Explained with ayahs 16–19
بےوقوف، کند ذہن اور جاہل
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 25
یہ ان کفار و منافقین اور منکرین اہل کتاب کا ذکر ہے جو نبی ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھتے تھے اور آپ کے ارشادات، یا قرآن مجید کی آیات سنتے تھے، مگر چونکہ ان کا دل ان مضامین سے دور تھا جو آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوتے تھے، اس لیے سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہ سنتے تھے اور باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی ابھی آپ ﷺ کیا فرما رہے تھے۔
سورة مُحَمَّد 26
یہ تھا وہ اصل سبب جس کی وجہ سے ان کے دل کے کان نبی ﷺ کے ارشادات کے لیے بہرے ہوگئے تھے۔ وہ اپنی خواہشات کے بندے تھے، اور حضور ﷺ جو تعلیمات پیش فرما رہے تھے وہ ان کی خواہشات کے خلاف تھیں، اس لیے اگر وہ کبھی آپ کی مجلس میں آ کر بتکلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
خلاصہ تفسیر
اور (اے نبی ﷺ بعض آدمی ایسے ہیں (مراد منافقین ہیں) کہ وہ (آپ کی تبلیغ وتعلیم کے وقت ظاہر میں تو) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں (لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے) یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس سے (اٹھ کر مجلس سے) باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم (صحابہ) سے کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی (جب ہم مجلس میں تھے) کیا بات فرمائی تھی (ان کا یہ کہنا بھی ایک قسم کا استہزاء ہی تھا کہ اس سے یہ جتلانا تھا کہ ہم آپ کی گفتگو کو قابل التفات نہیں سمجھتے، یہ بھی ایک شعبہ نفاق ہی کا تھا) یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے (ہدایت سے دور ہوگئے) اور اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں اور (انہی کی…
Read the full tafseer →2 آگے آیات 38-16 کا مضمون
آگے منافقین کے رویہ پر تبصرہ ہے اور یہی مضمون سورة کے آخر تک چلا گیا ہے۔ منافقین کا ذکر یہاں بھی بعینہ اسی تقریب سے آیا ہے جس تقریب سے سورة نساء، سورة مائدہ، سورة انفال اور سورة برأت وغیرہ میں زگر چکا ہے۔ جب مسلمانوں کو ایک عظیم مہم کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا گیا تو ضروری ہوا کہ ان کے اندر کے اس گروہ کو بےنقاب کردیا جائے جو مال آستین بن کر چھپا ہوا تھا اور آگے کے مراحل میں جس کی کمزوریاں اور ریشہ دوانیاں مسلمانوں کے لئے خطرہ بن سکتی تھیں۔ یہ مضمون تین حصوں میں تقسیم ہے۔
پہلے آنحضرت ﷺ کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو تمہاری…
Read the full tafseer →1 6 ۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اسلیے نبی ﷺ کی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے کہ آپ نے کیا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
8: یہ منافقین کا ذکر ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ وہ آپ کی باتیں سن رہے ہیں، لیکن باہر نکل کر دوسروں سے پوچھتے کہ آپ نے کیا بات فرمائی تھیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے مجلس میں بیٹھ کر توجہ سے آپ کی بات نہیں سنی۔ اور شاید آپس میں ایک دوسرے کو یہ جتانا بھی مقصود ہو کہ ہم آنحضرت ﷺ کی باتوں کو (معاذ اللہ) قابل توجہ نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 242 ایک نظر میں
یہ سبق منافقین کے بارے میں ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا تھا ؟ قرآن کے بارے میں کیا تھا ؟ پھر مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے ؟ یاد رہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے تھا ؟ پھر یہ کہ مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے مخالف اسلام یہودی قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات ان مقاصد کے لئے تھے۔ یہ کہ ان خفیہ سازشوں کی وجہ سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔
تحریک نفاق مدینہ کی پیدا وار ہے۔ مکہ میں اس کا وجود ہی نہ تھا کیونکہ مکہ میں ایسے حالات ہی نہ تھے جن میں کسی…
