Muhammad 47:15

Muhammad · from ayah 15

47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ؕ— فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ۚ— وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ ۚ— وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ۚ۬— وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ— وَلَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ؕ— كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ ۟مَثَلُ الۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ‌ؕ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ‌ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ ‌ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى‌ ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ كَمَنۡ هُوَ خَالِدٌ فِى النَّارِ وَسُقُوۡا مَآءً حَمِيۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Is the description of Paradise, which the righteous are promised, wherein are rivers of water unaltered, rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of purified honey, in which they will have from all [kinds of] fruits and forgiveness from their Lord, like [that of] those who abide eternally in the Fire and are given to drink scalding water that will sever their intestines?

— Saheeh International

Juz 26 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Muhammad

All translations of 47:15

پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعده کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے واﻻ نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزه نہیں بدﻻ اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے، کیا یہ مثل اس کے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے واﻻ ہے؟ اور جنہیں گرم کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا، اور ان جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ! کیا یہ لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا، چنانچہ وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس جنت کا حال جس کا وعدہ متقی لوگوں سے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں کئی نہریں ایسے پانی کی ہیں جو بگڑنے والا نہیں اور کئی نہریں دودھ کی ہیں، جس کا ذائقہ نہیں بدلا اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے اور کئی نہریں خوب صاف کیے ہوئے شہد کی ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اور ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش ہے۔ (کیا یہ متقی لوگ) ان جیسے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور جنھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو کبھی باسی نہ ہوگا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ کبھی نہ بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی اور کچھ نہریں صاف شدہ شہد کی ہوں گی۔ نیز ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہوگی۔ ایسا شخص کیا ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہوں اور انہیں پینے کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے جو ان کی آنتیں بھی کاٹ کر رکھ دے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس جنت کی مثال جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی پانی کی جس میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہوگا اور نہریں ہوں گی دودھ کی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہوگا اور نہریں ہوں گی شراب کی جو پینے والوں کے لئے یکسر لذت ہوں گی اور نہریں ہوں گی صاف شفاف شہد کی اور اس میں ان کے لئے ہر قسم کے پھل بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی ! کیا یہ لوگ جن کو یہ نعمتیں حاصل ہوں ان لوگوں کے مانند ہوں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جن کو اس میں گرم پانی پلایا جائے گا پس وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے کر کے رکھ دے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شان اس جنت کی جس کا وعدہ پرہیزگار لوگوں سے کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی ایسے پانی کی جو کبھی خراب نہ ہو اور نہریں ہوں گی ایسے دودھ کی جس کا مزہ کبھی تبدیل نہ ہو اور نہریں ہوں گی ایسی شراب کی جو سراسر لذت ہوگی پینے والوں کے لئے اور نہریں ہوں گی ایسے شہد کی جس کو صاف کردیا گیا ہوگا (ہر طرح کی آلائش سے) اور ان کے لئے وہاں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے عظیم الشان بخشش بھی کیا ایسے لوگ ان جیسے ہوسکتے ہیں جن کو ہمیشہ رہنا ہوگا (دوزخ کی دہکتی بھڑکتی) اس ہولناک آگ میں اور ان کو پلایا جائے گا ایسا کھولتا ہوا پانی جو کاٹ کاٹ کر رکھ دے گا ان کی انتڑیوں کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں متغیر نہ ہونے والے پانی کی ہوں گی اور نہریں ذائقہ نہ بدلنے والے دودھ کی ہوں گی اور نہریں پینے والوں کے لئے خوش ذائقہ شراب کی ہوں گی اور نہریں شہد صاف کی ہوں گی اور وہاں ان کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہوگی۔ (تو کیا ایسے لوگ) ان لوگوں جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کھولتا ہوا پانی نہیں پہنے کو دی جائے گا وہ ان کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔ اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔ اور نہریں ہیں صاف شفاف شہد کی۔ اور (مزید برآں) ان کے لیے ہوں گے اس میں ہر قسم کے پھل اور مغفرت ہوگی ان کے رب کی طرف سے } اُن جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں اور انہیں پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جنت، جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراسرلذت ہیں اور خالص شہد کی نہریں ہیں (جو خوب میٹھی ہیں) اور وہاں ان کے لیے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے۔ کیا یہ پرہیزگار ان کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Here is the parable of Paradise which the God-fearing have been promised: in it shall be rivers of incorruptible water, rivers of milk unchanging in taste, and rivers of wine, a delight to those that drink; and rivers of pure honey. In it they will have every kind of fruit as well as forgiveness from their Lord. Can such be like those who will abide in the Fire and will be given a boiling water to drink that will tear their bowels apart?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Here is) a description of the Paradise that is promised for the God-fearing! In it there are rivers of water, never spoiling, and rivers of milk the taste of which would not go bad, and rivers of wine, delicious to the drinkers, and rivers of honey, fully purified. And for them there are all sorts of fruits, and forgiveness from their Lord. Are they like those who will live in Fire forever, and will be given boiling water to drink, and it will tear their bowels into pieces?

