Az-Zukhruf 43:89

Az-Zukhruf · from ayah 89

43:89

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلٰمٌ ؕ— فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۟۠فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ‌ؕ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ

تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So turn aside from them and say, "Peace." But they are going to know.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:89

اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم ان کی پرواہ نہ کرو، اور کہہ دو : سلام۔ کیونکہ عنقریب انہیں خود سب پتہ چل جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سے درگزر کرو اور فرماؤ بس سلام ہے کہ آگے جان جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو (میرے محبوب!) آپ اُن سے چہرہ پھیر لیجئے اور (یوں) کہہ دیجئے: (بس ہمارا) سلام، پھر وہ جلد ہی (اپنا حشر) معلوم کر لیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا ان سے درگزر کیجئے اور کہئے سلام ہو تمیہں۔ عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہوجائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم ان کو نظر انداز کرو اور کہو، اچھا میرا سلام لو۔ پس یہ عنقریب خود جان لیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ ان سے درگزر ہی کرتے جائیں اور کہیں کہ سلام ہے (تم سب کو اے لوگوں !) سو عنقریب ہی انہیں خود معلوم ہوجائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ ان سے بےرخ رہئے اور کہہ دیجئے کہ (تم کو) سلام سو عنقریب انہیں معلوم ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان سے در گزر کیجیے اور کہیے سلام ہے تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو ان کو عنقریب انجام معلوم ہوجائے گا ‘

— محترمہ رفعت اعجاز

Indulge them, (O Prophet), and say to them: “Peace to you.” For soon they shall come to know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, turn away from them, and say, :Salam ! (good-bye!). Then, soon they will come to know (the end of their attitude).

— Muhammad Taqi Usmani

So, turn away from them, and say, :Salam ! (good-bye!). Then, soon they will come to know (the end of their attitude).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So turn away from them, and say: Salam (peace!) But they will come to know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then bear with them (O Muhammad) and say: Peace. But they will come to know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So turn aside from them and say, "Peace." But they are going to know.

— Saheeh International

We have told him, "Ignore them and say to them 'farewell'. They will soon know the consequences of their deeds

— Muhammad Sarwar

So turn away from them and say, Peace, for they shall soon come to know.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore turn thou aside from them, and say: peace. presently they shall come to know.

— Abdul Majid Daryabadi

But turn away from them, and say "Peace!" But soon shall they know!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:89

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–89

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 71 یعنی ان کی سخت باتوں اور تضحیک و استہزاء پر نہ ان کے لیے بد دعا کرو اور نہ ان کے جواب میں کوئی سخت بات کہو، بس سلام کر کے ان سے الگ ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَقُلْ سَلٰمٌ الخ آخر میں وہی تلقین کی گئی ہے جو ہر داعی حق کو ہمیشہ کی گئی کہ مخالفین کے دلائل و شبہات کا جواب تو دے دو لیکن وہ جو جہالت و حماقت یا دشنام طرازی کی بات کریں، اس کا جواب انہی کی زبان میں دینے کے بجائے سکوت اختیار کرو۔ اور یہ جو فرمایا کہ کہہ دو تم کو سلام کرتا ہوں، اس سے مقصد یہ نہیں ہے کہ انہیں السلام علیکم کہا جائے، کیونکہ کسی غیر مسلم کو ان الفاظ سے سلام کرنا جائز نہیں، بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ جب کسی شخص سے قطع تعلق کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ ”میری طرف سے سلام“ یا تمہیں سلام کرتا ہوں۔ اس سے حقیقی طور پر سلام کرنا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاصفح عنھم و قل سلم ط فسوف یعلموکن (89) یہ نبی ﷺ کو ہدایت ہے کہ یہ لوگ اگر اپنا آخری انجام ہی دیکھنے کے در پے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان سے اسی طرح درگزر کرو جس طرح ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے در گزر کیا۔ سلام یہاں وداع کے مفہوم میں ہے۔ فسوف یعلمون یعنی جس انجام کے یہ منتظر ہیں اس کے ظاہر ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ وہ اس کو عنقریب دیکھ لیں گے۔ بتوفیق ایزدی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک رحمان آباد 22 اپریل 1976 ء، 21 ربیع الثانی 1396 ھ

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

89۔ 1 یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کئے جاؤ، میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا سچا کون ہے اور جھوٹا کون ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

