Explained with ayahs 20–23
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کردیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ 77) 4۔ النسآء :77) یعنی کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة مُحَمَّد 33
اصل الفاظ ہیں اِنْ تَوَلَّیْتُمْ۔ ان کا ایک ترجمہ وہ ہے جو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے۔ اور دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ " اگر تم لوگوں کے حاکم بن گئے "۔
سورة مُحَمَّد 34
اس ارشاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اگر اس وقت تم اسلام کی مدافعت سے جی چراتے ہو اور اس عظیم الشان اصلاحی انقلاب کے لیے جان و مال کی بازی لگانے سے منہ موڑتے ہو جس کی کوشش محمد ﷺ اور اہل ایمان کر رہے ہیں، تو اس کا نتیجہ آخر اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تم پھر اسی جاہلیت کے نظام کی طرف پلٹ جاؤ جس میں تم لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے ہو، اپنی اولاد تک کو زندہ دفن کرتے رہے ہو، اور خدا کی زمین کو ظلم و فساد سے بھرتے…
Read the full tafseer →(آیت) فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ۔ لفظ تولی کے لغت کے اعتبار سے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک اعراض دوسرے کسی قوم و جماعت پر اقتدار حکومت، اس آیت میں بعض حضرات مفسرین نے پہلے معنی لئے ہیں جس کا اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے۔ ابوحیان نے بحر محیط میں اسی کو ترجیح دی ہے اس معنے کے اعتبار سے مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الٰہیہ سے رو گردانی کی جن میں حکم جہاد بھی شامل ہے تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پر پڑجاؤ گے جس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد اور قطع رحمی ہے جیسا کہ جاہلیت کے ہر کام میں اس کا…
Read the full tafseer →فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوآ ارحامکم (22)
منافین کو نصیحت
اوپر کی آیات میں ان منافقین کے رویہ پر جو تبصرہ ہوا ہے وہ تمام تر غائب کے اسلوب میں ہے لیکن اس آیت میں ان سے براہ راست خطاب ہے۔ اسلوب کی یہ تبدیلی اس موعظت کو زیادہ مئوثر بنانے کے لئے ہے جو اس میں ان کو کی گئی ہے۔ فرمایا کہ اگر تم نے اس دعوت سے اعراض کیا تو اس سے تم اپنے آپ کو یا اپنی قوم کو کوئی نفع نہ پہنچائو گے۔ بس یہی کرو گے کہ دور جاہلیت میں جس فساد فی الارض اور جس قطع رحم و برادر کشی میں مبتلا رہے ہو اسی میں پھر مبتلا ہو جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اسی چیز کے خواہاں ہو تب تو تم آزاد ہو کہ جو راہ چاہو اختیار…
Read the full tafseer →22۔ 1 ایک دوسرے کو قتل کر کے یعنی اختیار و اقتدار کا غلط استعمال کرو امام ابن کثیر نے تولیتم کا ترجمہ کیا ہے تم جہاد سے پھر جاؤ اور اس سے اعراض کرو یعنی تم پھر زمانہ جاہلیت کی طرف لوٹ جاؤ اور باہم خون ریزی اور قطع رحمی کرو اس میں فساد فی الارض کی عموما اور قطع رحمی کی خصوصا ممانعت اور اصلاح فی الارض اور صلہ رحمی کی تاکید ہے جس کا مطلب ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ زبان سے عمل سے اور بذل اموال کے ذریعے سے اچھا سلوک کرو احادیث میں بھی اس کی بڑی تاکید اور فضلیت آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔
Read the full tafseer →فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (47 : 22) “ اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ تم الٹے منہ پھرو گے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ”۔ یعنی تم سے تو یہی توقع ہے۔ ذرا سابقہ حالات کی روشنی میں دیکھو کہ اگر اسلام سے منہ موڑو گے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ کر ایک دوسرے کے اور اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹو گے جس طرح اسلام سے قبل تھے۔ اسلام سے روگردانی سے ڈرانے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی حقیقی صورت حال کیا ہے ، اگر یہ اپنی موجودہ پوزیشن پر ہی ڈٹے رہے جس طرح کہ نظر آتا ہے۔
