Explained with ayahs 16–19
بےوقوف، کند ذہن اور جاہل
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 31
اسلام نے جو اخلاق انسان کو سکھائے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی و عبادت بجا لانے میں، اور اسے دین کی خاطر جان لڑانے میں، خواہ اپنی ہی کوشش کرتا رہا ہو، اس کو کبھی اس زعم میں مبتلا نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا وہ میں نے کردیا ہے، بلکہ اسے ہمیشہ یہی سمجھتے رہنا چاہیے کہ میرے مالک کا مجھ پر جو حق تھا وہ میں ادا نہیں کرسکا ہوں، اور ہر وقت اپنے قصور کا اعتراف کر کے اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ تیری خدمت میں جو کچھ بھی کوتاہی مجھ سے ہوئی ہے اس سے درگزر فرما۔ یہی اصل روح ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی کہ " اے نبی ﷺ اپنے قصور کی معافی مانگو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(جب آپ خدا تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار بندوں اور سرکشوں دونوں کا حال و مآل سن چکے) تو آپ اس کا (اکمل طریقہ پر) یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ کے اور کوئی قابل عبادت نہیں (اس میں دین کے تمام اصول و فروع آگئے، کیونکہ علم سے مراد علم کامل اکمل ہے اور علم کامل کے لئے لازم ہے کہ تمام احکام الٰہیہ پر پورا عمل ہو۔ حاصل یہ ہے کہ تمام احکام الٰہیہ پر مداومت رکھو) اور (اگر کبھی کوئی خطا سرزد ہوجائے جو آپ کی عصمت نبوت کی بناء پر درحقیقت گناہ نہیں بلکہ صرف ترک افضل ہی ہوگا مگر آپ کی شان ارفع کے اعتبار سے صورة خطا ہے اس لئے) آپ اپنی (اس ظاہری) خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سب مسلمان مردوں اور سب…
Read the full tafseer →فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفرلذنبک واللمومنین والمومنت ط واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم 19
یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب فیصلہ کی گھڑی قریب آ لگی ہے تو تم اس بات کو اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتائوں کے بل پر اس سے نچنت ہیں ان کو اس وقت اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ خدا کے مقابل میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
عذاب سے بچنے کے لئے تیاری کی ہدایت
واستغفرلذبنک وللمومنین والمومنت یہ اس وقت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لئے نبی ﷺ کو تیاری کی ہدایت ہے کہ جو لوگ اس سے نچنت ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم اپنی کوتاہیوں اور مومنین و مومنات کی…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی اس عقیدے پر ثابت اور قائم رہیں کیونکہ یہی توحید اور اطاعت الہی مدار خیر ہے اور اس سے انحراف یعنی شرک اور معصیت مدار شر ہے۔
19۔ 2 اس میں نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا یَا اّیُّھَا النَّاسُ ! تُوْبُوْا اِلٰی رَبِّکُمْ فَاِنِّی اَسْتَغْعِرُ اللّٰہَ وَ اَتُوْبُ اِلَیہِ فِی الیَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً (صحیح بخا ری) لوگو ! استغفار کیا کرو، میں بھی اللہ کے حضور روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ بارگاہ الٰہی میں توبہ…
Read the full tafseer →9: حضور اکرم ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، آپ سے گناہ کا کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا تھا، لیکن آپ کی کسی کسی رائے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کے مقام بلند کے مناسب نہیں تھی (مثلاً جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ کا فیصلہ جس کا ذکر سورة انفال : 22، 23 میں گذرا ہے، نیز بشری تقاضے سے کبھی کبھی آپ سے نماز کی رکعتوں وغیرہ میں بھول بھی ہوئی۔ اسی قسم کی باتوں کو یہاں قصور سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور در حقیقت اس میں آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جو گناہ نہیں ہیں، استغفار فرماتے ہیں تو امت کے لوگوں کو اپنے ہر چھوٹے بڑے گناہ پر اور زیادہ اہتمام…
