Explained with ayahs 10–13
تمام شہروں سے پیارا شہر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی ؟ جو یہ معلوم کرلیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے ؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لئے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بےولی ہیں۔ اسی لئے احد والے دن مشرکین کے سردار ابو سفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 18
رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکلنے کا رنج تھا۔ جب آپ ہجرت پر مجبور ہوئے تو شہر سے باہر نکل کر آپ ﷺ نے اس کی طرف رخ کر کے فرمایا تھا " مکہ، تو دنیا کے تمام شہروں میں خدا کو سب سے زیادہ محبوب ہے، اور خدا کے تمام شہروں میں مجھے سب سے بڑھ کر تجھ سے محبت ہے۔ اگر مشرکوں نے مجھے نہ نکالا تو میں تجھے چھوڑ کر کبھی نہ نکلتا "۔ اسی پر ارشاد ہوا ہے کہ اہل مکہ تمہیں نکال کر اپنی جگہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ حالانکہ درحقیقت یہ حرکت کر کے انہوں نے اپنی شامت بلائی ہے۔ آیت کا انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ ضرور ہجرت سے متصل ہی نازل ہوئی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →وکاین من قریۃ ھی اشدقوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلانا صرالھم 13
یعنی کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج قریش بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے، جب انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کرسکتا ہے ! فرمایا کہ کتنی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں اس سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ نے ان کو تباہ کردیا اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ یہ عاد ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں اور قریش کو جن کی شوکت و عظمت کا پورا اعتراف تھا۔ فلا ناصر لھم میں ان کی اس دنیوی جمعیت کی نصرت کی بھی نفی ہے جس پر ان کو بڑا ناز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 یعنی جس طرح جانور کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ اس ضمن میں کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آجکل دعوتوں میں عام رواج ہے کیونکہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوا بتلایا گیا ہے احادیث میں کھڑے کھڑے پانی پینے سے نہایت سختی سے منع فرمایا گیا، جس سے کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے اس لئے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7: مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرت ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مکہ مکرمہ سے نکلنے پر جو مجبور کیا تھا، اس کی طرف اشارہ ہے، اور فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر غالب آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقت اور قوموں کو ہلاک کرچکا ہے، ان کی تو ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے، اس لیے آخر کار غلبہ آنحضرت ﷺ ہی کو حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اب ایک موازنہ ان بستیوں کے درمیان جو ہلاک ہوئیں اور اس بستی کے درمیان جس نے رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا۔
وکاین من قریۃ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا ناصر لھم (47 : 13) “ اے نبی ﷺ ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ”۔
یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئی جب آپ ہجرت کا سفر فرما رہے تھے اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ۔ کیونکہ اپنا ملک ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ایک مشکل کام ہے اور اس میں تسلی دی گئی کہ بظاہر تو یہ لوگ بڑے جبار نظر آتے ہیں ،…
