Explained with ayahs 20–23
ایمان کی دلیل حکم جہاد کی تعمیل ہے
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن تو جہاد کے حکم کی تمنا کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ جہاد کو فرض کردیتا ہے اور اس کا حکم نازل فرما دیتا ہے تو اس سے اکثر لوگ ہٹ جاتے ہیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ 77) 4۔ النسآء :77) یعنی کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا جن لوگوں سے کہا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک فریق لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگا جیسے اللہ کا ڈر ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة مُحَمَّد 32
مطلب یہ ہے کہ جن حالات سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے اور کفار کا جو رویہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ تھا، اس کی بنا پر جنگ کا حکم آنے سے پہلے ہی اہل ایمان کی عام رائے یہ تھی کہ اب ہمیں جنگ کی اجازت مل جانی چاہیے۔ بلکہ وہ بےچینی کے ساتھ اللہ کے فرمان کا انتظار کر رہے تھے اور بار بار پوچھتے تھے کہ ہمیں ان ظالموں سے لڑنے کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا ؟ مگر جو لوگ منافقت کے ساتھ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے تھے ان کا حال مومنوں کے حال سے بالکل مختلف تھا۔ وہ اپنی جان و مال کو خدا اور اس کے دین سے عزیز تر رکھتے تھے اور اس کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھے۔ جنگ کے حکم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (تو ہمیشہ اس بات کے مشتاق رہتے ہیں کہ کلام الٰہی اور نازل ہو تاکہ ایمان تازہ ہو اور احکام جدید آویں تو ان کا ثواب بھی حاصل کریں اور اگر احکام سابقہ کی تاکید ہو تو اور زیادہ ثبات حاصل ہو اور اس اشتیاق میں) کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہ نازل ہوئی (اگر نازل ہو تو تمنا پوری ہو) سو جس وقت کوئی صاف صاف (مضمون کی) سورت نازل ہوتی ہے اور (اتفاق سے) اس میں جہاد کا بھی (صاف صاف) ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح (بھیانک نگاہوں سے) دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو (اس طرح…
Read the full tafseer →ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذآ انزلت سورة محکمۃ وذکر فیھا القتال رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت فاولی لھم (20)
منافقین کا جہاد سے فرار
یہ انہیں منافقین کے اس رویے کی طر اشارہ ہے جو انہوں نے جہاد کا حکم بالفاظ صریح (مذکورہ آیت نمبر 4) سننے کے بعد اختیار کیا۔ فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ مسلمانوں پر اپنے دعوائے ایمان کی دھونس جمائے رکھنے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ جہاد کے باب میں کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوتا لیکن جب ایک سورة نازل کردی جاتی ہے اور اس میں نہایت غیر مبہم الفاظ میں جہاد کا ذکر آتا ہے تو جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا روگ ہے وہ…
Read the full tafseer →20۔ 1 جب جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو مومنین جو جذبہ جہاد سے سرشار تھے جہاد کی اجازت کے خواہش مند تھے اور کہتے تھے کہ اس بارے میں کوئی سورت نازل کیوں نہیں کی جاتی یعنی جس میں جہاد کا حکم ہو۔
20۔ 2 یعنی ایسی سورت جو غیر منسوح ہو۔
20۔ 3 یہ ان منافقین کا ذکر ہے جن پر جہاد کا حکم نہایت گراں گزرتا تھا، ان میں بعض کمزور ایمان والے بھی بعض دفعہ شامل ہوجاتے تھے سورة نساء آیت 77 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