Read the full tafseer →اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ہدایت یافتہ ، متقی اور متلاشیان ہدایت ساتھیوں کی طرف پھرجاتا ہے کہ وہ ہدایت کے لئے ایک دوسری راہ بھی اپنائیں۔ علم ومعرفت ، توبہ و استغفار ، اللہ کا خوف اور خشیت اختیار کریں اور آخری وقت کا انتظار کریں۔ اللہ تمہاری دنیا و آخرت کے انجام اچھی طرح واقف ہے۔
فاعلم انہ لا الہ ۔۔۔۔۔ ومثوکم (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لئے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سبے بھی واقف ہے ”۔
یہاں آپ کو اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →1 ہر ایک کا ذنب (گناہ) اس کے مرتبہ کے موافق ہوتا ہے۔ کسی کام کا بہت اچھا پہلو چھوڑ کر کم اچھا پہلو اختیار کرنا گو وہ حدود جواز و استحسان میں ہو، بعض اوقات مقربین کے حق میں ذنب (گناہ) سمجھا جاتا ہے۔ " حسنات الابرار سیأت المقربین " کے یہ ہی معنی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ دن میں سو بار استغفار فرماتے تھے (تنبیہ) (فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ ) 47 ۔ محمد :19) کا خطاب ہر ایک مخاطب کو ہے۔ اور اگر خاص نبی کریم ﷺ کا مخاطب ہوں تو مطلب یہ ہے کہ اس علم پر برابر جمے رہیے اور…
Read the full tafseer →آیت 19 { فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ } ”بس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی خطائوں کے لیے اللہ سے استغفار کرو“
وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ کی ایک تاویل تو یہ ہے کہ یہ خطاب اگرچہ صیغہ واحد میں نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے یہ ہدایت آپ ﷺ کی امت کے لیے ہے۔ البتہ بعض علماء نے اس اسلوب کی وضاحت حضور ﷺ کے ”تعلق مع اللہ“ کے حوالے سے بھی کی ہے۔ اگر کسی عام بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت سے چند لمحات کے لیے تعلق مع اللہ میں انشراح کی کیفیت نصیب ہوجائے تو اس کے لیے یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے لیے…
Read the full tafseer →22 کوئی مومن جس درجے کا بھی وہ مومن ہو اسے اللہ کے حضور اپنے عجزو قصور کا اعتراف کرتے رہنا چاہئے۔ قصور کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جس قدر عبادت اور اطاعت کا ہم پر حق تھا وہ ہم پوری طرح نبھا نہیں سکے۔ اور ایسا اعتراف تمام انبیاء بھی کرتے آئے ہیں۔ حالانکہ انبیاء سے گناہ کا اور بالخصوص دیدہ دانستہ گناہ کا سرزد ہونا محالات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسی ارشاد کے مطابق آپ ایک دن میں سو سے زیادہ مرتبہ استغفار فرمایا کرتے تھے۔ اور تمام مسلمان بھی اپنی نمازوں کے دوران اور نمازوں کے بعد بہ تکرار استغفار کرتے رہتے ہیں۔ اس آیت میں رسول اللہ کو اپنے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →21۔ یعنی وہ باخبر ہے تمہارے سارے ہی اعمال واحوال سے، سو اسی کے وعدوں کے امیدوار اور اسی کے وعیدوں سے خائف ہونا چاہیے۔ (آیت) ” لذنبک “۔ ذنب کا لفظ رسول اللہ ﷺ سے متعلق قرآن کریم میں جابجا آیا ہے۔ ایک اصولی بات ہمیشہ یاد رہے کہ ذنب معصوم کے سلسلہ میں جب بھی آئے گا، مراد اس سے صرف ذنب صوری یا اجتہادی ہوگا، ورنہ کلام میں صریح تناقض واقع ہوگا۔ اس کے بعد انشاء اللہ کوئی نہ رہے گا۔ (آیت) ” فاعلم “۔ یعنی اس یقین پر آئندہ بھی قائم رہیے جیسا کہ اب تک رہے ہیں۔
Read the full tafseer →واستغفر لذنبک والمومنین والمومنات (الآیۃ) اس آیت میں نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی، یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تو معصوم ہوتے ہیں پھر ان کو استغفار کا کیوں حکم دیا گیا ہے ؟