Read the full tafseer →1 یعنی دوسری قوموں کو جو زور و طاقت میں مکہ والوں سے کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے تباہ کر چھوڑا اور کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ پھر یہ کس بات پر اتراتے ہیں۔ (تنبیہ) " قَرْیَتِکَ الَّتِی اَخْرَجَتْکَ " سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ وہاں کے لوگوں نے ایسی حرکات کیں کہ آپ ﷺ کو وطن مالوف و محبوب چھوڑنا پڑا۔ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے رخصت ہوتے وقت مکہ معظمہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ خدا کی قسم تو تمام شہروں میں اللہ کے نزدیک اور میرے نزدیک محبوب ترین شہر ہے۔ اور اگر میری قوم مجھ کو تیرے اندر سے نہ نکالتی میں تجھ کو نہ چھوڑتا۔
Read the full tafseer →آیت 13 { وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو کہیں زیادہ قوت کی حامل تھیں آپ کی اس بستی سے جس نے آپ کو نکالا ہے۔“
قریش نے اپنی طاقت کے زعم میں اللہ کے رسول ﷺ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور تو کردیا ہے ‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلے دنیا میں ان کے شہر سے کہیں بڑے بڑے شہر آباد تھے اور ان شہروں کے باسی ان سے کہیں بڑھ کر طاقت و شوکت کے حامل تھے مگر :
{ اَہْلَکْنٰہُمْ فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ } ”انہیں ہم نے ہلاک کردیا ‘ پس ان کا کوئی مد دگارنہ ہوا۔“
Read the full tafseer →14 ہجرت کے وقت آپ کے الوداعی کلمات :۔ بظاہر کافروں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو سو اونٹ انعام بھی مقرر کیا تھا کہ جو شخص محمد کو پکڑ کرلے آئے اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔ لیکن چونکہ ان کافروں نے آپ کو ایذائیں اور دکھ پہنچا پہنچا کر وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نکالنے کے اصل سبب کی طرف نسبت فرمائی۔ جیسا کہ خود بھی رسول اللہ جب مکہ سے نکلنے لگے تو نہایت حسرت سے مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے : مکہ تو اللہ کے نزدیک بڑی عزت والا اور محبوب ہے اور مجھے بھی بہت محبوب ہے اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نکل جانے پر مجبور نہ کردیتے تو میں تجھے کبھی نہ…
Read the full tafseer →15۔ تو آپ ﷺ کے ہم وطن کس زعم وپندار کی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں) (آیت) ” اشد قوۃ “۔ جسمانی، مادی، مالی، عددی، ہر اعتبار سے ان اہل عرب سے برتر، (آیت) ” قریتک التی اخرجتک “۔ قریہ سے مراد مکہ کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ’ اھلکنھم “۔ قریۃ سے مراد اہل القریہ تھی۔ ضمیر جمع مذکر (آیت) ” ھم “۔ انہیں کی جانب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترجمہ :۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہیں اللہ تعالیٰ یقینا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور کفر کرنے والے دنیا میں (چند روزہ) زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا (پی) رہے ہیں یعنی ان کے پیش نظر (شہوت بطن و فرج یعنی) پیٹ اور پیٹھ کی شہوت کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے (یعنی) ان کی منزل، مقام اور ٹھکانہ جہنم ہے (اے نبی) ہم نے کتنی ہی بستیوں کو مراد بستی والے ہیں جو طاقت میں تیری اس بستی مکہ سے یعنی مکہ والوں سے زیادہ تھیں جس سے تجھ کو نکالا (اخر جتک) میں لفظ قریۃ کی رعایت کی گئی ہے ہلاک کردیا اول قریۃ…
Read the full tafseer →وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلا ناصر لھم اور
بہت سی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے جس کے رہنے والوں نے آپ کو (وطن سے) نکال باہر کیا ‘ بڑھی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان کو تباہ کردیا ‘ سو کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔
وَکَاَیِّنْ اور بہت سی۔
مِّنْ قَرْیَۃٍ ۔ قریۃ سے مراد ہیں اہل قریہ۔ مضاف کو حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ پر مضاف کے احکام جاری کر دئیے گئے۔
الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ یعنی جس بستی کے رہنے والوں نے آپ کو وطن سے نکال دیا۔ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں ‘ جن سے مجبور ہو کر آپ کو ہجرت کرنی پڑی۔ ترک وطن کے باعث اہل مکہ ہوئے ‘ اسلئے نکال دینے کی…
