Explained with ayahs 24–28
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 37
یعنی دنیا میں تو یہ طرز عمل انہوں نے اس لیے اختیار کرلیا کہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتے رہیں اور کفر و اسلام کی جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں، لیکن مرنے کے بعد یہ خدا کی گرفت سے بچ کر کہاں جائیں گے ؟ اس وقت تو ان کی کوئی تدبیر فرشتوں کی مار سے ان کو نہ بچا سکے گی۔
یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جو عذاب برزخ (یعنی عذاب قبر) کی تصریح کرتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ہی کفار و منافقین پر عذاب شروع ہوجاتا ہے، اور یہ عذاب اس سزا سے مختلف چیز ہے جو قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد ان کو دی جائے گی۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النساء، آیت 97۔ الانعام،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(آیت) الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ ، اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی۔ ایک تسویل جس کے معنی تزئین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزین کر دے۔ دوسرا املاء، جس کے معنے امہال اور مہلت دینے کے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا اور مزین کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔
Read the full tafseer →فکیف اذا توفتھم الملٓئکۃ یضربون و جو ھھم وادبار ھم (27)
منافقین کا حال موت کے وقت
یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے کہ اسلام کے خلا اس طرح کی سازشیں کرنے والوں کو ان کے جرم کی سزا اسی وقت سے ملنی شروع ہوجاتی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبضک رنے آتے ہیں تو یہ لوگ سوچ لیں کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب خدا کے سخت گیر فرشتے ان کی روحیں ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے قبضک ریں گے اور کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 1 یہ کافروں کی اس وقت کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ روحیں فرشتوں سے بچنے کے لئے جسم کے اندر چھپتی اور ادھر ادھر بھاگتی ہیں تو فرشتے سختی اور زور سے انہیں پکڑتے، کھنچتے اور مارتے ہیں یہ مضمون اس سے قبل (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →یہ زندگی مختصر ہے اور آخر کار ہمارا لشکر جب پہنچے گا اور ان سے امانت حیات وصول کرے گا تو :
فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) “ پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟ ”
یہ نہایت ہی خوفزدہ کرنے والا اور توہین آمیز منظر ہے۔ جب ان کی موت کا قت ہوگا یہ بےبس ہوں گے۔ اس زمین پر سے رخصت ہو رہے ہوں گے اور دوسری حیات کا آغاز ہو رہا ہوگا۔ اور اس نئی زندگی کا آغاز یوں ہو رہا ہے کہ فرشتے ان کے منہ پر بڑی بےدردی سے تھپڑ مار رہے ہیں اور چوتڑوں پر ڈنڈے رسید کر رہے ہیں۔ حالانکہ بذات خود موت کا وقت نہایت ہی درد…
Read the full tafseer →2 یعنی اس وقت موت سے کیونکر بچیں گے۔ بیشک اس وقت نفاق کا مزہ چکھیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 27 { فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ } ”تو کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے ضربیں لگاتے ہوئے ان کے چہروں پر اور ان کی پیٹھوں پر۔“
Read the full tafseer →31 موت سے فرار ناممکن ہے اور عذاب قبر کا ثبوت :۔ یعنی آج تو جہاد سے گریز کی راہ اختیار کرکے اپنی جانوں کو بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں مگر اس دن اپنے آپ کو کیسے بچا سکیں گے جب فرشتے ان کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور لوہے کے گرزوں سے انہیں خوب مار رہے ہوں گے۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہیں جن سے عذاب قبر یا عذاب برزخ ثابت ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ عذاب قیامت کے دن کے عذاب سے پہلے ہوگا۔ قیامت کے عذاب کی نسبت سے ہلکا ہوگا اور مرنے کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
31۔ یعنی ان کے جو اعمال بظاہر خوشنما ومقبول معلوم ہوتے تھے۔ انہیں بالکل بےوزن وبے حقیقت کرکے دکھلادیا، اور ان کا انہیں کچھ صلہ نہ دیا۔ یہ اعمال حقیقۃ مرادود وغیرمقبول تو شروع ہی سے تھے۔ اس لئے کہ ان کا مبنی ومنشاء ایمان تھا ہی نہیں، البتہ ان کی اس مردودیت کا ظہور کامل آخرت ہی میں ہوگا۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مرتے وقت ان کی سزائے سخت۔ (آیت) ” ما اسخط اللہ۔ مثلا کافروں کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔ (آیت) ” رضوانہ “۔ مثلا مومنین کے ساتھ شرکت اور ان کی معاونت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔
الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…
Read the full tafseer →فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم۔ سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانیں قبض کرتے ہوں گے (اور) ان کے چہروں پر اور پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے ‘