جواب :۔ بوجہ عصمت اگرچہ انبیاء (علیہم السلام) سے گناہ کے سر زد ہونے کا احتمال نہیں تھا مگر عصمت کے باوجود بعض اوقات خطا اجتہادی سر زد ہوجاتی ہے، خطاء اجتہادی اگرچہ قانون شرع میں گناہ نہیں ہے بلکہ اس پر بھی اجر ملتا ہے انبیاء مدعلیہم السلام کو ان کی خطا اجتہادی سر زد ہوجاتی ہے، خطاء اجتہادی اگرچہ قانون شرع میں گناہ نہیں ہے بلکہ اس پر بھی اجر ملتا ہے انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →فاعلم انہ لا الہ الا اللہ تو آپ یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے اور کوئی قابل عبادت نہیں ہے۔
فَاعْلَمْ میں فَ سببیہ ہے ‘ یعنی جب آپ کو مؤمنوں کا خوش نصیب ہونا اور کافروں کا بدنصیب ہونا معلوم ہوگیا تو اے محمد ﷺ ! آپ کو اللہ کی وحدانیت اور نفس کی اصلاح احوال و اعمال کا جو علم حاصل ہوگیا ہے ‘ اس پر جمے رہئے ‘ قیامت کے دن یہی علم آپ کیلئے مفید ہوگا۔
واستغفر لذنبک اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی کی دراخوست کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ اگرچہ ہر گناہ سے
معصوم تھے ‘ کسی گناہ کا ارتکاب آپ سے ممکن ہی نہ تھا ‘ لیکن بندہ کی عبادت اللہ کی عظمت و جلال کے مقابلے میں بہرحال قاصر ہے (عبادت کا حق کون ادا کرسکتا ہے) اسی لئے حکم…
Read the full tafseer →آپ تو اس کا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نفع و نقصان پہنچانے والا اور دینے اور روکنے والا عزت اور ذلت دینے والا اور کوئی نہیں یا یہ مطلب ہے کہ آپ جان لیجیے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے برابر اور کسی چیز کو فضیلت حاصل نہیں۔ اور آپ اپنی خطاء صوری کی معافی مانگتے رہیے (تاکہ امت کے لیے یہ طریقہ مسنون ہوجائے) اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی مغفرت کی بھی دعا کرتے رہیے اور حق تعالیٰ دنیا میں تمہارے چلنے پھرنے اور اعمال کرنے اور آخرت میں آنے اور آخرت میں تمہارے ٹھکانے کی پوری خبر رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) فاعلم انہ لا الہ الا اللہ : اس فائک و فصیحہ (اظہار کرنے والی) کہتے ہیں، یعنی اس سے اس شرط کا اظہار ہوتا ہے جو گزشتہ کلام سے معلوم ہوتی ہے، اس آیت کا تعلق سورت کی گزشتہ تمام آیات کے ساتھ ہے، یعنی جب تم کفار اور ایمان والوں کا حال جان چکے اور یہ بھی کہ بھلائی اور کامیابی کا دار و مدار توحید اور اطاعت پر ہے اور برائی اور ناکامی کا دار و مدار شرک اور نافرمانی پر ہے تو یہ بات بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (ابو السعود) ابو العالیہ اور ابن عینیہ نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس سے پہلی آیت کے ساتھ ہے، یعنی جب ان کے پاس قیامت آگئی تو جان لو کہ اس کے قائم ہونے پر اللہ کے سوا بھاگنے…
Read the full tafseer →ماوردی نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جانتے تھے تو اس میں تین وجہ ہوں گی۔ 1 ۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے با خبر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 2 ۔ جس کو استدلال سے جانا ہے اسے خبر یقین کے ساتھ جان لو۔ 3 ۔ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ذکر کو علم سے تعبیر کیا کیونکہ ذکر علم سے ہی ہوتا ہغ۔ سفیان بن عیینیہ سے مروی ہے کہ ان سے علم کی فضلیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا جب اس کا آغاز اس سے فرمایا عمل کا حکم علم کے بعد دیا فرمایا : (الحدید 20-21) فرمایا : (الانفال 28) بعد میں فرمایا :…
Read the full tafseer →علماء کا اٹھ جانا علامت قیامت میں سے ہے :
104:۔ الحاکم (وصححہ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت پر ایسازمانہ آئے گا کہ اس میں قاری زیادہ ہوں گے اور فقہاء کم ہوں گے اور علم کم ہوجائے گا ہرج ( یعنی قتل و غارت) زیادہ ہوجائے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا آپس میں قتل و غارت پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ مرد قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا (یعنی قرآن پر عمل نہیں ہوگا) پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ منافق کافر اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا مؤمن قبضہ کرے گا اس طرح کہتے ہوئے جیسے مؤمن بندہ کہتا ہے۔
105:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →فَاعْلَمْ [ تو آپ جان لیں ] اَنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی بھی الہ نہیں ہے ] اِلَّا اللّٰهُ [ سوائے اللہ کے ] وَاسْتَغْفِرْ [ اور آپ مغفرت مانگیں ] لِذَنْۢبِكَ [ اپنے گناہ کے لئے ] وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ [ اور ایمان لانے والوں کے لیے ] وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ [ اور ایمان لانے والیوں کے لیے ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [ اور اللہ جانتا ہے ] مُتَقَلَّبَكُمْ [ تم لوگوں کے گھومنے پھرنے کی جگہ کو ] وَمَثْوٰىكُمْ [ اور تمہارے ٹھکانے کو ]
Read the full tafseer →توحید پر جمے رہنے اور استغفار کرنے کی تلقین
چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اپنے اس علم اور یقین پر جمے رہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کریں اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے اور آپ کے توسط سے دیگر اہل ایمان کو بھی، خلاف شان نبوت جو کوئی امر آپ سے صادر ہوگیا اسے ﴿ لِذَنْۢبِكَ ﴾ سے تعبیر فرمایا جیسا کہ خطاء اجتہادی سے کبھی ایسا واقع ہوا، معصیت حقیقت کا صدور انبیاء کرام علیہم اصلوٰۃ والسلام سے نہیں ہوسکتا۔
صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں : امر بالاستغفار مع انہ مغفور لہ لیستن بہ امتہ (یعنی آپ کو استغفار کا حکم دیا گیا حالانکہ آپ کا سب کچھ بخشا جاچکا ہے تاکہ امت آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →16:۔ ” فاعلم انہ “ بنیادی دعوی اور مسئلہ توحید کا ذکر ہے جس کی خاطر جہاد فرض ہے یعنی اس بات کا دل سے یقین کر اور اس یقین پر قائم رہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ اس کے سوا کوئی مالک و مختار، عالم الغیب اور دعا پکار کے لائق نہیں۔ ” واستغفر لذنبک “ آنحضرت ﷺ چونکہ معصوم ہیں اس لیے استغفار سے یہاں گناہوں سے معافی مانگنا مراد نہیں بلکہ اس سے تواضع، کسرِ نفس کا اظہار اور قصور کا اعتراف مراد ہے۔ الاستغفار کنایۃ عن عما یلزمہ من التواضع و ھضم النفس والاعتراف بالتقصیر لانہ ﷺ معصوم او مغفور (روح ج 26 ص 55) ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ روزانہ سو بار استغفار کرتے تھے۔ جیسا کہ صحاح ستہ میں موجود ہے۔ وانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے جنگ کا قانون بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور ان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ کیا ۔ بر خلاف اس کے جو لوگ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآنی پروگرام کی راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کو تنبیہ فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا پھر اہل ایمان کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ، اور کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب کی تعذیبات کو بیان فرمایا۔
منافقین کا گروہ
اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے گروہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بھی اسلام ، دین حق اور قرآن حکیم کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے…
Read the full tafseer →فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ 19 ۧ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : منہم خبر مقدم من یستمع مبتدء انفا بالمدوالقصرومعناہ الساعۃ وانتصابہ علی الظرفیۃ ای وقتاموتنفا اوحال من الضمیر فی قال قال الزجاج ھومن استانفت الشیء اذا ابتدائۃ وھوماخوذ من انف الشیء لماتقدم منہ۔ ان تاتیہم بغتۃ بدل اشتمال من الساعۃ۔
تفسیر : کمن ھوخالد فی النار میں گروہ اشقیا کا ذکر ہوا تھا اب یہاں ان کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے ان کا خلودفی النار ہونا ثابت ہوجاوے فقال و منہم من یستمع کہ ان اشقیا ہیں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اے محمد ﷺ تیری مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وعظ سننے کو بیٹھتے ہیں مگر ان میں عزت و عظمت نہیں۔ اس طرف دھیان نہیں کرتے ‘ رعونت وتکبر سے پھر باہر نکل کر اہل مجلس کے…