10: صحابہ کرام ؓ کو قرآن کریم سے عشق تھا، اس لیے انہیں ہمیشہ یہ اشتیاق رہتا تھا کہ کوئی نئی سورت نازل ہو، خاص طور پر جو حضرات جہاد کے مشتاق تھے، انہیں یہ انتظار تھا کہ کسی نئی سورت کے ذریعے انہیں جہاد کی اجازت ملے۔ منافق لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی کبھی اس خواہش کا اظہار کردیتے ہوں گے، لیکن جب جہاد کی آیتیں آئیں تو ان کے سارے اشتیاق کی قلعی کھل گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ زبانی شوق ظاہر کرنے کا کیا فائدہ ؟ جب وقت آئے، اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو سچا کردکھائیں تو ان کے حق میں بہتر ہو۔
Read the full tafseer →اب روئے سخن ایک نہایت ہی حساس موقف کی طرف آتا ہے۔ اس وقت تک پالیسی یہ تھی کہ جہاد و قتال سے رکو لیکن اب اللہ نے جہاد کا حکم دے دیا۔ یہ منافقین پر ایک ضرب تھی۔ وہ سخت دہشت زدہ ہوگئے کیونکہ اب تو ان کے لئے چھپ کر رہنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ اب اگر وہ نفاق پر رہے اور اخلاص کے ساتھ اسلام قبول نہ کیا تو ان کا اندرون ظاہر ہوجائے گا ۔ کیونکہ جب جہاد کا فیصلہ ہوگا تو جنگ میں جانا ہوگا یا پیچھے رہنا ہوگا۔
ویقول الذین امنوا لو لا ۔۔۔۔۔۔ فاولی لھم (20) طاعۃ وقول معروف ۔۔۔۔۔۔ خیرا لھم (21) فھل عسیتم ۔۔۔۔۔ ارحامکم (22) اولئک الذین لعنھم ۔۔۔۔۔ ابصارھم (23) افلا یتدبرون ۔۔۔۔۔۔ اقفالھا (24) (…
Read the full tafseer →3 یعنی ایسی سورت جس میں جہاد کی اجازت ہو۔
4 یعنی جچے تلے احکام پر مشتمل ہے جو غیر منسوخ ہیں اور ٹھیک اپنے وقت پر اترتے ہیں۔
5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " مسلمان سورت مانگتے تھے یعنی کافروں کی ایذاء سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزریں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافق اور کچے لوگوں پر بھاری ہوا، خوفزدہ اور بےرونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بیحد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی۔ جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔ "
Read the full tafseer →آیت 20 { وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ } ”اور یہ لوگ جو ایمان کے دعویدار ہیں ‘ کہتے ہیں کہ قتال کے بارے میں کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوئی ؟“
زیر مطالعہ مضمون کے حوالے سے اس سورت کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے باہر قریش مکہ کے خلاف مہمات بھیجنا شروع کردیں۔ غزوہ بدر سے پہلے ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات کا شمار تو غزوات میں ہوتا ہے کہ ان میں حضور ﷺ خود بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان مہمات کے ذریعے سے آپ ﷺ نے خصوصی طور پر مندرجہ ذیل دو مقاصد حاصل کیے :
الف : مکہ کی…
Read the full tafseer →24 جہاد کے حکم پر منافقوں کی حا لت زار :۔ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم تھا کہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے جاؤ۔ اور اپنی تمام تر توجہ نمازوں کے قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے ذکر کی طرف مبذول کئے رہو۔ اس وقت کئی جرأت مند مسلمان یہ آرزو کیا کرتے تھے کہ کاش انہیں کافروں سے لڑنے کی اجازت مل جائے۔ اور ہم بھی ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لے سکیں۔ مدینہ میں پہنچنے کے ایک سال بعد مسلمانوں کو جنگ کی اجازت تو مل گئی۔ لیکن ابھی کوئی صریح حکم نازل نہیں ہوا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جہاد کے متعلق صریح احکام و ہدایات نازل ہوں پھر جب ایسی ہدایات بھی…
Read the full tafseer →22۔ (کہ اگر کسی حکم سابق کی تاکید ہو تو ہمیں بھی مزید ثابت کی نعمت حاصل ہو اور اگر کوئی حکم جدید ہو تو اس کی تعمیل کی دولت) (آیت) ” ویقول الذین امنوا “۔ مومنین یہ غایت شوق سے کہتے اپنا ایمان تازہ کرنے کی غرض سے۔
