Ad-Dukhaan 44:37

Ad-Dukhaan · from ayah 37

44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ ۙ— وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ— اَهْلَكْنٰهُمْ ؗ— اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۟اَهُمۡ خَيۡرٌ اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍۙ وَّ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ‌ۖ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ

بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Are they better or the people of Tubba' and those before them? We destroyed them, [for] indeed, they were criminals.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:37

یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ (کیونکہ) وہ یقینی طور پر مجرم لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا (بادشاہِ یمن اسعد ابوکریب) تُبّع (الحمیری) کی قوم اور وہ لوگ جو اِن سے پہلے تھے، ہم نے اُن (سب) کو ہلاک کر ڈالا تھا، بیشک وہ لوگ مجرم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا یہ لوگ بہتر ہیں، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بیشک وہ مجرم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا یہ بہتر ہیں یا قوم تبع ؟ اور اس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ کیونکہ وہ مجرم تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ بہتر حالت میں ہیں یا قوم تبع کے لوگ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے گزرے ؟ ہم نے ان کو ہلاک کردیا، بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو اس سے بھی پہلے گزر چکے ہیں ؟ ان سب کو تو ہم نے ہلاک کر ڈالا کیونکہ وہ لوگ مجرم تھے

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا یہ لوگ بڑھ چڑھ کر ہیں یا قوم تبع والے اور جو لوگ ان سے بھی پیشتر ہوئے ہیں ہم نے ان تک کو ہلاک کرڈالا اس لئے کہ وہ نافرمان تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ بہتر ہیں یا ُ تبع ّکی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ سب کے سب مجرم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ گنہگار تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Are these better or the people of Tubba and those who went before them? We destroyed them for they were a criminal people.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Are they better or the people of Tubba and those who were before them? We have destroyed them. They were guilty indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

Are they better or the people of Tubba and those who were before them? We have destroyed them. They were guilty indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Are they better or the people of Tubba` and those before them We destroyed them because they were indeed criminals.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Are they better, or the folk of Tubb'a and those before them? We destroyed them, for surely they were guilty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Are they better or the people of Tubba' and those before them? We destroyed them, [for] indeed, they were criminals.

— Saheeh International

Are they better than the tribe of Tubba (name of a Yemenite tribal chief) and those who lived before them? We destroyed them. They were criminals.

— Muhammad Sarwar

Are they better or the people of Tubba and those before them? We destroyed them, for surely they were guilty.

— Muhammad Habib Shakir

Are they better Or the people of Tubba and those afore them? We destroyed them; verily they were culprits.

— Abdul Majid Daryabadi

What! Are they better than the people of Tubba and those who were before them? We destroyed them because they were guilty of sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–37

شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 32 تبع قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ، قیصر، فرعون وغیرہ القاب مختلف ممالک کے بادشاہوں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 عیسیوی تک یہ حکمراں رہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة سبا، 37) سورة الدُّخَان 33 یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ انسانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–38

قوم تبع کا واقعہ(آیت) اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ، (کیا یہ لوگ شان و شوکت کے اعتبار سے بڑھے ہوئے ہیں یا تبع کی قوم) قرآن کریم میں قوم تبع کا ذکر دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں اور دوسرے سورة ق میں لیکن دونوں مقامات پر اس کا صرف نام ہی مذکور ہے کوئی مفصل واقعہ مذکور نہیں۔ اس لئے اس بارے میں مفسرین نے طویل بحیثیں کی ہیں کہ اس سے کون مراد ہے ؟ واقعہ یہ ہے کہ تبع کسی فرد معین کا نام نہیں، بلکہ یہ یمن کے ان حمیری بادشاہوں کا متواتر لقب رہا ہے جنہوں نے ایک عرصہ دراز تک یمن کے مغربی حصہ کو دارالسلطنت قرار دے کر عرب، شام، عراق اور افریقہ کے بعض حصوں پر حکومت کی۔ اسی لئے تبع کی جمع تبابعہ آتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 37–39