24: یہاں سلام کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے خوبصورتی کے ساتھ قطع تعلق کرلیا جائے، یعنی تمہاری کٹ حجتی کے بعد اب میں تم سے مزید بحث کرنے کے بجائے تم سے شائستگی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرلیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–89

آیت نمبر 88 تا 89 اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔ ٭٭٭٭٭٭

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی غم نہ کھا، اور زیادہ ان کے پیچھے نہ پڑ۔ فرض تبلیغ ادا کر کے ادھر سے منہ پھیر لے اور کہہ دے کہ اچھا نہیں مانتے تو ہمارا سلام لو۔ 13 یعنی آخرکار ان کو پتہ لگ جائے گا کہ کس غلطی میں پڑے ہوئے تھے۔ چناچہ کچھ تو دنیا ہی میں لگ گیا۔ اور پوری تکمیل آخرت میں ہونے والی ہے۔ تم سورة الزخرف بعون اللہ و توفیقہ فللہ الحمد والمنتہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 89 { فَاصْفَحْ عَنْہُمْ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے در گزر کیجیے“ میرے خیال کے مطابق یہ سورة 4 نبوی ﷺ سے 8 نبوی ﷺ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک چونکہ حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا ‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیر لیں اور فی الحال انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ { وَقُلْ سَلٰمٌ} ”اور کہیے سلام ہے !“ اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے الجھتے ہیں ‘ دعوت کے جواب میں آپ ﷺ سے استہزاء کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو سلام کہہ کر نظر انداز کردیں۔ سورة الفرقان میں ہم نے ”عباد الرحمن“ کی جو صفات پڑھی ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے : { وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 یہ سلام دراصل ترک ملاقات کا سلام ہے جو کسی کی شرارتوں اور حرکتوں سے تنگ آکر کہا جاتا ہے کہ تم اپنے حال میں مگن رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔ یعنی آپ ان کافروں سے اور ان کی کج بحثیوں سے درگزر کیجئے۔ وہ وقت بس آنے ہی والا ہے جب ساری حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی۔ چناچہ اس حقیقت کا بہت حد تک تو ان مشرکوں کو دنیا میں ہی پتا چل گیا۔ اور پورا پتا آخرت کو لگ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

71۔ (اور مرتے ہی ان پر سب حقیقت کھل جائے گی) (آیت) ” فاصفح عنہم وقل سلم “۔ یعنی ان کے ایمان کی زیادہ امید نہ رکھیے اور نہ زیادہ اس کاوش میں پڑے رہیے اور ان سے یہ کہہ بھی دیجئے کہ اب آگے میں تم سے کچھ تعلق وعلاقہ رکھتا۔ فاعرض عن دعوتھم یائسأعن ایمانھم وودعھم وتارکھم (کشاف۔ مدارک۔ بیضاوی) (آیت) ” سلم “۔ سلام تحیت کے معنی میں نہیں۔ سلام متارکت ہے۔ اے تسلم منکم ومتارکۃ (کشاف۔ مدارک، بیضاوی) وعیدلھم وتھدید ومواعدۃ (بحر) فلیس ذلک امرا بالسلام علیھم والتحیۃ وانما ھو امر بالمتارکۃ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصفح عنھم وقل سلم فسوف یعلمون تو آپ ان سے پہلو موڑ لیجئے اور کہہ دیجئے : تم کو سلام۔ عنقریب یہ جان لیں گے۔ وَقِیْلِہٖ ۔ قیلہ کا عطف السّاعۃِ پر ہے یعنی اللہ کو قیامت کا اور نبی ﷺ کے اس قول کا علم ہے کہ اے میرے رب ! مکہ کے یہ کافر ایمان نہیں لاتے۔ فَاَصْفَحْ یعنی ان کے ایمان لانے اور مؤمن ہوجانے کی آس توڑ دو ‘ ان کو ایمان کی دعوت دینے سے رخ پھیر لو۔ وَقُلْ سَلٰمٌ اور کہہ دو کہ ہمارا تم کو سلام ‘ یعنی ہمارا تمہارا کوئی رابطہ نہیں۔ ہم نے تم کو چھوڑ دیا ‘ تم ہم کو چھوڑ دو ۔ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ عنقریب ان کو اپنے غلط اور باطل قول و عمل کی سزا مل جائے گی۔ مقاتل نے کہا : آیت جہاد نے اس آیت کے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ سے کہا گیا تو ایسی صورت میں آپ ان سے بےرخی کیجیے اور نرمی سے کہہ دیجیے کہ تمہیں سلام کرتا ہوں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ بدر احد اور خندق کے دن تمہارے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا اور کیا کیا مصلحتیں قحط سالی اور دخان وغیرہ کی تم پر نازل ہوں گے یہ اللہ کی طرف سے ان کفار کے لیے وعید تھی اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم نازل فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاصفح عنھم وقل سلم…: یعنی آپ کی فریاد ہم نے سن لی، اب ہم جانیں اور وہ، آپ ان سے درگزر کریں اور ان سے برأت اور قطع تعلق کے اظہار کے لئے کہہ دیں کہ سلام ہے۔ چناچہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا پھر ان کو قتل کرنے کا حکم کیا پس صفح کا حکم تلوار والے حکم کے ساتھ منسوخ کیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اسی کی مثل مروی ہے ان سے اعراض کیجئے یعنی انہیں اچھی بات کہیں یعنی مکہ کے مشرکوں کو کہو پھر اسے سورة براۃ میں منسوخ کردیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (آیت 5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں عام قرأت ہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے نبی کو دھمکی کی خبر ہے نافع اور ابن عامر نے تعلمون پڑھا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی جانب سے مشرکین کو دھمکی کا خطاب ہے۔ علیکم کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے یہ فراء کا قول ہے اس کا معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

26:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے (آیت ) ” فاصفح عنہم “ (آپ ان سے منہ پھیر لیں) کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ درگزر کرنا “ لکھ لو۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعیب بن حجاب (رح) سے روایت کیا کہ میں علی بن عبداللہ البارقی کے ساتھ تھا ہم پر ایک یہودی یا نصرانی گزرا تو انہوں نے اس کو سلام کیا شعیب (رح) نے کہا کہ میں نے عرض کیا یہ آدمی تو یہودی یا نصرانی ہے (آپ نے اس کو سلام کیوں کیا) تو انہوں نے مجھ پر سورة زخرف کی آخری آیات پڑھیں (آیت ) ” وقیلہ یرب ان ھولآء قوم لایؤمنون (88) فاصفح عنہم وقل سلم فسوف یعلمون “ (اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے اس کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ [ تو آپ درگزر کریں ان سے ] وَقُلْ سَلٰمٌ ۭ [ اور کہیں (ان کو ) سلام ] فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ [ پھر عنقریب یہ لوگ جان لیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے آپ کی درخواست کے جواب میں فرمایا ﴿ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ ﴾ (سو آپ ان سے اعراض کیجیے) یعنی ان کے ایمان لانے کی امید نہ رکھیے (كما فی الروح) ﴿ وَ قُلْ سَلٰمٌ1ؕ﴾ اور آپ ان سے فرمائیے کہ میرا سلام ہے یہ سلام وہ نہیں جو ملاقات کے وقت دعا دینے کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں اسی کو سورة القصص میں فرمایا ﴿ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْٞ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْٞ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 0055﴾ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس کو ٹال جاتے ہیں۔ اور کہہ دیتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 88–89

51:۔ ” وقیلہ “ واؤ بمعنی ” رُبَّ “ ہے یعنی بہت بار پیغمبر (علیہ السلام) کا یہ کلمہ کہنا ہوا ” ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون “ مشرکین کے ایمان سے مایوس ہو کر آپ سے اللہ کی مشرکین کی شکایت کر تھے کہ میرے پروردگار یہ قوم ایسی سرکش ہوچکی ہے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیگی۔ قال ابن عباس شکا الی اللہ تعالیٰ تخلف قوما عن الایمان وقال قتادۃ ھذا نبیکم یشکوا قومہ الی ربہ (خازن ج 6 ص 191) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں قسم ہے اس کے کہنے کی یعنی، اس کے یہ کہنے اور دعاء مانگنے کے سبب سے میں ان کو سزا دوں گا۔ تائید : ” فدعا ربہ ان ھؤلاء قوم مجرمون “ یا واؤ قسمیہ ہے اور ان ” ھؤلاء قوم الخ “ جواب قسم ہے یعنی مجھے پیغمبر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–89

