Muhammad 47:28

Muhammad · from ayah 28

47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ ۟۠ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اُس نے بھی ان کے عملوں کو برباد کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is because they followed what angered Allah and disliked [what earns] His pleasure, so He rendered worthless their deeds.

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:28

یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اُس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا اِسی بنا پر اُس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اُس نے بھی ان کے عملوں کو برباد کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اس بنا پر کہ یہ وه راه چلے جس سے انہوں نے اللہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے اس کی رضا مندی کو برا جانا، تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب اس لیے کہ یہ اس طریقے پر چلے جس نے اللہ کو ناراض کیا، اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کو خود انہوں نے ناپسند کیا، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے اور اس کی خوشی انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اُس (رَوِش) کی پیروی کی جو اﷲ کو ناراض کرتی ہے اور انہوں نے اس کی رضا کو ناپسند کیا تو اس نے ان کے (جملہ) اعمال اکارت کر دیئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کردیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اس لئے کہ وہ ایسی بات کے پیچھے لگ گئے جس نے اللہ کو ناراض کردیا اور اس کی رضا (کی راہ اختیار کرنا) پسند نہ کیا تو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو خدا کو غصہ دلانے والی تھی اور نفرت کی اس کو خشونودی سے پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے پیروی کی اس طریقے کی جو اللہ کی ناراضگی کا باعث تھا اور انہوں نے پسند نہ کیا اس کی رضا (کے راستے) کو جس کے باعث اس نے اکارت کردیا ان کے سب اعمال کو

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (سب) اس سبب سے ہوگا کہ یہ اس راہ پر چلے جو طریقہ اللہ کی ناخوشی کا تھا اور اس کی رضا سے بیزار رہے سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس لیے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے اور انہوں نے ناپسند کیا اس کی رضا کو تو اس نے ان کے تمام اعمال اکارت کردیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لیے کہ جس بات سے اللہ ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی رضا کو اچھا نہ سمجھا تو اللہ نے بھی ان کے عملوں کو برباد کردیا

— محترمہ رفعت اعجاز

That is because they have followed a way that angered Allah, and have been averse to His good pleasure. So He reduced all their works to nought.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

That is because they followed that which has angered Allah, and they disliked His pleasure; therefore He has nullified their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

That is because they followed that which has angered Allah, and they disliked His pleasure; therefore He has nullified their deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is because they followed that which angered Allah and hated what earns His pleasure, so He rendered their deeds worthless.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That will be because they followed that which angereth Allah, and hated that which pleaseth Him. Therefor He hath made their actions vain.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is because they followed what angered Allah and disliked [what earns] His pleasure, so He rendered worthless their deeds.

— Saheeh International

for their following that which had incurred God's anger, and their hatred to please God. Thus, God has made their deeds devoid of all virtue.

— Muhammad Sarwar

That is because they follow what is displeasing to Allah and are averse to His pleasure, therefore He has made null their deeds.

— Muhammad Habib Shakir

That is because they followed that which angered Allah and detested His good-will; so He made their works of non-effect.

— Abdul Majid Daryabadi

This because they followed that which called forth the Wrath of Allah, and they hated Allah's good pleasure; so He made their deeds of no effect.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–28

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة مُحَمَّد 38 اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاں جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتی تھیں اس بنا پر ضائع ہوگئیں کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے دین اور ملت اسلامیہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا رویہ اختیار نہ کیا، بلکہ محض اپنے دنیوی مفاد کے لیے دشمنان دین کے ساتھ ساز باز کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع آتے ہی اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ یہ آیات اس معاملہ میں بالکل ناطق ہیں کہ کفر و اسلام کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں اسلام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–28

(آیت) الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ ، اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی۔ ایک تسویل جس کے معنی تزئین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزین کر دے۔ دوسرا املاء، جس کے معنے امہال اور مہلت دینے کے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا اور مزین کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ذلک بانھم اتبعوا مآ اسخط اللہ وکرھوا رضوانہ فاحبط اعمالھم (28) یعنی ان لوگوں کے ساتھ یہ خاص معاملہ اس وجہ سے ہوگا کہ ان کی ساری بھاگ دوڑ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں رہی ہے۔ جو باتیں اللہ کو ناراض کرنے والی تھیں وہ انہوں نے اختیار کیں اور جو کام اس کو خوش کرنے والے تھے ان سے یہ بیزار رہے۔ اس کی پاداش میں فرشتے ان کی موت کے وقت ہی سے ان پر عذاب کی مار شروع کردیں گے اور ان کے وہ سارے اعمال اللہ تعالیٰ حبط کر دے گا۔ جو انہوں نے اسلام کے دعوے کے ساتھ بظاہر نیکی کے کئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