اھم خیرام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین (37) قوم تبع سے مراد تبابعہ یمن ہیں جن کی ماذی شوتک و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کی عرب میں بڑی شہرت رہی ہے۔ عرب شعراء ان کی عظمت کا چرچا بہت کرتے ہیں۔ قوموں پر جب خدا کا عذاب آتا ہے تو وہ اپنے ہی اسلحہ سے خودکشی قرآن نے قریش کے مذکورہ بالا مطالبہ کے جواب میں ان سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ تائیں کہ مادی شان و شوکت اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ برتر ہیں یا تبابعہ برتر تھے ؟ اگر وہ برتر تھے اور اس برتری کے باوجود خدا نے ان کو تباہ کردیا، نہ ان کے مادی قوت و وصولت ہی خدا کی پکڑ سے ان کو بچاسکی نہ ان کی ذہانت ہی ان کے کچھ کام آئی تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی یہ کفار مکہ اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد وثمود وغیرہ سے زیادہ طاقتور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–37

10: تبع دراصل یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، قرآن کریم نے یہ متعین نہیں فرمایا کہ یہاں کونسا تبع مراد ہے، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں مراد وہ تبع ہے جس کا نام اسعد ابوکریب تھا، یہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ خود دین موسوی پر تھا، جو اس وقت دین برحق تھا، ایمان لے آیا تھا ؛ لیکن اس کی قوم نے بعد میں بت پرستی اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–42

آیت نمبر 34 تا 42 مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 ' تبع " لقب تھا یمن کے بادشاہ کا جس کی حکومت سبا اور حضرموت وغیرہ سب پر تھی۔ " تبع " بہت گزرے ہیں۔ اللہ جانے یہاں کون سا مراد ہے۔ بہرحال اتنا ظاہر ہوا کہ اس کی قوم بہت قوت و جبروت والی تھی جو اپنی سرکشی کی بدولت تباہ کی گئی۔ ابن کثیر نے اس سے قوم سبا مراد لی ہے جس کا ذکر سورة سبا میں گزر چکا۔ واللہ اعلم۔ 6 مثلاً عاد وثمود وغیرہ۔ ان سب کو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر کے چھوڑا۔ کیا تم ان سے بہتریا ان سے زیادہ طاقتور ہو کہ تم کو ہلاک نہ کرے گا یا نہ کرسکے گا ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37 { اَہُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍلا وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ بہتر ہیں یا ُ تبع ّکی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟“ یمن کے قدیم بادشاہ ”تبع“ کہلاتے تھے۔ جس طرح پرانے زمانے میں مصر کے بادشاہوں کا لقب ”فرعون“ اور عراق کے بادشاہوں کا لقب ”نمرود“ تھا اسی طرح یمن کے بادشاہوں کا لقب ”تبع“ تھا۔ { اَہْلَکْنٰہُمْ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ } ”ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا ‘ بیشک وہ سب کے سب مجرم تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 قوم تبع کا ذکر :۔ تُبع شاہان یمن کا لقب ہے۔ جو حمیری قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے ایران کے بادشاہوں کا لقب کسریٰ ، روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی تھا۔ تبع قوم تبع کے جدامجد کا نام تھا۔ یہ بذات خود ایک ایماندار آدمی تھا اور اپنے وقت میں اس کا ڈنکا بجتا تھا۔ اس نے بہت سے علاقے بھی فتح کرلیے تھے۔ مگر اس کے بعد میں آنے والے لوگ کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے اور اللہ سے سرکشی کی راہ اختیار کرلی تھی۔ ان بادشاہوں کا زمانہ 115 ق م سے 300 ء تک ہے۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے۔ 28 کفار کے اعتراض کا پہلاجواب تاریخ سے متعلق :۔ پہلے کے لوگوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ یعنی نافرمانی و قانون شکنی تو ایسی چیز ہے جس کی سزا ان مجرموں سے کہیں زائد قوت ومقدرت والوں کو مل کر رہی ہے۔ تو یہ بیچارے کس شمار وقطار میں ہیں۔ (آیت) ” خیر “۔ خیر کا مفہوم ہمیشہ اخلاقی وروحانی ہی پہلو نہیں رکھتا، مادی، مالی، جسمانی فوقیت کا اظہار بھی اسی لفظ سے ہوتا رہتا ہے۔ یہاں اسی دنیوی جاہ وحشم مادی قوت و سامان میں اظہار فوقیت کیلئے ہے۔ (آیت) ” قوم تبع “۔ جس طرح ملوک مصر کالقب فرعون تھا۔ اسی طرح جنوب عرب کی سلطنت یمن کے بادشاہوں کے ایک خاندان کا لقب تبع تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان وجلیل القدر فرمانروا تھے۔ اور ان کے حدود سلطنت علاوہ حمیر، حضرموت اور سارے علاقہ سبا کے شمال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–42

