Explained with ayahs 24–28
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة مُحَمَّد 35
یعنی یا تو یہ لوگ قرآن مجید پر غور نہیں کرتے، یا غور کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اس کی تعلیمات اور اس کے معانی و مطالب ان کے دلوں میں اترتے نہیں ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں جو ایسے حق ناشناس دلوں کے لیے مخصوص ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(آیت) الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ ، اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی۔ ایک تسویل جس کے معنی تزئین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزین کر دے۔ دوسرا املاء، جس کے معنے امہال اور مہلت دینے کے ہیں مراد یہ ہے کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا اور مزین کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔
Read the full tafseer →ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی الشیطان سول لھم واملی لھم 25
نفاق ارتداد ہے
فرمایا کہ ان منافقین کی یہ روشن ارتداد کی روش ہے۔ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ راہ حق یہی ہے جس کی طرف پیغمبر دعوت دے رہے ہیں۔ چناچہ آگے بڑھ کر انہوں نے اس کو قبول بھی کرلیا لیکن جب آزمائشوں سے سابقہ پڑا تو شیطان نے ان کو فریب دیا اور یہ اس کے فریب میں مبلا ہوگئے اور خدا نے بھی ان کو ڈھل دے دی اس لئے کہ جو لوگ جان بوجھ کر محض اپنی خواہشوں کی پیروی میں راہ حق سے انحراف اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو ڈھیل دے دیتا ہے کہ وہ جس وادی میں ہرزہ گردی کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔
نفاق کو ارتداد ہونا قرآن کے…
Read the full tafseer →25۔ 1 اس سے مراد منافقین ہی ہیں جنہوں نے جہاد سے گریز کر کے کفر و ارتداد کو ظاہر کردیا۔
25۔ 2 اس کا فاعل بھی شیطان ہے یعنی مدلھم فی الامل ووعدھم طول العمر یعنی انہیں لمبی آرزوؤں اور اس دھوکے میں مبتلا کردیا کہ ابھی تو تمہاری بڑی عمر ہے کیوں لڑائی میں اپنی جان گنواتے ہو یا فاعل اللہ ہے اللہ نے انہیں ڈھیل دی یعنی فورا ان کا مواخذہ نہیں فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔
افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔
ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر…
Read the full tafseer →10 یعنی منافقین اسلام کا اقرار کرنے اور اس کی سچائی ظاہر ہو چکنے کے بعد وقت آنے پر اپنے قول وقرار سے پھرے جاتے ہیں۔ اور جہاد میں شرکت نہیں کرتے۔ شیطان نے ان کو یہ بات سجھا دی ہے کہ لڑائی میں نہ جائیں گے تو دیر تک زندہ رہینگے۔ خواہ مخواہ جا کر مرنے سے کیا فائدہ۔ اور نہ معلوم کیا کچھ سجھاتا اور دوردراز کے لمبے چوڑے وعدے دیتا ہے۔ (وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :64)
Read the full tafseer →آیت 25 { اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ وَاَمْلٰی لَہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو پھرگئے اپنی پیٹھوں کے َبل ‘ اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہوچکی ‘ شیطان نے ان کے لیے ارتداد کا یہ مرحلہ آسان کردیا ہے اور انہیں لمبی لمبی امیدیں دلائی ہیں۔“
”طولِ امل“ کے اس شیطانی چکر میں پڑ کر انسان آخرت کو بالکل ہی فراموش کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جس شخص نے لمبی لمبی امیدیں قائم کر کے اپنی زندگی میں بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہوں ‘ اس کے دل میں شہادت کی تمنا کیسے پیدا ہوسکتی ہے ‘ اور ایسا شخص میدان جنگ میں جانا بھلا کیونکر پسند کرے گا !
