Explained with ayahs 24–28
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 36
یعنی ایمان کا اقرار کرنے اور مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوجانے کے باوجود وہ اندر ہی اندر دشمنان اسلام سے ساز باز کرتے رہے اور ان سے وعدے کرتے رہے کہ بعض معاملات میں ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(آیت) الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ ، اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی۔ ایک تسویل جس کے معنی تزئین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزین کر دے۔ دوسرا املاء، جس کے معنے امہال اور مہلت دینے کے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا اور مزین کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔
Read the full tafseer →ذلک بانھم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر واللہ یعلم اسراھم 26
منافقین کے راندہ درگاہ ہونے کا بب
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وجہ سے شیطان کے حوالہ کردیا کہ حق کے اچھی طرح واضح ہو چکنے کے بعد بھی ان کا ساز باز اسلام کے ان دشمنوں کے ساتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب سے سخت نفرت کرنے والے ہیں۔ یہ ان کو اطمینان دلاتے ہیں کہ بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ للذین کرھوا مانزل اللہ سے اشارہ یہود اور قریش کے لیڈروں کی طرف ہے جن کی اسلام کے ساتھ دشمنی بالکل واضح تھی لیکن یہ منافقین ان کو اطمینان دلاتے رہتے تھے کہ ہرچند ہم مسلمانوں میں شامل ہوگئے ہیں لیکن…
Read the full tafseer →26۔ 1 ' یہ ' سے مراد ان کا مرتد ہونا ہے۔
26۔ 2 یعنی منافقین نے مشرکین سے یا یہود سے کہا۔
26۔ 3 یعنی نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی مخالفت میں۔
2 6 ۔ 4 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (ۭ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ) 4۔ النساء :81)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →قرآن کریم نے ایمان لانے اور ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد ان کی جانب سے ایمان کو ترک کرنے کے عمل کو نہایت ہی حسی انداز میں پیش کیا ہے۔ یعنی واپسی اور الٹے پاؤں پھرنے کا عمل ، اور اس کے اسباب یہ بتائے ہیں کہ شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی اور ان کے لئے اس برے کام کو خوبصورت بنا دیا یعنی ظاہری حرکت کہ ایک شخص الٹے پاؤں پھر رہا ہے اور معنوی حرکت اس انداز تعبیر میں دونوں نظر آتی ہیں جبکہ یہ منافق اپنی جانب سے اپنے ان اعمال کو اچھی طرح چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیطان ان پر کس طرح مسلط ہوگیا اور کس طرح وہ ان کو مرتد بنانے میں کامیاب ہوگیا حالانکہ آغاز میں یہ لوگ ایمان لا چکے تھے ، تو وجہ یہ…
Read the full tafseer →1 منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہرگز تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 26 { ذٰلِکَ بِاَنَّـہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ } ”یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے جنہیں اللہ کا نازل کیا ہوا قرآن ناپسند ہے ‘ کہا کہ ہم بعض امور میں تمہاری اطاعت جاری رکھیں گے۔ اور اللہ کو ان کی خفیہ باتوں کا خوب علم ہے۔“
اللہ کے نازل کردہ قرآن کو ناپسند کرنے والے مشرکین اور یہود تھے ‘ جنہیں منافقین مسلسل اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم بظاہر محمد ﷺ پر ایمان لا کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے ہیں مگر آپ لوگوں سے ہمارا رشتہ بدستور قائم رہے گا اور تمام اہم معاملات میں صلاح…
Read the full tafseer →30 منافقین کا یہود سے درپردہ معاہدہ :۔ شیطان کی انہیں ایسی پٹی پڑھانے کی ایک وجہ یہ بھی بن گئی کہ ان بدبخت منافقوں نے اندر ہی اندر یہود سے ساز باز کر رکھی تھی اور ان منافقوں نے یہود سے ان کے مطالبہ پر کچھ ایسے دعوے بھی کر رکھے تھے کہ وہ انہیں مسلمانوں کی نقل و حرکت اور ان کی جنگی سرگرمیوں سے مطلع کرتے رہیں گے۔ اور اگر جنگ ہوئی تو ہم تم سے لڑیں گے نہیں بلکہ مسلمانوں کو چکمہ ہی دیتے رہیں گے۔ اور جنگ کے دوران منافقوں نے ایسا ہی کردار ادا کیا تھا اور اس کے عوض یہود نے بھی ان سے کچھ وعدے کر رکھے تھے۔ گویا منافق یہودیوں کے لیے تو گھر کا بھیدی اور مسلمانوں کے حق میں مار آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر اللہ…