Read the full tafseer →فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰ کُمْ ۔ (محمد : 19)
(پس اے پیغمبر ! خوب جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور معافی مانگتے رہئے اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی، اور اللہ جانتا ہے تمہاری سرگرمیوں کو بھی اور تمہارے ٹھکانے کو بھی۔ )
حاصل بحث اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی
کفار اور منافقین پر تبلیغ و دعوت کا حق ادا کردینے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے عظیم پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اس بات کو خوب جان لیجیے اور پیغمبر کا جان لینا چونکہ لوگوں تک…
Read the full tafseer →فہم القران
ربط کلام : جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے تقاضے پورے کرنا چاہئیں کیوں کہ یہ کلمہ تمام نصیحتوں کا ترجمان اور مجموعہ ہے لیکن کفار اور منافقین اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اہل علم نے لکھا ہے کہ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کے کلمہ طیبہ کا پہلا حصہ ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ ہوا کرتا تھا جس کی قرآن مجید کے الفاظ سے اس طرح تصدیق ہوتی ہے۔ اے نبی ﷺ ! جتنے رسول آپ سے پہلے مبعوث ہوئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اس لیے میری ہی عبادت کرو۔ (الانبیاء : 25)
” اہل کتاب کو…
Read the full tafseer →آیت 19 : فَاعْلَمْ اَنَّہٗ (تو آپ اس کا یقین رکھیے تحقیق شان یہ ہے) لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْچبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ (کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں اور آپ اپنی خطا ٔ کی معافی مانگتے رہیے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کے لئے بھی) معنی یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا جو علم آپ کو دیا گیا اس پر قائم رہیں اور تواضع پر ثابت قدمی دکھائیں اور استغفار کے ساتھ اپنے ذنب اور جو آپ کے دین پر ہوں ان کے ذنوب کو مٹاتے رہیے۔
شرح التاویلات :
جائز ہے کہ آپ کا ذنب ہو اس لئے استغفار کا حکم دیا گیا لیکن ہم نہیں جانتے سوائے اس بات کے کہ…
Read the full tafseer →18 ۔” فھل ینظرون الاالساعۃ ان تاتیھم بغتہ “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایک دنیا میں نہیں انتظار کررہا مگر ایسی مال داری کا جو سرکش کردے یا ایسے فقر کا جو ہر چیز بھلا دے یا ایسے مرض کا جو بالکل بےحال کردے یا ایسے بڑھاپے کا جو کسی کام کا نہ چھوڑے یا موت کا جو قبر میں پہنچا دے یا دجال کا پس دجال ایسا غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جارہا ہے یا قیامت کا پس قیامت تاریک ترین (بہت بڑا معاملہ ہے) اور کڑوی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” فقد جآء اشراطھا “ یعنی اس کی علامات اس کی واحدشرط ہے اور نبی کریم ﷺ بھی قیامت کی علامات میں سے تھے۔ سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →علم میں اقرار قلب اور اس معنی کی معرفت، جو علم اسے طلب کرتا ہے، لازمی امر ہے اور علم کی تکمیل یہ ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابع عمل کیا جائے اور یہ علم جس کے حصول کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم ہے اور ہر انسان پر فرض عین ہے اور کسی پر بھی، خواہ وہ کوئی بھی ہو، ساقط نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لئے اس کا حصول ضروری ہے۔ اس علم کے حصول کا طریق کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، چند امور پر مبنی ہے :
