Explained with ayahs 16–19
بےوقوف، کند ذہن اور جاہل
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 29
یعنی جہاں تک حق واضح کرنے کا تعلق ہے وہ تو دلائل سے، قرآن کے معجزانہ بیان سے محمد ﷺ کی سیرت پاک سے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں کے انقلاب سے، انتہائی روشن طریقے پر واضح کیا جا چکا ہے۔ اب ایمان لانے کے لیے یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہو ؟
سورة مُحَمَّد 30
قیامت کی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی آمد کا وقت اب قریب آ لگا ہے ان میں سے ایک اہم علامت خدا کے آخری نبی کا آجانا ہے جس کے بعد پھر قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں حضرت انس، حضرت سہل بن سعد ساعدی، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
خلاصہ تفسیر
اور (اے نبی ﷺ بعض آدمی ایسے ہیں (مراد منافقین ہیں) کہ وہ (آپ کی تبلیغ وتعلیم کے وقت ظاہر میں تو) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں (لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے) یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے (اٹھ کر مجلس سے) باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم (صحابہ) سے کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی (جب ہم مجلس میں تھے) کیا بات فرمائی تھی (ان کا یہ کہنا بھی ایک قسم کا استہزاء ہی تھا کہ اس سے یہ جتلانا تھا کہ ہم آپ کی گفتگو کو قابل التفات نہیں سمجھتے، یہ بھی ایک شعبہ نفاق ہی کا تھا) یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے (ہدایت سے دور ہوگئے) اور اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور (انہی کی…
Read the full tafseer →فھد ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ ج فقد جآء اشواطھا فانی لھم اذا جآء تھم ذکر ھم 18
جو عذاب کے منتظر ہیں ان کے لئے عذاب ہی ہے
یعنی اگر پیغمبر ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اب فیصلہ کی گھڑی ہی کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ہی ان کے سر پر آدھکے الساعۃ سے مراد قیامت بھی ہو سکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازمًا اس کی قوم پر آجاتا ہے۔ اللہ کے رسول ان دونوں ہی عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور ان دونوں میں نسبت مقدمہ اور تتمہ کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان لوگوں پر اپنا کرم فرمایا کہ خطرہ سے آگاہ…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی نبی ﷺ کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین۔ صحیح بخاری۔ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ آپ ﷺ نے اشارہ کر کے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔
18۔ 2 یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کرسکیں گے ؟ مطلب ہے اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو مقبول نہیں ہوگی اس لئے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
8: یہ منافقین کا ذکر ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ وہ آپ کی باتیں سن رہے ہیں، لیکن باہر نکل کر دوسروں سے پوچھتے کہ آپ نے کیا بات فرمائی تھیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے مجلس میں بیٹھ کر توجہ سے آپ کی بات نہیں سنی۔ اور شاید آپس میں ایک دوسرے کو یہ جتانا بھی مقصود ہو کہ ہم آنحضرت ﷺ کی باتوں کو (معاذ اللہ) قابل توجہ نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →اب بات ان لوگوں کی طرف آتی ہے جو منافق ہیں ، اندھے ہیں ، غافل ہیں ، جو مجلس رسول سے ایسی حالت میں نکلتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کوئی نفع نہیں اٹھایا۔ ہدایت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر خدا کا کوئی خوف پیدا نہ ہوا۔ چناچہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ حساب و کتاب کا دن بہت ہی جلدی آنے والا ہے۔
فھل ینظرون الا الساعۃ ۔۔۔۔۔ ذکرھم (47 : 18) “ اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟ اس کی علامات تو آچکی ہیں۔ جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لئے نصیحت قبول کرنے کا کون سا موقع باقی رہ جائے گا ؟”
ان آیات میں منافقین کو ایک زبردست جھٹکے کے ساتھ جگایا جاتا ہے اور…