27۔ 1 یہ کافروں کی اس وقت کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ روحیں فرشتوں سے بچنے کے لئے جسم کے اندر چھپتی اور ادھر ادھر بھاگتی ہیں تو فرشتے سختی اور زور سے انہیں پکڑتے، کھنچتے اور مارتے ہیں یہ مضمون اس سے قبل (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ذلک بانھم اتبعوا ۔۔۔۔۔۔۔ اعمالھم (47 : 28) “ یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دئیے ”۔ یعنی انہوں نے خود اپنے لیے یہ انجام پسند کیا ہے ۔ انہوں نے خود اس طریقے کو اپنا یا جو اللہ کو ناراض کرنے والا طریقہ ہے۔ یعنی نفاق ، معصیت اور اللہ کے دشمنوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں اور اللہ کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ مل کر سازشیں کرنا۔ انہوں نے خود اللہ کی رضا مندی کو ناپسند کیا۔ اور اس کے حصول کی کوشش نہ کی بلکہ انہوں نے وہ کام کیا جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور غضب میں آتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اللہ کی خوشنودی کا راستہ پسند نہ کیا۔ اسی راہ چلے جس سے وہ ناراض ہوتا تھا۔ اس لیے موت کے وقت ہی بھیانک سماں دیکھنا پڑا۔ اور اللہ نے ان کے کفر و طغیان کی بدولت سب عمل بیکار کردیے۔ کسی عمل نے ان کو دوسری زندگی میں فائدہ نہ پہنچایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَطَ اللّٰہَ } ”یہ اس لیے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی ہے“ { وَکَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ } ”اور انہوں نے ناپسند کیا اس کی رضا کو ‘ تو اس نے ان کے تمام اعمال اکارت کردیے۔“ قتال کے اس مرحلے پر ان لوگوں کا نفاق کھل کر سامنے آگیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسجد نبوی ﷺ میں رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں پڑھی گئی نمازوں سمیت ان کے اب تک کے تمام نیک اعمال ضائع کردیے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 حق وباطل کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں کافروں سے ہوں وہ مسلمان نہیں رہتا :۔ اللہ کی رضا یہ تھی کہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے، یہودیوں کا نہ دیتے۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا کے بجائے نفاق کی راہ اختیار کی اور یہودیوں کی رضا کو پسند کیا۔ لہذا جو نیک اعمال انہوں نے زبانی طور پر اسلام لانے کے بعد کئے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کی ہیں، روزے رکھے ہیں یا اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا ہے۔ اللہ ان کے ایسے سب اعمال ضائع کر دے گا اس سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوئی ہے جو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں اور کافروں کی جنگ میں کسی مسلمان کی ہمدردیاں کافروں کے ساتھ ہوں تو وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کے نیک اعمال اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

31۔ یعنی ان کے جو اعمال بظاہر خوشنما ومقبول معلوم ہوتے تھے۔ انہیں بالکل بےوزن وبے حقیقت کرکے دکھلادیا، اور ان کا انہیں کچھ صلہ نہ دیا۔ یہ اعمال حقیقۃ مرادود وغیرمقبول تو شروع ہی سے تھے۔ اس لئے کہ ان کا مبنی ومنشاء ایمان تھا ہی نہیں، البتہ ان کی اس مردودیت کا ظہور کامل آخرت ہی میں ہوگا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مرتے وقت ان کی سزائے سخت۔ (آیت) ” ما اسخط اللہ۔ مثلا کافروں کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔ (آیت) ” رضوانہ “۔ مثلا مومنین کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–28

اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔ الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک بانھم اتبعوا ما اسخط اللہ وکرھوا ضوانہ فاحبط اعمالھم یہ اس وجہ سے ہوگا کہ جو طریقہ اللہ کی ناراضگی کا تھا ‘ یہ اسی پر چلے اور اس کی رضامندی سے نفرت کی ‘ سو اللہ نے ان کے سب اعمال اکارت کر دئیے۔ فَکَیْفَ استفہام تعجبی ہے (پس تعجب ہے کہ بچنے کی یہ کیا تدبیر کریں گے جبکہ) ملائکہ ان کی روحیں قبض کریں گے (لوہے کے ہتھوڑوں اور گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر چوٹیں لگاتے ہوئے۔ ذٰلِکَ ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ یہ اس بات پر چلے جو اللہ کی ناراضگی اور غضبناکی کی موجب تھی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی توریت کی صراحتوں کو انہوں نے چھپایا اور محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کیا۔ وَکَرِھُوْا اور ایسے کاموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ پٹائی اور عقوبت اس سبب سے ہے کہ انہوں نے یہودیت کو اختیار کیا اور توحید خداوندی کا انکار کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ تمام نیکیاں جو انہوں نے یہودیت کے زمانہ میں کی ہیں وہ سب ضائع کردیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–28