آیت نمبر 30 تا 42 ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اھم خیر ام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین کیا یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تُبّع کی قوم (ساکنان یمن) اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ‘ ہم نے ان کو بھی تباہ کر ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نافرمان تھے۔ اَھُمْ خَیْرٌ یعنی قوت ‘ شوکت اور کثرت میں یہ لوگ تُبّع کی قوم سے بہتر ہیں یا قوم تُبّع ان سے بہتر تھی ؟ استفہام انکاری تقریری ہے ‘ یعنی یہ لوگ قوم تُبّع سے بہتر نہیں ہیں ‘ قوم تُبّع ان سے بہتر تھی۔ تُبّع ایک شخص کا نام تھا۔ اس کا اتباع کرنے والے بہت لوگ تھے ‘ اسلئے اس کا نام تبع ہوگیا۔ بعض اہل تاریخ کا خیال ہے کہ تبع نام کے بہت لوگ تھے۔ چونکہ ایک کے بعد ایک (حکومت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں محمد آپ کی قوم شان و شوکت میں بڑھی ہوئی ہے یا تبع یعنی حمیر کی قوم اس کا نام اسعد بن ملیکوب اور کنیت ابو کرب تھی، متبعین کی کثرت کی وجہ سے تبع نام پڑگیا اور جو قومیں قوم تبع سے پہلے گزری ہیں مگر ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا اس لیے وہ مشرک تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اھم خیرام قوم تبع :، تبع یمن کے قبیلہ حمیز ہ کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کرسیٰ ایران کے بادشاہوں کا، قیصر روم کے بادشاہوں کا، فرعون مصر کے بادشاہوں کا اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ یہ حمیز کا بادشاہ تبع مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی، اس لئے اس کی قوم کی مذمت کی ہے، اس کی نہیں۔ (2) والذین من قبلھم : پہلے لوگوں سے مراد عاد وثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط ، اصحاب مدین اور قوم فرعون وغیرہ ہے۔ (3) اھلکتھم انھم کانوا مجرمین : یہ کفار کے اعتراض کا تاریخ سے جواب ہے کہ جو شخص یا قوم آخرت کا انکار کرے گی اسے کوئی چیز مجرم بننے سے روک نہیں سکتی، کیونکہ اسے باز پرس کی فکر ہی نہیں ہوتی،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ استفہام انکاری ہے۔ وہ ایسی بات کر کے عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں کیونکہ وہ قو تبع اور ہلاک ہونے والی قوموں سے بہتر نہیں جب ہم نے ان کو ہلاک کردیا ہے تو اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا یہ زیادہ نعمتوں والے ہیں اور زیادہ اموال والے ہیں یا تبع کی قوم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا یہ زیادہ عزت والے، طاقت ور اور محفوظ ہیں یا تبع کی قوم۔ تبع سے مراد ایک فرد نہیں بلکہ اس سے مراد یمن کے بادشاہ ہیں۔ یمن والے اپنے بادشاہوں کو تبابع کہتے تھے۔ تبع بادشاہ کا لقب تھا جس طرح مسلمانوں کے لئے خلیفہ ہوتا ہے۔ کسری ایرانیوں کا حاکم ہوتا ہے او قیصر رومیوں کے بادشاہ کو کہتے ہیں۔ ابو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–39

1:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تبع (بادشاہ) کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ 2:۔ احمد والطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سہل بن سعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ 3:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم ہر کز تبع کے معاملہ میں شبہ میں نہ پڑو کیونکہ وہ مسلمان تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم تبع کے لئے خیر کے سوا کچھ نہ کہو کیونکہ اس نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس کتاب پر ایمان لے آیا تھا جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) لائے تھے۔ 5:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَهُمْ خَيْرٌ [ کیا یہ لوگ بہتر ہیں ] اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ [ یا تبع کی قوم ] وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ] اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ [ ہم نے ہلاک کیا ان کو ] اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ [ بیشک وہ لوگ مجرم تھے ] نوٹ ۔ 2 قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تبع تھا ۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے ۔ 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک (یعنی یمن ) پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 ء تک یہ لوگ حکمران رہے ۔ عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے عام رہے ۔ (تفہیم القرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منکرین قیامت کی کٹ حجتی، یہ لوگ قوم تبع سے بہتر نہیں ہیں جو ہلاک کردئیے گئے ان آیات میں اول تو منکرین بعث کا قول نقل فرمایا ہے، پھر ان کی بات کی تردید فرمائی ہے منکرین نے یہ کہا کہ یہ جو تم کہتے ہو کہ مرنا ہے اور مر کر جی اٹھنا ہے اور حساب و کتاب ہے یہ ہم نہیں مانتے ہمارے نزدیک بس یہی بات طے شدہ ہے کہ ہم پہلی بار جو مریں گے تو بس مرگئے اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والی بات نہیں مانتے، ان لوگوں نے مزید یوں بھی کہا کہ تم دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دیتے ہو تو چلو ہمارے باپ دادوں کو لاکر دکھا دو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو (کہ دوبارہ اٹھنا ہے اور قیامت قائم ہونی ہے) ان کی تردید میں فرمایا ﴿ اَهُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–39

نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–37

22:۔ ” ا ھم خیر “ کیا یہ مشرکین مکہ قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین سے بہتر ہیں ؟ نہیں۔ یہ بھی عذاب کے مستحق ہیں اور جس طرح ان اقوام سابقہ کو ہلاک کیا گیا ان کو بھی ہلاک کیا جائیگا۔ ھذا استفہام انکار، ای انھم مستحقون فی ھذا القول العذاب اذ لیسوا خیر من قوم تبع والامم المہلکۃ، واذا اھلکنا اولئک فکذا ھؤلاء (قرطبی ج 16 ص 144) ۔ جب ہم نے قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ مجرم تھے۔ تعلیل لاھلاکہم ای (ھلکناھم بسبب کو نہم مجرمین فلیحذر کفار قریش الاھلاک لاجرامہم (روح ج 25 ص 130) ۔ تبع حمیری کا اصل نام اسعد یا سعد تھا اور کنیت ابو کرب تھی۔ یہ نیک اور صالح آدمی تھا، شرک سے بیزر اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–41

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَہُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ۝ 0 ۙ وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝ 0 ۭ اَہْلَكْنٰہُمْ۝ 0 ۡاِنَّہُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۝ 37 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–42

ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَھُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ لا وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط اَھْلَـکْنٰـہُمْ ز اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۔ (الدخان : 37) (کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم، اور اس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے ان کو ہلاک کردیا، بیشک وہ مجرم تھے۔ ) مجرمانہ ذہنیت ہلاکت کا باعث ہے تبعقبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جس طرح حبشہ کا ہر حکمران نجاشی کہلاتا تھا اور رومی سلطنت کا ہر تاجدار قیصر کے نام سے پکارا جاتا تھا اور ایران کے حکمران کسریٰ کہلاتے تھے اور مصر کے حکمرانوں کو فرعون کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کو تبع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : آل فرعون اور اس کے ساتھیوں کا ظلم بیان کرنے کے بعد اہل مکہ کو قوم تبّع کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ فرعون اور قوم تبّع کی تاریخ سامنے رکھو ! جو اقتدار اور وسائل کے اعتبار سے تم سے بڑھ کر تھے۔ ان کے جرائم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ تم ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو۔ اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو پھر اپنے آپ کو ” اللہ “ اور اس کے رسول کے تابع کرلو۔ جس طرح فارس کا بادشاہ کسریٰ ، روم کا حکمران قیصر، مصر کا فرمانروا اپنے آپ کو فرعون کہلواتا تھا اسی طرح یمن کا بادشاہ تبع کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ تبع وہاں کی سب سے بڑی قوم تھی۔ یہ قوم یمن میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 37 : اَہُمْ خَیْرٌ (یہ لوگ زیادہ بڑے ہوتے ہیں) طاقت و حفاظت میں اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ (یا قوم تبع) یہ تبع حمیری ہے۔ یہ خود مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی۔ ایک قول یہ ہے : یہ پیغمبر تھا۔ حدیث میں وارد ہے ما ادری اکان تبع نبیا او غیر نبی۔ مجھے معلوم نہیں آیا تبع نبی تھا یا غیر نبی (اخرجہ الثعلبی۔ کذا قال ابن حجر رحمہ اللّٰہ) ۔ وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے) : یہ قوم تبع پر عطف کی وجہ سے حالت رفعی میں ہے۔ اَہْلَکْنٰہُمْ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ (ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا وہ نافرمان تھے) وہ کافر اور منکرین بعث تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36، فأ توابابائنا، جو مرگئے ہیں۔ ، ان کنتم صادقین، کہ ہم مرنے کے بعد زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ پھر ان کو گزشتہ امتوں کے مثل عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–50