Read the full tafseer →13 یعنی قرآن کی نصیحتیں، گذشتہ اقوام کی عبرتناک مثالیں اور جنت و دوزخ کے وعدہ و وعید سب سن چکے اب ماننے کے لیے کس وقت کا انتظار ہے۔ یہ ہی کہ قیامت کی گھڑی ان کے سر پر اچانک آکھڑی ہو۔ سو قیامت کی کئی نشانیاں تو آچکیں، اور جب خود قیامت آکھڑی ہوگی، اس وقت ان کے لیے سمجھ حاصل کرنے اور ماننے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ یعنی وہ سمجھنا اور ماننا بیکار ہے کیونکہ اس پر نجات نہیں ہوسکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی ﷺ کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النبیین کی راہ دیکھتے تھے۔ جب وہ آچکے (مقصود تخلیق عالم کا حاصل ہوچکا) اب قیامت ہی باقی ہے۔ " حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہادت کی…
Read the full tafseer →آیت 18 { فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا } ”تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آدھمکے ان پر اچانک ؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں۔“
قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو خود محمد عربی ﷺ کی بعثت ہے کہ آپ ﷺ آخری رسول ہیں۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ 1 ”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی مانند جڑے ہوئے بھیجے گئے ہیں“۔ ظاہر ہے آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو آپ ﷺ کے بعداب قیامت ہی کو آنا ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :…
Read the full tafseer →21 علامات قیامت :۔ قیامت کی سب سے بڑی نشانی تو آپ کی بعثت ہے کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا یہ ارشاد بھی قیامت کی نزدیکی پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھا تین (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ عنوان باب) اس حدیث کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان تیسری کوئی انگلی یا کوئی چیز نہیں اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور اس مطلب کی طرف لفظ بعثت سے واضح اشارہ ملتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وسطی انگلی جتنی شہادت کی انگلی سے آگے نکل ہوئی ہے۔ اتنی ہی دنیا کی عمر باقی رہ گئی ہے۔ پھر…
Read the full tafseer →20۔ یعنی سمجھنے سمجھانے کا وقت تو اب ہے۔ قیامت کے آجانے پر اسے سمجھے بھی، تو یہ سمجھ مفید کیا خاک ہوگی ؟ (آیت) ” فقد جآء اشراطھا “۔ قرب قیامت کی ابتدائی علامتوں میں مثلا جھوٹے مدعیان نبوت کا ظہور، تو نزول قرآن کے زمانہ ہی میں شروع ہوگیا تھا۔
Read the full tafseer →فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ جہاں تک حق کے واضح ہونے کا تعلق ہے وہ تو دلائل سے اور قرآن کے معجزانہ بیان سے، محد ﷺ کی سیرت پاک سے اور صحابہ کرام کی زندگیوں کے انقلاب سے انتہائی روشن طریقہ پر واضح ہوچکا ہے، اب کیا ایمان لانے کے لئے یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے روبرو آ کھڑی ہو ؟ اور یہ تمام غیبی باتوں کا عینی مشاہدہ کرلیں، اس وقت تو بڑے سے بڑا کافر بھی ایمان لاتا ہے مگر اس ایمان کا کوئی اعتبار نہیں، خلاصہ یہ کہ ایمان کے لئے تمام شواہد و دلائل آچکے جو کہ ایک صاحب عقل و بصیرت کے ایمان لانے کے لئے کافی ہیں اب بھی اگر ایمان نہیں لاتے تو بس ایک علامت جس میں تمام مغیبات…
Read the full tafseer →فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ فقد جاء اشراطھا فانی لھم اذاجاء تھم
ذکرمھم سو یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعۃً آپڑے ‘ سو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں تو جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی ‘ اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا۔
فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی مکہ کے کافر انتظار نہیں کر رہے ہیں ‘ مگر اس بات کا کہ قیامت کی گھڑی ان پر ناگہاں آجائے۔ سوال انکاری ہے ‘ یعنی قیامت لامحالہ اچانک آئے گی اور یہ لوگ کیا اس گھڑی کے منتظر ہیں۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو توبہ نہ کرتے اور اطاعت کی طرف تیزی سے نہیں بڑھتے تو معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کیلئے یہ ساعت قیامت کے آنے کے منتطر ہیں ‘ لیکن اس وقت تو…
Read the full tafseer →یہ کفار مکہ جبکہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو کیا یہ قیامت کے ہی منتظر ہی کہ وہ ان پر اچانک آپڑے حالانک اس کی متعدد نشانیاں تو آچکی ہیں۔
یعنی انشقاق قمر رسول اکرم کی نزول قرآن کریم کے ساتھ بعثت وغیرہ تو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی تو پھر انہیں توبہ کی کہاں توفیق ہوگی۔