Read the full tafseer →10 اوپر مومنوں اور کافروں کا حال مذکور تھا۔ ایک قسم کافروں کی وہ ہے جسے منافق کہتے ہیں۔ یعنی ظاہر میں اسلام کا دعویٰ اور باطن میں اس سے انحراف۔ اس آیت میں اس کا ذکر ہے۔ یعنی یہ لوگ بظاہر پیغمبر کی بات سننے کے لیے کان رکھتے ہیں۔ مگر نہ دلی توجہ ہے نہ سمجھ، نہ یاد، جب مجلس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ اس شخص (یعنی پیغمبر ﷺ نے ابھی ابھی کیا بیان کیا تھا۔ شاید اس دریافت کرنے سے مقصود ادھر تعریض کرنا ہوگا کہ ان کی بات کو لائق اعتناء نہیں سمجھتے نہ توجہ سے سنتے ہیں۔
11 یعنی ایسی نالائق حرکتوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ ان کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ پھر نیکی کی توفیق قطعاً نہیں ہوتی۔…
Read the full tafseer →اب یہاں سے اس سورت کا اصل مضمون شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوسرا نام ”سورة القتال“ ہے۔ اس مضمون کے تحت آئندہ آیات میں ان لوگوں کی باطنی کیفیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی جن کے دلوں میں روگ تھا اور قتال کے ذکر سے ان پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی۔
آیت 16 { وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔“
{ حَتّی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا } ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے…
Read the full tafseer →19 یعنی منافقین آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی باتوں کو اس لیے کان لگا کر سنتے تھے کہ کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے جس سے نبی کی اس تعلیم کو مشکوک بنایا جاسکے۔ پھر وہ یہی باتیں جاکر بعض علمائے یہود یا بعض مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی اس نبی نے کیا بات کہی تھی اور اس سے ان کا مقصد یہ ہرگز نہ ہوتا تھا کہ وہ اس سے ہدایت حاصل کریں بلکہ یہ کہ دوسروں کو بھی شک و شبہ میں ڈال دیں۔ یا خود آپ کے ارشادات کا وہ مفہوم لیتے تھے جو آپ کا مقصود نہیں ہوتا تھا۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے کاموں پر کسی طرح کی پابندی قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ جب کسی کی یہ حالت ہوجائے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جبکہ…
Read the full tafseer →18۔ (ہدایت سے روزبروز دور ہوکر) (آیت) ” ومنھم .... الیک “۔ یعنی ان کے چہرہ، بشرہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی گفتگو کو غور و توجہ سے سن رہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ نہیں۔ بیان منافقین کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” حتی ...... انفا “۔ یعنی مجلس رسول اللہ ﷺ میں بیٹھنے کے بعد بھی ایسے کورے رہتے ہیں کہ جب باہر نکلتے ہیں تو اہل علم و ایمان سے پوچھتے ہیں کہ یہ ابھی کیا ارشاد ہوا تھا۔ محض صحبت وہم نشینی بڑے سے بڑے مرشد کے پاس بھی بےاثر رہتی ہے۔ جب تک بیٹھنے والے کے دل میں قصد استفادہ نہ ہو۔ (آیت) ” اولئک ..... قلوبھم ‘۔ یہ طبع قلب (دل پر مہر لگ جانے) کا عمل حق تعالیٰ کی جانب سے ابتداء نہیں ہوتا۔ محض بطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا عن عندک (الآیۃ) یہ منافقین کا ذکر ہے، منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر تو ہوتے تھے مگر باہر نکل کر علمائے صحابہ ؓ سے معلوم کرتے تھے کہ آنحضرت نے ابھی کیا فرمایا ؟ اور یہ پوچھنا بطور تمسخر ہوتا تھا، تاکہ معلوم ہو کہ ہم ان کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے، اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اس لئے نبی ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے تھے کہ ابھی آپ ﷺ نے کیا فرمایا ؟ یعنی وہی باتیں جن کو سن کر کفار و منافقین پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے ؟ ہدایت یافتہ…
Read the full tafseer →ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوا العلم ما ذا
