Ad-Dukhaan 44:36

Ad-Dukhaan · from ayah 36

44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then bring [back] our forefathers, if you should be truthful."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:36

اگر تم سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو اٹھا لاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو تم ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباء و اجداد کو لاکے دکھاؤ۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو لائو ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم لے آؤ ہمارے (اگلے) باپ دادوں کو اگر تم لوگ سچے ہو (اپنے دعوی میں)

— مولانا اسحاق مدنی

) اے مسلمانو) ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو لائو ذرا ہمارے آباء و اَجداد کو اگر تم سچے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لائو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Bring back to us our fathers if you are truthful.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O believers,) bring our fathers, if you are true (in your belief in resurrection.)

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O believers,) bring our fathers, if you are true (in your belief in resurrection.)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Then bring back our forefathers, if you speak the truth!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Bring back our fathers, if ye speak the truth!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then bring [back] our forefathers, if you should be truthful."

— Saheeh International

Bring back to life our fathers if what you say is true".

— Muhammad Sarwar

So bring our fathers (back), if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Bring then our fathers if ye say so.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then bring (back) our forefathers, if what ye say is true!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–37

شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 31 ان کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے کبھی مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جی اٹھتے نہیں دیکھا ہے، اس لیے ہم یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہوگی۔ تم لوگ اگر دعویٰ کرتے ہو کہ دوسری زندگی ہوگی تو ہمارے اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ تاکہ ہمیں زندگی بعد موت کا یقین آجائے۔ یہ کام تم نے نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا دعویٰ بےبنیاد ہے۔ یہ گویا ان کے نزدیک حیات بعد الموت کی تردید میں بڑی پختہ دلیل تھی۔ حالانکہ سراسر مہمل تھی۔ آخر ان سے یہ کہا کس نے تھا کہ مرنے والے دوبارہ زندہ ہو کر اسی دنیا میں واپس آئیں گے ؟ اور نبی ﷺ یا کسی مسلمان نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ ہم مردوں کو زندہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) فَاْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لا موجود کرو) قرآن کریم نے ان کے اس اعتراض کا جواب اس لئے نہیں دیا کہ بالکل ظاہر تھا اور وہ یہ کہ تمام انسانوں کی دوبارہ زندگی کا دعویٰ آخرت میں کیا جا رہا ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا۔ دنیا میں موت وحیات قدرت کے مخصوص قوانین اور مصالح کی پابند ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس وقت کسی کو دوسری زندگی عطا نہیں فرما رہا تو یہ اس بات کی دلیل کیسے بن گئی کہ آخرت میں بھی وہ دوبارہ زندہ نہ کرسکے گا۔ منطقی اصطلاح میں اس جواب کو یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ مقید کا عدم وقوع مطلق کے عدم وقوع کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قالوا بابآئنا ان کنتم صدقین (36) کفار کی واحد بےبنیاد دلیل اپنے اس دعوے کی تائید میں وہ اہل ایمان سے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر موت کے بعد زندگی ہے تو تمہاری سچائی ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب تم ہمارے وفات پائے ہوئے بزرگوں میں سے کسی کو زندہ کر کے دکائو۔ یہی مضمون سورة جاثیہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان ججتھم الا ان قالوا ائتوا بابآئنا ان کنتم صدقین (الجاثیۃ :25) (اور جب ان کو موت کے بعد کی زندگی کے حق میں ہماری روشن دلیلیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو واحد دلیل جو وہ اس کے مقابل میں پیش کرتے ہیں وہ ان کا یہ قول ہوتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 یہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واضح اور صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو یہ ان کی کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہوجانا یا کردینا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–37

10: تبع دراصل یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، قرآن کریم نے یہ متعین نہیں فرمایا کہ یہاں کونسا تبع مراد ہے، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں مراد وہ تبع ہے جس کا نام اسعد ابوکریب تھا، یہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ خود دین موسوی پر تھا، جو اس وقت دین برحق تھا، ایمان لے آیا تھا ؛ لیکن اس کی قوم نے بعد میں بت پرستی اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–42

آیت نمبر 34 تا 42 مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی پیغمبر اور مومنین سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو اچھا ہمارے مرے ہوئے باپ دادوں کو ذرا زندہ کر کے دکھا دو ۔ تب ہم جانیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 { فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو ذرا ہمارے آباء و اَجداد کو ‘ اگر تم سچے ہو !“ اپنے موقف کے حمایت میں وہ لوگ یہ دلیل دیتے کہ اگر تم بعث بعد الموت کے عقیدے کو سچ مانتے ہو تو ذرا ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے دکھائو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