23۔ یعنی ایسی بھیانک اور وحشت ناک نظروں سے دیکھتے ہیں جیسی سکرات کے وقت ہوجاتی ہیں مطلب یہ ہوا کہ احکام قتال سن سن کر ان کے کلیجے دہلنے لگتے ہیں، رنگ فق ہوجاتے ہیں، چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “۔ ذکر منافقین کا ہورہا ہے۔ دل کے مرض سے مراد نفاق ہے۔
24۔ (خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں، خواہ دونوں جگہ) (آیت) ” فاولی لھم “۔ محاورۂ عرب میں کلمہ وعید وتہدید ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ترجمہ : اور جو لوگ ایمان لائے وہ جہاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کس لئے کوئی ایسی سورت نازل نہیں کی گئی جس میں جہاد (کی اجازت) کا ذکر ہو جب کوئی محکم غیر منسوخ سورت نازل کی جاتی ہے کہ جس میں جہاد (کی اجازت) مذکور ہوتی ہے یعنی جہاد کا مطالبہ مذکور ہوتا ہے تو آپ ان لوگوں کو کہ جن کے دلوں میں مرض یعنی شک ہوتا ہے اور وہ منافق ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوگئی ہو موت سے خوف کھانے کی وجہ سے اور اس کو ناپسند کرنے کی وجہ سے یعنی وہ جہاد سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناپسند کرتے ہیں سو بہتر تھا ان کے لئے آپ کا فرمان بجا لانا اور آپ سے اچھی بات کہنا (اولی لھم) مبتداء ہے…
Read the full tafseer →ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محکمۃ وذکرفیھا القتال رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت فاولٰی لھم۔ اور جو لوگ ایمان والے ہیں ‘ وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی (نئی) سورت کیوں نہیں نازل ہوئی ؟ سو جس وقت (صاف صاف مضمون کی) کوئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے (یعنی نفاق) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی رموت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ سو (اصل ات یہ ہے کہ) عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
جو لوگ مخلص ایمان والے ہیں وہ ذکر الہی کے شوق اور اس کی اطاعت کی خواہش میں ہمیشہ اس بات کے شائق رہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت کیوں نہ نازل ہوئی پھر جس وقت کوئی سورت حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی حکم ہوتا ہے تو جن کے دلوں میں شک و نفاق کی بیماری ہے اور جہاد کا ذکر کرنے کے وقت آپ کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسا کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو کیونکہ وہ جہاد کو پسند نہیں کرتے عنقریب ان کی کمبختی آنے والی ہے تو مسلمان حق تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے لیے تیار ہیں اور اچھی بات کہتے ہیں۔
یا یہ مطلب ہے کہ حق تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت…
Read the full tafseer →(1) ویقول الذین امنوا لو لانزلت سورة : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور ایمان والوں کا حال ان آیات کو سننے کے وقت فرمایا جو توحید، قیامت اور دوسرے اعتقادی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ چناچہ ”ومنھم من یستمع الیک“ میں منافقین کا حال بیان فرمایا اور ”والذین اھتدوا زادھم ھدی“ میں ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اب عمل سے تعلق رکھنے والی آیات مثلاً جہاد، نماز اور زکوۃ وغیرہ کے متعلق ان کا طرز عمل بیان فرمایا۔ وہ یہ کہ مخلص مومن ہمیشہ ایسے کاموں کے بارے میں وحی کے نزول کے منتظر اور امیدوار رہتے، تاکہ ان پر عمل کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکوں، جب اس کے نزول میں تاخیر ہوتی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