Read the full tafseer →30۔ (اور وہی وحی کے ذریعہ سے اپنے رسول ﷺ کو ان لوگوں کی خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے باخبر کرتا رہتا ہے) (آیت) ” بانھم “۔ ضمیر ھم۔ منافقین مشرکین کی طرف ہے۔ (آیت) ” للذین کرھوا مانزل اللہ “۔ مراد رؤساء و اکابر یہود ہیں، جنہیں از راہ حسد وعناد، نزول، قرآن و رسالت محمدی ﷺ سخت گراں گزر رہی تھی۔ (آیت) ” سنطیعکم فی بعض الامر “۔ یعنی گوہم بظاہر اسلام قبول کرلیں گے۔ لیکن باطنا وعقیدۃ تمہاریہی ساتھ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔
الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…
Read the full tafseer →ذلک بانھم قالوا للذین کرھوا ما نزل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر وا اللہ یعلم اسرارھم
یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کرتے ہیں ‘ یہ کہا کہ ہم بعض باتوں میں تمہارا کہنا مان لیں گے اور اللہ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے۔
ذٰلِکَ یعنی شیطان کی طرف سے یہ فریب دہی اور طویل ترین ہوا و ہوس کی ترغیب اس سبب سے ہے کہ
بِاَنَّھُمْ قَالُوْا یعنی یہودی کافروں نے منافقوں سے ‘ یا منافقوں نے یہودی کافروں سے ‘ یا ایک فریق نے مشرکوں سے کہا۔
سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ یعنی بعض امور میں ہم تمہارے کہے پر چلیں گے ‘ یا تمہارے بعض مشروں پر عمل کریں گے ‘ جیسے…
Read the full tafseer →یہ ارتداد اس وجہ سے ہوا کہ ان یہودیوں نے منافقین سے جو ان احکام کو جو کہ بذریعہ جبریل امین نازل ہوئے ناپسند کرتے ہیں۔ کہا ہے کہ اے گروہ منافقین ہم رسول اکرم کے بعض احکامات میں یعنی زبانی کلمہ گو ہونے میں اگر یہ ہم پر غالب آگئے تمہارا کہنا مان لیں گے اور یہود جو منافقین سے خفیہ باتیں کرتے ہیں حق تعالیٰ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ذلک بانھم قالوا اللذین کرھوا مانزل اللہ :”للذین کرھوا مانزل اللہ“ سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا :(ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم) (محمد : 9)”یہ اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔“
(2) سنطیعکم فی بعض الامر : بعض کاموں سے مراد رسول اللہ ﷺ کی مخالفتا ور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقع آئے مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقے سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ یعنی ان کے ایمان قبول کرنے کے بعد کفر و ارتداد کی طرف پلٹنے، جہاد سے فرار اور منافقت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے…
Read the full tafseer →یعنی انہیں یہ مہلت دی تاکہ وہ کفر میں دور چلے جائیں کیونکہ وائو ضمیر سے مراد منافقین اور یہودی ہیں۔
سے مراد مشرک ہیں۔ بعض الامر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی مخالفت کرنا، آپ کے دشمن میں باسم مدد کرنا، آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کے بجائے گھر میں بیٹھ رہنا اور رزاداری کے عالم میں آپ کی توہین کرنا۔ انہوں نے یہ بات رازداری کے عالم میں کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ کردیا۔ عام قرأت رھم ہے یہ سر کی جمع ہے یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کوفہ کے قراء ابن وثاب اعمش حمزہ کسائی اور حفص نے عاصم سے اسرارھم نقل کیا ہے کہ یہ مصدر ہے اسی کی مثل اللہ کا فرمان ہے : (نوح) یہاں جمع کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ (بیشک جو لوگ پشت کے بل دین سے لوٹ گئے بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) فرمایا وہ اہل کتاب اللہ کے دشمن ہیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صفات کو پہچانتے ہیں جو اپنے پاس تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں پھر وہ اس کا انکار کرتے ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم “ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا) یعنی ان کے لئے (برے اعمال) مزین کردیا (آیت ) ” ذلک بانہم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ (یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس سبب سے کہ انھوں (منافقوں ) نے ] قَالُوْا لِلَّذِيْنَ [ کہا ان لوگوں سے جنھوں نے ] كَرِهُوْا مَا [ ناپسند کیا اس کو جو ] نَزَّلَ اللّٰهُ [ نازل کیا اللہ نے ] سَنُطِيْعُكُمْ [ (کہ ) ہم کہنا مانیں گے تم لوگوں کا ] فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ [بعض معاملات میں ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ اور اللہ جانتا ہے ] اِسْرَارَهُمْ [ ان کے چھپانے کو ]