Read the full tafseer →7 یعنی حکومت و اقتدار کے نشہ میں لوگ عموماً اعتدال و انصاف پر قائم نہیں رہا کرتے۔ دنیا کی حرص اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پھر جاہ و مال کی کشمکش اور غرض پرستی میں جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کا آخری نتیجہ ہوتا ہے عام فتنہ و فساد اور ایک دوسرے سے قطع تعلق۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی جان سے تنگ ہو کر جہاد کی آرزو کرتے ہو اور اگر اللہ تم ہی کو غالب کر دے تو فساد نہ کرنا۔ " (تنبیہ) مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے " تولیتم " کا ترجمہ حکومت مل جانے سے کیا ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے۔ دوسرے علماء " تولی " کو بمعنی اعراض لے کر یوں مطلب لیتے ہیں کہ اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو…
Read the full tafseer →آیت 22 { فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّـیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ } ”پس تم سے اس کے سوا کچھ متوقع نہیں ہے کہ اگر تم لوگوں کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد مچائو گے اور اپنے رحمی رشتے کاٹو گے۔“
عام طور پر اس آیت کے دو ترجمے کیے جاتے ہیں۔ دوسرے ترجمے کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم لوگ قتال سے منہ موڑو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ تم زمین میں فساد مچائو گے اور خونی رشتوں کے تقدس کو پامال کرو گے۔ اوپر آیت کے تحت جو ترجمہ اختیار کیا گیا ہے وہ شیح الہند رح کے ترجمے کے مطابق ہے اور مجھے اسی سے اتفاق ہے۔ شیخ الہند رح کے ترجمے کے اصل الفاظ…
Read the full tafseer →26 منافقوں سے کسی بھلائی کی توقع محال ہے :۔ منافقوں کو جہاد صرف اس لیے ناگوار تھا کہ وہ اسلام اور اس کے مفادات کے مقابلہ میں اپنی جان اور مال کو عزیز تر سمجھتے تھے۔ یعنی ان کا اولین مقصد مال کا حصول اور اپنی جان کو بچانا تھا۔ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں حکومت مل بھی جائے تو ان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں جاسکتی یہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک میں فتنہ و فساد ہی برپا کریں گے۔ اور اس سلسلہ میں اپنے رشتہ داروں کے گلوں پر چھری پھیرنے سے باز نہیں آئیں گے۔
اور اگر تَوَلَیْتُمْ کا معنی پھرجانا اور اعراض کرنا لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم جہاد سے بدک کر…
Read the full tafseer →26۔ حکم جہاد۔ ایک بڑی تمدنی وعقلی مصلحت، قیام عدل واصلاح وامن ہے۔ اگر جہاد کو ترک کردیا جائے تو مفسدین کا غلبہ ہوجائے، امن عالم برہم ہوجائے، اور دنیا بھر میں ہنگامہ غدر برپا ہوجائے۔ (آیت) ” ان تولیتم “۔ یعنی اگر جہاد سے تم منہ موڑ رہے۔ خطاب براہ راست منافقین سے ہے۔ ضمنا دوسرے لوگ بھی جہاد سے کنارہ کش رہنے والے اس میں شامل ہوگئے۔ (آیت) ” فھل عسیتم “۔ یعنی یہ احتمال تو تمہیں ہونا چاہیے۔ (آیت) ” عسیتم۔ تولیتم “۔ اوپر سے صیغہ غائب چلا آرہا تھا۔ اب دفعۃ صیغہ مخاطب کی طرف انتقال تو بیخ وترہیب کیلئے ہے۔ (آیت) ” وتقطعوا ارحامکم “۔ دنیا اگر شریعت اسلامی سے محرومی ہوجائے تو آخری انجام سب کا خانہ جنگی…
Read the full tafseer →فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (الآیۃ) تولی کے لغت کے اعتبار سے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک اعراض اور دوسرے کسی قوم و جماعت پر اقتدار و حکمت، اس آیت میں بعض حضرات نے پہلے معنی لئے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الٰہیہ سے روگردانی کی جس میں حکم جہاد بھی شامل ہے تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پر پڑ جائو گے، جس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد اور قطع رحمی ہے۔
روح المعانی اور قرطبی نے اس جگہ تولی کے دوسرے معنی یعنی حکومت اور امارت کے لئے ہیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تمہارے حالات جس کا ذکر اوپر آچکا ہے ان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تمہاری مراد…
Read the full tafseer →فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحاکم۔ سو اگر تم کنارہ کش رہو تو کیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع قرابت کر دو ؟
Read the full tafseer →سو اے گروہ منافقین اگر تم رسول اکرم کے بعد اس امت کے معاملہ سے کنارہ کش رہو تو تمہاری یہ خواہش ہے کہ تم قتل و گناہ اور فساد برپا کردو اور کفر کے ذریعہ آپس میں رشتہ داری ختم کرو۔