یعنی مخلص مومن کہتے ہیں، ان کا کہنا وحی کے اشتیاق جہاد اور اس کے ثواب کے حرص کی بناء پر ہے معنی ھلا ہے سورة محکم سے مراد جس میں نسخ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : ہر وہ سورت جس میں جہاد کا ذکر ہو اس کو محکم کہتے ہیں (2) منافقین پر قرآن میں سے یہ شدید ترین ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ کی قرأت میں یعنی جس کا نزول ابھی ابھی ہوا ہو۔ جس میں جہاد فرض ہو۔ اسے القتال بھی پڑھا گیا ہے کہ فعل معروف ہے اور قتال منصوب ہے۔ مرض سے مراد شک اور نفاق ہے۔ ایسے آدمی کی نظر جس کی آنکھ میں کیچڑ ہو اور غیظ و غضب کا شکار ہو جس طرح ایک آدمی کی نظر موت کے وقت کھل جاتی ہے۔ یہ صورت حال جنگ سے بزدلی کی بناء پر ہوتی ہے۔ جبکہ جزع فزع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محکمۃ “ (اور وہ لوگ کہتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی سورت پھر جب اتاری گئی محکم سورة یعنی ہر سورت جس میں جہاد کا حکم نازل کیا گیا تو ہو محکم سورة ہے اور منافقین سے قرآن کی (یہ سورت) سخت ہوتی ہے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” ویقول الذین امنوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایمان والے لوگ کتاب اللہ کی طرف شوق رکھتے تھے اور اس بیان کی طرف جو اس پر اس بارے میں نازل ہوتا تھا جب کوئی ایس سورة نازل ہوتی جس میں قتال کا ذکر کیا جاتا اے محمد تو منافقین کو…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے ] لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ ۚ [ کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت ] فَاِذَآ اُنْزِلَتْ [ پھر جب اتاری گئی ] سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ [ ایک محکم کی ہوئی سورت ] وَّذُكِرَ فِيْهَا [ اور ذکر کیا گیا اس میں ] الْقِتَالُ ۙ [ جنگ کا ] رَاَيْتَ الَّذِيْنَ [ تو آپ نے دیکھا ان کو ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [ ایک روگ ہے ] يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ [ (کہ ) وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف ] نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ [ اس کی نظر جس پر ڈھائی گئی (غشی )] مِنَ الْمَوْتِ ۭ [ موت (کے خوف ) سے ] فَاَوْلٰى [ تو قریب ہے (تباہی ) ] لَهُمْ […
Read the full tafseer →منافقین کی بدحالی اور نافرمانی
ان آیات میں اہل ایمان کا شوق جہاد منافقین کا حکم جہاد سن کر گھبراہٹ اور پریشانی میں پڑنے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی نئی سورت کیوں نازل نہ ہوئی یہ احکام جدیدہ کے نازل ہونے اور ان پر عمل کرنے کے اشتیاق میں کہہ دیتے تھے جب کوئی بھی سورت نازل ہوتی تو ایمان والے خوش ہوجاتے تھے لیکن جو منافقین تھے وہ نزول احکام سے ڈرتے رہتے خصوصاً جب کسی سورت میں قتال کا حکم نازل ہوتا تو بس ان کا برا حال ہوجاتا تھا ان کے دلوں میں مرض یعنی نفاق تھا نہ سچے دل سے رسول اللہ ﷺ کو رسول مانتے تھے نہ قرآن کو مانتے تھے نہ وقوع قیامت کا یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →17:۔ ” ویقول الذین “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے اور منافقین کے احوال کا بیان ہے ایمان والوں کی یہ خواہش اور آرزو تھی کہ قرآن میں جہاد کا حکم نازل ہوتا کہ وہ جہاد کر کے مشرکین سے انتقام لیں، اللہ کے دین کو سربلند کریں اور اجر وثواب حاصل کریں تو جب کوئی ایسی سورت نازل ہوتی جس میں واضح اور غیر مبہم الفاظ میں جہاد و قتال کا حکم ہوتا، تو منافقوں پر سکتہ طاری ہوجاتا اور وہ آنحضرت ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو اور اس کے اوسان خطا ہوچکے ہوں، کیونکہ بظاہر مسلمانوں میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کیلئے دو ہی راستے ہیں یا تو بادل ناخواستہ جہاد میں شریک ہو کر جن مشرکین کے ساتھ ان کی دلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور ساتھ تاکید فرمائی کہ اللہ کی وحدانیت پر ثابت قائم رہو کہ دین کا مقصود یہی ہے اور جہاد اسی کے لیے فرض کیا گیا ہے عقیدہ اور فکر کی حفاظت بہت بڑی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اللہ نے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی ناکامی اور نا مرادی کا ذکر بھی کیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی رب تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے پلٹنے کی جگہ اور اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔
حکم جہاد پر منافقوں کی حالت
اب آج کے درس سے لے کر سورة کے آخر تک منافقین کی مذمت بیان کی گئی…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ 0 ۚ فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْكَمَۃٌ وَّذُكِرَ فِيْہَا الْقِتَالُ 0 ۙ رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْہِ مِنَ الْمَوْتِ 0 ۭ فَاَوْلٰى لَہُمْ 20 ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
ترکیب : لولا بمعنی ھلا۔ رایت الذین جواب فاذا انزلت اولی مبتدء لہم الخبراولی افعل من الولی وھوالقرب ای اقرب لکم ماتکرھون وقال الجرجانی ھو ماخوذ من الویل ای فویل لھم طاعۃ الخ خبر مبتدء محذوف ای امرہم فاذاعزم الامر عامل الظرف محذوف وقیل فلوصدقوا اللہ ان تفسدوا خبر عسٰی وان تولیتم معترض بینھما الشیطان مبتدء وسول خبر و الجملۃ خبر ان وا ملی معطوف علی الخبر۔
تفسیر : سعید اور شقی کا فرق آیات علمیہ کی نسبت بتا کر کہ نیکوں کو زیادہ ہدایت ہوتی ہے اور شقی اپنی ہوا وہوس میں مستغرق ہوتا ہے خیال کر کے نہیں سنتا باہر جا کر لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اب آیات عملیہ کی نسبت دونوں گروہوں کا فرق بیان کرتا ہے فقال ویقول…
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمنُوْا لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ ج فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْھَا الْقِتَالُ لا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ نَظَرَالْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ط فَاَوْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 20)
(اور کہتے تھے وہ لوگ جو ایمان لائے کہ کیوں نہیں نازل کی جاتی کوئی سورة (دربابِ قتال) اور جب اتار دی گئی ایک محکم سورة جس میں لڑائی کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے دیکھا ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو، پس ان کے حال پر افسوس ہے۔ )
جہاد سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے ذکر کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ جو ابھی تک اپنے ایمان میں پختہ نہیں تھے۔
مکہ معظمہ میں کچھ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ ہمیں کفار کے خلاف قتال کرنے کی اجازت دی جائے لیکن قتال کی اجازت کی بجائے انہیں یہ حکم ہوا کہ لڑائی سے اپنے ہاتھ بند رکھو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ (النساء : 77) جب ہجرت کے بعد دو ٹوک انداز میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم نازل ہوا تو جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کمزور تھا اور بزدلی تھی وہ اس حکم سے اس طرح تھرا گئے جس طرح ان پر موت کی بےہوشی طاری ہوچکی ہو۔ ان کے بارے میں یہ فرمان جاری ہوا کہ جو لوگ قتال فی سبیل اللہ کا حکم سن کر اس کیفیت میں…
Read the full tafseer →آیت 20 : وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ (اور جو ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہ نازل ہوئی) جس میں جہاد کا ذکر ہوتا۔ فَاِذَٓا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ (پس جس وقت کوئی سورت اتاری جاتی ہے۔ جو جہاد کو بیان کرتی ہے۔ مُّحْکَمَۃٌ (صاف صاف) واضح جس میں کسی اور وجہ کا احتمال نہیں بلکہ صرف جہاد کا وجوب ظاہر ہوتا ہے۔
قولِ قتادہ (رح) !