(1) فکیف اذا توقنھم الملئکۃ …: یعنی دنیا میں تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کا ساتھ اس لئے دیا کہ کفر و اسلام کی جنگ میں دونوں جانب سے مفادات حاصل کرسکیں ، اپنے آپ ک جنگ کے نقصانات اور خطرات سے بچائیں اور اپنے چہروں اور پیٹھوں کو تیر و تلوار کی مار سے بچائے رکھیں، مگر مترے وقت ان کے چہروں اور پیٹھوں کو فرشتوں کی مار سے کون بچائے گا ؟ (2) فاحبط اعمالھم : یعنی وہ تمام اعمال جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے، مثلاً ان کی نماز، ان کے روزے، زکواۃ اور تمام عبادتیں جو بظاہر نیکیاں تھیں، اللہ تعالیٰ نے برباد کردیئے، کیونا کہ یہ سب کچھ تب قبول ہوتا جب وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہوتا۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تقدیر کلام یہ ہوگی حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضور ﷺ کی جو نعت تورات میں تھی اسے انہوں نے چھپایا، اس سے مراد ان کا یہ عمل ہے۔ اگر اسے منافقین پر محمول کیا جائے تو وہ مراد وہ کفر ہوگا جو انہوں نے اپنے سینہ میں چھپا رکھا ہے رضوان سے مران ایمان ہے اعمال سے مراد صدقہ اور صلہ رحمی وغیرہ کے اعمال ہیں جس طرح یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–28

1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ (بیشک جو لوگ پشت کے بل دین سے لوٹ گئے بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) فرمایا وہ اہل کتاب اللہ کے دشمن ہیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صفات کو پہچانتے ہیں جو اپنے پاس تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں پھر وہ اس کا انکار کرتے ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم “ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا) یعنی ان کے لئے (برے اعمال) مزین کردیا (آیت ) ” ذلک بانہم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ (یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ [ یہ اس سبب ہے کہ انہوں نے ] اتَّبَعُوْا مَآ [پیروی کی اس کی جس نے ] اَسْخَـــطَ اللّٰهَ [ ناراض کیا اللہ کو ] وَكَرِهُوْا [ اور انہوں نے ناپسند کیا ] رِضْوَانَهٗ [ اس کی رضامندی کو ] فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَهُمْ [ تو اس نے اکارت کردئیے ان کے اعمال ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا ﴾ (ان کی یہ سز اس کے لیے ہے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جو اللہ کے ناراضگی کا سبب ہے اور اس کی رضا مندی کو اچھا نہ جانا سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردئیے) یعنی انہوں نے کفر کو اختیار کیا (جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے) اور ایمان قبول نہ کیا (جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے) اللہ کو راضی کرنے والے عمل سے ان کو نفرت اور کراہت تھی ان کو موت کے وقت یہ سزا ملے گی اور اس کے بعد بھی برا عذاب ہی عذاب ہے اور انہوں نے دنیا میں جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر ثواب دیا جاسکے ان اعمال کو بھی اللہ نے اکارت کردیا یعنی آخرت میں ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ پہنچے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

23:۔ ” فکیف اذا “ یہ تخویف دنیوی ہے جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے تو ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں کو خوب پیٹیں گے اور جس موت اور مار سے بھاگے تھے اس کا خوب مزہ چکھیں گے۔ ” ذلک بانھم۔ الایۃ “ مرتے وقت یہ ہولناک سزا انہیں اس لیے دی جائیگی کہ انہوں نے کفر و شرک اور عصیان و طغیان کی ر اہ اختیار کی جو سراسر اللہ کے غضب اور اس کی ناراضی کا باعث تھی اور اللہ کی خوشنودی ورضا جوئی کا راستہ ترک کیا اس لیے ان کے سب اعمال بیکار کردئیے گئے آخرت کی زندگی میں ان کو ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–28

ربط آیات یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّہُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَـــطَ اللہَ وَكَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَہُمْ۝ 28 ۧ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–28

