Muhammad 47:29

Muhammad · from ayah 29

47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ ۟اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ اَنۡ لَّنۡ يُّخۡرِجَ اللّٰهُ اَضۡغَانَهُمۡ

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do those in whose hearts is disease think that Allah would never expose their [feelings of] hatred?

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:29

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو ﻇاہر نہ کرے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے چھپے ہوئے کینوں کو اللہ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے یہ گمان کرتے ہیں کہ اﷲ ان کے کینوں اور عداوتوں کو ہرگز ظاہر نہ فرمائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے، یہ خیال کرلیا ہے کہ اللہ ان کے کینے کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے کینے ظاہر نہیں کرے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ مگان کر رکھا ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی بےنقاب نہیں کرے گا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے (نفاق کا) یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ظاہر نہیں کرے گا ان کے دلوں کے کھوٹ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو کھول نہ دے گا ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا ؟ اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سوچے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے کینوں کو ظاہر نہیں گرے گا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do they, in whose hearts there is a sickness, believe that Allah will not bring their failings to light?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do those having malady in their hearts think that Allah will never expose their grudges (against Islam)?

— Muhammad Taqi Usmani

Do those having malady in their hearts think that Allah will never expose their grudges (against Islam)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or do those in whose hearts is a disease, think that Allah will not expose their ill--wills

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or do those in whose hearts is a disease deem that Allah will not bring to light their (secret) hates?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do those in whose hearts is disease think that Allah would never expose their [feelings of] hatred?

— Saheeh International

Do those whose hearts are sick think that God will never make their malice public?

— Muhammad Sarwar

Or do those in whose hearts is a disease think that Allah will not bring forth their spite?

— Muhammad Habib Shakir

Deem those in whose hearts is a disease that Allah will never bring to light their secret malevolence?

— Abdul Majid Daryabadi

Or do those in whose hearts is a disease, think that Allah will not bring to light all their rancour?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–31

منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں ؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بد باطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورة براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی فاضحہ رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔ (اضغان) جمے ہے (ضغن) کی ضغن کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة مُحَمَّد 38 اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاں جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتی تھیں اس بنا پر ضائع ہوگئیں کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے دین اور ملت اسلامیہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا رویہ اختیار نہ کیا، بلکہ محض اپنے دنیوی مفاد کے لیے دشمنان دین کے ساتھ ساز باز کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع آتے ہی اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ یہ آیات اس معاملہ میں بالکل ناطق ہیں کہ کفر و اسلام کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں اسلام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ ، اضغان جمع ضغن کی ہے جس کے معنی مخفی عداوت اور حسد و کینہ کے ہیں۔ منافقین جو اسلام کا دعویٰ اور ظاہر میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار اور باطن میں عداوت و کینہ رکھتے تھے ان کے بارے میں نازل ہوا کہ یہ لوگ اللہ رب العالمین کو عالم الغیب جانتے ہوئے اس بات سے کیوں بےفکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے باطنی راز اور مخفی عداوت کو لوگوں پر ظاہر کردیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة برات میں ان کے ایسے اعمال و افعال اور حرکتوں کا پتہ دے دیا جن سے منافقین کے نفاق کا پتہ چل جائے اور وہ پہچانے جائیں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانھم (29) منافقین کا پردہ اللہ چاک کر کے رہے گا یہ بھیان کو دھمکی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ ریشہ دوانیاں جو کہ رہے ہیں تو کیا ان کا گمان ہے کہ ان حرکتوں پر ہمیشہ پردہ ہی پڑا رہے گا، کبھی اللہ ان کو بےنقاب نہیں کرے گا ؟ اگر ان کا گمان یہ ہے تو بالکل غلط ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے چہرے کی نقاب الٹ دی جائے تاکہ سب ان کو اچھی طرح پہچان لیں، کسی کو یہ فریب میں مبتلا نہ کرسکیں۔ مرض سے مراد نفاق بھی ہے اور کینہ و حسد بھی جو ان منافقین کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھا اور جس کے سبب سے وہ ان حرکتوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کا ذکر اوپر ہوا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 منافقین کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد تھا، اس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے پر قادر نہیں ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