26 کفارکایہ اعتراض کہ مارے آباء کو زندہ کرکے دکھاؤ :۔ کفار کا یہ مطالبہ تین وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ ایک یہ کہ رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ خدائی اختیارات کا نہ وہ کبھی دعویٰ کرتا ہے اور نہ اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں کہ جب کوئی کافر ایسا مطالبہ کرے تو اس کا کوئی بڑا بزرگ اسے دوبارہ زندہ کرکے دکھا دے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اسی دنیا میں بھیجا جائے گا بلکہ وہ جہاں ہی دوسرا ہوگا جس میں مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نبی یہ خبر دیتا ہے کہ تمہاری دوبارہ زندگی قیامت کے دن ہوگی تو کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–36

22۔ یہ کہنے والے عصر قدیم کے ” روشن خیال “ مادیین اور عرب کے فطرت پرست دہریین تھے، حشر ونشر وعالم آخرت کے قطعی منکر، یہ مسلمانوں کو چیلنج دیکر اور اپنی ” روشن خیالی “۔ کے پر فخر مظاہرہ کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم مذہب ووذھب کے ڈھکوسلوں کے سرے سے قائل ہی نہیں۔ ہم تو صرف حواس ظاہری ومشاہدہ کو مانتے ہیں، تو اگر واقعی کسی مردہ کو زندہ کرکے دکھا دو تو بیشک ہم قائل ہوجائیں، مغیبات مجردات میں آج بھی مشاہدہ و تجربہ کا مطالبہ اس قدیم ذہنیت کی صدائے باز گشت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–42

آیت نمبر 30 تا 42 ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتوا بابائنا ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو (کہ دوبارہ زندگی ہوگی) تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آؤ۔ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو ہمارے آباؤ اجداد کو لاکر زندہ کرو تاکہ ہم خود ہی ان سے دریافت کرلیں کہ جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاتوا با بآئنا ان کنتم صدقین : یعنی ہم نے آج تک کسی فوت شدہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا، اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ دوسری زندگی ہے تو ہمارے آبا و اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ، اگر تم سچے ہو، ورنہ ہم تمہیں جھوٹا سمجھیں گے۔ وہ اپنی اس دلیل کو بہت مضبوط سمجھتے تھے ! حالانکہ یہ کئی وجہوں سے بالکل فضول ہے، کیونکہ انھیں یہ کس نے کہا کہ وہ اسی دنیا میں آئے گی ؟ وہ تو ایک نئی دنیا ہوگی، جس میں تمام مردے بیک وقت اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر انھیں یہ کس نے کہا ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا پیغمبر کے اختیار میں ہے ؟ اس کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے، مردے زندہ کرنا یا معجزوں کے مطالبے پورے کرنا نہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–36

وائو ضمیر سے مراد قریش کے کفار ہیں یہ مبتدا اور خبر ہے، جس طرح یہ کلام ہے (اعراف 155) اور یہ کلام (انعام 29) ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا : اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اٹھایا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ منشورون کا معنی مبعوثون ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار قریش میں سے۔ یہ بات کرنے والا ابو جہل تھا، اس نے کہا : اے محمد ﷺ اگر تو اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارے آباء میں سے دو آدمی اٹھائو ! ان میں سے ایک قصی بن کلاب ہے کیونکہ وہ ایک سچا شخص تھا تاکہ ہم اس سے پوچھ سکیں کہ موت کے بعد کیا ہوا۔ یہ قول ابو جہل کی جانب سے کمزور ترین شبہ ہے، کیونکہ دوبارہ اٹھانا جزا کے لئے ہے احکام کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–36

1:۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (اور ہم نے اسرائیل اپنے علم کی رو سے تمام جہاں والو پر فوقیت دی) یعنی ہم نے ان کو فضیلت دی دوسرے لوگوں پر۔ 2:۔ عبدبن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان کو اس بھلائی سے چن لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی جہاں والوں پر (یعنی سارے جہاں والوں کو چھوڑ کر ان کو علم دیا) فرمایا علم جو ان میں تھے اور ہر زمانے کا عالم ہے (آیت ) ” واتینہم من الایت مافیہ بلٓؤا مبین “ یعنی (اور ہم نے ان کو نشانیاں دی جن میں صریح آزمائش تھی یعنی ان کو نجات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاْتُوْا [ تو تم لوگ لے آؤ ] بِاٰبَاۗىِٕنَآ [ ہمارے باپ دادا کو ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–36

پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔ مومن کی موت پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–39

نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–37

22:۔ ” ا ھم خیر “ کیا یہ مشرکین مکہ قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین سے بہتر ہیں ؟ نہیں۔ یہ بھی عذاب کے مستحق ہیں اور جس طرح ان اقوام سابقہ کو ہلاک کیا گیا ان کو بھی ہلاک کیا جائیگا۔ ھذا استفہام انکار، ای انھم مستحقون فی ھذا القول العذاب اذ لیسوا خیر من قوم تبع والامم المہلکۃ، واذا اھلکنا اولئک فکذا ھؤلاء (قرطبی ج 16 ص 144) ۔ جب ہم نے قوم تبع اور ان سے پہلے مشرکین کو اس لیے ہلاک کیا کہ وہ مجرم تھے۔ تعلیل لاھلاکہم ای (ھلکناھم بسبب کو نہم مجرمین فلیحذر کفار قریش الاھلاک لاجرامہم (روح ج 25 ص 130) ۔ تبع حمیری کا اصل نام اسعد یا سعد تھا اور کنیت ابو کرب تھی۔ یہ نیک اور صالح آدمی تھا، شرک سے بیزر اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–41

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 36 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7»…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–42

ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاْتُوْا بِٰابَـآئِنَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الدخان : 36) (تو لائو ہمارے باب دادا کو اگر تم سچے ہو۔ ) انکارِآخرت پر دلیل قیامت کے انکار پر قریش اپنی بات کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ اگر موت کے بعد کوئی زندگی ہے اور ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا جانا ہے تو اس پر یقین پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے آبائواجداد جو طبعی زندگی گزار کر موت کا شکار ہوچکے ہیں ان میں سے کسی کو زندہ کرکے دکھا دو ۔ وہ اہل ایمان سے بار بار اس کا تقاضا کرتے تھے کہ تم اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم اپنے دعوے کو بڑی آسانی سے ثابت کرسکتے ہو کہ کسی مرحوم کو زندگی سے آشنا کردو۔ سورة الجاثیۃ میں قرآن کریم نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–36

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم بھی گھمنڈ میں آکر کہتے ہو کہ دنیا کی موت ہی ہمارا آخری انجام ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ قیامت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا جن میں قوم آل فرعون کے ساتھ تبع بھی شامل ہے۔ قرآن مجید نے منکرین قیامت کو سمجھانے کے لیے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ لیکن قیامت کا انکار کرنے والے بلادلیل اپنی بات اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں قرآن مجید کے دلائل کے ساتھ بار بار سمجھایا کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جھوٹا بہانہ : آیت 36 : فَاْتُوْا بِٰابَآئِنَآ (پس تم ہمارے باپ دادوں کو لا موجود کرو) یہ کفار کا خطاب رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو ہے جو ان کو اٹھائے جانے کا وعدہ کرتے تھے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو جلدی سے اپنے رب سے سوال کر کے ہمارے آباء کو زندہ کردو۔ تاکہ یہ تمہارے وعدئہ قیامت اور دوبارہ اٹھائے جانے کی حقانیت پر دلیل بن جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35، انھی الاموتتناالاولی، یعنی صرف وہی موت ہے جو ہم دنیا میں مرجائیں گے۔ پھر اس کے بعد اٹھنا نہ ہوگا اور وہ اس کا قول، وما نحن بمنشرین، اٹھائے جانے والے ہمارے مرنے کے بعد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–36

30۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–37

آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے : (ان ھولآء) بیشک یہ جھٹلانے والے لوگ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ “ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لاؤ۔ “ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بلھا ! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 منکرین کی ایک حجت باطلہ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ۔ یعنی منکرین ۔ کہتے ہیں کہ تم لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو اپنے اس دعوے میں "۔ یعنی وہی رٹی رٹائی اور گھسی پٹی بات کہ اگر واقعی ایسا ہونے والا ہے تو تم ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لا دکھاؤ۔ اور ہمارے مشاہدے میں لاؤ۔ تب ہم مانیں۔ اور یہی بات جو صدیوں پہلے کے وہ جاہل لوگ کہتے تھے یہی آج کا وہ مادہ پرست منکر آخرت انسان بھی کہتا ہے جس کو اپنی عقل مندی اور دانش وری کا بڑا زعم و گھمنڈ اور دعویٰ ہے۔ دونوں میں کچھ فرق نہیں۔ حالانکہ یہ بات بجائے خود ان کی عقلوں کا ماتم کر رہی ہے۔ آخر ان سے کوئی پوچھے کہ تم سے یہ کہا ہی کس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–42

