Explained with ayahs 16–19
بےوقوف، کند ذہن اور جاہل
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 27
یعنی وہی باتیں، جن کو سن کر کفار و منافقین پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے، ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے مزید ہدایت کی موجب ہوتی ہیں، اور جس مجلس سے وہ بد نصیب اپنا وقت ضائع کر کے اٹھتے ہیں، اسی مجلس سے یہ خوش نصیب لوگ علم و عرفان کا ایک نیا خزانہ حاصل کر کے پلٹتے ہیں۔
سورة مُحَمَّد 28
یعنی جس تقوی کی اہلیت وہ اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کی توفیق انہیں عطا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
خلاصہ تفسیر
اور (اے نبی ﷺ بعض آدمی ایسے ہیں (مراد منافقین ہیں) کہ وہ (آپ کی تبلیغ وتعلیم کے وقت ظاہر میں تو) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں (لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے) یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے (اٹھ کر مجلس سے) باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم (صحابہ) سے کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی (جب ہم مجلس میں تھے) کیا بات فرمائی تھی (ان کا یہ کہنا بھی ایک قسم کا استہزاء ہی تھا کہ اس سے یہ جتلانا تھا کہ ہم آپ کی گفتگو کو قابل التفات نہیں سمجھتے، یہ بھی ایک شعبہ نفاق ہی کا تھا) یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے (ہدایت سے دور ہوگئے) اور اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور (انہی کی…
Read the full tafseer →والذین اھتدوا ازدھم ھدی واتھم تقوھم 17
جنہوں نے اپنے نور فطرت کی ان کے نور میں اضافہ ہوا
یہ وہی مضمون ہے جو سورة توبہ کی اس آیت میں بیان ہوا ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے کہ جن کا نور فطرت سمجھا نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس کو محفوظ رکھا اللہ نے اپنے نبی کی صحبت سے ان کی ہدیات میں اضافہ فرمایا اور ان کی استعداد اور طلب کے اعتبار سے ان کے تقویٰ میں برکت بخشی۔ رہے وہ لوگ جو اپنے اندر نفاق کی پرورش کرتے رہے تو ان سے وہ بھی چھین لیا گیا جو ان کو بخشا گیا تھا۔
Read the full tafseer →17۔ 1 یعنی جن کی نیت ہدایت حاصل کرنے کی ہوتی ہے تو اللہ ان کو ہدایت کی توفیق بھی دے دیتا ہے اور ان کو اس ثابت قدمی بھی عطا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
8: یہ منافقین کا ذکر ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ وہ آپ کی باتیں سن رہے ہیں، لیکن باہر نکل کر دوسروں سے پوچھتے کہ آپ نے کیا بات فرمائی تھیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے مجلس میں بیٹھ کر توجہ سے آپ کی بات نہیں سنی۔ اور شاید آپس میں ایک دوسرے کو یہ جتانا بھی مقصود ہو کہ ہم آنحضرت ﷺ کی باتوں کو (معاذ اللہ) قابل توجہ نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم (47 : 17) “ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے ”۔
اس آیت میں واقعات کی جو ترتیب ہے ، وہ قابل توجہ ہے ۔ جو ہدایت پر ہیں وہ خود ہدایت کی راہ لیتے ہیں تو اللہ ان کو مزید ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور ان کو ہدایت میں مزید گہرائی بخشتا ہے۔
واتھم تقوھم (47 : 17) “ اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا کرتا ہے ”۔ تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا رہتا ہے۔ اس کو شعور ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ اللہ کے غضب سے انسان ڈرتا ہے۔ اللہ کی رضا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →12 یعنی سچائی کے راستہ پر چلنے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی روز بروز ہدایت میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی سوجھ بوجھ اور پرہیزگاری بڑھتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی وَّاٰتٰٹہُمْ تَقْوٰٹہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں اللہ نے ان کی ہدایت میں اور اضافہ کردیا ہے اور انہیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا ہے۔“
جب سے رسول اللہ ﷺ کی تحریک مرحلہ قتال میں داخل ہوئی ہے اہل ایمان کے جوشِ ایمانی ‘ ذوقِ شہادت اور تقویٰ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
Read the full tafseer →20 یعنی وہی باتیں اور ارشادات نبوی جو ان منافقوں کے لیے ایک معمہ بن جاتے تھے وہی اہل ایمان کے لیے ہدایت میں اضافہ کا ذریعہ ہوتے تھے۔ اور ان میں مزید تقویٰ پیدا ہوجاتا تھا۔
