Muhammad 47:24

Muhammad · from ayah 24

47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا ۟اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَ قۡفَالُهَا

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then do they not reflect upon the Qur'an, or are there locks upon [their] hearts?

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:24

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان لوگوں کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے اس قرآن (عظیم) میں ؟ یا (ان کے) دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they, then, not reflect on the Qur'an? Or are there locks on their hearts?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, do they not give serious thought to the Qur‘an, or do they have locks on their hearts?

— Muhammad Taqi Usmani

Then, do they not give serious thought to the Qur‘an, or do they have locks on their hearts?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Will they not then reflect upon the Qur'an, or are there locks upon their hearts

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Will they then not meditate on the Qur'an, or are there locks on the hearts?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then do they not reflect upon the Qur'an, or are there locks upon [their] hearts?

— Saheeh International

Is it that they do not think about the Quran or are their hearts sealed?

— Muhammad Sarwar

Do they not then reflect on the Quran? Nay, on the hearts there are locks.

— Muhammad Habib Shakir

Ponder then they not on the Qur'an, or are on the hearts locks thereof?

— Abdul Majid Daryabadi

Do they not then earnestly seek to understand the Qur'an, or are their hearts locked up by them?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–28

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–25

سورة مُحَمَّد 35 یعنی یا تو یہ لوگ قرآن مجید پر غور نہیں کرتے، یا غور کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اس کی تعلیمات اور اس کے معانی و مطالب ان کے دلوں میں اترتے نہیں ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں جو ایسے حق ناشناس دلوں کے لیے مخصوص ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا، دل پر قفل لگ جانے کے وہی معنی ہیں جس کو دوسری آیتوں میں تخم اور طبع یعنی مہر لگ جانے سے تعبیر کیا گیا اور مراد اس سے دل کا سخت اور ایسا بےحس ہوجانا ہے کہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگے۔ بےپروائی کے ساتھ مسلسل گناہوں میں لگے رہنا عموماً اس کا سبب ہوتا ہے نعوذ باللہ منہ۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دلوں کا فرنگ قرآن کے تدبر سے دور ہوتا ہے۔ افلایتذبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (24) فرمایا کہ دلوں کو زندہ کرنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ یہ اس پر تدبر کرتے لیکن یہ ناقدرے لوگ کبھی اس پر غور نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دلوں جو جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گئے ہیں کہ جس طرح قفل سے دروازے بند ہوجاتے ہیں اسی طرح ان کے دل بھی اس زنگ سے بند ہوچکے ہیں۔ لفظ قلوب کی تنکیر یہاں اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے۔ اس کی مثال سورة نساء کی آیت 47 میں گزر چکی ہے۔ وہاں اہل کتاب کو مخاطبط کر کے فرمایا ہے۔ امنوا بما نزلنا مصدقاً لما معکم من قبل ان لطمس وجوھاً فنرلھا علی ادبارھا (ایمان لائو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–25

قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔ افلا یتدبرون القران (48 : 24) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔ ام علی قلوب اقفالھا (47 : 24) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی منافق قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کی شرارتوں کی بدولت دلوں پر قفل پڑگئے ہیں کہ نصیحت کے اندر جانے کا راستہ ہی نہیں رہا۔ اگر قرآن کے سمجھنے کی توفیق ملتی تو باآسانی سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیاوی و اخروی فوائد ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا } ”کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں !“ اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور ّپیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورة العنکبوت کی ان آیات میں راہ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے : { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ } ”کیا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 یعنی قرآن کے احکام اور ان احکام کی مصلحتوں میں غور کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے یا اگر غور کریں بھی تو ایسے بدھو اور عقل کے کورے واقع ہوئے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ جہاد کا حکم انہیں کن کن مصلحتوں کے تحت دیا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (جس سے وہ ہر ہدایت سے غیر متاثر رہنے لگے ہیں (آیت) ” افلا یتدبرون القران “۔ قرآن مجید پر اگر وہ جذبہ حق طلبی و انصاف کے ساتھ غور وفکر کرتے رہتے تو اس کی اعجازی مضامین ان پر یقیناً کشف حقائق کرکے رہتے۔ عارفین نے اس آیت سے نکالا ہے کہ طول امل یعنی ہمیشہ بڑی بڑی آرزوؤں میں پڑے رہنا اور انہیں میں لگے رہنا ممنوع ہے۔ (آیت) ” ام “۔ یہاں بل کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور ترجمہ اس صورت میں یوں ہوگا کہ ” یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، بلکہ یہ ہے۔ کہ ان کے دلوں میں قفل لگ رہے ہیں “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–28

اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔ الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ؟ اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ یعنی کیا قرآن میں غور نہیں کرتے ‘ قرآن کے اندر جو نصیحتیں اور تنبیہات ہیں ‘ ان کو تلاش نہیں کرتے ‘ اگر تفحص اور تلاش سے کام لیتے تو حق ان پر واضح ہوجاتا۔ استفہام انکاری توبیخی ہے۔ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا یہ استعارہ بالکنایہ ہے ‘ قلوب کو خزانہ سے تشبیہ دی ‘ اور ہر خزانہ کا مقفل ہونا لازم نہیں تو مناسب ضرور ہے۔ مشبہ بہ کی مناسبت کو مشبہ کیلئے ثابت کیا ہے ‘ پھر اقفال کی قلوب کی طرف اضافت کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ دلوں پر جو قفل پڑے ہیں ‘ وہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو کیا یہ لوگ قرآن حکیم پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کیا حکم نازل کیا ہے یا ان منافقین کے دلوں پر تالے لگ رہے ہیں جس کی بنا پر ان احکامات کو نہیں سمجھتے جو ان کے بارے میں نازل ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

افلا یتدبرون القرآن …: اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھ اجائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاں میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–24

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لایۃ سے مشتق ہے ابو العالیہ نے کہا : معنی ہے تم سے یہی توقع ہے اگر تم حکومت کے والی بن جائو تو ایسے حکام بن جائے گے کہ رشوت لینے کے ساتھ زمین پر فساد برپا کرو گے (1) کلبی نے کہا : تم سے یہی توقع ہے اگر تم امت کے امور کے ذمہ دار بن جائو تو تم زمین میں ظلم کے ذریعے فساد برپا کرو گے۔ ابن جریج نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم طاعت سے رخ پھیرو گے تو تم زمین میں نافرمانیوں اور قطع رحمی کے ساتھ فساد برپا کرو گے (2) کعب نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم امر کے والی بن جائو گے تو تم ایک دوسرے کو قتل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “۔ 38:۔ اسحاق بن راھویہ وابن جریر ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “ (کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگ رہے ہیں (یمن والوں میں سے ایک نوجوان نے کہا بلکہ اس پر تالے لگادیئے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے یا اس کو کشادہ کردیں گے یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا وہ نوجوان حضرت عمر ؓ کے دل میں رہا یہاں تک جب آپ ولی بنائے گئے آپ نے اس سے مدد طلب کی۔ 39:۔ الدار قطنی فی الافراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ [ تو کیا یہ لوگ غور وفکر نہیں کرتے ] الْقُرْاٰنَ [ قرآن میں ] اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ [ یا کچھ دلوں پر ] اَقْفَالُهَا [ ان کے تالے ہیں ۔ نوٹ۔ 1: دلوں کو زندہ رکھنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ اس کو سمجھ کر اس پر غور فکر کیا جائے ۔ لیکن ناقدرے لوگ اس پر غور نہیں کرتے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دلوں پر جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ جاتی ہیں جس طرح تالوں سے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ اقفالھا سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دلوں کو روگ یازنگ کی طرح لگتی ہیں ۔ دنیا کی محبت ، موت کا ڈر ، بخل ، کینہ ، حسد ، نفاق اور اس قبیل کی دوسری چیزیں اس کے نمایاں اجزاء ہیں اور قساوت یعنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

تدبر قرآن کی اہمیت اور ضرورت ﴿اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ﴾ (کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) ﴿ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا 0024﴾ یا ان کے دلوں پر قفل ہیں اس میں تو بیخ ہے اور منافقوں کے حال کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں قرآن میں تدبر کرنا چاہیے تھا قرآن کے اعجاز اور معانی اور دعوت حق کے بارے غور کرتے تو نہ منافق ہوتے اور نہ وہ حرکتیں کرتے جو ان سے صادر ہوتی رہی ہیں ان کے تدبر نہ کرنے کا انداز یہ ہے کہ جیسے ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ قال صاحب الروح : واضافة الاقفال الیھا للدلالة علی انھا اقفال مخصوصة بھا مناسبة لھا غیر مجانسة لسائر الاقفال المعھودة (صاحب روح المعانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

21:۔ ” افلا یتدبرون “ یہ منافقین پر زجر ہے کیا یہ لوگ قرا ان کی آیات بینات میں غور و تدبر ہی نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں اور وہ ایسے بےشعور ہیں کہ ان میں تدبر و تفکیر کی صلاحیت ہی نہیں۔ اگر یہ لوگ حکم جہاد میں ذرا غور سے کام لیتے تو جہاد کے دینی اور دنیوی فوائد ان پر واضح ہوجاتے۔ ” ان الذین ارتدوا۔ الایۃ “ منافقین اسلام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد میں شرکت نہیں کرتے اور اپنے قول واقرار سے پھرے جاتے ہیں شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ جہاد میں جاؤ گے تو قتل ہوجاؤ گے اور ان کی امیدوں میں یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ گھر میں رہو گے تو زیادہ عرصہ تک زندہ رہو گے اس لیے چھوڑو جہاد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–28