Read the full tafseer →تو یہ یہودی اس وقت کیا کریں گے جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوں گے اور ان کے مونہوں پر اور پشتوں پر لوہے کے گرز مارتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(1) فکیف اذا توقنھم الملئکۃ …: یعنی دنیا میں تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کا ساتھ اس لئے دیا کہ کفر و اسلام کی جنگ میں دونوں جانب سے مفادات حاصل کرسکیں ، اپنے آپ ک جنگ کے نقصانات اور خطرات سے بچائیں اور اپنے چہروں اور پیٹھوں کو تیر و تلوار کی مار سے بچائے رکھیں، مگر مترے وقت ان کے چہروں اور پیٹھوں کو فرشتوں کی مار سے کون بچائے گا ؟
(2) فاحبط اعمالھم : یعنی وہ تمام اعمال جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے، مثلاً ان کی نماز، ان کے روزے، زکواۃ اور تمام عبادتیں جو بظاہر نیکیاں تھیں، اللہ تعالیٰ نے برباد کردیئے، کیونا کہ یہ سب کچھ تب قبول ہوتا جب وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہوتا۔…
Read the full tafseer →ضاربین کے معنی میں ہے یہ حال کی جگہ واقع ہے کلام کا معنی خوف دلانا او دھمکانا ہے یعنی اگر عذاب ان سے موخر ہوگیا تو عمر کے اختتام تک یہ سلسلہ ہوگا سورة الانفال اور سورة النحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی آدمی معصیت پر فوت نہیں ہوتا مگر اس کے چہرے اور اس کی گدی پر شدید ضرب لگائی جاتی ہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جنگ کے وقت ہوتا ہے مقصود رسول اللہ ﷺ کی مدد ہوتی ہے۔ فرشتے ان کے مونہوں پر مارتے ہیں جب وہ جنگ کا سامنا کرتے ہیں اور جب وہ بھاگتے ہیں تو ان کی پشتوں پر مارتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قیامت کے روز ہوگا جب انہیں جہنم کی طرف ہانکا جارہا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ (بیشک جو لوگ پشت کے بل دین سے لوٹ گئے بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) فرمایا وہ اہل کتاب اللہ کے دشمن ہیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صفات کو پہچانتے ہیں جو اپنے پاس تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں پھر وہ اس کا انکار کرتے ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم “ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا) یعنی ان کے لئے (برے اعمال) مزین کردیا (آیت ) ” ذلک بانہم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ (یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے…
Read the full tafseer →فَكَيْفَ [تو کیسا ہوگا ] اِذَا تَوَفَّتْهُمُ [ جب روح قبض کریں گے ان کی ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] يَضْرِبُوْنَ [ مارتے ہوئے ] وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ [ ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 27 ۔ بھی ان آیات میں سے ہے جو عذاب برزخ یعنی عذاب قبر کی تصریح کرتی ہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ہی کفار و منافقین پر عذاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ عذاب اس سزا سے مختلف چیز ہے جو قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد انکو دی جائے گی ، (تفیہم القرآن )
Read the full tafseer →موت کے وقت کافر کی مارپیٹ
پھر فرمایا ﴿ فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ (الآیۃ) اس میں منافقین کی موت کے وقت کی بدحالی کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا میں ان کو عذاب نہ ہوا تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے محفوظ ہوگئے ہر کافر کو عذاب ہونا ہی ہے جو موت کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے ارشاد فرمایا کہ ان منافقین کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہونگے اور ان کے چہروں اور پشتوں کو مار رہے ہوں گے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ دنیا میں یہ لوگ جہاد سے بچ رہے ہیں ان کا یہ بچاؤ کتنے دن چلے گا بالآخر مریں گے اور موت کے وقت سے ہی ان کی پٹائی شروع ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
23:۔ ” فکیف اذا “ یہ تخویف دنیوی ہے جب فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے تو ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں کو خوب پیٹیں گے اور جس موت اور مار سے بھاگے تھے اس کا خوب مزہ چکھیں گے۔ ” ذلک بانھم۔ الایۃ “ مرتے وقت یہ ہولناک سزا انہیں اس لیے دی جائیگی کہ انہوں نے کفر و شرک اور عصیان و طغیان کی ر اہ اختیار کی جو سراسر اللہ کے غضب اور اس کی ناراضی کا باعث تھی اور اللہ کی خوشنودی ورضا جوئی کا راستہ ترک کیا اس لیے ان کے سب اعمال بیکار کردئیے گئے آخرت کی زندگی میں ان کو ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ربط آیات
یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی…
Read the full tafseer →فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ 27
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
یہ تتمہ ہے کلام سابق کا۔ کہ یہ منافق جو ہدایت آنے کے بعد الٹے پھرگئے اس کا یہ سبب ہے کہ انہوں نے وحی یعنی قرآن کے دشمنوں سے وعدہ کرلیا تھا کہ ہم تمہاری کچھ باتیں مانیں گے اور یہ بات مخفی کہی تھی لیکن اللہ کو ان کی رازداری معلوم ہے۔ اسرارھم بکسر ہمزہ پڑھیں گے تو مصدر ہوگا یہ اہل کوفہ کی قرأت ہے اور بفتح ہمزہ پڑھیں گے جیسا کہ جمہور کی قرأت ہے تو یہ سر کی جمع ہوگا جس کے معنی ہیں بہت راز بہت بھید۔