Read the full tafseer →اور بہت سی بسیتوں والے جو طاقت و شوکت میں اس بستی یعنی مکہ والوں سے زیادہ تھے نہوں نے آپ کو مدینہ منورہ کی طرف نکال دیا سو ہم نے تکذیب کے وقت ان کو ہلاک کردیا، پھر عذاب الہی کے مقابلہ میں کوئی ان کا مددگار نہ ہوا۔
شان نزول : وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ (الخ)
ابو یعلے نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ہجرت کے وقت غار کی جانب روانہ ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ تو تمام شہروں میں مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اور اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا۔ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی بہت سی بستیاں ایسی ہیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے زیادہ تھیں۔
Read the full tafseer →(1) وکاین من قریۃھی اشد قوۃ…: اس کا عطف ”افلم یسیروا فی الارض فینظروا“ پر ہے، دریمان میں بات سے بات نکلتی گئی ہے، دوبارہ پھر وہی سلسلہ کلام شروع فرمایا ہے۔ اس میں کفار مکہ کے لئے وعید اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ اہل مکہ جنہوں نے آپ کو اپنی بستی سے نکلنے پر مجبور کردیا، اپنی قوت و شوکت پر مغرور نہ ہوں اور آپ ان کی قوت دیکھ کر دل برداشتہ نہ ہوں، ان بےچ اورں کی کیا حیثیت ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی بستیاں تھیں جو قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھیں، ہم نے انہیں ہلاک کردیا، پھر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دیکھیے سورة روم (9، 10) اور سورة مومن (21)۔
(2) ”قریہ“ سے مراد قریہ والے ہیں، جیسا کہ یوسف ؑ…
Read the full tafseer →ان کے بارے میں گفتگو آل عمران میں گزر چکی ہے یہاں یہ کم کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اخفش نے لبید کا شعر پڑھا۔
کتنے ہی بادشاہوں اور رعیتوں کو دیکھا۔ اس کا معنی ہے کتنے ہی بستیوں والے۔ یعنی جنہوں نے آپ کو بستی سے نکالاان سے وہ زیادہ طاقتور تھے قتادہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے غار ثور کی طرف نکلے تو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور مجھے سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے اور مشرک جو تیرے اندر رہنے والے ہیں اگر مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا “ تو یہ آیت نازل ہوئی (2) اسے ثعلبی نے ذکر کیا یہ حدیث صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنا ر “ (اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں یعنی وہ اپنی آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابو یعلی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے غار کی طرف نکلے تو پیچھے مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا تو اور فرمایا اللہ کے نزدیک اس کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب شہر ہے اگر میرے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ [ اور کتنی ہی بستیاں ہیں ] هِىَ اَشَدُّ [ جو زیادہ شدید تھیں ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ [ آپ کی اس بستی سے جس نے ] اَخْرَجَتْكَ ۚ [ نکالا آپ کو ] اَهْلَكْنٰهُمْ [ ہم نے ہلاک کیا ان (بستی والوں ) کو ] فَلَا نَاصِرَ [ تو کوئی بھی مدد کرنے والا نہ تھا ] [لَهُمْ : ان کے لیے ]
Read the full tafseer →اہل مکہ کو تنبیہ
اس کے بعد اہل مکہ کو تنبیہ فرمائی اس میں خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے کیونکہ آپ کو اس میں تسلی دی ہے اور سنانا منکرین کو بھی ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کریں ارشاد فرمایا ﴿ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ ﴾ اور کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے رہنے والے آپ کی اس بستی کے رہنے والوں سے قوت میں زیادہ سخت تھے جس سے آپ کو نکال دیا گیا ہے ہم نے ان کو ہلاک کردیا کوئی بھی ان کا مددگار نہ تھا ان کو بھی اپنی قوت اور طاقت پر غرور کرنے کا کوئی مقام نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10:۔ ” ان اللہ “ بشارت اخرویہ وہ بیان احوال مؤمنین۔ جو مؤمنین زیور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ جنت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی ” والذین کفروا “ تخویف اخروی مع بیان احوال مشرکین۔ کفار آخرت سے ایسے غافل ہیں کہ ہر وقت دنیوی منافع حاصل کرنے اور عیش اڑانے میں مشغول ہیں اور چوپایوں کی طرف فکر آخرت اور انجام و عاقبت سے بیخبر ہو کر کھانے پینے میں منہمک رہتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ” وکاین من قریۃ۔ الایۃ “ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ قریۃ سے مجازاً اہل قریہ مراد ہیں۔ بہت سی بستیاں جن میں سے ہر بستی والے آپ کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔
منومنوں کے لیے جنت
اب…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ ہِىَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ 0 ۚ اَہْلَكْنٰہُمْ فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ 13
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ترکیب : الضمائر فی اخرجتک وھی للقریۃ وفی اھلکناھم ولاناصر لہم للاھل ای لاہل القریۃ۔
Read the full tafseer →وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ھِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ ج اَھْلَـکْنٰـھُمْ فَلاَ نَاصِرَلَھُمْ ۔ (محمد : 13)
(اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو آپ کی اس بستی سے بہت زیادہ طاقتور تھیں جس نے آپ کو نکالا ہے، ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کردیا کہ کوئی ان کو بچانے والا نہ تھا۔ )
قریش کے غرور پر چوٹ
قریش کو جس طرح اپنی دولت و رفاہیت پر ناز تھا، اسی طرح انھیں اپنی طاقت و قوت کا بھی بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے قریب قریب ہماری ٹکر کی کوئی طاقت نہیں۔ اور جب انھوں نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ مسلمانوں کو اور آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمان دین پر قائم رہتے ہوئے منظم طریقے کے ساتھ کفار کا مقابلہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور آخرت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمانداروں کے ساتھ بار بار وعدہ کیا ہے کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کے بتلائے ہوئے صالح اعمال اختیار کرو تو تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہاں تک کفار کا معاملہ ہے وہ اپنے رب کی نعمتیں کھاتے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن آخر کار ان کا انجام جہنم کی آگ ہوگا اور یہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتے رہیں گے۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بستیاں تباہ کیں…
Read the full tafseer →آیت 13 : وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (اور بہت سی بستیاں ایسی تھیں) کم من قریۃ یہ کثرت کو بیان کرنے کیلئے ہے۔ قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں اسی لئے فرمایا : اَہْلَکْنَاہُمْ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْ اَخْرَجَتْکَ (ہم نے ان کو ہلاک کردیا جو قوت میں اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں۔ جس کے رہنے والوں نے آپ کو گھر سے بےگھر کیا) مطلب یہ ہے بہت سی بستیاں تیری قوم سے جنہوں نے آپ کو نکالا زیادہ طاقتور تھیں۔ اخرجوک کا مطلب آپ کے مکہ سے نکلنے کا سبب بنے۔ اَہْلَکْنٰہُمْ فَـلَا نَاصِرَ لَہُمْ (ہم نے ان کو ہلاک کردیا ان کا کوئی مددگار نہ ہوا) ان کے لئے کوئی ایسا نہ ہوا جو ان سے عذاب کو روک لیتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11 ۔ ” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا۔ ” بان اللہ مولی الذین امنوا “ ان کا ولی اور مددگار ہے۔ ” وان الکافرین لا یتمتعون “ دنیا میں۔ ” ویاکلون کماتاکل الانعام “ ان کا مقصد صرف ان کے پیٹ اور ان کی شرم گاہیں ہیں اور وہ کل آنے والی چیز سے غافل اور بھولے ہوئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مومن دنیا میں سفر توشہ جمع کرتا ہے اور منافق زیب وزینت اختیار کرتا ہے اور کافر نفع اٹھاتا ہے۔ ” والنار مثوی لھم “۔