Read the full tafseer →29 یعنی شیطان نے انہیں یہ پٹی پڑھائی ہے کہ اگر تم نے جہاد میں شمولیت کی تو یہ اپنی موت کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں مال کا بھی نقصان ہوگا۔ پھر اگر مسلمانوں کو فتح ہو بھی جائے تو موت کی صورت میں انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ لہذا مالی نقصان سے بچنے، اپنی جان سلامت رکھنے اور تادیر زندہ رہنے کا نسخہ کیمیا یہی ہے کہ جہاد سے گریز کی راہ اختیار کی جائے۔
Read the full tafseer →29۔ (کہ رسول پر ایمان لے آنے سے فلاں فلاں مصلحتیں فوت ہوجائیں گی اور فلاں فلاں نقصان لازم آجائیں گے) (آیت) ” من ..... الھدی “۔ یعنی یہ لوگ دلائل عقلی ونقلی کے واضح ہوجانے کے باوجود ضد اور خبث نفس سے کام لے کر قبول حق سے انکار کررہے ہیں۔ تسویلات شیطانی سے بس اللہ ہی محفوظ رکھے۔ اچھے اچھے مومنین تک اس مردود فری بے کے کہے میں آجاتے ہیں تو جو پہلے ہی سے ناقص الایمان یا ضعیف الایمان ہیں ان کا ذکر ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔
الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…
Read the full tafseer →ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی الشیطن سول لھم واملی لھم
بیشک جو لوگ پشت کے بل (دین سے) لوٹ گئے ‘ بعد اسکے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا ‘ شیطان نے ان کو چقمہ دیا ہے اور ان کو دور دور کی سوجھائی ہے۔
اِرْتَدُّوْا عَلآی اَدْبَارِھِمْ یعنی سابق کفر کی طرف لوگ گئے۔ حضرت عروہ نے کہا : ان لوگوں سے مراد ہیں کفار اہل کتاب۔ توریت میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اوصاف پڑھے تھے ‘ اسلئے بعثت سے پہلے ہی وہ حضور ﷺ کو جانتے تھے ‘ لیکن جب آپ معبوث ہوئے تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت ابن عباس ‘ ضحاک اور سدی کے نزدیک منافق مراد ہیں۔
الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ ۔ سوّل سوال سے مشتق…
Read the full tafseer →جو لوگ یعنی یہود اپنے آبائی دین کی طرف پھرگئے باوجود اس کے کہ توحید اور قرآن کریم اور رسول اکرم کی نعت و صفت بذریعہ قرآن ان کو صاف معلوم ہوگئی تو شیطان نے ان کو اپنے آبائی دین کی طرف پھرنے کا دھوکہ دیا ہے اور حق تعالیٰ نے ان کو ڈھیل دی ہے جس کی وجہ سے ابھی تک ان کو ہلاک نہیں کیا۔
Read the full tafseer →(1) ان الذین ارتدوا علی ادبارھم …: ان سے مراد منافقین ہی ہیں جنہوں نے راہ حق واضح ہونے اور سالام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد سے گریز کرتے ہوئے کفر و ارتداد کی راہ اختیار کی۔
(2) الشیطن سول لھم و املی لھم : یعنی شیطان نے ان کے لئے ان کے کفر و ارتداد اور جہاد سے فرار کو خوش نما بنادیا اور ان کے لئے مہلت لمبی بتائی، یعنی ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ اگر جہاد نہ کرو گے تو لمبی مدت تک زندہ رہو گے اور دنیا کے عیش و آرام سے فائدہ اٹھاؤ گے۔ شیطان کا کام ہی خواہش اور آرزوئیں دلا کر گمراہ کرنا ہے۔ (دیکھیے نسائ :120119) حالانکہ انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ موت اپنے وقت آتی ہے، اس میں لمحہ بھر تقدیم و تاخیر نہیں…
Read the full tafseer →قتادہ نے کا ہ : وہ اہل کتاب کے کفار ہیں : انہوں نے نبی کریم ﷺ کا انکار کیا جبکہ وہ نبی کریم ﷺ کی نعت سے بخوبی آشنا تھے یہ ابن جریج کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ضحاک اور سدی نے کہا : وہ منافق ہیں، قرآن حکیم میں جہاد کے حکم سے آگاہی کے بعد وہ جہاد کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ گئے۔
شیطان نے ان کی خطائوں کو مزین کیا : یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے : نے انہیں طویل آرزو دلائی اور لمبی عمر کا وعدہ کیا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے۔ وہ ذات جس نے انہیں لمبی آرزویں دلائیں اور ان کی عمروں کو لمبا کردیا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ فراء اور مفضل کا قول ہے کلبی اور مقاتل نے کہا : کا معنی ہے انہیں مہلت دی۔ اس تعبیر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ (بیشک جو لوگ پشت کے بل دین سے لوٹ گئے بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) فرمایا وہ اہل کتاب اللہ کے دشمن ہیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صفات کو پہچانتے ہیں جو اپنے پاس تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں پھر وہ اس کا انکار کرتے ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم “ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا) یعنی ان کے لئے (برے اعمال) مزین کردیا (آیت ) ” ذلک بانہم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ (یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا [بیشک جو لوگ واپس لوٹے ] عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ [ اپنی پیٹھوں پر ] مِّنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جب ] تَبَيَّنَ لَهُمُ [ واضح ہوئی ان کے لیے ] الْهُدَى ۙ [ہدایت ] الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ [ شیطان نے خوشنما بنایا ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے (منافقت کو ) ] وَاَمْلٰى [ اور اس نے لمبی چوڑی امید دلائی ] لَهُمْ [ ان لوگوں کے لیے ]