ربط آیات یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝ 24 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–25

ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔ تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا۔ (محمد : 24) (کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ ) جہاد و قتال سے پہلوتہی قرآن میں عدم تدبر کا نتیجہ ہے یہ منافقین جو جہاد و قتال سے جی چراتے ہیں اور اسلام کی عظمت اور کلمہ حق کی سربلندی ان کے دلوں میں نہیں اترتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے۔ کیونکہ اگر یہ قرآن کریم غور سے پڑھتے تو انھیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کا حکم دیا ہے اور اسی میں اسلام کی عظمت رکھی ہے۔ اور مسلمانوں کی دنیوی اور اخروی سرافرازی کا راز بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں مر مٹنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : منافق قتال فی سبیل اللہ سے کَنّی کتراتے ہیں لیکن دنگا فساد کرنے میں تیز ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے منافق کی نشانیاں بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان لوگوں کو سمجھایا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو باز آنے کی بجائے کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اے مسلمانو ! آگاہ ہوجاؤ۔ یہ لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں شعور نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 11، 12) منافقین کی اسی روش کے باعث یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر ان لوگوں کو ملک میں کچھ اختیارات حاصل ہوجائیں تو یقیناً یہ لوگ ملک میں فساد کریں گے اور رشتہ داریوں کو توڑ ڈالیں گے۔ ان کے اس کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کے قلوب پر قفل لگ چکے : آیت 24 : اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ (تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) تاکہ یہ اس کے مواعظ و نصائح اور زو اجر کو پہچانتے۔ اس میں نافرمانوں کے لئے وعید ہے تاکہ وہ معاصی کی طرف جسارت سے باز رہیں۔ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا (یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں) ام۔ یہ بل کے معنی میں ہے اور ہمزہ تقریری ہے۔ ان کے بارے میں یہ ثابت کرنے کے لئے لائے کہ ان کے دل مقفل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تک نہیں پہنچتا۔ قلوب نکرہ لائے کیونکہ مراد یہ ہے۔ ایسے سخت دلوں پر جن کا معاملہ مبہم ہے۔ مراد بعض دل ہیں۔ اور وہ قلوب ِمنافقین ہیں۔ اقفال کی اضافت و نسبت قلوب کی طرف کی گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔ ” اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم “ حق سے بہرے گونگے اندھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–24

21۔ 24۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو اسلام کا کچھ زور نہ تھا اس واسطے جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خوبیاں جمائیں اور وہ اسلام لائے ان کا اسلام خالص دل سے تھا یہ بات نہیں تھی کہ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہو ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور اسلام کا دن بدن زور اور غلبہ شروع ہوا تو مدینہ کے بہت سے لوگ اپنی عزت اپنا مال اپنی جان بچانے کی غرض سے اس طرح داخل اسلام ہوگئے تھے کہ ظاہر میں تو وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن دل سے وہ لوگ مسلمان نہ تھے اور جب موقعہ پاتے تھے درپردہ مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں کرتے تھے ان ہی لوگوں کو منافق کہتے ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غورو فکر کرنے کا حق ہے اگر انہوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انہیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریرز کردیتی، وہ انہیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کردیتی جو انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انہیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–32

کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ ) ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

[ 62] دین حق سے اعراض وروگردانی کا نتیجہ لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار کے حقداروں کی نشاندہی فرما دی گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر لعنت کردی اللہ نے " اور ان کو اس سے اپنی رحمت سے محروم اور دور کردیا کہ اس سے قریب ہونے اور اس کی خاص رحمت کے سائے میں داخل اور شامل ہونے کا طریقہ تو ایمان و اطاعت کا طریقہ ہی ہے۔ اور اس سے ایسے بدنصیب لوگوں نے منہ پھیرلیا۔ اور جب طلب صادق کے بغیر دنیائِ دوں کا کوئی حقیر مال و متاع بھی کسی کو نہیں مل سکتا تو پھر ہدایت جیسی عظیم الشان دولت کیسے مل سکتی ہے ؟ { انذر مکموھا و انتم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–32

منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔ محکمات۔ قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اوپر لی آیت کے سیاق کو محلوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے اولاً تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو کفر و نفاق کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتے۔ ہاں اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لینے کیو وجہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:24) افلا یتدبرون القران : ا ہمزہ استفہامیہکا عطف جملہ محذوف پر ہے لا یتدبرون مضارع منفی صیغہ جمع مذکر غائب تدبر تفعل مصدر القران اسم مفعول واحد مذکر۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، قرآن کے اندر جو نصیحتیں ہیں اور تنبیہات ہیں ان کو تلاش نہیں کرتے۔ اگر تفحص اور تلاش سے کام لیتے تو حق ان پر واضح ہوجاتا۔ یہ استفہام انکاری توبیخی ہے۔ (تفسیر المظہری) ۔ ام علی قلوب اقفالھا ۔ ام حرف عطف بمعنی یا ہے یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا کرتے ہیں مگر ان کے دلوں پر قفل لگنے سے کچھ سمجھ نہیں پاتے۔ یا ام بمعنی بل ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ یہ لوگ قرآن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–28