Read the full tafseer →(1) فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتتہ : یعنی کون سی نصیحت اور کون سی وعید ہے جو انہیں نہیں سنائی گئی اور کون سی دلیل ہے جو ان کے سامنے پیش نہیں کی گئی، مگر وہ اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو پانی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے سامنے آکھڑی ہو، نہ پہلے علم ہونے کی وجہ سے اس پر ایمان لاسکیں نہ اس کی تیاری کرسکیں۔
(2) فقد جآء اشراطھا : یعنی جس قیامت کا اتنظار کر رہے ہیں اس کے آنے میں دیر بھی کیا رہ گئی ہے، اس کی نشانیاں تو آہی چکی ہیں، اب اس کے آنے میں کیا شبہ باقی ہے ؟ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”بڑی نشانی قیامت کی…
Read the full tafseer →بغتۃ یعنی اچانک۔ یہ کفار کے لئے وعید ہے۔ سے مراد اس کی علامات ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ پڑھا تھا کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں حضور ﷺ کی بعثت اس کی نشانیوں اور دلیلوں میں سے ایک ہے، یہ ضحاک اور حسن بصری کا نقطہ نظر ہے صحیح میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح مبعوث ہوئے ہیں “ اور انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا (1) الفاظ مسلم کے ہیں اسے امام بخاری، ترمدذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔ روایت کی جاتی ہے۔ ” میں اور قیامت گھڑ دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح یعنی مساوی ہیں۔ “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سے مراد اس کے اسباب ہیں جو بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →اما قولہ تعالیٰ : فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ فقد جآء اشراطھا “۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ (یقینی بات ہے کہ اس کی نشانیاں آچکی ہیں) سے مراد ہے قیامت قریب آگئی۔
10:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ سے مراد ہے قیامت کی ابتدائی نشانیاں۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔
12:۔ البخاری نے سہل بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی درمیانی اور ساتھ والی انگلی مبارک کے ساتھ…
Read the full tafseer →فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ [ تو یہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا السَّاعَةَ [ سوائے اس گھڑی (قیامت ) کے ] اَنْ تَاْتِيَهُمْ [ کہ ہو پہنچے ان کے پاس ] بَغْتَةً ۚ [ اچانک ] فَقَدْ جَاۗءَ [تو آچکی ہیں ] اَشْرَاطُهَا ۚ [ ان کی علامتیں ] فَاَنّٰى لَهُمْ [ تو کہاں سے ہوگی ان کیلئے ] اِذَا [ (اس وقت ) جبکہ ] جَاۗءَتْهُمْ [ وہ (گھڑی ) آئے گی ان کے پاس ] ذِكْرٰىهُمْ [ ان کی نصیحت ]
ش ر ط : (ن، ض) شرطا ۔ شرط لگانا ۔ (س) شرط کسی مشکل کام میں پڑنا ۔ کسی چیز پر پہچان کے لیے نشان لگانا ۔ شرط ۔ ہرچیز کی ابتدا ، علامت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18
Read the full tafseer →تیسری آیت میں منکرین اور منافقین کو تو بیخ فرمائی کہ ان لوگوں کا طور طریقہ ایسا ہے کہ بس قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ نہ ایمان لاتے ہیں نہ اعمال خیر میں مشغول ہوتے ہیں نہ گناہوں سے بچتے ہیں اور نہ انذار وتبشیر ان کے حق میں مفید ہوتا ہے نہ عذاب کی وعید سے متاثر ہوتے ہیں نہ جنت کی بشارت کا یقین کرتے ہیں اب کیا رہ گیا ؟ بس قیامت کا آنا باقی ہے اس کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک آجائے اور قیامت آجائے تو نصیحت حاصل کریں سو قیامت کی علامتیں آچکی ہیں خود نبی کریم ﷺ کا مبعوث ہونا بھی علامات قیامت میں سے ہے اور معجزہ شق القمر بھی علامات قیامت میں سے ہے جسے سورة القمر کی پہلی آیت میں بیان فرمایا ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →15:۔ ” فھل ینظرون “ تخویف دنیوی۔ جو امور عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا موجب تھے وہ تو سب سامنے آچکے مثلا قرآن، معجزات وغیرہ، لیکن ان منافقین اور مشرکین نے عبرت حاصل نہیں کی اور ہدایت کو قبول نہیں کیا اب صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے کہ اچانک قیامت آجائے مگر علامات تو قیامت کی بھی ظاہر ہوچکی ہیں مثلاً بعثت حضرت خاتم النبیین ﷺ وعلیہم اجمعین اور شق قمر، لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضد و حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے ایمان نہ لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ” قال المفسرون من اشراط الساعۃ انشقاق القمر و بعثۃ رسول اللہ ﷺ (خازن ج 6 ص 179، ابن کثیر ج 4 ص 177) ۔ ” انی لھم “ خبر مقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے جنگ کا قانون بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور ان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ کیا ۔ بر خلاف اس کے جو لوگ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآنی پروگرام کی راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کو تنبیہ فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا پھر اہل ایمان کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ، اور کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب کی تعذیبات کو بیان فرمایا۔
منافقین کا گروہ
اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے گروہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بھی اسلام ، دین حق اور قرآن حکیم کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے…
Read the full tafseer →فَہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِيَہُمْ بَغْتَۃً 0 ۚ فَقَدْ جَاۗءَ اَشْرَاطُہَا 0 ۚ فَاَنّٰى لَہُمْ اِذَا جَاۗءَتْہُمْ ذِكْرٰىہُمْ 18
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : منہم خبر مقدم من یستمع مبتدء انفا بالمدوالقصرومعناہ الساعۃ وانتصابہ علی الظرفیۃ ای وقتاموتنفا اوحال من الضمیر فی قال قال الزجاج ھومن استانفت الشیء اذا ابتدائۃ وھوماخوذ من انف الشیء لماتقدم منہ۔ ان تاتیہم بغتۃ بدل اشتمال من الساعۃ۔
تفسیر : کمن ھوخالد فی النار میں گروہ اشقیا کا ذکر ہوا تھا اب یہاں ان کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے ان کا خلودفی النار ہونا ثابت ہوجاوے فقال و منہم من یستمع کہ ان اشقیا ہیں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اے محمد ﷺ تیری مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وعظ سننے کو بیٹھتے ہیں مگر ان میں عزت و عظمت نہیں۔ اس طرف دھیان نہیں کرتے ‘ رعونت وتکبر سے پھر باہر نکل کر اہل مجلس کے…
Read the full tafseer →فَھَل یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً ج فَقَدْ جَآئَ اَشْرَا طُھَا ج فَاَنّٰی لَھُمْ اِذَا جَآئَ تْھُمْ ذِکْرٰہُمْ ۔ (محمد : 18)
(تو کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے، اس کی علامتیں تو ظاہر ہوچکی ہیں، جب وہ خود ہی آجائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ )
پیغمبر کی کاوشوں سے فائدہ نہ اٹھانے والے قیامت کے منتظر ہیں
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی وضاحت و صراحت کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کے نزول کے بعد اس میں کوئی کمی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ایک ایسی شخصیت ہیں جو ان کے لیے اجنبی نہیں۔ ان کے سامنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو انتباہ۔
قرآن مجید نے منافقین کو ہر موقع اور ہر حوالے سے ہدایت کی طرف لانے کی کوشش فرمائی مگر منافقین بدفطرت ہونے کی وجہ سے نفاق میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ حالانکہ وہ کئی بار کفار کا انجام دیکھ چکے تھے لیکن اس کے باوجود سچا ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے جس پر قرآن مجید نے انہیں انتباہ کے انداز میں ارشاد فرمایا کہ اب تو ان کے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہیں۔ سوائے اس کے ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب ان پر قیامت آپڑے گی تو انہیں نصیحت پانے کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر یہ غور کریں تو قیامت کی کئی نشانیاں آچکی ہیں۔ یاد رہے کہ قیامت کی نشانیاں تین…
Read the full tafseer →آیت 18 : فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ (پس یہ لوگ تو قیامت کے منتظر ہیں) وہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اَنْ تَاْتِیَہُمْ (کہ وہ ان کے اوپر آپڑے) یہ مصدر معنیٔ اتیان میں ہے۔ یہ ساعت سے بدل الاشتمال ہے۔ بَغْتَۃً (اچانک)
علاماتِ قیامت :
فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا (پس اس کی علامات تو آچکی ہیں) شرط علامت کو کہتے ہیں اور وہ محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ ہے۔ اور اسی طرح چاند کا پھٹنا ٗ دھوئیں کا ظہور۔
ایک قول یہ بھی ہے :