قرآن کے دشمن کون تھے کہ جن سے منافقوں نے وعدہ کیا تھا ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں وہ قرآن کے دشمن عرب کے مشرک و کفار تھے مدینہ کے منافقوں نے مخفی طور پر ان سے یارانہ قائم رکھنے کے لیے کہلا بھیجا تھا کہ ہم…
Read the full tafseer →فَـکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ ۔ (محمد : 27)
(پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے ہوئے ان کی روحیں قبض کریں گے۔ )
منافقین کا انجام موت کے وقت
یعنی تم اپنے طرز عمل سے دنیا میں تو شاید اپنے مفادات کا تحفظ کرسکو اور کفر و اسلام کی جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو بچائے رکھو، لیکن آخرت میں تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ کر کہاں جاؤ گے۔ حتیٰ کہ موت کے وقت جب فرشتے تمہاری جان لینے کے لیے آئیں گے تو تمہارے نفاق کی وجہ سے تمہارے مونہوں پر اور تمہاری پشتوں پر ضربیں لگائیں گے۔ اور تمہیں اس طرح مارتے پیٹتے اور ذلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : منافق قرآن مجید سنتے ہیں مگر اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہدایت سے منہ پھیرلیتے ہیں جس وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو ان کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھلاتا ہے اور انہیں جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔
شیطان کی شیطینت کی وجہ سے منافقین، یہود و نصاریٰ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ کاموں میں تمہاری بات تسلیم کریں گے اور کچھ کاموں میں دوسروں کی بات مانیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کی موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ ماریں گے اور ان کی کمروں پر کوڑے برسائیں گے۔ اسی حالت میں…
Read the full tafseer →آیت 27 : فَکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (پس ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہونگے) یعنی وہ اس وقت کیا کریں گے ؟ ان کا کیا حیلہ ہوگا ؟ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ (اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے جاتے ہونگے)
قول ابن عباس ؓ :
جو شخص معصیت پر مرتا ہے تو فرشتے اس کے چہرے اور پشت پر مارتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
25 ۔” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم “ وہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ ” من بعد تبین لھم الھدی “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب کے کفار ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کی صفات اپنی کتابوں میں پانے کے باوجودان کا انکار کیا اور ابن عباس ؓ اور ضحاک، سدی رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ منافقین ہیں۔ ” الشیطان سول لھم “ ان کے لئے قبیح کو مزین کردیا۔ ” واملی لھم “ اہل ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کی اپنی طرف سے خبر کے طریقہ پر کہ وہ ایسے کریں گے اور یہ قرات یعقوب (رح) سے روایت کی گئی ہے اور دیگر حضرات نے ” واملی لھم “ یعنی منافقین یا یہود “ قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ اور وہ مشرکین ہیں۔ ” سنطیعکم فی بعض الامر “ محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں قتادہ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ آیتیں یہود کی شان میں ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی صفتیں جو توراۃ میں تھیں ان سے یہ لوگ نبی آخر الزمان کو خوب پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے نبی ہونے اور ہجرت کرکے مدینہ میں آنے کے بعد آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے خود حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس 3 ؎ کا یہ قول ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں سورة الحشر میں آئے گا کہ مدینہ کے منافقوں نے یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ ہم تمہارا ہر طرح ساتھ دیں گے اور ان آیتوں میں بھی سنطیعکم فی بعض الامر فرمایا ہے اس لئے صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹ پاؤں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/120) ” شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سواکچھ نہیں۔ “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہوچکی ہے مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا (قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ) ” انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