Read the full tafseer →13۔ مسند 3 ؎ ابو یعلی موصلی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے وقت جب آنحضرت ﷺ مکہ سے نکلے تو آپ نے مکہ کی طرف پھر کر دیکھا اور فرمایا کہ دنیا بھر کے شہروں سے زیادہ یہ شہر مجھ کو زیادہ پیارا اور عزیز ہے اگر قریش لوگ زبردستی مجھ کو اس شہر سے نکالتے تو میں ہرگز اس بستی سے نہ نکلتا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ قریش سے زیادہ صاحب قوت صاحب شوکت قوموں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی ذلت اور خواری سے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ایسا ہلاک کردیا کہ کوئی ان لوگوں کی کچھ حمایت اور مدد نہ کے گا اگر یہ لوگ اپنی…
Read the full tafseer →تکذیب کرنے والوں کی بستیوں میں سے کتنی ہیں جو اموال واولاد، اعوان و انصار اور عمارات و آلات کے لحاظ سے آپ کی بستی سے زیادہ طاقتور تھیں (اھلکنھم) جب انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کرڈالا، ان کو وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ دیا نہ ہم نے ان کا کوئی مددگار پایا اور نہ ان کی قوت اور طاقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کام آسکی۔ تب آپ کی بستی والے ان کمزور لوگوں کا کیا حال ہے، جب انہوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکال دیا، آپ کی تکذیب کی، آپ سے عداوت رکھی حالانکہ آپ افضل المرسلین اور خیر الاولین والآخرین ہیں ؟ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی رحمت اور ہر کافر اور منکر حق پر نرمی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 32] منکرین کے زعم باطل اور ان کے کبر و غرور پر ایک ضرب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو قوت میں آپ کی اس بستی سے کہیں بڑھ کر سخت تھیں۔ یعنی مکہ مکرمہ سے، جس کے باشندوں نے ظلم و زیادتی کے ساتھ اور ناحق طور پر آپ کو وہاں سے دیس نکالا دیا۔ اور اس پر یہ لوگ خوش ہو رہے ہیں کہ یہ بڑے زور اور قوت والے ہیں۔ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح انہوں نے اپنے لئے کتنی بڑی بدبختی اور کس قدر ہولناک تباہی کا سامان کیا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج قریش کو بڑا زور و دبدبہ حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 2 مطلب یہ ہے کہ ان کفار مکہ کی کیا ہستی ہے ہم نے ان سے کہیں زبردست قوموں کو تہس نہس کردیا اور وقت پڑنے پر کوئی ان کی مدد نہ کرسکا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہجرت کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ مکہ سے نکل کر غار ثور کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے مکہ کی طرف رخ کر کے فرمایا تو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا شہر ہے اور مجھے بھی دوسرے شہروں سے زیادہ محبوب سے اگر مشرکوں کے مجھ تجھ سے نکالا نہ ہوتا تو میں تجھ سے ہرگز نہ نکلنا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(47:13) وکاین ۔ وائو عاطفہ ہے کاین اصل میں کای تھا۔ قرآنی اصطلاح میں تنوین کو بصورت نون لکھا گیا۔ کاین ہمیشہ خبری صورت میں مستعمل ہے، مبہم کثیر تعداد پر دلالت کرتا ہے۔ ابہام کو دور کرنے کے لئے اس کے لئے بطور تمیز کوئی لفظ مذکور ضرور ہوتا ہے۔ عموما ممیز لفظ من کے ساتھ آتا ہے۔ جیسے وکاین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر (3:146) اور بکثرت پیغمبروں کی معیت میں بہت سے اللہ والوں نے (کافروں سے ) جہاد کیا۔ اس مثال میں کاین نے کثیر تعداد کو ظاہر کیا۔ لیکن کس کی یہ بات مبہم تھی جب اس کے بعد من نبی آیا۔ تو ابہام دور ہوگیا “ اور معلوم ہوگیا کہ وہ کثیر تعداد پیغمبروں کی تھی۔ کاین ہمیشہ آغاز کلام میں آتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح آیات نمبر 12 تا 15
قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ہجرت مدینہ فتح ونصرت کا پیش خیمہ۔
(ف 1) شان نزول۔ جب نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو اللہ کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ قریش سے زیادہ صاحب قوت ، صاحب شوکت قوموں کو اللہ نے بڑی ذلت اور خواری سے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ایسا ہلاک کیا کہ کوئی ان لوگوں کی کچھ حمایت اور مدد نہ کرسکا، اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے وہی ذلت خواری گویا ان کے سر پر بھی سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[6] یعنی مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں نے نبی ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا۔