Read the full tafseer →مرتدین کے لیے شیطان کی تسویل اور موت کے وقت ان کی تعذیب
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات میں بھی منافقین کا ذکر ہے ان سے جو مخالفانہ اور باغیانہ حرکتیں ظاہر ہوئیں ان کی وجہ سے ان کے لیے دعوائے اسلام پر باقی رہنے کا بھی کوئی راستہ نہ رہا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے ان اوصاف کو دیکھ کر پہچان لیا جو اپنی کتابوں میں پاتے تھے پھر بھی کفر پر جمے رہے (اس کو ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ سے تعبیر فرمایا کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ہم ضرور اتباع کریں گے اس دعوے کے مطابق جو کچھ کرنا تھا اس سے پھرگئے) آیات کا نزول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
21:۔ ” افلا یتدبرون “ یہ منافقین پر زجر ہے کیا یہ لوگ قرا ان کی آیات بینات میں غور و تدبر ہی نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں اور وہ ایسے بےشعور ہیں کہ ان میں تدبر و تفکیر کی صلاحیت ہی نہیں۔ اگر یہ لوگ حکم جہاد میں ذرا غور سے کام لیتے تو جہاد کے دینی اور دنیوی فوائد ان پر واضح ہوجاتے۔ ” ان الذین ارتدوا۔ الایۃ “ منافقین اسلام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد میں شرکت نہیں کرتے اور اپنے قول واقرار سے پھرے جاتے ہیں شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ جہاد میں جاؤ گے تو قتل ہوجاؤ گے اور ان کی امیدوں میں یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ گھر میں رہو گے تو زیادہ عرصہ تک زندہ رہو گے اس لیے چھوڑو جہاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ربط آیات
یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِہِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُمُ الْہُدَى 0 ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ 0 ۭ وَاَمْلٰى لَہُمْ 25
ردت
والارْتِدَادُ والرِّدَّةُ : الرّجوع في الطّريق الذي جاء منه، لکن الرّدّة تختصّ بالکفر، والارتداد يستعمل فيه وفي غيره، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلى أَدْبارِهِمْ [ محمد/ 25]
وقوله عزّ وجلّ : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96] ، أي : عاد إليه البصر،
( رد د ) الرد ( ن )
الارتدادؤالردۃ اس راستہ پر پلٹنے کو کہتے ہیں جس سے کوئی آیا ہو ۔ لیکن ردۃ کا لفظ کفر کی طرف لوٹنے کے ساتھ مختض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔
تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ مِّنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدَی لا الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ ط وَاَمْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 25)
(بےشک جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد پیٹھ پیچھے پلٹ گئے، شیطان نے ان کو فریب دے رکھا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے۔ )
منافقین کی اصل گمراہی
اس آیت کریمہ میں منافقین کی اصل گمراہی کو واضح فرمایا گیا اور اسے صحیح تعبیر دی گئی ہے اور ان کی اس گمراہی میں پڑنے کی جو وجہ ہے اسے بھی کھولا گیا ہے۔ ہم ان دونوں باتوں کو ایک ترتیب سے بیان کرتے ہیں۔
اِرْتَدُّوْا کے لفظ سے یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ منافقین کی روش کو ارتداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : منافق قرآن مجید سنتے ہیں مگر اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہدایت سے منہ پھیرلیتے ہیں جس وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان ان کو ان کے برے اعمال خوبصورت کرکے دکھلاتا ہے اور انہیں جھوٹی امیدیں دلائے رکھتا ہے۔
شیطان کی شیطینت کی وجہ سے منافقین، یہود و نصاریٰ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کچھ کاموں میں تمہاری بات تسلیم کریں گے اور کچھ کاموں میں دوسروں کی بات مانیں گے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا ہے۔ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کی موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ ماریں گے اور ان کی کمروں پر کوڑے برسائیں گے۔ اسی حالت میں…
