Explained with ayahs 20–23
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کردیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ 77) 4۔ النسآء :77) یعنی کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة مُحَمَّد 33
اصل الفاظ ہیں اِنْ تَوَلَّیْتُمْ۔ ان کا ایک ترجمہ وہ ہے جو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے۔ اور دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ " اگر تم لوگوں کے حاکم بن گئے "۔
سورة مُحَمَّد 34
اس ارشاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر اس وقت تم اسلام کی مدافعت سے جی چراتے ہو اور اس عظیم الشان اصلاحی انقلاب کے لیے جان و مال کی بازی لگانے سے منہ موڑتے ہو جس کی کوشش محمد ﷺ اور اہل ایمان کر رہے ہیں، تو اس کا نتیجہ آخر اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تم پھر اسی جاہلیت کے نظام کی طرف پلٹ جاؤ جس میں تم لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے ہو، اپنی اولاد تک کو زندہ دفن کرتے رہے ہو، اور خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھرتے…
Read the full tafseer →(آیت) اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ، یعنی ایسے آدمی جو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتوں قرابتوں کو قطع کریں ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے یعنی ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے حضرت فاروق اعظم نے اسی آیت سے ام الولد کی بیع کو حرام قرار دیا، یعنی وہ مملوکہ کنیز جس سے کوئی اولاد پیدا ہوچکی ہو اس کو فروخت کرنا اس اولاد سے قطع رحمی کا ذریعہ ہے جو موجب لعنت ہے اس لئے ام ولد کی فروخت کو حرام قرار دیا (رواہ الحاکم وصححہ و ابن المنذر عن بریدہ)
کسی معین شخص پر لعنت کا حکم اور لعن یزید کی بحث
اور حضرت امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ نے ان سے یزید لعنت کرنے کی اجازت کے متعلق سوال کیا تو…
Read the full tafseer →اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم و اعمی ابصارھم 23
منافقین کے دل زنگ آلود ہوچکے ہیں
فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے۔ اس لعنت کے اثر سے ان کے کان بہیر اور ان کی آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو روشنی دکھائی اور یہ بات ان پر اچھی طرح واضح بھی ہوگئی کہ یہ روشنی اللہ نے اتاری ہے لیکن یہ لوگ مڑ مڑ کر اپنی اسی جاہلیت کی تاریکی ہی کو دیکھتے اور اسی میں واپس جانے کے متمنی ہیں۔ ان کی اس ناقدری کے سبب سے اللہ نے ان پر لعنت کردی اور اپنی روشنی ان سے سلب کرلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ان کے کان حق نیوشی کی صلاحیت سے اور ان کی آنکھیں بصیرت سے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے (حق کے سننے سے) بہرہ اور آنکھوں کو (حق کے دیکھنے سے) اندھا کردیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے انکے مذکورہ اعمال کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →اولئک الذین ۔۔۔۔ ابصارھم (47 : 23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔ اقفالھا (47 : 24) “ یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟ ” یہ لوگ نفاق کی بیماری میں بدستور مبتلا ہیں۔ درحقیقت وہ اس دعوت سے حقیقتاً منہ موڑ رہے ہیں جس میں وہ بظاہر داخل ہوچکے ہیں اور اس پر ان کا یقین بھی نہیں ہے۔ اس لئے۔
فاصمھم واعمی ابصارھم (47 : 23) “ اللہ نے ان کو بہرا اور اندھا بنا دیا ہے ”۔ ان کی قوت سماعت تو موجود ہے اور قوت باصرہ بھی موجود ہے لیکن انہوں نے کانوں اور آنکھوں کو معطل کردیا ہے یا سمع و بصر کے نتیجے میں جو ادراک…
Read the full tafseer →8 یعنی حکومت کے غرور میں اندھے بہرے ہو کر ظلم کرنے لگے۔ پھر کسی کا سمجھایا نہ سمجھے۔ خدا کی پھٹکار نے بالکل ہی سنگدل بنادیا۔ اور یہ سب کچھ ان ہی کے سوء اختیار اور قصور استعداد سے ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 23 { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰیٓ اَبْصَارَہُمْ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ‘ پس ان کے کانوں کو بہرا اور ان کی نگاہوں کو اندھا کردیا ہے۔“
