى
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا
[ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ ۔ (الذریٰت : 15)
(بےشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ )
آخرت کے لیے تیاری کرنے والوں کا انجام
اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے انکار یا اس میں تذبذب کی وجہ سے جزاء و سزا سے بالکل لاپرواہ ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ تو آخر ان کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جہنم کے عذاب میں جلائے جائیں گے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جنھیں شریعت کی زبان میں متقی کہا جاتا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدودوقیود کے اندر زندگی گزارنے والے ہیں۔ لیکن سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ آیات میں قیامت برپا ہونے کے دلائل دئیے گئے اب قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال کی تردید کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے راستوں والے آسمان کی قسم اٹھا کر اس بات کی تردید کی ہے کہ جو لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں مختلف قسم باتیں کرتے ہیں۔ وہ حقیقت میں تضاد فکری اور بےیقینی کا شکار ہیں اور اسی وجہ حق سے پھرئے ہوئے اور گمراہ ہیں۔ اپنی تضاد فکری کی وجہ سے مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کے بیخبر اور برگشتہ ہونے کی دلیل ہے۔ قیامت کے بارے میں وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہی کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ بےعلم اور قیامت کے منکر ہونے کے باوجود سوال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →ایمان والوں کا تذکرہ :
آیت 15 : پھر ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ (بیشک متقی لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے) یعنی چشمے ہونگے وہ جاری نہریں ہونگی اس طرح کہ ان کو وہ آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ان کی نگاہیں ان پر پڑیں گی۔ یہ نہیں کہ وہ چشموں کے اندر ہونگے۔
Read the full tafseer →14 ۔” ذوقوافتنتکم “ تمہارا عذاب ” ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون “ دینا میں اس کی تکذیب کرتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
15۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انہیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ (ان المتقین) یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے (فی جنت) ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میوں پر مشتمل ہوں گے، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہوگا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہوگا۔ (وعیون) وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[ 11] منکرین کے استہزاء و مذاق کے جواب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا منکرین کے استہزاو مذاق کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے جس ہولناک دن کے بارے میں کہ لوگ استہزائے و مذاق کی طور پر کہتے ہیں کہ آخر کب آئے گا بدلے کا وہ دن ؟ تو ان کے لئے یہ حقیقت واضح رہنی چاہئے کہ وہ اس دن آئے گا جس دن کہ ان کو دوزخ کی اس ہولناک آگ پر جلایا اور تپایا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو تم لوگ مزہ اپنے فتنے کا۔ یہ ہے وہ چیز جس کیلئے تم لوگ جلدی مچایا کرتے تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ سو اس طرح دوزخیوں کو ظاہری آگ کے اس ہولناک عذاب کے ساتھ ساتھ باطن کو جلا دینے والی ان باتوں سے بھی سابقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
پرہیز گاروں کی بہترین زندگیاں
تشریح : کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک ایسی ہستی کی بات جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ انتہائی عجیب، مشکل اور پیچیدہ کام ہے پھر ہمارے آرام و آسائش اور نشوونما کے لیے اتنی بڑی کائنات جو ایسے ایسے عجیب و غریب اجرام فلکیات سے زمینی نعمتوں سے ہواؤں سے جو کہ بیشمار فوائد کا ذریعہ ہیں اسی طرح ان گنت چیزیں جو ہمارے اردگرد اوپر نیچے بیشمار پھیلی ہوئی ہیں جو ہر صورت اپنی بناوٹ سجاوٹ اور فائدوں کے ذریعے اپنے خالق ومالک کی بڑائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بھلا وہ جو بات بتاتا ہے وہ کیونکر غلط ہوسکتی ہے ؟ ہرگز غلط نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں تو شک و شبہ کا ایک ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔ یہی وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 1 یعنی دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور برائیوں سے بچتے تھے۔ ان کی نیکو کاری کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Read the full tafseer →(51:15) اوپر منکرین کا مال بیان ہوا اب مومنین کے انعام و اکرام کا ذکر ہے۔