قطع رحمی ٗ شرفاء کی کمی ٗ کمینوں کی بھیڑ۔
فَاَنّٰی لَہُمْ اِذَا جَآئَ تْہُمْ ذِکْرٰہُمْ (پس جب قیامت ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی تو اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر آئے گا) ۔
قولِ اخفش…
Read the full tafseer →17 ۔” والذین اھتدوا “ یعنی مومنین۔ ” زادھم “ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ھدی واتاھم تقواھم “ ان کو اس پر عمل کی توفیق دی جو ان کو حکم دیا اور وہ تقویٰ ہے۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ اور ان کو ان کے تقویٰ کا ثواب دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں) الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ) کہ قیامت کی گھڑی اچانک ان کے پاس آئے، اور انہیں شعور بھی نہ ہو (فقد جاء اشراطھا) یعنی قیامت کی وہ علامت آچکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ) فانی لھم اذجاء تھم ذکرھم) جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا ؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انہوں نے وہ عمر گزار لی جس کے اندر نصیحت پکڑی جاسکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 48] لوگوں کے لئے اتمام حجت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کی اب یہ لوگ قیامت کی اس ہولناک گھری کے اچانک ٹوٹ پر نے ہی کے منتظر ہیں ؟ "۔ یعنی حق و صداقت کی توضیح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اگر اب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اب یہ اسی کے منتظر ہیں کہ قیامت کی ہولناک گھڑی اچانک ان پر ٹوٹ پڑے اور وہ ان کا کام تمام کر دے۔ جس کے بعد ان کے لئے ہمیشہ کا خسارہ ہے۔ کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو جان لیتے اور صدق دل سے ایمان لے آتے قبل اس سے کہ فرصت ایمان و عمل ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ " الساعۃ " سے یہاں پر قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی کونسی نصیحت اور کونسی وعید ہے جو انہیں نہیں سنائی گی لیکن اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں لیکن قیامت کے آنے میں بھی کونسی کسر رہ گئی ہے۔ اس کی نشانیاں تو آ ہی چکی ہیں پھر اس کے بعد اس کی آمد میں کونسا شبہ رہ گیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” بڑی نشانی قیامت کی ہماری نبی ﷺ کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النبین کی راہ دیکھتے تھے۔ جب وہ آچکے تو اب قیامت ہی باقی ہے۔ حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت نے انگشت شہادت اور بیج کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین مجھے…
Read the full tafseer →(47:18) فھل ینظرون۔ استفہام انکاری ہے الساعۃ سے مراد روز قیامت ہے۔ بغتۃ ۔ اچانک۔ یکایک، مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو (43:66) پس کیا یہ لوگ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے۔
فقد جاء اشراطھا ۔عاطفہ، قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اشراطھا مضاف مضاف الیہ اشراط جمع ہے اس کی واحد شرط ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الساعۃ کی طرف راجع ہے قیامت کی نشانیاں ۔
الشرط وہ معین حکم جس کا وقوع کسی دوسرے امر پر معلق ہو اسے شرط کہتے ہیں وہ دوسرا امر اس کے لئے بمنزلہ علامت کے ہوتا ہے اس کی جمع شرائط ہے۔ عربی میں شرط پولیس کو بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ بھی ایسی علامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 :
یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 :
جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
منافقوں کابیان۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ بعض منافقین ایسے ہیں کہ تمہاری مجلس وعظ میں یا خطبہ جمعہ میں آتے ہیں اور کفر کی مذمت سنتے ہیں مگر دل سے متوجہ نہیں ہوتے ، جب بعد ختم باہر نکل کرجاتے ہیں تو علم والے لوگوں سے بطور مسخراپن و استہزاء پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ کیا کہتے تھے ہم سمجھے نہیں کہ ابھی منبر پر بیٹھ کر کیا کہا تھا ہم کو کچھ خیال نہیں رہا منافقوں کو برا کہا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے بطور مسخراپن کہتے تھے، فرمایا کہ یہ منافق لوگ اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پرچلتے ہیں اس لیے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا،…