— Muhammad Taqi Usmani

(Here is) a description of the Paradise that is promised for the God-fearing! In it there are rivers of water, never spoiling, and rivers of milk the taste of which would not go bad, and rivers of wine, delicious to the drinkers, and rivers of honey, fully purified. And for them there are all sorts of fruits, and forgiveness from their Lord. Are they like those who will live in Fire forever, and will be given boiling water to drink, and it will tear their bowels into pieces?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The description of Paradise which is promised to those who have Taqwa, (is that) in it are rivers of water that are not Asin, rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink it, and rivers of refined honey; and therein for them are all kinds of fruits, and forgiveness from their Lord. Can this be likened to those who abide eternally in the Fire and are given to drink boiling water that severs their intestines

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A similitude of the Garden which those who keep their duty (to Allah) are promised: Therein are rivers of water unpolluted, and rivers of milk whereof the flavour changeth not, and rivers of wine delicious to the drinkers, and rivers of clear-run honey; therein for them is every kind of fruit, with pardon from their Lord. (Are those who enjoy all this) like those who are immortal in the Fire and are given boiling water to drink so that it teareth their bowels?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Is the description of Paradise, which the righteous are promised, wherein are rivers of water unaltered, rivers of milk the taste of which never changes, rivers of wine delicious to those who drink, and rivers of purified honey, in which they will have from all [kinds of] fruits and forgiveness from their Lord, like [that of] those who abide eternally in the Fire and are given to drink scalding water that will sever their intestines?

— Saheeh International

The garden, which is promised to the pious, is like one in which there are streams of unpolluted water, streams of milk of unchangeable taste, streams of delicious wine, and streams of crystal clear honey. Therein they will have all kinds of fruits and forgiveness from their Lord. On the other hand (can these people be considered like), those who will live forever in hell fire and will drink boiling water which will rip their intestines to bits?

— Muhammad Sarwar

A parable of the garden which those guarding (against evil) are promised: Therein are rivers of water that does not alter, and rivers of milk the taste whereof does not change, and rivers of drink delicious to those who drink, and rivers of honey clarified and for them therein are all fruits and protection from their Lord. (Are these) like those who abide in the fire and who are made to drink boiling water so it rends their bowels asunder.

— Muhammad Habib Shakir

A likeness of the Garden which hath been promised to the God-fearing: therein are rivers of water incorruptible, and rivers of milk whereof the flavour changeth not, and rivers of wine: a joy Unto the drinkers; and rivers of honey clarified. theirs therein shall be every kind of fruit, and forgiveness from their Lord. ShAll Persons enjoying such bliss be like Unto those who are abiders in the Fire and are given to drink boiling water so that it mangleth their entrails?