ہر سورت جس میں جہاد کا ذکر ہے وہ سورة محکمہ ہے اس لئے کہ اس پر نسخ وارد نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے نزول سے پہلے جو صلح اور ملاپ کا حکم دیا گیا تھا وہ سب حکم جہاد سے منسوخ ہونے والا ہے حکم جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
منافقین کی آنکھیں بزدلی…
Read the full tafseer →19 ۔” فاعلم انہ لاالہ الا اللہ “ کہا گیا ہے کہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی تو اس پر ثابت قدم رہ اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ آپ اپنے علم پر علم کو زیادہ کریں۔ ابوالعالیہ (رح) اور ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ماقبل سے متصل ہے اس کا معنی ہے جب ان کے پاس قیامت آئے گی تو آپ (علیہ السلام) جان لیں کہ نہ کوئی ٹھکانہ ہوگا اور نہ کوئی جائے قرار اس کے قائم ہونے کے وقت مگر اللہ تعالیٰ کی طرف اور کہا گیا ہے کہ ” فاعلم انہ لا الہ الا اللہ “ کہ ممالک اس کے قائم ہونے کے وقت باطل ہوجائیں گے۔ پس اس وقت نہ کسی کے لئے کوئی ملک ہوگا اور…
Read the full tafseer →20۔ معتبر سند کی عبد اللہ بن عباس کی 2 ؎ روایت نسائی مستدرک حاکم وغیرہ کے حوالہ سے سورة النسا میں گزر چکی ہے کہ ہجرت سے پہلے چند صحابہ نے اللہ کے رسول سے اجازت چاہی کہ مشرکوں لڑے بھڑ کر بھگت لینا چاہئے مگر اس وقت تک مسلمانوں کی جمعیت بھی کم تھی اور ان کے پاس لڑائی کا سامان بھی نہ تھا اس لئے ہجرت سے پہلے لڑائی کی اجازت نہیں ہوئی ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے ایک جگہ ہوجانے سے مسلمانوں کی جمعیت بھی بڑھ گئی اور کچھ لڑائی کا سامان بھی جمع ہوگیا تو اللہ نے مسلمانوں کی تمنا کے موافق دین کی لڑائی کا حکم نازل فرمایا جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے قتادہ 1 ؎ کا قول ہے کہ جہاد کی آیتوں کے نازل ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (و یقول الذین امنوا) وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (لو لا نزلت سورة ) ” کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔ “ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو (فاذا انزلت سورة محکمۃ) ” پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔ “ یعنی اس کے عمل کا لازم ٹھہرایا گیا ہو (وذکر فیھا القتال) ” اور اس میں جہاد کا ذکر ہو۔ “ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لئے فرمایا : (رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظروں الیک نظر المغشی علیہ من الموت) ” جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ وہ تمہاری طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 54] نئی سورت کی تمنا اور خواہش کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری جاتی کوئی سورت " تاکہ نئی سورت کے نازل ہونے سے ایمان و یقین میں تازگی اور مزید پختگی کا سامان ہو۔ اور اس کے احکام و ارشادات پر عمل پیرا ہو کر ہم مزید اجر وثواب کی دولت کما سکیں۔ سو اس اعتبار سے یہ سچے اہل ایمان کے اشتیاق کا مظہر تھا۔ [ مراغی، قرطبی، صفوۃ، بیان القرآن وغیرہ ] جبکہ دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ اس میں۔ الذین اٰمنوا۔ سے مراد وہ منافق لوگ ہیں جو ایمان کے محض زبانی کلامی دعوے کرتے ہیں اور بس۔ سو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ " ایسی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی جس میں جہاد و قتال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–32
منافقین کا جہاد سے راہ فرار اور غداری