Read the full tafseer →27 جہاد کی برکات :۔ یعنی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ جہاد بھی ان کے لیے سراسر خیر وبرکت ہے۔ جب تک جہادنہ کیا جائے گا۔ کبھی کفر اسلام کو جینے اور پھلنے پھولنے نہیں دے گا بلکہ اس کی تو یہ کوشش ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینک دیا جائے۔ جہاد سے ہی مسلمانوں کی پریشانیوں اور مصائب کا دور ختم ہوگا۔ فتنہ و فساد کا قلع قمع ہوگا۔ اللہ کا دین سربلند ہوگا۔ توحید پھیلے گی، شرک کا خاتمہ ہوگا اور یہ ملک امن و چین کا گہوارہ بن جائے گا۔
Read the full tafseer →27۔ (کہ نہ ندائے حق گوش قبول سے سنتے ہیں اور نہ راہ حق دیکھتے ہیں) (آیت) ” الذین لعنھم اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ نے انہیں ان کے نفاق کی پاداش میں اپنی رحمت خاصہ سے دور کردیا ہے، سو اب ان میں احکام پر عمل کی توفیق ہی نہ رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔
الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ…
Read the full tafseer →اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ‘ پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔
فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا یعنی اے بزدلو اور ڈرپوک لوگو ! اگر تم نے رسول کے اتباع سے روگردانی کی تو کیا تم سے یہ توقع کی جائے کہ تم کفر اور معاصی کی وجہ سے ملک میں تباہی پھیلاؤ گے۔
وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ اور اپنی قرابت داریاں منقطع کر دو گے ‘ یعنی اپنے مؤمن مجاہد رشتہ داروں کی مخالفت کرو گے۔ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ایسا نہ ہونا چاہئے کہ تم سے ملک میں فساد پھیلانے اور رشتہ داریاں منقطع کرنے کی توقع کی جانے لگے۔…
Read the full tafseer →یہ منافقین وہ لوگ ہیں جن کو حق تعالیٰ نے ہر بھلائی سے دور کردیا اور ان کو احکام سننے سے اور حق و ہدایت کا رستہ دیکھنے سے اندھا کردیا۔
Read the full tafseer →اولئک الذین لعنھم اللہ …: یعنی یہ لوگ جو قریب تھے کہ حکومت میں آجائیں تو اندھے بہرے ہو کر ظلم و فساد پھیلائیں اورق طع رحمی کرنے لگیں، یا قریب تھے کہ اطاعت اور جہاد سے منہ موڑیں تو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتہ داریوں کو بری طرح قطع کردیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور انہیں ایسا بہرا، اندھا اور سنگ دل بنادیا کہ وہ جہاد کی برکات سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی پریشانیاں اور مصیبتیں ختم ہوتی ہیں، انہیں عزت اور سربلندی ملتی ہے، فتنہ و فساد اور شرک و کفر ختم ہوتا ہے اور زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطیع علی قلوبھم فھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لایۃ سے مشتق ہے ابو العالیہ نے کہا : معنی ہے تم سے یہی توقع ہے اگر تم حکومت کے والی بن جائو تو ایسے حکام بن جائے گے کہ رشوت لینے کے ساتھ زمین پر فساد برپا کرو گے (1) کلبی نے کہا : تم سے یہی توقع ہے اگر تم امت کے امور کے ذمہ دار بن جائو تو تم زمین میں ظلم کے ذریعے فساد برپا کرو گے۔
ابن جریج نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم طاعت سے رخ پھیرو گے تو تم زمین میں نافرمانیوں اور قطع رحمی کے ساتھ فساد برپا کرو گے (2) کعب نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم امر کے والی بن جائو گے تو تم ایک دوسرے کو قتل…
Read the full tafseer →36:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) عن سلمان موقوفا والحسن بن سفیان والطبرانی وابن عساکر سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قول غالب آجائے اور عمل کو چھپالیا جائے اور زبانیں آپس میں الفت کرنے لگ جائیں اور دل مختلف ہوجائیں اور ہر رشتہ دار کی رشتہ داری سے قطع تعلق کیا جائے تو اس کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” لعنہم اللہ فاصمہم واعمی ابصارھم “ (اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔
37:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب العلم میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب لوگ علم کو ظاہر کریں اور عمل کو ضائع کریں گے اور زبانوں…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَعَنَهُمُ اللّٰهُ [ لعنت کی جن اللہ نے ] فَاَصَمَّهُمْ [ پھر اس نے بہرا کردیا ان کو ] وَاَعْمٰٓى اَبْصَارَهُمْ [اور اندھی کردیں ان کی بصارتیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ 0023﴾ (یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے رحمت سے دور فرما دیا سو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا لہٰذا ان سے قبول حق کی اور راہ حق پر چلنے کی کوئی امید نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →20:۔ ” اولئک “ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت سے دور کر کے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا کر انہیں ہدایت سے محروم کردیا ہے انہیں حق سننے سے بہرہ کردیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے وہ انفس وآفاق میں بیشمار دلائل توحید دیکھتے ہیں، لیکن ان میں اور ایک نابینا میں کوئی فرق نہیں جیسے نابینا راہ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح وہ بھی راہ ہدایت نہیں دیکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور ساتھ تاکید فرمائی کہ اللہ کی وحدانیت پر ثابت قائم رہو کہ دین کا مقصود یہی ہے اور جہاد اسی کے لیے فرض کیا گیا ہے عقیدہ اور فکر کی حفاظت بہت بڑی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اللہ نے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی ناکامی اور نا مرادی کا ذکر بھی کیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی رب تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے پلٹنے کی جگہ اور اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
حکم جہاد پر منافقوں کی حالت
اب آج کے درس سے لے کر سورة کے آخر تک منافقین کی مذمت بیان کی گئی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰٓى اَبْصَارَہُمْ 23
لعن
اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18]
( ل ع ن ) اللعن
۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔
تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَھُمْ ۔ (محمد : 23)
(یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی، پس ان کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ )
نفاق پر اللہ تعالیٰ کی سزا
اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ اسے بیکار کرکے رکھ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس صلاحیت کو واپس لے لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی طور پر بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن جو شخص انھیں استعمال سے ترقی دیتا ہے تو وہ بڑھتی ہیں اور جو انھیں استعمال سے روکے رکھتا ہے وہ مفلوج ہوجاتی ہیں۔ ہاتھ کو اگر باندھ کے رکھا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : منافق قتال فی سبیل اللہ سے کَنّی کتراتے ہیں لیکن دنگا فساد کرنے میں تیز ہوتے ہیں۔
قرآن مجید نے منافق کی نشانیاں بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان لوگوں کو سمجھایا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو باز آنے کی بجائے کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اے مسلمانو ! آگاہ ہوجاؤ۔ یہ لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں شعور نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 11، 12)
منافقین کی اسی روش کے باعث یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر ان لوگوں کو ملک میں کچھ اختیارات حاصل ہوجائیں تو یقیناً یہ لوگ ملک میں فساد کریں گے اور رشتہ داریوں کو توڑ ڈالیں گے۔ ان کے اس کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی…
Read the full tafseer →آیت 23 : اُولٰٓپکَ (یہ) اس میں مذکورہ بالا لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ (وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے) لعنت۔ رحمت سے ان کو دور کردیا ہے۔ فَاَصَمَّہُمْ (پھر ان کو بہرا کردیا) نصیحت کو غور سے سننے سے۔ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَہُمْ (اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا) کہ ہدایت کا راستہ دیکھیں۔
Read the full tafseer →22 ۔” فھل عسیتم “ پس شاید کہ تم ” ان تولیتم “ تم قرآن سے اعراض کرو اور اس کے احکام سے جدا ہوجائو۔” ان تفسدوا فی الارض “ اس کی طرف لوٹ جائو جس پر تم جاہلیت میں تھے۔ پس تم زمین میں نافرمانی اور سرکشی اور خون بہا کر فساد پھیلائو۔