— Abdul Majid Daryabadi

(Here is) a Parable of the Garden which the righteous are promised: in it are rivers of water incorruptible; rivers of milk of which the taste never changes; rivers of wine, a joy to those who drink; and rivers of honey pure and clear. In it there are for them all kinds of fruits; and Grace from their Lord. (Can those in such Bliss) be compared to such as shall dwell for ever in the Fire, and be given, to drink, boiling water, so that it cuts up their bowels (to pieces)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 47:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–15

دودھ پانی اور شہد کے سمندر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہوچکی ہو فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بد اعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19 ۙ) 13۔ الرعد :19) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہوجائے اور ارشاد ہے آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مُحَمَّد 20 اصل الفاظ ہیں ماءٍ غیر اٰسنٍ۔ آسِن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا مزا اور رنگ بدلا ہوا ہو، یا جس میں کسی طرح کی بو پیدا ہوگئی ہو۔ دنیا میں دریاؤں اور نہروں کے پانی عموما گدلے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ریت، مٹی اور بسا اوقات طرح طرح کی نباتات کے مل جانے سے ان کا رنگ اور مزا بدل جاتا ہے۔ اور کچھ نہ کچھ بو بھی ان میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے جنت کے دریاؤں اور نہروں کے پانی کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا۔ یعنی وہ خلاص، صاف ستھرا پانی ہوگا کسی قسم کی آمیزش اس میں ہوگی۔ سورة مُحَمَّد 21 حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ " وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ نہ ہوگا "۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–15

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن، وانھرمن لبن لم یتغیر طمعہ وانھر من عسل مصفی ط ولھم فیھا من کل المثرات ومغفرۃ من ربھم ط کمن ھو خالد فی النار وسقوا مآء حمیماً فقطع امعآء ھم 15 جنت کی تمثیل یعنی جب دونوں گروہوں کا انجام یکساں ہونا عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے تو لازم ہے کہ جس نے پاکیزہ فطرت اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاری اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے نوازے اور جس نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی وہ اپنی ضلالت پسندی کی قرار واقعی سزا بھگتے۔ چناچہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اللہ نے اپنے متقی بندوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی تمثیل یہ ہے کہ اس میں بےآمیز خالص…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 آسن کے معنی متغیر یعنی بدل جانے والا غیر آسن نہ بدلنے والا یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہوجاتا ہے جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب پیو تازہ مفرح اور صحت افزا۔ جب دنیا کا پانی خراب ہوسکتا ہے تو شریعت نے اسی لیے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہوجائے گا۔ 15۔ 2 جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعص دفعہ خراب ہوجاتا ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