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 : طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 : اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–24

جہاد کا ذکر اور منافقین کی پریشانی۔ (ف 1) شان نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کا بہت ہی شوق تھا وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو تاکہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ فرمایا جو سچے مسلمان ہیں رسول قرآن پر ایمان لائے خالصا اللہ اعمال صالحہ کرتے ہیں تو وہ اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم نازل کیا جاتا یعنی جہاد کرنا، جو سب سے بڑھ کر سخت دشوار کام ہے تو ہم اس میں اپنی سعادت سمجھ کر اس کو بجالاویں، پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو تو وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں شک ونفاق کی مہلک بیماری ہے پریشان ہوجاتے ہیں جہاد کا نام سن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–24

[13] مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ پھر دور جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے اور جس طرح پہلے ظلم و فساد، قطع رحمی اور برادر کشی میں مبتلا رہے تھے پھر اس میں مبتلا ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–24

دعوت غوروفکر 2: قرآن حکیم دنیا میں وہ پہلی اور آخری کتاب ہے جو اپنے ماننے والوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے ۔ اور جس کی تعلیمات خالصاً دانائی اور علوم وفنون کی قطعیت پر مبنی ہیں ۔ یہ کتاب سب لوگوں سے کہتی ہے ۔ کہ تم فطرت کے حقائق کے متعلق سوچو اور غور کرو ۔ پھر یہ دیکھوں کہ ہماری تعلیمات کہاں تک اس کے موافق ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو ۔ کہ اس صحیفہ رشدوہدایت میں جو کچھ لکھا ہے ۔ وہ عین قرین عقل سے ۔ اور تجربہ کے مطابق لو اس کو تسلیم کرو ۔ ورنہ معقول اعتراض پیش کرو ۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس کے مخاطب ہی وہ لوگ ہیں ۔ جو بصیرت سے بہرو وافر ررکھتے ہیں ۔ اور جنگی نگاہوں کو ہیں ۔ اس کتاب کو آئندہ علوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور اور دھیان نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکومت کے غرور میں ظلم کرنے لگے پھر کسی کا سمجھایا نہ سمجھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا اس کا تعلق اسی معنی سے ہے جو انہوں نے اختیار کئے ورنہ دوسرے لوگوں نے ان آیتوں سے منافق مراد لئے ہیں اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ جب کفر ونفاق اور عناد طبیعت میں پرورش پاتے رہتے ہیں تو ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ وہ شخص رحمت سے دور کردیاجاتا ہے آنکھیں اور کان حق کو سمجھنے اور دیکھنے سے بےکار ہوجاتے ہیں قرآن کو سمجھنے کا شعور سلب ہوجاتا ہے اور دلوں پر تالے ڈال دیئے جاتے ہیں اور بھلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–29

ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ؟ 24 ؎ { یتدبرون } جمع مذکر غائب مضارع منفی تدبرمصدر (تفعل) کیا وہ غور نہیں کرتے۔ اس کا اصل مادہ د ب ر ہے اور دبر پشت یعنی کر کو کہتے ہیں اور تدبر اسی سے ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ باقی باتوں اور چیزوں سے منہ پھیر کر کسی ایک چیز یا بات کے پیچھی لگ جانا اور اس کی حقیقت تک پہنچ کر دم لینا اور یہی اس جگہ مراد ہے یعنی قرآن کریم ہم نے ان پر نازل کیا تھا اس لئے کہ یہ لوگ باقی ساری طرفوں سے منہ پھیر کر صرف اور صرف اس پر غور کریں اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش میں مصروف ہوں اور پھر جو حقیقت ہو اس کو قبول کریں اور اس کی وضاحت اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (or do they have locks on their hearts? - 47:24) The meaning of this phrase is synonymous with similar phrases in other verses of the Qur'an where words like khatm or tab' "[ Allah ] has set a seal [ on their hearts ] have been used to describe how the disbelievers refuse to employ their hearts for the comprehension of truth, as a natural consequence their capacities to distinguish right from wrong have become atrophied. Carelessly, committing sins all the time is the main cause of this. Allah forbid!

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

35 That is, 'Either these people do not ponder over the Qur'an at all, or if they try to ponder over it, its teachings and meaning do not enter their hearts, because they have put locks on them." As for this that "there are their locks upon the hearts," it means this: "There are such locks on them as are specially meant for the hearts which are not susceptible to the truth."

Read the full tafseer →