Explained with ayahs 4–9
جب کفار سے میدان جہاد میں آمنا سامنا ہوجائے
یہاں ایمان داروں کو جنگی احکام دئیے جاتے ہیں کہ جب کافروں سے مڈبھیڑ ہوجائے دستی لڑائی شروع ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ، تلواریں چلا کر گردن دھڑ سے اڑا دو۔ پھر جب دیکھو کہ دشمن ہارا اس کے آدمی کافی کٹ چکے تو باقی ماندہ کو مضبوط قیدوبند کے ساتھ مقید کرلو جب لڑائی ختم ہوچکے معرکہ پورا ہوجائے تو پھر تمہیں اختیار ہے کہ قیدیوں کو بطور احسان بغیر کچھ لئے ہی چھوڑ دو اور یہ بھی اختیار ہے کہ ان سے تاوان جنگ وصول کرو پھر چھوڑو۔ بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے غزوے کے بعد یہ آیت اتری ہے کیونکہ بدر کے معرکہ میں زیادہ تر مخالفین کو قید کرنے اور قید کرنے کی کمی…
Read the full tafseer →سورة مُحَمَّد 14
یعنی انہوں نے اپنی پرانی جاہلیت کے اوہام و تخیلات اور رسم و رواج اور اخلاقی بگاڑ کو ترجیح دی اور اس تعلیم کو پسند نہ کیا جو اللہ نے ان کو سیدھا راستہ بتانے کے لیے نازل کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) وَيُدْخِلُهُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ، یہ ایک تیسرا انعام ہے کہ ان کو صرف یہی نہیں کہ جنت میں پہنچا دیا جائے گا بلکہ ان کے دلوں میں خود بخود جنت کے اپنے اپنے مقام اور اس میں ملنے والی نعمتوں حور و قصور سے ایسی واقفیت پیدا کردی جائے گی جیسے وہ ہمیشہ سے انہی میں رہتے اور ان سے مانوس تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو جنت ایک نیا عالم تھا اس میں اپنا مقام تلاش کرنے میں وہاں کی چیزوں سے مناسبت اور تعلق قائم ہونے میں وقت لگتا، اور ایک مدت تک اجنبیت کے احساس سے قلب مطمئن نہ ہوتا۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے دین حق دے کر بھیجا ہے کہ تم دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم، والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم ذلک بانھم کھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم 9-7
نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے
یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا دیا تو اس کے بعد اس کی شامیں ظاہر ہوں گی۔ ان…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی قرآن اور ایمان کو انہوں نے ناپسند کیا۔
9۔ 2 اعمال سے مراد وہ اعمال ہیں جو صورۃ اعمال خیر ہیں لیکن عدم ایمان کی وجہ سے اللہ کے ہاں ان پر اجر وثواب نہیں ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
6: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے مسلمانوں کو جنت کا تعارف کرادیا ہے، یہ جنت اسی تعارف کے مطابق ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنی جگہ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پہچان کرانے کا ایسا آسان انتظام کر رکھا ہے کہ ہر جنتی اپنی مقررہ جگہ پر کسی دشواری اور تفتیش کے بغیر بےتکلف پہنچ جائے گا۔
Read the full tafseer →ذلک بانھم ۔۔۔۔ اعمالھم (47 : 9) “ کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے۔ لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ”۔ اس سے اس بات کی بہت اچھی تصویر کشی ہوتی ہے کہ ان کے دلوں میں قرآن کریم کے بارے میں کس قدر کراہت ہے۔ اور اللہ کی شریعت اور نظام کو وہ کس قدر ناپسند کرتے ہیں اور یہی کراہت ہی ان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کفر کریں ، مسلمانوں سے دشمنی رکھیں اور جنگ وجدال اور تنازعات رکھیں۔ درحقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی اسلام کے بارے میں ذہنی حالت یہی ہوتی ہے۔ وہ اسلام کو نہایت ہی مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے متصادم ہوتے ہیں اگرچہ یہ بہترین اور مستحکم نظام ہے ، لیکن ان لوگوں کو پسند…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی جب انہوں نے اللہ کی باتوں کو ناپسند کیا تو اللہ ان کے کام کیوں پسند کرے گا۔ اور جو چیز خدا کو ناپسند ہو وہ محض اکارت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ } ”یہ اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کردیا۔“