Read the full tafseer →فھل عسیتم ان تولیتم …:”ھل“ کے معنی کی تحقیق کے لئے دیکھیے سورة دہر کی پہلی آیت :(ھل اتی علی الانسان حین من الدھر) کی تفسیر۔ یہاں یہ ”قد“ (یقیناً) کے معنی میں ہے۔”عسیتم“ تم قریب ہو، تم سے امید ہے۔ ”تولیتم“ یا تو ”تولی الولایۃ“ سے ہے، حاکم یا صاحب اقتدار ہونا، یا ”تولی عنہ“ سے ہے، منہ موڑنا، اعراض کرنا۔ اگر حاکم ہونے سے ہو تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ طاعت اور قول معروف اختیار کرو، کیونکہ اگر تم اسی نفاق کی حالت میں حکومت پر متمکن ہوجاؤ تو یقینا تم قریب ہو کہ ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے اسلام سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹ جاؤ گے، اپنی خواہشات نفس پوری کرنے کے لئے زمین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ لایۃ سے مشتق ہے ابو العالیہ نے کہا : معنی ہے تم سے یہی توقع ہے اگر تم حکومت کے والی بن جائو تو ایسے حکام بن جائے گے کہ رشوت لینے کے ساتھ زمین پر فساد برپا کرو گے (1) کلبی نے کہا : تم سے یہی توقع ہے اگر تم امت کے امور کے ذمہ دار بن جائو تو تم زمین میں ظلم کے ذریعے فساد برپا کرو گے۔
ابن جریج نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم طاعت سے رخ پھیرو گے تو تم زمین میں نافرمانیوں اور قطع رحمی کے ساتھ فساد برپا کرو گے (2) کعب نے کہا : معنی ہے تم سے یہ توقع ہے اگر تم امر کے والی بن جائو گے تو تم ایک دوسرے کو قتل…
Read the full tafseer →جنت سے محروم افراد :
35:۔ الطبرانی والخرائطی نے مساوی الاخلاق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہوگا اور والدین کی نافرمانی کرنے والا اور احسان جتانے والا ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ بات ایمان والوں پر بھاری گزری کہ وہ گناہ کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق عاق (یعنی نافرمانوں) میں پائے جاتے ہیں (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم، (اور فرمایا) ” ولا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “ (اپنے صدقوں کو ضائع نہ کرو و احسان جتانے اور تکلیف دینے کے ساتھ )
Read the full tafseer →فَهَلْ عَسَيْتُمْ [ پھر تم لوگوں سے کیا ہوسکتا ہے ] اِنْ تَوَلَّيْتُمْ [ اگر تم لوگ روگردانی کرو (جہاد سے )] اَنْ [(سوائے اس کے ) کہ ] تُفْسِدُوْا [ تم لوگ حقوق و فرائض کا توازن بگاڑو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَتُـقَطِّعُوْٓا [ اور ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو ] اَرْحَامَكُمْ [ اپنی رشتہ داریوں کو ]
نوٹ۔ 2: اسلام نے رشتہ داری کے حقوق پورے کرنے کی بڑی تاکید کی ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ اس کو اپنے قریب کرے گا اور جو رشتہ قرابت قطع کرے گا اللہ اس کو قطع کردے گا ۔ اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ نے اسی آیت کا حوالہ دیا کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ۔…
Read the full tafseer →﴿ فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ 0022﴾ (سو کیا یہ صورت حال پیش آنے والی ہے کہ اگر تم والی بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور آپس میں قرابت کے تعلقات کو قطع کردو۔ )
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ منافقین کو خطاب ہے جسے استفہام کی صورت میں لایا گیا ہے اس میں ان کو توبیخ ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارے جو احوال معلوم ہیں یعنی دنیا پر حرص کرنا اور جہاد کی بات سے گھبرانا اور شرکت جہاد سے کترانا اس بات کو جاننے کے بعد کیا کوئی شخص تم سے سوال کرسکتا ہے کہ اگر تمہیں ولایت فی الارض مل جائے یعنی عامۃ الناس کے والی اور متولی بنا دئیے جاؤ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →19:۔ ” فھل عسیتم “ خطاب منافقین سے ہے۔ جب تم پر جہاد فرض کردیا گیا جو بیشمار دینی فوائد رکھتا ہے مثلاً اللہ کے دین کی سربلندی، باطل کی شکست اور ثواب آخرت وغیرہ مگر اس سے تم نے اعراض کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم محض دنیا پرست ہو تو کیا پھر تم سے یہی توقع کی جائے کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں شر و فساد بپا کرو، رعایا کی حق تلفی کرو اور ان پر ظلم ڈھاؤ اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی پامال کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور ساتھ تاکید فرمائی کہ اللہ کی وحدانیت پر ثابت قائم رہو کہ دین کا مقصود یہی ہے اور جہاد اسی کے لیے فرض کیا گیا ہے عقیدہ اور فکر کی حفاظت بہت بڑی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اللہ نے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی ناکامی اور نا مرادی کا ذکر بھی کیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی رب تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے پلٹنے کی جگہ اور اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
