Explained with ayahs 14–15
دودھ پانی اور شہد کے سمندر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہوچکی ہو فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بد اعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19 ۙ) 13۔ الرعد :19) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہوجائے اور ارشاد ہے آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 19
یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اور اس کے پیروؤں کو جب خدا کی طرف سے ایک صاف اور سیدھا راستہ مل گیا ہے اور پوری بصیرت کی روشنی میں وہ اس پر قائم ہوچکے ہیں، تو اب وہ ان لوگوں کے ساتھ چل سکیں جو اپنی پرانی جاہلیت کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں، جو اپنی ضلالتوں کو ہدایت اور اپنی بدکرداریوں کو خوبی سمجھ رہے ہیں، جو کسی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی خواہشات کی بنا پر یہ فیصلے کرتے ہیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اب تو نہ اس دنیا میں ان دونوں گروہوں کی زندگی ایک جیسی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →افمن کان علی بتینۃ من ربہ کمن زین لہ سورء عملہ واتبعوآ اھرآء ھم 14
اہل ایمان کے حسن انجام پر عقل و فطرت کو گواہی
اوپر کی آیت میں ان کے دنیوی انجام کی طرف اشارہ تھا اور اس کی دلیل تاریخ کی مثالوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ ان کے اخروی انجام کی طرف اشارہ ہے اور اس پر انسان کی عقل و فطرت کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں اور اس روشنی میں وہ چلتے ہیں اور وہ لوگ جن کی نگاہوں میں ان کی بدعملی کھیادی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ بات عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر…
Read the full tafseer →14، 1 برے کام سے مراد شرک اور معصیت ہیں، مطلب وہی ہے جو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن و کافر، مشرک و موحد اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے ایک کے لئے اللہ کے ہاں اجر وثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن جس کا وعدہ متقین سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7: مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے نکلنے پر جو مجبور کیا تھا، اس کی طرف اشارہ ہے، اور فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر غالب آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقت اور قوموں کو ہلاک کرچکا ہے، ان کی تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے آخر کار غلبہ آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اب ایک موازنہ ان بستیوں کے درمیان جو ہلاک ہوئیں اور اس بستی کے درمیان جس نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا۔
وکاین من قریۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا ناصر لھم (47 : 13) “ اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ”۔
یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئی جب آپ ہجرت کا سفر فرما رہے تھے اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ کیونکہ اپنا ملک ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ایک مشکل کام ہے اور اس میں تسلی دی گئی کہ بظاہر تو یہ لوگ بڑے جبار نظر آتے ہیں ،…
Read the full tafseer →2 یعنی ایک شخص نہایت شرح صدر اور فہم و بصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلا جا رہا ہے، اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے، جس کو سیاہ وسفید یا نیک و بد کی کچھ تمیز نہیں، حتٰی کہ اپنی بد تمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہو رہا ہے، کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوجائے گا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حق تعالیٰ کی شان حکومت و عدل کے منافی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 14 { اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے“
یعنی اس کی سرشت اور فطرت بھی نیک ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اس کو دی ہے وہ اس ہدایت پر بھی قائم ہے۔
{ کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جس کے لیے اس کے ُ برے اعمال مزین ّکر دیے گئے ہیں ‘ اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔“