37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–37

آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے : (ان ھولآء) بیشک یہ جھٹلانے والے لوگ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ “ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لاؤ۔ “ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بلھا ! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجوڑنے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ ہیں یا تُبَّع کی قوم ؟ "۔ " تُبّع " کسی زمانے میں یمن کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا۔ جس طرح کہ کسریٰ فارس کے، قیصر روم کے، فرعون مصر کے اور نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ تُبّع حمیری اسلام لے آیا تھا۔ بلکہ بعض روایات میں اس کے نبی ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور بعض میں اسے ایک نیک آدمی ۔ رجل صالح۔ ہونے کا۔ اور اس کو برا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور کہتے ہیں یہی وہ پہلا شخص تھا جن نے بیت اللہ کو غلاف پہنایا تھا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–42

آیات 30 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔ یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 تبع کو قوم سے مراد یمن کی قوم سبا ہے جس کی تباہی کا حال سورة سبا میں گزر چکا ہے۔ تبع دراصل اس قوم کے قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا جیسے کنری ایران کے بادشاہوں کا اور قیصر روم کے بادشاہوں کا فرعون مصر کے بادشاہوں اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ عموماً مورخین نے ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ سے پہلے بتایا ہے۔ ان میں سے ایک بادشاہ نے دنیا میں بڑی فتوحات حاصل کی تھیں اور اسی نے شہر سمر قند بسایا تھا۔ اس نے خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا اور واپس یمن پہنچ کر یہودی مذہب کی تبلیغ کی۔ چناچہ یمنی عوام نے یہ دین اختیار کرلیا اس کی وفات کے بعد پھر کافر ہوگئے۔ اسی بادشاہ کے متعلق امام احمد اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:37) اہم خیر ام قوم تبع۔ یعنی قوت و شوکت اور کثرت میں یہ لوگ قوم تبع سے بہتر ہیں یا قوم تبع ان سے بہتر ہے یہ استفہام انکاری تقریری ہے یعنی یہ لوگ قوم تبع سے بہتر نہیں بلکہ قوم تبع ان سے بہتر تھی۔ تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جیسے مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ اور روم کے بادشاہ کا قیصر، فارس کے بادشاہ کسری کہلاتے تھے۔ بعض کے نزدیک آخر ی تبع کا نام تبع اسعد ابوکریب بن میلک کرب تھا۔ والذین من قبلہم۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے جیسے عاد وثمود وغیرہ۔ انھم کانوا مجرمین۔ بیشک وہ گنہگار تھے۔ یہ اس علت کا بیان ہے جو تباہ کرنے کی مقتضی تھی۔ ھو تعلیل لاھلاکہم (روح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–42

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–42

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، اور طبرانی میں ہے کہ تبع حمیری بادشاہ یمن صاحب ایمان تھے جو نوسو برس پہلے نبی کی پیدائش سے حضور پر ایمان لائے تھے ان کا نام اسعد بن ملکی کرب تھا اور کنیت ، ابوکرب ، مسلمان تھے بزرگ تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی زورآور اور کثیر التعداد تھی، حاصل یہ ہے کہ ان کے کفر کے باعث اور حشر کے انکار کے سبب سے پہلی کافر قوم میں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ مشرکین ان کے سے کام کریں گے توا کا بھی وہی انجام ہوگا دنیا میں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت ک لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–37

[10] تُبَّع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان اور جلیل القدر فرمانروا تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–37

