Explained with ayahs 10–13
تمام شہروں سے پیارا شہر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی ؟ جو یہ معلوم کرلیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے ؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لئے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بےولی ہیں۔ اسی لئے احد والے دن مشرکین کے سردار ابو سفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 17
یعنی جس طرح جانور کھاتا ہے اور کچھ نہیں سوچتا کہ یہ رزق کہاں سے آیا ہے، کس کا پیدا کیا ہوا ہے، اور اس رزق کے ساتھ میرے اوپر رازق کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں، اسی طرح یہ لوگ بھی کھائے جا رہے ہیں، چرنے چگنے سے آگے کسی چیز کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں اور اس طرح (آخرت سے بےفکر ہو کر) کھاتے (پیتے) ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں (کہ وہ نہیں سوچتے کہ ہم کو کیوں کھلایا پلایا جاتا ہے اور ہمارے ذمہ اس کا کیا حق واجب ہے) اور جہنم ان لوگوں کا ٹھکانا ہے (اور اوپر جو کفار کے دنیا میں عیش کرنے کا ذکر ہوا اس سے آپ کے مخالفین کو دھوکہ نہ کھانا چاہئے، اور نہ آپ کو ان کی اس غفلت پر کچھ حزن و ملال ہونا چاہئے، جو ان کی مخالفت کا سبب بنی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →ان اللہ یدخل الذین امنوا و عملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر ط والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم 12
یہ اہل ایمان کے اعمال کے ثمر اور کفار کے اعمال کے رائیگاں ہونے کی مزید وضاحت اور اس شہ کا جواب ہے کہ جب کفار کے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو اس دنیا میں وہ کیوں دندناتے پھر رہے ہیں ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی رہے یہ کفار تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس دنیا میں ان کو کھانے بسنے کی جو مہلت ملی ہے یہ کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ ان کا کھانا پینا جانوروں کے مانند ہے۔ یہ عقل و خرد سے عاری اور ان حقوق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 یعنی جس طرح جانور کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ اس ضمن میں کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے، جس کا آجکل دعوتوں میں عام رواج ہے کیونکہ اس میں بھی جانوروں سے مشابہت ہے جسے کافروں کا شیوا بتلایا گیا ہے احادیث میں کھڑے کھڑے پانی پینے سے نہایت سختی سے منع فرمایا گیا، جس سے کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے اس لئے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے بعض اوقات اس زمین پر بھی بہت اچھا کھاتے پیتے ہیں لیکن اللہ مومنین کے اس حصے کے درمیان جو ان کی جنت کی صورت میں ملنے والا ہے اور کافروں کے اس تمام سروسامان کے درمیان موازنہ کرتا ہے جو ان کی اس دنیا اور آخرت دونوں میں ملنے والا ہے۔
مومنین کا حصہ رسدی یہ ہے کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ان کو یہ مقام عزت اللہ عطا کرے گا۔ لہٰذا مومنین کا یہ سازو سامان اور یہ اکرام بہت ہی بڑا ہے۔ یہ بارگاہ عزت میں ہے۔ یہ اللہ کے ہاں ان کا مقام ہے اور یہ ایمان وتقویٰ اور عمل و صلاح کی بنا پر ہے۔ یہ اونچی جنتوں میں اونچے رب تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →9 یعنی دنیا کا سامان عبرت رہے اور مارے حرص کے بہائم کی طرح اناپ شناپ کھاتے چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ کی خبر نہیں کہ کل یہ کھایا پیا کس طرح نکلے گا۔ اچھا چند روز مزے اڑالیں آگے ان کے لیے آگ کا گھر تیار ہے۔
Read the full tafseer →آیت 12 { اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”یقینا اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی۔“
{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ } ”اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کر رہے ہیں اور ایسے کھا رہے ہیں جیسے حیوانات کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔“
Read the full tafseer →13 کافروں کا کھانا پینا حیوانوں کی طرح ہے :۔ اس جملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح چوپایوں کو یہ تمیز نہیں کہ ان کا کھانا حلال ذرائع سے آیا ہے یا حرام ذرائع سے اسی طرح کافروں کو بھی یہ تمیز گوارا نہیں ہوتی۔ چوپائے جہاں سے بھی ملے کھالیتے ہیں انہیں اپنے بیگانے کی تمیز نہیں نیز کمزور جانور کو مار دھاڑ کر طاقتور جانور کمزوروں کا کھانا بھی خود کھا جاتے ہیں۔ یہی حال کافروں کا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جانوروں یا چوپایوں کا کھانا کھانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بھوک دور کریں اور اپنی زندگی کو باقی رکھیں۔ کافروں کا بھی کھانے سے اتنا ہی مقصد ہوتا ہے۔ اس سے آگے وہ یہ نہیں سوچتے کہ…
