Explained with ayahs 10–13
تمام شہروں سے پیارا شہر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی ؟ جو یہ معلوم کرلیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے ؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لئے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بےولی ہیں۔ اسی لئے احد والے دن مشرکین کے سردار ابو سفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 16
جنگ احد میں جب نبی ﷺ زخمی ہو کر چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹھیرے ہوئے تھے اس وقت ابوسفیان نے نعرہ لگایا لنا عُزّیٰ وَلَا عُزّٰی لَکُمْ۔ " ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں ہے "۔ اس پر نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا اسے جواب دو اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ " ہمارا حامی و ناصر اللہ ہے اور تمہارا حامی و ناصر کوئی نہیں "۔ حضور ﷺ کا یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ تھا۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ ، لفظ مولیٰ بہت سے معانی کے لئے مستعمل ہوتا ہے ایک معنی کار ساز کے ہیں جو اس جگہ مراد ہیں اور ایک معنی مالک کے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ کفار کے بارے میں آیا ہے (آیت) ردوا الی اللہ مولھم الحق، اس میں اللہ تعالیٰ کو کفار کے لئے بھی مولیٰ قرار دیا ہے کیونکہ مولیٰ کے معنی مالک کے ہیں اور مالکیت اللہ تعالیٰ کی عام ہے مومن کافر کوئی اس سے خارج نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمرا اللہ علیھم واللکفرین امثالھا 10
کفار قریش کی بےبصیرتی
یہ ان مشرکین کی کور چشمی اور بےبصیرتی پر اظہار افسوس ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے ملک میں اس مقصد سے چلے پھرے نہیں کہ ان قوموں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، اللہ نے ان کو بالکل پامال کردیا ! آیت کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ چلے پھرے تو ہیں، اپنی تجارتی سفروں پر برابر نکلتے رہے ہیں لیکن ان بستیوں پر کبھی عبرت کی نگاہ انہوں نے نہیں الی جو کسی زمانے میں عظیم قوموں کا مکسن تھیں لیکن اب وہ ویرانوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی…
Read the full tafseer →11۔ 1 چناچہ جنگ احد میں کافروں کے نعروں کے جواب میں مسلمانوں نے جو نعرے بلند کیے مثلا اعل ھبل اعل ھبل (ھبل بت کا نام ہے) کے جواب میں اللہ اعلی واجل کافروں کے انہی نعروں میں سے ایک نعرے لنا العزی ولا عزی لکم کے جواب مسلمانوں کا نعرہ تھا اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ صحیح بخاری۔ اللہ ہمارا مددگار ہے تمہارا کوئی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ ۔۔۔۔۔ مولیٰ لھم (47 : 11) “ یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں ”۔
جس کا آقا اللہ ہو اور وہ اس کا مددگار ہو تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔ یہ شخص کسی کا محتاج نہ ہوگا ، ہر کسی سے بےنیاز ہوجائے گا۔ ایسے شخص پر اگر مشکل حالات بھی آتے ہیں تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کی آزمائش ہو رہی ہے ۔ اور اس آزمائش کے بعد خیر ہی خیر ہے۔ یہ آزمائش اور یہ مشکلات اس لئے نہیں کہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے بھی نہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں کی مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ بلکہ یہ ایک بندۂ مومن کی آزمائش ہوتی ہے۔ اور جس کا آقا اللہ…
Read the full tafseer →8 یعنی اللہ مومنین صالحین کا رفیق ہے جو وقت پر ان کی مدد کرتا ہے۔ کافروں کا ایسا رفیق کون ہے۔ جو اللہ کے مقابلہ میں کام آسکے " غزوہ احد " میں ابو سفیان نے پکارا تھا۔ لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ آپ ﷺ نے فرمایا پکارو " اللّٰہُ مَوْلَانَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ ۔ "
Read the full tafseer →آیت 11 { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ } ”یہ اس لیے کہ اللہ مولیٰ پشت پناہ ہے اہل ایمان کا اور یہ کہ کافروں کا کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔“
اسی آیت کے الفاظ سے رسول اللہ ﷺ نے وہ نعرہ اخذ فرمایا تھا جس سے میدانِ اُحد میں کفار کے نعرے کا جواب دیا گیا تھا۔ میدانِ اُحد میں وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس دوران رسول اللہ ﷺ کچھ صحابہ رض کے ساتھ جبل احد پر تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت ابو سفیان اور خالد بن ولید بعد میں دونوں حضرات ایمان لا کر صحابہ رض میں شامل ہوئے سمیت بہت سے سردارانِ قریش پہاڑ کے دامن میں موجود تھے۔ ان میں…