Read the full tafseer →[10] جن میں سے رسول اکرم ﷺ کی بعثت مبارکہ اور چاند کا شق ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اللہ کا قانون
1: رشدوہدایت اور ضلالت وگمراہی کے متعلق اس کا قانون یہ ہے ۔ کہ وہ کسی شخص کے اعمال میں مداخلت نہیں کرتا ۔ اور کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا ۔ کہ وہ اپنے لئے ان دوراہوں میں سے کسی ایک راہ کو ضرور اختیار کرے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے ۔ کہ وہ حقیقت حال سے آگاہ کردے ۔ پیغمبروں کے بھیجے ۔ اور کتابوں کو نازل کرے ۔ تاکہ انسان عقل وبصیرت کی روشنی میں اپنا نصیب العین تجویز کرے ۔ اور پھر سمجھ سوچ کر کسی پک ڈنڈی پر ہولے ۔ جب یہ ہوتا ہے کہ کو ئش شخص عمداً خواہشات کی پیروی کے جنون میں حق وصداقت کی آواز کو نہ سننا چاہے ۔ اور آفتاب کی طرح روشن حقائق کو ٹھکرا دے ۔ تو پھر وہ اس سے توفیق ہدایت کو چھین…
Read the full tafseer →(18) اب کیا یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ قیامت ان پر دفعتہ آپڑے اور اس میں شک نہیں کہ اس قیامت کی علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب وہ قیامت ان پر آپہنچے گی تو اس وقت ان کو سمجھنا اور نصیحت قبول کرنا کہاں نصیب ہوسکتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب ہر قسم کے دلائل اور براہین سے قائل نہیں ہوتے تو بس اب صرف قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک واقع ہوجائے اور دفعتہ قیامت ان پر آجائے چناچہ اس کی علامتیں تو آہی گئی ہیں، مثلاً نبی کریم ﷺ کی بعثت اور انشقاق قمر وغیرہ یہ علامات قیامت میں سے ہیں اور جب قیامت آجائے گی تو اس وقت ایمان لانا اور سمجھنا اور نصیحت قبول کرنا کہاں میسر ہوسکتا ہے۔
احادیث میں…
Read the full tafseer →ف 9۔ یہ مجاز ہے توبیخ سے یعنی کیا قیامت میں نصیحت حاصل کریں گے۔
1۔ یہاں اشراط سے مراد وہ علامتیں ہیں جو قیامت سے بہت پہلے واقع ہوئیں اور علامات قریبہ مثل نزول مسیح و خروج دجال و طلوع الشمس من المغرب یہاں مراد لینا اس لئے مناسب نہیں کہ اس سے تحذیر زمانہ نزول آیت کے لوگوں کی خالی از تکلف نہیں، اور قد جاء اشراطہا سے مقصود وعید ہے۔
Read the full tafseer →حق واضح ہوگیا اور دلائل نے باطل کا سر توڑ دیا لیکن یہ لوگ ابی تک انتظار ہی میں ہیں
18 ؎ انہوں نے طرح طرح کے سوالات کئے اور ان کو ان کے ہر سوال کا جواب دلائل کے ساتھ سنا دیا گیا لیکن ان کی عادت میں جو میں نہ مانوں راسخ ہوچکا ہے اور ان کے دل میں ایک ہی کائنا اٹک کر رہ گیا ہے کہ وہ قیامت جس کا بار بار ڈراوا ہم کو دیا جاتا ہے وہ آخر آ کیوں نہیں جاتی تو فرمایا ان کو بہت سمجھایا گیا کہ جب وہ آئے گی تو تم کو توبہ کی توفیق بھی نہیں ملے گی اپنی اس زندگی سے جس سے تم گزر رہے ہو سمجھ لو کہ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی اور وہ اس طرح کہ تم نے کوئی پہلی بار اس دنیا میں قدم نہیں رکھا بلکہ تم سے پہلے بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
Commentary
The lexical item اشراط "ashrat" occurring in this passage means "signs". The portents of the last Hour starts with the very advent of Khatam-un-Nabiyyin ﷺ [ the Last of the Holy Prophets ] as the end of the Holy Prophethood is the sign of the approach of the last Hour. The miracle of the splitting of the moon by the Holy Prophet ﷺ has been described thus in the Holy Qur'an [ 54:1]: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ "The hour has drawn near and the moon has split." - indicating that this miracle is also one of the signs of the last Hour. These are initial portents of the Hour which appeared…
Read the full tafseer →29 That is, as far as the explanation andclarification of the truth is concerned; it has been explained fully well by argument and reasoning, the miraculous discourses of the Qur'an, the pure character of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) and the revolution in the lives of his Companions. Now, are these people awaiting that Resurrection itself should take place and then only they will believe? ,
30 Theportents of Resurrection imply those signs which indicate that its approach is near. One such important sign is the advent of God's Last Prophet after whom no other prophet will…
Read the full tafseer →