Read the full tafseer →19۔ چناچہ ایمان کے بعد وہ احکام پر بھی عمل کرتے رہتے ہیں۔ راہ ہدایت پر چلنے اور احکام پر عمل کرتے رہنے سے ایک خاص برکت یہ پیدا ہوتی ہے کہ ہدایت اور بڑھتی رہتی اور عمل کی توفیق اور زیادہ پیدا ہوتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا عن عندک (الآیۃ) یہ منافقین کا ذکر ہے، منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر تو ہوتے تھے مگر باہر نکل کر علمائے صحابہ ؓ سے معلوم کرتے تھے کہ آنحضرت نے ابھی کیا فرمایا ؟ اور یہ پوچھنا بطور تمسخر ہوتا تھا، تاکہ معلوم ہو کہ ہم ان کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے، اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اس لئے نبی ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے تھے کہ ابھی آپ ﷺ نے کیا فرمایا ؟ یعنی وہی باتیں جن کو سن کر کفار و منافقین پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے ؟ ہدایت یافتہ…
Read the full tafseer →والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم اور جو لوگ راہ پر ہیں ‘ اللہ ان کو اور زیاہد ہدایت دیتا ہے اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دیتا ہے۔
زَادَھُمْ ھُدًی یعنی اللہ اپنے رسول کے ہر کلام کی وجہ سے ان کے اندر علم بصیرت اور شرح صدر بڑھاتا ہے۔
وَاٰتٰھُمْ تَقْوٰھُمْ یعنی حکم کے موافق عمل کرنے کی ان کو توفیق عطا کرتا ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دوزخ سے محفوظ رہنے کے طریقے ان پر واضح کردیتا ہے۔ سعید بن جبیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ ان کو ان کی پرہیزگاری کا ثواب عنایت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →اور جو حضرات ایمان کے ذریعہ ہدایت پر ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کا خطبہ سننے سے انہیں امور دین میں اور زیادہ بصیرت اور سچائی عطا فرماتا ہے اور ان کو ان کے تقوی کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
یعنی ان کو ترک اور اجتناب محارم کی وجہ سے اعزازو سرفرازی عطا کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو حضرات ناسخ پر قائم ہیں حق تعالیٰ منسوخ کی وجہ سے ان کی ہدایت کو بڑھاتا ہے اور ان کو ناسخ پر عمل کرنے اور منسوخ کو چھوڑنے کی وجہ سے سرفراز فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →والذین اھتدوا زادھم ھدی…: یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چل پڑتے ہیں تو وہی باتیں ان کی ہدایت میں اضافے کا باعث بن جاتی ہیں جو منافقین کی سمجھ میں نہیں آتیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے انہیں مزید ہدایت عطا فرماتا ہے اور انہیں ان کا موں کی توفیق عطا فرماتا ہے جن کے ذریعے سے وہ جہنم کی آگ سے بچ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
یعنی وہ لوگ جو لطف اندوز ہوتے ہیں اور کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں ان کے اعمال ان کے لئے مزین کئے گئے ہیں وہ آپ کی بات کو سنتے ہیں وہ منافق ہیں عبداللہ بن ابی سلول، رفاعہ بن تابوت، زید بن صلیت، حارث بن عمرو اور مالک بن خشم، وہ جمعہ کے روز خطبہ میں حاضر ہوتے جب اس میں منافقوں کا ذکر سنتے تو اس میں سے اعراض کرتے جب وہ باہر نکلتے تو اس کے بارے میں سوال کرتے (1) یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ جو ارشاد فرماتے اسے سنتے مومن اسے یاد کرلیتے اور کافر اسے یاد نہ رکھتے۔
جب وہ تیری مجلس سے جدا ہتے عکرمہ نے کہا : اس کا مصداق…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : والذین اھتدوا “
رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے اہل کتاب کی فضیلت :
7:۔ ابن المنذر (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اپنے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی اور پھر محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے آپ کی بعثت سے پہلے جب آپ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے آپ کا انکار کردیا۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” فاما الذین اسودت وجوھھم اکفرتم بعد ایمانکم “ (آل عمران آیت 106) (لیکن جو لوگوں کے چہرے کالے ہوجائیں گے ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تھا) اور اہل کتاب میں سے کچھ لوگ اپنے رسولوں پر اور محمد ﷺ پر بعثت سے پہلے ایمان لے آئے پھر جب آپ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی ] زَادَهُمْ [ اس (اللہ ) نے زیادہ کیا ان کو ] هُدًى [ بلحاظ ہدایت کے ] وَّاٰتٰىهُمْ [ اور اس نے دیا ان کو ] تَقْوٰىهُمْ [ان کا تقوی ]