Read the full tafseer →آیت 25 : اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی (جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے۔ بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) ۔ یعنی منافقین حق کے واضح ہوجانے کے باوجود خفیہ طور پر کفر کی طرف پھرگئے۔ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَہُمْ وَ اَمْلٰی لَہُمْ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا اور ان کو دور کی امید دلائی) سوّل۔ زین اور املی۔ امیدیں اور لمبی تمنائیں کرنا۔
قراءت : ابو عمرو نے و اُملیَ پڑھا ہے یعنی ان کو مہلت دی گئی اور ان کی عمر دراز کی گئی۔
Read the full tafseer →24 ۔” افلایتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا “ پس قرآن کے مواعظ اور احکام نہیں سمجھتے اور ” ام “ …” بل “ کے معنی میں ہے۔ حضرت عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ” افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالھا “ تلاوت کی تو اہل یمن کا ایک نوجوان کہنے لگا ” بل علیٰ قلوب اقفالھا “ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کو کھول دیں یا کشادہ کردیں۔ پس وہ نوجوان حضرت عمر ؓ کے دل میں جگہ بنا لیا حتیٰ کہ جب حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ ؓ نے اس کی بھی انتظامی امور میں مدد لی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں قتادہ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ آیتیں یہود کی شان میں ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی صفتیں جو توراۃ میں تھیں ان سے یہ لوگ نبی آخر الزمان کو خوب پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے نبی ہونے اور ہجرت کرکے مدینہ میں آنے کے بعد آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے خود حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس 3 ؎ کا یہ قول ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں سورة الحشر میں آئے گا کہ مدینہ کے منافقوں نے یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ ہم تمہارا ہر طرح ساتھ دیں گے اور ان آیتوں میں بھی سنطیعکم فی بعض الامر فرمایا ہے اس لئے صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹ پاؤں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے (یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا) (النساء : 4/120) ” شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سواکچھ نہیں۔ “ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہوچکی ہے مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا (قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ) ” انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 66] منافقت ارتداد ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ پیٹھ دے کر پھرگئے راہ حق و ہدایت سے اس کے بعد کہ راہ ان کیلئے پوری واضح ہوگئی "۔ جیسے اہل کتاب اور منافقین جو حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھرگئے اور وہ اندھے بہرے بن گئے تو ایسے لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا شعور و احساس نہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو منافق لوگ زبانی کلامی اسلام کا نام لینے اور ایمان کا دم بھرنے کے باوجود اپنے ارتداد ہی پر قائم ہیں۔ اس کے باوجود کہ یہ حقیقت ان کے سامنے اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ راہ حق و صواب یہی ہے جس کی دعوت حضرت امام الانبیاء دے رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ان کے دلوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ اگر جہاد نہ کرو گے تو مدت دراز تک زندہ رہو گے اور دنیا کے عیش و آرام سے لطف اٹھائو گے۔ حالانکہ انہیں سجھنا چاہیے تھا کہ موت اپنے وقت پر آتی ہے اور اس میں لمحہ پھر بھی تقدم یا تاخیر نہیں ہوسکتا، پھر جہاد سے بھاگنے کا کیا فائدہ ؟
Read the full tafseer →(47:25) ارتدوا ماضی جمع مذکر غائب ارتداد (افتعال) مصدر۔ جس کے معنی جس راستہ سے آیا اسی راستہ سے واپس جانے کے ہیں۔ وہ لوٹ گئے۔ وہ الٹے پھرے۔
ادبارہم مضاف مضاف الیہ ادبار جمع دبر واحد۔ ان کی پیٹھیں دبر ، پیٹھ، پشت، پچھلا حصہ۔ ارتدوا علی ادبارہم وہ پیٹھ دے کر پھرگئے۔ انہوں نے راہ ارتداد اختیار کیا۔
تبین۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تبین (تفعل) مصدر ۔ جس کے معنی ظاہر ہونے اور واضح ہوجانے کے ہیں۔