آیات 30 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔ یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:36) فاتوا بابائنا۔ جملہ جواب شرط ہے اور آئندہ جملہ شرطیہ ہے ای ان کنتم صدقین۔ پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے لے آؤ۔ اتواب۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ایتاء (افعال) مصدر ۔ ب تعدیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–42

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–36

نافرمان قوموں کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–37

[10] تُبَّع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان اور جلیل القدر فرمانروا تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–37

ایمان وکفر کی آویزش 1: ان آیات میں حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا قصہ ہے ۔ کہ کیونکر ان کو فرعون ایسے ظالم ومستبد بادشاہ کے چنگل سے رہائی نصیب ہوئی ۔ اس کو پانی قوت پر ناز تھا ۔ اپنے عساکر اور فوجوں پر غرہ تھا ۔ اپنے قلعوں اور اونچے اونچے مجلوں پر فخر تھا ۔ یہ بات اس کے ذہن سے بہت دور تھی کہ غریب اور مفلس ومظلوم قوم کبھی اتنے عالی قدر بادشاہ کا مقابلہ کر پائے گی ۔ اور اس کی مخلصی کے سامان غیب سے مہیا ہوسکیں گے ۔ مگر اللہ کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا ۔ کہ ایمان وکفر کا تصادم ہو ۔ افلاس اور تمول میں ٹھن جائے ۔ موسیٰ اور باجبروت وسطوت شخصیت میں معرکہ آرائی ہو ۔ اور فتح ہو ایمان کی ۔ کامیابی کا تاج…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) اور اگر تم سچے ہو تو ہمارے اگلے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آئو۔ یہاں سے کفار قریش کا ذکر فرمایا کہ آخرت کے زندگی کا انکار کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا اخیر یہی ہونا ہے کہ بس موت آجائے گی اور مرجائیں گے اور اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اگر مر کر دوبارہ بھی کوئی زندہ ہوسکتا ہے تو ہمارے باپ دادا جو مرچکے ہیں ان کو جلا لائو اور زندہ کرکے لے آئو اگر تم سچے ہو تو اور دوبارہ زندہ کرنے کے قائل ہو تو ایسا کردو یہ جو الاموتنتا الاوالی فرمایا اس پر شبہ نہ کیا جائے کہ پہلی موت پر کوئی اختلاف نہ تھا اختلاف تو مرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موت کے بعد کچھ نہیں ہے اور یہ وہی قول ہے جس کو دوسری جگہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 36–37

ف 7۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ ان سے شدید اور مدید تھے مگر ہم نے ان کو بھی ہلاک کر ڈالا سو یہ لوگ اگر باز نہ آئیں گے تو یہ کیونکر اپنے کو بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو اٹھالائو 63 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں بتفصیل عرض کردیا گیا ہے کہ مکہ والوں کا یہ سوال بار بار اوپر دہرایا گیا اور اس سوال کو وہ اپنی طرف سے ایک بہت ہی اہم (Important) سوال تصور کرتے تھے حالانکہ یہ سوال جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا نہایت ہی جہالت پر مبنی تھا کیونکہ اسلام نے ان کو بتایا تھا کہ تم اور تمہارے آبائو اجداد اور دنیا کے سارے انسانوں کے دنیوی موت کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا ہے اور یہ دن اس پورے نظام کو ایک بار فناکر دینے کے بعد اور نیا نظام قائم کیے جانے کے بعد پہلا ہی دن ہوگا جس کو حشر ونشر وکا دن کہا جائے گا اور یہ کہ اس دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ "Bring our fathers, if you are true (in your belief in resurrection" ) (44:36) ". Allah did not give an answer to this argument of theirs, because it was too obvious to need explanation, for the resurrection will happen on the Day of Judgment, not in this world. Allah will bring back to life all human beings in the Hereafter. Life and death in this world are bound by specific natural laws and wisdom. If Allah is not bringing back to life those who died long ago at this time, it does not necessarily imply that He will not be able to give…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 This was their reasoning: We have never seen a dead person resurrected to life. Therefore, we believe that there will be no other life after death. If you claim that there will be another life, then resurrect our forefathers from their graves, so that we are convinced of the life-after-death. If you do not do this, we would think that your claim is false. This was, as they thought, a very strong argument for the refutation of life-after-death, whereas it was absurd. Nobody had told them that the dead would return to this very world after being raised back to life, nor the Holy Prophet, nor…

Read the full tafseer →