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اہل ایمان کے انعام کا تذکرہ فرمایا کہ جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ تعالیٰ ان کو مزید ہدایت دیتا ہے (جیسے جیسے احکام نازل ہوتے ہیں وہ ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے جاتے ہیں) اور اللہ ان کو ان کا تقویٰ نصیب فرماتا ہے (احکام پر بھی عمل کرتے ہیں اور جن افعال و اعمال سے منع فرمایا ہے ان سے بھی بچتے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →14:۔ ” والذین اھتدوا “ بیان حال مؤمنین۔ اور جو لوگ ہدایت قبول کرچکے ہیں جب وہ آپ کی خدمت میں حاجر ہو کر آپ سے کلام الٰہی اور آپ کا وعظ و نصیحت سنتے ہیں تو ان کی بصیرت اور ان کے علم و یقین کو تقویت ملتی ہے اور انہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطاء ہوتی ہے۔ زادھم ھدی ای بصیرۃ وعلما، (مدارک ج 4 ص 116) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے جنگ کا قانون بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور ان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ کیا ۔ بر خلاف اس کے جو لوگ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآنی پروگرام کی راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کو تنبیہ فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا پھر اہل ایمان کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ، اور کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب کی تعذیبات کو بیان فرمایا۔
منافقین کا گروہ
اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے گروہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بھی اسلام ، دین حق اور قرآن حکیم کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًى وَّاٰتٰىہُمْ تَقْوٰىہُمْ 17
اهْتِدَاءُ
يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : منہم خبر مقدم من یستمع مبتدء انفا بالمدوالقصرومعناہ الساعۃ وانتصابہ علی الظرفیۃ ای وقتاموتنفا اوحال من الضمیر فی قال قال الزجاج ھومن استانفت الشیء اذا ابتدائۃ وھوماخوذ من انف الشیء لماتقدم منہ۔ ان تاتیہم بغتۃ بدل اشتمال من الساعۃ۔
تفسیر : کمن ھوخالد فی النار میں گروہ اشقیا کا ذکر ہوا تھا اب یہاں ان کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے ان کا خلودفی النار ہونا ثابت ہوجاوے فقال و منہم من یستمع کہ ان اشقیا ہیں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اے محمد ﷺ تیری مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وعظ سننے کو بیٹھتے ہیں مگر ان میں عزت و عظمت نہیں۔ اس طرف دھیان نہیں کرتے ‘ رعونت وتکبر سے پھر باہر نکل کر اہل مجلس کے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اھْتَدَوْا زَادَھُمْ ھُدًی وَّاٰتٰـہُمْ تَقْوٰ ہُمْ ۔ (محمد : 17)
(اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا اور انھیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا۔ )
ہدایت یافتہ لوگوں کا انجام
منافقین کی روش کے برعکس وہ مخلص اور سادہ مسلمان جنھوں نے ہدایت کی راہ پائی یعنی انھوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہمارا ہادی بنا کے بھیجا ہے اور قرآن کریم کتاب ہدایت بن کر آیا ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم ہدایت کے ان سرچشموں سے فائدہ اٹھائیں۔ اور اپنی گہری سے گہری وابستگی ان سے قائم رکھیں اور جو رہنمائی وہاں سے ملے اسے حرز جان بنالیں۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے جاتے ہیں ان میں منافقین بھی شامل ہیں اس لیے منافقین کی عادت اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سورت کی ابتدائی آیات کی تفسیر میں عرض ہوچکا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، اور منافقین کا مومنوں کے کردار اور انجام کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔ پہلے کفار اور مشرکین کا مومنوں کے ساتھ موزانہ پیش کیا گیا اور اب منافقین اور مومنوں کا موزانہ کیا جاتا ہے۔ منافقوں کی بری عادات میں ایک عادت یہ تھی کہ جب نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو بظاہر اس طرح آپ کی طرف توجہ کرتے کہ دیکھنے والے یوں محسوس کرتے جیسے یہ پورے…