Read the full tafseer →ف 2: حضور ﷺ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اگر ان لوگوں نے آپ کو اپنے محبوب ترین شہر سے باہر نکال دیا ہے ۔ تو آپ گھبرائیں نہیں پہلی تو میں ان سے زیادہ تنومند اور مضبوط تھیں ۔ مگر ہم نے ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا ۔ اور کوئی چارہ ساز ان کی حمایت نہیں کرسکا ۔ اسی طرح ممکن ہے ۔ کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی اسی نوع کا سلوک روارکھنا پڑے ۔ اور ان کو بتانا ڑے ۔ کہ پیغمبر ﷺ کو اس کے گھر سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک کوئی معمولی جرم نہیں
Read the full tafseer →(13) اور اے پیغمبر کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو آپ کی اس بستی سے جس کے باشندوں نے آپ کو جلاوطن اور گھر سے بےگھر کیا ہے قوت و طاقت اور زور میں بڑھی ہوئی تھیں ہم نے ان زور آور بستیوں کو ہلاک کرڈالا اور کوئی بھی ہلاک کرتے وقت ان کا مددگار نہ ہوا۔ یعنی بہت سی بستیاں جس کے رہنے والے باشندے ان مکہ والوں سے طاقت اور زور میں بہت زیادہ تھے جنہوں نے آپ کو آپ کے وطن سے نکالا ہے ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو ہلاک کرڈالا اور ہلاک ہوتے وقت ان کی کوئی مدد کرنے والا اور ان کو بچانے والا نہ ہوا تو یہ مکہ کے منکر کس گنتی اور شمار میں ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ ایسی حالت میں ان کو مغرور نہ ہونا چاہئے کیونکہ ہم جب چاہیں ان کی بھی صفائی کرسکتے ہیں، اور نہ آپ محزون ہوں کیونکہ ہم ان کو بھی اشتراک علت کفر و مخالفت کی وجہ سے وقت پر سزا دینے والے ہیں اور یہ لوگ کہ اہل باطل ہیں بمقابلہ آپ کے اور جمیع اہل حق کے کیونکر قابل سزا نہ ہوں گے جبکہ اہل باطل محض نفس کی راہ پر ہیں اور اہل حق خدا کی راہ پر ہیں۔
Read the full tafseer →اے پغمیر اسلام ! آپ ﷺ کو مکہ سے نکال باہر کرنے والوں سے زیادہ زور آور بھی ہو گزرے ہیں
13 ؎ قریش مکہ کو کہا جا رہا ہے کہ اگر آج تمہارے اندر اتنا زور ہے کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ جیسی شخصیت کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا ہے تو ان کو معلوم نہیں کہ انہوں نے ایسا کر کے کس کے عذاب الٰہی کو دعوت دے دی ہے اور یہ بھی کہ ان کا زور کوی نیا زور نہیں ہے ان سے زیادہ زور آور بستیاں اس کائنات ہستی میں رہ چکی ہیں لیکن جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو ان کا زور ان کو ہلاکت سے نہ بچا سکا اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی کھڑا ہوا کہ ان لوگوں کو ہم ہلاک نہیں ہونے دیں گے بلکہ ان کے سارے آسرے اور وسیلے دھرے کے دھرے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
Commentary
Essential Characteristics of Paradise
Verse sixteen mentions four kinds of favours and blessings in the next world, that is, rivers of pure water, rivers of milk of which the taste does not change, rivers of wine which gives delight and rivers of purified honey which will be given to the righteous in plenty.
Worldly waters become polluted by getting mixed with earth, vegetation and other adulterating substances which make them stink. But in Paradise, there will be rivers having un-pollutable water. The river of pure, clean water that will not go bad in taste, smell or colour, (and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
17 That is, "Just as an animal cats and does not think wherefrom the food it eats has come, who has created it, and what rights of the creator arc imposed on it for providing it with food, so are these people also eating and have no higher values or ideals beyond eating. "
Read the full tafseer →