Explained with ayahs 10–13
تمام شہروں سے پیارا شہر۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسول کو جھٹلا رہے ہیں زمین کی سیر نہیں کی ؟ جو یہ معلوم کرلیتے ہیں اور اپنی آنکھوں دیکھ لیتے ہیں کہ ان سے اگلے جو ان جیسے تھے ان کے انجام کیا ہوئے ؟ کس طرح وہ تخت و تاراج کر دئیے گئے اور ان میں سے صرف اسلام و ایمان والے ہی نجات پا سکے کافروں کے لئے اسی طرح کے عذاب آیا کرتے ہیں پھر بیان فرماتا ہے مسلمانوں کا خود اللہ ولی ہے اور کفار بےولی ہیں۔ اسی لئے احد والے دن مشرکین کے سردار ابو سفیان (صخر) بن حرب نے فخر کے ساتھ جب نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں خلفاء کی نسبت سوال کیا اور کوئی جواب نہ پایا تو کہنے…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 15
اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جس تباہی سے وہ کافر دوچار ہوئے ویسی ہی تباہی اب ان کافروں کے لیے مقدر ہے جو محمد ﷺ کی دعوت کو نہیں مان رہے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی تباہی صرف دنیا کے عذاب پر ختم نہیں ہوگئی ہے بلکہ یہی تباہی ان کے لیے آخرت میں بھی مقدر ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَلِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا، یہاں الکافرین کا الف لام عہد کے لئے ہے اور مراد کفار مکہ ہیں مراد ان کو ڈرانا ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر عذاب آئے ہیں تم پر بھی آسکتے ہیں بےفکر نہ رہنا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمرا اللہ علیھم واللکفرین امثالھا 10
کفار قریش کی بےبصیرتی
یہ ان مشرکین کی کور چشمی اور بےبصیرتی پر اظہار افسوس ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے ملک میں اس مقصد سے چلے پھرے نہیں کہ ان قوموں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، اللہ نے ان کو بالکل پامال کردیا ! آیت کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ چلے پھرے تو ہیں، اپنی تجارتی سفروں پر برابر نکلتے رہے ہیں لیکن ان بستیوں پر کبھی عبرت کی نگاہ انہوں نے نہیں الی جو کسی زمانے میں عظیم قوموں کا مکسن تھیں لیکن اب وہ ویرانوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی…
Read the full tafseer →10۔ 1 جن کے بہت سے آثار ان کے علاقوں میں موجود ہیں نزول قرآن کے وقت بعض تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات اور آثار موجود تھے اس لیے انہیں چل پھر کر ان کے عبرت ناک انجام دیکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی کہ شاید ان کو دیکھ کر ہی یہ ایمان لے آئیں۔
10۔ 2 یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم کفر سے باز نہ آئے تو تمہارے لئے بھی ایسی ہی سزا ہوسکتی ہے ؟ اور گزشتہ کافر قوموں کی ہلاکت کی طرح، تمہیں بھی ہلاکت سے دو چار کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →اس کے بعد انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر تاریخ کو پڑھیں اور غور کریں۔ یہ بات ذرا شدت سے کہی جاتی ہے۔
افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔ امثالھا (47 : 10) “ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ اللہ نے ان کا سب کچھ ان پر الٹ دیا ، اور ایسے نتائض ان کافروں کے لئے مقدر ہیں ”۔
یہ ایک خوفناک اور خشمگیں نظر ہے۔ اس میں نہات ہی ہیجان اور شروفضاں ہے۔ ان لوگوں کا منظر جن کو چشم زدن میں نیست و نابود کر کے رکھ دیا گیا۔ ان کے تمام آثار مٹا دئیے گئے۔ ملبے کے ڈھیر لگا دئیے گئے ہیں اور وہ ملبے کے ان ڈھیروں کے نیچے کراہ رہے ہیں۔ یہ منظر جسے اس انداز…
Read the full tafseer →7 یعنی دنیا ہی میں دیکھ لو منکروں کی کیسی گت بنی اور کس طرح ان کے منصوبے خاک میں ملا دیے گئے۔ کیا آجکل کے منکروں کو ایسی سزائیں نہیں مل سکتیں۔
Read the full tafseer →آیت 10 { اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَـیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”تو کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“
{ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَلِلْکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُہَا } ”اللہ نے ان پر ہلاکت کو مسلط کردیا ‘ اور ان کافروں کے لیے بھی ان ہی کی مثالیں ہوں گی۔“
جن نتائج سے پہلے گزرنے والی کافر اقوام دوچار ہوئیں ویسے ہی ہلاکت خیز نتائج ان کافروں کا مقدر ہیں۔
Read the full tafseer →11 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ پہلی قوموں نے سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے مختلف قسم کے عذاب بھیج کر انہیں تباہ و برباد کردیا تھا۔ اسی طرح کے عذاب بھیج کر ان موجودہ کافروں کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس طرح کافروں کو دنیا میں طرح طرح کی سزائیں دی ہیں۔ اسی طرح کئی طرح کی سزائیں آخرت میں بھی دے گا۔