حکم جہاد پر منافقوں کی حالت
اب آج کے درس سے لے کر سورة کے آخر تک منافقین کی مذمت بیان کی گئی…
Read the full tafseer →فَہَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ 22
عسی
عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین
( ع س ی ) عسیٰ
کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔
تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول…
Read the full tafseer →فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ ۔ (محمد : 22)
(پس تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ ڈالو۔ )
منافقین کا رویہ دورجاہلیت کا غماز ہے
اس سے پہلے غیب کے صیغے میں بات ہورہی تھی، اب براہ راست منافقین سے خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتال کا حکم آجانے کے بعد منافقین کی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں، وہ مسلمانوں کو لڑائی کے نتیجے میں مدینے کی چھوٹی سی بستی کی تباہی سے ڈرا رہے تھے اور یہ کہہ کر ان کے دلوں میں خدشات پیدا کررہے تھے کہ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ اسلام باہمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : منافق قتال فی سبیل اللہ سے کَنّی کتراتے ہیں لیکن دنگا فساد کرنے میں تیز ہوتے ہیں۔
قرآن مجید نے منافق کی نشانیاں بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جب ان لوگوں کو سمجھایا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو باز آنے کی بجائے کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ اے مسلمانو ! آگاہ ہوجاؤ۔ یہ لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں شعور نہیں رکھتے۔ (البقرۃ : 11، 12)
منافقین کی اسی روش کے باعث یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر ان لوگوں کو ملک میں کچھ اختیارات حاصل ہوجائیں تو یقیناً یہ لوگ ملک میں فساد کریں گے اور رشتہ داریوں کو توڑ ڈالیں گے۔ ان کے اس کردار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی…
Read the full tafseer →آیت 22 : پھر انداز غائب سے خطاب کی طرف پھیر دیا تاکہ اس سے توبیخ و ترہیب ہو۔ فرمایا فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْ حَامَکُمْ (پس اگر تم کنارہ کش رہو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچا دو ۔ اور آپس میں قطع قرابت کرو) شاید کہ اگر تم دین رسول اللہ ﷺ اور آپ کی سنت سے منہ موڑ لو تو تم اسی جاہلیت کی طرف لوٹ جائو گے جس میں لوٹ مار اور زمین میں فساد پھیلانا اور قطع ارحام جبکہ اپنے ہی بعض اقارب سے لڑ پڑو اور بچیوں کو زندہ در گور کرنے کی طرف لوٹو گے۔
نحو : ان تفسدوا یہ عسٰی کی خبر ہے۔ اور شرط اسم و خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔…
Read the full tafseer →21 ۔ پھر فرمایا ” طاعۃ وقول معروف “ یہ مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے اس کی اصل عبارت طاعت وقول معروف امثل ہے۔ یعنی اگر وہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے تو یہ اچھا تھا کہا گیا ہے کہ اس کا مجاز یہ منافقین محکم سورة کے نازل ہونے سے پہلے کہتے تھے۔ ” طاعۃ “ یہ حکایت کی بناء پر مرفوع ہے۔ ” امرنا طاعۃ “ یعنی ہمارا امر طاعت ہے یا ہم سے طاعت ہے اور قول معروف حسن یعنی قول معروف اچھا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ماقبل سے متصل ہے اور لام ان کے قول میں باء کے معنی میں ہے۔ اس کا مجاز ” فاولیٰ بھم طاعۃ اللہ ورسولہ وقول معروف بالاجابۃ “ ہے۔ یعنی اگر وہ اطاعت کرتے تو یہ اطاعت اور حق کو قبول کرنا ان کے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
