Explained with ayahs 14–15
دودھ پانی اور شہد کے سمندر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہوچکی ہو فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بد اعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19 ۙ) 13۔ الرعد :19) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہوجائے اور ارشاد ہے آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 20
اصل الفاظ ہیں ماءٍ غیر اٰسنٍ۔ آسِن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا مزا اور رنگ بدلا ہوا ہو، یا جس میں کسی طرح کی بو پیدا ہوگئی ہو۔ دنیا میں دریاؤں اور نہروں کے پانی عموما گدلے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ریت، مٹی اور بسا اوقات طرح طرح کی نباتات کے مل جانے سے ان کا رنگ اور مزا بدل جاتا ہے۔ اور کچھ نہ کچھ بو بھی ان میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے جنت کے دریاؤں اور نہروں کے پانی کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا۔ یعنی وہ خلاص، صاف ستھرا پانی ہوگا کسی قسم کی آمیزش اس میں ہوگی۔
سورة مُحَمَّد 21
حدیث مرفوع میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ " وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ نہ ہوگا "۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن، وانھرمن لبن لم یتغیر طمعہ وانھر من عسل مصفی ط ولھم فیھا من کل المثرات ومغفرۃ من ربھم ط کمن ھو خالد فی النار وسقوا مآء حمیماً فقطع امعآء ھم 15
جنت کی تمثیل
یعنی جب دونوں گروہوں کا انجام یکساں ہونا عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے تو لازم ہے کہ جس نے پاکیزہ فطرت اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاری اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے نوازے اور جس نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی وہ اپنی ضلالت پسندی کی قرار واقعی سزا بھگتے۔ چناچہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اللہ نے اپنے متقی بندوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی تمثیل یہ ہے کہ اس میں بےآمیز خالص…
Read the full tafseer →15۔ 1 آسن کے معنی متغیر یعنی بدل جانے والا غیر آسن نہ بدلنے والا یعنی دنیا میں تو پانی کسی ایک جگہ کچھ دیر پڑا رہے تو اس کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور اس کی بو اور ذائقے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے وہ مضر صحت ہوجاتا ہے جنت کے پانی کی یہ خوبی ہوگی کہ اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا یعنی اس کی بو اور ذائقے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب پیو تازہ مفرح اور صحت افزا۔ جب دنیا کا پانی خراب ہوسکتا ہے تو شریعت نے اسی لیے پانی کی بابت کہا ہے کہ یہ پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس کا رنگ یا بو نہ بدلے کیونکہ رنگ یا بو متغیر ہونے کی صورت میں پانی ناپاک ہوجائے گا۔
15۔ 2 جس طرح دنیا میں وہ دودھ بعص دفعہ خراب ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7: مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے نکلنے پر جو مجبور کیا تھا، اس کی طرف اشارہ ہے، اور فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر غالب آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقت اور قوموں کو ہلاک کرچکا ہے، ان کی تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے آخر کار غلبہ آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ان کے حالات ، طرز زندگی اور سمت سفر سب جدا ہیں۔ اس لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک پیمانے کے مطابق ناپے اور تولے جاسکیں۔ اور دونوں کا ایک ہی انجام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق و امتیاز ہے۔ دونوں کا انجام بھی مختلف ہے۔
مثل الجنۃ التی ۔۔۔۔۔ حمیماً فقطع امعاء ھم (47 : 15) “ پرہیز گار لوگوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ، نتھرے ہوئے پانی کی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہوگی ، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد…
Read the full tafseer →3 یعنی طول مکث یا کسی چیز کے اختلاط سے اس کی بو نہیں بدلی۔ شہد سے زیادہ شیریں اور دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ کسی طرح کے تغیر کو اس کی طرف راہ نہیں۔
4 یعنی دنیا کے دودھ پر قیاس نہ کرو۔ اتنی مدت گزرنے پر بھی اس کے مزے میں فرق نہیں آیا۔