اور تم فرقہ بندی کی طرف لوٹ جائو بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کے ذریعے جمع کیا۔ ” وتقطعوا ارحامکم “ یعقوب (رح) نے ” وتقطعوا “ تاء کی زبر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ تقطیع سے پڑھا ہے کثرت کے معنی پر رحموں کی وجہ سے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم نے قوم کو کیسے دیکھا جب انہوں نے اللہ کی کتاب سے روگردانی کی کیا انہوں نے حرام خون نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
21۔ 24۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو اسلام کا کچھ زور نہ تھا اس واسطے جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خوبیاں جمائیں اور وہ اسلام لائے ان کا اسلام خالص دل سے تھا یہ بات نہیں تھی کہ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہو ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور اسلام کا دن بدن زور اور غلبہ شروع ہوا تو مدینہ کے بہت سے لوگ اپنی عزت اپنا مال اپنی جان بچانے کی غرض سے اس طرح داخل اسلام ہوگئے تھے کہ ظاہر میں تو وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن دل سے وہ لوگ مسلمان نہ تھے اور جب موقعہ پاتے تھے درپردہ مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں کرتے تھے ان ہی لوگوں کو منافق کہتے ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و یقول الذین امنوا) وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (لو لا نزلت سورة ) ” کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔ “ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو (فاذا انزلت سورة محکمۃ) ” پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔ “ یعنی اس کے عمل کا لازم ٹھہرایا گیا ہو (وذکر فیھا القتال) ” اور اس میں جہاد کا ذکر ہو۔ “ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لئے فرمایا : (رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظروں الیک نظر المغشی علیہ من الموت) ” جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ وہ تمہاری طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[ 62] دین حق سے اعراض وروگردانی کا نتیجہ لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار کے حقداروں کی نشاندہی فرما دی گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر لعنت کردی اللہ نے " اور ان کو اس سے اپنی رحمت سے محروم اور دور کردیا کہ اس سے قریب ہونے اور اس کی خاص رحمت کے سائے میں داخل اور شامل ہونے کا طریقہ تو ایمان و اطاعت کا طریقہ ہی ہے۔ اور اس سے ایسے بدنصیب لوگوں نے منہ پھیرلیا۔ اور جب طلب صادق کے بغیر دنیائِ دوں کا کوئی حقیر مال و متاع بھی کسی کو نہیں مل سکتا تو پھر ہدایت جیسی عظیم الشان دولت کیسے مل سکتی ہے ؟ { انذر مکموھا و انتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 7 یعنی تم ہرگز امن وامان سے نہ رہو گے بلکہ نافرمانی اور قطع رحمی کرو گے جس کے نتیجہ میں خانہ جنگی اور لوٹ مار کی وہی حالت عود کر آئے گی جو اسلام سے پہلے تھی۔ احادیث میں رشتے ناتے توڑنے اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔
Read the full tafseer →(47:23) اولئک۔ متذکرہ بالا مخاطبین کی طرف اشارہ ہے۔ التفات ضمائر غصہ ونفرت کے اظہار کے لئے ہے درجۂ خطاب سے گراوٹ کے طور پر حاضر کے بجائے غائب کی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہے۔ مبتدا ہے اور اگلا الذین لعلہم اللہ اس کی خبر ہے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔
فاصمہم :عاطفہ اصم ماضی واحد مذکر غائب اصمام (افعال) مصدر اس نے بہرہ کردیا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جو اولئک کی طرف راجع ہے پھر اس نے ان کو بہرہ کردیا (کہ حق کی بات نہیں سن سکتے) ۔
واعمی ابصارہم وائو عاطفہ اعمی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اعماد (افعال) مصدر۔ جس کے معنی نابینا کردینے کے ہیں۔ یہاں چشم بصیرت کا کھودینا مراد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 :
طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 :
اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
جہاد کا ذکر اور منافقین کی پریشانی۔