Read the full tafseer →12 غزوہ احد کے اختتام پر ابو سفیان کی نعرہ بازی اور اس کا جواب :۔ یعنی کافر یہ سمجھتے ضرور ہیں کہ ان کی دیویاں اور دیوتا ان کی مدد کو پہنچتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کا وہم ہوتا ہے۔ دور نبوی کے حق و باطل کے معرکوں میں صرف غزوہ احد ہی وہ جنگ ہے جس میں ابتدائ ً مسلمانوں کو ان کی اپنی ہی غلطی سے عارضی طور پر شکست سے دو چار ہونا پڑا اور آخر میں میدان برابر رہا۔ ابو سفیان نے اپنی اتنی سی کامیابی کو بھی غنیمت سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دیوتا اور بت ہبل کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ اَعْلَی الھُبَل (ہبل سربلند ہوا) تو رسول اللہ نے مسلمانوں سے کہا اسے یہ جواب دو ! اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلّ (سر بلند تو صرف اللہ…
Read the full tafseer →13۔ (جو اللہ کے مقابلہ میں ان کے کام آسکے) (آیت) ” بان ..... امنوا “۔ اور وہی اللہ دنیا وآخرت میں مومنین کے کام بناتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی مومنوں کی نصرت اور کافروں کی بدانجامی۔ اے نصر ال مومنین وسوء عاقبۃ الکافرین (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا وان الکفرین لا مولی لھم یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ مسلمانوں کا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا یعنی اہل مکہ کیا ملک میں چلے پھرے نہیں۔ استفہام انکاری ہے اور اس کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا یہ (گھروں سے) باہر نہیں نکلے اور ملک میں چلے پھرے نہیں۔
اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ یعنی گذشتہ پیغمبروں کی کافر امتیں۔
دَمَّرَ اللّٰہُ اللہ نے ان کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا۔
عَلَیْھِمْ یعنی ان کو اور ان کے اہل و عیال و مال کو۔
وَلِلْکٰفِرِیْنَ یعنی مکہ کے کافروں کیلئے۔
اَمْثَالُھَا اس سابق انجام سے ‘ یا اس عذاب سے ‘ یا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
کیا کفار مکہ نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا اور انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کفار کا کیا انجام ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کفار مکہ پر بھی اسی قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔
اور مسلمانوں کو یہ فتح اس لیے حاصل ہوئی کہ حق تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے اور ان کفار مکہ کا کوئی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا…: یعنی کافروں پر ہلاک نازل کرنے کا باعث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو انہیں ہلاکت سے بچا سکے۔ جب جنگ احدم میں ابوسفیان نے اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر نعرہ لگایا :(ان لنا العزی ولا عزی لکم) (ہمارا مددگار عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی بھی مددگار نہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے جواب میں یہ کہنے کا حکم دیا :(اللہ مولانا ولی مولی لکم) (بخاری، الجھاد، باب ما بکرہ من التازع…:3039)”اللہ ہمارا مددگار نہیں۔“ یہ جواب اسی آیت سے ماخوذ ہے۔
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ولی اور مددگار ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت وہی ہے مولیٰ سے یہاں مراد مددگار ہے یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ شاعر نے کہا :
وہ گائے دونوں کھلے میدانوں کو گمان کرتی ہے کہ وہ آگے سے اور پیچھے سے خوف کی جگہ ہے۔
قتادہ نے کہا : یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل کی گئی جبکہ نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی میں تھے جب مشرکوں نے یہ نعرہ لگایا تھا دن دن کے مقابلہ میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : :” تم کہو اللہ ہمارا آقا ہے اور تمہارا کوئی آقا نہیں “ (1) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
اور کافروں کا کوئی مددگار نہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
3:۔ ابن شیبہ (رح) وابن عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے (اللہ کے) فرائض کو ناپسند کیا۔
رسولوں کو جھٹلانے والوں کا برا انجام :
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم دمر اللہ علیہم “ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے کافروں کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی (تباہی ڈالی) یعنی اللہ نے ان کو مختلف قسم کے عذابوں کے ساتھ ان کو ہلاک کردیا اس طرح تاکہ غور وفکر کرنے والا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ [ یہ اس سبب سے کہ اللہ ] مَوْلَى [ بگڑی بنانے والا ہے ] الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ ان کی جو ایمان لائے ] وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ [ اور یہ کہ کافر لوگ ] لَا مَوْلٰى [ کوئی بگڑی بنانے والا نہیں ہے ] لَهُمْ [ان کے لیے ]