ایسے لوگوں کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کی خواہشات کا آئینہ انہیں دکھاتا ہے اور ظاہر ہے یہ آئینہ تو کالے کرتوتوں کو بھی خوشنما بنا کر ہی دکھاتا ہے۔ اسی وجہ سے فرعون نے اہل مصر کی تہذیب و…
Read the full tafseer →15 واضح دلیل سے مراد وہ صاف ستھرا راستہ ہے جو وحی الٰہی کی روشنی میں پوری طرح نظر آرہا ہو۔ یعنی ایک شخص تو پورے علم اور یقین کے ساتھ روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کررہا ہے۔ دوسرے کے پاس وہم و گمان کی تاریکیاں ہی تاریکیاں ہیں۔ وہ اپنے نفس کی خواہش کا پیروکار ہوتا ہے۔ اور دنیا کا زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے جو بھی وہ جائز اور ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے سب اسے اچھے ہی نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں آدمیوں کا طرز زندگی ایک جیسا ہوسکتا ہے ؟ یا ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے ؟
Read the full tafseer →16۔ یعنی کیا دونوں کے درمیان عمل و محرک عمل کا یہ واضح ونمایاں فرق، ثمرات عمل میں واضح ونمایاں فرق نہ پیدا کر دے گا ؟
Read the full tafseer →شان نزول :
عبد بن حمید اور ابویعلی اور ابن جریر وابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مکہ سے (بارادہ ہجرت) غار کی طرف نکلے تو آپ نے مکہ کی طرف رخ کر کے فرمایا انت احب بلاد اللہ فی ولو لا ان اھلک اخر جونی منک لم اخرج الخ اے مکہ تو اللہ کے شہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر تیرے فرزند مجھے تجھ سے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر، شوکانی)
افمن کان علی بینۃ من ربہ (الآیۃ) بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اور اس کے متعبین کو جب خدا کی طرف سے ایک صاف اور سیدھا راستہ مل گیا ہے اور پوری بصیرت کے ساتھ وہ اس پر قائم ہوچکے ہیں تو اب…
Read the full tafseer →افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن زین لہ سوء عملہ واتبعوا اھواء ھم تو جو لوگ اپنے رب
کے واضح راستوں پر ہوں ‘ کیا وہ ان شخصوں کی طرح ہوسکتے ہیں ‘ جن کو اپنی بداعمالی خوبصورت معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں ؟
اَفَمَنْ کَان استفہام انکاری ہے ‘ یعنی دونوں فریق ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ مؤمن کا کارساز اللہ ہے اور کافر کا کوئی کارساز نہیں۔ مؤمن کا یقین (یعنی ایمان) دلیل یعنی قرآن پر مبنی ہے جو اس کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ بیّنۃ سے ہر دلیل بھی مراد ہوسکتی ہے ‘ خواہ وہ عقلی ہو یا نقلی اور کافر کی نظر کے سامنے شرک اور بداعمالی خوبصورت شکل میں شیطان لے آتا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشات پر…
Read the full tafseer →تو جو ذات یعنی رسول اکرم اپنے پروردگار کے واضح اور صحیح رستہ پر ہوں تو کیا وہ ابو جہل وغیرہ کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بدعملی ان کو بہتر معلوم ہوتی ہے اور وہ بتوں کو پوجتے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) افمن کان لعی بینۃ من ربہ …: اس آیت میں ممون و کافر کے درمیان ایک اور فرق بیان فرمایا ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کفر کرنے والوں کا ٹھکانا آگ ہوگا۔”بینۃ من ربہ“ (اپنے رب کی طرف سے دلیل) سے مراد ایک تو انسانی فطرت میں رکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توحید ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہونے والی ہدایت اور علم ہے جس کی وجہ سے مومن کو اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو اس یقین کے ساتھ کہ میں حق پر ہوں اور دشمن کے مقابلے میں لڑتا اور شہید ہوتا ہے تو اسی یقین کے ساتھ۔ وہ جس راستے پر چل…
Read the full tafseer →یہاں ہمزہ استفہام تقریری ہے۔ کا معنی ہے ثبات و یقین پر، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : ابو العالیہ نے کہا : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذا ہے : بینۃ سے مراد وحی ہے سوء عمل سے مراد بتوں کی عبادت ہے من سے مراد ابو جہل اور کفار ہیں۔
یعنی جو خواہش کی اس کی پیروی کی۔ یہ تزیین، خلق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔
یہ بھی جائز ہے کہ دعوت اور وسوسے کے اعتبار سے شیطان کی جانب سے ہو یہ بھی جائز ہے کہ یہ کافر کی جانب سے ہو یعنی اس نے اپنے لئے اپنا برا عمل مزید کر کے پیش کیا اور کفر پر اصرار کیا اور من کے لفظ کے اعتبار کرتے ہوئے اور معنی کا اعتبار کرتے ہوئے کہا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنا ر “ (اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں یعنی وہ اپنی آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابو یعلی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے غار کی طرف نکلے تو پیچھے مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا تو اور فرمایا اللہ کے نزدیک اس کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب شہر ہے اگر میرے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ كَانَ [ تو کیا وہ جو تھا ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح (ہدایت ) پر ] مِّنْ رَّبِّهٖ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] كَمَنْ [ اس کے جیسا ہوگا ] زُيِّنَ لَهٗ [ سجایا گیا جس کے لیے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [ اس کے عمل کی برائی کو ] وَاتَّبَعُوْٓا [ اور انہوں نے پیروی کی ] اَهْوَاۗءَهُمْ [ اپنی خواہشات کی ]
Read the full tafseer →اہل ایمان اور اہل کفر برابر نہیں ہوسکتے
پھر فرمایا ﴿ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ﴾ (الآیۃ) جو شخص اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوگا کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا برا عمل اس کے لیے مزین کردیا گیا ہے اس نے کفر کو اچھا سمجھا اور ایمان سے دور بھاگا اور جن لوگوں نے اپنی خواہشوں کا اتباع کیا یعنی توحید کو چھوڑا اور شرک اختیار کیا، یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان جن کے پاس ان کے رب کی طرف سے دلیل موجود ہے اور کافر لوگ جن کے برے اعمال کفر اور معاصی انہیں اچھے لگتے ہیں اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں یہ دونوں فریق مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →11:۔ ” افمن کان “ بیان حال اہل ایمان و اہل طغیان۔ وہ مومن جس کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے ایک واضح بیان (قرآن) موجود ہے اور وہ اس کی روشنی میں چلتا اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے کیا وہ اس مشرک کے برابر ہوسکتا ہے جو کفر و شرک کو اچھا اور نیک کام سمجھتا ہو اور خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتا ہو، توحید اور حق کو جھٹلاتا ہو۔ استفہام انکاری ہے یعنی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔
منومنوں کے لیے جنت
اب…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَہٗ سُوْۗءُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ 14
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ترکیب : الضمائر فی اخرجتک وھی للقریۃ وفی اھلکناھم ولاناصر لہم للاھل ای لاہل القریۃ۔
Read the full tafseer →اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّـہٖ کَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَٓائَ ھُمْ ۔ (محمد : 14)
(کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بدعملی ان کے لیے مزین کردی گئی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔ )
اہلِ حق اور اہل باطل کے فکری اور عملی تضاد کی وضاحت
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اہل حق اور اہل باطل کے فکری اور عملی تضاد کو واضح فرمایا ہے۔ اور اس تضاد کو نمایاں کرنے کے لیے استفہامیہ انداز اختیار فرمایا ہے۔ عام انسانی عقل اور انسانی شعور کو خطاب کرتے ہوئے فیصلہ ان پر چھوڑا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمان دین پر قائم رہتے ہوئے منظم طریقے کے ساتھ کفار کا مقابلہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور آخرت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمانداروں کے ساتھ بار بار وعدہ کیا ہے کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کے بتلائے ہوئے صالح اعمال اختیار کرو تو تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہاں تک کفار کا معاملہ ہے وہ اپنے رب کی نعمتیں کھاتے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن آخر کار ان کا انجام جہنم کی آگ ہوگا اور یہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتے رہیں گے۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بستیاں تباہ کیں…