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں ان کا اعادہ سورة کے آخر میں کیا جا رہا ہے ۔ مکی سورة ہونے کے ناطے اس میں توحید اس کے عقلی اور نقلی دلائل ، شرک کا ابطال ، مشرکین کا رد ، رسالت و نبوت ، معاد اور جزائے عمل جیسے مضمون آنے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت خاتم النبین ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی آیا ہے۔ اب انہی مضامین کا خلاصہ سورة کے آخر میں بیان کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ توحید آج کے درس میں پہلے توحید کا مسئلہ بیان ہوا ہے وھو الذی فی ………… اور وہ وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور…… میں بھی معبود ہے یعنی اس کے سوا ارض و سما میں کوئی معبود نہیں۔ الوہیت کا مالک صرف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلٰمٌ۝ 0 ۭ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۝ 89ۧ صفح صَفْحُ الشیءِ : عرضه وجانبه، كَصَفْحَةِ الوجهِ ، وصَفْحَةِ السّيفِ ، وصَفْحَةِ الحَجَرِ. والصَّفْحُ : تركُ التّثریب، وهو أبلغ من العفو، ولذلک قال : فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ [ البقرة/ 109] ، وقد يعفو الإنسان ولا يَصْفَحُ. قال : فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] ، فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ [ الحجر/ 85] ، أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحاً [ الزخرف/ 5] ، وصَفَحْتُ عنه : أولیته مني صَفْحَةٍ جمیلةٍ معرضا عن ذنبه، أو لقیت صَفْحَتَهُ متجافیا عنه، أو تجاوزت الصَّفْحَةَ التي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–89

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاصْفَحْ عَنْھُمْ وَقُلْ سَلٰمٌ ط فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزخرف : 89) (اے نبی ! آپ ان سے درگزر کریں اور کہیں اچھا میرا سلام لو، وہ عنقریب خود جان لیں گے۔ ) اتمامِ حجت ہوچکا اب آپ ان سے درگزر کیجیے اور الگ ہوجایئے افہام و تفہیم اور تبلیغ و دعوت کی کاوشیں تمام ہوئیں۔ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا۔ لیکن انھوں نے اس سے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آخری انجام کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب آپ ان سے درگزر کیجیے اور انھیں ویسے ہی الوداعی سلام کہئے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا تھا۔ جس انجام کے یہ منتظر ہیں اس کے ظاہر ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں، یہ عنقریب اسے دیکھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–89

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے ہیں ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سمجھانے کے لیے بیشمار اسلوب اختیار فرمائے ہیں جن میں ایک اسلوب اور طریقہ یہ بھی اختیار کیا ہے کہ مشرکوں سے پوچھا جائے کہ خود ان کی ذات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ اس سوال کا یہ بھی مفہوم ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو ان کو کس نے پیدا کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہر دور کے مشرک اور کافر یہی جواب دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ ہم سب کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا دوسروں کو پکارنے کا کیا جواز ہے ؟ جو لوگ حقیقت مان کر بھی سچا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آپ کو تسلی اور کفار کو وعید : آیت 89: فَاصْفَحْ عَنْہُمْ (تو آپ ان سے بےرخ رہیے) ان کی دعوت سے اعراض فرمائیں۔ کیونکہ ان کے ایمان کی امید نہیں۔ اور ان کو چھوڑیں اور ان کے حال پر رہنے دیں۔ وَقُلْ (اور ان کو کہہ دیں) سَلٰمٌ (کہ میں تم کو سلام کرتا ہوں) یہ سلام متارکت ہے۔ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ (پس ان کو بھی معلوم ہوجائے گا) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار کو وعید ہے اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے۔ قراءت : مدنی ٗ شامی نے تعلمون پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

88، وقیلہ یارب ، یعنی محمد ﷺ کا قول اپنے رب کو شکایت کرتے ہوئے اے میرے رب ! ، ان ھولاء قوم لایؤ منون، عاصم اور حمزہ رحمہما اللہ نے ، وقیلہ، لام اور ھاء کی جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر اسی کے پاس قیامت کا علم اور اس کے قول یارب کا علم ہے اور دیگر حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی دو وجہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کا معنی کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی سرگوشی اور پویشدہ بات نہیں سنتے اور اس کا قول یارب ! اور دوسرا، وقال قیلہ،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–89