5 یعنی وہاں کی شراب میں خالص لذت اور مزہ ہی ہے۔ نہ نشہ ہے نہ شکستگی نہ تلخی نہ سرگرانی نہ کوئی اور عیب و نقصان۔
6 یعنی صاف و شفاف شہد جس میں تکدر تو کہاں ہوتا جھاگ تک نہیں۔ (تنبیہ) یہاں چار قسم کی نہروں کا ذکر ہوا جن میں پانی تو ایسی چیز ہے کہ انسان کی زندگی اس سے ہے اور دودھ غذائے لطیف کا کام دیتا ہے اور شراب سرور ونشاط کی چیز ہے۔ اور شہد کو " شفاء للناس " فرمایا…
Read the full tafseer →آیت 15 { مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ } ”مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقین سے۔“
{ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ } ”اس میں نہریں ہیں پانی کی جس میں کوئی ُ بو نہیں۔“
{ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّـبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ } ”اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا۔“
{ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ } ”اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو سراپالذت ہے پینے والوں کے لیے۔“
{ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی } ”اور نہریں ہیں صاف شفاف ّشہد کی۔“
{ وَلَہُمْ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ } ”اور مزید برآں ان کے…
Read the full tafseer →16 جنت کے چار مشروبات کی صفات :۔ اس آیت میں جنت کے حالات بیان کرتے ہوئے پہلے چار مشروبات اور ان کی صفات کا ذکر فرمایا۔ پہلے نمبر پر پانی کی صفت یہ بیان فرمائی کہ غَیْرَ آسِنْ ہوگا۔ یعنی نہ وہ متعفن ہوگا نہ اس کا رنگ بدلا ہوگا اور نہ ذائقہ۔ دنیا میں پانی کے کھڑے ذخیروں کا عموماً رنگ ذائقہ اور بو تینوں چیزیں بدل جاتی ہیں اور بارش کے پانی میں گردوغبار مل جاتا ہے۔ اور دریاؤں کا پانی مٹی کی آمیزش سے گدلا ہوجاتا ہے۔ جنت میں پانی کے چشموں سے جو پانی جاری ہوگا وہ نہایت صاف ستھرا، نتھرا ہوا، بےرنگ، بےبو ہوگا۔ اس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوگا بدلا ہوا نہ ہوگا۔ دوسرے نمبر پر دودھ کا ذکر فرمایا۔ دنیا میں جو…
Read the full tafseer →17۔ خلاصہ یہ کہ اہل جنت ہر قسم کی مادی وروحانی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ دنیا کی ہر مادی نعمت فناء پذیر ہوتی ہے۔ پانی سڑ جاتا ہے، دودھ بگڑ جاتا ہے، شراب میں تلخی ہوتی ہے شہد میں گدلا پن شامل رہتا ہے۔ آیت میں ان سب چیزوں کی نفی کرکے بتلا دیا ہے کہ جنت کی کسی مادی نعمت میں کوئی خرابی نہ پیدا ہونے پائے گی، جنت کا ماحول، ناسوت کے ماحول سے بالکل مختلف ہوگا، اس لئے وہاں کی ” مادیت “ کا بھی یہاں کی مادیات سے بالکل مختلف ہونا قرین قیاس ہے۔ وہاں کی مادیات کا بھی یہاں بس صرف لفظ ہی مادیت ہوں گے۔ (آیت) ” مآء غیر اسن “۔ یعنی پانی ہوگا مگر دنیوی پانی کے برخلاف وہ کبھی سڑے گا نہیں .... زندگی قائم رکھنے…
Read the full tafseer →من ماء غیر آسن، آسن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا رنگ و مزہ بدل گیا ہو نیز بدبو دار بھی ہوگیا ہو، دنیا میں دریائوں اور نہروں کے پانی عام طور پر گندے ہوتے ہیں ان میں ریت مٹی طرح طرح کی نباتات ملنے کی وجہ سے ان کا رنگ اور مزہ بدل جاتا ہے، اس لئے جنت کی نہروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا، اسی طرح دنیا کا دودھ چونکہ گائے بھینس بکری وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی خراب بھی ہوجاتا ہے جنت کا دودھ چونکہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہیں ہوگا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لئے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا اسی طرح خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا، غرض یہ کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی…
Read the full tafseer →مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من ماء غیر اسن وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ
وانھر من خمیر لذۃ للشربین وانھر من عسل مصفے ً جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ اسکی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں کبھی بگاڑ نہ ہوگا اور بہت سی نہریں ایسے دودھ کی ہیں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا ہوا نہ ہوگا ‘ اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کیلئے سراسر لذت ہی ہوں گی اور بہت سی نہریں نہایت صاف شہد کی ہیں۔