Read the full tafseer →آیت 14 : اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (تو جو لوگ اپنے رب کے واضح راستہ پر ہوں) کیا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت وبرہان پر ہو۔ اور وہ برہان قرآن معجز اور دیگر معجزات رسول ہے۔ مَنْ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗٗ سُوْئُ عَمَلِہٖ (کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے۔ جس کی بدعملی اس کو مستحسن معلوم ہو) اس سے مراد اہل مکہ ہیں جن کے لئے شیطان نے ان کے شرک اور اللہ اور اس کے رسول کی عداوت کو مزین کردیا تھا۔ سوء عملہ کی ضمیر واحد مَن کے لفظ کا لحاظ کر کے لائے اور وَاتَّبَعُوْا اَہْوَآئَ ہُمْ کی ضمائر جمع من کے معنی کا لحاظ کر کے لائے۔
Read the full tafseer →13 ۔” وکاین من قریۃھی اشد قوۃ من قریتک “ یعنی اہل مکہ سے قوت میں زیادہ تھے۔ ” التی اخرجتک “ یعنی اس بستی والوں نے آپ (علیہ السلام) کو نکالا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کتنے ہی مرد تھے جو اہل مکہ سے قوت میں زیادہ تھے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ کا قول ” اھلکناھم “ دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ” اھلکنا ھا “ نہیں فرمایا۔ ” فلا ناصرلھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے غار کی طرف نکلے تو مکہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تو اللہ کے شہروں میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور اللہ کے شہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا۔ اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–19
14۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ…
Read the full tafseer →یعنی وہ شخص جو اپنے امور دین میں علم و عمل کے اعتبار سے بصیرت سے بہرہ ور ہے، علم حق سے سرفراز اور اس کی اتباع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل حق کے ساتھ جو وعدہ کر رکھا ہے، اس پر اسے یقین سے کیا ایسے شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو دل کا اندھا ہے، جس نے حق کو چھوڑ کر اسے گم کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے بغیر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ بہ این ہمہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے ؟ دونوں فریقوں کے درمیان کتنا فرق اور دونوں گروہوں، یعنی اہل حق اور اہل باطل کے درمیان کتنا تفاوت ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 34] مومن کی شان نور علی نور کی شان، والحمدللّٰہ جل وعلا :
سو " بینتہ " یعنی روشن دلیل سے یہاں پر مراد وہ نور فطرت ہے جو قدرت کی طرف سے ہر انسان کی فطرت وجبلت کے اندر ودیعت ہوتا ہے۔ کافر اپنے اعراض و انکار سے اس کو ضائع کردیتا ہے، جبکہ مومن اس کو محفوظ رکھتا ہے۔ پھر نور وحی سے سرفراز ہو کر وہ مزید جلا پاتا ہے اور " نورٌ علی نورٌ " کا مصداق بن جاتا ہے۔ سو مومن نور ایمان و یقین کی اس متاع گرانمایہ اور نور عظیم پر قائم ہوتا ہے۔ جس سے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوزوفلاح کی راہیں روشن ہوتی ہیں، جس کی روشنی قدرت کی فیاضیوں نے اس کی فطرت میں اس کے یوم آفرینش ہی سے دویعت فرما دی تھی۔ پھر جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی شیطان نے انہیں بہکا دیا ہے اور کفر و شرک کو ان کی نظروں میں اچھا کر دکھایا ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں اور نہ اس کے صحیح ہونے پر دلیل لائی جاسکتی ہے۔
4 اور اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت (قرآن و سنت سے) کوئی سروکار نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →(47:14) افمن کان ۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہےکا عطف جملہ مقدرہ پر ہے۔ من موصولہ ہے۔
علی بینۃ ۔ بینۃ۔ کھلی دلیل۔ واضح دلالت کو بینہ کہتے ہیں۔ خواہ دلالت عقلی ہو یا محسوسہ۔ بینات جمع ہے۔
کمن کاف تشبیہ اور من موصولہ سے مرکب ہے اس شخص کی طرح جو کہ ۔۔
زین ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب تزیین (تفعیل) مصدر۔ وہ سنوارا گیا اسے مزین کیا گیا۔ وہ اچھا کر کے دکھلایا گیا۔
سوء عملہ۔ سوء برائی۔ برا کام، گناہ۔ عیب۔ سوء ۔ ساء یسوء (باب نصر) مصدر سے اسم ہے۔ مضاف، عملہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ اس کے عملوں کی برائی۔ اس کی بداعمالی۔
واتبعوا اھواء ہم ۔ وائو عاطفہ۔ اتبعوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے اتباع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح آیات نمبر 12 تا 15
قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