85۔ 89۔ مشرکین مکہ کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو جن فرشتوں کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کریں گے۔ یہ مشرک لوگ قیامت کے توقائل نہیں تھے اس لئے اس سفارش کا مطلب ان لوگوں کے نزدیک یہ تھا کہ دنیا کی بہبودی کے باب میں فرشتے ان لوگوں کی سفارش کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح زمین میں اللہ کی مخلوقات ہے اسی طرح آسمان پر فرشتے ہیں کیونکہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کا ہی راج ہے اور اس کے حکم کے آگے سب عاجز اور بےاختیار ہیں اس واسطے ایسی بےاختیار مخلوقات میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 84–89

آیت 84 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ (آیت) ” ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” اور آسمانوں اور زمین اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–89

شہادت ، علم کی بنیاد پر ہونی چاہیے قول باری ہے (الا من شھد بالحق وھم یعلمون۔ ہاں جن لوگوں نے حق کے بارے میں گواہی دی اور وہ جانتے بھی ہیں) آیت دو باتوں کو متضمن ہے۔ اول یہ کہ حق کی گواہی علم کے ساتھ ہی نافع ہوتی ہے۔ نیز مسلک کی صحت کا علم نہ ہونے کی صورت میں اس کی تقلید کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوم یہ کہ حقوق اور غیر حقوق کے بارے میں دی جانے والی تمام گواہیوں کی شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والے کو ان کا علم بھی ہو۔ اس مضمون کی حضور ﷺ سے روایت بھی ہے آپ نے فرمایا (اذارایت مثل الشمس فاشھدوا الافدع۔ اگر تم نے کوئی واقعہ اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جس طرح تم سورج کو دیکھ رہے ہو تو اس کی گواہی دو ورنہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 88–89

119 منکرین سے صرف نظر اور متارکت کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے منکرین و معاندین سے صرف نظر اور ان کیلئے سلام متارکت کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور ایسے سلام کو " سلام متارکت " کہا جاتا ہے۔ یعنی سب کچھ پوری طرح واضح کردینے کے باوجود تم لوگ اگر نہیں مانتے تو تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنِ } ۔ سو اس میں پیغمبر ﷺ کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کیلئے یہ تعلیم و تلقین ہے کہ جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑ جائیں تو ان سے الجھنے کی بجائے انکو سلام متارکت کہہ کر ان سے الگ ہوجاؤ کہ ایسوں سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ پتھر پر جونک لگانے سے کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یہ اظہار بیزاری و قطع تعلق کا سلام ہے۔ 7 یعنی قیامت کے روز یا اسی دنیا میں آگے چل کر انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کی سرکشی انہیں کس انجام بد سے دو چار کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:89) فاصفح :سببیہ ہے۔ اصفح امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر صفح باب فتح مصدر۔ تو درگزر کر۔ تو اعراض کر۔ صفح مصدر کے معنی ترک ملامت اور عفو کے ہیں مگر یہ عفو سے زیادہ بلیغ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاعفوا واصفحوا حتی یاتی اللّٰہ بامرہ (2:106) تو تم معاف کر دو اور درگزر کرو یہاں تک خدا اپنا دوسرا حکم بھیجے۔ اس میں عفو کے بعد صفح کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ بعض اوقات انسان عفو یعنی درگزر تو کرلیتا ہے لیکن صفح سے کام نہیں لیتا۔ یعنی کسی سے اس قدر درگزر کرنا کہ اسے مجرم ہی نہ گردانا جائے۔ وقل سلام۔ اور کہو سلام ہے تم پر۔ اس کی مندرجہ ذیل دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اگر اصفح سے مراد اس قدر درگزر کرنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–89

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 88–89

(ف 2) نبی ﷺ نے شکایت کے طورجو کہا کہ اے رب، یہ لوگ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے، تیرے رسول و قرآن کو نہیں مانتے باوجود ہر وقت کی نصیحت کے کسی طرح راہ راست پر نہیں آتے، اللہ کے رسول کا یہ قول سچا ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی قوم کی قسم کھاکر اس کی صداقت کو جتلاتا ہے یہ اللہ تبارک وتعالی کا نبی ﷺ کے قول مبارک کی قسم فرمانا، حضور ﷺ کے اکرام اور حضور کی دعاوالتجا کے احترام کا اظہار ہے فرمایا، اے محبوب ﷺ درگزر کرو اور اپنا فرض تبلیغ ادا کرکے ادھر سے منہ پھیر لو اور کہہ دو کہ اچھا نہیں مانتے تو ہمارا اسلام لو، بس عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کسی غلطی میں پڑے ہوئے تھے چناچہ کچھ تو دنیا میں ہی پتہ لگ گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[39] یعنی ان کے پیچھے زیادہ نہ پڑو اور فرض تبلیغ ادا کر کے ان سے منہ پھیر لو اور کہہ دو کہ اچھا نہیں مانتے تو ہمارا سلام۔ [40] یعنی آخرکار انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس غلطی میں پڑے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 86–89