ایسے لوگوں کے نامہ ہائے اعمال میں جو نیک اعمال ہوں گے وہ بھی سب کے سب ضائع کردیے جائیں گے۔ جیسے مشرکین میں سے بعض لوگ غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا خصوصی اہتمام کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بہت نیکی کے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سورة التوبہ کی آیت 19 میں دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا : { اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10 تعسا کا لغوی مفہوم :۔ تعسًا کے معنی ٹھوکر کھا کر گرنا اور پھر اٹھ نہ سکنا ہے یا کسی گڑھے میں گر کر ہلاک ہوجانا ہے (مفردات) گویا اللہ کے دین کی مدد کرنے والوں کے تو اللہ تعالیٰ پاؤں جما دیتا ہے اس کے برعکس منکروں کو منہ کے بل گرا کر ہلاک کردیا جاتا ہے اور مومنوں کی تو مدد کی جاتی ہے جبکہ کافروں کے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →11۔ (اس لئے کہ ان سارے اعمال کا مبنی ومنشاء تو کفر ہی تھا، جو بغاوت کی فرد اعلی ہے) (آیت) ” کرھوا “۔ کر اھت سے یہاں طبعی مراد نہیں۔ بلکہ کراہت عقلی مراد ہے۔ جس کا اظہار کافر کے نہ صرف عمل سے بلکہ عقیدہ سے بھی ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ…
Read the full tafseer →ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا ‘ سو اللہ نے انکے اعمال کو اکارت کردیا۔
اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یعنی اگر تم اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرو گے۔
یَنْصُرْکُمْ تو اللہ تم کو تمہارے دشمن پر فتح یاب کرے گا۔
وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ یعنی کافروں سے جہاد کرنے اور حقوق اسلام ادا کرنے میں تم کو ثابت قد م رکھے گا۔
فَتَعْسًا لَّھُمْ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کیلئے (ا اللہ کی رحمت سے) دوری ہے۔ ابو العالیہ نے تعسًا کا ترجمہ کیا : سقوط یعنی مغلوبیت ‘ گراوٹ۔ ضحاک نے کہا : ناکامی۔ ابن زید نے کہا : پراگندگی (یعنی…
Read the full tafseer →اور یہ جھوٹا کرنا اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اس چیز کا انکار کیا جو بذریعہ جبریل امین محمد پر نازل کی گئی تو حق تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال کو ضائع کردیا۔
Read the full tafseer →ذلک بانھم کرھوا ماانزل اللہ …: یعنی اس انجام کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردیے، کیونکہ اعمال کے بار آور ہونے کی شرط ان کا اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق ہونا ہے۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Read the full tafseer →سے مراد کتب اور شرائع ہیں۔ ان کے لئے بھلائی کی جو صورتیں موجود تھیں جس طرح بیت اللہ شریف کی آبادی، مہمان نوازی، قربانی کی مختلف صورتیں۔ اللہ تعالیٰ مومن کے علاوہ کسی کا عمل قبول نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال یعنی بتوں کی عبادت کو برباد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
3:۔ ابن شیبہ (رح) وابن عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذلک بانہم کرھوا ماانزل اللہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے (اللہ کے) فرائض کو ناپسند کیا۔
رسولوں کو جھٹلانے والوں کا برا انجام :
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلہم دمر اللہ علیہم “ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے والے کافروں کا انجام کیسا ہوا اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسی (تباہی ڈالی) یعنی اللہ نے ان کو مختلف قسم کے عذابوں کے ساتھ ان کو ہلاک کردیا اس طرح تاکہ غور وفکر کرنے والا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس سبب سے کہ انہوں نے ] كَرِهُوْا مَآ [ ناپسند کیا اس کو جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ نازل کیا اللہ نے ] فَاَحْبَطَ [ تو اس نے اکارت کردیئے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
مومنین کا انعام بیان کرنے کے بعد کافروں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ 008 ﴾ (اور جن لوگوں نے کفر کیا ہلاکت ہے ان کے لیے اور اللہ نے ان کے اعمال ضائع كردئیے) دنیا میں مومنین کے ہاتھوں ان کی تباہی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت یعنی عذاب شدید اور دائمی ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ 009﴾ (اب لوگوں کی یہ ہلاکت اور اعمال کا حبط ہونا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا جو کچھ اللہ نے نازل کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال حبط فرما دئیے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ماخوذ از افاضات حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ۔ مراجعت فرمائیں (ازالۃ الخفاء )
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ...... الی ......... وان الکفرین لامولی لھم “۔