(1) سب سے بڑا امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال میں تدبر کیا جائے جو اس کے کمال اور اس کی عظمت و جلال پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ اسماء وصفات میں تدبر و عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 51] معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صیغہ امر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقین جانو کہ اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں " یہ " فاتفریعیہ " ہے۔ یعنی جب آپ کو اہل کفر اور اہل ایمان دونوں فریقوں کا حال اور مآل معلوم ہوگیا تو سعادت و نجات کی جس بنیاد۔ توحید۔ پر آپ قائم ہیں اس پر مضبوط رہیں۔ یعنی یہ عقیدہ توحید پر دوام و ثبات کی تلقین وتعلیم ہے۔ اسی لئے ہم نے ترجمہ میں " جان لو " کی بجائے " جان رکھو " کے الفاظ اختیار کیے ہیں۔ مدار نجات بہرکیف یہی عیقدہ ہے سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب فیصلہ کن گھڑی قریب ہی آلگی ہے تو تم یقین کرلو کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 2 ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” لوگو ! اپنے رب کے حضور توبہ کرو اس لئے کہ میں اپنے رب کے حضور ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے تھے لیکن اس کے باوجود آنحضرت کے استغفار کرتے رہنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر بجالایا جائے۔ جیسا کہ ایک موقع پر آنحضرت سے کثرت عبادت کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : افلا اکون عبدالشکورا کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں (ابن کثیر) اور استغفار جیسے ان گناہوں سے ہوتا ہے جو انسان سے سر زد ہوچکے ہوں اسی طرح آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →(47:19) فاعلم۔ پس آپ جان رکھیں۔ یا۔ یقین رکھیں۔ (ای محمد رسول اللہ ﷺ )سببیہ ہے۔ یعنی جب آپ کو مومنوں کا خوش نصیب ہونا اور کافرون کا بدنصیب ہونا معلوم ہوگیا ہے تو آپ کو اللہ کی وحدانیت اور نفس کی اصلاح احوال اور اعمال کا جو علم حاصل ہوگیا ہے اس پر جمے رہئے قیامت کے دن یہی علم آپ کے لئے مفید ہوگا۔ اعلم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ علم باب سمع مصدر۔ تو جان لے۔
استغفر امر واحد مذکر حاضر، استغفار (استفعال) مصدر۔ تو بخشش مانگ۔ تو معانی مانگ۔
فائدہ : اگرچہ نبی کریم ﷺ ہر گناہ سے معصوم تھے کسی گناہ کا ارتکاب آپ سے ممکن ہی نہ تھا۔ لیکن بندہ کی عبادت اللہ رب العزت کی جلالت و عظمت کے مقابلہ میں بہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 :
یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 :
جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
منافقوں کابیان۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ بعض منافقین ایسے ہیں کہ تمہاری مجلس وعظ میں یا خطبہ جمعہ میں آتے ہیں اور کفر کی مذمت سنتے ہیں مگر دل سے متوجہ نہیں ہوتے ، جب بعد ختم باہر نکل کرجاتے ہیں تو علم والے لوگوں سے بطور مسخراپن و استہزاء پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ کیا کہتے تھے ہم سمجھے نہیں کہ ابھی منبر پر بیٹھ کر کیا کہا تھا ہم کو کچھ خیال نہیں رہا منافقوں کو برا کہا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے بطور مسخراپن کہتے تھے، فرمایا کہ یہ منافق لوگ اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پرچلتے ہیں اس لیے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[11] انبیاء (علیہم السلام) سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں وہ یا تو کبھی اتباع حق میں اس کی متعین حدود میں تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر کسی کام کا بہت اچھا پہلو چھوڑ کر کم اچھا پہلو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں بجائے خود معصیت نہیں ہیں لیکن انبیاء (علیہم السلام) کیونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ دن میں سو بار استغفار فرماتے تھے۔