Read the full tafseer →12۔ (اس لئے کہ کفر جو علت ہلاکت و بربادی ہے، وہ ان میں اور ان میں مشترک ہے) (آیت) ” کیف ...... قبلھم “۔ علم آثار قدیمہ آج جن جن قوموں کے کھنڈر اور ویرانے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہا ہے وہ سب قومیں اپنے اپنے زمانہ میں تہذیب و تمدن اور ترقی و دولت کی چوٹی پر پہنچی ہوئی، لیکن منکرونافرمان ہی ہوئی ہیں۔ (آیت) ” امثالھا “۔ یہ مثلیت صرف وقوع عذاب کے لحاظ سے ارشاد ہوئی ہے نہ کہ نوعیت عذاب کے لحاظ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمر اللہ علیھم وللکفرین امثالھا کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا انجام کیسا ہوا ؟ اللہ نے ان پر کیسی تباہی ڈالی ؟ اور ان کافروں کیلئے بھی اسی طرح کے معاملات ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
کیا کفار مکہ نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا اور انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کفار کا کیا انجام ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کفار مکہ پر بھی اسی قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے۔
اور مسلمانوں کو یہ فتح اس لیے حاصل ہوئی کہ حق تعالیٰ اہل ایمان کا مددگار ہے اور ان کفار مکہ کا کوئی مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →(1) افلم یسیروا فی الارض …: یہ ”فتعسالھم“ ہی کی وضاحت ہے کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر پہلی تباہ شدہ قوموں کے آثار دیکھ کر ان کی ہلاکت کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھاڈ نزول قرآن کے وقت ان میں سے بہت سے آثار موجود تھے اب بھی باقی ہیں۔”افلم یسیروا“ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة روم (9) اور سورة مومن (21)۔
(2) دمر اللہ علیھم :”’ مر“ ہلاک کردیا۔ ”الدمار“ ہلاکت۔”’ مر“ خود بھی متعددی ہے، اصل میں ”’ مر ھم اللہ“ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ مگر ”علیھم“ لانے سے ہلاک کرنے میں مبالغے کا اظہار مقصود ہے :”ای الفی علیھم الدمار“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت اور تباہی ڈال دی۔
(3) وللکفرین…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے احوال کو بیان کیا تاکہ ایمان کے وجوب پر آگاہی ہو پھر اس امر کو نظر و فکر کے ساتھ ملایا کیا یہ لوگ عاد، ثمود، وغیرہ کے علاقوں میں نہیں گھومے پھرے تاکہ ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنے دلوں سے غوروفکر کریں تاکہ ان سے قبل جو کافر ہوئے ہیں ان کا انجام کیسے ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کو جڑ سے اکھیڑ دیا یہ جملہ کہا جاتا ہے دونوں کا معنی ایک ہی ہے پھر مشرکین مکہ کو دھمکی دی فرمایا : کافروں کے لئے اسی کی مثل ہے یعنی ان کے لئے بھی اسی کی مثل بربادی ہوگی زجاج اور طبری نے کہا : ھاء ضمیر عاقبۃ کی طرف لوٹ رہی ہے قریش کے کافروں کے لئے ایسا ہی انجام ہوگا جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
3:۔ ابن شیبہ (رح) وابن عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے (اللہ کے) فرائض کو ناپسند کیا۔
رسولوں کو جھٹلانے والوں کا برا انجام :
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم دمر اللہ علیہم “ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے کافروں کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی (تباہی ڈالی) یعنی اللہ نے ان کو مختلف قسم کے عذابوں کے ساتھ ان کو ہلاک کردیا اس طرح تاکہ غور وفکر کرنے والا…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا [ تو کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [ نتیجۃ (تاکہ ) وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کا انجام جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] دَمَّرَ اللّٰهُ [ ہلاکت ڈالی اللہ نے ] عَلَيْهِمْ ۡ [ ان پر ] وَلِلْكٰفِرِيْنَ [ اور انکار کرنے والوں کے لیے ] اَمْثَالُهَا [ اس (انجام ) کے جیسی (چیزیں ) ہیں ]
Read the full tafseer →دنیا میں چل پھر کر عبرت حاصل کریں
اس کے بعد منکرین کو تنبیہ فرمائی کہ اپنی دنیا اور سازو سامان اور عمارت سے دھوکہ نہ کھائیں ان سے پہلے بھی قومیں گزر چکی ہیں جو ہلاکت و بربادی کا منہ دیکھ چکی ہیں، ارشاد فرمایا ﴿ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ؕ﴾ (کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے سو ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے) ﴿ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ﴾ (اللہ نے ان کو ہلاک فرما دیا) ﴿ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُهَا 0010﴾ (اور کافروں کے لیے ایسی کئی چیزیں ہیں) یعنی موجودہ جو کفار ہیں اور ان کے بعد جو بھی کافر ہوں گے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ماخوذ از افاضات حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ۔ مراجعت فرمائیں (ازالۃ الخفاء )