11: جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لو گے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آخر میں کہا جاتا ہے کہ اللہ ستار ہے ، لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو کہ اپنے اوپر اسلام کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو ، اس کو اللہ اتار سکتا ہے اس لیے اب بھی باز آجاؤ۔ ام حسب ۔۔۔۔ اللہ اضغانھم (29) ولو نشاء لا ۔۔۔۔۔ یعلم اعمالکم (30) ولنبلونکم حتی ۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (31) (47 : 29 تا 31) “ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟” ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو۔ مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لوگے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی منافقین اپنے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جو حاسدانہ عداوتیں اور کینے رکھتے ہیں، کیا یہ خیال ہے کہ وہ دلوں میں پنہاں ہی رہیں گے ؟ اللہ ان کو طشت از بام نہ کرے گا ؟ اور مسلمان ان کے مکروفریب پر مطلع نہ ہوں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ان کا خبث باطن ضرور ظاہر ہو کر رہے گا اور ایسے امتحان کی بھٹی میں ڈالے جائیں گے جہاں کھوٹا کھرا بالکل الگ ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَہُمْ } ”کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا ؟“ ان کا تو یہی خیال تھا کہ ان کے دوغلے پن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوگی اور ان کے سینوں کے کھوٹ بےنقاب نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان کے نفاق کو ظاہر کرنا ہی تھا۔ سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا : { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 یعنی جو کچھ بھی وہ اندر ہی اندر کافروں سے گٹھ جوڑ کر رہے ہیں اور انہیں اپنی ہمدردیاں جتا رہے ہیں اور اسلام کے خلاف اپنی وفاداریاں انہیں پیش کر رہے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کینہ وہ رکھتے اور زہر اگلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ایسی سب باتوں سے مسلمانوں کو خبردار کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 29–30

32۔ (اس لئے مومنین کے لئے ایمان پر جزاء اور منافقین کے لئے نفاق پر سزا یقینی ہے) (آیت) ” ولتعرفنھم فی لحن القول۔ یعنی باوجود ہمارے مفصل نہ بتانے کے آپ اپنی فراست ایمانی کی مدد سے انکے لب و لہجہ پر غور کرنے سے اب بھی انہیں پہچان لیں گے۔ صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ یہ آیت اصل ہے فراست کی۔ لیکن فراست کی بناء پر جزم جائز نہیں۔ (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “۔ دل کے روگ سے مراد وہی نفاق ومنافقت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–30

ترجمہ :۔ کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کی نبی سے اور مومنین سے دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو آپ کو دکھا دیتے (یعنی) ان سب کی آپ کو شناخت کرا دیتے، اور لام فلعرفتھم میں مکرر لایا گیا ہے سو آپ ان کے چہروں کی علامتوں ہی سے پہچان لیتے اور یقینا آپ ان کو طرز گفتگو سے پہچان لیں گے، وائو، قسم محذوف کے لئے ہے اور اس کا مابعد جواب قسم ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ آپ سے گفتگو کرتے ہیں تو اس طرقہ سے تعریض کرتے ہیں کہ جس میں مسملانوں کے بارے میں تحقیر ہوتی ہے تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں اور یقینا ہم تم سب کی جانچ کریں گے، یعنی جہاد وغیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانھم۔ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ‘ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی انکی دلی عداوتوں کو ظاہر نہیں کرے گا ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کہا گیا کہ یہ آیت یعنی جو لوگ پشت پھیر کر ہٹ گئے یہاں تک کہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو دین سے مرتد ہو کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آگئے تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ حکم بن ابی العاص منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوا جو کہ جمعہ کے دن جبکہ رسول اکرم خطبہ دے رہے تھے اور یہ لوگ خطبہ نہیں سن رہے تھے بلکہ حضور کے بعد خلافت کے بارے میں باہم مشورہ کر رہے تھے کہ اگر ہم اس امت کے خلیفہ ہوگئے تو ایسا ایسا کریں گے پھر بعد میں بطور تعریض کے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہنے لگے کہ ابھی رسول اکرم نے منبر پر کیا کہا ہے کیا یہ لوگ جن کے دلوں میں شک و نفاق ہے یہ خیال کرتے ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ام حسب الذین فی قلوبھم مرض …:”اضغان“ ”ضغن“ کی جمع ہے، شدید کینہ، مراد اس سے وہ شدید حسد اور عداوت ہے جو منافقین رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف دلوں میں رکھتے تھے۔ یعنی کیا ان منافقین نے گمان کر رکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دل میں مسلمانوں کے خلاف جو شدید حسد اور بغض کی بیشمار باتیں چ ھپا رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر نہیں کرے گا اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے گا ؟ نہیں، ایسا نہیں ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے خبث باطن کو ضرور ظاہر کرے گا۔ چناچہ سورة توبہ میں م نافقین کی سازشوں، عداوتوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی زہریلی باتوں کو ”ومنھم“ ”ومنھم“ کہہ کر اس طرح کھول کر رکھ دیا کہ ان کی پہچان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–30