نوٹ۔ 2: لفظ مولی بہت سے معانی کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ ایک معنی کارساز کی ہیں جو یہاں مراد ہیں ۔ ایک معنی مالک کے ہیں ۔ قرآن میں دوسری جگہ (سورہ یونس ۔ 30) کفار کے بارے میں آیا ہے ” اور وہ لوٹائے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا حقیقی آقا ہے “ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کو کفار کے لیے بھی مولی قرار دیا ہے کیونکہ مولی کے معنی مالک کے (بھی ) ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مالکیت عام…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا مولیٰ ہے
﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (یہ جو کچھ مذکور ہوا یعنی اہل ایمان کا جنت میں داخل ہونا اور اہل کفر کا دنیا و آخرت میں برباد ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان والوں کا مولیٰ ہے یعنی ان کا ولی ہے مددگار ہے کارساز ہے) ﴿ وَ اَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ (رح) 0011 ﴾ (اور کافروں کا کوئی کارساز و مددگار نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ماخوذ از افاضات حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ۔ مراجعت فرمائیں (ازالۃ الخفاء )
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ...... الی ......... وان الکفرین لامولی لھم “۔
(ربط) سابق مضمون مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب وتشویق پر مشتمل تھا اور یہ کہ اہل حق پر یہ لازم ہے کہ باطل کو مٹانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کرڈالیں جب تک وہ فریضہ جہاد ادا نہیں کریں گے عند اللہ بری الذمہ نہ ہوسکیں گے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور میدان جہاد میں انکی ثابت قدمی کا میعار بیان فرمایا جارہا ہے۔
فرمایا، اے ایمان والو اگر تم مدد کروگے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9:۔ ” افلم یسیروا۔ الایۃ “ احوال مشرکین و تخویف دنیوی ہے۔ یہ سرکش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے ہیں کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ اپنے سے پہلے سرکش لوگوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔ اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال اور اموال کو تباہ کردیا۔ ان کی سرکشوں کے لیے ایسے انجام بد کی بہت سی مثاللیں ہیں۔ گذشتہ اقوام متمردہ کی ہلاکت و تباہی میں ان کے لیے بیشمار عبرتیں ہیں۔ ” ذلک “ معاملہ اسی طرح ہے۔ ” بان اللہ الخ “ یہ لیستیقنوا کے متعلق ہے اور ترغیب الی الجہاد کی دوسری علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات
ابتدائے سورة میں تمہید بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ نے جنگ کے بعض قوانین بیان فرمائے کہ اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ بلکہ جرأت اور بہادری سے لڑنا ، پھر جب اچھی طرح خونریزی ہوجائے تو دشمن کے بچے کھچے سپاہیوں کو قیدی بنا لو حتیٰ کہ جنگ موقوف ہوجائے۔ جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ یا تو ان پر احسان کر کے انہیں رہا کر دو یا ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو ۔ یہ جنگ کافروں کو سزا دینے کا ایک طریقہ ہے ، تا ہم اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی دوسرے طریقے سے بھی کفار کا قلع قمع کرنے پر قادر ہے۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جنگ کے ذریعے آزمائش کرنا چاہتا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَہُمْ 11 ۧ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ منکروں کو ہلاکی ہے اب اس ہلاکی کا ثبوت دیتا ہے فقال یسیروافی الارض کہ کیا قریش نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے اگلوں کا کیا انجام ہوا ؟ شام میں جاتے ہوئے قوم ثمود کے آثار اور یمن میں جاتے ہوئے قوم عاد کے امارات ان کو دکھائی دیا کرتے ہیں۔ ان کا انجام یہ ہوا دمر اللہ علیہم اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ اور قریش یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہلاکی اور بربادی انہیں کے لیے تھی بلکہ وللکافرین امثالہا کفار کے لیے خواہ عاد وثمود ہوں یا قریش مکہ ہوں ایسے ہی انجام ہوتے ہیں۔ امثالہا اے امثال العاقبۃ اور یہ کیوں ہے ذلک بان اللہ مولی الذین آمنوا الخ اس لیے کہ اللہ ایمانداروں کا حامی…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْـکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 11)
(یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان لانے والوں کا کارساز ہے، اور کافروں کا کارساز کوئی نہیں۔ )
کفار کا کوئی کارساز نہیں
اصحابِ سیر نے جنگ احد کے حالات لکھتے ہوئے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب زخمی ہو کر چند صحابہ کے ساتھ ایک گھاٹی میں رکے ہوئے تھے اس وقت ابوسفیان نے پہاڑ کے قریب آکر نعرہ لگایا لَنَاعُزّٰیٰ وَلاَ عُزّٰیٰ لَـکُمْ ” یعنی ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : اسے جواب دو ، اَللّٰہُ مَوْلاَ نَا وَلاَ مَوْلیٰ لَـکُمْ ” ہمارا کارساز اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کا وعدہ اور کفار کی ہلاکت کا ذکر ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ کفار کی تباہی دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو۔