7: مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے نکلنے پر جو مجبور کیا تھا، اس کی طرف اشارہ ہے، اور فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر غالب آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقت اور قوموں کو ہلاک کرچکا ہے، ان کی تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے آخر کار غلبہ آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ان کے حالات ، طرز زندگی اور سمت سفر سب جدا ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک پیمانے کے مطابق ناپے اور تولے جاسکیں۔ اور دونوں کا ایک ہی انجام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق و امتیاز ہے۔ دونوں کا انجام بھی مختلف ہے۔ مثل الجنۃ التی ۔۔۔۔۔ حمیماً فقطع امعاء ھم (47 : 15) “ پرہیز گار لوگوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ، نتھرے ہوئے پانی کی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی طول مکث یا کسی چیز کے اختلاط سے اس کی بو نہیں بدلی۔ شہد سے زیادہ شیریں اور دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ کسی طرح کے تغیر کو اس کی طرف راہ نہیں۔ 4 یعنی دنیا کے دودھ پر قیاس نہ کرو۔ اتنی مدت گزرنے پر بھی اس کے مزے میں فرق نہیں آیا۔ 5 یعنی وہاں کی شراب میں خالص لذت اور مزہ ہی ہے۔ نہ نشہ ہے نہ شکستگی نہ تلخی نہ سرگرانی نہ کوئی اور عیب و نقصان۔ 6 یعنی صاف و شفاف شہد جس میں تکدر تو کہاں ہوتا جھاگ تک نہیں۔ (تنبیہ) یہاں چار قسم کی نہروں کا ذکر ہوا جن میں پانی تو ایسی چیز ہے کہ انسان کی زندگی اس سے ہے اور دودھ غذائے لطیف کا کام دیتا ہے اور شراب سرور ونشاط کی چیز ہے۔ اور شہد کو " شفاء للناس " فرمایا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 { مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ } ”مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔“ { فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ } ”اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّـبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ } ”اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ } ”اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔“ { وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی } ”اور نہریں ہیں صاف شفاف ّشہد کی۔“ { وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ } ”اور مزید برآں ان کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 جنت کے چار مشروبات کی صفات :۔ اس آیت میں جنت کے حالات بیان کرتے ہوئے پہلے چار مشروبات اور ان کی صفات کا ذکر فرمایا۔ پہلے نمبر پر پانی کی صفت یہ بیان فرمائی کہ غَیْرَ آسِنْ ہوگا۔ یعنی نہ وہ متعفن ہوگا نہ اس کا رنگ بدلا ہوگا اور نہ ذائقہ۔ دنیا میں پانی کے کھڑے ذخیروں کا عموماً رنگ ذائقہ اور بو تینوں چیزیں بدل جاتی ہیں اور بارش کے پانی میں گردوغبار مل جاتا ہے۔ اور دریاؤں کا پانی مٹی کی آمیزش سے گدلا ہوجاتا ہے۔ جنت میں پانی کے چشموں سے جو پانی جاری ہوگا وہ نہایت صاف ستھرا، نتھرا ہوا، بےرنگ، بےبو ہوگا۔ اس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوگا بدلا ہوا نہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر دودھ کا ذکر فرمایا۔ دنیا میں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ خلاصہ یہ کہ اہل جنت ہر قسم کی مادی وروحانی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ دنیا کی ہر مادی نعمت فناء پذیر ہوتی ہے۔ پانی سڑ جاتا ہے، دودھ بگڑ جاتا ہے، شراب میں تلخی ہوتی ہے شہد میں گدلا پن شامل رہتا ہے۔ آیت میں ان سب چیزوں کی نفی کرکے بتلا دیا ہے کہ جنت کی کسی مادی نعمت میں کوئی خرابی نہ پیدا ہونے پائے گی، جنت کا ماحول، ناسوت کے ماحول سے بالکل مختلف ہوگا، اس لئے وہاں کی ” مادیت “ کا بھی یہاں کی مادیات سے بالکل مختلف ہونا قرین قیاس ہے۔ وہاں کی مادیات کا بھی یہاں بس صرف لفظ ہی مادیت ہوں گے۔ (آیت) ” مآء غیر اسن “۔ یعنی پانی ہوگا مگر دنیوی پانی کے برخلاف وہ کبھی سڑے گا نہیں .... زندگی قائم رکھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