قال انفا اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوا اھواء ھم اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو آپ کی (بات کی) طرف کان لگاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم سے کہتے ہی : رسول اللہ ﷺ نے ابھی کیا فرمایا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے چھاپ لگا دی ہے اور یہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔
وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَالخ یہ لوگ منافق تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو سنتے تو تھے ‘ لیکن لاپرواہی اور تغافل برتتے تھے ‘ اسی لئے نہ یاد رکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے ‘ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →بعض آدمی یعنی منافقین میں سے ایسے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن آپ کے خطبہ کی طرف کان تو لگاتے ہیں مگر وہ لوگ آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو اہل علم صحابہ کرام یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہتے ہیں کہ ابھی رسول اکرم نے منبر کیا فرمایا، جس سے مقصود ان کا آپ کے ساتھ تعریض کرنا ہوگا ہے۔
یہ منافقین ایسے لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ وہ حق اور ہدایت کی بات سمجھتے ہی نہیں اور خفیہ طور پر کفر و نفاق خیانت اور رسول اکرم کے ساتھ دشمنی کرنے پر قائم ہیں۔
شان نزول : وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ (الخ)
اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ مومنین اور منافقین سب رسول…
Read the full tafseer →(1) ومنھم من یستیع الیک : مشرکین اور ان کے انجام بد کے ذکر کے بعد اہل کتاب کفار اور کفار کی بدترین قسم منافقین کا ذکر فرمایا جو آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے، آپ کی باتیں کان لگا کر سنتے، مگر ماننے کے لئے نہیں، بلکہ اپنی مفید مطلب باتیں ڈھونڈنے کے لئے، جن کے ساتھ وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرتے۔ چونکہ ان کے دل و دماغ کا کفر حاوی تھا، قیامت پر ایمان وہ نہیں رکھتے تھے، اس لئے ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی باتیں اجنبی تھیں، ان کے دل میں وہ مفہوم بیٹھتا ہی نہیں تھا جو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا ہوتا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ کوئی شخص ان کے خیال میں موہم آخرت کیلئے اپنی دنیا کا نقصان بھی کرسکتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
یعنی وہ لوگ جو لطف اندوز ہوتے ہیں اور کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں ان کے اعمال ان کے لئے مزین کئے گئے ہیں وہ آپ کی بات کو سنتے ہیں وہ منافق ہیں عبداللہ بن ابی سلول، رفاعہ بن تابوت، زید بن صلیت، حارث بن عمرو اور مالک بن خشم، وہ جمعہ کے روز خطبہ میں حاضر ہوتے جب اس میں منافقوں کا ذکر سنتے تو اس میں سے اعراض کرتے جب وہ باہر نکلتے تو اس کے بارے میں سوال کرتے (1) یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ جو ارشاد فرماتے اسے سنتے مومن اسے یاد کرلیتے اور کافر اسے یاد نہ رکھتے۔
جب وہ تیری مجلس سے جدا ہتے عکرمہ نے کہا : اس کا مصداق…
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مؤمن اور منافق نبی کریم ﷺ کی طرف جمع ہوئے تھے جو کچھ آپ فرماتے تھے مؤمن اس میں سے کان لگا کر دھیان سے سنتے تھے اور اس کو یاد کرلیتے تھے اور منافق بھی ان (باتوں) کو سنتے تھے مگر یاد نہیں کرتے تھے جب وہاں سے باہر نکلے تو مومنوں سے سوال کرتے کہ آپ نے ابھی کیا فرمایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت ) ” ومنہم من یستمع الیک “ (اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں )
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے پھر جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے تو حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھتے آپ نے ابھی کیا فرمایا تو…