Read the full tafseer →﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ﴾ اس میں ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ اور اَنَّھُمْ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اور ﴿اَلَّذِیْنَ كرِھُوْا﴾ سے کون لوگ مراد ہیں اور ﴿بَعْضِ الْاَمْرِ﴾ سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین نے متعدد اقوال لکھے ہیں بِاَنَّهُمْ کی باکوسببیہ لینے کی صورت میں وہی قول قرین قیاس ہوگا جس سے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ مسبب اور با کا مدخول سبب بن سکتا ہو علامہ قرطبی نے ذٰلِكَ کا مشارٌ الیہ ﴿اَمْلٰى لَهُمْ ﴾ کو قرار دیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ شیطان کا انہیں لمبی عمر والی باتیں سمجھانا اس سبب سے ہے کہ انہوں نے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →22:۔ ” ذلک بانھم۔ الایۃ “ ” الذین کرھوا الخ “ سے یہود اور مشرکین مراد ہیں۔ منافقوں نے جب ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا تو انہوں نے یہود اور مشرکین کو یقین دلایا کہ اگرچہ بظاہر ہم مسلمان ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ مل کر تم سے نہیں لڑیں گے بلکہ جب موقع پائیں گے تمہاری مدد کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی ان سرگوشیوں اور خفیہ سازوں کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ربط آیات
یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِہُوْا مَا نَزَّلَ اللہُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ 0 ۚ ۖ وَاللہُ يَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ 26
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
یہ تتمہ ہے کلام سابق کا۔ کہ یہ منافق جو ہدایت آنے کے بعد الٹے پھرگئے اس کا یہ سبب ہے کہ انہوں نے وحی یعنی قرآن کے دشمنوں سے وعدہ کرلیا تھا کہ ہم تمہاری کچھ باتیں مانیں گے اور یہ بات مخفی کہی تھی لیکن اللہ کو ان کی رازداری معلوم ہے۔ اسرارھم بکسر ہمزہ پڑھیں گے تو مصدر ہوگا یہ اہل کوفہ کی قرأت ہے اور بفتح ہمزہ پڑھیں گے جیسا کہ جمہور کی قرأت ہے تو یہ سر کی جمع ہوگا جس کے معنی ہیں بہت راز بہت بھید۔
قرآن کے دشمن کون تھے کہ جن سے منافقوں نے وعدہ کیا تھا ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں وہ قرآن کے دشمن عرب کے مشرک و کفار تھے مدینہ کے منافقوں نے مخفی طور پر ان سے یارانہ قائم رکھنے کے لیے کہلا بھیجا تھا کہ ہم…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِھُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ صلے ج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ ۔ (محمد : 26)
(یہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ چیز کو برا جانا، کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔ )
منافقین کی محرومی کا سبب
گزشتہ آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں اور اس نے اپنی چالوں سے انھیں اپنا اسیر بنا رکھا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی ایسے شخص کو جو ایمان کی طرف بڑھنا چاہتا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : منافق قرآن مجید سنتے ہیں مگر اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہدایت سے منہ پھیرلیتے ہیں جس وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو ان کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھلاتا ہے اور انہیں جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔
شیطان کی شیطینت کی وجہ سے منافقین، یہود و نصاریٰ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ کاموں میں تمہاری بات تسلیم کریں گے اور کچھ کاموں میں دوسروں کی بات مانیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کی موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ ماریں گے اور ان کی کمروں پر کوڑے برسائیں گے۔ اسی حالت میں…