ایمان وکفر کی آویزش 1: ان آیات میں حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا قصہ ہے ۔ کہ کیونکر ان کو فرعون ایسے ظالم ومستبد بادشاہ کے چنگل سے رہائی نصیب ہوئی ۔ اس کو پانی قوت پر ناز تھا ۔ اپنے عساکر اور فوجوں پر غرہ تھا ۔ اپنے قلعوں اور اونچے اونچے مجلوں پر فخر تھا ۔ یہ بات اس کے ذہن سے بہت دور تھی کہ غریب اور مفلس ومظلوم قوم کبھی اتنے عالی قدر بادشاہ کا مقابلہ کر پائے گی ۔ اور اس کی مخلصی کے سامان غیب سے مہیا ہوسکیں گے ۔ مگر اللہ کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا ۔ کہ ایمان وکفر کا تصادم ہو ۔ افلاس اور تمول میں ٹھن جائے ۔ موسیٰ اور باجبروت وسطوت شخصیت میں معرکہ آرائی ہو ۔ اور فتح ہو ایمان کی ۔ کامیابی کا تاج…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) بھلا یہ کفار قریش قوت و شوکت میں بہتر اور بڑھ کر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو تبع کی قوم سے پہلے ہوگزرے ہیں بہتر اور بڑھ کر تھے ان سب کو ہم نے ہلاک و برباد کردیا کیونکہ وہ مجرم اور گنہگار تھے۔ یعنی یہ کفار قریش تو اتنے قوی اور پرشوکت ہیں بھی نہیں جتنی تبع یمن کے بادشاہ کی قوم تھی اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے مثلاً عاد اور ثمود جب ہم نے ان گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور سب کو تباہ کردیا تو کفار قریش اگر اسی طرح جرائم پیشہ رہے تو یہ کس طرح بچ سکتے ہیں۔ تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا اس نام سے بہت سے بادشاہ ہوئے ہیں جس تبع کا قرآن نے ذکر کیا ہے وہ تبع حمیری ہے اس کا نام اسعد یا سعد بن ملکا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

ف 7۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ ان سے شدید اور مدید تھے مگر ہم نے ان کو بھی ہلاک کر ڈالا سو یہ لوگ اگر باز نہ آئیں گے تو یہ کیونکر اپنے کو بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قریش مکہ مال و دولت میں زیادہ ہیں یا تبع کی قوم اور ان سے پہلے لوگ 73 ؎ زیر نظر آیت میں خالصتاً ایک تاریخی شخصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس اشارہ ہی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اہل مکہ اس قوم سے واقفیت رکھتے تھے اور اس کو ایک نہایت طاقتور قوم سمجھتے تھے اور تاریخی شہادتوں سے یہ ثابت ہے کہ تبع قبیلہ عمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا اور قبیلہ عمیر قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا زمانہ 511 ء قبل مسیح سے شروع ہو کر 003 ء تک تسلیم کیا گیا ہے اور جو بھی ان کا بادشاہ مقرر ہوتا اس کو تبع کہا جاتا تھا جیسے مصر کے حکمرانوں کو فرعون ایرانیوں کے بادشاہوں کو کسریٰ اور علاقہ روم کے حکمرانوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

The Story of Tubba' أَهُمْ خَيْرٌ‌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ "Are they better or the people of Tubba? (44:37) ". The people of Tubba` have been referred to twice in the Qur'an. Here and in Surah Qaf. In both places only their name has been mentioned without recounting their chronicle. Therefore, the commentators have discussed extensively about the people of Tubba' , trying to identify them and their history. Tubba' is not the name of a particular individual, but is said to be the royal title of the kings of Himyar in Yemen. The Kings of Yemen were only known by this title when held sway over…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32 Tubba was the title of the kings of the Himyarites, like the titles of Khosroes, Caesar, Pharaoh etc. which have been associated with the kings of different countries. They were a branch of the Sabaeans, who attained domination over Saba in 115 B.C. and puled it till 300 A.D. They have been a well known people of Arabia for centuries. (For details, see E.N. 37 of Surah Saba). 33 This is the first answer to the disbelievers' objection; it means: No individual group or nation which denies the Hereafter can help becoming criminal. Perversion of the morals is its inevitable result, and human…

Read the full tafseer →