Read the full tafseer →وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُ [ کان دھرتی ہیں ] اِلَيْكَ ۚ [ آپ کی طرف ] حَتّىٰٓ اِذَا خَرَجُوْا [ یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں ] مِنْ عِنْدِكَ [ آپ کے پاس سے ] قَالُوْا [ تو کہتے ہیں ] لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ [ ان سے جن کو دیا گیا علم ] مَاذَا قَالَ [ انہوں نے کیا فرمایا ] اٰنِفًا ۣ[ ابھی ابھی ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] طَبَعَ اللّٰهُ [ چھاپ لگا دی اللہ نے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ جن کے دلوں پر ] وَاتَّبَعُوْٓا [اور ان لوگوں نے پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 16 میں نبی کریم ﷺ کو منافقین سے خبردار کیا گیا ہے فرمایا…
Read the full tafseer →منافقین کی بعض حرکتیں، ان کے قلوب پر مہر ہے، یہ لوگ اپنی خواہشوں کے پابند ہیں
یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں منافقین کی ایک خصلت بد کا تذکرہ فرمایا ہے منافقین ظاہر میں اپنا آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور اندر سے کافر تھے جس کسی کا ظاہر و باطن یکساں نہ ہو اس کے رنگ ڈھنگ خدوخال اور چال ڈھال سے اس کی دورنگی معلوم ہوجاتی ہے اسی سلسلے کی یہ ایک کڑی ہے کہ منافقین جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کی باتوں کی طرف بظاہر کان لگا کر ایسے بیٹھتے تھے جیسے بڑے دھیان سے سن رہے ہیں یہ طریقہ صرف دھوکہ دینے کے لیے تھا دلوں سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے تھے جب مجلس سے باہر آتے تو دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →13:۔ ” ومنہم۔ الایۃ “ زجر وبیان حال منافقین۔ منافقین بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور عدم توجہ اور بےاعتنائی سے آپ کی باتیں سنتے اور جب آپ کی مجلس سے اٹھ کر آتے تو اہل علم صحابہ ؓ سے بطور استہزاء و تمسخر سوال کرتے کہ ابھی ابھی آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ میں اچھی طرح سن نہیں سکا۔ علی جہۃ الاستہزاء ای انا لم التفت الی قولہ (قرطبی ج 16 ص 238) ۔ فرمایا اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے تعنت وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی ہے اور ان کو توفیق ہدایت سے محروم کردیا ہے، اس لیے وہ آپ کے کلام ہدایت التیام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور خواہشات نفسانیہ کے پیروکار بن چکے ہیں، اس لیے ہر بری بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے جنگ کا قانون بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور ان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ کیا ۔ بر خلاف اس کے جو لوگ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآنی پروگرام کی راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کو تنبیہ فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا پھر اہل ایمان کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ، اور کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب کی تعذیبات کو بیان فرمایا۔
منافقین کا گروہ
اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے گروہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بھی اسلام ، دین حق اور قرآن حکیم کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے…
Read the full tafseer →وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّسْتَمِــــعُ اِلَيْكَ 0 ۚ حَتّٰٓي اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا 0 ۣ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ 16
اسْتِمَاعُ :
الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : منہم خبر مقدم من یستمع مبتدء انفا بالمدوالقصرومعناہ الساعۃ وانتصابہ علی الظرفیۃ ای وقتاموتنفا اوحال من الضمیر فی قال قال الزجاج ھومن استانفت الشیء اذا ابتدائۃ وھوماخوذ من انف الشیء لماتقدم منہ۔ ان تاتیہم بغتۃ بدل اشتمال من الساعۃ۔