Read the full tafseer →آیت 26 : ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِہُوَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ (یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام ناپسند کرتے تھے۔ یہ کہا) منافقین نے یہود کو جا کر کہا۔ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ (بعض باتوں میں ہم تمہارا کہنا مان لیں گے) مثلاً یعنی محمد ﷺ کی عداوت اور ان کی معاونت سے گریز۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَہُمْ (اللہ تعالیٰ ان کی خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے) اسرار۔ یہ اسرّ کا مصدر ہے۔
قراءت : حمزہ ٗ علی ٗ حفص نے اسی طرح پڑھا۔ دیگر قراء نے اَسْرَارَہُمْ جمع سِرٌّ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
25 ۔” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم “ وہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ ” من بعد تبین لھم الھدی “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب کے کفار ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کی صفات اپنی کتابوں میں پانے کے باوجودان کا انکار کیا اور ابن عباس ؓ اور ضحاک، سدی رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ منافقین ہیں۔ ” الشیطان سول لھم “ ان کے لئے قبیح کو مزین کردیا۔ ” واملی لھم “ اہل ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کی اپنی طرف سے خبر کے طریقہ پر کہ وہ ایسے کریں گے اور یہ قرات یعقوب (رح) سے روایت کی گئی ہے اور دیگر حضرات نے ” واملی لھم “ یعنی منافقین یا یہود “ قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ اور وہ مشرکین ہیں۔ ” سنطیعکم فی بعض الامر “ محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں قتادہ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ آیتیں یہود کی شان میں ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی صفتیں جو توراۃ میں تھیں ان سے یہ لوگ نبی آخر الزمان کو خوب پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے نبی ہونے اور ہجرت کرکے مدینہ میں آنے کے بعد آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے خود حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس 3 ؎ کا یہ قول ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں سورة الحشر میں آئے گا کہ مدینہ کے منافقوں نے یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ ہم تمہارا ہر طرح ساتھ دیں گے اور ان آیتوں میں بھی سنطیعکم فی بعض الامر فرمایا ہے اس لئے صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹ پاؤں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/120) ” شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سواکچھ نہیں۔ “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہوچکی ہے مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا (قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ) ” انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 68] منافقین کے راندہ و درگاہ ہونے کے سبب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے سازباز کی۔ یعنی مشرکین عرب اور کفار اہل کتاب سے۔ جیسا کہ منافقین مدینہ نے یہود بنو قریظہ اور بنو نضیر سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ساز باد کی تھی اور ان کو بہت کچھ سبز باغ دکھائے تھے۔ [ مراحی، محاسن اور مدارک وغیرہ ] اور یہی حال ایسے لوگوں کا ہمیشہ رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس کے نمونے اور مظاہر یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اور جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد میں منافقوں کے راندہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی مشرکوں اور یہودیوں سے۔
11 ” بعض باتوں “ سے مراد آنحضرت کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقعہ آئیتو مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقہ سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔
1 یعنی ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جنہیں وہ چھپ کر کرتے ہیں، خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →(47:26) ذلک : ارتداد ۔ جس کے متعلق اوپر مذکور ہوا۔ اس کی طرف اشارہ ہے نہ ہی املا اور نہ ہی تسویل کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کیونکہ اگلا آنے والا قول ان دونوں میں سے کسی کا بھی سبب نہیں بن سکتا۔ یہ مبتدا ہے اور اگلا جملہ خبر۔