من ماء غیر آسن، آسن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا رنگ و مزہ بدل گیا ہو نیز بدبو دار بھی ہوگیا ہو، دنیا میں دریائوں اور نہروں کے پانی عام طور پر گندے ہوتے ہیں ان میں ریت مٹی طرح طرح کی نباتات ملنے کی وجہ سے ان کا رنگ اور مزہ بدل جاتا ہے، اس لئے جنت کی نہروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا، اسی طرح دنیا کا دودھ چونکہ گائے بھینس بکری وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی خراب بھی ہوجاتا ہے جنت کا دودھ چونکہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہیں ہوگا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لئے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا اسی طرح خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا، غرض یہ کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من ماء غیر اسن وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ وانھر من خمیر لذۃ للشربین وانھر من عسل مصفے ً جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ اسکی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں کبھی بگاڑ نہ ہوگا اور بہت سی نہریں ایسے دودھ کی ہیں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا ہوا نہ ہوگا ‘ اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کیلئے سراسر لذت ہی ہوں گی اور بہت سی نہریں نہایت صاف شہد کی ہیں۔ مَثَلُ الْجَنَّۃِ یعنی جنت کی عجب کیفیت۔ یہ جملہ متبداء ہے اور خبر محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح ہے : جنت موعود کی عجیب کیفیت تمہارے سامنے بیان کی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جس جنت کا کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہوں گی جس کے مزے اور خوشبو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ نہ ہوگا کہ کچھ تلخی آجائے اور اس پر جھاگ آجائے جیسا کہ اونٹوں کے دودھ میں ہوتا ہے۔ اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی کہ اس شراب کو کسی چیز سے نچوڑا نہیں گیا ہے اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف شفاف ہے کہ شہد کی مکھیوں کا وہ شہد نہیں ہوگا اور جنتیوں کے لیے جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور دنیا میں ان کے رب کی طرف سے ان کے گناہوں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) مثل الجنۃ التی وعد المثقون…:”مثل“ کا معنی یہاں حال یا صفت ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو جنتوں میں داخل کرنے کا ذکر فرمایا، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور کفار کا ٹھکانہ آگ بیان فرمایا۔ اب اس جنت اور جہنم کا کچھ مزید حال بیان فرمایا، خصوصاً جنت کی نہروں کا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر جنت کے ساتھ اس کی نہروں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں جنت کی چار قسم کی نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ جنت کی تمام نہروں کا سرچشمہ عرش کے نیچے جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فاذا سالتم اللہ فسلوہ الفردوس، فانہ اوسط الجنۃ واعلی الجنۃ، وفوقہ عرش الرحمٰن، ومنہ تفجر انھار الجنۃ)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان جنتوں کی صفت بیان کی یعنی اس جنت کی صفت جو متقین کے لئے تیار کی گئی۔ سورة رعد میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مثال الجنتہ قرأت کی ہے۔ ایسا پانی جس کی بو تبدیل نہیں ہوتی۔ پانی میں آسن، آجن کی مثل ہے جب اس کی بو تبدیل ہوجائے اسی طرح اجونا ہے دونوں میں کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے یہ یزیدی نے کہا : جب کسرہ کے ساتھ ہو جب وہ آدمی کنویں میں داخل ہو تو اسے کنویں کی بدبور دار ہوا پہنچے اور یا اس کے علاوہ تو اس پر غشی طاری ہوجائے یا اس کا سر چکرا جائے اس میں لاوسن بھی مروی ہے جب پانی متغیر ہوجائے ابو زید نے کہا وہ بیمار ہوجائے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جنت کی نہروں کا تذکرہ : 1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھرمن مآء غیر اسن “ (پانی کی نہریں جس میں کبھی بگاڑنہ ہوگا) یعنی ایسا پانی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوگا۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من مآء غیر اسن “ جو بدبودار نہ ہوگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھرمن لبن لم یتغیر طعمہ “ (اور دودھ کی نہریں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا نہ ہوگا) کے بارے میں ابن عباس ؓ نے فرمایا (ایسا دودھ ہے جو دوھا نہیں گیا) 4:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ [ اس جنت کی مثال جس کا ] وُعِدَ [وعدہ کیا گیا ] الْمُتَّقُوْنَ ۭ [ متقی لوگوں سے ] فِيْهَآ اَنْهٰرٌ [اس میں کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ مَّاۗءٍ [ ایسے پانی سے جو ] غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ [ بدبودار ہونے والا نہیں ہے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ لَّبَنٍ [ ایسے دودھ سے ] لَّمْ يَتَغَيَّرْ [بدلا ہی نہیں ] طَعْمُهٗ ۚ [ جس کا ذائقہ ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ خَمْرٍ [ ایسی شراب سے جو ] لَّذَّةٍ [ لذت ہے ] لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ [ پینے والوں کے لئے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ عَسَلٍ [ ایسی شہد سے جو ] مُّصَفًّى ۭ [آمیزش سے پاک کی ہوئی ہے ] وَلَهُمْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل جنت کے مشروبات طیبہ اور اہل نار کا مشروب ماء حمیم اس آیت میں بھی مومنین کے انعامات اور کافروں کی سزا بیان فرمائی ہے اول تو جنت کا حال بیان فرمایا ہے جس کا متقیوں سے وعدہ ہے جنت میں بہت سی نعمتیں ہیں ان میں نہریں بھی ہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو متغیر نہ ہوگا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ بدلہ ہوا نہ ہوگا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی اور بالکل صاف شہد کی نہریں ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار فرمایا ہر دو درجوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–19

جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” مثل الجنۃ “ بشارت اخرویہ اور نعیم جنت کی صفت کا بیان ہے۔ متقی اور پرہیز گار لوگوں کیلئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت اور اس کی نعمتوں کا حال یہ ہے کہ اس میں بہنے والی پانی کی نہروں کا پانی ہمیشہ خوش رنگ اور خوش ذائقہ رہے گا اور اس کے رنگ و بو میں کبھی تبدیلی نہیں آئیگی۔ اسی طرح ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گے جس کا مزہ کبھی نہیں بگڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا دودھ تھوڑی دیر میں متغیر ہوجاتا ہے۔ جنت میں شراب کی بھی نہریں جاری ہوں گی لیکن دنیوی شرابوں کے برعکس جنت کی شراب نہایت لذیذ اور پر لطف ہوگی، بدبو، بد مزگی اور نشہ سے پاک ہوگی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی جو ہر قسم کے فضلات اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–15

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔ منومنوں کے لیے جنت اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ۝ 0 ۭ فِيْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ۝ 0 ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُہٗ۝ 0 ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ۝ 0ۥۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى۝ 0 ۭ وَلَہُمْ فِيْہَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ۝ 0 ۭ كَمَنْ ہُوَخَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِـيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَہُمْ۝ 15 مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : قال سیبوبہ المثل بمعنی الوصف و الصفۃ علی ھذا مثل الجنۃ الخ مبتداء فیھا النہار الجملۃ خبرہ وقیل المثل علی معناہ فیحنذ تقدیر الکلام مثل الجنۃ (مبتداء) والخبرمحذوف وھوجنۃ تجری فیہا انھار وھذا ھو الممثل بہ کمایقال مثل زید رجل طویل اسمرفیذ کر عین صفات زیدفی رجل منکر لایکون ھوفی الحقیقۃ الازیداھذا قول الزجاج کمن ھوالکاف فی موضع رفع ای ام من فی ھذا النعیم کمن ھوخالد فی النار۔ تفسیر : جیسا کہ مومن و کافر کا فرق بیان فرمایا تھا اس طرح اب ان کے مقامات کا تقاوت بیان فرماتا ہے فقال مثل الجنۃ الخ وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی وہ پرہیز گاری پر ملتی ہے کسی کے حسب و نسب ‘ مال و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط فِیْھَآ اَنْھٰـرٌمِّنْ مَّـآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ج وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍلَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ 5 ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ط وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ ط کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَـآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَـآئَ ھُمْ ۔ (محمد : 15) (اس جنت کی مثال جس کا وعدہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، اور نہریں ہوں گی دودھ کی، جس کے مزے میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہوگا، اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ دنیا میں ہلاک کیے گئے ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ وہ ہدایت پر چلنے کی بجائے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے تھے جس وجہ سے ان کا دنیا میں برا انجام ہوا اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ اس سورت میں مومنوں اور کفار کے درمیان موازنہ کیا جارہا ہے۔ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلیل پر عمل پیرا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا وہ ہے جو اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کرتا ہے اور اس کے لیے شیطان نے اس کے برے اعمال کو فیشن بنا دیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور دلیل پر عمل پیرا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے رب نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت کا حال : آیت 15 : مَثَلُ الْجَنَّۃِ (جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے) الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ (اس کی کیفیت یعنی عجیب شان یہ ہے کہ) متقی سے مراد شرک سے بچنے والا ہے۔ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ (اس جنت میں نہریں تو ایسے پانی کی ہیں) : نمبر 1۔ یہ صلہ کے حکم میں داخل ہے اور اس کے لئے تکریر کی مانند ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم کہتے ہو التی فیہا انہار۔ یہ کہنا صحیح ہے۔ اسی طرح بلا صلہ اس کے معا عد لانا یہی حکم رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ حال ہے مستقرۃ فیہا انہار۔ اس حال میں کہ نہریں اس میں قرار پکڑنے والی ہیں۔ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ (ایسے پانی کی جن میں ذرا تغیر نہ ہوگا) نہ رنگ بدلے نہ بونہ ذائقہ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ اس کے دین سے یقین پر یعنی محمد ﷺ اور مومنین۔ ” کمن زین لہ سوء عملہ واتبعوا اھواء ھم “ یعنی بتوں کی عبادت کی اور وہ ابوجہل اور مشرکین ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–19