مَثَلُ الْجَنَّۃِ یعنی جنت کی عجب کیفیت۔ یہ جملہ متبداء ہے اور خبر محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح ہے : جنت موعود کی عجیب کیفیت تمہارے سامنے بیان کی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →جس جنت کا کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں بہت سی نہریں تو ایسے پانی کی ہوں گی جس کے مزے اور خوشبو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ نہ ہوگا کہ کچھ تلخی آجائے اور اس پر جھاگ آجائے جیسا کہ اونٹوں کے دودھ میں ہوتا ہے۔
اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی کہ اس شراب کو کسی چیز سے نچوڑا نہیں گیا ہے اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف شفاف ہے کہ شہد کی مکھیوں کا وہ شہد نہیں ہوگا اور جنتیوں کے لیے جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور دنیا میں ان کے رب کی طرف سے ان کے گناہوں…
Read the full tafseer →(1) مثل الجنۃ التی وعد المثقون…:”مثل“ کا معنی یہاں حال یا صفت ہے۔ اس سے پہلے مومنوں کو جنتوں میں داخل کرنے کا ذکر فرمایا، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور کفار کا ٹھکانہ آگ بیان فرمایا۔ اب اس جنت اور جہنم کا کچھ مزید حال بیان فرمایا، خصوصاً جنت کی نہروں کا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر جنت کے ساتھ اس کی نہروں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں جنت کی چار قسم کی نہروں کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ جنت کی تمام نہروں کا سرچشمہ عرش کے نیچے جنت الفردوس ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فاذا سالتم اللہ فسلوہ الفردوس، فانہ اوسط الجنۃ واعلی الجنۃ، وفوقہ عرش الرحمٰن، ومنہ تفجر انھار الجنۃ)…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان جنتوں کی صفت بیان کی یعنی اس جنت کی صفت جو متقین کے لئے تیار کی گئی۔ سورة رعد میں یہ بحث گزر چکی ہے حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مثال الجنتہ قرأت کی ہے۔
ایسا پانی جس کی بو تبدیل نہیں ہوتی۔ پانی میں آسن، آجن کی مثل ہے جب اس کی بو تبدیل ہوجائے اسی طرح اجونا ہے دونوں میں کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے یہ یزیدی نے کہا : جب کسرہ کے ساتھ ہو جب وہ آدمی کنویں میں داخل ہو تو اسے کنویں کی بدبور دار ہوا پہنچے اور یا اس کے علاوہ تو اس پر غشی طاری ہوجائے یا اس کا سر چکرا جائے اس میں لاوسن بھی مروی ہے جب پانی متغیر ہوجائے ابو زید نے کہا وہ بیمار ہوجائے اور…
Read the full tafseer →جنت کی نہروں کا تذکرہ :
1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھرمن مآء غیر اسن “ (پانی کی نہریں جس میں کبھی بگاڑنہ ہوگا) یعنی ایسا پانی جس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوگا۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من مآء غیر اسن “ جو بدبودار نہ ہوگا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانھرمن لبن لم یتغیر طعمہ “ (اور دودھ کی نہریں جس کا مزہ ذرا بھی بدلا نہ ہوگا) کے بارے میں ابن عباس ؓ نے فرمایا (ایسا دودھ ہے جو دوھا نہیں گیا)
4:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت ) ”…
Read the full tafseer →مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ [ اس جنت کی مثال جس کا ] وُعِدَ [وعدہ کیا گیا ] الْمُتَّقُوْنَ ۭ [ متقی لوگوں سے ] فِيْهَآ اَنْهٰرٌ [اس میں کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ مَّاۗءٍ [ ایسے پانی سے جو ] غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ [ بدبودار ہونے والا نہیں ہے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ لَّبَنٍ [ ایسے دودھ سے ] لَّمْ يَتَغَيَّرْ [بدلا ہی نہیں ] طَعْمُهٗ ۚ [ جس کا ذائقہ ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ خَمْرٍ [ ایسی شراب سے جو ] لَّذَّةٍ [ لذت ہے ] لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ [ پینے والوں کے لئے ] وَاَنْهٰرٌ [ اور کچھ نہریں ہیں ] مِّنْ عَسَلٍ [ ایسی شہد سے جو ] مُّصَفًّى ۭ [آمیزش سے پاک کی ہوئی ہے ] وَلَهُمْ…
Read the full tafseer →اہل جنت کے مشروبات طیبہ اور اہل نار کا مشروب ماء حمیم