Read the full tafseer →ف 2: فرمایا ۔ یہ مکہ والے کیوں بڑھ کر اور لپک کر رشتہ ہدیات کو نہیں تھام لیتے ؟ آخر رشتہ ہدایت کو تھام لیتے ! آخر یہ کس بات کے منتظر ہیں ۔ جہاں تک دلائل اور شواہد کا تعلق تھا ۔ وہ سب ان کی خدمت میں پیش کردیا گیا ۔ اور ان کو کئی بار بتا دیا گیا ۔ کہ بت پرستی گمراہی اور ذلت اور رسوائی کی راہ ہے اور انسانیت کی توہین اور تذلیل کا راستہ ہے ۔ اب کیا یہ چاہتے ہیں ۔ کہ قیامت اچانک آجائے ۔ اور ان کے اور مسلمانوں کے درمیان آخری فیصلہ صادر فرمادے ۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی رحمتیں تو آچکی ہیں ۔ اور جب وہ آجائیگی تو اس وقت ان کیلئے تذکیر ونصیحت کا کوئی امکان باقی نہیں رہیگا ۔
لفظ استغفار پیغمبر کے…
Read the full tafseer →(19) پس اے پیغمبر آپ اس کا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں ہے کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالیٰ اور اے پیغمبر آپ اپنی خطائوں کے لئے بخشش طلب کیجئے اور تمام مسلمان مردوں کے لئے اور مسلمان عورتوں کے لئے بھی بخشش طلب کیجئے اور اللہ تعالیٰ تمہارے آنے جانے اور چلنے پھرنے کی جگہ اور تمہارے رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس توحید کی آپ تبلیغ کرتے ہیں اور جس طرح آپ خود بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اسی پر قائم رہیے اور اگر کوئی آپ کی شان نبوت کے نامناسب فعل آپ سے صادر ہوجائے گو وہ آپ کی معصومیت کے منافی نہ ہو اور محض آپ…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس میں دین کے تمام اصول و فروع آگئے کیونکہ علم سے مراد علم کامل اکمل ہے، اور علم کامل مستلزم ہے عمل بجمیع مابہ التعبد کو، حاصل یہ کہ جمیع اوامرو نواہی کے امتثال پر مداومت رکھو۔
3۔ ذنب سے مراد ذنب مجازی ہے۔
4۔ پس اس کے وعدہ کو امیدوار اور اس کی وعید سے خائف رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →مخلوق کی نظریں رب کریم کا احاطہ نہیں کرسکتیں خواہ نظرنی یا رسول کی ہو
19 ؎ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کے سامنے اہل ایمان کی سعادت اور کفار کی شقاوت کا حال کھول کر بیان کردیا ہے اور کوئی بات اس معاملہ میں مبہم نہیں رہنے دی کہ جس کی عقل انسانی احاطہ کرسکتی ہو اور ہم نے اس کو بیان نہ کردیا اور اس لئے آپ کو جو توحید الٰہی کا درس دیا گیا ہے اس کو ہمیشہ یاد رکھیے اور اپنی امت کے ہر فرد تک پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کو پہنا دیجئے یہ آپ ﷺ کی گویا ذمہ داری کو نبھایا اور قوم سے شہادت لی اور پھر قوم کی گمراہی پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو گمراہ ٹھہرایا جس کی وضاحت آپ ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں کی گئی…
Read the full tafseer →Commentary
In this verse the address is to the Holy Prophet ﷺ and he is, through an imperative verb, commanded to know that there is no object of worship besides Allah. It is quite obvious that every Muslim has the knowledge of this - let alone the leader of the Holy Prophets ﷺ who should have its knowledge more profoundly. Then why is he enjoined to acquire this knowledge? There can be two responses to this question: it can either mean that the Holy Prophet ﷺ is enjoined to be steadfast in his worship of Allah or it could mean that he must fulfill the demands of his knowledge. Qurtubi cites…
Read the full tafseer →31 One of the morals taught to man by Islam is also this: However hard and sincerely may man be trying to serve and worship Iris Lord and fighting and struggling in the cause of His Religion, he should never be involved in the misunderstandingthat he has done and accomplished whatever he was required to do. Rather, on the contrary, he should have the feeling that he has not heen able to do full justice to what was expected of him by his Lord and Master. Therefore, he shouldconfess hIS errors COnStantly and pray tO AIIah. SayIng' 'Lord, forgive me for whatever fault and error I may have…
Read the full tafseer →