مرض سے مراد نفاق اور شک سے مراد منافقین ہیں۔ اضفان سے مراد وہ چیز ہے جو ناپسندیدہ چیز چھپائے ہوئے ہیں اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ سدی نے کہا : اس کا معنی ان کا کھوٹ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد ان کا حسد ہے قطرب نے کہا : مراد ان کی عداوت ہے او شاعر کا قول ذکر کیا : ابن ہند سے کہو میں نے ایسی گفتگو کا ارادہ نہیں کیا جو دوست کو بری لگے اور عداوت کو پختہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مراد ان کے کینے ہیں اس کا واحد ضعفن سے کیا عنہ میں نے کینہ والے سے اپنے نفس کو روکا یہ بحث پہلے گزر چکی ہے : عمروبن کلثوم نے کہا : کینہ کے بعد کینہ تجھ پر ظاہر ہوجاتا ہے اور مخففی مرض کو باہر نکال دیتا ہے۔ جوہری نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–32

منافقین کے بارے میں آگاہی : 1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانہم “ (کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا) یعنی کیا اللہ تعالیٰ ظاہر نہیں کرے گا ان کے خبث اور حسد کو جو ان کے دلوں میں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرمایا اور آپ ﷺ منافقین میں سے ہر آدمی کو ان کے نام لے کر پکارتے تھے۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعرفنہم فی لحن القول “ (اور آپ اس کو طرز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ [ یا انہوں نے گمان کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ [ جن کے دلوں میں ایک روگ ہے ] اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ [ کہ ہرگز نہیں نکالے گا اللہ ] اَضْغَانَهُمْ [ ان کے کینوں کو ] ض غ ن : (س) ضغنا ۔ دل میں دشمنی چھپانا ۔ کینہ رکھنا ۔ ضغن ج : اضغان ۔ اسم ذات ہے۔ کینہ ۔ بغض ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا ﴾ (ان کی یہ سز اس کے لیے ہے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جو اللہ کے ناراضگی کا سبب ہے اور اس کی رضا مندی کو اچھا نہ جانا سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردئیے) یعنی انہوں نے کفر کو اختیار کیا (جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے) اور ایمان قبول نہ کیا (جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے) اللہ کو راضی کرنے والے عمل سے ان کو نفرت اور کراہت تھی ان کو موت کے وقت یہ سزا ملے گی اور اس کے بعد بھی برا عذاب ہی عذاب ہے اور انہوں نے دنیا میں جو کوئی عمل ایسا کیا تھا جس پر ثواب دیا جاسکے ان اعمال کو بھی اللہ نے اکارت کردیا یعنی آخرت میں ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ پہنچے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–33