بانہم میں باء سببیہ ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ قالوا کا فاعل منافقین ہیں جو مرتد ہوگئے تھے۔
مطلب یہ کہ اس ارتداد کی وجہ یہ ہے ہے کہ یہ منافقین لوگ (یعنی مرتدین) کہتے ہیں۔
للذین کرھوا ما نزل اللہ۔ الذین اسم موصول اور اگلا جملہ اس کا صلہ۔ ما نزل اللہ سے مراد القرآن ہے مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین مرتدین ان لوگوں سے جن پر حضرت رسول کریم ﷺ پر قرآن کا نزول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 :
طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 :
اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) شان نزول : یہود نبی ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے تو آپ کی تعریف اور توصیف توریت اور انجیل میں سے لوگوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا وہ تشریف لے آئیں تو بڑا لطف آئے گا دنیا انکے نور سے منور ہوجائے گی لیکن جب وہ تشریف لائے تو سب سے زیادہ مخالف ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
[15] منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
منافقین کا جہاد سے فرار
1: ان آیات میں اس گروہ کا ذکر ہے ۔ جن کو منافقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔ مگر بیاظن اہل کفر وشرک کے ساتھ ساز بازرکھتے تھے ۔ اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے ۔ کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا احتمال وامکان ہو ۔ تو اس وقت اپنی شام قوتوں کو صرف کردیا جائے ۔ اور اپنی دوستی کی وجہ سے دشمنوں کو مدد پہنچائی جائے ۔ فرمایا کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے مسلمانوں سے تعلقات مو وت واخوت منقطع کر رکھے ہیں ۔ اور میدان جہاد سے فرار اختیار کیا ہے ۔ تو محض اس لئے کہ یہ شیطان کے چکر میں آگئے ہیں ۔ اور اس نے اللہ کو ڈھیل دے دی ہے…
Read the full tafseer →(26) ان منافقوں کے اس ارتدادکا سبب یہ ہے کہ ان منافقوں نے ایسے لوگوں سے جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو ناپسند کرتے ہیں یوں کہا کہ ہم بعض باتوں میں تمہارے کہنے پر چلیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی رادارانہ اور خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں منافقوں نے کافروں سے کہا کہ ہم مسلمان ہوئے ہیں لیکن تم سے نہ لڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے نزل کردہ احکام سے بیزار اور ناپسند کرنے والے کافر ہیں خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا مشرکین مکہ ہوں تو یہ لوگ ان سے ساز باز رکھتے ہیں اول نفاق پھر کافروں سے ساز باز یہ چیزیں ان کے ارتداد کا سبب ہوئیں اگرچہ یہ باتیں خفیہ ہوتی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مشوروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔
Read the full tafseer →نفاق کی مزید تشریح کر کے اس کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ کسی پر وہ مبہم نہ رہے
62 ؎ (الذی کرھوا ما انزل اللہ) کن لوگوں کی تصویر پیش کر رہا ہے ؟ ان لوگوں کی جو کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کو اللہ کا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا خیال کتے ہیں حالانکہ ان کا یہ خیال محض ضد اور عناد کے باعث ہے نہ کہ کسی دلیل اور حجت کے باعث پھر وہ لوگ جو ان لوگوں سے پیار کی پینگیں چڑھاتے ہیں اور ان سے ان کی فرمانبرداری کرنے اور ان کا کہا ماننے کے وعدے کرتے ہیں کیا ان کے دلوں تک ایمان پہنچتا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ ان کے ایمان کا دعویٰ بالکل فرضی ہے اور وہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ (it is Satan who has tempted them and involved them in far-fetched fancies. - 47:25). In this sentence, two acts have been ascribed to the devil: - taswil [ meaning the act of decking out evil works fair to some people, and imla' meaning the act of giving respite. First, he made their evil works look good and beautiful to them, and then prolonged their false hopes which will never be fulfilled.
Read the full tafseer →36 That is, "In spite of professing the Faith and being counted among the Muslims, they went on conspiring secretly with the enemies of Islam and even pledged to support them in certain matters. "
Read the full tafseer →