14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لئے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی، اس کی مثال یعنی اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل یہ ہے (فیھا انھر من ماء غیر اسین) اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہوگا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہوگا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہوگا۔ (وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ) ” اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا “ یعنی خراب اور کھٹا ہوجانے کے باعث اس کا ذائعہ متغیر نہ ہوا ہوگا۔ (وانھر من خمر لذۃ للشربین) ” اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–32

کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ ) ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 36] آب جنت کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہریں ہونگی ایسے عظیم الشان اور بےمثال پانی کو جو کبھی خراب نہیں ہوگا "۔ جیسا کہ دنیا کے پانی کا حال ہے کہ زیادہ عرصہ بند رہنے کی وجہ سے اس میں تبدیلی آجاتی ہے۔ رنگ و مزہ بدل جاتا ہے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور بدبو آنے لگتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ جنت کی نہروں کا پانی ایسا عمدہ اور بےمثال ہوگا کہ کبھی خراب نہ ہوگا۔ اور اس میں اس طرح کا کوئی فساد رونما نہیں ہوگا۔ دنیا میں ایسے پانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں ان سب کا منبع اور اصل سرچشمہ جنت ہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–19

دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 12–19

آیات 12 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی کھڑے رہنے یا کسی چیز کی ملاوٹ سے اس میں تغیر نہیں آیا انتہائی صاف شفاف اور شراییں ہے۔ 6 یعنی بالکل تازہ دودھ ہے اس کے مزے میں کوئی تغیر نہیں آیا۔ 7 یعنی دنیا کی شراب کی طرح نہیں ہے جو بدبو دار اور بدمزہ ہوتی ہے اور اس سے سکر آجاتا ہے۔ 8 یعنی موم اور ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کیا ہوا شہد ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے فرمایا الم یجرج من بطون النحل وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا۔ حضرت معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں دودھ پانی شہد اور شربا کے ایسے دریا میں جن سے ابھی تک نہیں نکالی گئیں۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(47:15) مثل الجنۃ التی وعد المتقون۔ مبتداء فیھا انھر ۔۔ ومغفرۃ من ربہم : خبر۔ کمن ھو خالد فی النار۔ خبر جس کا مبتداء محذوف ہے ای امن ھو فی ھذا النعیم المقیم الدائم کمن ھو خالد فی النار۔ مثل الجنۃ مضاف مضاف الیہ۔ اس جنت کی مثال۔ اگر مثل مرفوع مذکور ہے اور اس کے بعد کمثل نہیں آیا۔ تو صرف آیت (2: 214) میں مشبہ یعنی تشبیہی قصہ مراد ہے۔ باقی آیات میں مثل کا معنی ہے صفت ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر مثل کا اطلاق اس حال یا صفت یا قصہ پر ہونے لگا جس میں کوئی عجیب ندرت اور پرشکوہ عظمت ہو مثلاً للہ المثل الاعلی (66:10) اللہ کی عجیب شان عالی ہے۔ یا مثل الجنۃ التی ۔۔ (آیت زیر مطالعہ ) جنت کی عجیب نادر حالت اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–15