انسان جن چیزوں سے سبق حاصل کرتا ہے ان میں پہلی اقوام کے آثار اور نشانات بھی اس کی عبرت کا باعث بنتے ہیں اس لیے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لوگوں کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ! زمین پر چل کر ان لوگوں کے آثار اور نشانات دیکھو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کیا ہے۔ یہی حکم اہل مکہ کو دیا گیا کہ کیا وہ اپنے سے پہلے باغیوں کا انجام نہیں دیکھتے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح تباہ کیا اور اسی طرح ہی تمہارے ساتھ ہوگا۔ ایسا…
Read the full tafseer →کارسازی کی جہتیں :
آیت 11 : ذٰلِکَ (یہ) یعنی مؤمنوں کی مدد اور کفار کی بد انجامی بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا کار ساز ہے) کارساز و مددگار وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ (اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں) ان کا کوئی مددگار نہیں اللہ تعالیٰ موجد ہونے کی وجہ سے بندے کا کارساز ہے۔ اس کو بندے میں تصرف کا پورا اختیار ہے۔ اور مدد کا مالک ہے پس موجد و متصرف ہونے کی جہت سے تو وہ مؤمنوں اور کافروں کا کارساز ہے اور جہت نصرت کے لحاظ سے صرف مؤمنوں کا خاص طور پر کارساز ہے۔
Read the full tafseer →10 ۔ پس کہا ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمر اللہ علیھم “ یعنی ان کو ہلاک کردیا۔ ” وللکافرین امثالھا “ یعنی وہ ایمان نہیں لائے مشرکین مکہ کو دھمکی دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے عام طور پر سب نیک و بد لوگوں کی قبض روح کا ذکر فرما کر اس کے بعد فرمایا ہے ثم ردوا الی اللہ مولاھم الحق جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد نیک بد سب اللہ کے سامنے جائیں گے کیونکہ وہ سب کا مالک ہے اور ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ایمانداروں کا اللہ مولیٰ ہے اور کافروں کا مولیٰ نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنوں میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا مولیٰ ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایماندار اور کافر سب کا مولیٰ ہے اس شبہ کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
رسولِ مصطفیٰ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں ؟ (فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم) ” تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ “ پس وہ ان کے انجام کو بدترین انجام پائیں گے اور اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہوگئے، ان کے کفر اور تکذیب انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کردیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تاروپود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے اور انہیں بری سزائیں ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 28] اللہ کارساز ہے ایمان والوں کا، سبحانہ و تعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ مولیٰ ہے ایمان والوں کا اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔ یہاں پر " مولی " کے معنی دوست و مددگار اور حامی و ناصر اور کارساز کے ہیں۔ اور یہ صرف اہل ایمان کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ حامی و ناصر کارساز و حمایتی صرف اہل ایمان ہی کا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ کافروں کے لئے کوئی " مولی " اور کارساز نہیں۔ اور جہاں " مولی " بمعنی مالک و متصرف کے ہوں گے وہاں اس کا تعلق اہل ایمان اور کفار سب ہی کے ساتھ ہوگا کہ مالک تو بہرحال سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ { ثم ردوا الٰی اللّٰہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی انہوں نے اپنے لئے جو جھوٹے سہارے بنا رکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کے کسی کام نہیں آسکتے۔ غزوہ احد کے دن مسلمانوں کا نعرہ (اللہ مولانا ولا مولیٰ لکم) اسی آیت سے ماخوذ تھا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(47:11) ذلک : ای نصر المؤمنین وسوء عاقبۃ الکافرین۔ مسلمانوں کی فتح یابی اور کافروں کی زبوں حالی۔
بان اللہ ۔ ب سببیت کی ہے ان حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ اللہ اسم ان اور منصوب بوجہ عمل ان ہے ۔ باقی جملہ خبر ہے ان کی۔
مولی الذین امنوا ۔ مولی مضاف، الذین امنوا صلہ وموصول مل کر مضاف الیہ ۔ ایمان والوں کا مولیٰ ۔
مولی اسم مفرد۔ موالی جمع، دوست، مددگار۔ کارساز۔ حمائتی ، آقا۔ ولی (حسب یحسب ) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر ہے اس کی جمع موالی ہے مولی اسم فاعل واسم مفعول ہر دو طرح مستعمل ہے نیز ملاحظہ ہو (44:41) ۔ متذکرۃ الصدر۔
ترجمہ ہوگا :۔ یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