اس آیت میں بھی مومنین کے انعامات اور کافروں کی سزا بیان فرمائی ہے اول تو جنت کا حال بیان فرمایا ہے جس کا متقیوں سے وعدہ ہے جنت میں بہت سی نعمتیں ہیں ان میں نہریں بھی ہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو متغیر نہ ہوگا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ بدلہ ہوا نہ ہوگا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی اور بالکل صاف شہد کی نہریں ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے تیار فرمایا ہر دو درجوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →12:۔ ” مثل الجنۃ “ بشارت اخرویہ اور نعیم جنت کی صفت کا بیان ہے۔ متقی اور پرہیز گار لوگوں کیلئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت اور اس کی نعمتوں کا حال یہ ہے کہ اس میں بہنے والی پانی کی نہروں کا پانی ہمیشہ خوش رنگ اور خوش ذائقہ رہے گا اور اس کے رنگ و بو میں کبھی تبدیلی نہیں آئیگی۔ اسی طرح ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گے جس کا مزہ کبھی نہیں بگڑے گا۔ حالانکہ دنیا کا دودھ تھوڑی دیر میں متغیر ہوجاتا ہے۔ جنت میں شراب کی بھی نہریں جاری ہوں گی لیکن دنیوی شرابوں کے برعکس جنت کی شراب نہایت لذیذ اور پر لطف ہوگی، بدبو، بد مزگی اور نشہ سے پاک ہوگی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی جو ہر قسم کے فضلات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔
منومنوں کے لیے جنت
اب…
Read the full tafseer →مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ 0 ۭ فِيْہَآ اَنْہٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ 0 ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُہٗ 0 ۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ 0ۥۚ وَاَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى 0 ۭ وَلَہُمْ فِيْہَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ 0 ۭ كَمَنْ ہُوَخَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِـيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَہُمْ 15
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ […
Read the full tafseer →ترکیب : قال سیبوبہ المثل بمعنی الوصف و الصفۃ علی ھذا مثل الجنۃ الخ مبتداء فیھا النہار الجملۃ خبرہ وقیل المثل علی معناہ فیحنذ تقدیر الکلام مثل الجنۃ (مبتداء) والخبرمحذوف وھوجنۃ تجری فیہا انھار وھذا ھو الممثل بہ کمایقال مثل زید رجل طویل اسمرفیذ کر عین صفات زیدفی رجل منکر لایکون ھوفی الحقیقۃ الازیداھذا قول الزجاج کمن ھوالکاف فی موضع رفع ای ام من فی ھذا النعیم کمن ھوخالد فی النار۔
تفسیر : جیسا کہ مومن و کافر کا فرق بیان فرمایا تھا اس طرح اب ان کے مقامات کا تقاوت بیان فرماتا ہے فقال مثل الجنۃ الخ وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی وہ پرہیز گاری پر ملتی ہے کسی کے حسب و نسب ‘ مال و…
Read the full tafseer →مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط فِیْھَآ اَنْھٰـرٌمِّنْ مَّـآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ج وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍلَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ 5 ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ط وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ ط کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَـآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَـآئَ ھُمْ ۔ (محمد : 15)
(اس جنت کی مثال جس کا وعدہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، اور نہریں ہوں گی دودھ کی، جس کے مزے میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہوگا، اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ دنیا میں ہلاک کیے گئے ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ وہ ہدایت پر چلنے کی بجائے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے تھے جس وجہ سے ان کا دنیا میں برا انجام ہوا اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔
اس سورت میں مومنوں اور کفار کے درمیان موازنہ کیا جارہا ہے۔ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلیل پر عمل پیرا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا وہ ہے جو اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کرتا ہے اور اس کے لیے شیطان نے اس کے برے اعمال کو فیشن بنا دیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور دلیل پر عمل پیرا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے رب نے…
Read the full tafseer →جنت کا حال :