تشریح آیات نمبر 12 تا 15 قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نہایت شرح صدر، اور فہم وبصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلاجارہا ہے اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے جس کو سیاہ سفید یا نیک وبد کی کچھ تمیز نہیں حتی کہ اپنی بےتمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہورہا ہے کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوسکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اس کو فرمایا گیا ہے کہ جس کے پاس خدا کی ظاہری قوی سچی دلیلیں ہوں اور مقدس مذہب ہو یعنی محمد ﷺ اور مسلمان اس جیسے ہوسکتے ہیں جو کافر ہوں بدکاریاں کرتا ہو اور ان کا چھا سمجھتا ہو اور انہوں نے اپنے نفس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] مغفرت کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: یہ ان لوگوں کے درجہ کی تشریح ہے ۔ جن کا مطمح نظر صرف جذبہ حیوانیت کی تسکین وتکمیل نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ روح کی پاکیزگی کے لئے بھی کچھ کرتے ہیں ۔ ان کے لئے جو مقام تجویز کیا گیا ہے ۔ اس میں ہر نعمت وفور کے ساتھ موجود ہے وہاں صاف ، شیریں ، اور ٹھنڈے پانی کی نہریں ۔ خوش ذائقہ دودھ کے دریا ، اور نہایت لذیذ شراب اور رسل مصطفیٰ کی نہریں ہوں گی ۔ اور ہر قسم کے پھل اور میوے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مولا کی رضا دل کو میسر ہوگی ۔ واضح رہے ۔ کہ خدا گائے اور بھینس کے تھنوں میں دودھ پیدا کرسکتا ہے ۔ وہ بہشت میں نہروں میں بھی اس کو بہاسکتا ہے ۔ اور جس کی قدرت میں یہ ہے ۔ کہ وہ مکھیوں کو شہد جمع کرنے کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) جس جنت کا اہل تقویٰ اور متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت اور اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس پانی کے رنگ وبو اور مزہ میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس دودھ کے ذائقہ میں تغیر نہ ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت لذیذ اور مزے دار ہوگی اور ایسے شہد کی نہریں ہوں گی جو بالکل صاف اور خالص ہوگا اور ان اہل جنت کے لئے اس جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی جانب سے ان کے لئے بڑی مغفرت اور بخشش ہوگی کیا یہ اہل جنت کہیں ان کے برابر اور ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے اور وہ سخت کھولتا ہوا پانی پلائے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ نہ بو میں، نہ رنگ میں، نہ مزے میں۔ 4۔ غرض یہ کہ جب ان کے اعمال میں تفاوت ہے تو ان کے مآل میں یہ تفاوت ہوگا، جس کا بیان اب کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل جنت کے لئے جو انعامات تیار ہیں اور اہل دوزخ کیلئے جو عذاب تیار ہیں ان کا ذکر 15 ؎ جنت کے انعامات ہوں یا دوزے کا عذاب اس کا بیان جو قرآن کریم میں کہا گیا ہے اس کے متعلق مکمل بحث ہم عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیات 27 تا 74 کے تحت بیان کر آئے ہیں اگر وضاحت درکار ہو تو اس طرف مراجعت کریں اور اس مضمون کو یاد رکھیں کیونکہ آگے اس کا ذکر بار بار آئے گا لیکن اس کی وضاحت با بار بیان نہیں کی جائے گی۔ زیر نظر آیت میں { معل الجنۃ } کہہ کر یہ بات واضح کردی ہے کہ انعامات کے متعلق یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ سب تمثیلی بیان ہے کیونکہ اس کے حقیقی بیان کو سمجھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–15

Commentary Essential Characteristics of Paradise Verse sixteen mentions four kinds of favours and blessings in the next world, that is, rivers of pure water, rivers of milk of which the taste does not change, rivers of wine which gives delight and rivers of purified honey which will be given to the righteous in plenty. Worldly waters become polluted by getting mixed with earth, vegetation and other adulterating substances which make them stink. But in Paradise, there will be rivers having un-pollutable water. The river of pure, clean water that will not go bad in taste, smell or colour, (and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 Literally, asia is the taste and colour of water which has changed, or which gives a bad smell. In the world the water of rivers and canals is generally muddy; its taste and colour change due to the mixture of sand and dust and of different kinds of vegetation in it, and it also gives off a kind of bad smell. Therefore, the quality of the water of the rivers and canals of Paradise will be that it will be pure and clear, without any adulteration. 21 In a Hadith directly reported from the Holy Prophet, it has been explained thus: "It will not be the milk squeezed from the teats of animals."…

Read the full tafseer →