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ...... الی ......... وان الکفرین لامولی لھم “۔
(ربط) سابق مضمون مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب وتشویق پر مشتمل تھا اور یہ کہ اہل حق پر یہ لازم ہے کہ باطل کو مٹانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کرڈالیں جب تک وہ فریضہ جہاد ادا نہیں کریں گے عند اللہ بری الذمہ نہ ہوسکیں گے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور میدان جہاد میں انکی ثابت قدمی کا میعار بیان فرمایا جارہا ہے۔
فرمایا، اے ایمان والو اگر تم مدد کروگے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9:۔ ” افلم یسیروا۔ الایۃ “ احوال مشرکین و تخویف دنیوی ہے۔ یہ سرکش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے ہیں کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں تاکہ اپنے سے پہلے سرکش لوگوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے۔ اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال اور اموال کو تباہ کردیا۔ ان کی سرکشوں کے لیے ایسے انجام بد کی بہت سی مثاللیں ہیں۔ گذشتہ اقوام متمردہ کی ہلاکت و تباہی میں ان کے لیے بیشمار عبرتیں ہیں۔ ” ذلک “ معاملہ اسی طرح ہے۔ ” بان اللہ الخ “ یہ لیستیقنوا کے متعلق ہے اور ترغیب الی الجہاد کی دوسری علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا مددگار ہے اور کافروں کا کوئی یار و مددگار نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات
ابتدائے سورة میں تمہید بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ نے جنگ کے بعض قوانین بیان فرمائے کہ اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ بلکہ جرأت اور بہادری سے لڑنا ، پھر جب اچھی طرح خونریزی ہوجائے تو دشمن کے بچے کھچے سپاہیوں کو قیدی بنا لو حتیٰ کہ جنگ موقوف ہوجائے۔ جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ یا تو ان پر احسان کر کے انہیں رہا کر دو یا ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو ۔ یہ جنگ کافروں کو سزا دینے کا ایک طریقہ ہے ، تا ہم اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی دوسرے طریقے سے بھی کفار کا قلع قمع کرنے پر قادر ہے۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جنگ کے ذریعے آزمائش کرنا چاہتا…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ دَمَّرَ اللہُ عَلَيْہِمْ 0 ۡوَلِلْكٰفِرِيْنَ اَمْثَالُہَا 10
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ منکروں کو ہلاکی ہے اب اس ہلاکی کا ثبوت دیتا ہے فقال یسیروافی الارض کہ کیا قریش نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان سے اگلوں کا کیا انجام ہوا ؟ شام میں جاتے ہوئے قوم ثمود کے آثار اور یمن میں جاتے ہوئے قوم عاد کے امارات ان کو دکھائی دیا کرتے ہیں۔ ان کا انجام یہ ہوا دمر اللہ علیہم اللہ نے ان کو ہلاک کیا۔ اور قریش یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہلاکی اور بربادی انہیں کے لیے تھی بلکہ وللکافرین امثالہا کفار کے لیے خواہ عاد وثمود ہوں یا قریش مکہ ہوں ایسے ہی انجام ہوتے ہیں۔ امثالہا اے امثال العاقبۃ اور یہ کیوں ہے ذلک بان اللہ مولی الذین آمنوا الخ اس لیے کہ اللہ ایمانداروں کا حامی…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط دَمَّرَاللّٰہُ عَلَیْہِمْ ز وَلِلْـکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُھَا۔ (محمد : 10)
(کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں پامال کردیا اور کافروں کے لیے ان ہی کی مثالیں ہیں۔ )
تاریخ سے استدلال
پیشِ نظر آیت کریمہ میں تاریخ سے استدلال بھی ہے اور مشرکین کی کو رچشمی اور فکری کوتاہی پر تعریض بھی ہے۔ عاد وثمود اور قوم لوط ان ہی کرتوتوں کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں جو کرتوت اس وقت قریش کے ہیں۔ انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کا وعدہ اور کفار کی ہلاکت کا ذکر ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ کفار کی تباہی دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو۔