آیت 15 : مَثَلُ الْجَنَّۃِ (جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا جاتا ہے) الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ (اس کی کیفیت یعنی عجیب شان یہ ہے کہ) متقی سے مراد شرک سے بچنے والا ہے۔ فِیْہَآ اَنْہٰرٌ (اس جنت میں نہریں تو ایسے پانی کی ہیں) : نمبر 1۔ یہ صلہ کے حکم میں داخل ہے اور اس کے لئے تکریر کی مانند ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے تم کہتے ہو التی فیہا انہار۔ یہ کہنا صحیح ہے۔ اسی طرح بلا صلہ اس کے معا عد لانا یہی حکم رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ حال ہے مستقرۃ فیہا انہار۔ اس حال میں کہ نہریں اس میں قرار پکڑنے والی ہیں۔ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ (ایسے پانی کی جن میں ذرا تغیر نہ ہوگا) نہ رنگ بدلے نہ بونہ ذائقہ۔…
Read the full tafseer →14 ۔” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ اس کے دین سے یقین پر یعنی محمد ﷺ اور مومنین۔ ” کمن زین لہ سوء عملہ واتبعوا اھواء ھم “ یعنی بتوں کی عبادت کی اور وہ ابوجہل اور مشرکین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →یعنی جنت جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے لئے تیار کیا جو اس کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی رضا کی پیروی کی، اس کی مثال یعنی اس کی صفت اور اس کا وصف جمیل یہ ہے (فیھا انھر من ماء غیر اسین) اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو کسی مضر صحت امر، بدبو، حرارت اور گدلے پن کی وجہ سے متغیر نہ ہوگا بلکہ وہ صاف ترین اور شیریں ترین پانی ہوگا، اس کی خوشبو بہترین اور پینے میں نہایت لذیذ ہوگا۔ (وانھر من لبن لم یتغیر طعمہ) ” اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلتا “ یعنی خراب اور کھٹا ہوجانے کے باعث اس کا ذائعہ متغیر نہ ہوا ہوگا۔ (وانھر من خمر لذۃ للشربین) ” اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 36] آب جنت کی عظمت شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہریں ہونگی ایسے عظیم الشان اور بےمثال پانی کو جو کبھی خراب نہیں ہوگا "۔ جیسا کہ دنیا کے پانی کا حال ہے کہ زیادہ عرصہ بند رہنے کی وجہ سے اس میں تبدیلی آجاتی ہے۔ رنگ و مزہ بدل جاتا ہے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور بدبو آنے لگتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ جنت کی نہروں کا پانی ایسا عمدہ اور بےمثال ہوگا کہ کبھی خراب نہ ہوگا۔ اور اس میں اس طرح کا کوئی فساد رونما نہیں ہوگا۔ دنیا میں ایسے پانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں پر یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں ان سب کا منبع اور اصل سرچشمہ جنت ہی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی کھڑے رہنے یا کسی چیز کی ملاوٹ سے اس میں تغیر نہیں آیا انتہائی صاف شفاف اور شراییں ہے۔
6 یعنی بالکل تازہ دودھ ہے اس کے مزے میں کوئی تغیر نہیں آیا۔
7 یعنی دنیا کی شراب کی طرح نہیں ہے جو بدبو دار اور بدمزہ ہوتی ہے اور اس سے سکر آجاتا ہے۔
8 یعنی موم اور ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کیا ہوا شہد ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے فرمایا الم یجرج من بطون النحل وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا۔ حضرت معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں دودھ پانی شہد اور شربا کے ایسے دریا میں جن سے ابھی تک نہیں نکالی گئیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(47:15) مثل الجنۃ التی وعد المتقون۔ مبتداء فیھا انھر ۔۔ ومغفرۃ من ربہم : خبر۔
کمن ھو خالد فی النار۔ خبر جس کا مبتداء محذوف ہے ای امن ھو فی ھذا النعیم المقیم الدائم کمن ھو خالد فی النار۔ مثل الجنۃ مضاف مضاف الیہ۔ اس جنت کی مثال۔ اگر مثل مرفوع مذکور ہے اور اس کے بعد کمثل نہیں آیا۔ تو صرف آیت (2: 214) میں مشبہ یعنی تشبیہی قصہ مراد ہے۔ باقی آیات میں مثل کا معنی ہے صفت ۔
اس سے بھی آگے بڑھ کر مثل کا اطلاق اس حال یا صفت یا قصہ پر ہونے لگا جس میں کوئی عجیب ندرت اور پرشکوہ عظمت ہو مثلاً للہ المثل الاعلی (66:10) اللہ کی عجیب شان عالی ہے۔ یا مثل الجنۃ التی ۔۔ (آیت زیر مطالعہ ) جنت کی عجیب نادر حالت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح آیات نمبر 12 تا 15
قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
نیک وبد کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نہایت شرح صدر، اور فہم وبصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلاجارہا ہے اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے جس کو سیاہ سفید یا نیک وبد کی کچھ تمیز نہیں حتی کہ اپنی بےتمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہورہا ہے کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوسکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اس کو فرمایا گیا ہے کہ جس کے پاس خدا کی ظاہری قوی سچی دلیلیں ہوں اور مقدس مذہب ہو یعنی محمد ﷺ اور مسلمان اس جیسے ہوسکتے ہیں جو کافر ہوں بدکاریاں کرتا ہو اور ان کا چھا سمجھتا ہو اور انہوں نے اپنے نفس کو…