Read the full tafseer →آیت 17 : وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا (اور وہ لوگ جو ہدایت پر ہیں) ایمان لا کر اور قرآن مجید سن کر۔ زَادَہُمْ (اللہ تعالیٰ نے بڑھا دیا) ہُدًی (ان کی ہدایت کو) ۔ علم و بصیرت یا شرح صدر کو۔ وَّاٰتٰہُمْ تَقْوٰہُمْ (اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق دیتا ہے) تقویٰ پر ان کی اعانت فرمائی یا ان کو ان کے تقویٰ کا بدلہ دیا یا ان کے سامنے تقویٰ کی حقیقت کھول دی جس سے تقویٰ پر ان کا چلنا آسان ہوگیا۔
Read the full tafseer →16 ۔ ” ومنھم “ یعنی ان کفار میں سے ” من یستمع الیک “ اور وہ منافقین ہیں جو آپ کی بات سنتے تو ہیں لیکن اس کو سمجھتے نہیں، غفلت اور سستی کی وجہ سے ” حتی اذاخرحوا من عندک “ یعنی پس جب وہ تیرے پاس سے نکلیں۔ ” قالو اللذین اوتوا العلم “ صحابہ کرام ؓ میں سے۔ ” ماذاقال “ محمد ” آنفا “ یعنی ابھی اور یہ ائتناف میں سے ہے ۔ کہا جاتا ہے ” انشفت الامر “ یعنی میں نے اس کی ابتداء کی ہے اور ” انف الشیء “ اس کا اول حصہ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور منافقین کے عیب بیان کررہے تھے تو جب منافق مسجد سے نکلے تو عبداللہ بن مسعود ؓ سے ” استھزائ “ پوچھنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں (من یستمع الیک) کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا : (حتی اذا خرجوا من عندک قالو اللذین اوتوا العلم) ” یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔ “ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انہوں نے سنا جس میں انہیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں : (ما ذا قال انفا) یعنی ابھی ابھی آپ ﷺ نے کیا کہا ؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 47] ایمان والوں کیلئے نور ہدایت میں اضافے کی بشارت :
چناچہ ارشاد فرمای گیا کہ " جن لوگوں نے راہ حق و ہدایت کو اپنایا اللہ ان کو مزید ہدایت سے نوازے گا "۔ جس سے ان کو تکثیر حسنات اور تقلیل سیآت کی توفیق ملتی جاتی ہے۔ اور راہ حق و صواب انکے لئے کھلتی چلی جاتی ہے۔ سو ایسوں کو قدرت نے جس نور فطرت سے نوازا تھا اس کو ان کے نور ہدایت ووحی سے جلا ملتی ہے۔ اور یہ نور علی نور کا مصداق بن جاتے ہیں۔ اور لذت ایمان و یقین میں قوت اور اضافے سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔ جبکہ منافق لوگ اس کے برعکس نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے اصل نور فطرت کو بھی گل کردیتے ہیں جس سے قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے ان کو نوازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی ان کے ایمان علم اور دینی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے اور انہیں ت قویٰ کے مقام پر پہنچاتا ہے۔
Read the full tafseer →(47:17) اھتدوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ انہوں نے ہدایت پائی۔ اھتدوا کا لفظ جہاں قرآن مجید میں آیا ہے وہاں امور اخرویہ میں ہدایت پانا مراد ہے اھتداء کا استعمال کبھی ہدایت طلب کرنے یا اس کے لئے کوشش کرنے نیز کسی ہدایت یافتہ کی پیروی کرنے کے متعلق بھی ہوتا ہے ۔ اس باب میں ہدایت حاصل کرنے کے لئے اپنے اختیار سے کوشش کرنا کے معنی پائے جاتے ہیں۔
اگرچہ لغت کے اعتبار سے ھدی اور ھدایۃ میں کوئی فرق نہیں مگر ھدی کا لفظ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہدایت فرمانے کے لئے استعمال کیا ہے یعنی ہدایت کی جو نسبت اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے ہے اس کے لئے ھدی کا لفظ مخصوص ہے جیسے کہ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 :
یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 :
جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
منافقوں کابیان۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ بعض منافقین ایسے ہیں کہ تمہاری مجلس وعظ میں یا خطبہ جمعہ میں آتے ہیں اور کفر کی مذمت سنتے ہیں مگر دل سے متوجہ نہیں ہوتے ، جب بعد ختم باہر نکل کرجاتے ہیں تو علم والے لوگوں سے بطور مسخراپن و استہزاء پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ کیا کہتے تھے ہم سمجھے نہیں کہ ابھی منبر پر بیٹھ کر کیا کہا تھا ہم کو کچھ خیال نہیں رہا منافقوں کو برا کہا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے بطور مسخراپن کہتے تھے، فرمایا کہ یہ منافق لوگ اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پرچلتے ہیں اس لیے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا،…