تشریح : ان آیات میں ان حالات کا تھوڑا سانقشہ کھینچا گیا ہے۔ جب مدنیہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی ریاست قائم ہوچکی تھی اور کفار مکہ ان کو ہر طرح سے ستانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے تو مسلمان خواہش کرتے تھے کہ ان کو اللہ کی طرف سے جنگ کرنے، لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت مل جائے تو اچھا ہے۔ اور جب جہاد کا حکم اللہ کی طرف سے ملا تو جو سچے مسلمان تھے وہ تو اللہ کی راہ میں لڑنے پر خوش ہوئے مگر جو منافق تھے ان کی تو جان ہی نکل گئی یعنی سخت پریشان ہوئے۔ اصل میں اس وقت تین قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو سچے مسلمان ایک کمزور مسلمان اور ایک منافق۔ تو منافقین کے لیے ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
مومنین کی تمنا ہوتی ہے کہ نئی نئی سورتیں نازل ہوں تاکہ ایمان میں زیادتی کا باعث بنیں علوم کے خزانے نصیب ہوں اور عمل کی راہیں کھلی اور جب اللہ کی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو آپ منافقین کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہیں جیسے وہ موت کی بےہوشی میں آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اپنی بزدلی کے سبب اور منافقت کی وجہ سے۔
محکمات۔
قرآن کی سب آیات محکمات ہیں مگر اصطلاحا ایسی آیات کو کہا گیا ہے جن میں سے کوئی منسوخ ہونے والی نہ تھی بعض احکام دوسرے احکام سے بدل دیے گئے اور انہیں منسوخ کا نام دیا گیا مگر جہاد کا حکم اپنے نزول سے لے کر ہمیشہ کے لیے محکم ہے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ہمیں جہاد کا حکم دیا جاتا اور ہم اللہ کی راہ میں دشمنوں سے لڑتے۔
5 یعنی اس خوف سے کہ اب مسلمانوں کے ساتھ جہاد کے لئے نکلنا پڑیگا ورنہ نفاق کا پردہ چاک ہوجائیگا۔
Read the full tafseer →(47:20) ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورۃ۔ ای یقول المؤمنون الصادقون حرصا علی الجھاد لما فیہ من الثواب الجزیل ھلا انزلت سورة یؤمر فیھا بالجھاد ۔ اور جو سچے اور صادق ایمان والے ہیں وہ جہاد کے ثواب عظیم کے مدنظر وفور شوق سے کہتے ہیں کہ کوئی ایسی سورت کیوں نہیں نازل ہوتی جس میں صریحا جہاد کا حکم دیا گیا ہو۔
لولا تحضیضیہ ہے (ابھارنے اکسانے کے لئے) نیز ملاحظہ ہو (6:43) ۔
سورة محکمۃ : موصوف وصفت، محکمۃ اسم مفعول واحد مؤنث محکم کی گئی۔ مضبوط کی ہوئی۔ یعنی وہ آیت جو معنی مراد پر صریح دلالت کرے۔ احکام (افعال) مصدر سے۔
ذکر۔ ماضی مجہول۔ واحد مذکر غائب۔ ذکر کیا گیا ہو۔ ذکر (باب نصر) مصدر۔
فیھا۔ میں ھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 :
یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 :
جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
جہاد کا ذکر اور منافقین کی پریشانی۔
(ف 1) شان نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کا بہت ہی شوق تھا وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو تاکہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ فرمایا جو سچے مسلمان ہیں رسول قرآن پر ایمان لائے خالصا اللہ اعمال صالحہ کرتے ہیں تو وہ اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم نازل کیا جاتا یعنی جہاد کرنا، جو سب سے بڑھ کر سخت دشوار کام ہے تو ہم اس میں اپنی سعادت سمجھ کر اس کو بجالاویں، پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو تو وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں شک ونفاق کی مہلک بیماری ہے پریشان ہوجاتے ہیں جہاد کا نام سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[11] انبیاء (علیہم السلام) سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں وہ یا تو کبھی اتباع حق میں اس کی متعین حدود میں تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر کسی کام کا بہت اچھا پہلو چھوڑ کر کم اچھا پہلو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں بجائے خود معصیت نہیں ہیں لیکن انبیاء (علیہم السلام) کیونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ دن میں سو بار استغفار فرماتے تھے۔