تفسیر : کمن ھوخالد فی النار میں گروہ اشقیا کا ذکر ہوا تھا اب یہاں ان کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے ان کا خلودفی النار ہونا ثابت ہوجاوے فقال و منہم من یستمع کہ ان اشقیا ہیں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اے محمد ﷺ تیری مجلس میں حاضر ہوتے ہیں وعظ سننے کو بیٹھتے ہیں مگر ان میں عزت و عظمت نہیں۔ اس طرف دھیان نہیں کرتے ‘ رعونت وتکبر سے پھر باہر نکل کر اہل مجلس کے…
Read the full tafseer →وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج حَتّٰیٓ اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا قف اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ ۔ (محمد : 16)
(اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی انھوں نے کیا کہا تھا، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے، اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ )
منافقین کا طرزعمل اور اس کا انجام
ابھی تک تو مسلمانوں کے مقابل اہل باطل کے اس گروہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے برے اعمال خوشنما بنا دئیے جاتے ہیں ان میں منافقین بھی شامل ہیں اس لیے منافقین کی عادت اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس سورت کی ابتدائی آیات کی تفسیر میں عرض ہوچکا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، اور منافقین کا مومنوں کے کردار اور انجام کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔ پہلے کفار اور مشرکین کا مومنوں کے ساتھ موزانہ پیش کیا گیا اور اب منافقین اور مومنوں کا موزانہ کیا جاتا ہے۔ منافقوں کی بری عادات میں ایک عادت یہ تھی کہ جب نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو بظاہر اس طرح آپ کی طرف توجہ کرتے کہ دیکھنے والے یوں محسوس کرتے جیسے یہ پورے…
Read the full tafseer →آیت 16 : وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ حَتّٰی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ (اور بعض آدمی ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب) عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا (وہ لوگ آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں۔ تو دوسرے اہل علم سے کہتے ہیں۔ کہ حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی) یہ منافقین تھے جو مجلس رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہو کر آپ کا کلام تو سنتے مگر اس کی طرف پوری توجہ نہ کرتے تھے۔ اور سستی کرتے ہوئے اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے۔ جب آپ کی مجلس سے نکل جاتے تو اہل علم صحابہ سے مل کر کہتے۔ کہ آپ نے اس وقت کیا فرمایا۔ اور یہ بات بطور استہزاء کہتے تھے۔ اُولٰٓپکَ…
Read the full tafseer →15 ۔” مثل الجنۃ التی وعدالمتقون “ یعنی اس کی صفت ” فیھا انھار من ماء غیر آسن “ تبدیل بدبودار۔ ابن کثیر (رح) نے ” آسن “ قصر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے مد کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” اسن الماء یا سن اسنا اور آسن یا سن ویاسنا واجن یا جن ویا جن، اسونا واجونا “ جب پانی متغیر ہوجائے۔
” وانھار من لبن لم یتغیر طعمہ وانھارمن خمر لذۃ “ لذیذ ہے۔ ” للشاربین “ پائوں اور ہاتھوں نے اس ک ومیلا نہیں کیا۔ ” وانھار من عسل مصفی “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سیحان، جیحان، نیل اور فرات جنت کی نہروں میں سے ہیں۔ کعب احبار (رح) فرماتے ہیں کہ نہردجلہ اہل جنت کے پانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں (من یستمع الیک) کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا : (حتی اذا خرجوا من عندک قالو اللذین اوتوا العلم) ” یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔ “ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انہوں نے سنا جس میں انہیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں : (ما ذا قال انفا) یعنی ابھی ابھی آپ ﷺ نے کیا کہا ؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 43] بدنیتی کا سننا مفید نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کچھ لوگ آپ کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں "۔ تاکہ دیکھنے والوں کو یہ تاثر دے سکیں اور ان کے سامنے یہ ظاہر کرسکیں کہ وہ بڑے غور اور اشتیاق سے سنتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کی نیتیں اور ارادے صحیح نہیں ہوتے۔ حق کو سمجھنا اور قبول کرنا ان کو مقصود ہی نہیں ہوتا اس لئے جس کفر و نفاق کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے اسی کو لئے ہوئے اور اسی طرح محروم کے محروم واپس لوٹتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { واذا جاء وکم قالوا وقد دخلوا بالکفر وھم قد خرجوابہ ط واللّٰہ اعلم بما کانوا یکتمون } الایۃ [ المائدہ : 61…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ان صحابہ کرام سے جو علم رکھتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور ابو الدرو وغیرہ
10 گویا آپ کے کلام کی تحقیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو آیا نہیں کہ یہ شخص کیا کہتا رہا کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ؟
11 اس لئے رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو سن کر بھی کوئی اثر قبول نہیں کرتے بلکہ کفر و شرک سے وابستہ رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(47:16) یستمع : مضارع واحد مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر۔ وہ سنتا ہے وہ کان لگاتا ہے۔ یہاں لفظی طور پر ضمیر واحد مذکر استعمال ہوئی ہے لیکن معنی یہ جمع کے لئے ہے۔ جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے مثلاً آگے چل کر ان کے لئے خرجوا اور قالوا استعمال ہوا ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔
اوتوا العلم : صلہ۔ اوتوا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو دیا گیا۔ العلم مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ترجمہ :۔ قالوا للذین اوتوا العلم : تو پوچھتے ہیں اہل علم سے (ان سے جن کو علم دیا گیا) ۔
ما ذا ۔ ما حرف استفہام ہے اور ذا فصل کے لئے تا کہ ما نافیہ ہے اور ما استفہامیہ میں امتیاز ہوجائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
لغات القرآن : آیت نمبر 16 تا 20 :
یستمع (کان لگاتا ہے۔ جاسوسی کرتا ہے) ‘ انف (ابھی ابھی) ‘ متقلب (الٹنا پلٹنا) ‘ محکمۃ (پختہ۔ اور پکی) ‘ المغشی ( بےہوش ہونے والا) ‘ اولی (ولی) خرابی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 20 :
جس کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی سچی تڑپ اور لگن نہ ہو وہ کسی نیک ‘ بھلی اور بہتر بات کو نہ سنجیدگی ‘ دل چسپی اور توجہ سے سنتا ہے نہ اس کی گہرائی پر غور و فکر کرتا ہے۔ کان اگر کسی بات کو سن رہے ہیں تو دل و دماغ کسی اور ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایسے لوگوں کی بےحسی ان کو حق و صداقت سے بہت دور لے جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کچھ سیکھ کر عمل کرنے کا جذبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
منافقوں کابیان۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ بعض منافقین ایسے ہیں کہ تمہاری مجلس وعظ میں یا خطبہ جمعہ میں آتے ہیں اور کفر کی مذمت سنتے ہیں مگر دل سے متوجہ نہیں ہوتے ، جب بعد ختم باہر نکل کرجاتے ہیں تو علم والے لوگوں سے بطور مسخراپن و استہزاء پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ کیا کہتے تھے ہم سمجھے نہیں کہ ابھی منبر پر بیٹھ کر کیا کہا تھا ہم کو کچھ خیال نہیں رہا منافقوں کو برا کہا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے بطور مسخراپن کہتے تھے، فرمایا کہ یہ منافق لوگ اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پرچلتے ہیں اس لیے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا،…
Read the full tafseer →[8] یہاں ذکر منافقین کا ہے جو نبی ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھتے تھے اور بظاہر آپ کے ارشادات سنتے تھے لیکن کیونکہ ان کا دل ان مضامین سے دور تھا جو آپ کی زبان سے ادا ہوتے تھے اس لئے سب کچھ سن کر وہ کچھ نہ سنتے تھے اور باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
اللہ کا قانون