(ف 1) شان نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کا بہت ہی شوق تھا وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو تاکہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ فرمایا جو سچے مسلمان ہیں رسول قرآن پر ایمان لائے خالصا اللہ اعمال صالحہ کرتے ہیں تو وہ اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم نازل کیا جاتا یعنی جہاد کرنا، جو سب سے بڑھ کر سخت دشوار کام ہے تو ہم اس میں اپنی سعادت سمجھ کر اس کو بجالاویں، پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو تو وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں شک ونفاق کی مہلک بیماری ہے پریشان ہوجاتے ہیں جہاد کا نام سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
[13] مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ پھر دور جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے اور جس طرح پہلے ظلم و فساد، قطع رحمی اور برادر کشی میں مبتلا رہے تھے پھر اس میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
دعوت غوروفکر
2: قرآن حکیم دنیا میں وہ پہلی اور آخری کتاب ہے جو اپنے ماننے والوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے ۔ اور جس کی تعلیمات خالصاً دانائی اور علوم وفنون کی قطعیت پر مبنی ہیں ۔ یہ کتاب سب لوگوں سے کہتی ہے ۔ کہ تم فطرت کے حقائق کے متعلق سوچو اور غور کرو ۔ پھر یہ دیکھوں کہ ہماری تعلیمات کہاں تک اس کے موافق ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو ۔ کہ اس صحیفہ رشدوہدایت میں جو کچھ لکھا ہے ۔ وہ عین قرین عقل سے ۔ اور تجربہ کے مطابق لو اس کو تسلیم کرو ۔ ورنہ معقول اعتراض پیش کرو ۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس کے مخاطب ہی وہ لوگ ہیں ۔ جو بصیرت سے بہرو وافر ررکھتے ہیں ۔ اور جنگی نگاہوں کو ہیں ۔ اس کتاب کو آئندہ علوم…
Read the full tafseer →(23) یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا پھر ان جکو بہرہ کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔
Read the full tafseer →یہی لوگ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہو گئیں
23 ؎ یہ وہی منافقین کے گروہ کا بیان ہے جو ایمان کے دعویدار ہونے کے باعث ایمان والوں کے اندر ان کے ساتھ رہ رہے تھے اور جن کے ساتھ مسلمانوں کے حسب و نسب اولوالارحام کے رشتے ناطے موجود تھے اور ان کو منقطع کرنے کا حکم بھی نہیں آیا تھا کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے تھے ، نمازوں میں شریک ہوتے تھے ، زکوٰۃ ادا کرتے تھے ، روزے رکھتے تھے اور چندے کی اپیل میں بددلی سے سہی بہرحال حصہ لیتے تھے اور بعض حالات میں جنگوں میں بھی رشیک ہوتے تھے اسی لئے ہم نے ان کو قول کے مسلمان اور عمل کے منافق کہا جو بعض مجبوریوں کی بنا پر اسلام میں داخل…
Read the full tafseer →أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ (Those are the ones whom Allah has cursed - 47:23) In other words, people who cause corruption in the land and break bonds of kinship have been cursed by Allah, that is, Allah has driven them away from His mercy. On the basis of this verse, Sayyidna ` Umar ؓ regarded the sale of ummul-walad unlawful. Ummul-walad is a term used in Islamic law for a female slave who has borne a child to her master, and who is consequently free at his death. Thus the sale of the mother would result in separating the child from the mother, and this would lead to severing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
33 Another translation of the words in the original can be; "If you became rulers over the people, "
34 Its one meaning is; 'If at this time you shirk supporting and defending Islam and refrain from fighting with your life and wealth for the cause of me great reformist revolution which the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and his Companions are struggling to bring about, there will be no other consequence of this than that you would return to the same system of ignorance in which you have been cutting each other's throat since centuries, burying your children…
Read the full tafseer →