Read the full tafseer →14۔ (اس لئے کہ انہوں نے ساری زندگی سوال آخرت اور دینی ذمہ داری سے بالکل بےفکر ہو کر گزاری تھی) ۔ (آیت) ” یاکلون “۔ تاکل۔ اکل کا ترجمہ دونوں جگہ اردو محاورہ کے لحاظ سے ” کھانے پینے “ ہی سے ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” کما تاکل الانعام “۔ یعنی جس طرح مویشیوں کو کھانے سے مقصود بس پیٹ بھرنا ہی ہوتا ہے اور اور کوئی غرض ان کے سامنے نہیں ہوتی، منکرین آخرت اور مادیین کے سامنے بھی پیٹ ہی کا سوال اصل سوال ہوتا ہے۔ جس کے آگے اور کچھ نہیں۔ کھانے پینے کا مآل کیا ہے اور اس کھانے پینے کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ان سارے سوالات کی طرف سے یہ لوگ بےفکر ہی رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ترجمہ :۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہیں اللہ تعالیٰ یقینا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور کفر کرنے والے دنیا میں (چند روزہ) زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا (پی) رہے ہیں یعنی ان کے پیش نظر (شہوت بطن و فرج یعنی) پیٹ اور پیٹھ کی شہوت کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے (یعنی) ان کی منزل، مقام اور ٹھکانہ جہنم ہے (اے نبی) ہم نے کتنی ہی بستیوں کو مراد بستی والے ہیں جو طاقت میں تیری اس بستی مکہ سے یعنی مکہ والوں سے زیادہ تھیں جس سے تجھ کو نکالا (اخر جتک) میں لفظ قریۃ کی رعایت کی گئی ہے ہلاک کردیا اول قریۃ…
Read the full tafseer →ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ‘ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے (درختوں اور محلوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں ‘ وہ (دنیا میں) عیش کر رہے ہیں جانوروں کی طرح کھا رہے ہیں اور (آخرت میں) دوزخ ان کا ٹھکانہ ہوگا۔
یَتَمَتَّعُوْنَ یعنی کچھ دنوں دنیا کے مزے اڑاتے ہیں۔
کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَام یعنی جانوروں کی طرح کھانے کی حرص کرتے ہیں ‘ منعم سے غافل ہیں ‘ اس کا شکر نہیں کرتے اور انجام بد سے نہیں ڈرتے۔
مَثْوًی فرودگاہ ‘ جائے…
Read the full tafseer →جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے حق تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی۔
اور جو لوگ کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کر رہے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کو بغیر کل کی فکر کیے ہوئے پورا کر رہے ہیں جیسا کہ چوپائے کھایا کرتے ہیں اور آخرت میں دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ان اللہ یدخل الذین اناللہ یدخل الذین امنوا…: دنیا میں پہلی قوموں پر آنے والے عذابوں کا اور ایمان والوں کی نصرت کا ذکر فرمانے کے بعد آخرت میں دونوں کا انجام ذکر فرمایا۔ چونکہ مومن اپنے ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کے پابند رہے، انہوں نے دنیا کی نعمتوں اور لذتوں سے فائدہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند رہ کر اٹھایا۔ وہی کھایا اور پہنا جو ان کے رب نے ان کے لئے حلال فرمایا، وہ تمام حرام کردہ اشیاء سے بچے۔ شراب ، ریشم اور سونے کے استعمال سے پرہیز کرتے رہے۔ زنا، چوری، دوسرے کا حق کھانے، غرض ہر معصیت سے اجتناب کیا۔ ان کی لذتیں اٹھانے کی بیشمار حسرتیں ان کے دل…
Read the full tafseer →اس آیت کی وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے جنہوں نے کفر کیا وہ دنیا میں لطف اندوز ہوں گے یا وہ چوپائے ہیں ان کے لئے کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی مگر ان کے پیٹ اور ان کی شرمگاہیں وہ آنے والے دن میں جو کچھ ہونے والا ہے اس سے غافل ہیں
ایک قول کیا گیا ہے : مومن دنیا میں زادراہ پر اکتفا کرتا ہے منافق زیب وزینت کرتا ہے اور کافر لطف اندوز ہوتا ہے۔ آگ ہی ان کا ٹھکانہ اور منزل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنا ر “ (اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور وہ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں یعنی وہ اپنی آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابو یعلی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے غار کی طرف نکلے تو پیچھے مڑ کر مکہ کی طرف دیکھا تو اور فرمایا اللہ کے نزدیک اس کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب شہر ہے اگر میرے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر تیرے رہنے والے مجھے نہ…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ [ یقینا اللہ داخل کرے گا ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کو جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور جنھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات میں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا [ بہتی ہیں جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۭ [ نہریں ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور جنھوں نے کفر کیا ] يَتَمَتَّعُوْنَ [ وہ فائدہ اٹھاتے ہیں ] وَيَاْكُلُوْنَ [ اور کھاتے ہیں ] كَمَا تَاْكُلُ [ جیسے کھاتے ہیں ] الْاَنْعَامُ [چوپائے ] وَ [ اس حال میں کہ ] النَّارُ [ آگ ] مَثْوًى [ ٹھکانہ ہے ] لَّهُمْ [ان کے لیے ]