(ربط) سابق مضمون مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب وتشویق پر مشتمل تھا اور یہ کہ اہل حق پر یہ لازم ہے کہ باطل کو مٹانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کرڈالیں جب تک وہ فریضہ جہاد ادا نہیں کریں گے عند اللہ بری الذمہ نہ ہوسکیں گے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور میدان جہاد میں انکی ثابت قدمی کا میعار بیان فرمایا جارہا ہے۔
فرمایا، اے ایمان والو اگر تم مدد کروگے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8:۔ ” والذین کفروا۔ الایۃ “ بیان حال کفار، مومنین کے مقابلے میں کفار کے لیے دنیا میں قتل وہلاکت اور آخرت میں رسوا کن عذاب ہے اور ان کے اعمال بیکار و رائیگاں ہیں۔ ” ذلک بانہم الخ “ یہ مشرکین کے انجام کا سبب ہے۔ ان کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے توحید اور دیگر احکام پر مشتمل اللہ کی کتاب کو نفرت و کراہیت کی نگاہوں سے دیکھا اس لیے ان کے تمام اعمال ضائع کردئیے اگر ان کے اعمال کے ساتھ ایمان کی دولت بھی ہوتی، تو ان پر اجر وثواب ملتا۔ ” ما انزل اللہ من القران لما فیہ من التوحید وسائر الاحکام المخالفۃ لما الفوہ واشتہیتہ انفسہم الامارۃ (روح ج 26 ص 45) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات
ابتدائے سورة میں تمہید بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ نے جنگ کے بعض قوانین بیان فرمائے کہ اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ بلکہ جرأت اور بہادری سے لڑنا ، پھر جب اچھی طرح خونریزی ہوجائے تو دشمن کے بچے کھچے سپاہیوں کو قیدی بنا لو حتیٰ کہ جنگ موقوف ہوجائے۔ جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ یا تو ان پر احسان کر کے انہیں رہا کر دو یا ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو ۔ یہ جنگ کافروں کو سزا دینے کا ایک طریقہ ہے ، تا ہم اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی دوسرے طریقے سے بھی کفار کا قلع قمع کرنے پر قادر ہے۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جنگ کے ذریعے آزمائش کرنا چاہتا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ 9
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
1 ؎ یعنی جنگ موقوف ہوجائے ہتھیار اٹھانے کی حاجت نہ رہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَرِھُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 9)
(یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے اتاری، پس اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔ )
کفار کی بدنصیبی کا سبب
گزشتہ آیات میں بڑے وثوق کے ساتھ مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ افرادی قوت اور وسائلِ جنگ بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اصل طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید ہے اور وہ اس قوم کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی ضرورتوں کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی ترجیح بنا لیتی ہے۔ وہ دین کی سربلندی، اس کے نفاذ اور اس کے دفاع کے لیے زندہ رہتے اور شہید ہوتے ہیں۔ ان کا ہر فیصلہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو جنگ کے دوران کفار کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ لڑنے کا حکم دینے کے بعد ان کی مدد کرنے کی یقین دہانی اور اس کی بنیاد۔
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد فرمائے گا اور ہر میدان میں تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ یاد رکھو ! کہ کفار کے لیے ہلاکت ہے اور ان کے اعمال ضائع کردئیے جائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔ اس لیے ان کے اعمال غارت کردیئے جائیں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مجاہدین کو اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے اور دوسری طرف کفار کے اعمال ضائع کرنے اور ان کی کوششوں کو…
Read the full tafseer →آیت 9 : ذٰلِکَ (یہ) یعنی گمراہی و تباہی بِاَنَّہُمْ کَرِہُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا) ما انزل اللّٰہ سے قرآن مراد ہے۔ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا )
Read the full tafseer →8 ۔” والذین کفروا فتعسالھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دوری ہے ان کے لئے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے گرنا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے خسارہ ہے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے بدبختی ہے۔ فرائؒ فرماتے ہیں کہ مصدر کی بناء پر نصب ہے دعا کے طور پر اور کہا گیا ہے کہ دنیا میں لغزش اور آخرت میں آگ میں گرنا اور پھسلنے والے کو تعسا کہا جاتا ہے جب اس کے کھڑے ہونے کا ارادہ نہ کیا ہو۔ ” واضل اعمالھم “ اس لئے کہ وہ شیطان کی فرمانبرداری میں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ جب منکر شریعت لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے ایماندار لوگو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرأت پیدا کر دے گا جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جما دیئے۔ آگے فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کے منکر اور اس کے کلام کو جادو بتاتے ہیں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ لشکر اسلام کا رعب پیدا کر دے گا اس لئے میدان جنگ میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لئے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا، یعنی اللہ تعالیٰ طمانینت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔
یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–32
کافر سے مختلف احوال میں مختلف سلوک کیا جائے گا
قول باری ہے (فاذا لقیتم الذین کفروافضرب الرقاب۔ سو جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت کافروں کے وجوب قتل کا مقتضی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور صورت صرف اس وقت اختیار کی جائے جب کافروں کا اچھی طرح خون بہا لیا جائے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ماکان لنبی ان یکون لہ اسزی حتی یثخن فی الارض نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خون نہ بہالے۔ )
ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[ 24] دین کو ناپسند سمجھنا باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو کافروں کی اس ہلاکت و تباہی اور محرومی و رسوائی کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے دین کو ناپسند سمجھا "۔ سو اللہ نے دین اتارا تاکہ یہ لوگ راہ راست پاس کیں اور حق و ہدایت کی دولت بےمثال سے بہرہ مند و سرفراز ہو سکیں اور اس دین حق پر صدق دل سے ایمان لاکر اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے سرشار ہوسکیں مگر ان بدبختوں نے اس دین حق کو اپنانے اور قبول کرنے کی بجائے اس کو برا سمجھا اور ناپسند جانا۔ اور اس طرح انہوں نے روشنی کی بجائے اندھیروں کو اپنایا اور اپنے آپ کو دائمی ہلاکت و تباہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
دنیا سے فسق و فجور اور فسادجہاد کے ذریعے مٹا نے کا حکم
تشریح : آیت نمبر چار بہت اہم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کا حکم صاف الفاظ میں زور دار طریقہ سے دیا گیا ہے اور پھر جہاد کی کچھ خاص شرائط، احکامات اور فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ یہ کن حالات میں اتری تھی ورنہ اس کو پڑھ کر غیر مسلم جہاد کو بڑے ہی غلط معنی دیتے ہیں جیسا کہ محققین بر ٹانیکا نے جہاد کو جنگ کہہ کر اس کا پورا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا۔ اور موجودہ زمانے میں بھی مخالفین اسلام یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمان اسلام کو تلوار یا بندوق کے زور پر پھیلا رہے ہیں اور بڑا غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
کہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کی کوشش میں لگے رہے ان سے اگر بھلائی کا کام ہوا تو بھی آخرت میں اکارت گیا کہ آخرت پر تو ایمان ہی تھا نہ آخرت کے لیے عمل کیا تھا ہاں جو لوگ ایمان لائے اور اپنے اعمال بھی ایمان کے مطابق درست کرلیے اور جو کچھ بھی حضرت محمد ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا اسے قبول کرلیا یعنی آپ کی تمام تعلیمات کو صدق دل سے قبول کرنا شرط ایمان ہے ان لوگوں کی خطائیں جو بتقاضائے بشریت ہوسکتی ہیں یا ایمان لانے سے پہلے تھیں معاف کردیں گے اور ان کا ظاہر و باطن سنوار دیں گے ان کی ظاہری زندگی بھی خوبصورت ہوگی اور قلبی کیفیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 9 ان کے وہ اعمال جن کو وہ نیک خیال کرتے ہیں کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبل نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →(47:9) ذلک : ای الضلال والتعس۔ یہ بربادی اور خواری۔
بانہم میں ب سببیہ ہے یہ (بربادی و خواری) اس لئے کہ انہوں نے ۔۔
کرھوا ۔ ماضی جمع مذکر غائب کراھۃ (باب سمع) مصدر۔ انہوں نے ناپسند کیا۔