1: رشدوہدایت اور ضلالت وگمراہی کے متعلق اس کا قانون یہ ہے ۔ کہ وہ کسی شخص کے اعمال میں مداخلت نہیں کرتا ۔ اور کسی شخص کو مجبور نہیں کرتا ۔ کہ وہ اپنے لئے ان دوراہوں میں سے کسی ایک راہ کو ضرور اختیار کرے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے ۔ کہ وہ حقیقت حال سے آگاہ کردے ۔ پیغمبروں کے بھیجے ۔ اور کتابوں کو نازل کرے ۔ تاکہ انسان عقل وبصیرت کی روشنی میں اپنا نصیب العین تجویز کرے ۔ اور پھر سمجھ سوچ کر کسی پک ڈنڈی پر ہولے ۔ جب یہ ہوتا ہے کہ کو ئش شخص عمداً خواہشات کی پیروی کے جنون میں حق وصداقت کی آواز کو نہ سننا چاہے ۔ اور آفتاب کی طرح روشن حقائق کو ٹھکرا دے ۔ تو پھر وہ اس سے توفیق ہدایت کو چھین…
Read the full tafseer →(16) اور ان منکروں میں بعض آدمی ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو یہ منافق ان لوگوں سے جو اہل علم ہیں اور جن کو صحیح علم دیا گیا ہے یوں دریافت کرتے ہیں کہ ا س شخص نے ابھی بھی کیا کہا تھا یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اور یہ لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔
یعنی حضور ﷺ کی صحبت میں یہ منافق اس طرح کان لگا کر آپ کی باتیں یا قرآن سنتے ہیں کہ یہ بڑے اعتقاد سے سن رہے ہیں لیکن دل سے بالکل متوجہ نہیں ہوتے چناچہ جب باہر نکلتے ہیں تو مخلص مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کہا تھا۔
کہتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →ف 5۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔
6۔ اس کی و جہ باقتضائے ان کی حالت خبیثہ کے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اس سے تعریض کرتے تھے کہ ہم آپ کی باتوں کو قابل توجہ نہیں جانتے اور بظاہر استعلام ظاہر کرتے تھے، اور یہ بھی ان کے نفاق کا ایک شعبہ ہے۔
Read the full tafseer →مکار لوگوں کی مکاریوں کا ذکر جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے
16 ؎ جس طرح ایک اچھے اخلاق کو کردار کے انسان پر بری بات بھارت اور شاق گزرتی ہے اسی طرح برے انسان پر اچھی بات بھی بہت ہی بھاری اور شاق گزرتی ہے اور وہ سنتے ہی دانت پیسنے لگتا ہے اور اس کے چہرے پر بل پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور جب اس کا بس نہیں چلتا تو انگڑایاں لیتا ہے اور اپنے جو گرد دیکھتا ہے اور اس طرح وہ گو اس طرف سے اپنا رخ پھیرتا ہے تاکہ جو کان پڑگیا ہے وہ تو پڑ ہی گیا ہے مزید کوئی بات اس کے کان میں نہ پڑے لیکن اس کے مقابلہ میں وہ آدمی جو بیان کرنے والے کو اپنا پیشوا اور راہنما سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کی باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
Commentary
The lexical item اشراط "ashrat" occurring in this passage means "signs". The portents of the last Hour starts with the very advent of Khatam-un-Nabiyyin ﷺ [ the Last of the Holy Prophets ] as the end of the Holy Prophethood is the sign of the approach of the last Hour. The miracle of the splitting of the moon by the Holy Prophet ﷺ has been described thus in the Holy Qur'an [ 54:1]: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ "The hour has drawn near and the moon has split." - indicating that this miracle is also one of the signs of the last Hour. These are initial portents of the Hour which appeared…
Read the full tafseer →25 This is concerning those disbelievers and hypocrites and unbelieving followers of the former Books, who sat in the assemblies of the Holy Prophet, listened to his discourses, or the verses of the Qur'an, but since in their hearts they were averse to the themes presented by him, they would understand nothing in spite of listening to him. Therefore, when they came out, they would ask the Muslims, "What was he saying just now?"
26 This was the real cause because of which their inner ears had become deaf tothe teachings of the Holy Prophet; they were the slaves of their lusts, and the…
Read the full tafseer →