عیون : جمع ہے عین کی، بمعنی چشم یا چشمہ۔ قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال انہی دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ گو وہ بہت سے مختلف معانی میں مستعمل ہے۔
امام راغب (رح) کے نزدیک اس کے اصل معنی آنکھ کے ہیں۔ اور دیگر معانی میں اس کا استعمال بطور استعارہ ہے چناچہ ان کے خیال میں چشمہ کو جو عین کہتے ہیں وہ اسی تشبیہ کی بناء پر کہتے ہیں کہ جس طرح آنکھ سے قطرات اشک ابلتے ہیں اسی طرح چشمہ سے پانی ابلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23
ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 23
اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
اہل جنت کے اوصاف اور انعام۔
(ف 1) اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرماکران آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو تقوی کرتے ہیں خدا سے ڈرتے ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں وہ اس دن جنت کے عمدہ عمدہ باغوں میں ہوں گے نہروں کے درمیان میں جلوس کریں گے جن میں صاف صاف آب شیریں رواں ہوگا اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں، وہ انہوں نے بھرپائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ یہ اس سبب سے کہ وہ پہلے دنیا میں محسن تھے۔ قول وفعل میں اخلاص و احسان برتتے تھے وہ اللہ کی یاد میں رات تہجد، اور شب بیداری میں گزارتے تھے اور راتوں کو کم سوتے تھے، اور شب کا پچھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] کفار کا یہ سوال کہ روز جزا کب آئے گا طنز و تمسخر کے طور پر تھا اس لئے ان کو جواب اس انداز میں دیا گیا ظاہر ہے تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ کسی منکر آخرت کو اقرار پر آمادہ کر دے کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یقین کرلیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
مساوات اور مقام احسان
1: جو لوگ بہشتوں اور چشموں کے مستحق ہوں گے ۔ ان میں احسان کی استعداد ہوگی ۔ یعنی جہاں تک مخلوق الٰہی کا تعلق ہے ۔ ان کا رویہ نہایت مشفقانہ ہوگا ۔ بنی نوع انسان کے ساتھ انکو بدرجہ غایت حمیت ہوگی ۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر لمحات کو دوسروں کی ہمدری میں صرف کرینگے ۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی وابستگی کا یہ عالم ہوگا ۔ کہ بہت کم راتوں کو سوئیں گے ۔ بستر پر بےقرار اور بےچین رہیں گے ۔ اٹھیں گے اور آقا کے دربار میں کھڑے ہوجائیں گے ۔ اور اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معانی مانگیں گے ۔ ان کی روح اللہ کی حمدوستائیش میں مصروف ہوگی ۔ اور ان کا جسم خلق اللہ کی فلاح و بہبود کے لئے وقف ہوگا ۔…
Read the full tafseer →(15) البتہ پرہیزگار اور ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ف 2۔ بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ اس وقت پرہیز گار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے :
15 وہ آزاد منعش لوگ جو اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور روز قیامت کا اور دوسری اسلام کی ساری باتوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور آزادی کے ساتھ پھبتیاں کستے تھے اور استہزادء کا نشانہ بناتے تھے اب ان کو جب ان کے کئے کی سزا سے دو چار کیا جائے گا تو اس سزا کو پانے اور حاصل کرنے پر وہ مجبور کردیئے جائیں گے اور اس طرح ان کی ساری آزادی ان کی قید و بند میں بدل جائے گی اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے آپ کو پابند سمجھتے تھے اور ان کو ہر معاملہ میں دیکھنا پڑتا تھا کہ آیا وہ اس طرح کریں یا نہ کریں یہ لیں یا نہ لیں ، یہ کھائیں یا نہ کھائیں ، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ (Death upon those who make conjectures - 51:10). The expression kharrasun is the plural of kharras which means one who estimates or say things by conjecture. In this context the word refers to those stubborn and obstinate infidels who, without any reason or evidence, say discordant things about the Messenger ﷺ . Thus it would not be out of turn to interpret kharrasun as kadhdhabun, meaning 'the great liars' as they are condemned, denounced, cursed and imprecated (Mazhari) in this statement. After the mention of infidels, several verses that follow describe the qualities…
Read the full tafseer →13 In this context the word muttaqi (the righteous) clearly implies those people who believed in the Hereafter when they were given the news of it by the Book of Allah and His Messenger, and adopted the attitude and way of life that they were taught for success in the life hereafter, and refrained from the way about which they had been told that it would involve man in the torment of God.
Read the full tafseer →