نیک وبد کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نہایت شرح صدر، اور فہم وبصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلاجارہا ہے اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے جس کو سیاہ سفید یا نیک وبد کی کچھ تمیز نہیں حتی کہ اپنی بےتمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہورہا ہے کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوسکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اس کو فرمایا گیا ہے کہ جس کے پاس خدا کی ظاہری قوی سچی دلیلیں ہوں اور مقدس مذہب ہو یعنی محمد ﷺ اور مسلمان اس جیسے ہوسکتے ہیں جو کافر ہوں بدکاریاں کرتا ہو اور ان کا چھا سمجھتا ہو اور انہوں نے اپنے نفس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[6] یعنی مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں نے نبی ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا۔
Read the full tafseer →ف 1: یعنی اہل حق وصداقت ہمیشہ دلائل اور براہین کی روشنی میں اللہ کے دین کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوتے ۔ جوب بظاہر برائیوں کی سج دھج سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں عقل وخرد سے کام نہیں لیتے ۔
Read the full tafseer →(14) کیا بھلا وہ شخص جو اپنے پروردگار کے صاف واضح اور سوجھی راہ پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے اور اس جیسا ہوسکتا ہے جس کے لئے اس کا برا عمل خوش منظر کردیا گیا ہو اور اس کی بداعمالی اس کی نگاہ میں آراستہ کردی گئی ہو اور وہ لوگ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہوں۔
سو عمل کی تزیین پر کئی دفعہ بحث ہوچکی ہے یہ گمراہی کا ایک درجہ ہے جب انسان کی نظر میں اس کی بداعمالی اور اس کی بدکاری اچھی اور خوش نما معلوم ہونے لگے اور اس قسم کے لوگ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہوں تو بھلا یہ اس شخص کی مانند ہوسکتے ہیں جو اپنے پروردگار کی روشن دلیل اور اس دلیل سے جو راستہ ثابت ہے وہ اس راستے پر قائم ہو…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جب اعمال میں تفاوت ہے تو مآل میں بھی تفاوت ہوگا۔ پس جس طرح اہل حق مستحق ثواب ہیں اہل باطل مستحق عقاب ہیں۔
Read the full tafseer →ہدایت کی روشنی میں چلنے والا اور اندھیرے میں ٹکریں مارنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا
14 ؎ { بینۃ } وہ روشن دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت کردیئے ہیں اور اس طرح وہ دلائل بھی ہیں جو اس کائنات میں پھیلا دیئے ہیں اور انسان جو عقل و فکر سے کام لیتا ہے اس کو چار نظر آتے ہیں اور عقل و فکر کے اندھوں کو کچھ نظر نہیں آتا اس طرح جو مشخص بھی ان دلائل کی روشنی میں زندگی کی مسافت طے کر کے منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے اس کا انجام اسی نوعیت کا انجام کیسے ہو سکتا ہی جو اندھیرے میں ٹکریں مار رہا ہی اور اپنی نفسانی خواہشات میں مگن زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان دو کرداروں کو سامنے رکھ کر ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
Commentary
Essential Characteristics of Paradise
Verse sixteen mentions four kinds of favours and blessings in the next world, that is, rivers of pure water, rivers of milk of which the taste does not change, rivers of wine which gives delight and rivers of purified honey which will be given to the righteous in plenty.
Worldly waters become polluted by getting mixed with earth, vegetation and other adulterating substances which make them stink. But in Paradise, there will be rivers having un-pollutable water. The river of pure, clean water that will not go bad in taste, smell or colour, (and…
Read the full tafseer →18 The Holy Prophet was sorely distressed on leaving Makkah. When he was compelled to emigrate, he had stood facing the city outside it and said: "O Makkah, you are the most beloved city in the sight of AIIah, and I have the greatest love for you out of all the cities of Allah; if the polytheists had not driven me out I would never have left you." About this it has been said: "After driving you out of the city the people of Makkah think that they have achieved a great success, whereas, in fact, they have hastened only their own ruin by this evil act." The style of the verse clearly indicates…
Read the full tafseer →