ف 1: یعنی جس خدا کی آسمانوں میں بھی پرستش ہوتی ہو اور زمین میں بھی ۔ جو سینے کے بھیدوں کو جانتا ہو ۔ جس کے ہر چیز تابع اور مسخر ہو ۔ جو کائنات کو تہ وبالا کردینے پر قادر ہو ۔ اور اس کے متعلق کامل معلومات بھی رکھتا ہو ۔ جس کے پاس سب چھوٹوں اور بڑوں کو جانا ہو ۔ اور اپنے اعمال کو محاسبہ کے لئے پیش کرتا ہو ۔ جس کے ہاں کسی کی سفارش نہ چلے ۔ بجز ان لوگوں کے جو اہل حق وصداقت ہی ۔ اور جن کو وہ خود اجازت دے گا ۔ اور جس کی وحدانیت کی گواہی فطرت انسانی دے ۔ اور پکار اٹھے ۔ کہ اس کے سوا اور کوئی کائنات کا خالق نہیں ہے اس کو اولاد کی بھلا کیا ضرورت ہے ؟ اور عزیز داری کی کون حاجت ؟ اس کی ذات کی بلندی اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(89) لہٰذا اے پیغمبر آپ ان سے بےرخی کا برتائو کیجئے اور ان سے منہ پھیر لیجئے اور یوں کہئے کہ بس میرا سلام ہے یا یہ کہ تم کو سلام کرتا ہوں یہ لوگ اب تھوڑے دنوں میں اپنا انجام معلوم کرلیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے قوم کی بےرخی اور بےاعتنائی اور معاندانہ مظاہروں سے تنگ آکر فرمایا ۔ یارب ان ھولائقوم لا یومنون۔ یعنی اے میرے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ باوجود میری فہمائش اور میرے سمجھانے کے ایمان نہیں لاتے حضرت حق تعالیٰ نے ان معصومانہ اور افسوس میں ڈوبے ہوئے جملوں کی قسم کھا کر فرمایا اور آپ کی ہ مت افزائی فرمائی کہ پیغمبر کے اس کہنے کی قسم بعض حضرات نے وقیلہ کا عطف علم الساعۃ۔ پر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 87–89

ف 1۔ یعنی ان کے ایمان کا اہتمام اور اس کی امید نہ کیجئے، کیونکہ جب ان کا یہ انجام مقدر ہے تو یہ کیا ایمان لاویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ ان سے درگزر کریں اور سلام کہہ دیں ، انجام کار ان کو پتہ چل جائے گا 98 ؎ باتیں ان کی سن لیں اور حقیقت کو آپ ﷺ نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ احمق ہیں اور حماقت کا مظاہرہ کرر ہے ہیں تو آخر احمق کرے گا بھی کیا ؟ یہی کہ وہ اپنی حماقت کا اظہار کرے گا اور یہ آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ حماقت کا جواب کیا ہے ؟ ان کو ایک نہیں سات سلام کرو اور سلامتی کے ساتھ آگے گزر جاؤ ، ان کے قریب جاؤ گے تو آگے سے دانت کاٹیں گے اور پیچھے سے دولتی لگائیں گے بس ان کو دور ہی سے سلام کرو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ ان کو اپنے کیے کا یقینا علم ہو کر رہے گا کیونکہ ہمارے ہاں اندھیر نگری اور چوپٹ راج والا معاملہ نہیں ہوتا اور ہم پھانسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَقُلْ سَلَامٌ (and say, Salam [ good-bye ]. Then soon they will come to know---43:89). At the end of the Surah, the same advice has been given to the Holy Prophet t that is always given to every preacher of truth. The gist of the advice is that one may reply to the arguments and doubts of the opponents, but when they start talking ignorantly, foolishly or are involved in hurling abuses, then instead of replying in their language, one should keep quiet. And the instruction to say Salam does not mean that 'Assalamu ` alaikum" is to be said to them, because this salutation is not permissible…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

71 That is, "You should neither curse them for their scornful words and attitude of mockery and derision, nor respond with harsh words: just wish them well and take your leave."

Read the full tafseer →