نوٹ۔ 3: جس طرح جانور کھاتا ہے اور کچھ نہیں سوچتا کہ یہ رزق کہاں سے آیا ہے ، کس کا…
Read the full tafseer →اہل ایمان کا انعام اور کفار کی بدحالی
اس کے بعد اہل ایمان کا انعام اور کافروں کی طرز زندگی (دنیا میں) اور ان کا عذاب بیان فرمایا جو آخرت میں ان کے لیے تیار کیا گیا ہے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ 1ؕ﴾ (بلاشبہ اللہ داخل فرمائے گا ایمان والوں کو اور جنہوں نے نیک عمل کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی) ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَ يَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ (اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ نفع حاصل کرتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں یہ ان کا دنیاوی حال ہے) ﴿…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10:۔ ” ان اللہ “ بشارت اخرویہ وہ بیان احوال مؤمنین۔ جو مؤمنین زیور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ جنت کے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی ” والذین کفروا “ تخویف اخروی مع بیان احوال مشرکین۔ کفار آخرت سے ایسے غافل ہیں کہ ہر وقت دنیوی منافع حاصل کرنے اور عیش اڑانے میں مشغول ہیں اور چوپایوں کی طرف فکر آخرت اور انجام و عاقبت سے بیخبر ہو کر کھانے پینے میں منہمک رہتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ” وکاین من قریۃ۔ الایۃ “ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور ضمناً آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ قریۃ سے مجازاً اہل قریہ مراد ہیں۔ بہت سی بستیاں جن میں سے ہر بستی والے آپ کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔
منومنوں کے لیے جنت
اب…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَاْكُلُوْنَ كَـمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّہُمْ 12
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ منکروں کو ہلاکی ہے اب اس ہلاکی کا ثبوت دیتا ہے فقال یسیروافی الارض کہ کیا قریش نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے اگلوں کا کیا انجام ہوا ؟ شام میں جاتے ہوئے قوم ثمود کے آثار اور یمن میں جاتے ہوئے قوم عاد کے امارات ان کو دکھائی دیا کرتے ہیں۔ ان کا انجام یہ ہوا دمر اللہ علیہم اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ اور قریش یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہلاکی اور بربادی انہیں کے لیے تھی بلکہ وللکافرین امثالہا کفار کے لیے خواہ عاد وثمود ہوں یا قریش مکہ ہوں ایسے ہی انجام ہوتے ہیں۔ امثالہا اے امثال العاقبۃ اور یہ کیوں ہے ذلک بان اللہ مولی الذین آمنوا الخ اس لیے کہ اللہ ایمانداروں کا حامی…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ ۔ (محمد : 12)
(بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔ )
ایک اشتباہ کا ازالہ
حق و باطل کی کشمکش میں دو ہی گروہ ہیں جن میں سے ایک اہل حق کا گروہ ہے اور دوسرا اہل باطل کا۔ اہل حق خیر کے نمائندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمان دین پر قائم رہتے ہوئے منظم طریقے کے ساتھ کفار کا مقابلہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور آخرت میں انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایمانداروں کے ساتھ بار بار وعدہ کیا ہے کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کے بتلائے ہوئے صالح اعمال اختیار کرو تو تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ یہاں تک کفار کا معاملہ ہے وہ اپنے رب کی نعمتیں کھاتے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن آخر کار ان کا انجام جہنم کی آگ ہوگا اور یہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں جلتے رہیں گے۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی بستیاں تباہ کیں…
Read the full tafseer →ایمان والوں اور کفار کے انجام کا تقابل :