تشریح آیات نمبر 7 تا 11
اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اگر تم نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد کرے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکار کی زندگی کو اپنا رکھا ہے وہ آج دنیا میں اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھ رہے ہیں اور زندگی کی راہوں میں بڑی تیزی سے چلتے نظر آرہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب یہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گریں اور جن کاموں کو وہ زندگی کی کامیابی سمجھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک بہتر عمل تھے وہ سب اس سے غائب ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا اللہ کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنی میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں سب کا کارساز ہے، اس شبہ کا جواب مفسروں نے یہ دیا ہے کہ سورة انعام میں حشر اور حساب اور کتاب کے ذکر کا موقع تھا اور قیامت میں حساب اللہ تعالیٰ نیک وبد سب سے لیوے گا اور اسی واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک نیک وبد کے حساب کا مالک ہے اور یہاں مدد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
مردِ مومن کے رجحانات
1: مومن اور کافر کی توجہالت فکر میں یہ فرق ہے ۔ کہ مومن کے سامنے صرف حقیر اور ناچیز دنیا نہیں ہوتی ۔ اس کی نگاہ بلند ہوتی ہے ۔ جس سے عقبیٰ کی رفعتیں دیکھتا ہے ۔ مگر کافر صرف دنیا تک اپنی تگ دو کو محدود رکھتا ہے ۔ مومن جہاں جسم کی بالیدگی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ وہاں سرخ کی تازگی اور بشاشت بھی چاہتا ہے ۔ کافر کی توجہ صرف پیٹ اور اس کے مقتضبات کی طرف لگی رہتی ہے ۔ مومن اس لئے کھاتا پیتا اور مخلوط دنیا سے استفادہ کرتا ہے ۔ کہ آخرت کے لئے اپنے میں وقت ونشاط پاسکے ۔ اور کافروں کے دن دنیا کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے ۔ کہ اپنے جذبات شہوت وحرص کی تسکین کرسکے ۔ زیادہ وافصیح الفاظ…
Read the full tafseer →(11) اس سلوک کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور ماننے والوں کا رفیق ہے اور اہل کفر اور نہ ماننے والوں کا کوئی رفیق اور مددگار نہیں۔ یعنی ولایت عامہ بمعنی مالک اور رب اگرچہ تمام بندوں کو حاصل ہے لیکن یہاں اس ولایت کا ذکر ہے جو کفر کے مقابلے میں دین حق کی حمایت اور نصرت سے تعلق رکھتی ہے یہاں اس ولایت کا اظہار ہے اور وہ مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ حاصل ہے اور منکر اس سے محروم ہیں اور منکرین کا عارضی غلبہ اس کے منافی نہیں۔
فھو مولی المومنین والکافرین من جھتہ الاختراع والتصرف فیھم ومولی المومنین خاصۃ من جھتہ النصرۃ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9۔ غرض کفار دارین میں خاسر رہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے :
11 ؎ { مولیٰ } کا مادہ و ل ی ہے جس کا معنی دوست کار ساز اور حمایتی کے ہیں ، اللہ تعالیٰ مومنوں کا کارساز اور مددگار ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان کے دعویٰ میں سچے ہیں اور ایمان میں پکے اور پختہ ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا کارساز اور مدد گار سمجھتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی غیر کی کارسازی اور مدد پر وہ کبھی انحصار نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے مدد کے طلب گار ہوتے ہیں اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو کافر ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہیں نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ محض اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی مدد کار سازی پر بس کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ (As for the disbelievers, there is no supporter them. - 47:11). The word for "mawla" is used in several different senses. One of its meanings is "protector" or "supporter". This is the sense in which it is used here. Another sense of the word is "owner/master". In Qur'an [ 10:30] we come across: وَرُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ "They will be returned to Allah, their Master, the Truth" (10:30). In this phrase, Allah is called the "mawla" of the infidels, that is, their Master / Owner because the mastership / ownership of Allah extends…
Read the full tafseer →16 After being wounded at Uhud when the Holy Prophet was resting in a hill pass with a few Companions, Abu Sufyan shouted: "We have 'Uzza and there is no 'Uzza for you." Thereupon the Holy Prophet told his Companions to respond, saying: "Our Protector and helper is Allah, and you have no protector and helper at alI. " This reply of the Holy Prophet was derived from this very verse.
Read the full tafseer →