Read the full tafseer →[7] مغفرت کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن ہوگی۔
Read the full tafseer →ف 2: یہ ان لوگوں کے درجہ کی تشریح ہے ۔ جن کا مطمح نظر صرف جذبہ حیوانیت کی تسکین وتکمیل نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ روح کی پاکیزگی کے لئے بھی کچھ کرتے ہیں ۔ ان کے لئے جو مقام تجویز کیا گیا ہے ۔ اس میں ہر نعمت وفور کے ساتھ موجود ہے وہاں صاف ، شیریں ، اور ٹھنڈے پانی کی نہریں ۔ خوش ذائقہ دودھ کے دریا ، اور نہایت لذیذ شراب اور رسل مصطفیٰ کی نہریں ہوں گی ۔ اور ہر قسم کے پھل اور میوے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مولا کی رضا دل کو میسر ہوگی ۔ واضح رہے ۔ کہ خدا گائے اور بھینس کے تھنوں میں دودھ پیدا کرسکتا ہے ۔ وہ بہشت میں نہروں میں بھی اس کو بہاسکتا ہے ۔ اور جس کی قدرت میں یہ ہے ۔ کہ وہ مکھیوں کو شہد جمع کرنے کی…
Read the full tafseer →(15) جس جنت کا اہل تقویٰ اور متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت اور اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس پانی کے رنگ وبو اور مزہ میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس دودھ کے ذائقہ میں تغیر نہ ہوگا اور ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے بہت لذیذ اور مزے دار ہوگی اور ایسے شہد کی نہریں ہوں گی جو بالکل صاف اور خالص ہوگا اور ان اہل جنت کے لئے اس جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے پروردگار کی جانب سے ان کے لئے بڑی مغفرت اور بخشش ہوگی کیا یہ اہل جنت کہیں ان کے برابر اور ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے اور وہ سخت کھولتا ہوا پانی پلائے…
Read the full tafseer →ف 3۔ نہ بو میں، نہ رنگ میں، نہ مزے میں۔
4۔ غرض یہ کہ جب ان کے اعمال میں تفاوت ہے تو ان کے مآل میں یہ تفاوت ہوگا، جس کا بیان اب کیا گیا۔
Read the full tafseer →اہل جنت کے لئے جو انعامات تیار ہیں اور اہل دوزخ کیلئے جو عذاب تیار ہیں ان کا ذکر
15 ؎ جنت کے انعامات ہوں یا دوزے کا عذاب اس کا بیان جو قرآن کریم میں کہا گیا ہے اس کے متعلق مکمل بحث ہم عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیات 27 تا 74 کے تحت بیان کر آئے ہیں اگر وضاحت درکار ہو تو اس طرف مراجعت کریں اور اس مضمون کو یاد رکھیں کیونکہ آگے اس کا ذکر بار بار آئے گا لیکن اس کی وضاحت با بار بیان نہیں کی جائے گی۔ زیر نظر آیت میں { معل الجنۃ } کہہ کر یہ بات واضح کردی ہے کہ انعامات کے متعلق یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ سب تمثیلی بیان ہے کیونکہ اس کے حقیقی بیان کو سمجھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
Commentary
Essential Characteristics of Paradise
Verse sixteen mentions four kinds of favours and blessings in the next world, that is, rivers of pure water, rivers of milk of which the taste does not change, rivers of wine which gives delight and rivers of purified honey which will be given to the righteous in plenty.
Worldly waters become polluted by getting mixed with earth, vegetation and other adulterating substances which make them stink. But in Paradise, there will be rivers having un-pollutable water. The river of pure, clean water that will not go bad in taste, smell or colour, (and…
Read the full tafseer →20 Literally, asia is the taste and colour of water which has changed, or which gives a bad smell. In the world the water of rivers and canals is generally muddy; its taste and colour change due to the mixture of sand and dust and of different kinds of vegetation in it, and it also gives off a kind of bad smell. Therefore, the quality of the water of the rivers and canals of Paradise will be that it will be pure and clear, without any adulteration.
21 In a Hadith directly reported from the Holy Prophet, it has been explained thus: "It will not be the milk squeezed from the teats of animals."…
Read the full tafseer →