آیت 12 : اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو لوگ کافر ہیں وہ عیش کر رہے ہیں) اور دنیا کی زندگی کے سامان سے چند دنوں نفع اٹھا رہے ہیں۔ وَیَاْکُلُوْنَ (اور وہ اس طرح کھاتے ہیں) جو بلا سوچ و فکر انجام محض غفلت سے ہے۔ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (جیسے چوپائے کھاتے ہیں) اپنی چراگاہوں اور علف زاروں میں بغیر اس بات کو سوچے و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11 ۔ ” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا۔ ” بان اللہ مولی الذین امنوا “ ان کا ولی اور مددگار ہے۔ ” وان الکافرین لا یتمتعون “ دنیا میں۔ ” ویاکلون کماتاکل الانعام “ ان کا مقصد صرف ان کے پیٹ اور ان کی شرم گاہیں ہیں اور وہ کل آنے والی چیز سے غافل اور بھولے ہوئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مومن دنیا میں سفر توشہ جمع کرتا ہے اور منافق زیب وزینت اختیار کرتا ہے اور کافر نفع اٹھاتا ہے۔ ” والنار مثوی لھم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے عام طور پر سب نیک و بد لوگوں کی قبض روح کا ذکر فرما کر اس کے بعد فرمایا ہے ثم ردوا الی اللہ مولاھم الحق جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد نیک بد سب اللہ کے سامنے جائیں گے کیونکہ وہ سب کا مالک ہے اور ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ایمانداروں کا اللہ مولیٰ ہے اور کافروں کا مولیٰ نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنوں میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا مولیٰ ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایماندار اور کافر سب کا مولیٰ ہے اس شبہ کا جواب…
Read the full tafseer →اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سرپرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تروتازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والیو مددگار نہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہوسکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہوگئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 29] نجات کا ذریعہ ایمان اور عمل صالح، وباللّٰہ التوفیق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے۔ اللہ ان کو داخل فرما دے گا ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے نہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صادق اور عمل صالح ہی ہے۔ پس جنت میں داخل ہونے کیلئے ان دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ یعنی ایمان صادق اور عمل صالح کہ ایمان تو وہ اصل اور بنیاد ہے جس کے بغیر کسی عمل کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ اور عمل صالح اس کا وہ لازمی تقاضا اور اہم ثمرہ و پھل ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–19
آیات 12 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اور اللہ تو ان لوگوں جو ایمان لائے اور احکام شریعت پر عمل کرتے رہے جنت میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں جاری ہیں یعنی سدا آباد و شاداب ہے اور کفار کودیکھوتوجانوروں کی طرح سے پیٹ بھرنے لذتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جس کی نعمتیں کھا رہے ہیں اور جس کے جہان میں بستے ہیں جس نے کھانے کی توفیق عطا کی اس کا شکر بھی اداکرناچاہیے لہذا ان کاٹھکانہ آگ میں ہوگا اور وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے کفار مکہ نے عظمت الٰہی کو بھول کر آپ کی بات قبول نہ کی اور آپ کو تنگ کرکے ہجرت پہ مجبور کردیا انہیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ ان سے کس قدر جوان ان حرکات کی وجہ سے ہلاک ہوچکے اور…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی جس طرح جانوروں کو کھانے پینے کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی ان کافروں کو بھی اس کے سوا کوئی فکر نہیں سر سے پائوں تک دنیا میں غرق ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ یوں بھی بسیار خوری کفار کی عادات میں سے ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” مومن ایک آتن میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔ ‘ ‘(ابن کثیر)
Read the full tafseer →(47:12) یتمتعون : مضارع جمع مذکر غائب، تمتع (تفعل) مصدر۔ وہ فائدہ حاصل کرتے ہیں (دنیا میں) وہ مزے اڑاتے ہیں۔
کما : ک حرف تشبیہ ہے اور ما مصدریہ سے مرکب ہے۔ جیسا کہ (کھاتے ہیں چوپائے) ۔
تاکل ۔ مضارع واحد مؤنث غائب الانعام چوپائے، مویشی، بھیڑ، بکری، گائے ، بھینس، اونٹ، مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ ان میں اونٹ شامل نہ ہوں۔ یہ نعم کی جمع ہے۔
مثوی ظرف مکان مفرد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانہ، دراز مدت تک ٹھہرنے کا مقام قیام گاہ۔ فرودگاہ۔ ثوی یثوی ثواء ، ثوی (باب ضرب) مصدر، ٹھہرنا۔ قیام کرنا۔ اترنا۔ (قیام کے لئے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