بیان کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔
ایک تو خود دلالت حال۔ کہ صورت بہ ہیں حالت مپرس۔
دوسرے آزمائش کے ذریعہ کسی چیز کا کھلنا اور واضح ہوجانا۔ خواہ آزمائش بذریعہ نطق ہو یا کتابۃ یا اشارۃ۔
سول۔ ماضی واحد مذکر غائب تسویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 :
طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 :
اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) شان نزول : یہود نبی ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے تو آپ کی تعریف اور توصیف توریت اور انجیل میں سے لوگوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا وہ تشریف لے آئیں تو بڑا لطف آئے گا دنیا انکے نور سے منور ہوجائے گی لیکن جب وہ تشریف لائے تو سب سے زیادہ مخالف ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →[14] ( وَاُمْلِيْ لَهُمْ 183۔ ) 7 ۔ الاعراف :183) کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ان کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن اردو محاورے کے لحاظ سے ڈھیل کو رسی دراز کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کو سمجھا رکھا ہے کہ جہاد نہ کرو تو مدتوں جیو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
منافقین کا جہاد سے فرار
1: ان آیات میں اس گروہ کا ذکر ہے ۔ جن کو منافقین کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے ۔ مگر بیاظن اہل کفر وشرک کے ساتھ ساز بازرکھتے تھے ۔ اور موقع کی تلاش میں رہتے تھے ۔ کہ جب مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا احتمال وامکان ہو ۔ تو اس وقت اپنی شام قوتوں کو صرف کردیا جائے ۔ اور اپنی دوستی کی وجہ سے دشمنوں کو مدد پہنچائی جائے ۔ فرمایا کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی جب ان لوگوں نے مسلمانوں سے تعلقات مو وت واخوت منقطع کر رکھے ہیں ۔ اور میدان جہاد سے فرار اختیار کیا ہے ۔ تو محض اس لئے کہ یہ شیطان کے چکر میں آگئے ہیں ۔ اور اس نے اللہ کو ڈھیل دے دی ہے…
Read the full tafseer →(25) جو لوگ دین حق سے پیٹھ پھیر کر الٹے لوٹ گئے اور چلے گئے بعد اس کے ان پر صحیح راہ حق دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے واضح ہوچکی تھی اور صاف طور پر حق کا راستہ ان کو معلوم ہوچکا تھا پھر بھی لوٹ گئے تو یہ بات ان کو شیطان نے آراستہ کرکے دکھائی اور شیطان نے ان کے دل میں بات بنائی اور ان کے امیدوں کو دراز کردیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منافق قرآن کو نہیں سمجھتے کہ جہاد میں کتنے فائدے ہیں اور قرار ایمان سے پھرے جاتے ہیں کہ لڑائی میں نہ جاویں گے تو دیر تک جیویں گے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ ان منافقین مرتدین سے مراد اگر اہل کتاب ہیں تب تو یہ معنی ہیں کہ ان کو اپنی کتابوں سے بھی اسلام کی حقانیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔
Read the full tafseer →قرآن کریم سے منہ پھیرنے والے شیطان کے مکرو فریب میں ہیں
52 ؎ نفاق اور ارتداد دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ایک ہی قبیل کی چیزیں ہیں اور دل کے روگوں میں سے بہت بڑے روگ ہیں اور جس جگہ یہ موجود ہوں وہاں شیطان کی آرزوئوں کا جال بچھ جاتا ہے جس سے نکلنا نہایت مشکل ہوتا ہے گویا انسان ہر طرف سے اس کے قابو میں ہوتا ہے اور یہی وہ آرزوئیں ہیں جب یہ آنکھوں کے سامنے آتی ہیں تو آدمی کو اندھا ‘ کانوں کے پاس آتی ہیں تو بہرہ اور زبا کے سامنے آتی ہیں تو گونگا کردیتی ہیں اور اس وقت آدمی (صم بکم عمی فھم لا یرجعون) کا مصداق ہوجاتا ہے۔؎
آرزوئیں اتنی کہ ہر آرزو پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ (it is Satan who has tempted them and involved them in far-fetched fancies. - 47:25). In this sentence, two acts have been ascribed to the devil: - taswil [ meaning the act of decking out evil works fair to some people, and imla' meaning the act of giving respite. First, he made their evil works look good and beautiful to them, and then prolonged their false hopes which will never be fulfilled.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
35 That is, 'Either these people do not ponder over the Qur'an at all, or if they try to ponder over it, its teachings and meaning do not enter their hearts, because they have put locks on them." As for this that "there are their locks upon the hearts," it means this: "There are such locks on them as are specially meant for the hearts which are not susceptible to the truth."
Read the full tafseer →