ما انزل اللہ ۔ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ یعنی قرآن “۔ فاحبط اعمالہم۔ احبط ماضی واحد مذکر غائب۔ احباط (افعال) مصدر۔ اس نے اکارت کردیا (ان کے اعمال کو) ۔ حبط اعمال کی تین اقسام ہیں۔
(1) ایمان نہ ہونے کے باعث دنیا کے تمام اچھے کام مثلاً حسن معاشرت ، پاکیزہ اخلاق وغیرہ آخرت میں بالکل بےنتیجہ ہیں۔
(2) انسان میں ایمان موجود ہے لیکن جو اعمال خیر سر انجام دئیے وہ لوجہ اللہ نہیں تھے اس لئے اکارت ہوئے۔
(3) اعمال صالحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
تشریح آیات نمبر 7 تا 11
اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اگر تم نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نہ صرف دنیا اور آخرت میں تمہاری مدد کرے گا تمہارے قدموں کو جما دے گا ۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر و انکار کی زندگی کو اپنا رکھا ہے وہ آج دنیا میں اپنے آپ کو بہت کامیاب سمجھ رہے ہیں اور زندگی کی راہوں میں بڑی تیزی سے چلتے نظر آرہے ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب یہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گریں اور جن کاموں کو وہ زندگی کی کامیابی سمجھ رہے ہیں اور ان کے نزدیک بہتر عمل تھے وہ سب اس سے غائب ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
اللہ تعالیٰ کن کن کی مدد کرتا ہے ؟
(ف 1) اوپر مسلمانوں کا حکم تھا کہ جب کافر لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو، ان آیتوں میں فرمایا، اے مسلمانو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرات پیدا کردے گا کہ جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جمادیے آگے فرمایا جو لوگ کافر ہیں اور اس کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں لشکراسلام کا رعب پیدا کردے گا اور اس لیے میدان جنگ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 3: یعنی منکرین کو اس لئے ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کہ ان کو اللہ کی حمایت حاصل نہ تھی ۔ اور مسلمان اس لئے ہمیشہ سر بلند رہے ۔ کہ یہ اللہ کی اعانت ونصرت پر یقین رکھتے تھے ۔
Read the full tafseer →(9) یہ تباہی اور اعمال کا بیکار ہوجانا اس سبب سے ہے کہ ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو پسند نہ رکھا اور ناپسند کیا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اکارت اور بیکار اور نابود کردیا۔ یعنی دین حق کی مخالفت اور مانزل اللہ سے بغاوت کرنے کا یہ قدرتی اثر ہے کہ اس کے اعمال ضائع کردیئے جائیں اور ان اعمال پر جو اس نے بھلے سمجھ کر کئے ہیں کوئی مفید نتیجہ مرتب نہ ہو، دوسری قوموں کے حالات دیکھنے اور چل پھر کر دوسرے منکروں کے انجام سے عبرت پکڑنے کو فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9۔ غرض کفار دارین میں خاسر رہے۔
Read the full tafseer →کفار کے تہس نہس کرنے اور نیک اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بتایا جا رہا ہے :
9 ؎ فرمایا کہ ان کفار کو تہس نہس کردینے کا جو وعدہ الٰہی ہے وہ کسی ظلم و زیادتی کے باعث نہیں ہے اور نہ ہی اللہ رب ذوالجلال و الاکرم کی ظلم و زیادتی کا کوئی وجود ہے دراصل اس باعث ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے ساتھ خواہ مخواہ کا بیر رکھتے ہیں اور اس کے قیامت کے اثبات سے یہ لوگ سخت بیزار ہیں کہ یہ کیا بات قرآن کریم نے بیان کردی ہے اور اس طرح جو چیز ان کی اصلاح کے لئے نازل کی گئی ہے اس سے انہوں نے نفرت کا اظہار کر کے اپنی کوتاہ بینی کا ثبوت پیش کردیا اور اپنی خواہشات کے ساتھ چمٹے رہے اور انہی خواہشات کی پاداش نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (and will admit them to the Paradise He has identified for them. - 47:6). This is the third bounty of Allah. He will not only admit them into Paradise but will identify for them the gardens of bliss and will make them familiar with such bounties as houris and mansions in a way that it would seem to them that they have been living there since eternity. If such an acquaintance was not made, Paradise would have seemed a strange world. It would have taken them time to find their abode, to accustom themselves with the new environment, and they would not…
Read the full tafseer →14 That is, "They preferred the whims, superstitions, customs and moral perversion of their former ignorance and did not like the teaching that Allah had revealed to guide them to the right way.
Read the full tafseer →