تہدید وتحذیر باظہار مکر وتدابیر منافقین ودشمنان اسلام ومساعین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ...... الی ...... ولا تبطلوا اعمالکم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں جہاد کے حکم پر منافقین کے بیہودہ رویہ اور طرز عمل کا ذکر تھا اب ان آیات میں انکو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کی جارہی ہے اور آگاہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت سے انکی کوئی بھی بات مخفی نہیں ہے اللہ جب چاہے انکے راز فاش کرسکتا ہے انکے نام انکی علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ لوگ منافق اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کو اس پر متوجہ کیا جارہا ہے کہ دشمنان اسلام کے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

24:۔ ” ام حسب۔ الایۃ “ منافقین پر زجر ہے۔ ان کا یہ خیال غلط ہے کہ اسلام پیغمبر (علیہ السلام) اور مسلمانوں کے خلاف ان کے دلوں میں جو کینہ و عداوت پوشیدہ ہے اللہ اس کو ظاہر نہیں کرے گا اور ان کے مکر و فریب اور ان کی منافقت کا پردہ چاک نہیں کرے گا۔ ضرور کرے گا اور ایسے حالات پیدا فرمائے گا کہ ان کا خبث باطن خود کھل کر سامنے آجائے ” ولو نشاء۔ الایۃ “ اگر ہم چاہیں تو منافقین کو آپ کے سامنے کردیں اور آپ ان کو دیکھ کر ان کی صورتیں پہچان لیں کہ یہ منافق ہیں لیکن ابھی اس قسم کے دو ٹوک فیصلے کو ہماری حکمت مقتضی نہیں ویسے آپ ان کو ان کے انداز گفتگو سے پہچان لیں گے کیونکہ منافق خواہ کتنی ہی چاپلوسی کرے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–33

ربط آیات جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں منافقین کا کردار اور ان کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب جہاد سے متعلق کوئی محکم سورة نازل ہوتی ہے تو آپ منافقین کو اپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پاتے ہیں جیسا کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو ۔ پھر اللہ نے فرمایا ، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ جو لوگ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی قرآنی پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹے پائوں پھرجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے حصے میں ہلاکت اور تباہی ہی آسکتی ہے۔ اللہ نے منافقین کا یہ کردار بھی بیان کیا کہ یہ لوگ جب اسلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللہُ اَضْغَانَہُمْ۝ 29 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–32

1 ؎ الاضغان جمع ضغن جو دل میں بری بات رکھی جائے حسد بغض کینہ خیانت لحن القول بات کا پھیرنا کسی غرض کے لیے 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَھُمْ ۔ (محمد : 29) (کیا گمان کر رکھا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی بےنقاب نہیں کرے گا۔ ) منافقین کا کینہ کھل جائے گا آیتِ کریمہ میں مرض کا لفظ استعمال ہوا ہے جو نفاق کے معنی میں قرآن کریم میں جابجا استعمال ہوا ہے۔ لیکن قرآن کریم سے نفاق کی جو علامتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو لوگ دل سے اسلام کے بارے میں اخلاص نہیں رکھتے وہ اسلام اور مسلمانوں سے بغض اور کینہ بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے قَدْبَدَتِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کی بری عادات کا ذکر جاری ہے۔ ” اَضْغَانَ “ کا واحد ” ضغن “ ہے جس کا معنٰی حسد وبغض اور کینہ ہے۔ منافق یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے حسد وبغض کو ظاہر نہیں کرے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو منافقوں کو اس طرح آشکارہ کردیتا کہ تمام مسلمان ان کو اچھی طرح پہچان لیتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور شفقت کی بنا پر ان کی پردہ پوشی کیے ہوئے ہے۔ البتہ اس نے منافقین کے لیڈروں کو کافی حد تک ظاہر کردیا ہے۔ اس بنا پر آپ ان کے کردار اور انداز گفتگو سے انہیں اچھی طرح پہچان سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 29 : اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَہُمْ (جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے۔ کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کے دلوں کی عداوتوں کو ظاہر نہ کریں گے) اضغان : کینے۔ مطلب یہ ہے منافقین نے یہ گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بغض و عداوت کو مؤمنین کے سامنے ظاہرنہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28 ۔” ذلک “ یعنی مار ” بانھم اتبعوا مااسخط اللہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ انہوں نے توریت سے چھپایا اور محمد ﷺ کا انکار کیا۔ ” وکرھوا رضوانہ “ انہوں نے ناپسند کیا اس کو جس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور وہ طاعت وایمان ہے۔ ” فاحبط اعمالھم “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–31