تشریح آیات نمبر 12 تا 15
قرآن میں اصولی اور بنیادی بات یہ ارشاد فامائی گئی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گذار، فرماں بردار ‘ دین اور شریعت کی پابندی اور اپنی خواہش نفس کے خلاف چلنے والا ہے وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ترین آدمی ہے بلکہ آخرت کی تمام بھلائیاں بھی اسی کو عطا کی جائیں گی۔ اس کے برخلاف اللہ و رسول کا نافرمان ‘ کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والا ‘ بےحس اور بےعقل جانوروں کی طرح کھاپی کر زندگی گذارنے والا ‘ اپنے نفس اور بےجا خواہشتات کی غلامی کرنے والا نہ دنیا میں کامیاب ہے اور نہ آخرت میں بلکہ آخرت میں اس کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا اللہ کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنی میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں سب کا کارساز ہے، اس شبہ کا جواب مفسروں نے یہ دیا ہے کہ سورة انعام میں حشر اور حساب اور کتاب کے ذکر کا موقع تھا اور قیامت میں حساب اللہ تعالیٰ نیک وبد سب سے لیوے گا اور اسی واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک نیک وبد کے حساب کا مالک ہے اور یہاں مدد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
مردِ مومن کے رجحانات
1: مومن اور کافر کی توجہالت فکر میں یہ فرق ہے ۔ کہ مومن کے سامنے صرف حقیر اور ناچیز دنیا نہیں ہوتی ۔ اس کی نگاہ بلند ہوتی ہے ۔ جس سے عقبیٰ کی رفعتیں دیکھتا ہے ۔ مگر کافر صرف دنیا تک اپنی تگ دو کو محدود رکھتا ہے ۔ مومن جہاں جسم کی بالیدگی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ وہاں سرخ کی تازگی اور بشاشت بھی چاہتا ہے ۔ کافر کی توجہ صرف پیٹ اور اس کے مقتضبات کی طرف لگی رہتی ہے ۔ مومن اس لئے کھاتا پیتا اور مخلوط دنیا سے استفادہ کرتا ہے ۔ کہ آخرت کے لئے اپنے میں وقت ونشاط پاسکے ۔ اور کافروں کے دن دنیا کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے ۔ کہ اپنے جذبات شہوت وحرص کی تسکین کرسکے ۔ زیادہ وافصیح الفاظ…
Read the full tafseer →(12) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ لوگ جو دین حق کے منکر اور کفر پیشہ ہیں وہ دنیا میں عیش کررہے ہیں اور اس طر ح دنیا میں بےفکر ہوکر کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھایا کرتے ہیں اور ان منکروں کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جانور کا سا کھانا یعنی حرص سے اور مسلمان کھاویں رفع حاجت کو۔
خلاصہ : یہ ہے کہ اس آیت میں فریقین کا انجام مذکور ہے یعنی جو لوگ ایمان اور عمل صالح کے پابند ہیں وہ جنت میں داخل ہوں گے جن کے پائیں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9۔ غرض کفار دارین میں خاسر رہے۔
Read the full tafseer →12 ؎ دنیوی زندگی کے رزق دیئے جانے کا اصول الگ ہے آخرت کی زندگی کے رزق دیئے جانے کا معاملہ الگ اس لئے مومن کی اس دنیا کی زندگی میں جو اس کا حصہ ہے وہ تو ملے گا لیکن اس کے اعمال کے باعث جو اس کی آخروی زندگی میں رکھا گیا ہے وہ باغات پر کبھی خزاں نہیں آئے گی اور وہ جو میوہ جات چاہیں گے ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے اور کسی چیز کی وہاں کوئی کمی نہیں ہوگی اس لئے کہ ان کے اعمال ہی کے یہ ثمرات ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں جو کافر ہیں ان میں اور اس دنیا کے سارے جانوروں کیں خواہ وہ چرند ہیں ، پرند ہیں یا درند ہیں یا دوسرے سارے حشراتالارض اور ڈنگر ڈھور ہیں ان میں کوئی فرق نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
Commentary
Essential Characteristics of Paradise
Verse sixteen mentions four kinds of favours and blessings in the next world, that is, rivers of pure water, rivers of milk of which the taste does not change, rivers of wine which gives delight and rivers of purified honey which will be given to the righteous in plenty.
Worldly waters become polluted by getting mixed with earth, vegetation and other adulterating substances which make them stink. But in Paradise, there will be rivers having un-pollutable water. The river of pure, clean water that will not go bad in taste, smell or colour, (and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
17 That is, "Just as an animal cats and does not think wherefrom the food it eats has come, who has created it, and what rights of the creator arc imposed on it for providing it with food, so are these people also eating and have no higher values or ideals beyond eating. "
Read the full tafseer →