Read the full tafseer →ف 1: ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ جو لوگ مخلص مسلمان ہیں ۔ ہمیشہ اللہ کے احکام کے منتظررہتے ہیں ۔ تاکہ بیش از بیش اس کے احکام کی اطاعت کرکے فضیلت کے درجات عالیہ کو حاصل کریں ۔ اگر جو کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں جہاد و قتال کا حکم ہو ۔ تو ان کی کیفیت مارے خوف کے ہوتی ہے ۔ کہ جیسے غش آگیا ہو ۔ فرمایا ۔ جب بعین بزدل کا یہ عالم ہو کہ جہاد کا نام بدن پر لزہ طاری کردے ۔ تو پھر اس زندگی سے موت زیادہ بہتر اور موزوں ہے ۔
Read the full tafseer →(20) اور جو لوگ اہل ایمان ہیں وہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل ہوئی لیکن جب کوئی ایسی سورت نازل ہوتی ہے جس کے معنی واضح ہوں اور وہ سورت واضح المعنی ہو اور اس سورت میں جہاد اور قتال کا بھی ذکر کیا گیا ہو تو اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے دل میں نفاق کا روگ اور بیماری ہے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے اور تکنے لگتے ہیں جیسے وہ شخص تکتا ہے جس پر موت بےہوشی طاری ہورہی ہو اور اس طرف اس طرح دیکھنے اور تکنے لگتے ہیں جیسے وہ شخص تکتا ہے جس پر موت کی بےہوشی طاری ہورہی ہو اور اس طرح تکتے ہیں جیسے کوئی بےہوش پڑا مرنے کے وقت سو ایسے منافقوں کے لئے خرابی اور دائے ہے اور ایسوں کی کم…
Read the full tafseer →ف 5۔ اس طرح دیکھنے کا سبب خوف اور جبن ہے کہ اب حفظ وضع کے لئے جہاد میں جانا پڑا اور مصیبت آئی۔
Read the full tafseer →ایمان والے لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے پیش نظر جہاد کی اجازت طلب کرتے تھے :
20 ؎ مکہ میں مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں وہ کسی سے پویدہ نہیں اور ان کی تفصیلات سے کوئی تاریخ اور سیرت کی کتاب خالی نہیں جس میں اس کی وضاحت نہ کی گئی ہو اس لئے ہم ان واقعات کے نقل کئے بغیر یہ بات عرض کر رہے ہیں اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مسلمانوں نے جس مردانگی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب جب ہجرت کی باقاعدہ اجازت دی گئی اور خود رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو مسلمانوں کو امید تھی کہ اب مکہ سے نکل کر ہم تین سو سال میل کے فاصلہ پر آگئے ہیں اب یہاں آرام کا سانس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
Commentary
سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ (an operative surah): The word مُّحْكَمَةٌ muhkamah lexically means "firm". In this lexical sense, every surah is muhkam, but here it is used in its technical sense. In the technical parlance of the sacred law, the term muhkam is used as an antonym of mansukh, ("abrogated" ). Here the word Surah has been qualified by the adjective muhkamah so that the eagerness of the believers for a new Surah is understandable only when it embodies an operative divine commandment that is not abrogated. Qatadah, says that all Surahs which contain the injunctions of Jihad and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
32 That is, "In view of the conditions through which the Muslims were passing and the attitude that the disbelievers had adopted towards Islam and the Muslims at that time the believers were generally of the opinion that they should be permitted to fight even before fighting was actually enjoined by Allah. Rather they were asking Allah's Command in this regard impatiently and were awaiting again and again: "Why are we not permitted to fight these wicked people '?" But the condition of the people who had joined the ranks of the Muslims hypocritically was quite different from that of the…
Read the full tafseer →