29۔ 31۔ یہ وہی آیتیں ہیں جن کا خلاصہ اوپر گزر چکا ہے کہ کیا ان منافق لوگوں نے اپنی بدنیتی کی درپردہ باتوں کو اللہ تعالیٰ سے چھپانا چاہا ہے کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں۔ وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں پھر مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ دین کی لڑائی کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کے لئے نازل فرمایا ہے کہ لڑائی میں ہمت کرنے والے اور فقط زبان سے ہمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–31

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : (ام حسب الذین فی قلوبھم مرض) ” کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انہوں نے خیال کیا ہے۔ “ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کردیتا ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام اور اہل اسلام کے لئے جو کینہ اور عداوت ہے اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا ؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیق مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلاء نے الٹے پاؤں پھیر دیا اور اس نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–32

کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ ) ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–29

[ 71] منافقین و منکرین کا حال بدان کی موت کے موقع پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر کیا حال ہوگا ان کا اس وقت جب کہ فرشتے ان کی جان قبض کریں گے اور وہ مار رہے ہوں گے ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر "۔ ان کے روحوں کو نکالنے کے لئے۔ سو جس مار کے ڈر سے آج یہ لوگ جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے کتراتے اور اس سے بھاگتے ہیں وہ ان پر اس وقت اس دنیا ہی میں پڑنا شروع ہوجائے گی جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔ تو پھر کون ان کا ایسا ہمدرد اور یار و مددگار ہوگا جو ان کو اس مار اور اس عذاب سے چھڑا سکے ؟ والعیاذ باللہ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لیے یہ دعوت ہے کہ تم اس برے اور ہولناک انجام سے بچنے کے لئے اسلام کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–32

منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–38

آیات 29 تا 38۔ اسرار معارف۔ کیایہ منافقین جن کے دلوں کو بیماری لاحق ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی یہ کرتوت ظاہر نہ کردے گا تو ان کا یہ خیال غلط ہے ان کی سب کاروئیاں شت ازبام ہوں گی اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو ایک ایک کا چہرہ دکھاکر پہچان کروادیتے۔ اگر حکمت الٰہی سے ایسانہ بھی ہو تو آپ کو ان کی گفتگو سے ہی پہچان حاصل ہوجائے گی ۔ حضوراکرم منافقین کو جانتے تھے۔ علماء حق کا ارشاد ہے نبی کریم ایک ایک منافق کو جانتے تھے اور آپ کو ان کی پہچان عطافرمائی گئی تھی بلکہ بعض تقریبا چھتیس کے قریب ایسے تھے جن کے نام بھی بتادیے گئے اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذریعہ بھی تو جہاد ہے اور اس طرح ہم تمہیں آزمائیں گے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ان کا بھانڈا نہیں پھوڑے گا۔ کینوں سے مراد وہ عداوت ہے جو یہ منافقین آنحضرت اور مسلمانوں کے خلاف دلوں میں رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:29) ام حسب الذین فی قلوبہم مرض ۔ میں ام منقطعہ ہے۔ کلام سابق سے اعراض پر دلالت کر رہا ہے ۔ اور استفہام انکاری ہے مرض سے مراد نفاق ہے۔ کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں۔ ان لن یخرج اللہ اضغانہم : ان مصدریہ ہے لن یخرج مضارع منفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب اضغانہم مضاف مضاف الیہ۔ اضغان جمع ہے ضغن کی بمعنی سخت کینہ اور دل کی خفگی۔ چھپا ہوا کینہ، الاضغان (باب افعال) کپڑا یا اسلحہ وغیرہ پہن کر اس میں مستور ہوجانا۔ ترجمہ : کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ عداوتون کو کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔ (ان کے دلوں کے اندر کے چھپے ہوئے کینہ کو کبھی ظاہر نہیں کر دے گا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–34