انسان جن چیزوں سے سبق حاصل کرتا ہے ان میں پہلی اقوام کے آثار اور نشانات بھی اس کی عبرت کا باعث بنتے ہیں اس لیے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لوگوں کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ! زمین پر چل کر ان لوگوں کے آثار اور نشانات دیکھو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کیا ہے۔ یہی حکم اہل مکہ کو دیا گیا کہ کیا وہ اپنے سے پہلے باغیوں کا انجام نہیں دیکھتے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح تباہ کیا اور اسی طرح ہی تمہارے ساتھ ہوگا۔ ایسا…
Read the full tafseer →آیت 10 : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں) یعنی آپ کی امت کے کافر فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ (اور انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان کا انجام کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی تباہی ڈالی) کہ ان کو استیصال والا عذاب بھیج کر ہلاک کردیا۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ ( اور ان کافروں کے لئے بھی) مشرکین قریش کے لیے اَمْثَالُہَا (اس جیسے معاملات ہونے کو ہیں) ان ہلاک شدہ لوگوں کی مثل کیونکہ تہس نہس کرنا اس پر دلالت کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →9 ۔” ذلک “ تعس اور اضلال۔ ” بانھم کرھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم “ پھر کفار کو ڈرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ جب منکر شریعت لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے ایماندار لوگو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرأت پیدا کر دے گا جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جما دیئے۔ آگے فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کے منکر اور اس کے کلام کو جادو بتاتے ہیں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ لشکر اسلام کا رعب پیدا کر دے گا اس لئے میدان جنگ میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
رسولِ مصطفیٰ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے کیوں نہیں ؟ (فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم) ” تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ “ پس وہ ان کے انجام کو بدترین انجام پائیں گے اور اپنے دائیں بائیں جدھر بھی دیکھیں گے وہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پائیں گے کہ وہ ہلاک ہوگئے، ان کے کفر اور تکذیب انبیاء نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، ان کا نام و نشان مٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے اموال اور گھر بار کو تباہ و برباد کردیا بلکہ ان کے اعمال اور ان کی سازشوں کا تاروپود بکھیر دیا۔ ہر زمان و مکان میں کافروں کا اسی قسم کا برا انجام ہوتا ہے اور انہیں بری سزائیں ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 25] آثار قدیمہ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و ترغیب اور غفلت شعاروں کا حال :
سو اس ارشاد میں ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے عبرت لینے کی ترغیب وتحریض ہے۔ جیسے قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ وغیرہ، سو اگر یہ لوگ ان مختلف تباہ و برباد شدہ قوموں کے انجام درس عبرت لیتے تو یہ جان لیتے کہ حق اور اہل حق کی مخالفت و تکذیب کی پاداش میں وہ لوگ کس ہولناک انجام سے دو چار ہوئے۔ اور ان کو کیسا اور کیا بھگتنا پڑا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کر دیکھنے سے مقصود سبق گیری اور عبرت پذیری ہے نہ کہ محض سیر و تفریح اور کھیل تماشا۔ مگر افسوس کہ غیر مسلموں کی طرح آج خود مسلمانوں میں بھی عبرت کروڑوں روپے خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 9 ان کے وہ اعمال جن کو وہ نیک خیال کرتے ہیں کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبل نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →(47:10) افلم یسیروا فی الارض ۔ أ استفہام انکاری ہےعاطفہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ای : اقعدوا فی اماکنہم فلم یسیروا فی الارض ۔ کیا وہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور زمین میں (یا اپنے ملک میں) چلے پھرے نہیں ؟
لم یسیروا مضارع نفی حجد بلم جمع مذکر غائب ضمیر فاعل کا اہالیان مکہ کی طرف اشارہ ہے سیر (باب ضرب) مصدر کیا وہ چلے پھرے نہیں ؟ فینظروا۔ ای فلم ینظروا۔ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ (جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔
دمر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تدمیر (تفعیل) مصدر۔ اس نے اکھاڑمارا اس نے ہلاکت ڈال دی۔ اس نے تباہی ڈال دی۔
امثالھا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عاقبۃ کے لئے ہے۔ یا عقوبتہ عاقبۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
تشریح آیات نمبر 7 تا 11
اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اگر تم نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد کرے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکار کی زندگی کو اپنا رکھا ہے وہ آج دنیا میں اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھ رہے ہیں اور زندگی کی راہوں میں بڑی تیزی سے چلتے نظر آرہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب یہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گریں اور جن کاموں کو وہ زندگی کی کامیابی سمجھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک بہتر عمل تھے وہ سب اس سے غائب ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
اللہ تعالیٰ کن کن کی مدد کرتا ہے ؟
(ف 1) اوپر مسلمانوں کا حکم تھا کہ جب کافر لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو، ان آیتوں میں فرمایا، اے مسلمانو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرات پیدا کردے گا کہ جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جمادیے آگے فرمایا جو لوگ کافر ہیں اور اس کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں لشکراسلام کا رعب پیدا کردے گا اور اس لیے میدان جنگ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
مردِ مومن کے رجحانات
1: مومن اور کافر کی توجہالت فکر میں یہ فرق ہے ۔ کہ مومن کے سامنے صرف حقیر اور ناچیز دنیا نہیں ہوتی ۔ اس کی نگاہ بلند ہوتی ہے ۔ جس سے عقبیٰ کی رفعتیں دیکھتا ہے ۔ مگر کافر صرف دنیا تک اپنی تگ دو کو محدود رکھتا ہے ۔ مومن جہاں جسم کی بالیدگی کا خواہاں ہوتا ہے ۔ وہاں سرخ کی تازگی اور بشاشت بھی چاہتا ہے ۔ کافر کی توجہ صرف پیٹ اور اس کے مقتضبات کی طرف لگی رہتی ہے ۔ مومن اس لئے کھاتا پیتا اور مخلوط دنیا سے استفادہ کرتا ہے ۔ کہ آخرت کے لئے اپنے میں وقت ونشاط پاسکے ۔ اور کافروں کے دن دنیا کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے ۔ کہ اپنے جذبات شہوت وحرص کی تسکین کرسکے ۔ زیادہ وافصیح الفاظ…
Read the full tafseer →(10) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں جو دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت تباہی اور بربادی واقع کی اور ان کو درہم برہم کردیا اور ان کو اکھاڑمارا اور ان کافروں کے لئے بھی اسی کی مانند ہونے والا ہے اور اسی قسم کے حالات ان منکروں کے بھی ہونے والے ہیں۔ یعنی زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ پہلی قوموں کے ساتھ کیا سلوک ہوا ان کی انہی حرکات نے اور رسولوں کی مخالفت نے ان کو مبغوض ٹھہرایا۔ یہی حرکات تم کررہے ہو۔ ان کو اسی مبغوض ہونے کی سزا ملی اسی سزا کا یہ استحقاق پیدا کررہے ہیں۔ پھر جو سلوک ان کے ساتھ ہوا اسی کی مانند ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ آگے پھر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9۔ غرض کفار دارین میں خاسر رہے۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ، کیا پہلے لوگوں کے انجام سے وہ با خبر نہیں ؟
10 ؎ اللہ اور اس کے رسولوں کی پیروی کرنے کی بجائے پنی مرضی اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کے انجام سے یہ لوگ وقف نہیں ؟ کیا جن راستوں سے گزر کر یہ لو تجارت کے سفروں پر اتے ہیں ان راستوں پر ان من مانیاں کرنے والوں کی بستیوں کے کھنڈرات ان کی توجہ کو اپنی طرف مبذول نہیں کراتے ؟ کیا انہوں نے ان کی داستانیں لوگوں سے نہیں سنیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے اعمال کی پاداش میں کس طرح ہلاک کیا اور پھر انہوں نے اسی طرح کا کفر شروع کردیا جس طرح وہ کفر کے مرتکب ہوئے تھے اگر ان کے اعمال ایک جیسے ہیں تو کیا ان کے عذاب…
Read the full tafseer →وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا (And [ ready ] for [ these ] disbelievers are the likes thereof. - 47:10). Grammatically, the article "alif lam" in al-kafirina" in this context is used to indicate some specific disbelievers, and refers to the infidels of Makkah. The purpose of this sentence is to warn them: as the previous generations were punished for their iniquity, so will you meet similar fate for your iniquitous behavior. Do not be unconcerned!
Read the full tafseer →15 This sentence has two meanings: (1) °The same destruction that was met by those disbelievers now awaits these disbelievers, who are not accepting the invitation of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings); and (2) 'the ruin of those people does not end with the torment of the world; the same doom also awaits Them in the Hereafter "
Read the full tafseer →