[ 71] منافقین و منکرین کا حال بدان کی موت کے موقع پر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب کہ فرشتے ان کی جان قبض کریں گے اور وہ مار رہے ہوں گے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر "۔ ان کے روحوں کو نکالنے کے لئے۔ سو جس مار کے ڈر سے آج یہ لوگ جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے اور اس سے بھاگتے ہیں وہ ان پر اس وقت اس دنیا ہی میں پڑنا شروع ہوجائے گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔ تو پھر کون ان کا ایسا ہمدرد اور یار و مددگار ہوگا جو ان کو اس مار اور اس عذاب سے چھڑا سکے ؟ والعیاذ باللہ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لیے یہ دعوت ہے کہ تم اس برے اور ہولناک انجام سے بچنے کے لئے اسلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی کیا انہیں فکر نہیں کہ اس وقت ان کی کیسی گت بنے گی ؟ (نیزد یکھیے سورة انفال آیت : 5 انعام 93)
Read the full tafseer →(47:27) فکیف ۔ترتیب کا ہے کیف حرف استفہام۔ یہ استفہام تعجبی ہے پس تعجب ہے ان کا کیا حال ہوگا اور بچنے کی یہ کیا تدبیر کریں گے۔ ای کیف حالہم او حیلتہم ۔ فکیف خبر ہے جس کا مبتدا محذوف حالہم ہے۔
اذا ۔ جب۔ اس وقت۔ ظرف زمان ہے۔
توفتہم الملئکۃ ۔ توفت ماضی واحد مؤنث غائب اس نے اٹھایا اس نے قبض کیا۔ توفی (تفعل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس (فرشتوں کی جمعت ) نے ان کو اٹھا لیا۔ یا ان کی جانیں قبض کرلیں۔ فکیف اذا توفتہم الملئکۃ ۔ پس کیا حال ہوگا ان کا جس وقت فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے۔
یضربون وجوہہم وادبارہم ۔ (در آں حالیکہ ) وہ ان کو ان کے چہروں اور پشتوں پر ضربیں لگا رہے ہوں گے۔ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 :
طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 :
اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) شان نزول : یہود نبی ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے تو آپ کی تعریف اور توصیف توریت اور انجیل میں سے لوگوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا وہ تشریف لے آئیں تو بڑا لطف آئے گا دنیا انکے نور سے منور ہوجائے گی لیکن جب وہ تشریف لائے تو سب سے زیادہ مخالف ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
[15] منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
منافقین کا جہاد سے فرار
1: ان آیات میں اس گروہ کا ذکر ہے ۔ جن کو منافقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔ مگر بیاظن اہل کفر وشرک کے ساتھ ساز بازرکھتے تھے ۔ اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے ۔ کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا احتمال وامکان ہو ۔ تو اس وقت اپنی شام قوتوں کو صرف کردیا جائے ۔ اور اپنی دوستی کی وجہ سے دشمنوں کو مدد پہنچائی جائے ۔ فرمایا کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے مسلمانوں سے تعلقات مو وت واخوت منقطع کر رکھے ہیں ۔ اور میدان جہاد سے فرار اختیار کیا ہے ۔ تو محض اس لئے کہ یہ شیطان کے چکر میں آگئے ہیں ۔ اور اس نے اللہ کو ڈھیل دے دی ہے…
Read the full tafseer →(27) پھر اس وقت ان مرتدین کا کیا حال ہوگا کہ جس وقت فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوں گے اور ان کے مونہوں پر اور ان کی پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تب موت سے کیونکر بچیں گے اور تب نفاق کا مزہ کافرچکھیں گے۔ خلاصہ : یہ کہ موت کے فرشتے مسلط ہوں گے وہ جان بھی نکال رہے ہوں گے اور مارتے بھی جاتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔
Read the full tafseer →ان کی حالت کیا ہوگی جب بوقت موت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ماریں گے
72 ؎ جو اوپر حالت ان لوگوں کی بیان کی گئی ہے وہ محض اس وجہ سے تھی کہ وہ دائیں اور بائیں دونوں طرف سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور ہر کوئی ان کو اچھا کہے لیکن ان کی یہ خواہش کبھی دنیا میں بھی پوری نہیں ہوئی اور نہ ہی پوری ہو سکتی ہے بہرحال ان کی دنیوی زندگی تو گزری جیسے گزری ان کی آخرت کا کیا ہوگا ؟ فرمایا آخرت کی منزل موت سے شروع ہوجاتی ہے گویا موت آخرت کی منزل کی پہلی سیڑھی ہے اور اس پہلی سیڑھی پر پہنچتے ہی جو حالت ان کی ہوگی وہ یہ ہے کہ موت کے فرشتے موت طاری کرتے وقت ان کی پیٹھوں اور مونہوں پر تابڑ توڑ کوڑے برسائیں گے اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ (it is Satan who has tempted them and involved them in far-fetched fancies. - 47:25). In this sentence, two acts have been ascribed to the devil: - taswil [ meaning the act of decking out evil works fair to some people, and imla' meaning the act of giving respite. First, he made their evil works look good and beautiful to them, and then prolonged their false hopes which will never be fulfilled.
Read the full tafseer →37 That is, "In the world they adopted this attitude so that they may safeguard their interests and may protect themselves from the dangers of the conflict between Islam and infidelity, but how will they escape Allah's wrath after death? At that time no device of theirs will prove helpful for them to remain safe from the punishment by the angels. " This verse also is one of those verses that point to the torment of barzakh (i.e. torment 'of the grave). It clearly shows that the unbelievers and hypocrites start being afflicted with the torment right from the time of death, and this torment is…
Read the full tafseer →