21۔ 24۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو اسلام کا کچھ زور نہ تھا اس واسطے جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خوبیاں جمائیں اور وہ اسلام لائے ان کا اسلام خالص دل سے تھا یہ بات نہیں تھی کہ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہو ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور اسلام کا دن بدن زور اور غلبہ شروع ہوا تو مدینہ کے بہت سے لوگ اپنی عزت اپنا مال اپنی جان بچانے کی غرض سے اس طرح داخل اسلام ہوگئے تھے کہ ظاہر میں تو وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن دل سے وہ لوگ مسلمان نہ تھے اور جب موقعہ پاتے تھے درپردہ مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں کرتے تھے ان ہی لوگوں کو منافق کہتے ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و یقول الذین امنوا) وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (لو لا نزلت سورة ) ” کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔ “ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو (فاذا انزلت سورة محکمۃ) ” پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔ “ یعنی اس کے عمل کا لازم ٹھہرایا گیا ہو (وذکر فیھا القتال) ” اور اس میں جہاد کا ذکر ہو۔ “ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لئے فرمایا : (رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظروں الیک نظر المغشی علیہ من الموت) ” جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ وہ تمہاری طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 61] دین حق سے روگردانی کا نتیجہ فساد فی الارض۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا اس بات کے سوا اور کسی بات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم لوگ پھرگئے دین حق اور راہ ہدایت سے کہ تم فساد مچاؤ اللہ کی زمین میں، اور رکاوٹ ڈالو آپس کے رشتے میں " کہ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور اس سے محروم ہونے کا یہ طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہے کہ تم جہالت و گمراہی کے ان ہی اندھیروں میں گر پڑو جن میں نور اسلام کے طلوع ہونے سے پہلے پڑے ہوئے تھے۔ اور وہی قتل و غارت گری اور وہی لوٹ مار و قطع رحمی کرنے لگو جو تم لوگ اسلام سے پہلے کے دور جہالت میں کیا کرتے تھے۔ یہ { تولیتم } کے معنی کا ایک احتمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 7 یعنی تم ہرگز امن وامان سے نہ رہو گے بلکہ نافرمانی اور قطع رحمی کرو گے جس کے نتیجہ میں خانہ جنگی اور لوٹ مار کی وہی حالت عود کر آئے گی جو اسلام سے پہلے تھی۔ احادیث میں رشتے ناتے توڑنے اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔
Read the full tafseer →(47:22) فھل عسیتم خطاب الذین فی قلوبہم مرض سے ہے غائب سے حاضر کی طرف التفات، تشدید وتوبیخ کے لئے ہے کہ تمہارے دلوں میں جو نفاق کا مرض ہے اس کی وجہ سے نہ صرف تم اللہ سے بلند بانگ دعووں میں سچے ثابت نہ ہوسکے بلکہ تم سے اس سے پست تر کردار کا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے یا تم لوگوں کے حاکم بن گئے تو زمین میں فساد برپا کردو گے ۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ! (تفہیم القرآن) ۔
ھل حرف استفہامیہ ہے۔ عسی بمعنی عنقریب ہے، شتاب ہے، ممکن ہے توقع ہے ، اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان فی علوم القران میں لکھتے ہیں عسی فعل جامد ہے غیر منصرف ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 28 :
طاعۃ (کہا ماننا۔ اطاعت کرنا) ‘ عزم (ارادہ کرلیا) ‘ عسیتم (شاید کہ تم) ‘ تقطعو (تم کاٹ ڈالو) ارحام (رشتہ داریاں) ‘ اصم (بہرا کردیا) ‘ اعمی ابصارھم ( ان کی آنکھیں اندھی کردیں) ‘ لایتدبرون ( وہ غور نہیں کرتے) اقفال (قفل) تالے ‘ ارتدوا (الٹے پھرگئے) ‘ ادبار (دبر) پیٹھ۔ پیٹھیں ‘ سول ( اس نے برابر کیا۔ دھوکہ دیا) ‘ اسرار (سر) بھید۔ خفیہ باتیں) ‘ اسخط (ناراض کردیا) ‘ احبط (ضائع کردیا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 21 تا 28 :
اس سے پہلی آیات میں بیان کیا جارہا تھا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں وہی لوگ قرآن کریم کی روشنی سے ہدایت حاصل کریں گے اور جنہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
جہاد کا ذکر اور منافقین کی پریشانی۔
(ف 1) شان نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کا بہت ہی شوق تھا وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو تاکہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ فرمایا جو سچے مسلمان ہیں رسول قرآن پر ایمان لائے خالصا اللہ اعمال صالحہ کرتے ہیں تو وہ اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم نازل کیا جاتا یعنی جہاد کرنا، جو سب سے بڑھ کر سخت دشوار کام ہے تو ہم اس میں اپنی سعادت سمجھ کر اس کو بجالاویں، پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو تو وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں شک ونفاق کی مہلک بیماری ہے پریشان ہوجاتے ہیں جہاد کا نام سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