Read the full tafseer →[9] یعنی جس تقویٰ کی اہلیت وہ اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی کی توفیق انہیں عطا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اللہ کا قانون
1: رشدوہدایت اور ضلالت وگمراہی کے متعلق اس کا قانون یہ ہے ۔ کہ وہ کسی شخص کے اعمال میں مداخلت نہیں کرتا ۔ اور کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا ۔ کہ وہ اپنے لئے ان دوراہوں میں سے کسی ایک راہ کو ضرور اختیار کرے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے ۔ کہ وہ حقیقت حال سے آگاہ کردے ۔ پیغمبروں کے بھیجے ۔ اور کتابوں کو نازل کرے ۔ تاکہ انسان عقل وبصیرت کی روشنی میں اپنا نصیب العین تجویز کرے ۔ اور پھر سمجھ سوچ کر کسی پک ڈنڈی پر ہولے ۔ جب یہ ہوتا ہے کہ کو ئش شخص عمداً خواہشات کی پیروی کے جنون میں حق وصداقت کی آواز کو نہ سننا چاہے ۔ اور آفتاب کی طرح روشن حقائق کو ٹھکرا دے ۔ تو پھر وہ اس سے توفیق ہدایت کو چھین…
Read the full tafseer →(17) اور جو لوگ راہ یافتہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت میں اور بڑھاتا ہے اور ان کو بچ کر چلنے کی اور ان کو ان کے تقویٰ کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ یعنی جو لوگ مسلمان ہیں ان کی ہدایت و رہنمائی میں ترقی ہوتی ہے یا کلام سن کر اور نئی باتیں معلوم کرکے ایمان اور تصدیق کے افراد باعتبار متعلقات کے زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے تقوے کی ان کو توفیق عطا فرمانا یہی کہ وہ نفسانی خواہشات سے بچتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کے کلام سے اثر پایا اور گناہوں سے بچنے لگے۔
خلاصہ : یہ کہ اوپر کی آیت میں منافقوں کے متعلق دو باتیں فرمائی ہیں ایک قلوب پر مہر کہ حق بات دل میں اترہی نہ سکے۔ دوسری بات نفسانی خواہشات…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی مسلمان ہوچکے ہیں۔
8۔ یعنی ایمان لانے کے بعد ان احکام پر عمل بھی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں ہدایت ان ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے
17 ؎ بات ایک ہی ہوتی ہے لیکن جہاں لوگ اس سے ہدایت یافتہ ہوتے ہیں وہاں بعض لوگوں کے لئے وہ گمراہی کا باعث بھی ہو سکتی ہیگزشتہ آیت میں ان بدبختوں کا ذکر تھا جن پر نصیحت بھی الٹا اثر ہی کرتی ہے اور زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ جو لوگ متقی ہوتے ہیں ان کی ہدایت میں اس بات سے اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کی قوت تقویٰ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے اور انہیں علم و بصیرت اور شرح صدر کی دولت سے مالا مال کردیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ اپنے عمل میں مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتے ہیں اور دوزخ کی ہوا سے بھی ان کو دور رکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
Commentary
The lexical item اشراط "ashrat" occurring in this passage means "signs". The portents of the last Hour starts with the very advent of Khatam-un-Nabiyyin ﷺ [ the Last of the Holy Prophets ] as the end of the Holy Prophethood is the sign of the approach of the last Hour. The miracle of the splitting of the moon by the Holy Prophet ﷺ has been described thus in the Holy Qur'an [ 54:1]: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ "The hour has drawn near and the moon has split." - indicating that this miracle is also one of the signs of the last Hour. These are initial portents of the Hour which appeared…
Read the full tafseer →27 That is, the same revelations about which the disbelievers and hypocrites ask, "What was he (the Holy Prophet) saying just now ?" become a cause of further guidance for the rightly-guided people, and from the same assembly from which these unfortunate people rise without gaining anything, the fortunate ones return with a new treasure of knowledge and insight.
28 That is, Allah grants them the grace to develop in themselves the kind of piety (taqwa) that they have the capability to develop.
Read the full tafseer →