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 34 : اضغان (ضغن) کینہ۔ بغض۔ دل میں چھپائی گئی دشمنی ‘ عرفت (تونے پہچان لیا) ‘ سیما (پیشانیاں) لحن القول (گھما پھرا کر بات کہنا) ‘ شآقوا (انہوں نے نافرمانی کی) ‘ لن یضروا (وہ نقصان نہ پہنچائیں گے) ‘ یحبط ( وہ ضائع کردے گا) لا تبطلوا (تم ضائع نہ کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 34 : اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ گناہوں کے باوجود ہر آدمی کو مہلتیں دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو سکے۔ اسکے ہر عیب پر پردے ڈالتا چلاجاتا ہے لیکن بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

منافقین کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق وشک کی بیماری ہے اور مکار و عیار ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ یوں ہی خفیہ رہیں گے اور بات بنی چلی جائے گی خدا ان کی پوشیدہ عداوت جو خدا اور رسول سے رکھتے ہیں ظاہر نہ کرے گا، ان کانفاق ان کا کفر اہل اسلام پر آشکار نہ فرمائے گا کیا ان کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں، حدیث ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–30

[15] منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

ف 1: کہ یہ منافقین یہ نہ خیال کریں ۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلی جذبات غم وغصہ کو جو مسلمانوں سے متعلق ہیں ۔ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ۔ بلکہ ہم جائیں ۔ تو آپ کو ان کے چہروں کو دیکھ کر اور ان کی گفتگو کو سن کر بھانپ جائیں ۔ کہ یہ منافق ہیں ۔ چناچہ مسد امام ابن جنبل میں ہے ۔ کہ حضور ﷺ نے ان سب کے نام ہم کو ایک صحبت میں بتا دیئے تھے ۔ اور ہم ان کو خوب پہچانتے تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے کیا وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عداوتوں اور ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا۔ یعنی کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا نفاق کبھی آشکارا نہیں کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–29

ف 6۔ یعنی ابتداء میں اگر منافق تھے تو اخیر ہی میں نفاق سے تائب ہوجاتے، تب بھی ایمان مقبول ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کو کیا مشکل ہے کہ وہ منافقوں کے ان کھوٹوں کو واضح نہ کرے 92 ؎ کیا یہ لوگ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایسے عیوب کو کیوں بیان کرے گا جن کو وہ عیوب کہنا بھی عیب سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں تو ان کے منصب ‘ عہدہ اور عزت و قار کے مطابق ہیں اس لئے ان کا حق ہے ‘ اس کو کوئی عیب سمجھے گا تو کیونکر ؟ فرمایا وہ کچھ بھی خیال کریں اور اپنے دل میں جو چھپایا ہے اس کا اظہار نہ کریں اور نہ ہونے دیں لیکن کیا اللہ رب کریم سے بھی کوئی بات پوشیدہ رکھی جاسکتی ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو ایسا سمجھنے کا کیا حق تھا کہ وہ اللہ سے بھی اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کرتے اور بغل میں چھری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ أَن لَّن يُخْرِ‌جَ اللَّـهُ أَضْغَانَهُمْ (Do those having disease in their hearts rather think that Allah will never expose their grudges [ against Islam ]? - 47:29) " The word adghan is the plural of dighn which means secret enmity, rancour, malice or spite. This verse was revealed in connection with hypocrites to expose their bitter hatred and rancour against Islam which they were hiding in their hearts. Outwardly, they expressed their love for the Holy Prophet ﷺ and inwardly they harbored violent hatred and enmity for him. They knew that Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

38 This refers to alI those works that they performed as "Muslims." Their Prayers, their fasting, their payments of the zakat, and all other acts of worship and virtue, which in appearance and form are counted among good works. were rendered void, for they failed to adopt the attitude of sincerity and loyalty towards AIIah and Islam and the Muslim community even though they professed to be Muslims; but, on the contrary, they went on conspiring with the enemies of Islam for the sake of small worldly gains, and started devising schemes to save themselves from any possible risks as soon as time…

Read the full tafseer →