[13] مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ پھر دور جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے اور جس طرح پہلے ظلم و فساد، قطع رحمی اور برادر کشی میں مبتلا رہے تھے پھر اس میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
دعوت غوروفکر
2: قرآن حکیم دنیا میں وہ پہلی اور آخری کتاب ہے جو اپنے ماننے والوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے ۔ اور جس کی تعلیمات خالصاً دانائی اور علوم وفنون کی قطعیت پر مبنی ہیں ۔ یہ کتاب سب لوگوں سے کہتی ہے ۔ کہ تم فطرت کے حقائق کے متعلق سوچو اور غور کرو ۔ پھر یہ دیکھوں کہ ہماری تعلیمات کہاں تک اس کے موافق ہیں اور اگر تمہیں معلوم ہو ۔ کہ اس صحیفہ رشدوہدایت میں جو کچھ لکھا ہے ۔ وہ عین قرین عقل سے ۔ اور تجربہ کے مطابق لو اس کو تسلیم کرو ۔ ورنہ معقول اعتراض پیش کرو ۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس کے مخاطب ہی وہ لوگ ہیں ۔ جو بصیرت سے بہرو وافر ررکھتے ہیں ۔ اور جنگی نگاہوں کو ہیں ۔ اس کتاب کو آئندہ علوم…
Read the full tafseer →(22) پھر تم سے یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اگر تم کو اقتدار ہوجائے تو تم زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رشتے ناتوں کو منقطع کرڈالو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آرزو کرتے ہو جہاد کی جان سے تنگ ہوکر اور اگر اللہ تم ہی کو غالب کردے تو فساد نہ کرنا۔
یہ معنی اس تقدیر پر ہیں کہ تولیتم کے معنی غالب آنے اور حکومت مل جانے کے کئے جائیں جیسا کہ صاحب معالم نے پہلا قول یہی نقل کیا ہے البتہ صاحب مدارک اور صاحب جلالین نے دوسرا قول اختیار کیا ہے اور تقدیر پر۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے اعراض کرو گے تو دنیا میں امن اور انصاف قائم نہیں ہوسکتا اور جب امن و انصاف قائم نہ رہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔
Read the full tafseer →منافقین کی حالت کے پیش نظر ان کو بات سمجھانے کا ایک انداز ، سبحان اللہ
22 ؎ منافقین کی حالت کیا تھی ؟ ایک طرف وہ قولاً ایمان لانے کے دعویدار تھے اور دوسری طرف عملاً ایمان لانے والوں کے خلاف چل پڑے۔ ان کی اس حالت پر ان کو سزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے کردار کا مظاہرہ کر کے تم نے کس کا نقصان کیا ہے ؟ اگر تم غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ اس طرح جو نقصان ہوگا وہ تمہارا ہی ہوگا کیونکہ تم ہی میں سے وہ لوگ ہیں جو ایمان کے پکے اور اپنے ارادوں کے دھنی ہی اور وہ تمہاری رشتہ داری اور قرابت دری کی پروا نہیں کریں گے اور اللہ کے دین کی حفاظت ان کو اپنی جانوں سے ہزار درجہ عزیز ہے۔ وہ اسلام کے نام پر کٹ مریں…
Read the full tafseer →فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ (So, [ O hypocrites,] do you not apprehend that, in case you turn away (from Jihad), you will spread disorder in the land, and will sever your ties of kinship? 47:22). The word تَوَلّیٰ 'tawalla' used in the text lexically has two senses: it could mean I'rad that is, "turning away" and it could also mean to be placed in authority over the people. Some of the commentators of the Qur'an assigned the first meaning to this word in the context of this verse, and Abu Hayyan in his Al-Bahr-ul-Muhit prefers…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
33 Another translation of the words in the original can be; "If you became rulers over the people, "
34 Its one meaning is; 'If at this time you shirk supporting and defending Islam and refrain from fighting with your life and wealth for the cause of me great reformist revolution which the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) and his Companions are struggling to bring about, there will be no other consequence of this than that you would return to the same system of ignorance in which you have been cutting each other's throat since centuries, burying your children…
Read the full tafseer →