یہ تتمہ ہے کلام سابق کا۔ کہ یہ منافق جو ہدایت آنے کے بعد الٹے پھرگئے اس کا یہ سبب ہے کہ انہوں نے وحی یعنی قرآن کے دشمنوں سے وعدہ کرلیا تھا کہ ہم تمہاری کچھ باتیں مانیں گے اور یہ بات مخفی کہی تھی لیکن اللہ کو ان کی رازداری معلوم ہے۔ اسرارھم بکسر ہمزہ پڑھیں گے تو مصدر ہوگا یہ اہل کوفہ کی قرأت ہے اور بفتح ہمزہ پڑھیں گے جیسا کہ جمہور کی قرأت ہے تو یہ سر کی جمع ہوگا جس کے معنی ہیں بہت راز بہت بھید۔ قرآن کے دشمن کون تھے کہ جن سے منافقوں نے وعدہ کیا تھا ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں وہ قرآن کے دشمن عرب کے مشرک و کفار تھے مدینہ کے منافقوں نے مخفی طور پر ان سے یارانہ قائم رکھنے کے لیے کہلا بھیجا تھا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اتَّبَعُوْا مَـآ اَسْخَطَ اللّٰہَ وَکَرِھُوْارِضْوَانَـہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 28) (یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی تھی اور اللہ کی خوشنودی سے نفرت کی، پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیئے۔ ) اس سخت سزا کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سخت گیر سزا ہے جو ان کی جانیں نکالنے سے شروع ہوجائے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے ہر اس چیز کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کو غصہ دلانے والی تھی۔ اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مل سکتی تھی اس سے انھوں نے نفرت کا اظہار کیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ انھوں نے جو اعمال بظاہر نیکی سمجھ کے انجام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : منافق قرآن مجید سنتے ہیں مگر اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہدایت سے منہ پھیرلیتے ہیں جس وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو ان کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھلاتا ہے اور انہیں جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔ شیطان کی شیطینت کی وجہ سے منافقین، یہود و نصاریٰ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ کاموں میں تمہاری بات تسلیم کریں گے اور کچھ کاموں میں دوسروں کی بات مانیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کی موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ ماریں گے اور ان کی کمروں پر کوڑے برسائیں گے۔ اسی حالت میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : ذٰلِکَ (یہ) اس سے توفی موصوف کی طرف اشارہ ہے۔ بِاَنَّہُمُ باء سببیہ ہے۔ (اس وجہ سے کہ انہوں نے) اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَطَ اللّٰہُ (اس چیز کی اتباع کی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو لازم کرنے والی تھی) یعنی کفار کی معاونت۔ وَکَرِہُوْا رِضْوَانَہٗ (اور اسکی رضا مندی سے نفرت کی) یعنی ایمان والوں کی امداد و معاونت۔ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ (اسلئے اللہ تعالیٰ نے انکے اعمال کو کالعدم کردیا )

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–28

25۔ 28۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں قتادہ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ آیتیں یہود کی شان میں ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی صفتیں جو توراۃ میں تھیں ان سے یہ لوگ نبی آخر الزمان کو خوب پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے نبی ہونے اور ہجرت کرکے مدینہ میں آنے کے بعد آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے خود حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس 3 ؎ کا یہ قول ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں سورة الحشر میں آئے گا کہ مدینہ کے منافقوں نے یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ ہم تمہارا ہر طرح ساتھ دیں گے اور ان آیتوں میں بھی سنطیعکم فی بعض الامر فرمایا ہے اس لئے صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–28

اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹ پاؤں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/120) ” شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سواکچھ نہیں۔ “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہوچکی ہے مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا (قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ) ” انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–32

کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ ) ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–29

[ 71] منافقین و منکرین کا حال بدان کی موت کے موقع پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب کہ فرشتے ان کی جان قبض کریں گے اور وہ مار رہے ہوں گے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر "۔ ان کے روحوں کو نکالنے کے لئے۔ سو جس مار کے ڈر سے آج یہ لوگ جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے اور اس سے بھاگتے ہیں وہ ان پر اس وقت اس دنیا ہی میں پڑنا شروع ہوجائے گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔ تو پھر کون ان کا ایسا ہمدرد اور یار و مددگار ہوگا جو ان کو اس مار اور اس عذاب سے چھڑا سکے ؟ والعیاذ باللہ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لیے یہ دعوت ہے کہ تم اس برے اور ہولناک انجام سے بچنے کے لئے اسلام کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–32

منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔ محکمات۔ قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی کفر و شرک اور نفاق کی راہ پر 4 یعنی ہر اس کام کو برا سمجھا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندیھی جسے ایمان توحید اخلاق تقویٰ اور جہاد وغیرہ۔ 5 کیونکہ ان کی بنیاد و اخلاص و ایمان پر نہ تھی یاد رہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:28) ذلک یہ مار پٹائی ۔ یہ درگت۔ بانہم ب سببیہ ہے۔ ما موصولہ ہے اسخط اللہ اسخط ماضی واحد مذکر غائب اسخاط (افعال) مصدر۔ جس کے معنی غصہ دلانے اور بیزار کرنے کے ہیں۔ ان کی یہ مارپٹائی اس لئے ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں اس امر کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنا تھا۔ کرھوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب کراھۃ مصدر (باب سمع) انہوں نے ناپسند کیا انہوں نے برا سمجھا۔ انہوں نے کراہت کی۔ رضوانہ مضاف مضاف الیہ اس کی رضا مندی کو۔ اس کی خوشنودی کو۔ رضوان۔ رضی یرضی (باب سمع) کا مصدر ہے۔ المفردات میں ہے۔ رضی (س) رضا راضی ہونا۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو قضائے الٰہی سے اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–28

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 : طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 : اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) شان نزول : یہود نبی ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے تو آپ کی تعریف اور توصیف توریت اور انجیل میں سے لوگوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا وہ تشریف لے آئیں تو بڑا لطف آئے گا دنیا انکے نور سے منور ہوجائے گی لیکن جب وہ تشریف لائے تو سب سے زیادہ مخالف ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–30

[15] منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–28

منافقین کا جہاد سے فرار 1: ان آیات میں اس گروہ کا ذکر ہے ۔ جن کو منافقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔ مگر بیاظن اہل کفر وشرک کے ساتھ ساز بازرکھتے تھے ۔ اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے ۔ کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا احتمال وامکان ہو ۔ تو اس وقت اپنی شام قوتوں کو صرف کردیا جائے ۔ اور اپنی دوستی کی وجہ سے دشمنوں کو مدد پہنچائی جائے ۔ فرمایا کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے مسلمانوں سے تعلقات مو وت واخوت منقطع کر رکھے ہیں ۔ اور میدان جہاد سے فرار اختیار کیا ہے ۔ تو محض اس لئے کہ یہ شیطان کے چکر میں آگئے ہیں ۔ اور اس نے اللہ کو ڈھیل دے دی ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) یہ سلوک اس بنا پر ہوگا کہ ان لوگوں نے وہ روش اختیار کی جو روش اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی تھی اور انہوں نے رضائے الٰہی کو برا جانا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نیست ونابود اور ضائع کردیئے۔ یعنی اس سزا اور عقوبت کا سبب یہ ہے کہ جو طریقہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب تھا اور جو اس کو غصے میں لانے والا تھا وہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی و خوشی کو ناپسندیدہ رکھا اور اس کی رضامندی سے بیزاری کا اظہار کیا اس لئے ان کے اعمال کا لعدم کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–29

ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین کی مذکورہ حالت کیوں ہوگی اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی رضامندی کو مکروہ جانا 82 ؎ منافقین کی جو حالت گزشتہ آیت میں بیان کی گئی ہے وہ بہت ہی خوفناک اور دردناک ہے کیونکہ اکثر و بیشتر نفاق کے مرض میں مبتلا ہونے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بستی ‘ گائوں ‘ شہر ‘ صوبے اور پورے ملک میں گنے چنے لوگ ہوں جن کو ہمارے ہاں اکثر باپ دادا والے لوگ کہا جاتا ہے اور جو اقتدار ‘ حکومت اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور اکثر اپنی من مانیوں میں دو دوسروں کے محتاج نہیں ہوتے اور پر بیان کردہ جس گروہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اسی میں وہ جانے پہچانے اور معروف ہوتے ہیں۔ فرمایا وہ جو کچھ بھی ہوتے ہیں ہوا کریں ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ (it is Satan who has tempted them and involved them in far-fetched fancies. - 47:25). In this sentence, two acts have been ascribed to the devil: - taswil [ meaning the act of decking out evil works fair to some people, and imla' meaning the act of giving respite. First, he made their evil works look good and beautiful to them, and then prolonged their false hopes which will never be fulfilled.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

38 This refers to alI those works that they performed as "Muslims." Their Prayers, their fasting, their payments of the zakat, and all other acts of worship and virtue, which in appearance and form are counted among good works. were rendered void, for they failed to adopt the attitude of sincerity and loyalty towards AIIah and Islam and the Muslim community even though they professed to be Muslims; but, on the contrary, they went on conspiring with the enemies of Islam for the sake of small worldly gains, and started devising schemes to save themselves from any possible risks as soon as time…

Read the full tafseer →